# Science Hairan Reh Gayi! Quran Mein Paayi Gayi 7 Future Technologies

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/7-future-technologies-in-the-quran-that-shock-scientists
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=Zu_344iByfs
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

صرف ایک صدی پہلے ویڈیو کالز کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اگر میں آپ سے کہوں کہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی اس ٹیکنالوجی کا اشارہ دیا تھا تو؟ اور صرف یہی نہیں، لوگوں کو ایک براعظم سے دوسرے تک جہازوں کے ذریعے لے جانا، نابینا پن کا علاج اور دیگر متعدد ٹیکنالوجی سے متعلقہ ترقیاں۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں کئی راز پوشیدہ ہیں۔ یہ میسجز اور اشاروں سے بھرا پڑا ہے جو ہر زمانے کے لحاظ سے بالواسطہ طور پر مخفی ہیں۔ اب تک ہم نے اس کے کئی سائنسی معجزے دیکھے ہیں۔ کائنات کی توسیع سے لے کر جینیاتی ترقی کے مراحل تک، گہرے سمندر کی تاریکیوں سے لے کر فضا کی تہوں تک، بہت سے سائنسی حقائق کے بارے میں ان کی دریافت سے صدیاں قبل قرآن نے نشاندہی کی۔ لیکن اگر ابھی مزید باقی ہوں تو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم صرف سطحی معلومات رکھتے ہوں، اور ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہو؟ اگر مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے اشارے اب بھی اس کی آیات میں مخفی ہوں تو؟ اگر آپ تیّار ہیں تو آئیں ایک ایک کر کے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔ سورہ انعام میں، ہمیں یہ آیت ملتی ہے۔ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ اِلاَّ فِى كِتَابٍ مُبِينٍ ترجمہ، "اور اس کے علم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں گرتا، زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے تو اس آیت کے مطابق، قرآن میں ہر چیز موجود ہے۔ لیکن پُوری تفصیل یا نام کے ساتھ نہیں۔ اس کی بجائے اشاروں، خلاصوں، اور بنیادی اصولوں کے ذریعے۔ مشہور اسلامی اسکالر بدیع الزماں فرماتے ہیں کہ ان میں سے کچھ راز انبیاء اور ان کے معجزات کی کہانیوں میں مخفی ہیں۔ یقیناً، اللہ نے ان کی کہانیوں کے ذریعے ان میں سے کچھ کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا ہے۔ اُس نے ٹیکنالوجی کی ترقی کے عروج کے بارے میں انسانوں کو تصّور دیا اور اشارہ دیا کہ اس جیسی ایجادات ایک دن کی جائیں گی۔ اب ہم قرآن میں ذکر کردہ انبیاء کے سات معجزات اور ان اشاروں پر نظر ڈالیں گے جو ان میں مخفی ہیں۔ جیسے جیسے ہم آخری معجزوں تک پہنچیں گے، یہ اشارے آپ کو مزید حیران کر دیں گے۔ سورہ النمل، آیات 38 تا 40، ایک شاندار واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان آیات کے مطابق، سلیمان علیہ السلام ایک دور دراز ملک سے ملکہ صباء کا تخت لانے کو کہتے ہیں۔ اور کوئی شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہوتا ہے، کہتا ہے وہ پلک جھپکتے ہی یہ تخت لا سکتا ہے۔ اور فوری طور پر وہ تخت سلیمان علیہ السلام کے سامنے آ جاتا ہے۔ تو وہ تخت، جو یمن میں تھا، کسی طرح وہاں آ موجود ہوتا ہے یا دمشق میں تصویر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ہزاروں کلو میٹر دُور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ لوگ تخت کے آس پاس لوگوں کو دیکھ اور ان کی باتیں بھی سُن سکتے تھے۔ یہاں قرآن قابلِ ذکر اشارے دیتا ہے۔ 1400 سال پہلے نازل ہونے کے باوجود، یہ بیان کرتا ہے کہ کیسے کوئی چیز یا اس کی تصویریں دُور دراز فاصلوں تک فوری طور پر ٹرانسپورٹ یا ٹرانسمٹ کی جا سکتی ہیں۔ اور ایسا ایک حقیقی تاریخی واقعے کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہم چند سیکنڈز میں انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن کے ذریعے تصویریں اور آواز واقعی ٹرانسمٹ کر سکتے ہیں۔ کیا قرآن میں موجود یہ واقعہ آج کل کے لائیو براڈ کاسٹ، پروجیکٹرز، کیمروں یا ماڈرن ہولوگرامز سے آنے والی تصویروں سے ملتا جلتا نہیں ہے؟ لیکن اس طرح کی بات کا ذکر قرآن میں کیسے ہو سکتا ہے جب کہ 1400 سال قبل اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا؟ ایک مرتبہ پھر ہمیں واضح ثبوت ملتا ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں، ہم دیکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام جانوروں کی زبان جانتے تھے اور ان سے کلام کر سکتے تھے۔ سورہ النمل، آیت نمبر 18 میں، ذکر ہے کہ وہ چیونٹیوں کی زبان سمجھتے تھے، اور آیت 22 میں کہ پرندوں کی زبان سمجھتے تھے۔ تو یہاں کس قسم کا اشارہ دیا گیا ہے؟ درحقیقت، جانوروں کی زبان سمجھنا ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں، لوگ یہ سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں کہ جانور کیسے بات چیت کرتے ہیں اور کیا کام کرنے کے اہل ہیں۔ بہرحال، ہمیں پتہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام ان کی زبان جانتے تھے، انھیں ان کی خوبیوں کا علم تھا اور انھوں نے انھیں اپنے کام میں استعمال کیا۔ اور جب آپ اس بارے میں سوچتے ہیں، اگر ہم جانوروں کی قابلیت کو پُوری طرح سمجھ جائیں تو ہم انھیں روزمرّہ کے کئی کاموں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ درحقیقت یہ وہ کام ہے جو ہم پہلے سے شروع کر چکے ہیں۔ پیغامات اور خطوط بھیجنے کے لیے کبوتروں کا استعمال ہو چکا ہے۔ طوطوں کو بولنے کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ ریشم کے کیڑے کو کپڑا بنانے کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے۔ اسی طرح، ہم نے ایک طرح سے، کتّوں کی زبان سیکھ لی ہے اور منشیات کے خلاف ان کے سونگھنے کی طاقتور حِس کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ چوہوں کی کچھ قسموں کا استعمال بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے بھی کیا گیا ہے کیوں کہ ان کی ناک انتہائی حساس ہوتی ہے۔ اور ہم ڈولفن کی ایڈوانسڈ سونار کی خصوصیات کو آبدوزوں کی تلاش اور ریسکیو مشن کے ساتھ ساتھ سمندری بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام کا جانوروں کی زبان سمجھنے اور کاموں میں ان کے استعمال کا معجزہ یہ ظاہر کرتا ہے ہم ان کی مزید خصوصیات بھی دریافت کر سکتے ہیں اور مستقبل میں ان سے فایدہ حاصل کرنے کے نئے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔ زمین پر جانوروں کی ہزاروں اقسام موجود ہیں۔ اگر ہم ان کی زبانیں سمجھ لیں اور انھیں تربیت دیں تو، ان کو ساتھ ملا کر ہم جو کچھ حاصل کر سکتے ہیں وہ ہمارے تصوّر سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ سلیمان علیہ السلام کو ایک اور معجزہ عطا کیا گیا تھا کہ وہ ہوا کو کنٹرول کر سکتے تھے۔ اس طرح وہ طویل فاصلے بہت مختصر وقت میں طے کر سکتے تھے۔ سورہ سبا میں اللہ فرماتا ہے، "اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، ان کی صبح کی منزل مہینے بھر کے برابر ہوتی تھی، اور ان کی شام کی منزل بھی مہینے بھر کے برابر ہوتی تھی۔" اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ عام طور پر ایک مہینے میں طے کیا جانے والا سفر کیسے دن کے چھوٹے سے حصّے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز جیسے کہ ہوائی جہاز کے حوالے سے واضح اشارہ نہیں؟ اس بارے میں سوچیں۔ آج، نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ، ہم حساب لگاتے ہیں کہ ہوا کو کیسے استعمال کرنا ہے، درست میٹیریل کیسے ملانا ہے اور ہوائی جہاز کیسے بنانا ہے۔ اور اس آیت میں بیان کردہ اشارے کی طرح، اب ہم طویل سفر بہت مختصر وقت میں مکمل کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم ایک ہی دن میں ایک سے زائد ممالک میں جا سکتے ہیں۔ وہ سفر جن پر کبھی پورا مہینہ لگتا تھا اب چند گھنٹوں میں طے ہو جاتے ہیں۔ ایک اور معجزہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے اندر پھینکا گیا، لیکن آگ انھیں جلا نہیں سکی۔ ظالم حکمران نمرود کو ان پر طیش آیا اور اُس نے اپنے آدمیوں کو ایک بہت بڑی آگ بھڑکانے کا حکم دیا۔ لیکن جب ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں پھینکا گیا تو حیران کن واقعہ پیش آیا۔ آگ نے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ ظاہر ہے، یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو اُن عظیم پیغمبر کے ساتھ پیش آیا۔ لیکن ہم اس معجزے میں مستقبل کے لیے اشارے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام آگ سے تو محفوظ رہے ہی لیکن ان کے کپڑے بھی نہیں جلے تھے۔ اور ایک مرتبہ پھر سے انسانوں کو ایک مقصد ملتا ہے۔ مستقبل میں لوگوں کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے فائر ریزسٹنٹ میٹیریل بنایا جا سکتا ہے۔ اور درحقیقت، 20ویں صدی کے وسط میں پہلی مرتبہ فائر ریزسٹنٹ کپڑے بننا شروع ہو چکے تھے، خاص طور پر فائر فائٹرز کے لیے۔ 1960 کی دہائی میں Nomex اور Kevlar جیسے اسپیشل میٹیریل دریافت ہوئے۔ Nomex، 370 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے اور آگ لگنے کے خلاف اس کی مزاحمت بہت زیادہ ہے، جب کہ Kevlar، 450 ڈگری تک کی حرارت برداشت کر سکتا ہے۔ ان ایجادات کی بدولت فائر فائٹرز اب مزید مؤثر انداز میں آگ سے لڑ سکتے ہیں۔ اور ایمرجنسی ریسکیو آپریشنز کے دوران یہ گھنٹوں محفوظ رہنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ سورہ البقرہ میں ہے کہ، موسیٰ علیہ السلام اپنے عصا کو ایک چٹان پر مارتے ہیں اور اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ ذرا تصوّر کریں، عصا کو ایک بار مارنے سے، بنجر صحرا کے بیچوں بیچ ایک خشک اور بے جان چٹان پانی کے وافر ذریعے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بارہ چشمے بہنا شروع ہو جاتے ہیں، اور پیاس کی شدّت کے مارے لوگ وہاں سے سیراب ہوتے ہیں۔ لیکن اس معجزے میں اور کون سے پیغامات مخفی ہیں؟ دراصل یہ بتایا گیا کہ زیرِ زمین پانی کو نکالنا ممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہاں آج استعمال ہونے والی ڈرلنگ ٹیکنالوجی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ 19ویں صدی میں دریافت ہوا تھا۔ اور تب سے اب تک ہم ڈرلنگ مشینوں کی مدد سے زیرِ زمین پانی، تیل اور دیگر معدنی وسائل تک رسائی پا چکے ہیں۔ تو عصا کی ایک ٹکر سے چٹان میں سے پانی نکلتے دیکھ کر لوگوں نے مستقبل کی ٹیکنالوجی کا تصوّر کرنے کی ہمّت کی۔ اس آیت کریمہ میں، ڈرلنگ مشینوں کی ایجاد سے بہت پہلے اس کا اشارہ دے دیا تھا۔ سورۃ آل عمران میں عیسیٰ علیہ السلام جنہیں جیسز (مسیح) بھی کہتے ہیں فرماتے ہیں: "اور میں اللہ کے حکم سے پیدائشی نابینا لوگوں اور کوڑھیوں کو شفا دیتا ہوں اور مُردوں کو زندہ کرتا ہوں۔" یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند مشہور ترین معجزات ہیں۔ آئیے ان میں سے ایک یعنی پیدائشی نابینا افراد کو شفا دینے کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ آج جین تھراپی اور اسٹیم سیل جیسے جدید طریقوں کے ذریعے حقیقتاّ پیدائشی اندھے پن کی کچھ شکلوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح 20 ویں صدی تک جذام کا کوئی علاج نہیں تھا۔ لیکن آج 6 ماہ سے 2 سال تک مخصوص ادویات کے استعمال سے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ آج بعض علاقوں کو چھوڑ کر جذام کے مریضوں کی تعداد تقریباً زیرو ہو چکی ہے۔ بدیع الزمان بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت درج ذیل پیغام دیتی ہے۔ حتیٰ کہ شدید دائمی بیماریوں اور صحت کے سنگین مسائل کا علاج بھی ہو سکتا ہے۔ بیماری چاہے کوئی بھی ہو علاج ممکن ہے۔ تلاش کرتے رہیں آپ کو علاج مل جائے گا۔ آخری اور سب سے حیران کن نشانی یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کو اپنے تابع کیا اور انھیں اچھے کام کرنے پر لگایا۔ اللہ کی مرضی سے، سلیمان علیہ السلام نے جنوں کو سمندروں میں غوطہ لگا کر قیمتی جواہرات نکالنے، شاندار عمارتیں بنانے اور اپنے لیے ہر طرح کے مشکل کام کرنے پر لگایا۔ بدیع الزمان کہتے ہیں کہ ان معجزات میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور یہ کہ جنات کو واقعی قابو کیا جا سکتا ہے اور انسان انھیں اپنا خادم بنا کر ان سے اپنے کام کروا سکتا ہے۔ لیکن بلاشبہ یہ قسمت کا حال بتانے، جادو یا دیگر ایسے طریقوں سے نہیں ہو سکتا جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قرآن کے کچھ پوشیدہ رازوں کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے.

لیکن آج اگر یہ ایک معمہ ہے، تو کل ایک حقیقت بھی بن سکتا ہے. اب آپ سوچ رہے ہوں گے "قرآن نے ان چیزوں کی وضاحت کیوں نہیں کی؟" اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا بنیادی مقصد سائنس یا ٹیکنالوجی کے بارے میں براہ راست وضاحت کرنا نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ان مضامین پر درسی کتاب نہیں ہے.

قرآن کے اہم موضوعات توحید، خدا کی وحدانیت، آخرت، نبوّت، عدل اور عبادت ہیں۔ لیکن چونکہ ٹیکنالوجیکل دریافتیں بھی اللہ کی نعمت ہیں، اور یہ انسانی زندگی کا بہت بڑا حصہ بن چکی ہیں، اس لیے قرآن بھی انہیں مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتا۔ چنانچہ بطور حکیم اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر نشانیوں اور اشاروں میں کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی دو اور اہم وجوہات ہیں۔ اوّل تو یہ کہ پچھلی ایک یا دو صدیوں کے حوالے سے، اگر قرآن میں ٹیکنالوجیکل اور سائنسی ایجادات کا براہ راست ذکر کیا گیا ہوتا تو پچھلی 12 صدیوں میں پیدا ہونے والے لوگ اسے پوری طرح سمجھ نہ پاتے۔ اور ہو سکتا ہے کہ کچھ اسے غیر حقیقی بھی سمجھتے۔ اور یہ بات قرآن کے آفاقی کتاب ہونے کے خلاف ہوتی۔ ذرا سوچیں اگر سو سال پہلے بھی آپ لوگوں کو بتاتے کہ ویڈیو کالز ممکن ہوں گی، تو کوئی بھی آپ کی بات پر یقین نہ کرتا.

یہی وجہ ہے کہ واضح طور پر بیان کرنے کے بجائے قرآن میں ان دریافتوں کی طرف نشانیوں کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر تمام ٹیکنالوجیکل اور سائنسی دریافتوں کا کھلے عام ذکر کیا جائے تو کیا یہ امتحان لینے کے خیال سے متصادم نہیں ہو گا؟ جیسا کہ ہم جانتے ہیں زندگی ایک امتحان ہے اور اگر سب کچھ واضح کر دیا جاتا تو شک کی کوئی گنجائش نہ رہتی۔ سبھی ایمان لے آتے۔ اور اس سے آزادانہ مرضی کا مقصد فوت ہو جاتا۔ کیونکہ اس سے مخلص مومنین اور ان لوگوں کے درمیان فرق کرنا ممکن نہ ہوتا جو صرف اس لیے ایمان لائے کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اسی لیے ان چیزوں کا تذکرہ اس طریقے سے کیا گیا ہے کہ لوگ غور کریں، تلاش کریں اور خود فیصلہ کریں۔ آخر میں، اس سب سے سمجھنے والی سب سے اہم بات۔ قرآن کی یہ تمام نشانیاں جو ہمیں مستقبل کے بارے میں بتاتی ہیں ہمیں ایک واضح پیغام دیتی ہیں۔ کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی شخص اپنے طور پر ایسی معلومات فراہم نہیں کر سکتا جو ہر دور اور ہر جگہ کے تمام لوگوں کے لیے ہو۔ ایک عام انسان کے الفاظ میں ہر معاشرے کے لیے لازوال حکمت اور سبق نہیں ہو سکتا۔ یہ الفاظ صرف اس خالق کے ہو سکتے ہیں جو ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا، جو وقت سے باہر ہے اور سب کچھ جانتا ہے، وہی اللہ ہے۔ ہم نے قرآن میں معجزات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی دریافت کیا ہے۔ اور جیسے جیسے نئی دریافتیں ہوں گی ہم اس لازوال کتاب میں چھپے مزید معجزات تلاش کر سکتے ہیں۔ اور جب ایسا ہو گا تو کچھ لوگوں کا ایمان اور مضبوط ہو جائے گا اور کچھ سچائی کو جھٹلانے کے بہانے بناتے رہیں گے۔
