# Ali Dawah Answered The Toughest Atheism Questions! - Only in 1 Minute

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/ali-dawah-answered-the-toughest-atheism-questions-only-in-1-minute
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=d0B-N97qLsU
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ آپ خدا پر یقین رکھتے ہیں مطلب سائنس دان اس بات کا سراغ نہ لگا پائے لیکن آپ نے لگا لیا ۔کیا یہ صحیح ہے نہ؟ اگر وقت لامحدود ہے تو امکانات لامحدود کیوں نہیں؟ جب وہ تخلیق کرتا ہے وہ اس وقت طاقتور نہیں رہتا کیونکہ وہ اسے اٹھا نہیں سکتا ایسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ایک ریسرچ کی گئی تھی آکسفورڈ یونیورسٹی میں جسٹن بیرٹ کی نگرانی میں اس نے دیکھا کہ چھوٹے بچے جنہیں اسلام یا عیسائیت کی تعلیم نہیں دی گئی تھی بلکہ کسی مذہب کی تعلیم نہیں دی گئی ان سب کا رجحان ایک خدا کی طرف تھا آپ کے پاس ہر سوال کے لئے ایک منٹ ہے آپ تیار ہیں؟ آپ بتائیں آپ تیار ہیں؟ کیا آپ خدا کا وجود ایک منٹ میں ثابت کر سکتے ہیں؟ گوگل کی مثال لیں گوگل اپنے وجود کے لئے انٹرنیٹ کا محتاج

ہے اور انٹرنیٹ ہونے کے لئے ہمیں کمپیوٹر ٹیلی فون یا ٹیبلٹ کی ضرورت ہے اور کمپیوٹر کے لیے مخلوق انسانی کا ہونا ضروری ہے بجلی کا ہونا ضروری ہے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوگل انٹرنیٹ پر منحصر ہے انٹرنیٹ کمپیوٹر پر منحصر ہے کمپیوٹر ہم پر اور بجلی پر منحصر ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن منحصر چیزوں کا سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا ایک ایسا مقام یقینا ہے جہاں یہ سب رک جائے اور چیزیں منطقی طور پر سمجھ آنے لگیں وہ مقام یا ہستی آزاد اور خود مختار ہے وہی خدا ہے تو یہ مقام یا ہستی کائنات کیوں نہیں ہو سکتی؟ اچھا سوال ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ تم مانتے ہو میری طرح کہ ایک پہلی علت موجود ہے اچھا ہے فرق صرف یہ ہے کہ تم نے خدا کی جگہ کائنات کو پہلی علت سمجھ لیا ہے لیکن میرے مطابق یہ سوچ اس ہستی سے متصادم ہے

جو آزاد اور خود مختار ہے اور لازم الوجود ہے لیکن کائنات خود کفیل اور منحصر نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے تو چونکہ یہ متصادم ہے اس لیے ممکن نہیں کیا خدا ایسی چٹان بنا سکتا ہے جو وہ اٹھا نہ سکے؟ میرے خیال میں یہ ایک بےتکا سوال ہے جب لوگ اس طرح کا بے تکا سوال پوچھتے ہیں میرے ذہن میں سوال آتا ہے کیا خدا کیا وجود ختم ہو سکتا ہے یقینا نہیں اسی طرح سے متصادم ہے اگر میں یہ پوچھو ں کہ "ایک ہفتے میں کتنے دن ہوتے ہیں" کا جواب ہاں اور نہ میں دو ہاں یا نا میں ظاہر بات ہے کہ یہ ہاں یا نا والا سوال نہیں ہے مجھے پوچھنا ہے کہ ایک ہفتے میں کتنے دن ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے سات۔ یہ سوال ہی بےتکا ہے یہ کہنا کہ خدا نے اتنی بڑی چیز بنا لی جو وہ خود نہ اٹھا سکے کہ اس لمحے جب وہ تخلیق کرتا ہے وہ طاقتور نہیں ہوتا کیونکہ وہ اسے

اٹھا نہیں سکتا یہ بے سروپا بات ہے یہ سوال صرف بحث کے لیے کیا جا سکتا ہے کیا ایک سے زیادہ خدا ہو سکتے ہیں؟ نہیں کیونکہ پھر ہمیں پہلی علت کی بحث پر جانا ہوگا اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے پہلی علت کیسے قائم ہوتی؟ جو آزاد اور خود مختار ہے اگر ایک سے زیادہ خالق ہوتے کوئی بھی خود مختارنہ ہوتا لازم الوجود نہ ہوتا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر دو خدا ہوتے جیسا کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے وہ طاقت کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دو طاقتیں جو آپس میں لڑتی ہیں وہ قادر مطلق نہیں ہو سکتیں کیونکہ دونوں کو مزید طاقت درکار ہے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے تو ہمارے مطابق قادرمطلق صرف ایک ہی ذات ہو سکتی ہے جوخود مختار اور آزاد ہو خدا نے سب پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ یہ

بے تکا سوال ہے ایک دفعہ پھر بے تکا سوال اگر کوئی یہ سوال کرے بھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ایک منطقی سوال ہے کیونکہ ہمیں کائنات کے اندر علت اور اس کے اثرات نظر آتے ہیں ایک بنانے والا آئے اور کہے یہ کس نے بنایا ہے وہ ڈیزائنر آپ نہیں سمجھے کہ وہ بنانے والا کون ہے اس پہلی علت کے معاملے کا جائزہ لینا ہوگا اس کی کیا خصوصیات ہیں وہ خود مختار ہے وہ کسی کا محتاج نہیں وہ لازم الوجود ہے اگر آپ یہ تین خصوصیات ہی مان لیں جی ہاں آپ کو یہ ماننا ہو گا کہ یہ سوال کہ خدا کو کس نے پیدا کیا “کہ خدا ایسا پہاڑ پیدا کرسکتا ہے جو اٹھا نہ سکے” یا ”خدا کبھی اپنا وجود ختم کرسکتا ہے۔“ یہ سب بے تکے سوال ہے۔ جو وجود نہیں رکھتے ۔ آپ جو سوال پوچھ رہے ہیں ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر خدا کو کسی نے بنایا ہوتا تو وہ قادر مطلق تو

نہ ہوا وہ تو محتاج ہو گیا تو ہم کہتے ہیں کہ جب تک وہ وحدت الوجود خودمختار اور قادر مطلق ہے وہی ساری کائنات کو حرکت دینے والا ہے اتنے سارے مذاہب ہیں تو پھر اسلام ہی کیوں؟ اچھا سوال ہے میں نے بھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا تھا جب میں اسلام کی طرف آیا تھا اور جب میں نے اپنی ریسرچ کی اور میں فطرت کی طرف جا رہا تھا ایک ریسرچ کی گئی تھی آکسفورڈ یونیورسٹی میں جسٹن بیرٹ کی نگرانی میں اس نے دیکھا کہ چھوٹے بچے جنہیں اسلام یا عیسائیت نہیں سکھایا گیا یا اور کوئی مذہب بھی ان سب کا قدرتی رجحان وحدانیت کی طرف تھا شرک کی طرف نہیں تو میرے بھی یہ اندر سے آیا کہ میں ایک خدا پر یقین کرو ں لیکن یہ سوال کہ اسلام ہی کیوں؟ میں نے یہ سوال اپنے آپ سے بھی کیا تھا اور جب میں نے اس پر غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ حقیقی

وحدانیت اپنی اصلی شکل میں کیونکہ اگر آپ عیسائیوں سے پوچھیں تو وہ بھی اپنے آپ کو موحد کہتے ہیں وہ تثلیث پر یقین رکھتے ہیں ۔ پھر آپ اگر ہندوؤں سے پوچھیں ۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم جن دس لاکھ خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ دراصل ایک ہی خدا کا عکس ہیں۔ لیکن اصل نقطہ حقیقی وحدانیت کا ہے ۔ خدا کی اصل پہچان اور سمجھ صرف اسلام میں ہے اور قرآن کی بات کریں تو یہ روئے زمین پر واحد الہامی کتاب ہے جو ناصرف سنبھالی گئی ہے بلکہ اس کے اندر معجزات بھی ہیں مثال کے طور پر اگر میں ایک عیسائی کے پاس جاؤں اور کہوں کے دیکھو میں عیسائیت پر ایمان لانا چاہتا ہوں مجھے دکھاؤ کے یسوع نے مردوں کو زندگی دی اور یہ کہ خدا کی مرضی سے مجھے دکھاؤ اگر آپ یہودیوں کے پاس جائیں اور کہیں حضرت موسی نے جو معجزات کیے وہ ہمیں دکھائیں کیا وہ

دکھا سکتے ہیں ۔نہیں نہ؟ لیکن وہ اگر ہمارے پاس آئیں اور کہیں کہ قرآن کا معجزہ کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں یہ قرآن ہے ہم تمہیں دکھاتے ہیں اس کو چھو کے دیکھو تم محسوس کر سکتے ہو تجزیہ کر سکتے ہو کیونکہ ہم اس سے سیکھتے ہیں قرآن ساری انسانیت کے لیےہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں سن سکتے ہیں اور تجزیہ کر سکتے ہیں لیکن وہ معجزات جو دوسرے پیغمبروں نے کیے آپ انہیں کبھی ثابت نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک مخصوص وقت کے لیے تھے لیکن قرآن ہمیشہ کے لئے ہے کیونکہ ہمارے پاس زبانی روایت کا طریقہ بھی ہے جو کہ قرآن ہے جس کا جائزہ ہم اور ہمارے بعد آنے والی نسلیں لے سکتے ہیں اور میں نے بھی اسلام میں آنے سے پہلے یہی کیا تھا میں نے اس کا معائنہ کیا تھا میں نے اس کو پڑھا تھا اور اس کے پیشن گوئیوں کو دیکھا تھا ممعجزوں کو دیکھا

تھا میں نے کہا یہ خدا کے سوا اور کہیں سے نہیں ہو سکتا آپ نے ہمیں بتایا کہ قرآن میں معجزات ہیں کیا قرآن میں سے کسی ایک معجزے کا ذکر کر سکتے ہیں؟ میں فیاضی دکھاؤں گا اور تین معجزات کے بارے میں بتاؤں گا زندگی میں کبھی کبھار فیاضی دکھانے میں کوئی حرج نہیں دیکھو پہلا معجزہ میرے خیال میں بہت ہی اہم ہے انتہائی اہم جیسے مثال کے طور پر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سورت البلد میں اللہ تعالی نے نے ابو لہب کا ذکر کیا اور یہ انتہائی دلچسپ ہے کیونکہ ابو لہب صرف ایک بیان سے نعوذ باللہ اسلام کو نیست و نابود کر سکتا تھا اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ ابو لھب اور اس کی بیوی دوزخ کی آگ میں جلیں گے وہ کافر ہی مریں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے اب اگر آپ ابولہب کے بارے میں سوچتے ہیں وہ صرف ایک چیز کرتا اور اسلام کو غلط ثابت

کر دیتا کیونکہ قرآن واضح ہے کہ وہ اوراس کی بیوی دوزخ کی آگ میں ڈالے جائیں گے اور یہ کہ وہ کافر ہی مریں گے تو بات یہ ہے کہ ابولہب اگر چاہتا تو کہتا "ایک سیکنڈ ٹھہرو اشھد اللہ الہ الا اللہ اور یہ لو تمہارا مذہب جھوٹا ثابت ہو گیا کیونکہ اس کے مطابق میں جہنم میں جاؤں گا اس کے مطابق میں کافر ہی ماروں گا لیکن میں نے اسلام قبول کرلیا ۔" لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔ اور وہ کافر ہی مرا میرے لئے یہ معجزہ بہت اہم ہے کیونکہ اسے صرف ایک بیان دینا تھا اور سب کچھ جھٹلایا جاتا ۔۔۔ وہ چاہتا تھا ۔۔۔ نبی اکرم کو روکنا کسی بھی ذریعے سے جو وہ کر سکتا تھا صرف دس سیکنڈ میں کلمہ پڑھ کر وہ پورے مذہب کو نعوذباللہ گرا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا نمبر دو ایک ثبوت ہے مثال کے طور پہ اس کا ذکر اللہ تعالی قرآن میں کرتا

ہے حضرت موسی اور حضرت یوسف علیہ السلام کے دور کے حوالے سے حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت کے حوالے سے اللہ تعالی بات کرتے ہوئے اللہ اس زمانے کے حاکم کو بادشاہ کہتا ہے جب کہ حضرت موسی کے دور کے حاکم کو فرعون کے نام سے مخاطب کرتا ہے لیکن انجیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دور کے حوالے سے حاکم وقت کو فرعون کے نام سے مخاطب کیا گیا ہے اور حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں بھی حاکم کو فرعون کے نام سے ہی پکارا گیا ہے یہ تاریخی غلطی ہے کیونکہ جب انہوں نے کھوج لگایا روزیٹا پتھر، جو کہ مصر کی تاریخ کو سمجھنے کا قدیمی نسخہ ہے انہوں نے جانا کہ فرعون نہیں ہوا کرتے تھے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں فرعونوں کی بادشاہت تو اس وقت تک قائم نہیں ہوئی تھی تو قرآن کو کیسے پتہ چلا کہ اس وقت فرعون نہیں تھے اور یہ

عام تاثر ہے کہ قرآن ا نجیل کی بات کو دہراتا ہے ۔ بلکہ قرآن انجیل کی نقل میں بنایا گیا ۔ تو پھر قرآن نے یہ غلطی کیوں نہیں دہرائی؟ اور اسے کیسے پتہ چلا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں حاکم وقت کو صرف بادشاہ کہا جاتا تھا فرعون نہیں؟ قرآن کو کیسے پتا چلا؟ یہ دوسرا معجزہ تھا ۔ نمبر تین، اللہ تعالی سورہ روم میں کہتا ہے رومیوں کو شکست ہوئی جبکہ مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ رومیوں کو فارسیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی یہ ناممکن ہے سوچنا ، ان کا واپس آکر جیتنا تو دور کی بات ہے ان کا وجود قائم رہنا بھی اللہ تعالی قرآن میں کہتا ہے رومی شکست کھا چکے ہیں لیکن وہ جیت جائیں گے یہ بہت بڑا بیان ہے ، یہ ایسا ہے جس میں کہو ں ہم لوگ مل کر امریکا فتح کرلیں گے اور ہم ٹرمپ کو ہرا دیں گے یہ مضحکہ خیز ہے یہ ناممکنات میں سے

ہے اور تین سے سات سال میں یا نو سال بعد رومی آتے ہیں اورفارسیوں کو ہرا دیتے ہیں تاریخ گواہ ہے یہ تو صرف چند معجزات ہیں قرآن میں ایسے سینکڑوں واقعات ہیں ان سینکڑوں میں سے میں نے آپ کو صرف تین سنائے ہیں میں اور بھی سنا سکتا ہوں آپ خدا پر یقین رکھتے ہیں؟ تو سائنسدان وہ پہیلی نہیں بوجھ سکے لیکن آپ نے بوجھ لی کیا واقعی؟ یہ پہیلی نہیں ہے میں نے منطق کا استعمال کیا ہم اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہیں جب کہ سائنس پانچ حسوں سے متعلق ہے جو تجربات پر مبنی ہے تو ہم بہت ہی سادہ بات کہتے ہیں ایسے سائنسدان بھی ہیں جو ان چیزوں پر یقین رکھتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر اگر میں خدا کو نہیں دیکھ سکتا اس لئے میں اس پر یقین نہیں رکھتا تو جان لیں کہ ایسا نہیں ہے کہ سائنس مافوق الفطرت حقیقتوں کے بارے میں

بالکل ہی بات نہیں کرتی لیکن سائنس اجسام تک ہی محدود ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سائنسدانوں نے حال ہی میں ڈارک میٹر دریافت کیا ڈارک میٹر وہ چیز ہے جو کہ وہ دیکھ نہیں سکتے نہ وہ اسے چھو سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں نا وہ اسے سونگھ سکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں خدا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کیا آپ خدا کو دیکھ سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا آپ خدا کو چھو سکتے ہیں ؟نہیں ۔ کیا آپ خدا کو سونگھ سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا آپ خدا کو سن سکتے ہیں ؟نہیں ۔ کیا خدا کو دیکھ سکتے ہیں ؟نہیں ۔ لیکن آپ اس کے وجود کو مسترد کرتے ہیں ۔ لیکن جب ڈارک میٹر کی بات آتی ہے ۔ تو آپ کہتے ہیں کے ڈارک میٹر وجود رکھتا ہے یہ کیا تضاد ہے؟ پہلی بات کی خدا اس لئے وجود نہیں رکھتا کیونکہ میں سے چھو یا محسوس نہیں کر سکتا لیکن ڈارک میٹر وجود

رکھتا ہے۔ یہ تضاد ہے یہ دوہرے معیار کیوں؟ ایک سائنس دان کے طور پر یہ معاملہ میرے لیے کوئی نیا نہیں ہے میں اپنے منطقی استدلال اورعقلیت کا استعمال کرتا ہوں سادہ نتائج تک پہنچنے کے لئے اس کے لیے میرا سائنسدان ہونا ضروری نہیں مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے سائنسدان ہو آپ جانتے ہیں خدا پر یقین رکھنے والے ہر طرح کے لوگ ہیں ان میں سائنسدان بھی شامل ہیں آئنسٹائن جیسے آپ جانتے ہیں وہ بھی ایک خدا پر یقین رکھتا تھا تو سائنس یا سائنسدانوں کا معاملہ اور خدا کا معاملہ کوئی متضاد بات نہیں ایسے سائنسدان بھی ہیں جو مسلمان ہیں اوراایسے سائنسدان بھی ہیں جو عیسائی ہیں تو یہ کچھ نیا نہیں ہے کیا آپ میں اتنا حوصلہ ہے کہ کسی مشہور ملحد سے بات کر سکیں؟ اور اگر آپ کا ان سے سامنا ہو تو آپ کیا کریں گے؟ مجھے کوئی

مسئلہ نہیں کیونکہ ایمان داری کی بات ہے کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سامنے والا کتنا بڑا ملحد ہے یا کتنا بڑا سائنسدان یا پروفیسر ہے ۔میرا نقطہ نظر یہی رہے گا ۔ کیونکہ میں یہی دلائل سامنے لاؤں گا اور آپ کو جواب دینا ہوں گے ۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کیونکہ میں منطقی اور عقلی طور پر سو فیصد صحیح رستہ پرہوں کہ اس کے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں سوائے اس کے کہ آپ اپنے آپ کو فطرت پسند مان لیں شاید ملحد ، اس پر بات کی جاسکتی ہے ۔ تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ پروفیسر ہیں میرے پروا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ سمجھ رکھتے ہیں تو اگر ہم اس پر دلیل سے بات کریں تو یقینا وہ لاجواب ہو جائیں گے اگر وقت لامحدود ہو تو جی ہاں تو ان گنت امکانات کیوں نہیں ہو سکتے؟ اچھا سوال ہے اس

کا جواب دینے کے لیے مجھے پانی پینا ہوگا یہ گلاس خالی ہے جی ہاں خالی ہے اگر ہم کہتے ہیں لامحدود وقت ہے کیونکہ یہاں پر دلیل یہ ہے اگر وقت لامحدود ہو تو کچھ بھی ممکن ہے خصوصیات کو دلیل کی خاطر گھڑنا ایک غلط نظریہ ہے اگر مجھے چوکلیٹ چیز کیک پسند ہے۔ چلیں چاکلیٹ چیز کیک چھوڑیں ۔ ترکی کے پیرائے میں بات کرتے ہیں ۔ ایک مزیدار فرنی ۔ اگر میں فرنی چاہتا ہوں۔ اور میں کہتا ہوں چلیں اسے لامحدود وقت دیتے ہیں ۔ کیا مجھے کبھی فرنی ملے گی؟ اور ویسے مجھے اپنی فرنی اوپر سے جلی ہوئی پسند ہے چلیں اصل بات کریں کیا یہ کبھی ہمیں مل پائے گی ؟ نہیں ،کیونکہ وقت کی مساوات غیر متعلق ہے اگر فرنی بنانے کے لیے ضروری اجزاء جو میں چاہتا ہوں اس کے اندر موجود نہیں ہیں تو آپ کبھی من پسند فرنی نہیں پا سکتے یہ بالکل سیدھی سادی

بات ہے وقت یہاں بالکل غیر متعلق ہے وقت کا اس سے کیا تعلق ہے؟ چلو اسے لامحدود وقت دے بھی دیں تو تو کیا آپ کو فراری مل جائے گی ؟ نہیں ، لامحدود وقت دے دو کیا ہمیں کائنات مل جائے گی کیونکہ وہ اجزاء جو کائنات فراری یا فرنی بنانے کے لیے جو کہ زیادہ اہم ہیں وہ یہاں موجود نہیں تو جب تک وہ اجزاء نہیں ہوں گے آپ کو کبھی مطلوبہ شے نہیں ملے گی لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اس سب کے بعد مجھے فرنی تو مل جائے گی ہمارے سوالات مکمل ہو گئے ہیں میں اب آپ سے ایک سوال کرتا ہوں تو آپ قبول کیوں نہیں کرتے اسلام ، جب کہ میں نے ان سب سوالات کے جواب دے دیے ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ میرے ساتھ پڑھو، اشھد واللہ ۔۔۔ ۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں ہم مسلمان ہیں - خوشی ہوئی دوستو جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہو ہم بسکٹ اور چائے پی رہے ہیں مجھے

لگتا ہے مجھے یہاں اکثر آنا چاہیے براہ کرم اسے باقاعدہ بناتے ہیں اگلی دفعہ کے لیے اسلام علیکم
