# “Mujhe Dar Tha Kahin Islam Sach Na Ho” – Atheism Se Islam Tak

- Language: ur
- Published: 2026-08-17
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/an-atheist-converts-to-islam-my-mothers-tragic-dath-led-me-to-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=ma9Z1dDqCp0
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

جب بھی میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتا، تو میرا مقصد یہ ہوتا کہ اتنی پی لوں کہ مجھے کچھ یاد ہی نہ رہے۔ میں بس پیتا جاتا، پیتا چلا جاتا تھا۔ جب میں بستر پر جاتا، تو یہی امید کرتا کہ کاش میں صبح دوبارہ کبھی نہ اٹھوں۔ مجھے اِس زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا تھا۔ اگر زندگی یہی ہے، تو اِس کھیل کو بند کرو، اور سب ختم کرو۔ میں اِس کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ مذہب اِس مسئلے کا حل نہیں تھا۔ مجھے میرے ماموں کا فون آیا اور اُنہوں نے کہا، “تمہاری امی اسپتال میں ہیں اور سیریس کنڈیشن ہے۔” یو نو، ہارٹ مانیٹر کی لائن بالکل سیدھی ہوگئی۔ اور پھر ڈاکٹر اندر آیا اور کہا کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ مجھے یاد ہے، میں وہاں بیٹھا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ جو بھی مجھے دیکھتا ہے، جو بھی مجھے سنتا ہے، میری رہنمائی کر۔ پتا نہیں کیا ہوا، دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔ اور میں بری طرح سہم گیا۔ کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہی سچ ہے۔ یہ کلام جہاں سے بھی آیا ہے، برحق ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اسلام ہی سچ ہے۔ میں خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اگر تم نے اب بھی قدم نہ اٹھایا، تو شاید کبھی نہ اٹھا پاؤ۔ میں نے فیصلہ کیا مجھے یہ کرنا ہے۔ میں پکار اٹھا، اشھد ان لا الہ الا اللہ، واشھد ان محمد الرسول اللہ۔ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) برادر سائمن وال گرین، دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ آپ کو اپنے ساتھ Towards Eternity میں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ سائمن وال گرین کون ہیں؟ کیا آپ مختصراً بتا سکتے ہیں؟ میرا بنیادی تعلق سویڈن سے ہے، وہیں پیدا ہوا، پلا بڑھا۔ درحقیقت میری پرورش ایک ایتھیسٹ کے طور پر ہوئی تھی۔ پھر زندگی کے ایک موڑ پر، میں نے ایک ایسے انسان کو کھو دیا جس سے مجھے بہت محبت تھی۔ مجھے اُس واقعے نے جگا دیا۔ اور آخرکار وہی چیز مجھے دینِ اسلام کی طرف لے آئی۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ کیا آپ ہمیں اُن دنوں میں لے جا سکتے ہیں؟ میرے لیے وہ زندگی کے بدلاؤ کا دور تھا۔ میری عمر تقریباً 11 یا 12 سال تھی، یعنی جب میں لڑکپن کی عمر میں قدم رکھ رہا تھا، تب میرے والدین کے درمیان طلاق ہوگئی، وہ میرے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ کیونکہ اب میں اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہا تھا اور میرے ابو جا چکے تھے۔ زندگی کا سارا استحکام ختم ہو چکا تھا۔ ایک لڑکے کی حیثیت سے جب آپ کے پاس کوئی مرد رول ماڈل نہ ہو، تو آپ کے اندر کچھ ٹوٹ سا جاتا ہے۔ آپ ادھورا پن محسوس کرتے ہیں۔ گائیڈ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب کیا کروں۔ اور بدقسمتی سے، طلاق کے بعد میری والدہ کی حالت بگڑ گئی۔ اُنہوں نے شراب پینا شروع کر دی۔ وہ حد سے زیادہ پارٹیاں کرنے لگیں، اور گھر میں مختلف مردوں کو لانے لگیں۔ تصوّر کریں۔ مطلب، میرا سکون چھن چکا تھا۔ میں گھر میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتا تھا- مطلب ، ہر روز مختلف اجنبی لوگ آتے جاتے تھے۔ سب کچھ بہت عجیب اور غلط سا لگتا تھا۔ اور میں بھی دھیان ہٹانے کے لیے، پارٹیاں اور ایسے کاموں میں مگن رہنے لگا۔ گویا یہ ایسے تھا جیسے میں پہلے ہی اندھیرے میں تو تھا، مگر اندھیرے کی بھی مختلف گہرائیاں اور مختلف درجے ہوتے ہیں۔ اور یوں لگتا تھا جیسے میں ایک گہرائی سے مزید نچلی گہرائی میں گرتا جا رہا ہوں۔ یہ سلسلہ بس چلتا ہی جا رہا تھا۔ اُس وقت تو مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا، مگر میں ڈپریشن میں تھا، شدید ڈپریشن میں۔ اور بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہر رات جب میں بستر میں جاتا، تو میں یہی امید کرتا کہ کاش میں صبح دوبارہ کبھی نہ اٹھوں۔ مجھے اِس زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا تھا۔ اگر زندگی یہی ہے، تو اِس کھیل کو بند کرو، سب ختم کرو۔ میں اِس کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ ہر صبح جاگنا میرے لیے مشکل تھا۔ جب میں ہائی اسکول میں تھا، میرے آخری سال میں، میری والدہ کی ملاقات کسی دوسرے شہر کے آدمی سے ہوئی اور اُنہوں نے میری بہن کے ساتھ وہاں شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اُنہوں نے مجھے بھی ساتھ چلنے کا آپشن دیا، لیکن وہ میرا آخری سال تھا۔ اگر میں وہاں جاتا، تو مجھے سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا۔ اور یاد رہے، مجھے اکیلے رہنے سے نفرت تھی۔ میرے پاس کوئی نہیں تھا، بس میں تھا اور میری بلی۔۔۔ اور مجھے اپنے بِل بھی خود ہی ادا کرنے ہوتے تھے۔ اسکول میں تھا ، تین نوکریاں بھی کر رہا تھا۔ وہ وقت واقعی بہت مشکل تھا۔ جب بھی میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتا، تو بغیر شراب پئے اور۔۔۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اتنی زیادہ پی لوں کہ مجھے کچھ یاد ہی نہ رہے۔ بس تب یہی میرا مقصد تھا۔ میں بس پیتا جاتا، اور پیتا چلا جاتا ۔ جب میری پڑھائی ختم ہوئی تو میں نے فُل ٹائم سے بھی زیادہ کام کرنا شروع کر دیا، تاکہ بس میرا دھیان بٹا رہے۔ پھر مجھے ماموں کا اچانک فون آیا اور انہوں نے کہا، " تمہاری امی اسپتال میں ہیں اور سیریس کنڈیشن ہے۔" بہت عجیب احساس تھا، سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا محسوس کروں۔ ظاہر ہے میں بہت فکرمند تھا۔ کیونکہ بہرحال وہ میری ماں تھیں، اور میں اُن سے پیار کرتا تھا۔ لیکن ہمارے اُس ماضی کی وجہ سے، سب کچھ بہت الجھا ہوا تھا۔ اور ایک بات جو میرے ذہن میں بار بار آ رہی تھی، وہ یہ کہ کاش مجھے اُن سے بات کرنے کا تھوڑا اور وقت مل جائے۔ بہت سے مسائل تھے جنہیں ہمیں سلجھانا تھا۔ مجھے اُن سے بہت سی باتیں کہنی تھیں۔ رائٹ؟ اور ہم وہاں پہنچے۔ میں، میری نانی، میرے ماموں اور اُن کی بیوی۔ ہم گاڑی میں پہنچے۔ اور وہ کومے میں جا چکی تھیں۔ وہ اسپتال کے بستر پر پڑی ہوئی تھیں۔ وہ خواب جیسا منظر تھا۔ اور پھر ڈاکٹر اندر آیا اور کہا کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ مجھے یاد ہے میں نے اُن کا ہاتھ تھاما تھا ۔ اور وہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ یہ بہت ہی۔۔۔ ایک ایتھیسٹ کے طور پر، یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ یا جب آپ موت کے قریب نہ ہوں، یہ کہہ دینا بہت آسان ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہے۔۔۔ موت کے بعد کچھ نہیں ہے۔ رائٹ؟ آپ بس مر جاتے ہیں، اور قصہ ختم۔ مگر تب اِس بات پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے جب آپ اپنی والدہ کے سامنے ہوں جو عملی طور پر مر چکی ہیں، آپ سمجھ سکتے ہیں میرے دماغ میں کتنی تضاد بھری باتیں بھر چکی تھی ، رائٹ؟ وہ سب باتیں ، جو میں اُن سے کہنا چاہتا تھا۔ مجھے اُن پر غصہ بھی تھا، ساتھ ہی اُنہیں کھو دینے کا افسوس بھی ۔ ایک ہی وقت میں میرے اندر کئی متضاد احساسات تھے۔ اور پھر، ہارٹ مانیٹر کی لائن بالکل سیدھی ہوگئی۔ اور میں انتہائی اداس تھا۔ یعنی میں واقعی۔۔۔ اور یہ عجیب بات تھی کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا ۔۔۔ سننے میں عجیب ہے مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں اُن سے اتنی محبت کرتا تھا۔ یو نو، اور شاید اِس واقعے نے مجھے شدّت سے یاد دلایا کہ موت کس قدر قریب ہے۔ جب آپ کا کوئی پیارا بہت بوڑھا ہو، اور وہ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ تو یہ بات ایک حد تک سمجھ آتی ہے، کہ اُنہوں نے ایک اچھی زندگی گزاری۔ مگر وہ محض 41 سال کی تھیں اور اُنہیں شراب نوشی کا مسئلہ تھا، جوئے کی لت تھی۔ اُن کی زندگی بہت اذیت ناک تھی، وہ ایک بہت ہی برے گھر کے ماحول میں پلی بڑھیں، جہاں بہت زیادہ گھریلو تشدّد تھا۔ وہ کوئی زندگی نہ تھی۔ تو وہ ایک طرح سے ویک اپ کال تھی جس کی مجھے ضرورت تھی۔ ظاہر ہے اِس رنج و غم کے دور سے گزرتے ہوئے، سب کچھ ناامید اور تاریک لگتا ہے۔ مگر شاید مجھے اِس دور سے گزرنا ہی تھا۔ کہتے ہیں ناں کہ ہر رات کے بعد سویرا ہوتا ہے۔ میں بالکل اِسی کیفیت میں تھا۔ ٹھیک سویرا ہونے سے پہلے۔ اور میری نوکری بھی تھی۔ میرے پاس سب کچھ تھا۔ مجھے بل بھی ادا کرنے تھے۔ تو میں نے سوچا کہ میں اِس وقت پاگل نہیں ہو سکتا۔ مجھے بس جینا ہے۔ اُس وقت سویڈن میں مراقبہ کرنا بہت مقبول تھا۔ نئی ایپس اور اِس طرح کی چیزیں استعمال کرنا ۔ تو میں نے سوچا، اوکے، شاید مراقبہ ہی مجھے پُرسکون کر سکے۔ چنانچہ میں نے مراقبہ کرنا شروع کر دیا۔ مجھے یاد ہے، میں نے کچھ عرصے تک یہ کیا۔ اور پھر ایک بار مجھے اچھی طرح یاد ہے، اور یہ بہت ہی عجیب تھا کیونکہ میرا کسی ہستی پر ایمان نہیں تھا۔ مگر میں وہاں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اگر واقعی کوئی ذات ہے۔ اگر کوئی موجود ہے، اگر اِس زندگی کا کوئی مقصد ہے، اور ہم یوں ہی عدم سے وجود میں نہیں آ گئے، تو یقیناً میں کم از کم اُس ہستی سے رابطہ کرنے کی کوشش تو کر سکتا ہوں، رائٹ؟ جب میں وہ وقت یاد کرتا ہوں، تو اپنی سوچ کے انداز کو سمجھنا چاہتا ہوں، مگر سچ تو یہ ہے کہ تب کوئی سوچ بچار تھی ہی نہیں۔ بس ایک آواز آئی ، “چلو، دعا کر کے دیکھتے ہیں۔” جیسے اندر سے خود بخود کچھ ابھرا ہو۔ اور میں وہاں بیٹھا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، رائٹ؟ بہت عجیب تھا۔ ہاتھ اٹھا کر میں نے کہا کہ، جو بھی مجھے سنتا ہے، جو بھی مجھے دیکھتا ہے، رہنمائی کرے اس راستے کی طرف، جو صحیح، سچا، اور میرے لیے بہترین ہو۔ اُس وقت مجھے اپنی کسی پسند ناپسند کی پرواہ نہیں تھی، کیونکہ میں تھک چکا تھا۔ کیا آپ نے جان بوجھ کر لفظ خدا سے گریز کیا؟ نہیں، میں یہ لفظ استعمال نہیں کر سکا، -کیوں؟ -کیونکہ یہ وہاں معیوب لفظ تھا۔ لفظ خدا کے ساتھ بہت سی منفی جذباتی وابستگیاں تھیں۔ میرے ذہن میں آسمان پر بیٹھے کسی داڑھی والے شخص کا تصوّر نہیں تھا، اِس لیے میں وہ اصطلاح استعمال نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے، تب مذہب کے بارے میں میری معلومات بہت کچی تھیں، میں وہ لفظ اِس لیے نہیں کہنا چاہتا تھا کیونکہ میرا پکا نظریہ تھا کہ مجھے کسی روایتی مذہب کو نہیں اپنانا۔ مذہب کسی مسئلے کا حل نہیں تھا۔ میں اِسے لوگوں کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ جیسے کہ عوام کو کنٹرول کرنا، اُن کا برین واش کرنا، اِن فرضی کہانیوں پر یقین کر لینا، رائٹ؟ خدا کو مان لینا۔ دیکھیے، کتنی دلچسپ بات ہے میں نے ہاتھ اٹھائے اور کہا، “جو بھی مجھے دیکھتا اور سنتا ہے۔” اور یہ تو اللہ ہی کے صفاتی نام ہیں، تو میں نے خدا تو نہیں کہا، مگر پکارا اللہ ہی کو، السمیع (سب کچھ سننے والا)، البصیر (سب کچھ دیکھنے والا)، جو سب کچھ سنتا ہے، جو سب کچھ دیکھتا ہے۔ میں نے یہی کہا جو مجھے سنتا اور دیکھتا ہے، جبکہ میں اکیلا تھا۔ تو یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے، رائٹ؟ خیر، فوراً کچھ نہیں ہوا، تبدیلی کا عمل تو شروع ہو گیا تھا، مگر میں سوچ رہا تھا کہ جیسے کچھ اچانک سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ جیسے بندہ کسی غیبی اشارے یا معجزے کی امید رکھتا ہے، مگر کچھ نہیں ہوا۔ میں اُس وقت دو نوکریاں کر رہا تھا، ایک تو میں میوزک پروڈیوسر تھا۔ اور ساتھ ہی ایک کیئر ٹیکر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ تو عجیب بات دیکھیے کہ میوزک کے کام میں میرا ایک ساتھی مسلمان تھا، ایک البانوی۔ اور ہم پارٹیاں اور اِسی طرح کے کام کرتے تھے، وہ بس نام کا مسلمان تھا۔ اور دوسری طرف، میری اُس کیئر ٹیکر والی نوکری میں، وہ فیملی جس کے لیے میں کام کرتا تھا، وہ کٹر عیسائی تھی، مذہب میں ڈوبی ہوئی، اور ایسا شاید ہی ہوتا ۔ اِس دعا سے پہلے، جب میں اپنی نوکری پر ہوتا تھا، تو میں سوچتا تھا کہ "یہ جو مرضی کریں، مجھے کیا پرواہ"، مگر اب میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے ذہن کو کھلا رکھوں، سچائی کے دروازے خود پر فوراً بند نہ کروں، سوال پوچھنا شروع کرتا ہوں، اگر کچھ اچھا نہ لگا، تو میں سوال کروں گا۔ چنانچہ میں نے اُن عیسائیوں سے سوالات کرنے شروع کر دیے۔ جیسے خدا کون ہے؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟ رائٹ؟ اور یہی کچھ میں نے اپنے مسلمان دوست سے بھی پوچھا۔ اُس مسلم دوست کے بارے میں، میں ایک بات بتانا بھول گیا، میری اِس دعا کے بعد ،میری اس پکار کے فوراً بعد، اُس نے داڑھی بڑھا لی اور نمازیں پڑھنے لگا۔ ہم میوزک تیار کر رہے تھے اور اس نے کہا، “میوزک روکو، مجھے نماز پڑھنی ہے۔” مطلب، وہ یہ ساری چیزیں کرنے لگا تھا۔ وہ مذہبی ہو گیا تھا، تو میں نے اُس سے پوچھنا شروع کیا۔ اور یہ دلچسپ بات تھی کیونکہ عقلی طور پر میں سوچتا کہ اگر میں تیار ہوں، اور کوئی مذہب چننا ہی ہے، تو مجھے عیسائی ہونا چاہیے۔ جیسا کہ سویڈن کے جھنڈے پر بھی کراس بنا ہوا ہے۔ یعنی یہ تو پہلے ہی جیسے میرے خون میں شامل تھا۔ میرے لیے آسان تھا ، زندگی بدلنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ میں پارٹیاں کرتا رہتا اور گناہ بھی، کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ تب میں یہی سوچتا تھا، رائٹ؟ یہ اس طرح تھا کہ اگر مجھے کچھ بننا ہی تھا تو میں عیسائی بننا چاہتا تھا۔ مگر جب بھی میں اُن سے بنیادی عقیدے کا پوچھتا کہ “خدا کون ہے؟” تو بات میرے پَلّے نہ پڑتی، مجھے سمجھ ہی نہ آتا۔ وجہ یہ تھی کہ میں جس شخص سے بھی پوچھتا، الگ جواب ملتا۔ میں سوچتا کہ اگر یہ سچا مذہب ہے، تو جواب بھی ایک ہونا چاہیے۔ جیسے ایک اور ایک دو ہوتے ہیں اور کل بھی دو ہی رہیں گے۔ کسی سے بھی پوچھ لو، جواب دو ہی آئے گا۔ مختلف جوابات نہیں آئیں گے، مگر مجھے مختلف جواب مل رہے تھے۔ اور میں ایتھی ازم کی ایک الجھن سے نکل کر کسی نئی الجھن میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ جبکہ مسلم دوست سے اِس موضوع پر بات کرنے سے میں کتراتا تھا۔ کیونکہ میں سوچتا، اسلام؟ کبھی نہیں، یہ تو عربوں کا مذہب ہے۔ اپنے جرائم پیشہ مسلم دوستوں کو دیکھ کر میری یہی سمجھ بنی تھی۔ مگر میں نے اُس سے پوچھا، اور اس کے ایک سوال کے جواب نے میرے لیے سب کچھ بدل دیا۔ خدا کون ہے؟ میرے پاس ایسے تین سوالات تھے۔ اور یہ بڑے دلچسپ سوال ہیں، کیونکہ یہی وہ تین سوال ہیں جو آپ کو سچائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ ہمیں کہاں جانا ہے؟ اور ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ یہ تین سوال، رائٹ؟ اور یقین مانیں، یہی تینوں سوالات ایتھی ازم کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔ کیونکہ ایتھی ازم کے پاس اِن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اور یہ ہماری زندگیوں کے سب سے زیادہ اہم سوالات ہیں۔ اِسی لیے جب آپ یہ سوال نہیں اٹھاتے، اور آپ کے پاس اِن کے جواب نہیں ہوتے، تو اندر سے خالی پن محسوس ہونا لازمی ہے۔ میں نے اُس سے پوچھا، خدا کون ہے؟ اُس نے کہا، قرآن میں ایک سورت ہے جو اِس کی وضاحت کرتی ہے۔ بہت چھوٹی سی سورت، صرف چار آیات۔ اُس نے عربی میں تلاوت کی اور پھر اُس کا ترجمہ سنایا۔ اللہ ایک ہے۔وہ دو، تین، چار یا دس نہیں، بس ایک ہے۔ میں نے سوچا، ہاں ٹھیک ہے، یہ بات سمجھ آتی ہے۔ وہ الصمد (ہمیشہ کا سہارا) ہے، اور اُس نے یہ سمجھایا کہ سب اُس کے محتاج ہیں، اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ میں نے کہا، یہ سچ ہے، بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں جانتا تھا کہ مجھے اُسی سہارے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پوری زندگی مجھ میں خالی پن کا احساس رہا تھا۔ مجھے ایسی چیز کی تلاش تھی جو اِس ادھورے پن کو مٹا سکے، عارضی چیزوں سے یہ احساس نہیں مٹتا۔ مجھے وہ چیز چاہیے تھی جو روح کو ہمیشہ کے لیے سیراب کر دے۔ اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اُس کی کوئی اولاد ہے۔ یعنی نہ اُس کے بچے ہیں، نہ والدین۔ کوئی بھی نہیں۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ پتا نہیں کیا ہوا، دماغ میں کچھ کلک ہوا۔ اور میں بری طرح سہم گیا۔ کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہی سچ ہے۔ یہ کلام جہاں سے بھی آیا ہے، برحق ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اسلام ہی سچ ہے۔ میں خوفزدہ ہو گیا تھا۔ یہ سچائی سمجھ آنے کے بعد، میں واقعی سہم سا گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے حق کی تلاش ہے، میں اپنے لاؤنج میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ میں حق کا متلاشی تھا۔ مگر اب جب سچائی اسلام کی شکل میں سامنے آئی، تو سوچنے لگا۔۔۔ “یہ کیا ماجرا ہے؟” پھر میں اسلام کے بارے میں مزید پوچھنے لگا اور سب سمجھ آنے لگا۔ اُس دن کے بعد، تقریباً ایک سال تک میں بس سوال پر سوال کرتا رہا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا، اور اُس وقت بھی ہم میوزک کی فیلڈ میں ساتھ کام کر رہے تھے، اور وہ اُسے چھوڑنا چاہتا تھا، وہ اکثر یہ کہتا، “میں یہ نہیں کر سکتا۔” جو میوزک ہم بناتے تھے وہ بہت غلیظ اور برا تھا۔ مطلب، بہت ہی غلط قسم کا میوزک۔ وہاں بڑے برے لوگوں سے واسطہ پڑتا، ہر طرف منشیات اور شراب کا ماحول تھا، سب کچھ بہت برا تھا۔ اور ظاہر ہے، وہ اُس گندگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اِس لیے اُس نے مجھے یہ کام سکھایا تاکہ میں اسے سنبھال سکوں۔ اور ہم کلائنٹس اور اہم لوگوں سے ملنے کے لیے مختلف شہروں کے دورے کرنے لگے، رائٹ؟ اور اُن سفروں کے دوران، ظاہر ہے اُسے نماز بھی پڑھنی ہوتی تھی۔ تو ہم مسجدوں میں جاتے۔ سویڈن کے کچھ شہروں میں تو کسی کونے میں بس ایک چھوٹا سا نماز کا کمرہ ہوتا ہے، مگر ہمارے ایک سفر کے دوران، راستے میں اُس نے کہا، “اوہ، مجھے نماز پڑھنی ہے۔” اور ہم ایک انتہائی شاندار مسجد میں گئے۔ میں تو اُسے دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ، “واہ یار۔۔۔” اور یاد رہے کہ میں اُن دنوں بھی مراقبہ کرتا تھا، روز صبح اٹھ کر اپنے انداز میں دعا مانگنا میرا معمول تھا۔ میں اکثر سوچتا کہ، "یہ میرا دوست ہر وقت اتنا مطمئن کیوں رہتا ہے۔ جب بھی یہ مسجد سے لوٹتا ہے، تو بس۔۔۔ اِس کا چہرہ نور سے چمک رہا ہوتا ہے۔" میں نے سوچا، “کاش میں بھی یہ محسوس کر پاؤں۔” تو میں نے اُس سے کہا، اُس کا نام منصور ہے، میں نے کہا، "منصور، کیا میں بھی تمہارے ساتھ مسجد کے اندر چل سکتا ہوں؟ بس یہ دیکھنے کے لیے کہ وہاں کیا ہوتا ہے، شاید میں بھی شریک ہو جاؤں، مگر دیکھو، میں مسلمان نہیں بننے والا۔ بس ایک فری ٹرائل سمجھو۔" جیسے کوئی ایپ کا فری ٹرائل ڈاؤن لوڈ کرتا ہے۔ وہ بولا، “کوئی بات نہیں، چلو۔” چنانچہ جب میں مسجد کے اندر گیا۔ تو وہ بہت خوبصورت تھی۔ وہ ایک ایسی مسجد تھی جہاں عام طور پر، لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہیں، مگر اُس وقت وہاں کوئی نماز نہیں ہو رہی تھی۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا، مسجد بالکل خالی تھی مگر بہت بڑی تھی۔ اور پھر ہم وضو خانے کی طرف بڑھے، جہاں ہاتھ منہ دھوتے ہیں۔ اور وہ بولا، "اوکے، اب نماز سے پہلے ہمیں وضو کرنا ہوگا۔" میں نل کھولنے ہی والا تھا کہ، اُس نے کہا، "ٹھہرو سائمن۔ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔" پہلی بار وہ مجھ سے اتنا ڈائریکٹ مخاطب تھا، "دیکھو، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ تم اب جو کرنے جا رہے ہو، وہ ایک مسلمان کا عمل ہے۔ تم اپنے آپ کو صاف کرو گے، اور نماز پڑھو گے۔ تم اُس رب کے سامنے زمین پر سر رکھو گے جو سب سے بلند ہے۔ تمہیں دل اور زبان سے اقرار کرنا ہوگا کہ تم مسلمان ہو، کیونکہ یہ بے معنی ہوگا اگر تم نماز پڑھو، یہ سب کرو اور خود کو مسلمان نہ مانو۔ یہ ایک مسلمان کا عمل ہے۔ اِسی لیے تو اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے۔" تب مجھے لگا کہ اب فیصلہ ہو کر رہے گا۔ مزید دیر نہیں کر سکتا۔ اور میں یہ بات ہمیشہ کہتا ہوں، جب بھی یہ کہانی سناتا ہوں کہ اسلام میں ایک تصوّر ہے، رائٹ؟ وسوسے، یعنی شیطان کا بہکانا۔ اور شیطان کے وہ وسوسے، کسی کے اسلام لانے سے بالکل پہلے سب سے زیادہ شدید ہوتے ہیں، سب سے طاقتور۔ اور واللہِ (خدا کی قسم)، میں نے وہ شدت خود محسوس کی۔ میں اُسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے مجھے 40 ڈگری بخار آ گیا ہو۔ میں کانپ رہا تھا، متلی سی ہونے لگی تھی۔ کانوں میں بھنبھناتی آواز تھی، جیسے ہزاروں مکھیاں گرداگرد بھنبھا رہی ہوں، میں بالکل حواس کھو رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ “یہ کیا ہو رہا ہے؟” اُس لمحے دماغ میں جیسے دھماکے ہو رہے تھے، "تمہارے دوست کیا کہیں گے؟ اور، یو نو، لوگ کیا کہیں گے، یہ وہ۔۔۔ اس سے پہلے میں اپنے دوست کے ساتھ اکثر یہ بات چیت کرتا تھا۔ کہ "اگر میں مسلمان ہو گیا، تو میرے دوست کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ۔" اور میرا دوست ہمیشہ مجھے یہ کہتا تھا، "دیکھو سائمن، جتنے وقت سے میں تمہیں جانتا ہوں، تم نے کبھی کسی کی پروا نہیں کی۔ تم پارٹیوں میں جاتے ہو اور پاگلوں کی طرح ناچتے ہو۔ تمہیں پروا نہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ مگر اب جب بات اسلام کی بات آئی ہے، تو تمہیں فکر ہو رہی ہے؟" تو یہ کچھ مزاحیہ سا لگتا ہے، " خیر، اُس لمحے میں، میں نے بس یہ محسوس کیا۔ اور یوں لگا، "بس میں یہاں سے بھاگ جاؤں، یہاں سے نکل جاؤں۔" لِیکِن ایک ایسا احساس بھی تھا، جسے میں بیان نہیں کر سکتا، اندر کی کچھ روشنی، یا شاید کوئی آواز، کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے مجھ سے کچھ کہہ رہی ہو۔ "اگر تم نے یہ ابھی نہ کیا، تو شاید کبھی نہ کر سکو۔ اور تمہارا انجام بھی تمہاری ماں جیسا ہوگا، تمہاری زندگی برباد گزرے گی اور تم دنیا سے چلے جاؤ گے۔ اور پھر تمہیں پچھتاوا ہوگا۔ تم جانتے ہو یہ سچ ہے۔" اور میں نے سوچا، مجھے یہ کرنا ہی ہوگا۔ تو میں نے یہ کہہ دیا۔ "اشھد ان لا الہ الا اللہ، واشھد ان محمد الرسول اللہ۔" میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ اِس طرح۔ وہ سارا خوف، متلی کی کیفیت اور گھبراہٹ، سب ختم ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سر پر ٹھنڈا پانی بہا دیا ہو۔ مجھے نئے پن کا احساس ہوا۔ سارا بوجھ اتر گیا۔ اور وہ اندر کا خالی پن جس کا میں بار بار ذکر کر رہا تھا، زندگی میں پہلی بار، وہ خلا پوری طرح بھر چکا تھا۔ اُس کا نام و نشان مٹ گیا، یہ ایسا تھا جیسے میں اِسے کیسے بیان کروں؟ جیسے آپ گھنٹوں سے پہاڑ پر چڑھ رہے ہوں، آپ کی کمر پر بھاری بستہ ہو اور آپ بے حد تھک چکے ہوں، اور پھر آپ اُسے اتار دیں۔ وہ سارا بوجھ ایک جھٹکے میں اتر گیا۔ پھر ہم نماز کے ہال میں داخل ہوئے۔ میں نے اپنا سر زمین پر رکھا اور اپنی زندگی کی پہلی نماز پڑھی، صلوٰۃ العصر (سہ پہر کی نماز)۔ مجھے لگا جیسے "مجھے میرا اصل گھر مل گیا ہو، میری منزل یہی تھی۔ اِسی کی تو مجھے ہمیشہ سے تلاش تھی۔" آپ کے اسلام لانے پر آپ کے آس پاس کے لوگوں کا کیا ردعمل تھا؟ سب سے مشکل وقت شاید میرے دوستوں کے ساتھ تھا کیونکہ یہی وہ لوگ تھے جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اور مجھے یاد ہے جب میں نے اُنہیں بلا کر بتایا کہ، “میں ، دیکھو، مسلمان ہو گیا ہوں۔” یہ وہ دوست ہیں جو دعوی کرتے تھے، “جگری یار ہیں، زندگی بھر کا ساتھ ہے۔” مگر میری یہ بات سنتے ہی اُن کے فون آنے بند ہو گئے۔ انہوں نے کالز اٹھانا چھوڑ دیں۔ سب ساتھ چھوڑ گئے۔ قصہ ہی ختم۔ میں دنگ رہ گیا کہ، "یہ کیا ہوا؟ کہاں گئے وہ بھائی چارے کے دعوے، وہ وعدے کیا ہوئے؟" یوں میرے وہ سارے پرانے یار دوست مجھ سے دور ہو گئے۔ حالانکہ اُن میں سے کچھ تو خود مسلمان تھے۔ مگر وہ سمجھ گئے کہ اگر یہ پکا مسلمان بننے چلا ہے، تو ہم اِس کے ساتھ نہیں چل سکتے، یہ صدمہ بہت گہرا تھا۔ تب سورۃ البقرۃ کی جو میری پسندیدہ ترین آیات میں سے ہے، "یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے تم ایک چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔" اور یہی وہ طریقہ تھا جس سے اللہ نے میری حفاظت کی۔ اگر میں مسلمان ہو کر بھی اُن کے ساتھ پارٹیوں میں جاتا رہتا، تو شاید میں پھر سے اُسی دلدل میں گر جاتا۔ جب میں نے اپنی فیملی کو بتایا، تو دو دلچسپ قصے ہوئے۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا اور سخت گھبرایا ہوا تھا، میں نے بتایا، "دیکھیں، میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔" سب ہکّا بکّا رہ گئے، کسی کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے۔ وہ بولے، "تم کوئی دہشت گرد تو نہیں بننے جا رہے ناں؟ مطلب، تم کچھ ایسا ویسا تو نہیں کرو گے۔۔۔" کیونکہ اُن دنوں شام کی جنگ کا معاملہ ہر طرف چھایا ہوا تھا، وہاں کی خبریں بہت گرم تھیں۔ وہ کہنے لگے، "تم وہاں جا کر لوگوں پر گولیاں تو نہیں چلانے لگو گے ناں؟" وہ مجھ سے ایسے عجیب و غریب سوال پوچھ رہے تھے۔ یہ اُن دلچسپ قصوں میں سے ایک تھا ۔ دوسرا واقعہ میرے کام کی جگہ پر ہوا، وہیں میوزک اسٹوڈیو میں۔ وہاں اب میں ایک طرح سے باس بن چکا تھا، اور جب میں مسلمان ہوا، تو سوچنے لگا، "اب میں سمجھا کہ میرا دوست یہ کام کیوں چھوڑنا چاہتا تھا۔ میں بھی یہ جگہ چھوڑ دوں گا۔" مگر مجھے کسی کو یہ سارا کام سونپنا بھی تو تھا۔ اُسی دوران تمام بوسز اور سب کے ساتھ ہماری ایک اہم میٹنگ چل رہی تھی۔ اور وہ نماز کا وقت بھی تھا۔ اُس وقت میں تھوڑا عجیب سا تھا۔ میرا رویہ یہ تھا کہ مجھے پرواہ نہیں۔ میٹنگ کے بیچ جب لنچ کا وقفہ ہوا، تو میں نے سب کے سامنے جائے نماز بچھا دی، اور نماز پڑھنا شروع کر دی۔ میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ پھر چند دن بعد میری باس نے مجھ سے ایک میٹنگ کرنا چاہی۔ مگر ہم نے وہ میٹنگ آفس میں نہیں کی، کیونکہ وہ دوسرے ساتھیوں کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں، اِس لیے ہمیں ایک دور دراز کیفے میں جانا پڑا، تاکہ کوئی ہمیں دیکھ یا سن نہ سکے کہ وہ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتی ہیں۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا، "تم ٹھیک تو ہو؟ مطلب، دماغی طور پہ ٹھیک ہو؟" میں نے کہا، " کیا مطلب؟ میں ٹھیک ہوں ، بالکل ٹھیک ہوں۔" “تم ڈپریشن میں تو نہیں؟ کسی مدد کی ضرورت ہے؟” میں نے کہا، “نہیں!” کہنے لگیں، "اصل میں ہم نے تمہیں یہ سب کرتے دیکھا تو یہاں کچھ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اِس لیے ہمیں تمہاری فکر ہوئی۔ یہ ایمرجنسی میٹنگ یہ جاننے کے لیے ہی تھی کہ تمہیں ہماری کوئی مدد وغیرہ تو نہیں چاہیے۔ مگر دیکھو، یہ بہت ضروری ہے کہ تم انتہا پسندی کی طرف نہ جاؤ۔ تم مسلمان ضرور رہو، مگر دہشت گرد نہ بن جانا، یہ مت کرنا ، وہ مت کرنا۔" اور، میں تو بالکل دنگ رہ گیا، میرے اپنے ہی لوگ مجھے دیوانہ سمجھ رہے تھے۔ تو پھر اِس تنہائی کا مقابلہ آپ نے کیسے کیا؟ مجھے بہت سے دینی بھائی مل گئے تھے، اور میرے اسلام لانے کے بعد یہ سب سے خوبصورت چیزوں میں سے ایک تھی۔ مجھے یاد ہے، غالباً وہ میرے اسلام لانے کا اگلا ہی دن تھا، کیونکہ پہلے دن تو ہم نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، پھر جب ہم کیمرہ لینے جا رہے تھے، تو اس نے کہا تھا، "دیکھو، یہاں ایک اسلامی لیکچر ہو رہا ہے، چلو یہاں چلتے ہیں۔" یوں مجھے دوسرے مسلمانوں سے ملنے کا موقع ملا۔ جب میں اُس فلیٹ میں داخل ہوا، تو میں نروس تھا کہ میں نیا ہوں، کہیں میں کچھ غلط نہ کہہ بیٹھوں۔ مجھے تو عربی کا ایک لفظ نہیں آتا تھا، حتیٰ کہ السلام علیکم کہنا بھی نہیں آتا تھا۔ مگر جوں ہی میں اندر گیا، وہ سب بہت خوش ہوئے۔ وہ مجھے دیکھ کر پکار اٹھے، “ارے سائمن!

ادھر آؤ!” میں نے سوچا، “یہ کون ہے؟” وہ بولے، "آؤ یہاں بیٹھو، نہیں نہیں، ہمارے پاس بیٹھو، یہ لو کھانا کھاؤ۔" اُنہوں نے مجھے تحفے دیے، اور میں حیران تھا کہ “یہ سب کیا ہو رہا ہے؟” اور آپ تصوّر کریں اُس احساس کا۔ وہ اجنبی میرے بارے میں کچھ نہ جاننے کے باوجود مجھ سے اتنی محبت کر رہے تھے، اور میرے اپنے رشتہ داروں نے کبھی میرا حال تک نہیں پوچھا تھا۔ مگر یہ لوگ تو صرف میرا نام ہی جانتے تھے، پھر بھی وہ مجھ سے محبت کر رہے تھے۔ یہ چیز آپ کو صرف اسلام میں ہی مل سکتی ہے۔ تو اِس چیز نے، اِس سپورٹ سسٹم نے میری بہت مدد کی۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار ایک سپورٹ سسٹم ملا تھا۔ کیونکہ پہلے تو یہ تھا کہ آپ اکیلے ہو تو آپ کو اپنے معاملات خود ہی سنبھالنے ہیں، رائٹ؟ اپنے کام سے کام رکھو، لوگوں سے زیادہ بات نہ کرو۔ بس یہی کچھ تھا۔ مگر یہ لوگ ایسے تھے کہ آپ اِن سے سوالات پوچھتے ہو، "یہ کیسے کرو، وہ کیسے ہوگا؟" اور وہ آپ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ تو میرے خیال میں وہ بھائی چارہ اور وہ کمیونٹی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کیا آپ کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے جب آپ نے اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کیا ہو؟ ایسے بہت۔۔۔ بہت واقعات ہیں۔ ایک چیز جو مجھے ہمیشہ حیرت زدہ کر دیتی ہے، وہ ہے، دعا (اللہ سے مانگنے) کی طاقت۔ واللہِ (خدا کی قسم)، میں گن ہی نہیں سکتا کہ کتنی بار میں نے کسی چیز کے لیے دعا مانگی اور بالکل وہی چیز ہو گئی۔ ناممکن طریقے سے۔ میں 2019 میں مصر سے واپس آیا۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ رقم ختم ہو چکی تھی، کام شروع کرنا پڑا۔ میں نے سوچا، “یا الٰہی، پھر سے سویڈن نہیں۔” اور میرے ذہن میں اب بھی یہی تھا کہ مجھے یہاں سے جانا ہے۔ مگر میرے ذہن میں ایک اور بات بھی تھی۔ میں شادی کرنا چاہتا تھا۔ میں یہ زندگی کسی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا۔ اور پھر وہیں، میری ملاقات اپنی بیوی سے ہوئی۔ 6 مارچ 2020 میں ہماری شادی ہو گئی۔ اگلے ہی دن، COVID کے باعث لاک ڈاؤن لگ گیا۔ ہم لاک ڈاؤن کے اُس دور میں تھے اور ہمیں لگا، "ہمیں کہیں جانا چاہیے۔" اپارٹمنٹ میں بیٹھے بیٹھے بس بور ہو رہے تھے۔ اور پھر اُس کی کسی سہیلی نے ہمیں دبئی کے بارے میں بتایا۔ میرے ذہن میں تو دبئی بس پارٹیوں کی ایک جگہ تھی۔ جہاں بس۔۔۔ میں نے تو اُس کے بارے میں صرف یہی سنا تھا۔ میں نے کہا، "کیا دبئی؟ میں کسی مسلم ملک میں رہنا چاہتا ہوں، جیسے کہ۔۔۔ بس دبئی نہیں جانا چاہتا۔" اور پھر ہمیں لگا، صرف وہی ایک جگہ کھلی ہے۔ لہٰذا ہم نے سوچا، ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔ وہی ایک جگہ بچی ہے۔ تو ہم وہاں گئے، وہاں اترے، اور میں حیران رہ گیا۔ وہ آج تک میری دیکھی ہوئی سب سے خوبصورت چیز تھی۔ میں نے مسلمان لوگ دیکھے۔ وہ بہت خوبصورت، بہت صاف ستھری جگہ تھی۔ دبئی کے بارے میں میرا پورا تصوّر ہی بدل گیا۔ ہم وہاں گھومے۔ ہر چیز بہت سستی تھی۔ ایک بہت اچھے ہوٹل میں ٹھہرے۔ ہم نے خوب سیر کی۔ اور میں نے اپنی بیوی سے کہا، "دیکھو، کیا تم کسی مسلم ملک میں منتقل ہونا چاہتی ہو؟" "ہاں، میں بھی"۔ "ہم اِس وقت سفر میں ہیں، اور مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے۔ تو آؤ خوب دعائیں مانگیں کہ ہم یہاں منتقل ہو جائیں۔" مگر کیسے؟ میں نہیں جانتا تھا۔ کسی بھی طرح۔ میں گھر واپس آیا۔ پہلی کال مجھے یہ آئی، “تمہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔” COVID کی وجہ سے، رائٹ؟ "ہم یہ آفس بند کرنے جا رہے ہیں۔ تمہاری اور باقی لوگوں کی چھٹی۔" میں دنگ رہ گیا کہ “کیا؟” اور میری بیوی، وہ ہمارے پہلے بچے سے امید سے تھی۔ میں نے سوچا، "میری نوکری چُھوٹ رہی ہے، یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے تو دعا مانگی تھی!

یہاں تو سب الٹ ہو رہا ہے۔" مگر یاد رکھیں، ہر رات کے بعد سویرا ہوتا ہے ۔ رائٹ؟ تو میں نے سوچا، “اوکے، اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟” میرے پاس کوئی اور پلان نہیں تھا۔ کیونکہ میرے پاس کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں تھی۔ اور COVID کے دوران نوکری تلاش کرنا؟ ناممکن تھا۔ ہر جگہ ملازمین کی چھٹی ہو رہی تھی، رائٹ؟ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا، "میں اِن کی دیکھ بھال کیسے کروں گا؟" اور پھر میں مسجد گیا، وہاں ایک صاحب تھے، نو مسلم۔ وہ سویڈش، اور PhD تھے۔ اُنہوں نے مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ بولے، "سائمن، مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ تمہاری زندگی کیسی چل رہی ہے؟ سب ٹھیک ہے؟" میں نے کہا، "بھائی، میری نوکری چھوٹ گئی ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔" کہنے لگے، "دیکھو۔ دبئی میں کچھ لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا۔" میں نے کہا، “اچھا؟” وہ بولے، "ایک بہت بڑا ادارہ ہے، فلاحی ادارہ، وہ بہت سے پروجیکٹس پر کام کرتے ہیں۔ اُن کا ایک پروجیکٹ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی تعلیم پانے کے لیے اسکالرشپ دلوانے میں مدد کرتے ہیں۔ لہٰذا اُن کے ذریعے لوگ مدینہ منورہ اور اِن سب جگہوں پر جاتے ہیں۔ لیکن اُن کا ایک اسپیشل پروجیکٹ ہے۔ اُنہوں نے یہ کام پہلے کبھی نہیں کیا۔ وہ اب تک صرف عرب لوگوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ پہلی بار، وہ یورپ سے کسی کو لانا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے مجھ سے بات کی اور میرے ذہن میں تمہارا خیال آیا۔" میں نے کہا، “کیا؟” "ہاں، وہ۔۔۔ اسکالرشپ دیں گے، وہ ہر چیز کا خرچہ اٹھائیں گے۔ تم جا سکتے ہو۔" میں نے کہا، “واقعی؟” وہ بولے، "ہاں!

بس ایک مہینہ ہے، تیاری پکڑو!" تو یہ اُن لمحات میں سے ایک تھا، تصوّر کریں کہ، میں نے دعا کی۔۔۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیسے پہنچنا ہے۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ ہم نے اپنی ساری جمع پونجی اُس سفر پر اڑا دی تھی۔ میں واپس آیا، نوکری سے نکال دیا گیا۔ اب میں کیا کروں گا؟ اِسی لیے میں ہمیشہ لوگوں سے کہتا ہوں کہ دعا کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔ یہ آپ کے پاس سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔ اور جیسا کہ اسلام میں ہے، خلوص سے مانگی ہوئی دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے۔ اُس کے قبول ہونے یا پورا ہونے کے تین طریقے ہیں۔ یا تو اِسی زندگی میں آپ کو اپنی مطلوبہ چیز مل جاتی ہے یا اللہ اُسے آخرت کے لیے بچا لیتا ہے۔ وہ آپ کو اِس دنیا میں نہیں دے گا، وہ آپ کو آخرت میں اُس کا بدل عطا کرے گا، یا وہ آپ کو اُس سے بہتر چیز عطا کرے گا۔ کیا آپ سے متاثر ہونے کے بعد، آپ کے جاننے والوں میں، یا خاندان کے افراد یا قریبی دوستوں میں سے کسی نے اسلام قبول کیا؟ مسلمان ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد، میں نے اپنے والد سے اِس بارے میں بہت بات چیت کی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اُنہیں ایمان کے چھ ستونوں کے متعلق بتایا۔ اللہ پر، اُس کے رسولوں پر، اُس کی کتابوں پر، فرشتوں پر ایمان لانا، رائٹ، یومِ آخرت (قیامت کے دن) اور تقدیر پر ایمان لانا۔ اور وہ کہنے لگے، “میں اِس پر یقین رکھتا ہوں۔” میں نے کہا، "کیا؟" “ہاں، یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔” "تو پھر آپ بنیادی طور پر مسلمان ہی ہیں۔ اگر آپ کا اِن باتوں پر ایمان ہے، تو آپ مسلمان ہیں۔" وہ بولے، “ٹھیک ہے۔” میں نے پوچھا، " کیا آپ کلمۂ شہادت (ایمان کی گواہی) پڑھنا چاہتے ہیں؟" وہ بولے، ''ہاں'' میں نے کہا، “ٹھیک ہے!” مجھے اِس کی بالکل امید نہیں تھی۔ پھر وہ انگلینڈ منتقل ہو گئے۔ وہاں اُن کی ملاقات ایک بہری لڑکی سے ہوئی۔ وہ عیسائی تھی۔ اور پھر جب فلسطین اور غزہ کا یہ حالیہ معاملہ پیش آیا، تو ظاہر ہے وہ تمام ویڈیوز اور سب کچھ سامنے آیا۔ تو اُنہوں نے مجھے فون کیا اور اُس لڑکی نے کہا، “میں بھی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔” "میں نے وہ ویڈیوز دیکھی ہیں۔ اور اُن لوگوں کے پاس، فلسطینیوں کے پاس جو کچھ بھی ہے، مجھے بھی وہی ایمان چاہیے۔" تو وہ مسلمان ہو گئی، الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ اور حال ہی میں، پچھلے سال میں اپنی دادی سے ملنے واپس گیا۔ وہ بہت ضعیف ہیں، اُن کی عمر 95 سال ہے۔ عمر کے آخری حصے میں اور بہت بیمار ہیں۔ میں نے اُنہیں بھی اسلام اور اور سب باتوں کے متعلق بتایا۔ اور الحمدللہ، اُنہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اور آخر میں، اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو آپ چند لمحوں میں اُن سے کیا کہنا چاہیں گے؟ ایک آیت جو میں سوچتا ہوں، وہ ہے "کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے)۔" “ہر ایک جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔” اور اِسی بات نے مجھےجگایا۔ اور میرا خیال ہے کہ لوگ اِس بات سے ڈرتے ہیں، کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اِس کے بعد کیا آنے والا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے سے لوگ بہت ڈرتے ہیں، اور میں اُن سے یہی کہوں گا۔ موت کے بارے میں سوچیں۔ کسی برے انداز میں نہیں۔ بلکہ موت کو ایک نئی شروعات کے طور پرسوچیں۔ کیا ہوگا اگر موت آپ کے لیے ایک نئی شروعات ہوئی، ایک نئی زندگی ہوئی تو؟ آپ اُس زندگی کے لیے کیسے تیاری کریں گے؟ کیا آپ تیار ہیں یا نہیں ؟ موت کے بارے میں سوچنا یہ تین سوال سامنے لاتا ہے: ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم کہاں جائیں گے؟ اور ہمیں یہاں کس نے بھیجا ہے؟ آپ سویڈش لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے، جیسا کہ آپ نے بتایا کہ وہ اسلام کی طرف زیادہ مائل ہیں، مگر شاید وہ اسلام قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ آپ اُن کی حوصلہ افزائی کیسے کریں گے؟ [ سویڈش زبان میں] ٹھیک ہے، میرے عزیز دوست۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ پوری ویڈیو دیکھی ہے یا نہیں۔ لیکن جو میں تمہیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ: سچ تلاش کرنے سے مت ڈرو، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔ اور صرف اس لیے کہ تم نے اسلام کے بارے میں پڑھا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم لازمی مسلمان بن جاؤ گے۔ اور صرف اس لیے کہ تم مسلمان بن گئے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم عرب بن جاؤ گے۔ تم اب بھی سوئیڈش ہو، میں سوئیڈش ہوں، میں ابھی بھی وہی ہوں جہاں سے آیا ہوں، یہ میری ذات کو نہیں بدلتا، بلکہ میرا طریقہ بدل دیتا ہے۔ میں زیادہ خوش ہوں، میں بہتر انسان بن گیا ہوں، مجھے ہدایت ملی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ میرے پاس ہر صبح اٹھنے کی وجہ ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ تم میں سے بہت سے لوگ صبح اٹھ کر خالی پن محسوس کرتے ہیں، یا کچھ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ تو سچ کی تلاش سے نہ ڈرو۔ روشنی تلاش کرو، چاہے وہ کہیں بھی ہو، اور جب تم اسے پا لو تو کھلے دل سے قبول کرو۔ اگر تمہیں کوئی سوال ہو تو بلا جھجک پوچھو۔
