# 10,000 Musalmanon Ka Lashkar Makkah Mein Dakhil Hua – 21 Saal Baad! – Aey Rasool | Ep. 10

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/10000-strong-muslim-army-enters-mecca-after-21-years-ai-visualized-o-messenger-ep-10
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=uSUxDtp-U0Q
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

قریش کے عظیم ترین سالار، خالد بن ولید۔ قریش کا دانا ترین شخص، عمرو بن العاص۔ اور کعبہ کی چابی کے محافظ، عثمان بن طلحہ۔ یہ تینوں مختلف مقامات سے نکلے تھے، لیکن ان کے راستے حدہ نامی علاقے میں آ کر ملے۔ ان سب میں ایک بات مشترک تھی: اسلام کے خلاف ان کی شدید نفرت۔ خالد بن ولید کو یاد کریں۔ غزوہ احد میں، جہاں حضرت حمزہ اور حضرت مصعب بن عمیر شہید ہوئے، تو اسلامی لشکر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ وہی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے لشکروں کی قیادت کی تھی۔ عمرو بن العاص یاد ہیں؟ جب صحابہ کرام نے حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کی، تو یہ وہی تھے جنہوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے، "اگر تمام قریش بھی مسلمان ہو جائیں، تب بھی مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی ہوں گا۔" رہی بات عثمان بن طلحہ کی، تو انہوں نے اپنے والد، چچا اور چار بھائیوں کو کھو دیا تھا، غزوہ احد میں، ایک کے بعد ایک۔ وہ سب قریش کی طرف سے لڑ رہے تھے۔ اور اب، ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ ان کی سوچ اور ان کے احساسات یکسر بدل چکے تھے، اور ان کی شخصیات میں پختگی آ چکی تھی۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے، سیکڑوں حوالوں پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند اسلامی علماء کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ ان سب گزرے ہوئے حالات اور واقعات نے انہیں تھکا دیا تھا۔ خالد اور عثمان نے مکہ ہی میں طے کر لیا تھا کہ وہ یہاں ملیں گے۔ لیکن عمرو کو ان دونوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اللہ نے ان کے راستے یہاں ملا دیے۔ تو، ان کے اس سفر کا مقصد کیا تھا؟ عمرو نے پوچھا، "اے خالد، تم کہاں جا رہے ہو؟" "اے عمرو، اب سیدھا راستہ بالکل واضح ہو چکا ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد ﷺ ، اللہ کے نبی ہیں۔ میری رائے میں، اب مزید وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں مسلمان ہونے کے لیے مدینہ جا رہا ہوں۔" عمرو نے سکھ کا سانس لیا، کیونکہ ان کا ارادہ بھی یہی تھا۔ انہوں نے کہا، "اللہ کی قسم، میں بھی اسی راستے پر...

بالکل اسی مقصد کے لیے نکلا ہوں۔" وہ تینوں نبی ﷺ سے ملنے جا رہے تھے، اپنے تمام برے ارادوں کو پیچھے چھوڑ کر، اور اپنے ماضی کے کیے پر شدید ندامت اور شرمندگی محسوس کرتے ہوئے۔ جب نبی پاک ﷺ نے انہیں دور سے دیکھا، تو آپ مسکرائے اور اپنے اردگرد موجود لوگوں سے فرمایا، "مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف پھینک دیے ہیں۔" وہ جلدی سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ذرا سوچیے، اس وقت تک، انہوں نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے باوجود، نبی پاک ﷺ نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا، اور نہ ہی انہیں ان کا ماضی یاد دلایا۔ یہ آپ ﷺ کا اخلاقِ عظیم تھا۔ اگر سامنے والا شرمندہ ہوتا، تو آپ ﷺ کبھی اس کی غلطیاں اس کے منہ پر نہیں مارتے تھے۔ آپ بس یہی چاہتے تھے کہ وہ اپنی ابدی زندگی بچا لیں۔ سب سے پہلے، خالد نے ہاتھ بڑھایا اور کہا، "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔" وہ شرمندہ تھے۔ "اے اللہ کے رسول، میں نے آپ کے خلاف جنگیں لڑی ہیں۔ یہ آپ جانتے ہیں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس حوالے سے میرے گناہ معاف فرما دے۔" نبی پاک ﷺ کے الفاظ نے خالد کے دل کو سکون بخشا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کی کون سی بات سکون نہیں دیتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "اے خالد، اسلام ان تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے گئے ہوں۔" پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا فرمائی: "اے اللہ، خالد کی ان تمام کوششوں کو معاف فرما دے جو اس نے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے روکنے کے لیے کیں۔" خالد نے محسوس کیا جیسے ان کے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس لمحے کے بعد سے، وہ اپنی طاقت اور عسکری مہارت کو اسلام کی سربلندی اور پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے والے تھے۔ اس راستے میں دکھائی جانے والی بہادری کی وجہ سے، نبی پاک ﷺ انہیں 'سیف اللہ' کا لقب دیں گے، جس کا مطلب ہے اللہ کی تلوار۔ پھر، عمرو بن العاص نے ہاتھ بڑھایا اور خالد والی ہی درخواست کی۔ نبی ﷺ نے عمرو کے لیے بھی وہی دعا فرمائی۔ بالآخر انہیں وہ سکون مل گیا جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔ بعد ازاں، نبی پاک ﷺ انہیں مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کے لیے مقرر فرمائیں گے، کئی جنگوں میں، اور اللہ ان کے ذریعے بہت سی فتوحات عطا فرمائے گا۔ قریش کا یہ دانا شخص، اب اسلام کی خدمت کرے گا۔ اور ان کی سب سے بڑی فتح، فتحِ مصر ہوگی۔ اللہ ان کے ذریعے ان زمینوں تک اسلام پہنچائے گا۔ اسی وجہ سے، انہیں فاتحِ مصر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آخر کار، عثمان بن طلحہ نے ہاتھ بڑھایا، اور وہ بھی مسلمان ہو گئے۔ یوں، ایک ہی دن میں تین اہم شخصیات اسلام کی صفوں میں شامل ہو گئیں، نبی ﷺ کے سامنے۔ یاد ہے اللہ نے سورۃ الفتح میں کیا فرمایا تھا؟ “اللہ وہ جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے۔” صلح حدیبیہ نے اسلام کے خلاف نفرت کے ہتھیار نیچے کروا دیے تھے اور لوگوں کے دلوں میں موجود دیواریں گرا دی تھیں۔ ہمارے نبی پاک ﷺ نے فرمایا تھا، "مشرکین نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ تم مکہ جا کر اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہو، اور یہ کہ آتے جاتے ہوئے تم محفوظ رہو گے۔ اس طرح، وہ تمہیں دیکھ کر تم سے اسلام سیکھیں گے۔ اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور تمہیں وہاں سے بحفاظت اور اجر کے ساتھ واپس لائے گا۔ یہ سب سے بڑی فتح ہے۔" اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ اعلانِ نبوت سے لے کر صلح حدیبیہ تک، انیس سال گزر چکے تھے۔ پھرحدیبیہ کے بعد، صرف ایک سال اور گزرا۔ اور حیران کن طور پر، اس ایک سال میں، پچھلے انیس سالوں کے مجموعی افراد سے کہیں زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسی لیے قرآن نے حدیبیہ کو 'فتحاً مبیناً' یعنی کھلی فتح قرار دیا۔ اگرچہ ابتدا میں یہ ایک شکست کی طرح لگتی تھی۔ فتحِ خیبر کے ساتھ، یہودی قبائل کے ساتھ تنازعہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ حدیبیہ کے ذریعےایک روحانی فتح حاصل ہو چکی تھی، اور مسلمانوں نے قریبی عرب قبائل کو اپنی طاقت دکھا دی تھی۔ تاہم، سب سے بنیادی مسئلہ ابھی بھی حل ہونا باقی تھا۔ کعبہ کو صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ لیکن اب، اس کے اندر اور اردگرد بت بھرے ہوئے تھے۔ اس کے اردگرد ہر طرح کے شرمناک کام اور گناہ ہو رہے تھے۔ ایسی حالت میں، وہ جگہ اب بھی توحید کی علامت کیسے ہو سکتی تھی؟ اس مسئلے کا حل ہونا لازمی تھا۔ کعبہ کو اسلام کا حصہ بننا تھا، اور اس کے گرد موجود بتوں کو ہٹانا تھا۔ لیکن کیسے؟ اہل مکہ کے ساتھ دس سالہ امن کا معاہدہ ہو چکا تھا۔ لیکن اللہ مسبب الاسباب ہے، جو اسباب پیدا کرتا ہے اور اپنی مرضی سے ان پر قابو رکھتا ہے، اور ضروری وسائل کو سامنے لا کر اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اور اب، ان دعاؤں کی قبولیت کا وقت قریب آ رہا تھا، جو کعبہ کی آزادی کے لیے مانگی گئی تھیں۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، اللہ نے اس کے لیے ایک سبب پیدا کر دیا۔ قریش ہی وہ لوگ ہوں گے، جو خود اس معاہدے کو توڑیں گے۔ قبیلہ خزاعہ کا ایک وفد، جو نبی ﷺ کے حلیف تھے، اچانک مدینہ آ پہنچے۔ صلح حدیبیہ کی ایک شرط کے مطابق، دیگر عرب قبائل اس بات میں آزاد تھے کہ وہ جس فریق کے ساتھ چاہیں، اتحاد کر لیں۔ اور خزاعہ نے نبی پاک ﷺ اور مسلمانوں کا ساتھ دینے کا انتخاب کیا تھا۔ وفد کے سربراہ، عمرو، انتہائی غمزدہ تھے۔ انہوں نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔ "اے اللہ کے رسول، قریش نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا۔ انہوں نے وہ سب سے مضبوط معاہدہ توڑ دیا جو انہوں نے آپ سے کیا تھا۔ ایک رات، انہوں نے اچانک ہم پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ہمیں غافل پا کر، ہمارے لوگوں کو قتل کر دیا۔ جب کہ کچھ رکوع میں تھے اور کچھ سجدے میں تھے۔ ہماری مدد کریں۔" اور یوں، صلح حدیبیہ کھلم کھلا ٹوٹ گیا۔ قریش نے اپنے سردار ابو سفیان کو نبی پاک ﷺ سے بات کرنے کے لیے مدینہ بھیجا۔ ابو سفیان سب سے پہلے نبی پاک ﷺ کے پاس گیا اور معاہدے کی تجدید کی درخواست کی۔ تاہم، نبی پاک ﷺ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ پھر وہ حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا، اس امید سے کہ ان کے خاندانی تعلقات شاید کوئی حل نکالنے میں مددگار ہوں۔ لیکن یہ کوشش بھی رائیگاں گئی۔ اس بار وہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا اور منت کی، "معاہدے کی تجدید کی کوشش کریں۔ ہمارے درمیان صلح کروا دیں۔" حضرت عمر نے غصے سے جواب دیا، "تو تم نے معاہدہ توڑ دیا ہے، ہے نا؟ اگر اس میں کچھ باقی بھی ہے، تو اللہ اسے جلد از جلد تباہ کر دے۔ میں کبھی بھی تمہاری سفارش کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اللہ کی قسم، اگر مجھے ایک چھوٹی چیونٹی کے سوا کچھ نہ ملے، تو بھی میں اس کے ساتھ تم سے لڑوں گا۔" ابو سفیان انہیں چھوڑ کر سیدھے حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا۔ لیکن نتیجہ پھر وہی نکلا۔ آخری امید کے طور پر، وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی حمایت نہ مل سکی۔ کیا آپ نے غور کیا؟ حدیبیہ سے قریش کو ذرا برابر بھی فائدہ نہیں پہنچا۔ پھر بھی، وہ کتنے پراعتماد تھے۔ الٹا اس سے مسلمانوں کے لیے ہی آسانیاں پیدا ہوئیں۔ دشمنوں کی تعداد کے کم ہونے سے مسلمانوں کے لیے دیگر خطرات سے نبردآزما ہونا آسان ہو گیا۔ اسی دوران، اس معاہدے سے مکہ کو آہستہ آہستہ اسلامی سرزمین بنانے کے مقصد میں بھی مدد ملی۔ اور جب یہ تمام مقاصد پورے ہو گئے، تو اللہ نے معاہدہ ٹوٹنے کی مشیت فرمائی۔ اس طرح اللہ ان لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، بالکل غیر متوقع وقت پر، بالکل غیر متوقع جگہوں سے، اور بالکل غیر متوقع طریقوں سے۔ لوگ اکثر ایسے واقعات کو برا سمجھتے ہیں۔ لیکن تقدیر، اللہ کے فیصلے کے نقطہ نظر سے دیکھیں، تو ان کے پیچھے کتنی ہی حکمتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کیا آپ کو یہ الفاظ یاد ہیں؟ "اللہ کی قسم، تم اللہ کی سب سے بہترین اور مجھے سب سے زیادہ پیاری زمین ہو۔ اللہ کی قسم، اگر مجھے تم سے نکالا نہ جاتا، تو میں کبھی نہ جاتا۔" یہ وہ الفاظ تھے جو نبی پاک ﷺ نے فرمائے تھے، جب آپ نے ہجرت سے پہلے آخری بار مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا تھا۔ مکہ کا ہر پہاڑ اور پتھر ان الفاظ کا گواہ تھا۔ اور اب، اس الوداع کو آٹھ سال گزر چکے تھے۔ مکہ اس دن کا انتظار کر رہا تھا، جب وہ نبی پاک ﷺ اور آپ کے صحابہ سے دوبارہ ملے گا۔ وہ ان کے لیے ایسا ترس رہا تھا، جیسا پہلے کبھی کسی کے لیے نہیں ترسا۔ اور بالآخر، وہ مبارک دن قریب آ رہا تھا۔ مکہ آزاد ہونے والا تھا۔ برسوں کی جدائی ختم ہونے والی تھی، اور مکہ کے مسلمان اپنے گھروں کو لوٹنے والے تھے۔ نبی پاک ﷺ نے فوراً ایک بڑی مہم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ لیکن آپ نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اسے راز میں رکھنا، انتہائی ضروری تھا۔ اگر مکہ کے مشرکین بے خبری میں پکڑے گئے، تو شہر کو بغیر خون خرابے کے لیا جا سکتا تھا، اور عظیم فتح حاصل کی جا سکتی تھی۔ آپ کی خواہش تھی کہ اس مبارک شہر میں بغیر کسی لڑائی کے داخل ہوں۔ اس لیے، آپ نے انتہائی احتیاط اور مکمل رازداری کے ساتھ تمام تیاریاں کیں۔ جب سب کچھ تیار ہو گیا، تو دس ہزار آدمیوں کا ایک عظیم الشان لشکر نبی پاک ﷺ کے سامنے کھڑا، آپ کے حکم کا منتظر تھا۔ یہ وہ سب سے بڑا لشکر تھا جو مسلمانوں نے اس دن تک اکٹھا کیا تھا۔ اب وہ کوچ کرنے کے لیے تیار تھے۔ ان کی زبانوں اور دلوں پر انتہائی خلوص بھری دعائیں تھیں۔ اب ان لوگوں کا سامنا کرنے کا وقت آ گیا تھا، جنہوں نے 21 سال تک ان پر ظلم کیا تھا اور ان کے گھر اور مال چھین لیے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے نبی پاک ﷺ کے ساتھ اتنے سالوں تک ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا تھا۔ تو، اس دن وہ کیا کریں گے؟ اور اس سے بھی اہم بات، نبی ﷺ جواب میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے؟ کئی جذباتی مناظر جو ہمارے دلوں میں نبی پاک ﷺ کے لیے محبت اور عقیدت مزید بڑھا دیں گے، اس قسط کے اگلے حصے میں ہمارے منتظر ہیں۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا، اور نبی پاک ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے: "اے اللہ، قریش کے جاسوسوں اور مخبروں کو روک لے، یہاں تک کہ ہم اچانک ان کی سر زمین پر پہنچ جائیں۔" جب سے انہوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا، آپ ﷺ نے منزل کو ایک راز رکھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ کا ارادہ مکہ پر اچانک محاصرے کا تھا۔ آپ بغیر جنگ کے فتح چاہتے تھے۔ لیکن رازداری برقرار رکھنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود، کوئی خبر لے کر پہلے ہی نکل چکا تھا۔ قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مکہ کے راستے پر تھی۔ جب ایسا لگ رہا تھا کہ نبی پاک ﷺ کا سارا منصوبہ برباد ہونے والا ہے، تو آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی خبر دے دی گئی۔ آپ ﷺ نے فوراً حضرت علی، حضرت زبیر بن العوام، اور حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہم کو بلایا اور حکم دیا: "تیزی سے جاؤ ،یہاں تک کہ تم روضہ خاخ تک پہنچ جاؤ۔ وہاں تمہیں اونٹ پر سوار ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے، وہ اس سے لے لو۔" تینوں صحابہ تیزی سے روضہ خاخ کی طرف گئے اور وہاں اس عورت کو پا لیا۔ انہوں نے اس سے پوچھا، "جو خط تم لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟" "میرے پاس کوئی خط نہیں۔" حضرت علی جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا، "اللہ کے رسول کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔" پھر انہوں نے اسے سختی سے تنبیہ کی کہ وہ خط ان کے حوالے کر دے اور دھمکی دی کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ اس کی تلاشی لیں گے۔ بالآخر، خاتون نے وہ خط نکال کر دے دیا، جو اس نے اپنی گندھی ہوئی زلفوں میں چھپا رکھا تھا۔ یہ خط ایک صحابی، حاطب بن ابی بلتعہ نے بھیجا تھا۔ وہ ایک مہاجر تھے، جنہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا اور انہیں مصر کے حکمران، مقوقس کے پاس بطور سفیر بھیجا گیا تھا۔ صحابہ کرام حیران رہ گئے۔ انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ نبی پاک ﷺ نے حاطب کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے یہ خط کیوں لکھا۔ حاطب کا خاندان مکہ میں تھا، اور چونکہ وہ قریش میں سے نہیں تھے، اس لیے وہاں ان کے خاندان کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ قریش پر ایک احسان کرنا چاہتے تھے، تاکہ جب مکہ کا محاصرہ ہو، تو وہ ان کے خاندان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے صورتحال واضح کی اور کہا، "میں نے یہ اس لیے نہیں کیا کہ میں نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے، یا میں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کر لیا ہے۔ اللہ کی قسم، میں اللہ اور اس کے رسول پر اپنے ایمان میں پختہ ہوں۔" ان کی بات سننے کے بعد، نبی پاک ﷺ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، "حاطب نے تم سے سچ کہا ہے۔ لہذا اس کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہ کہو۔" اور آپ ﷺ نے انہیں معاف کر دیا۔ وقت گزرتا گیا۔ مہم کو ابھی تک مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا تھا، اور وہ آگے بڑھتے رہے۔ مکہ کے لوگوں کو ذرا سی بھی خبر نہیں ملی تھی۔ بالآخر، لشکر نے مر الظہران نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک گہری تاریکی نے وادی کو ڈھانپ رکھا تھا۔ صرف ہوا کی سنسناہٹ کی آواز آ رہی تھی۔ پھر اچانک، ہر طرف آگ جلا دی گئی۔ نبی پاک ﷺ اہل مکہ کو لشکر کی آمد کا منظر ان آگ کے الاؤ کے ذریعے دکھانا چاہتے تھے۔ اسلام کا وہ نور، جسے وہ بجھانے کی اتنی کوششیں کرتے رہے تھے، اب مکہ کو مکمل طور پر گھیر چکا تھا۔ انہوں نے اس دین کے کمزور ہونے اور مسلمانوں کے کم ہونے کا انتظار کیا تھا۔ انہوں نے سالوں تک وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے، لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ یہ کتنا شاندار منظر تھا!

نبی پاک ﷺ نے خاص طور پر صحابہ کو حکم دیا، کہ ضرورت سے کہیں زیادہ آگ جلائیں۔ اس طرح، لشکر بہت بڑا نظر آئے گا اور مشرکین کی ہمت پوری طرح ٹوٹ جائے گی۔ لیکن مکہ میں کیا ہو رہا تھا؟ جب انہوں نے یہ منظر دیکھا، تو وہ خوف سے جم گئے۔ انہوں نے خوف اور پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح تھی۔ یہ رات ایک بہت بڑی تبدیلی کا آغاز تھی۔ ابو سفیان بشمول دو ساتھی رات کی تاریکی میں باہر نکلے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ تینوں کا ارادہ اردگرد دیکھنا، خفیہ طور پر معلومات اکٹھی کرنا اور پھر واپس آنے کا تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی انہیں دیکھے۔ لیکن کیا اس اللہ سے چھپنا ممکن ہے جو سب کچھ دیکھتا ہے؟ نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کو آگاہ کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں چوکنا رہنے کو کہا اور فرمایا کہ ان کا سامنا یقیناً ابو سفیان سے ہوگا۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ حضرت عباس نے ابو سفیان کو دیکھ لیا اور فوراً اپنی پناہ میں لے لیا۔ انہوں نے اسے اپنے پیچھے ایک خچر پر بٹھایا اور نبی پاک ﷺ کے پاس لے گئے۔ جب ابو سفیان کے دونوں دوستوں کو بھی خیمے میں لایا گیا، تو نبی پاک ﷺ نے ان سے مکہ کے حالات کے بارے میں پوچھا۔ وہ رات گئے تک خیمے میں ہی رہے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ ابو سفیان کے دونوں دوستوں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ لیکن ابو سفیان نے ابھی بھی یقین نہ ہونے کی وجہ سے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا۔ پھر ان سب کو ان کے خیموں میں لے جایا گیا۔ ابو سفیان کو صبح دوبارہ نبی پاک ﷺ سے ملایا جانے والا تھا۔ کل کیا ہوگا؟ کیا بدلے گا؟ صحابہ کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا۔ کیا ابو سفیان بالآخر اسلام قبول کر لیں گے؟ فی الحال، کسی کو اس کا جواب معلوم نہیں تھا۔ جب صبح ہوئی، حضرت عباس ابو سفیان کو نبی پاک ﷺ کے پاس لائے۔ نبی پاک ﷺ نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور پوچھا، "اے ابو سفیان، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔" ابو سفیان نے جواب دیا، "لیکن میں ان تمام بتوں کا کیا کروں؟ میں لات اور عزیٰ کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟" حضرت عمر خیمے کے پیچھے کھڑے تھے۔ جب انہوں نے یہ سنا، تو وہ غصے میں آ گئے اور کہا، "شکر کرو کہ تم خیمے کے اندر ہو۔ اگر تم باہر ہوتے، تو تم یہ الفاظ کبھی نہ کہہ پاتے۔" ابو سفیان نے جواب دیا، "اے عمر، تم پر افسوس۔ تم اپنے والد کی طرح سخت ہو۔ اور ویسے بھی، اے خطاب کے بیٹے، میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ میں اپنے چچا زاد کے پاس آیا ہوں۔ میں ان سے بات کروں گا۔ تو ہمیں بات کرنے دو۔" پھر وہ نبی پاک ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا، "میرے ماں اور باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ کے تحمل اور بردباری میں، آپ کی سخاوت اور شرافت میں، اور جس طرح آپ اپنے خاندانی رشتوں کا خیال رکھتے ہیں، آپ سے بہتر کوئی نہیں ہے۔" پھر، وہ گہری خاموشی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد۔ بالآخر،بغیر ہچکچاہٹ ابوسفیان نے کہا، "اللہ کی قسم، مجھے لگتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیونکہ اگر واقعی اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا، تو اس نے میری مدد کی ہوتی، مجھے نقصان سے بچایا ہوتا، اور مجھے کوئی فائدہ پہنچایا ہوتا۔" یہ گفتگو کچھ دیر تک چلتی رہی۔ پھر بالآخر، ابو سفیان نے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ اس لمحے، انہوں نے اپنی زندگی کا ایک نیا ورق الٹا۔ ان کے لیے ایک بالکل نئے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ ان کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی۔ اس لیے ان کے دل میں ایمان کو جڑ پکڑنے میں یقیناً کچھ وقت لگنا تھا۔ نبی پاک ﷺ پھر حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، "اے عباس، ابو سفیان کو وادی کے تنگ حصے کی طرف لے جاؤ، اس پہاڑی درے کی طرف جہاں گھوڑے ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہیں، تاکہ وہ اللہ کے لشکر کی عظمت دیکھ سکے۔" یہ دراصل ایک احتیاطی تدبیر تھی۔ اگر ابو سفیان سیدھے مکہ واپس چلے جاتے، تو مشرکین ان کا ذہن بدل سکتے تھے۔ لیکن جب وہ لشکر کی جسامت دیکھیں گے، تو وہ سمجھ جائیں گے کہ قریش حقیقت میں کتنے بے بس ہیں۔ پھر وہ مشرکین کو بتائیں گے کہ ایسی طاقت کا مقابلہ کرنا بے سود ہوگا، اور انہیں جوابی کارروائی کرنے سے باز رکھیں گے۔ حضرت عباس (رضی اللہ عنہ) نے نبی پاک کے حکم کی تعمیل کی، اور ابو سفیان نے مسلمانوں کا لشکر حیرت سے دیکھا۔ اور کہا، "اے عباس، آج تک میں نے کبھی ایسی کوئی فوج یا ایسے لوگ نہیں دیکھے۔" پھر وہ تیزی سے مشرکین کو خبردار کرنے کے لیے نکل پڑے۔ انہوں نے پکار کر کہا، "اے قریش کے لوگو!

محمد آ چکے ہیں! وہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ بالکل تمہارے دروازے پر آ چکے ہیں کہ تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔" پھر وہ جتنی زور سے چلا سکتے تھے چلائے، "جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ محفوظ ہے! جو اپنے گھر میں چلا جائے اور دروازے بند کر لے، وہ محفوظ ہے!

جو مسجد الحرام میں پناہ لے لے، وہ محفوظ ہے!" بہت سے مشرکین اپنا غصہ نہ روک سکے۔ یہاں تک کہ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ابو جہل کے بیٹے، عکرمہ، اور صفوان بن امیہ نے لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ لیکن کسی نے ان پر توجہ نہیں دی۔ ہر کوئی پناہ تلاش کرنے کے لیے بکھر گیا۔ نبی ﷺ نے لشکر کو پانچ اہم حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اور آپ نے ہر حصے کے سالار کو ایک ہی واضح حکم دیا: "کسی سے جنگ نہ کرنا جب تک کہ تم پر حملہ یا مزاحمت نہ کی جائے۔" بالآخر، وہ طویل انتظار کی گھڑی آ گئی تھی۔ برسوں کی جدائی کے بعد، اسلامی لشکر مکہ میں داخل ہو رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ، اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے، اور آپ کا سرِ مبارک انتہائی عاجزی سے جھکا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنا سرِ مبارک اس قدر جھکا رکھا تھا کہ آپ کی پیشانی مبارک تقریباً اپنی اونٹنی کی پیٹھ کو چھو رہی تھی۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ فتح اللہ ہی کی عطا کردہ ہے، اور آپ ﷺ ہر کسی کے سامنے اس کا اظہار فرما رہے تھے۔ اپنی زندگی کے ہر لمحے کی طرح، اس لمحے میں بھی آپ ﷺ نے ایک انتہائی خوبصورت مثال قائم فرمائی۔ آپ ﷺ پوری شان و شوکت اور وقار کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے تھے۔ ایک طرف آپ ﷺ اللہ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا بیان فرما رہے تھے، اور دوسری طرف، آپ ﷺ سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے، وہ سورت جس میں اس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی۔ چہروں پر مسکراہٹیں تھیں اور دلوں کو سکون مل رہا تھا۔ مکہ بالآخر اسلام کی سرزمین بن رہا تھا۔ برسوں کی تڑپ اب ختم ہو چکی تھی۔ مسلمانوں نے جو ناانصافیاں، طعنے، اور ظلم برداشت کیے تھے، وہ اب پیچھے رہ گئے تھے۔ اب، فتح مسلمانوں کا مقدر بن چکی تھی۔ نبی پاک ﷺ مکہ کی گلیوں سے گزر رہے تھے۔ ہر گلی، ہر کونا یادوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک جگہ پر، انہیں لوگوں کی تمسخر اڑاتی ہوئی نظریں یاد آئیں۔ دوسری جگہ، ایسا لگا جیسے ان کی گالیاں اور تکلیف دہ الفاظ آج بھی آپ ﷺ کی سماعتوں میں گونج رہے ہوں۔ کچھ لوگوں نے تو ان کے منہ پر ہی انہیں برے ناموں سے پکارا تھا: جھوٹا، مجنون، جادوگر، معاذ اللہ۔ انہوں نے آپ ﷺ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی تھی۔ آپ ﷺ نے تین سالہ بائیکاٹ اور بھوک برداشت کی تھی۔ برسوں تک، آپ ﷺ انہی لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے، وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کو بار بار جھٹلایا تھا۔ ہر گلی یادوں سے بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنا ہی شہر چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن اب، وہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ کیسے واپس آ گئے؟ انہوں نے اتنے سارے لوگوں کے دل کیسے جیت لیے تھے؟ آپ ﷺ آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔ اور پھر، وہ سامنے تھا۔ کعبہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ان کے سامنے موجود تھا۔ نبی پاک ﷺ تکبیر بیان فرما رہے تھے، اور ایک آواز ہو کر، تمام مسلمانوں نے نعرہ لگایا، "اللہ اکبر!

اللہ اکبر!" جس سے مکہ کی وادی گونج اٹھی۔ کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب مکہ میں پہلی بار کھلے عام اسلام کی دعوت دی گئی تھی؟ دارِ ارقم میں ان 40 مسلمانوں کی تکبیریں ایک بیج کی طرح تھیں۔ اور وہ بیج پھوٹ کر اب ایک تناور درخت بن چکا تھا۔ اور اب، یہ 10,000 لوگوں کی تکبیروں کی صورت میں گونج رہی تھی۔ "اللہ اکبر!

اللہ اکبر!" لیکن وہاں ایک تکلیف دہ منظر بھی تھا۔ کعبہ کو 360 بتوں نے گھیرا ہوا تھا۔ اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے، نبی کریم ﷺ نے ایک ایک کر کے ان بتوں کو گرانا شروع کیا، اور یہ آیت تلاوت فرمائی: "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ بیشک باطل تو مٹنے ہی والا تھا۔" جس بت کو آپ ﷺ چھوتے وہ زمین پر گر جاتا۔ قریش نے کعبہ کے اندر بھی بت رکھے ہوئے تھے، لیکن اب، ایک بھی بت اپنی جگہ پر کھڑا نہ رہا۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ نبی ﷺ کے حکم پر، بلال کعبہ کی چھت پر چڑھے اور اذان دینا شروع کر دی۔ یہ وہی بلال تھے جنہیں انہوں نے گلیوں میں گھسیٹا تھا، ان کے گلے میں رسی باندھ کر، جنہیں عقیدہ چھوڑنے کے لیے اذیتیں دی گئی تھیں اور جنہیں غلام سمجھ کر حقیر جانا گیا تھا، آج وہی بلال کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اپنی بلند آواز سے اذان دے رہے تھے۔ "اللہ اکبر!

اللہ اکبر!" اسلام کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے، ان کی آواز پورے مکہ میں گونج رہی تھی۔ اپنے گھروں میں چھپے ہوئے کینہ پرور مشرکین یہ سن کر تباہ حال ہو چکے تھے۔ ٹوارڈز ایٹرنیٹی پر، ہم نے دن رات محنت کی ہے تاکہ اے آئی (AI) ویژولائزڈ سیریز آپ تک پہنچا سکیں۔ اور اب، انشاءاللہ، ہم جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں پر ایک نئی سیریز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت یونس علیہم السلام جیسے انبیاء۔ تاکہ آپ اور آپ کا خاندان ان کی کہانیاں ٹوارڈز ایٹرنیٹی کی شاندار پروڈکشن میں دیکھ سکیں۔ لیکن ایک نئی سیریز بنانے کے لیے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ اے آئی، پروفیشنل وائس اوور، اور آلات۔ اور بدقسمتی سے، ہم تنہا ان اخراجات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم اس پروجیکٹ کو صرف آپ کے تعاون سے ہی مکمل کر سکتے ہیں۔ ہماری ٹیم نے کل لاگت کو 25 ڈالر کے شیئرز میں تقسیم کیا ہے، لہٰذا آپ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا اس سے زیادہ شیئرز سپانسر کر کے سپورٹ کر سکتے ہیں، انشاءاللہ۔ اگر آپ ان نیکیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو ٹوارڈز ایٹرنیٹی کو عطیہ دیں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اس وقت، قریش کے کچھ سردار ،ابو سفیان، عتاب بن اسید، اور حارث بن ہشام آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ عتاب نے کہا، "میرا باپ اسید کتنا خوش قسمت تھا۔ اللہ نے اسے یہ دن نہ دکھا کر اس کی عزت رکھ لی۔ کیا محمد کو اذان دینے کے لیے اس شخص کے علاوہ کوئی اور نہیں ملا؟" تب ابو سفیان نے کہا، "مجھے تو کچھ بھی کہتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے۔ اگر ہمیں کوئی اور نہ بھی سنے، تو ہمارے قدموں کے نیچے ریت اور پتھر انہیں بتا دیں گے، اور انہیں پتہ چل جائے گا۔" کچھ ہی دیر بعد، انہوں نے نبی پاک ﷺ کو دیکھا۔ انہیں اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ کیا دیکھنے والے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں حرف بہ حرف وہی باتیں بتا دیں جو انہوں نے آپس میں کہی تھیں۔ وہ ہکا بکا رہ گئے۔ آپ ﷺ کو کیسے معلوم ہو گیا کہ انہوں نے تنہائی میں کیا باتیں کیں؟ اس دن، قریش کے یہ دونوں اہم لوگ عتاب اور حارث، بھی مسلمان ہو گئے۔ ذرا اس پر غور کریں۔ اس دن تک، وہ دونوں مضبوطی سے اسلام کے خلاف کھڑے تھے۔ انہوں نے برسوں ایسی ہی زندگی گزاری تھی۔ مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے وہ اپنے کچھ رشتہ دار بھی کھو چکے تھے۔ لیکن اب، جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنا دین کیوں بدلا، تو ان کا جواب سیدھا سا تھا: "ہم نے نبی پاک ﷺ کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔" سیرتِ نبوی ﷺ کی پوری تاریخ میں، ایسے بہت سے لوگ تھے جو اسلام کے کٹر دشمن ہوا کرتے تھے، لیکن کوئی معجزہ دیکھنے کے بعد مسلمان ہو گئے۔ کیا اس بات کا کوئی امکان ہے کہ جو معجزات انہوں نے دیکھے وہ جھوٹے تھے؟ کیا وہ اپنا مذہب، اپنی زندگی کا مقصد، اور اپنی پوری سوچ کسی ایسی چیز کے لیے بدل سکتے تھے جو کبھی ہوئی ہی نہ ہو؟ بالکل بھی نہیں۔ یہ معجزات حقیقی تھے۔ وہ سچے تھے۔ جہاں تک اس محفل میں موجود تیسرے شخص، ابو سفیان کی بات ہے تو انہوں نے کہا، “اے اللہ کے رسول ،اللہ کا شکر ہے کہ میں نے کچھ نہیں کہا تھا۔” نبی پاک ﷺ اب کعبہ میں داخل ہونا چاہتے تھے، جس کی انہیں شدت سے طلب تھی۔ آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ چابی لے کر آئیں۔ کئی سالوں سے ان کا خاندان ہی اس چابی کی حفاظت کا ذمہ دار چلا آ رہا تھا۔ اور اب، عثمان کو لگا کہ یہ ذمہ داری مزید ان کے خاندان کے پاس نہیں رہے گی۔ دوسری طرف، نبی پاک ﷺ کے چچا حضرت عباس اس اعزاز کو حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ جب عثمان چابی لائے، تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا، "کیا وہ بات سچ ثابت نہیں ہوئی جو میں نے تمہیں بہت عرصہ پہلے کہی تھی؟" آپ ﷺ کا اشارہ کس کی طرف تھا؟ اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟ اسلام کے ابتدائی سالوں میں، نبی پاک ﷺ نے عثمان کو اسلام کی دعوت دی تھی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ تم اپنی قوم کے دین کے خلاف ہوگئے ہو اور ایک نیا دین لے آئے ہو۔ اس پر نبی پاک ﷺ نے فرمایا تھا، "اے عثمان، مجھے امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تم مجھے اس مقام پر دیکھو گے جہاں میں یہ چابی جہاں چاہوں رکھ سکوں گا، اور جسے چاہوں دے سکوں گا۔" عثمان کو یہ بات اچھی طرح یاد تھی۔ انہوں نے کہا، "جی ہاں۔" یعنی، نبی پاک ﷺ نے جو کہا تھا وہ واقعی سچ ثابت ہوا ہے۔ پھر انہوں نے مزید کہا، "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔" وہ چابی رکھنے کے اہل تھے۔ انہوں نے برسوں تک اس ذمہ داری کو نبھایا تھا۔ وہ واقعی اس امانت کے حقدار تھے۔ سب یہ سوچ رہے تھے کہ اب چابی کسے ملے گی؟ پھر، نبی پاک ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے حوالے کر دو۔ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "اے عثمان، یہ لو اپنی چابی۔ آج کا دن بھلائی اور وعدہ نبھانے کا دن ہے۔" اس کے بعد آپ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے دروازہ بند کروا دیا اور کچھ دیر کے لیے اکیلے اندر ہی رہے۔ جب آپ ﷺ باہر آئے تو ایک بہت بڑا ہجوم آپ ﷺ کا منتظر تھا۔ قریش پریشانی کے عالم میں اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ ﷺ ان کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائیں گے۔ نبی پاک ﷺ نے کچھ دیر تک خاموشی سے ان کی طرف دیکھا۔ آپ ﷺ کیا کرنے والے تھے؟ کیا آپ ﷺ انہیں ذلیل و رسوا کرنے والے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ کیا تھا؟ کیا آپ ﷺ ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالیں گے جیسا انہوں نے کبھی کیا تھا؟ کیا آپ ﷺ ان کے راستے میں کانٹے بچھا کر انہیں ان پر چلنے پر مجبور کریں گے؟ کیا آپ ﷺ ان کا بائیکاٹ کر کے انہیں بھوکا ماریں گے؟ کیا آپ ﷺ انہیں ان کے اپنے گھروں سے نکال باہر کریں گے؟ کیا آپ ﷺ ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیں گے؟ نبی پاک ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا اور شکر ادا کیا اور اپنا خطبہِ فتح شروع کیا۔ جب آپ ﷺ نے بات مکمل کی، تو ان سے پوچھا، "اے قریش کے لوگو، تم کیا سمجھتے ہو کہ میں اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟" انہوں نے پکار کر کہا، "آپ ایک رحم دل اور شریف بھائی ہیں، ایک رحم دل اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ ہمیں آپ سے بھلائی کے سوا کوئی امید نہیں۔" نبی ﷺ، جنہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا، نے فرمایا، "میرا معاملہ تمہارے ساتھ ویسا ہی ہے جیسا یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا تھا۔ جس طرح یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، میں تم سے کہتا ہوں: آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ وہ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ جاؤ، تم سب آزاد ہو۔" ذرا اس منظر کا تصور کریں۔ یہ ایک ایسی معافی تھی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیونکہ اگرچہ آپ ﷺ کے پاس سزا دینے کی طاقت اور اختیار تھا، پھر بھی آپ ﷺ نے انہیں معاف کر دیا۔ کیا یہ معافی کی سب سے عظیم ترین شکل نہیں ہے؟ اور کیا برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا سب سے بڑی نیکی نہیں ہے؟ قریش کی ہٹ دھرمی اب مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔ ان کی وہ آنکھیں جو حق کو دیکھنے سے اندھی ہو چکی تھیں، بالآخر دیکھنے لگی تھیں۔ اگلے دن، نبی پاک ﷺ صفا کی پہاڑی پر تشریف لے گئے۔ یہ بالکل وہی جگہ تھی جہاں سالوں پہلے، آپ ﷺ نے پہلی بار کھلے عام اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا۔ یاد ہے؟ انہیں کسی کی طرف سے بھی وہ جواب نہیں ملا تھا جس کی انہیں امید تھی۔ اس کے برعکس، ان کے اپنے چچا نے سب کے سامنے ان کی توہین کی تھی۔ لیکن اب، قریش کے لوگ گروہ در گروہ ایمان قبول کرنے آ رہے تھے۔ مردوں کے بعد، عورتیں بھی مسلمان ہونے کے لیے گروہوں کی شکل میں آئیں۔ اور ان میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی شامل تھیں۔ اس نے پہچانے جانے سے بچنے کے لیے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور وہ عورتوں میں شامل ہو گئی تھی۔ اوروہ انتہائی ندامت کا شکار تھی، اس سب پر جو اس نے نبی پاک ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ماضی میں کیا تھا۔ اس کی سوچیں، جو احساسِ جرم سے بھاری تھیں، اس کے دل و دماغ کو چیر رہی تھیں۔ لیکن اسے ابھی بھی امید تھی۔ وہ نبی رحمت ﷺ کی رحمت کی امید لگائے ہوئے تھی۔ جب نبی پاک ﷺ کو معلوم ہوا کہ ہندہ نے اسلام قبول کر لیا ہے، تو آپ ﷺ نے اپنے دل میں ان کے لیے کوئی بغض نہ رکھا۔ ان کی تمام پچھلی غلطیوں کے باوجود، آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا اور اس کی بیعت قبول فرمائی۔ ہندہ کا نام ہمیں ایک اور نام کی یاد دلاتا ہے: وحشی۔ وہ ایک غلام تھے جنہوں نے اپنی آزادی حاصل کی تھی، حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کو شہید کرنے کے بدلے میں، جو نبی پاک ﷺ کے پیارے چچا تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر ہندہ کو لا کر دیا تھا۔ اور خوشی کے مارے، ہندہ نے انہیں اپنے سارے زیورات دے دیے تھے۔ وحشی نے اس دن اپنی نام نہاد آزادی تو حاصل کر لی، لیکن مکہ نے ان کے ساتھ کبھی بھی آزاد آدمی جیسا سلوک نہیں کیا۔ ان کی نظروں میں، وہ ابھی بھی پہلے جیسے ہی تھے۔ وہ ان لوگوں سے اپنی قدر کی کیسے توقع کر سکتے تھے، جو کفر کی تاریکی میں پھنسے ہوئے تھے؟ یا ان کی عزت ملنے سے کیا فرق پڑ جانا تھا؟ وہ کبھی اپنے ضمیر کی قید سے آزاد نہیں ہو پائے۔ فتح مکہ نے اس بوجھ کو اور بھی بھاری کر دیا۔ وہ مسلمانوں کے درمیان کیسے رہ سکتے تھے، نبی پاکﷺ کے چچا کو شہید کرنے کے بعد؟ انہی سوچوں کے ساتھ، وحشی مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن کیا بھاگ جانا انہیں واقعی ان کے ماضی سے آزاد کر سکتا تھا؟ اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے، وہ بھاگ کر کچھ بھی کیسے بدل سکتے تھے؟ وہ جہاں بھی گئے، ان کے گناہوں کا بوجھ ان کے پیچھے رہا۔ وہ اپنے ضمیر کے بوجھ تلے مکمل طور پر دب چکے تھے۔ اس سب کے دوران، ایک غیر متوقع ہاتھ ان کی طرف بڑھا۔ "ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس جا رہا ہے، اسلام قبول کرنے کے لیے۔ وہ سفیروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان کے ساتھ جاؤ اور اسلام قبول کر لو۔" انہوں نے اس مشورے پر عمل کیا، مکہ واپس آئے، اور نبی پاک ﷺ کے سامنے اسلام قبول کر لیا۔ "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔" ہمارے رب کی رحمت اتنی لامحدود ہے کہ جو لوگ توبہ کرتے ہیں، وہ ان کے کیے ہوئے ہر ایک گناہ کو نیکیوں میں بدلنے کا وعدہ فرماتا ہے۔ وہ انہیں یہ امید بھی دیتا ہے کہ وہ اپنی بری عادتوں کو اچھی عادتوں سے بدل سکتے ہیں۔ خوشی کا ایک اور منظر حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے سامنے آیا۔ اسلام کے ابتدائی ایام سے ہی، وہ اس بات کے متمنی تھے کہ ان کے والد ایمان کی مٹھاس چکھ لیں۔ انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور نبی ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ نبی پاک ﷺ کو احترام کی وجہ سے ناگوار گزرا، کہ ایک بزرگ شخص کو ان کے پاس چل کر لایا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "تم نے اس بوڑھے شخص کو گھر پر ہی کیوں نہ رہنے دیا تاکہ ہم خود وہاں جا کر ان سے مل لیتے؟" نبی پاک ﷺ نے ان کے والد کے سینے پر اپنے مبارک ہاتھ رکھے، اسے ہلکے سے سہلایا، اور فرمایا، "اسلام قبول کر لیجیے، اے ابو قحافہ۔" اور پھر وہ بھی مسلمان ہو گئے۔ ۔۔۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔" لیکن ابھی بھی کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا تھا۔ وہ سچائی سے، اور ہدایت کے نور سے دور بھاگ رہے تھے۔ آئیے فتح کے دن کی طرف واپس چلتے ہیں۔ اس دن، اسلامی لشکر پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، اور ان میں سے ایک کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے۔ اس دوران، عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ نے مزاحمت کرنے کے لیے جنگجوؤں کا ایک گروہ اکٹھا کر لیا تھا۔ جب لشکر شہر میں داخل ہو رہا تھا، تو انہوں نے خالد کے دستے پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ نبی پاک ﷺ خون خرابہ نہیں چاہتے تھے، پھر بھی مشرکین نے لڑنے پر اصرار کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں، وہ اپنے تیرہ آدمی گنوا بیٹھے اور بھاگ گئے۔ عکرمہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور بندرگاہ پر پہنچ گئے۔ ان سب کے باوجود، وہ اب بھی اپنے رب سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ حبشہ جانے کے لیے ایک جہاز پر سوار ہو گئے۔ وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ دینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے رب نے انہیں بھاگنے نہیں دیا۔ اچانک، سمندر میں ایک غیر متوقع طوفان آ گیا۔ ہوا تیز سے تیز تر ہونے لگی۔ جہاز زور زور سے ہلنے اور ہچکولے کھانے لگا۔ انہیں ڈر تھا کہ یہ اب ڈوبنے والا ہے۔ اس لمحے، کپتان نے جہاز میں سوار لوگوں کو پکار کر کہا: "سچے بنو!

خلوص نیت رکھو!

صرف اللہ ہی ہمیں اس طوفان سے بچا سکتا ہے!" وہ ڈوبنے ہی والے تھے۔ ہوا انتہائی تیز تھی، اور آسمان تاریک اور بھیانک تھا۔ جہاز میں سوار لوگوں نے انتہائی خلوص کے ساتھ دعائیں مانگنا شروع کر دیں اور صرف ایک اللہ کو پکارا، اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ "تم اس طرح کیوں دعا کر رہے ہو؟" "اللہ کے سوا کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا۔" عکرمہ وہاں اسی سچائی کا انکار کرنے کے لیے ہی تو آئے تھے۔ لیکن ان کے الفاظ نے ان پر گہرا اثر کیا۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی، "اے اللہ، اگر تو مجھے اس خطرے سے بچا لے جس میں میں ہوں، تو میں محمد کے پاس جا کر اسلام قبول کر لوں گا۔" پھر، کچھ دیر بعدطوفان تھم گیا۔ بعد میں، عکرمہ نے اس لمحے کو اس طرح بیان کیا: "یہ وہ وقت تھا جب میں اسلام کو سمجھنے لگا، اور اس کی محبت میرے دل میں اتر گئی۔ میں نے جہاز میں سوار لوگوں سے کہا، 'مجھے واپس لے چلو۔ اللہ کی قسم، اب میں محمد ﷺ کے پاس واپس جاؤں گا۔'" عکرمہ کے مکہ چھوڑنے کے بعد، ان کی اہلیہ ام حکیم مسلمان ہو گئیں۔ وہ نبی پاک ﷺ کے پاس گئیں اور ان سے اپنے شوہر کو معاف کرنے کی درخواست کی۔ اور نبی رحمت ﷺ نے عکرمہ کو امان دے دی۔ ام حکیم فوراً اپنے غلام کے ساتھ اپنے شوہر کی تلاش میں نکل پڑیں۔ ایک طویل سفر کے بعد، انہوں نے انہیں تہامہ کے ساحل پر پا لیا۔ ایک ایسی شادی جو انہیں جہنم کی طرف کھینچ رہی تھی، اب ایک ایسے بندھن میں بدلنے والی تھی جو انہیں جنت کی طرف لے جائے گا۔ شرمندگی سے بھرے، عکرمہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیسے نبی پاک ﷺ کا سامنا کریں گے۔ وہ اس سب کے بارے میں سوچتے رہے جو انہوں نے اسلام کے خلاف کیا تھا۔ انہیں بھلا کیسے معاف کیا جا سکتا تھا؟ اور اس سب پر مستزاد، وہ ابو جہل کے بیٹے تھے۔ ان کا ذہن خیالوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب ان کی اہلیہ نے انہیں بتایا کہ نبی پاک ﷺ نے انہیں امان دے دی ہے، تو وہ حیران رہ گئےاور ان کے دل کو سکون ملا۔ کئی دنوں کے سفر کے بعد، وہ مکہ پہنچ گئے۔ نبی پاک ﷺ کو فکر تھی کہ شاید کچھ لوگ، عکرمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا، "عکرمہ تمہارے پاس ایک مومن اور مہاجر بن کر آ رہا ہے۔ اس کے باپ کے بارے میں برا مت کہنا۔ کیونکہ مُردوں کے بارے میں بری باتیں کہنے سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور وہ مُردوں تک پہنچتی بھی نہیں۔" جب نبی پاک ﷺ نے انہیں دیکھا، تو خوشی کے مارے، آپ ﷺ فوراً کھڑے ہو گئے اور ان کی طرف چل پڑے۔ پھر آپ ﷺ نے عکرمہ کو گلے لگایا اور فرمایا، "خوش آمدید، اے مہاجر شہسوار۔" عکرمہ کو اتنے شاندار استقبال کی توقع نہ تھی، لیکن وہ ابھی بھی شرمندہ تھے اور انہوں نے اپنا سر جھکائے رکھا۔ پھر وہ بیٹھ گئے اور گفتگو شروع کی۔ اور بالآخر، عکرمہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ "۔۔۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔" ان کی پچھلی زندگی گناہوں سے بھری ہوئی تھی، اور وہ شرک کے اندھیرے میں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے دل کو بالآخر سکون مل جائے۔ انہوں نے کہا، "اے اللہ کے رسول، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری بخشش کی دعا فرمائیں، اس تمام دشمنی کے لیے جو میں نے آپ سے کی، ہر اس قدم کے لیے جو میں نے آپ کے خلاف اٹھایا، ہر اس موقع کے لیے جب میں نے آپ کی مخالفت کی، اور ہر اس بات کے لیے جو میں نے آپ کے منہ پر یا پیٹھ پیچھے کہی۔" نبی پاک ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اللہ سے ان کی بخشش کی دعا کی۔ عکرمہ کی روح پر موجود وہ بھاری بوجھ بالآخر اٹھ گیا۔ پھر، انہوں نے نبی ﷺ سے یہ وعدہ کیا: "یا رسول اللہ، اللہ کی قسم، میں اس سے دگنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا جو میں نے لوگوں کو اس سے دور کرنے کے لیے خرچ کیا تھا۔ اور میں اللہ کی راہ میں اس سے دگنی جنگیں لڑوں گا، جو میں نے لوگوں کو اس سے دور کرنے کے لیے لڑی تھیں۔" اس طرح، نبی پاک ﷺ کا ایک اور خواب سچ ہو گیا۔ آپ ﷺ نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ آپ ﷺ نے خود کو جنت میں دیکھا۔ وہاں ایک ایسا خوبصورت درخت تھا جو انہیں بہت پسند آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا، "یہ کس کا ہے؟" جواب بالکل غیر متوقع تھا: "یہ ابو جہل کا ہے۔" آپ ﷺ نے دل میں کہا، "اللہ کی قسم، وہ تو کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" لیکن ہماری طرح، نبیوں کے خواب بے معنی نہیں ہوتے۔ اور اس دن، اس خواب کا مطلب واضح ہو گیا۔ وہ درخت عکرمہ تھا، ابو جہل کا بیٹا۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں بھی امان دے دی، جو قریش کی سرکردہ شخصیات تھیں، جیسے صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو۔ اور وہ بھی مسلمان ہو گئے اور انہوں نے اپنی باقی زندگیاں اسلام کی راہ میں گزاریں۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ شہر میں زبردست خوشی کا عالم تھا۔ مکہ کے لوگ ایمان کی مٹھاس محسوس کر رہے تھے، وہ چیز جس کی انہیں ساری زندگی تلاش تھی، لیکن وہ کبھی نہ پا سکے۔ اس روحانی ماحول میں، ایک بدو نبی پاک ﷺ کے پاس آیا۔ وہ جذبات سے کانپ رہا تھا۔ نبی پاک ﷺ نے اس کی حالت دیکھی اور اس سے فرمایا، "پرسکون ہو جاؤ، کیونکہ میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو بس ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔" وہ دن عاجزی، شفقت اور وفاداری کی مثالوں سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی شخص عاجزی دکھا سکتا ہے، لیکن اسے فتح کے عروج پر دکھانا، وہ ایک بالکل الگ ہی بات ہے۔ ایک شخص رحم دل اور معاف کرنے والا ہو سکتا ہے، لیکن اقتدار کی بلندیوں پر ان خوبیوں کا مظاہرہ کرنا، وہ ایک بالکل ہی الگ بات ہے۔ مکہ اور پوری دنیا کے لیے، ایک بالکل نئے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ اللہ اپنے نور کو مکمل فرما رہا تھا۔ تاہم، مدینہ کے مسلمانوں کو فکر ہونے لگی۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، "اللہ نے اپنے رسول کو ان کے اپنے وطن کی فتح عطا فرما دی ہے۔ کیا اب نبی پاک ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ میں ہی رہیں گے، یا وہ ہمارے ساتھ واپس لوٹیں گے؟" انہیں اس بات کا بے حد تجسس تھا، لیکن ابھی تک ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ نبی پاک ﷺ کو ان کی پریشانی کا احساس ہو گیا اور آپ ﷺ نے انصار سے پوچھا کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا، "کچھ نہیں، اے اللہ کے رسول۔" لیکن جب آپ ﷺ نے اپنا سوال چند بار دہرایا اور دیکھا کہ وہ واضح جواب دینے سے کترارہے ہیں، تو آپ ﷺ سمجھ گئے کہ ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا، "میرا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہوگا۔" ایک بار پھر، ان الفاظ نے ان کے ساتھ آپ ﷺ کے گہرے تعلق کو ظاہر کر دیا۔ آنکھوں میں آنسو لیے، انصار آپ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے اور کہا، "اللہ کی قسم، ہم نے یہ باتیں صرف اس لیے کہیں، کیونکہ ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اور کسی دوسری وجہ سے نہیں۔" فتح مکہ نے سب کچھ مکمل طور پر بدل دیا تھا۔ مشکلات کے دن اب ختم ہو چکے تھے، اور جدوجہد آسانیوں میں بدل چکی تھی۔ لیکن دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ اس بات کی بھی علامت تھی کہ ایک دور اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا۔ سب کچھ بالکل اسی طرح اپنی جگہ آ گیا تھا جیسا کہ ہونا طے تھا۔ لیکن نبی پاک ﷺ کی نظروں میں، ایک گہرے سکون کے ساتھ ساتھ، ایک خاموش انتظار بھی تھا۔ اب آپ ﷺ کی سب سے بڑی خواہش، بس اپنے محبوب ترین، اپنے رب سے ملنا تھی۔ اس زمین پر، جہاں آپ ﷺ نے اپنا دل و جان برسوں تک اللہ کا پیغام پھیلانے کے لیے وقف کر دیا تھا، وہاں آپ ﷺ جلد ہی اپنی امت سے آخری خطاب فرمائیں گے۔ اور اس بار، محض چند لوگ نہیں، بلکہ ایک لاکھ سے زیادہ اہلِ ایمان اس لمحے کے گواہ ہوں گے۔ تو، اس فتح کے بعد دنیا میں کیا بدلا؟ جزیرہ نما عرب میں کس قسم کا سیاسی نظام قائم ہوا؟ نبی ﷺ کے آخری ایام میں کیا ہوا؟ کون سے جذباتی لمحات پیش آئے؟ اور جب نبی رحمت ﷺ نے اپنی آخری سانس لی، تو آپ ﷺ اپنی امت کے لیے کیا چھوڑ گئے؟ ان میں سے ہر سوال کا جواب اور سورۃ النصر کی عظیم خوشخبری کا پورا ہونا، یہ سب کچھ ہماری سیریز کی آخری قسط میں ہوگا۔ ملتے ہیں ۔
