# Quran Ke Woh Mojzay Jo Aap Pehli Baar Sunenge!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/3-miracles-hidden-in-qurans-one-letter-you-will-be-shocked
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=cRVrMexGapM
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

ایک کتاب تصور کریں جو ایک عام ذہن کے لیے پوری طرح واضح ہے، مگر اتنی گہری کہ اہلِ علم پوری زندگیاں اِس پر غور و فکر میں گزار دیں۔ ایسی کتاب جس کے الفاظ کبھی پرانے نہیں ہوتے، اور جس کے ہم پلّہ کوئی چیز کبھی تخلیق نہ ہو سکی: وہ ہے قرآن۔ قرآن ایک چیلنج دیتا ہے۔ بظاہر، یہ سادہ سا نظر آتا ہے، مگر درحقیقت، یہ ناممکن ہے۔ یہ ایسا چیلنج ہے کہ اگر اِس کے دشمن یہ کر جاتے تو وہ آسانی سے اسلام کو مٹا سکتے تھے۔ نہ بدر کی، نہ اُحد کی، نہ خندق کی، کسی جنگ کی ضرورت نہ پڑتی۔ ہم ایک ایسے چیلنج کی بات کر رہے ہیں جس کا جواب 14 صدیوں بعد بھی نہ دیا جا سکا، اور یہ چیلنج اب بھی باقی ہے۔ تو وہ کونسا چیلنج ہے؟ آئیے اُس دور میں واپس چلتے ہیں۔ عرب۔ شاعری اور فصاحت و بلاغت کی سرزمین۔ زبان کے استاد، گفتگو و سخن کے شہنشاہ۔ ایک دن، سب کی زبانیں خاموش ہو گئیں۔ یہاں تک کہ مغرور ترین آوازیں بھی لرز گئیں۔ اور اُنہیں خاموش کرنے والی قرآن کی یہ آیتیں تھیں: اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ۚ بَلْ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ۚ‏ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰدِقِيۡنَؕ‏ ’’ہاں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’’اِن صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے نہیں!

بلکہ یہ (ضد میں) ایمان نہیں لا رہے۔ اگر یہ واقعی سچے ہیں تو اِس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں!‘‘ پیغام بالکل واضح تھا: چیلنج پورا کرو یا ہمیشہ کے لیے ہار مان لو۔ یہ واقعی ایک غیر معمولی اور حیران کن بات تھی۔ پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، جنہوں نے یہ وحی پہنچائی اور اُن لوگوں کو چیلنج دیا، جن کا کوئی استاد نہیں تھا۔ اور زندگی میں اُن کا شاعری یا ادب سے کبھی واسطہ نہ رہا تھا۔ مگر اُنہوں نے اُسی میدان میں معاشرے کو چیلنج دیا جس میں وہ لوگ ماہر تھے۔ اِس ویڈیو کے اختتام تک، آپ جان لیں گے کہ اِس چیلنج کا جواب کیوں نہیں دیا جا سکا اور قرآن دوسری کتابوں سے منفرد اور بے مثال کیوں ہے۔ مگر وہ نتیجہ جاننے سے پہلے، آپ کے خیال میں اِس چیلنج کے بعد کیا ہوا ہوگا؟ جوں جوں قرآن اپنا چیلنج دہراتا گیا، اُن کی خاموشی اتنی ہی ذلت آمیز ہوتی گئی۔ ابتدا میں اُن سے صرف یہ کہا گیا کہ وہ قرآن جیسی کوئی کتاب لے آئیں اپنے کسی ایسے شخص سے، جس نے نبیِ پاک ﷺ کی طرح پڑھنا لکھنا نہ سیکھا ہو۔ مگر جب وہ یہ نہ کر سکے، تب اُنہیں یہ موقع دیا گیا کہ کسی مستند عالم یا مصنف سے یہ کام کروا لیں۔ وہ ماضی میں لکھی گئیں تمام کتابوں سے مدد لے سکتے تھے، اپنے تمام ذرائع جمع کر سکتے تھے، اور اپنے تمام ادبی ماہرین کو جمع کر سکتے تھے۔ اور اِس سے بھی بڑھ کر، وہ اپنے خداؤں سے بھی مدد لے سکتے تھے۔ جب وہ پورے قرآن کے برابر نہ لا سکے، تو اُنہیں دس سورتوں جیسا کلام لانے کو کہا گیا۔ اور جب وہ یہ بھی نہ کر سکے، تو صرف ایک سورۃ کا کہا گیا۔ اُن کی خاموشی صرف ناکامی نہ رہی، بلکہ رُسوائی بن گئی۔ اب وہ کیا کرتے؟ یہ صرف ایک شکست نہ تھی، بلکہ ایک سنگین بحران تھا۔ ایک ایسی تہذیب کے لیے، جسے اپنی زبان دانی پر ناز تھا، یہ اُس کے لیے بدترین رُسوائی تھی۔ وہ الفاظ کے ذریعے اِس کا مقابلہ نہ کر سکے، لہٰذا وہ تلواریں اٹھانے اور کئی جنگیں لڑنے پر مجبور ہو گئے۔ آپ نے یہاں ایک نکتہ محسوس کیا؟ یہ چیلنج دوسرے مذاہب کے لیے بھی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بت پرستوں کو اپنے بتوں سے کوئی مدد نہ مل سکی۔ مگر بہت سے مذاہب جیسے کہ ہندو ازم، عیسائیت اور یہودیت دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کا مذہب خدائی ہستیوں پر قائم ہے۔ پھر بھی، نہ کوئی مذہب، نہ کوئی نظریہ، نہ کوئی آواز اس کا جواب دے سکی۔ نہ چودہ صدیوں میں، اور نہ آج۔ یہ اِن عقائد کے ماننے والوں کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہونا چاہیے۔ کیونکہ بہرحال، یہ چیلنج دینے والا مذہب کوئی عام یا اتفاقی نظریہ نہیں ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے اثرات آدھی دنیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا مذہب جسے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مانتی ہے۔ تو آخر قرآن میں وہ کیا بات ہے جو اسے بے مثال بناتی ہے؟ کیا واقعی لاکھوں کتابوں میں سے کوئی ایک بھی اس کے برابر نہیں ہے؟ علماء کرام کہتے ہیں کہ قرآن کے معجزہ ہونے کے 40 مختلف پہلو ہیں۔ ظاہر ہے، ہم ایک ویڈیو میں پورے 40 کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ مگر آئیے ہم چار دروازے کھولتے ہیں۔ قرآن کے معجزات میں کھلنے والے چار دروازے۔ پہلا: قرآن کی جانب سے زبان کا طاقتور اور خوبصورت استعمال۔ دوسرا: اِس کی حیرت انگیز گہرائی اور معنوی وسعت۔ تیسرا: اِس کے الفاظ میں طاقتور روانی۔ اور چوتھا: اِس کا کائنات کے راز بیان کرنے کا انداز جو اب جا کر دریافت ہو رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ قرآن کا صرف ایک حرف بھی اپنے اندر ایک معجزہ رکھ سکتا ہے؟ ہم سورۃ یٰسین (چیپٹر 36) دیکھتے ہیں۔ ایک آیت میں کہا گیا ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا۔ `` عربی آیت میں حرف ’’ل‘‘ (لِ) پوری تصویر بدل دیتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ہی جملے میں تین مختلف معانی شامل کرتا ہے۔ اور اس طرح سورج کے بارے میں تین بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔ دیکھیں، لِمُسْتَقَرٍّ کا ایک معنی ہے ’’مدار میں‘‘۔ یعنی سورج ایک مدار میں مسلسل حرکت کر رہا ہے۔ آج، مشاہدات واقعی یہ ثابت کرتے ہیں کہ سورج مِلکی وے کے اندر ایک مدار میں حرکت کر رہا ہے۔ حرف ’’ل‘‘ دوسرا معنی دے رہا ہے ’’منزل‘‘ کا ۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’وہ اُس مقام کی طرف جا رہا ہے جہاں جا کر اُس کا سفر ختم ہو جائے گا۔‘‘ دوسرے الفاظ میں، چونکہ سورج کی توانائی ایک دن ختم ہو جائے گی، اِسی لیے وہ اُس انجام تک مسلسل حرکت میں ہے۔ اِس سے سورج کی مادی اور نیوکلیائی حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ حرف ’’ل‘‘ کا تیسرا معنی ’’سبب اور اثر‘‘ کا ہے۔ یقیناً سورج کی حرکت ہی استحکام کا سبب ہے۔ اس کی حرکت کششِ ثقل کا توازن پیدا کرتی ہے، جس کے باعث ہماری زمین کی طرح تمام سیارے اپنے مدار میں قائم ہیں۔ جب ہم اِن تینوں معانی کو یکجا کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے رب نے سورج کے مختلف زاویوں کو بیان کر دیا صرف ایک حرف کے ذریعے سے ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ الفاظ کو اس قدر طاقتور انداز میں استعمال کرنا ایک معجزہ ہے؟ اور جب کہ سائنس اب جا کر اِن حقائق کو دریافت کر رہی ہے، قرآن نے اِن کا ذکر چودہ صدیوں پہلے ہی کر دیا تھا۔ یہ ایک اور معجزاتی پہلو ہے۔ اگر ایک حرف میں بھی اتنا گہرا معنی موجود ہو، تو پوری کتاب کو سمجھنے کا موقع کھو دینا کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ آپ ایک آیت پڑھتے ہیں جسے آپ پہلے سے جانتے ہیں، لیکن پھر ایک نیا معنی سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے آپ کے سامنے چُھپا ہوا خزانہ مل جائے۔ قرآن میں اور بہت سے حروف بھی ہیں جو خود اپنے اندر گہرے معانی رکھتے ہیں۔ آئیے ایک اور مثال دیکھتے ہیں اب۔ قرآن میں ایک بھی لفظ اتفاقاً منتخب نہیں کیا گیا۔ ہر لفظ ہمیشہ تمام ممکنہ انتخابوں میں سب سے عقلمندانہ انتخاب ہوتا ہے۔ مثلاً، آئیے اِس آیت کو دیکھتے ہیں: وَلَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ...

’’اور اگر تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی انہیں چھو جائے...‘‘ آیت کا باقی حصہ اِس سزا کے اثر کو بیان کرتا ہے۔ یہاں زبان کا حیرت انگیز استعمال یہ ہے: یہ عذاب کے سب سے چھوٹے حصے کو بیان کرکے عذاب کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس سے قاری کو یہ تصور ملتا ہے کہ پورا عذاب کتنا شدید ہوگا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت میں استعمال ہونے والا ہر لفظ کسی چھوٹی، ہلکی یا معمولی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بالکل آیت کے مجموعی مقصد کی طرح۔ مثلاً، لَئِن کا معنی ہے ’’اگر‘‘۔ لہٰذا صاف طور پر یہ کہنے کے بجائے کہ ’’جب یہ ہوگا‘‘، ’’اگر‘‘ جیسی غیر یقینی اصطلاح استعمال کی گئی جو کسی ہلکی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اور دوسرے لفظ مَسَّتْهُمْ کا مطلب ہے ’’چُھونا‘‘۔ تو یہ کہنے کے بجائے کہ ان پر عذاب مسلط کیا جائے گا، ایک لفظ کا استعمال کیا گیا جس کا مطلب ہے ’’اگر وہ ہلکا سا بھی چُھو جائے‘‘۔ اگلا لفظ ہے نَفْحَةٌ، یعنی ’’ہلکی ہوا‘‘۔ مطلب یہ کہ ہلکی ترین ہوا بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔ دوبارہ، ایک معمولی مقدار کا استعمال کیا گیا۔ درد کو بیان کرنے والے سخت الفاظ میں سے، عربی زبان کا سب سے ہلکا لفظ عذاب' منتخب کیا گیا۔' اور آخر میں، اللہ کی طاقت کا اظہار کرنے والا اُس کا کوئی نام استعمال کرنے کے بجائے، اِس آیت میں رب (پروردگار) کہا گیا یعنی جو پرورش کرتا ہے۔ اِس میں رحمت کا احساس ملتا ہے، ہے ناں؟ یعنی اِس لفظ میں بھی نرمی کی جھلک ہے۔ مطلب کہ ہر لفظ ایسا منتخب کیا گیا ہے جو بنیادی مقصد کو پورا کرنے کا بہترین ممکنہ آپشن ہو سکتا تھا۔ اگر صرف ہلکی ہوا اُنہیں پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہے تو پوری سزا کیسی ہوگی؟ کیا آپ کے نزدیک یہ ایک نہایت منفرد انداز نہیں ہے؟ ہزاروں اسکالرز یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ قرآن میں ہر لفظ کا انتخاب کتنی احتیاط کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اِس موضوع کے تحت آخری مثال اُن باتوں کے بارے میں ہے جنہیں قرآن جان بُوجھ کر غیر متعین چھوڑ دیتا ہے۔ اِس میں غیر معمولی حکمت پائی جاتی ہے نہ صرف کہے گئے الفاظ میں، بلکہ اِس کی اَن کہی باتوں میں بھی۔ مثلاً، اِس آیت پر غور کریں: وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔ ’’اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ یہ آیت اہلِ ایمان کی نجات کا ذکر کرتی ہے۔ لیکن اس میں لفظ ’’کامیاب‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ تو کامیابی کا کیا مطلب ہے؟ یہ بات واضح طور پر نہیں کہی گئی۔ تاکہ ہر کوئی اِسے اپنے انداز سے سمجھ سکے۔ اِس طریقے سے، یہ آیت ہر طرح کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگوں کے لیے کامیابی جہنم سے نجات پانا ہے۔ وہ شخص جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے اس آیت میں دیے گئے حکم پر عمل کرے گا۔ دوسروں کے لیے، کامیابی کا مطلب جنت تک پہنچنا ہے۔ کچھ کے لیے، اِس کا مطلب آخرت میں اللہ سے ملاقات کرنا ہے۔ اور کچھ کے لیے، اِس کا مطلب دنیا کے مسائل سے محفوظ رہنا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اِس کے مطلب کا دارومدر ہر انسان کی اپنی ضرورت پر ہے۔ اور یہ بات حوصلہ افزائی کو مزید طاقتور بناتی ہے۔ اِس کے علاوہ، آج سے پانچ سال بعد آپ کے لیے کامیابی کا مطلب کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ اِس لحاظ سے، یہ آیت آپ کی امید کو تازہ رکھتی ہے گویا ہر بار آپ اِسے پہلی بار پڑھ رہے ہوں۔ اِس مقصد کے لیے، قرآن اضافی جملے یا الفاظ یا حرف استعمال نہیں کرتا۔ یہ صرف ایسا لفظ منتخب کرتا ہے جو معنی کے لحاظ سے کھلا ہو۔ جب ہم یہ تینوں مثالیں دیکھتے ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ قرآن کے منتخب کردہ غیر واضح الفاظ، اور استعمال کردہ ہر ایک لفظ اور حرف، کیسے گہرے اور وسیع معانی لیے ہوتے ہیں۔ اب، ذرا تصور کریں کہ مکمل جملے اور آیات کیا کچھ بیان کرتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی آیات کے بارے میں ہزاروں تفسیر (تشریح) کی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ دنیا میں آپ کو کوئی کتاب ایسی نہیں ملے گی جو اِس معیار کے قریب بھی پہنچ سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا ایک اور معجزانہ پہلو واضح ہو جاتا ہے۔ ہمارا دوسرا نکتہ: اِس کی حیرت انگیز گہرائی اور موضوعاتی وسعت۔ موضوعاتی وسعت سے کیا مراد ہے؟ مطلب یہ ہے کہ قرآن صرف نماز یا عبادت تک محدود نہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو ہر چیز پر گفتگو کرتی ہے۔ یہ آپ کو پودوں اور جانوروں کی دنیا سے لے کر انسانی نفسیات تک سفر پر لے جاتی ہے۔ یہ ذکر کرتی ہے معاشرے، قانون، سفارت کاری، سائنس بلکہ ہمارے اوپر موجود ستاروں تک کا۔ یہ گزشتہ قوموں کے قصے سناتی ہے اور مستقبل کی خبریں بھی دیتی ہے۔ ایسی خبریں جو پہلے ہی سچ ثابت ہو چکی ہیں۔ یہ کئی زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر قیامت کے دن تک۔ اور اُس کے بعد آخرت کی زندگی کا بھی۔ خاندان کے بارے میں کوئی آیت آج ایک قانونی مشورے اور مستقبل میں روح کی پاکیزگی پر رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ ایک اور آیت: سود پر پابندی لگتی ہے، اور اس کے ساتھ ہی ناانصافی نفرت، حسد، نسلی تعصب مٹ جاتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو انسانیت صدیوں سے حل کرنے میں ناکام رہی ہے جن کا جواب قرآن چند جملوں میں دے دیتا ہے۔ ہر بار اِسے کھولنے پر، علم کے نئے موتی ملنے کی امید ہوتی ہے۔ اور بے شک، ہر بار یہ مزید علم دیتا ہے۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ: اگرچہ موضوعات انتہائی گہرے ہیں، مگر اِس کے سمجھانے کا انداز اتنا آسان ہے کہ ہر شخص اِنہیں سمجھ سکتا ہے۔ تو کیا آپ کو کسی اور کتاب میں موضوعات کی اتنی وسعت مل سکتی ہے؟ انسانی ماہرین کا تصور کریں۔ ایک نے اپنی زندگی قانون کے لیے وقف کر دی۔ دوسرے نے علمِ فلکیات کے لیے۔ اور تیسرے نے نفسیات کے لیے۔ ہر ایک اپنے شعبے میں اعلیٰ ذہانت کا مالک ہے۔ مگر آپ کسی وکیل سے نہیں کہیں گے کہ وہ آپ کو خلاء کے راز سمجھائے۔ اور نہ ہی ماہرِ فلکیات سے انسانی روح کی وسعتیں ماپنے کا کہیں گے۔ یہ انسان کی ایک بنیادی محدودیت ہے۔ مگر قرآن زندگی کے ہر پہلو پر پوری مہارت کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔ جوں جوں صدیاں بیت رہی ہیں، اس کی قدر و قیمت مزید سمجھ میں آ رہی ہے۔ دنیا کی ہر چیز وقت کے ساتھ ساتھ پرانی ہو جاتی ہے، مگر قرآن کی تروتازگی، ہم آہنگی اور طاقت و تاثیر بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اور ہم تک یہ پیغام پہنچانے والے نبی ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے پڑھنا نہیں سیکھا تھا، صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔ بے شک، اِس بات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی اِس کتاب کے برابر کچھ پیش نہیں کر سکتا۔ اور قرآن یہ سب بیان کرتے ہوئے کبھی کسی خشک انسائیکلوپیڈیا کی طرح محسوس نہیں ہوتا۔ اور یہی چیز ہمیں تیسرے موضوع پر لے آتی ہے: قرآن کے الفاظ کی طاقتور روانی۔ اِس سے کیا مراد ہے؟ مثال کے طور پر، سورۃ الانعام کی ایک آیت میں ہے: ’’اللہ جس کو (اُس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، تو اُس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کر دیتا ہے کہ (اُسے ایمان لانا اتنا مشکل لگتا ہے) جیسے اُسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔‘‘ اِس آیت میں، ایک جملہ ہے: كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ۔ اِن الفاظ سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے کوئی اپنی سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں ہو۔ جب کہا جاتا ہے یَصَّعَّدُ ، تو اِس کی ادائیگی مشکل ہوتی ہے۔ ویسے، اُس زمانے میں، لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جیسے جیسے اوپر جائیں تو آکسیجن کم ہو جاتی ہے اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور جب ہم اِس حقیقت پر غور کرتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ اِسی آیت میں ایک سائنسی معجزہ بھی چُھپا ہوا ہے۔ یا سورۃ القمر کی مثال لیں۔ لفظ قَمَر کا آخری حرف ر ہے۔ اگر آپ غور کریں، تو دیکھیں گے کہ اِس سورۃ میں 55 آیات ہیں۔ اور بلا تفریق، ہر آیت کا اختتام حرف ر پر ہوتا ہے۔ عربی میں، قَمَر کا مطلب ہے چاند۔ اگر آپ حرف ر کی شکل دیکھیں، تو یہ آپ کو بالکل ہلال کی طرح یاد دلائے گا (چاند کا ہلال)۔ ایک مشہور مثال سورۃ الناس ہے۔ اِس میں شیطان کی چُھپی ہوئی سرگوشیوں کا ذکر ہے۔ اور جس طرح اِن آیات کی ادائیگی ہوتی ہے اس سے سرگوشیوں کا گمان ہوتا ہے۔ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ اِلٰـهِ النَّاسِ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔ اَلَّـذِىْ يُوَسْوِسُ فِىْ صُدُوْرِ النَّاسِ۔ مِنَ الْجِنَّـةِ وَالنَّاسِ۔ شیطان جس طرح خاموشی سے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اِسے بھی الفاظ کی آواز کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ قرآنی الفاظ کی آوازوں میں جو تال میل ہے، اُسے باقاعدہ ایک الگ علم سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو بھی قرآن کی روانی پر شک ہو، تو وہ صرف پانچ منٹ کے لیے اِسے آن لائن سن کر دیکھ لے۔ وہ اپنے دل میں اِسے محسوس کرے گا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے قرآن کو سیکڑوں مرتبہ پورا پڑھا ہے، مگر ہر مرتبہ وہ بور ہوئے بغیر اِسے دوبارہ شروع کرتے ہیں اور ہمیشہ وہی روحانی خوشی پاتے ہیں۔ کیا کوئی اور ایسی کتاب ہے جسے آپ بار بار پڑھیں، مگر ہر بار اتنے ہی شوق سے اِسے دوبارہ شروع کریں؟ کچھ ہی دنوں میں آپ اُس سے اکتا جائیں گے۔ اور صرف پڑھنے ہی کی بات نہیں۔ ایسے لاکھوں لوگ ہیں جنہوں نے پورا قرآن زبانی یاد کیا ہوا ہے۔ جی ہاں، پورے 600 صفحات۔ یہاں تک کہ پانچ پانچ سال کے بچوں نے بھی اِسے پورا یاد کر رکھا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اور کیا آپ کو سب سے حیرت انگیز بات معلوم ہے؟ اللہ یہ سب کچھ اُنہی الفاظ اور حروف سے کرتا ہے جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر وہ انہیں اتنی پرفیکٹ ترتیب میں رکھتا ہے کہ زبان کے سب سے بڑے ماہرین کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا: ’’یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ یقیناً یہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔‘‘ اور آخر میں، آئیے اب اپنے چوتھے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں: قرآن شریف میں سائنسی وضاحتیں۔ آئیے مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ سورۃ الذاریات، آیت 47: کائنات کی وسعت۔ سورۃ الحدید، آیت 25: یہ حقیقت کہ لوہا آسمان سے اتارا گیا تھا۔ سورۃ الزّمر، آیت 6: رحم میں بچے کا تاریکی کے تین مراحل سے گزر کر پروان چڑھنا۔ سورۃ النور، آیت 40: سمندر کی گہرائیوں میں تاریکی کا وجود۔ سورۃ النباء، آیت 12: آسمان کی تہہ در تہہ وسعتیں۔ سورۃ الانعام، آیت 125: بلندیوں پر ہوا کے دباؤ میں ہونے والی تبدیلی۔ سورۃ النحل، آیت 68: شہد کی مکھی کی جنس۔ سورۃ الرعد، آیت 3: پودوں میں نر اور مادہ کا وجود۔ سورۃ الاعراف، آیت 57: بادلوں کا وزن۔ سورۃ القیامہ، آیت 4: انسانوں کے فنگر پرنٹس کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا۔ سورۃ الحجر، آیت 22: ہواؤں کا بارآور کرنے والا کردار۔ اور بہت کچھ۔ بھلا یہ سب کون کر سکتا ہے؟ مثال کے طور پر، ارسطو تاریخ کے مشہور ترین ناموں میں سے ایک ہے۔ اُس نے کئی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ اُس نے سائنس کے مختلف شعبوں میں بہت سے موضوعات پر بات کی۔ مگر اُس کے ستّر (70) فیصد سے زیادہ سائنسی دعوے موجودہ سائنس کے خلاف ہیں۔ مگر قرآن شریف نے اُس کے دعووں کو نہیں دُہرایا۔ یا آئزک نیوٹن کو لے لیں، جسے جدید فزکس کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ کائنات کے ساکن ہونے کے نظریے کا حامی تھا۔ جبکہ دوسری طرف، آج سائنس کہتی ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ وہی بات جو قرآن نے کہی تھی۔ لہٰذا میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں: اُس وقت، ایسے موضوعات کے بارے میں بات کرنا گویا بارودی سرنگوں پر چلنے جیسا تھا۔ مختصراً، ہم اِس کا خلاصہ یوں کر سکتے ہیں: سیکڑوں سالوں تک، بے شمار سائنسدان ایک پہاڑ سر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور آخرکار جب وہ چوٹی پر پہنچے، تو اُنہیں احساس ہوا کہ قرآن وہاں پہلے سے ہی موجود تھا۔ اور یہ حقیقت کہ قرآن میں ایک بھی غلطی موجود نہیں، اِس بات کی واضح نشانی ہے کہ کوئی چیز اس کی برابری نہیں کر سکتی۔ اگر آپ کے خیال میں یہ کسی انسان کا کلام ہے، تو پھر ایسی کتاب پیش کیجیے جس کے ہر حرف میں ایسی گہرائی موجود ہو۔ چونکہ قرآن نے چیلنج پیش کر دیا ہے، تو آئیے اختتام خود اِسی کے الفاظ سے کرتے ہیں: ’’بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا اِن کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟‘‘
