# Shaytan Ko Apne Dil Se Door Karo In 11 Ayaton Ke Zariye | Salah Mein Tabdeeli - Ep. 2

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/block-shaytan-from-your-heart-with-11-verses-transform-your-salah-ep-2
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=Mox2CCP2cFg
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

کیا ہو اگر اس بات کی کوئی وجہ ہو کہ کچھ چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسا ہم چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے ہم کچھ نظر انداز کر رہے ہوں۔ ہماری زندگی میں کچھ رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں ہم زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں مگر پھر کوئی غیر متوقع خبر ہمیں متاثر کر دیتی ہے۔ ہم افسردہ ہو جاتے ہیں ہمارے دل بھاری ہو جاتے ہیں راتیں طویل ہو جاتی ہے اور نیند ہم سے رُوٹھ جاتی ہے۔ اِسی لیے اللہ نے قرآن میں دو چھوٹی مگر بہت طاقتور سورتیں نازل کی ہیں۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس۔ ہمارے لیے ایک ڈھال، ایک پناہ گاہ، ایک تحفظ۔ زندگی صرف نظر آنے والی چیزوں کا نام نہیں ہے۔ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے مگر اُن سے ہمیں محفوظ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ،مثال کے طور پر جادو، نظر بدِ حسد، رات کے وقت نقصان پہنچانے والے کام وسوسہ (سرگوشیاں) اور شیطانی (ابلیسی) کام کرنے والے لوگ۔ ہمارے سیکڑوں دشمن ہیں۔ اِن سورتوں (چیپٹرز) کے معانی میں اتنی گہری خوبصورتی ہے کہ ویڈیو کے اختتام پر ہم سوچیں گے کہ ‘‘میں اِن سورتوں کو پڑھے اور سمجھے بغیر اب تک کیسے زندگی گزارتا رہا؟’’ ویڈیو کے اختتام پر ہم سیکھے ہوئے معانی کے ساتھ اِن سورتوں کو پڑھیں گے اور بہت سی چیزیں بدلنا شروع ہو جائیں گی اِن شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔ وہ مصیبتیں جو ہم پر آنے والی ہیں اِن شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) ہم سے دُور ہو جائیں گی۔ کیا آپ نے سنا ہے کہ ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ السلام پر جادو کر دیا گیا تھا؟ لبید نامی یہودی نے نبی پاکﷺ کے بالوں کو ایک کنگھی کے گرد لپیٹ کر جادو تیار کیا اور پھر وہ کنگھی کنویں میں پھینک دی تھی۔ یہ نبی پاک ﷺ کے لیے ایک آزمائش تھی۔ آپ ﷺ شدید بیمار ہوتے چلے گئے۔ آپ کی کمزوری اور بے چینی دن بہ دن بڑھتی چلی گئی۔ پھر اللہ نے اُنہیں وحی کے ذریعے بتا دیا۔ صحابہ کرام فوراً گئے اور انہوں نے کنویں میں جھانکا۔ اور وہاں، کنویں کی تہہ میں ایک کنگھی پڑی تھی جس کے گرد بال لپٹے ہوئے تھے۔ اِس واقعے کے بعد سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں۔ کنگھی پر گیارہ گرہیں باندھی گئی تھیں اور اِن دو سورتوں میں کُل گیارہ آیتیں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہر گرہ کے لیے ایک آیت پڑھی۔ جب آپ ایک آیت کو پڑھتے تو ایک گرہ کھل جاتی اور آپ بہتر محسوس کرتے۔ جب آپ ﷺ نے آخری آیت پڑھی تو آخری گرہ بھی کھل گئی۔ وہ بیماری، وہ جادو مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ لہٰذا یہ سورتیں بہت طاقتور ہیں۔ اِس دن سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت کے لیے کچھ اور دعائیں پڑھا کرتے تھے مگر یہ سورتیں نازل ہونے کے بعد آپ نے اِنہی کو پڑھنا شروع کیا۔ ہر رات سونے سے پہلے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ دونوں سورتیں اور ان کے ساتھ سورۃ الاخلاص پڑھتے اور پھر اپنے ہاتھوں پر دُم کرکے ہاتھوں کو جسم کے ہر اُس حصے پر پھیر لیتے جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے تھے۔ آئیے، اب اپنے موضوع کا آغاز سورۃ الفلق سے کرتے ہیں۔ پہلی آیت کونسی ہے؟ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ کہو، میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔ کتنا خوبصورت اظہار ہے، ہے ناں؟ صبح کا مالک۔ مگر صبح ہی کیوں؟ اِس لیے کہ ہر رات کے بعد صبح آتی ہے، رائٹ؟ اِس سے ہمیں اُمید ملتی ہے۔ یہ ہماری زندگیوں میں اُن حالات کی علامت ہے جو ناسازگار ہوتے ہیں اور ہمیں اندر سے بوجھل کر دیتے ہیں۔ مگر ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے۔ کوئی ایسی بات سوچیں جس نے آپ کو دس سال پہلے پریشان کیا تھا۔ اب، یا تو وہ پریشانی بالکل ختم ہو چکی ہوگی یا آپ کو کچھ زیادہ پریشان نہیں کرتی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ رات کے بعد صبح آ چکی ہے۔ کبھی کبھی ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ ہمارے خلاف ہو رہا ہے مگر اِس رات کی بھی ایک صبح ہوگی۔ اِس اُمید کے ساتھ، ہمیں مشکل حالات میں بھی مضبوط رہنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ یاد کریں۔ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ سمندر میں طوفان تھا اور وہ سمندر کے بیچ و بیچ تھے۔ کیا اِس سے بھی زیادہ بری صورتحال ہو سکتی ہے؟ اُنہوں نے اپنی غلطی تسلیم کی اور فرمایا ‘‘میرے رب، بے شک میں ہی خود پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں’’ وہ پوری طرح جانتے تھے کہ صرف اللہ ہی اُنہیں بچا سکتا ہے اور اُنہوں نے اِسی احساس کے ساتھ دعا فرمائی۔ اور پھر اللہ نے اُنہیں بچا لیا اور محفوظ جگہ لے آیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ یاد کریں۔ لوگوں نے اُنہیں ایک بڑی منجنیق کے ذریعے بلند و بالا آگ میں پھینک دیا تھا۔ باہر سے ایسا لگتا تھا کہ اب کوئی اُمید نہیں بچی۔ مگر اللہ نے آگ کو اُنہیں جلانے نہیں دیا۔ کبھی کبھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں، میرے حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ میں اِن سے کبھی نہیں نکل پاؤں گا۔ کوئی اُمید باقی نہیں رہی مگروہ ذات جس نے آپ کو پانی کے ایک قطرے سے پیدا کیا جس کی طاقت کی کوئی انتہا نہیں جس کی پوری کائنات پر حکمرانی ہے کیا وہ آپ کے لیے کوئی راستہ نہیں نکال سکتا؟ آپ اِس دنیا میں کتنے سال زندہ رہیں گے؟ آپ یہاں ہزار سال نہیں جینے والے اب سے لے کر اگلے سو سال میں آپ اور آپ کے چہیتے سب لوگ یا آپ کے مخالف اور دشمن بھی زمین کے نیچے دفن ہوں گے۔ یہ زندگی آخرکار ختم ہو جائے گی۔ یہ دنیا عارضی ہے۔ تو پھر آپ کے مسائل کیسے ہمیشہ رہ سکتے ہیں؟ وہ درد جس کے متعلق آپ نے کہا تھا ‘‘یہ کبھی ختم نہیں ہوگا،’’ مگر وہ گزر گیا۔ صبح آ گئی، امید مل گئی اور یہ آیت ہمیں بالکل یہی سمجھاتی ہے۔ "آپ کہتے ہیں ،" یا رب، میں کیا کروں اور وہ جواب دیتا ہے، ’’کہو‘‘۔ "آپ پوچھتے ہیں،" میں کیا کہوں؟ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں) سورج طلوع ہوگا۔ یہ اندھیرے کو چِیر دے گا۔ سارا اندھیرا غائب ہو جائے گا۔ روشنی ہو جائے گی۔ اِس امید کے ساتھ آپ مشکلات میں ثابت قدم رہیں گے۔ اگلی آیت، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ ہر اُس چیز کے شر سے، جو اُس نے پیدا کی۔ لیکن ذرا ٹھہریں۔ یہ مشکل گھڑی خود سے نہیں آتی۔ اللہ ہی نے اِسے پیدا کیا ہے۔ تو اگر آپ کا اِس پر کنٹرول نہیں ہے تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ کو کوئی ایسی ذات تلاش کرنی ہوگی جو اِسے کنٹرول کر سکے اور روک سکے۔ یہ آیت آپ کو پکار کر کہتی ہے غلط جگہ یا کہیں دُور جا کر تلاش نہ کرو۔ اللہ نے اِسے پیدا کیا اور وہی اِسے کنٹرول کر سکتا ہے۔ کیا ہم اُسی اللہ کی بات کر رہے ہیں جس نے آپ کی پیدائش سے لے کر اب تک آپ کو بے شمار نعمتیں دیں؟ زندگی بھر آپ کو کروڑوں تحفے دیے۔ جی ہاں، اِس کا مطلب ہے کہ وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ نے اِس مشکل وقت کو آنے دیا تو اِس کے پیچھے یقیناً کوئی اچھائی ہوگی۔ اِس سے آپ کے دل کو اطمینان ملنا چاہیے۔ اللہ آپ کے حالات کو جانتا ہے اور یقیناً، ان حالات میں آپ کے لیے کوئی اچھائی چُھپی ہوگی۔ وہ آپ کی رہنمائی کر رہا ہے۔ پھر ہمیں اِن مشکل حالات سے حفاظت کے لیے کس کی طرف جانا چاہیے؟ اللہ کی طرف جو اِن حالات کو پیدا اور کنٹرول کرتا ہے۔ خوش ہونے کے لیے، ہمیں کئی وجوہات کی ضرورت ہوتی ہے مگر اداس ہونے کے لیے کسی ایک چیز کا نہ ہونا ہی کافی ہے۔ مثلاً، ایک کار کا تصور کریں۔ اِسے چلنے کے لیے کئی پارٹس کی ضرورت ہوتی ہے: اسٹیئرنگ وِیل، انجن ایگزاسٹ، ہزاروں چھوٹے پُرزے۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی چیز نہ ہو تو کار حرکت نہیں کرے گی۔ ہماری زندگی بھی اِسی طرح ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں، ہم جیتے ہیں مگر بعض اوقات کسی ایک چیز کا کھونا ہماری ساری خوشیاں چِھین لیتا ہے۔ صرف یہی بات سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہمیں اللہ سے حفاظت مانگنے کی کتنی ضرورت ہے۔ جب آپ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق توڑتے ہیں تو ایک ایک کرکے ہر چیز بگڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ کیا ہم وہ چیزیں گِنیں جن سے ہمیں حفاظت کی ضرورت ہے؟ زلزلے، سیلاب، آفتیں بیماریاں، کسی عزیز کی موت جادو، جِنّات (آسیب) حادثے، ناکامیاں، ڈپریشن۔ ایسی بے شمار چیزیں ہیں۔ مثلاً، وہ لوگ جو آپ کو اذیت دیتے ہیں۔ بعض اوقات جسے آپ ’’بھائی‘‘ کہتے ہیں وہی آپ کی زندگی تہس نہس کر دیتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اور بعض دفعہ کوئی چیز اچھی نظر آتی ہے مگر درحقیقت وہ بری ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں تو ہم اِن چیزوں کے خلاف بھی اللہ سے حفاظت مانگتے ہیں۔ آئیے پھر دہرائیں، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ میں کس چیز سے پناہ مانگ رہا ہوں؟ اُس کی پیدا کی ہوئی ہر چیز کے شر سے۔ ایک اور چیز بھی ہے جس سے ہمیں حفاظت درکار ہوتی ہے:وہ ہے نظرِ بد العین (بری نظر)۔ نظرِ بد کیا ہوتی ہے؟ نظرِ بد وہ ہوتی ہے جب کوئی آپ کو حسد سے دیکھے اور یہی منفی انرجی آپ کی زندگی میں مسائل پیدا کرنے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ نظرِ بد دو صورتوں میں بہت طاقت سے اثر کرتی ہے۔ پہلی وہ جب آپ کسی چیز کی تعریف کریں۔ آپ کو کوئی چیز بہت پسند آئی مگر آپ نے اِسے خدا سے وابستہ نہیں کیا۔ مثلاً، بجائے یہ کہنے کے اللہ نے کتنا خوبصورت بنایا ہے آپ صرف یہ کہیں، کتنا خوبصورت ہے۔ خصوصاً مائیں نہ جانتے ہوئے بھی اپنے ہی بچوں کو نظرِ بد لگا سکتی ہیں۔ ماشاء اللہ (جو اللہ نے چاہا) کہے بغیر تعریف کے الفاظ بہت سخت اثر دکھا سکتے ہیں۔ دوسری صورت اور زیادہ خطرناک ہے۔ وہ حسد ہے۔ اِس طرح کی نظر دوسرے شخص کو اضافی نقصان پہنچا سکتی ہے معاذ اللہ (اللہ بچائے)۔ مگر آپ کو کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کو نظرِ بد لگی ہے؟ اگر آپ کی زندگی میں سب کچھ بگڑنا شروع ہو جائے جن چیزوں کو آپ سنبھالنا چاہیں وہ بکھرنے لگیں خصوصاً کسی بڑی کامیابی کے بعد فوراً چیزیں بگڑنا شروع ہو جائیں تو یہ نظرِ بد کی علامت ہو سکتی ہے۔ مگر ہم اِس کے متعلق بات کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ سورۃ الناس اور سورۃ الفلق نظرِ بد سے حفاظت کے لیے طاقتور ترین سورتیں ہیں۔ سورۃ القلم کی آیت نمبر 51 میں اللہ تعالیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے فرماتا ہے کافر جب نصیحت کی بات سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ اپنی آنکھوں سے تمہیں ڈگمگا دیں گے۔ تویہاں ایک سوال ہے اپنے آس پاس اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے ہم خود کو نظرِ بد سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ پہلی چیز، ہمیں روزانہ رات کو سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کی تلاوت کرنی چاہیے۔ دوسری چیز، ہمیں ہر ایک کو اپنی کامیابیوں کے بارے میں نہیں بتانا چاہیے۔ تیسری چیز، ہمیں سوشل میڈیا پر چیزیں شیئر کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ ہم نہیں جانتے کہ اسے کون دیکھے گا یا اسے دیکھ کر لوگ کیا محسوس کریں گے۔ مثلاً، آپ کی ایک خوش باش فیملی ہے، اور آپ اپنے بچے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہیں مگر اِسے دیکھنے والے شخص کی ایسی زندگی نہیں ہے۔ اگر وہ عام طور پر حسد نہ بھی کرے اگر وہ آپ کی تصویر دیکھ کر صرف اداس ہو جائے تب بھی نظرِ بد لگ سکتی ہے۔ وہ شخص یہ نہیں کہتا، میں انہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہوں اُسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کر رہا ہے اِسی لیے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اگلی آیت ہے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ یہاں ہم کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ اِس آیت میں اندھیرے کی بات کیوں کی گئی ہے؟ کیونکہ اندھیرے کا مطلب ہے اَن دیکھے بچّھو، سانپ اور دوسرے خطرات۔ دن کی روشنی میں، آپ اپنے اِرد گِرد دیکھ سکتے ہیں مگر جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو اپنی طرف آتے خطرے کو بھانپنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اِسے نفسیاتی پہلو سے دیکھیں تو رات کا مطلب ہے تنہا ہونا۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ اکیلے ہوتے ہیں۔ آپ گہرائی سے سوچنا شروع کرتے ہیں۔ آپ اپنے احساسات پر توجہ دیتے ہیں۔ رات میں، لوگ جذباتی اور ذہنی طور پر سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ اِسی لیے ہم اللہ سے رات کے شر سے حفاظت مانگتے ہیں۔ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِى الْعُقَدِ۔ اور اُن کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتے ہیں۔ اِس سے مراد جادو کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم اللہ سے اُن کے شر سے حفاظت مانگتے ہیں۔ بھائیو، بہنو، جادو کو ہلکا مت لیں خصوصاً شادی بیاہ کے معاملات میں۔ مثلاً، کوئی شخص کسی سے شادی کا ارادہ کرتا ہے مگر اچانک وہ شخص کسی اور سے شادی کر لیتا ہے۔ جلن اور حسد کی مقدار اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ انسان اُس شادی کو توڑنے کے لیے جادو کرتا ہے۔ جادو کی کئی اقسام ہیں۔ یہ مت کہیں کہ مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) پر بھی جادو کیا گیا تھا اور اُس نے اثر دکھایا تھا۔ اِسی لیے ہمیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حسد کرنے والا آپ کے پاس موجود چیز دیکھ کر صرف ناخوش نہیں ہوتا؛ بلکہ چاہتا کہ وہ آپ کے پاس نہ رہے۔ جب کسی کو کوئی نعمت ملتی ہے تو حاسد کا دل کہتا ہے کہ ‘‘اسے یہ کیوں ملا؟’’ یہ احساس ناپسندیدگی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ وہ نا سمجھی میں تقدیر کو چیلنج کرتا ہے تقدیر یعنی (اللہ کے فیصلے کو) کیونکہ وہ نعمت دینے والا اللہ خود ہی ہے۔ اِس طرح سوچنا چاہے انجانے میں ہی ہو، گویا یہ کہنا ہے ''اللہ کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کس کو کیا ملنا چاہیے'' معاذ اللہ ۔ یہی وجہ ہے کہ اِس قسم کا حسد دل کی ایک خطرناک بیماری ہے۔ اور صرف باہر کے حاسدوں پر نظر نہ رکھیں۔ یہ ہمارے اندر بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً، آپ کوئی چیز پانا چاہتے ہیں مگر آپ کے والد کو اس کی پرواہ نہیں۔ پھر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کو ناپسند کوئی شخص بھی وہی چیز چاہتا ہے اور اُس کے والد اُسے وہ لا دیتے ہیں جو بہت عمدہ چیز ہوتی ہے۔ تو وہ آپ کے لیے آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے انسان اپنے اندر کے احساسات کو روک نہ سکے لیکن اگر آپ کا وہ احساس اچھا نہیں ہے اور آپ ِاِسے عملی جامہ نہیں پہناتے تو آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ عملی جامہ پہنانے سے کیا مراد ہے؟ مطلب اُس شخص کو کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یا اُس کے ساتھ کچھ برا ہو جائے تو جانتے بُوجھتے خوشی محسوس کرنا۔ اسلام میں، کسی ایسے بُرے احساس یا سوچ پر آپ کی پکڑ نہیں جسے عمل میں نہ ڈھالا جائے۔ اِس کا حل تین دعاؤں میں ہے۔ پہلی دعا خود اپنے لیے کریں کہ آپ میں یہ احساس ختم ہو جائے۔ دوسری دعا اُس شخص کے لیے جس کے متعلق آپ میں برے احساسات ہیں۔ تیسری دعا جو سب سے طاقتور ہے اللہ سے اُس شخص کے لیے اچھی اچھی چیزیں مانگیں۔ اُس کے لیے نعمتوں اور رحمتوں کی دعا آپ کے اندر سے حسد کے جذبات مٹا دے گی۔ ہابیل اور قابیل کے درمیان ہونے والا پہلا قتل حسد کی وجہ سے ہوا تھا۔ شیطان (ابلیس) کا اللہ کی نافرمانی کرنا اور شیطان بن جانا حضرت آدم علیہ السلام سے حسد کی وجہ سے ہوا۔ دنیا میں نظر آنے والی بہت سی لڑائیوں، بحثوں اور خفیہ منصوبوں کی وجہ اکثر یہی حسد ہوتا ہے۔ اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے حسد سب سے پہلے حاسد کو جلاتا ہے۔ لہٰذا جب ہم کسی سے حسد کرتے ہیں، تو دراصل ہم سب سے زیادہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ ہمارا اپنا سکون غارت ہوتا ہے۔ ہمارا دماغ ہر وقت اُنہی چیزوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا ‘‘ابھی ایک شخص اندر داخل ہوگا وہ اہلِ جنت میں سے ہے۔’’ صحابہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ یہ شخص کیوں جنتی ہے۔ ایک صحابی گئے اور اُس شخص کے گھر میں مہمان بن کر ٹھہرے۔ تین دن تک، اُنہوں نے اُن کا گہرائی سے مشاہدہ کیا۔ وہ حیران تھے کہ یہ ایسی کونسی عبادت کرتے ہیں کہ جس نے انہیں جنتی بنا دیا؟ وہ دیکھتے رہے، مگر اُن کی اور اپنی عبادت میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ آخرکار، اُنہوں نے اپنے ٹھہرنے کی وجہ بتائی اور براہِ راست اُن سے پوچھا اور اُس جنتی آدمی نے جواب دیا میں کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے دل میں ذرّہ برابر بھی نفرت نہیں رکھتا اور میں اللہ کی طرف سے دی ہوئی نعمتوں اور اچھی چیزوں پر کسی سے حسد نہیں رکھتا۔ لہٰذا بعض اوقات حسد کسی شخص کو جہنم میں پہنچا دیتا ہے مگر دوسروں سے حسد نہ کرنا یہ کسی کو جنت میں بھی پہنچا دیتا ہے۔ دونوں کے درمیان کتنی باریک لکیر ہے۔ تو دوستو، یہاں سورۃ الفلق ختم ہوتی ہے۔ آئیے اِس کے معانی یاد کرتے ہیں۔ کہو میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے اور اُن کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتے ہیں اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ اب ہم سورۃ الناس پر آتے ہیں۔ ناس کا مطلب کیا ہے؟ اِس کا مطلب ہے ’’لوگ‘‘۔ اور اِس سورۃ میں بھی ہم مختلف چیزوں سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ ہم اِسے پہلی آیت سے دیکھیں گے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ سب سے زیادہ کون ڈوبتا ہے؟ وہ لوگ جو تیرنا جانتے ہیں یا جو تیرنا نہیں جانتے؟ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ تیرنا جانتے ہیں وہی اکثر ڈوبتے ہیں کیونکہ جو تیرنا نہیں جانتے وہ گہرے پانی میں نہیں جاتے۔ وہ محتاط ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں وہاں نہیں جاؤں گا۔ وہ جگہ تین میٹر گہری ہے۔ میں سنبھل نہیں پاؤں گا۔ لیکن جنہیں تیرنا آتا ہے اُنہیں خود پر بھروسہ ہوتا ہے۔ وہ گہرے پانی میں چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں سب کچھ بالکل ٹھیک رہے گا مگر سمندر میں اور بھی کئی خطرات ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں مسئلہ ہے خود پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرنے کا۔ مثلاً، مجھے کچھ نہیں ہوگا زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں سنبھال لوں گا۔ اِس طرح کی گفتگو ہوتی ہے۔ اِس انداز سے بات کرنے والا اُس باکسر کی طرح ہے جس نے اپنا گارڈ اُتار کر رکھ دیا ہو۔ اُسی لمحے، اُسے ضرب لگتی ہے اور وہ کمزور محسوس کرتا ہے۔ بھائیو، بہنو ہمیں اِس طرح سوچنا چاہیے میں شیطان (ابلیس) سے ہار سکتا ہوں۔ وہ مجھے پھنسا سکتا ہے۔ اُسے میری کمزوریاں معلوم ہیں۔ مجھے اللہ سے اس کی پناہ مانگنی ہوگی۔ اِس وقت، کچھ ہی لوگ محتاط ہیں۔ وہ اپنے گارڈ پہنے رہتے ہیں اور سورۃ الفلق، سورۃ الناس سے متعلق ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ اِس طرح وہ اپنی حفاظت کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کچھ اب بھی کہتے ہیں مجھے کچھ نہیں ہوگا۔ اِس صورت میں، ایسا شخص ہدف بن سکتا ہے کیونکہ اُس نے گارڈ اتارا ہوا ہے۔ شروع کرتے ہیں۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰـهِ النَّاسِ۔ کہو، میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی، سب لوگوں کے بادشاہ کی سب لوگوں کے معبود کی۔ تین نام بیان ہوئے ہیں: پروردگار (رب) بادشاہ (مَلِک)، معبود (اِلٰہ)۔ ہم کس کی پناہ مانگ رہے ہیں؟ اپنے پروردگار، اپنے اصل بادشاہ، اپنے معبود کی۔ ہمیں اِس سے کیا سمجھنا چاہیے؟ اِس دنیا میں کچھ چیزیں ہیں جو ہمیں ڈراتی ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ وہ کوئی شخص یا کوئی بیماری یا موت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ سوچ رہے ہوں ‘‘اگر وہ شخص مجھے نقصان پہنچائے تو میں کیا کروں گا؟’’ ہمیں خوفزدہ کرنے والی یہ ساری چیزیں اللہ کی لازوال طاقت کے سامنے کمزور ہیں۔ اِن کی کوئی اصل طاقت نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی حفاظت اور پناہ مانگیں۔ جن چیزوں سے آپ خوفزدہ ہیں وہ کمزور ہیں اور اللہ کے سامنے تھر تھر کانپتی ہیں۔ ایک ظالم بادشاہ نمرود پر غور کریں۔ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو تکلیفیں دے رہا تھا۔ ہر کوئی اُس سے خوفزدہ تھا۔ تو اللہ نے کیا کیا؟ اُس نے اپنے سب سے چھوٹے سپاہی ایک مچھر کو بھیجا۔ وہ نمرود کے محافظوں کے پاس سے اور محل کی دیواریں پھلانگ کر گزر گیا اور اُس کی ناک میں جا گھسا۔ وہاں سے وہ اُس کے دماغ میں پہنچ گیا۔ اور یہیں سے نمرود کا خود پر کنٹرول نہیں رہا۔ کبھی اپنے آپ کو خدا کہنے والا ایک بہت بڑا بادشاہ اب بے بس تھا وہ درد کی شدت سے اپنا سر دیوار پر ٹکراتا رہا۔ دن بہ دن، اِس درد نے اُسے اَدھ مُوا کر دیا۔ جو خود کو پوری دنیا کا حکمران سمجھتا تھا اُسے انگلی کے ناخن سے بھی چھوٹی چیز نے ہرا دیا۔ جسے آپ ’’عظیم بادشاہ‘‘ کہتے تھے وہ اللہ کے بھیجے ہوئے مچھر سے ہار گیا۔ دوسری جانب، فرعون کا بھی یہی معاملہ تھا۔ وہ بھی لوگوں کو اذیتیں دیتا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی قوم بحرِ احمر کے پاس پہنچ گئی۔ اُن کے پیچھے فرعون اور اُس کی فوج تھی۔ اور اُن کے آگے سمندر تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کس سے مدد مانگی؟ اللہ سے حفاظت مانگی اُنہوں نے اپنی چھڑی سمندر پر ماری۔ اور ایک معجزہ ہوا سمندر کے دو حصے ہو گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی قوم دونوں طرف کے پانی کی کھڑی دیواروں کے درمیان بنے راستوں سے گزر گئے۔ فرعون نے بھی ان کے پیچھے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی مگر پانی دوبارہ مل گیا۔ فرعون اور اُس کی فوج سمندر میں ڈوب گئے۔ میں کیا سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں؟ پناہ کس کی مانگنی چاہیے؟ اپنے رب (پروردگار)، اپنے مَلِک (بادشاہ) اپنے اِلٰہ (معبود) کی کیونکہ اُس سے بڑا کوئی حکمران نہیں ہے۔ ہم اُس کی پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ کیونکہ ہر چیز کی چابی اُس کے پاس ہے۔ ہر چیز اُس کے کنٹرول میں ہے۔ ہر چیز اُس کے حکم سے ہوتی ہے۔ ایک پتّا بھی اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں گرتا۔ اس پر ذرا غور کریں۔ اللہ، جس کے پاس نہ ختم ہونے والی طاقت ہے کونسا ایسا کام ہے جو وہ نہیں کر سکتا؟ کوئی بھی نہیں۔ انسانوں اور تمام مخلوقات کی قوتیں محدود ہیں مگر اللہ کو پوری طاقت اور مکمل اختیار حاصل ہے۔ اگر وہ نہ چاہے، تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ اِس وقت، میں اپنے پروردگار کی پناہ مانگ رہا ہوں جو لازوال طاقت کا مالک ہے۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ اَلَّـذِىْ يُوَسْوِسُ فِىْ صُدُوْرِ النَّاسِ۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چُھپ جاتا ہے جو لوگوں کے سِینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ بھائیو، بہنو ہم کس سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ وسوسے (سرگوشیوں)، بُری سوچوں سے جو شیطان ہمارے سِینوں میں ڈالتا ہے۔ ہم اِن کے خلاف اللہ سے حفاظت مانگ رہے ہیں۔ یہاں ایک بہت اہم فرق ہے۔ آیت کے مطابق، جو لوگوں کے سِینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ دل میں نہیں اِن کے سِینوں میں کہا گیا۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ شیطان آپ کو ایک سرگوشی، ایک وسوسہ دیتا ہے۔ وہ آپ کو گناہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ اُسے پُرکشش بناتا ہے اور آپ کو کہتا ہے صلوٰۃ (نماز) مت پڑھو یا ایسے خیالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو آپ کی امید اور صبر کو ختم کر دیں۔ یہ سرگوشی آپ کے سینے میں رہتی ہے جسے ہم صدر (سینہ) کہتے ہیں مگر یہ اب تک آپ کے دل تک نہیں پہنچتی۔ یہ آپ کے دل تک تبھی پہنچے گی جب آپ اِس سرگوشی پر عمل کریں گے اورسوچیں گے میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ صلوٰۃ (نماز) نہیں پڑھوں گا۔ میں وضو کر کر کے تھک گیا ہوں۔ میں نماز نہیں پڑھنا چاہتا۔ میرے ساتھ کچھ مسائل ہیں تب آپ کے صدر (سینے) میں موجود وہ سرگوشی آپ کے دل میں داخل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جب ہم ’’وسوسے‘‘ (سرگوشی) کا لفظ سنیں تو ہمیں کیا سوچنا چاہیے؟ یہ شیطان کی سرگوشیاں ہیں۔ اوکے، ایک ایسی آواز جو برائی کا حکم دیتی ہے، ایسے خیالات جو اچھائی سے روکتے ہیں جو آپ سے عبادت چُھڑوا دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات کارٹونز میں ایک کاندھے پر فرشتہ اور دوسرے کاندھے پر شیطان دکھایا جاتا ہے، رائٹ؟ یہ اِسی طرح ہوتا ہے۔ شیطان دن میں کئی دفعہ ہم سے بات کرتا ہے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بعض اوقات شیطان کے الفاظ ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے یہ ہمارے اپنے خیالات ہیں۔ آپ کے ذہن میں چلنے والی باتیں تصاویر، حتیٰ کہ برے الفاظ آپ کی سوچیں ضروری نہیں کہ آپ کی اپنی ہوں۔ مثال کے طور پرایک احمد نامی لڑکے کا تصور کریں۔ وہ ایک گرل فرینڈ پانے کے متعلق سوچتا ہے۔ پھر ایک دن، سپر مارکیٹ میں ایک لڑکی سے اُس کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ لڑکی اُس سے مدد مانگتی ہے۔ اُن کا رابطہ ہوتا ہے اُن کی جان پہچان بڑھتی ہے۔ احمد یہ سوچتا ہےکہ میں ابھی شادی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ شاید میں چھ یا سات سال بعد شادی کر لوں۔ اِس دوران، میں اُسے اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ میں اُسے اسلام کی باتیں سمجھاؤں گا۔ بہرحال وہ ایک اچھی لڑکی لگتی ہے۔ احمد سمجھتا ہے کہ یہ اُس کا اپنا خیال ہے۔ مگر ٹھہریں، اِسے پہچانیں۔ یہ عمل اسلامی حدود کے مطابق نہیں ہے، رائٹ؟ یہ شیطان کی سرگوشی ہے۔ جب آپ یہ فرق پہچان لیتے ہیں تو آپ اپنی آزمائش کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ حل کر لیتے ہیں۔ تو آپ یہ فرق کیسے پہچانیں گے؟ یہ خیال شیطان کی طرف سے ہے یا آپ کا اپنا ہے؟ اگر یہ حلال (جائز) کی حدود سے باہر ہے یا یہ آپ کی روحانیت کو متاثر کرتا ہے آپ میں مایوسی پیدا کرتا ہے تو پھر یہ شیطان کی سرگوشی ہے۔ ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ بعض اوقات یہ سرگوشیاں بہت معصوم لگتی ہیں۔ ہماری تفسیر (تشریح) کی کتابوں میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان کچھ منصوبے رکھتا ہے۔ پہلا منصوبہ: جو آپ کے میرے اور سب کے لیے ہوتا ہے وہ انسان کو کفر اور شرک (پولیتھی ازم) کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلا مقصد کفر اور شرک ہے۔ اگر وہ اِس میں ناکام ہو جائے تو وہ بڑے گناہوں میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دوسرا منصوبہ ہے۔ اگر یہ بھی کام نہ آئے تو وہ چھوٹے گناہوں کے جال میں پھنساتا ہے۔ یہ تیسرا منصوبہ ہے۔ اگر وہ یہ بھی نہ کر پائے، تو وہ اُسے بے کار اور بے مقصد کاموں میں مصروف کرتا ہے۔ اگر وہ اِس میں بھی کامیاب نہ ہو سکے تو وہ اُسے بہت زیادہ ثواب والے کاموں سے دور کرتا ہے اور کم ثواب والے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے شیطان کے پاس بہت سی چالیں اور سرگوشیاں ہیں۔ اللہ کی پناہ مانگے بغیر اِن چالوں کو روکنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔ مگر ہم عموماً بے پرواہ رہتے ہیں۔ ہم اِس طرح کی سوچ اپنا لیتے ہیں ‘‘مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا’’ ہو سکتا ہے کبھی ہم یہ کہیں، میں دن کی پانچوں نمازیں پڑھتا تھا۔ پھر میں نے چھوڑ کیوں دی؟ کیونکہ آپ نے اپنا گارڈ اتار دیا تھا۔ ایک دشمن آپ کے پیچھے لگا ہوا تھا جو آپ کی کمزوریوں کے انتظار میں تھا۔ جب وہ وقت آیا تو آپ نے اُس کی خواہشات کو پورا کرنا شروع کر دیا اور اب آپ اِس صورتحال میں پھنس گئے ہیں۔ سورۃ کی اگلی آیت ہے، مِنَ الْجِنَّـةِ وَالنَّاسِ۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ چاہے وہ جنّات میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔ بدیع الزماں سعید نُورسی، ایک مشہور اسکالر شیطان کے وجود کو ثابت کرتے ہوئے مثال کے طور پر انسانی شیاطین کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کیا واقعی شیطان ہے؟ ہاں، ہمارے درمیان ایسے لوگ ہیں جو شیطان والے کام کرتے ہیں۔ اگر اس طرح کے لوگ اپنے وجود کو چُھپا سکتے اور غائب ہو سکتے تو اِن میں اور شیطان میں کچھ بھی فرق باقی نہ رہتا۔ جو ظلم کرتے ہیں جو لوگوں کو گناہوں کی طرف بلاتے ہیں اور جو حرام (ناجائز) کونٹینٹ شیئر کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی ہی خواہشات کی وجہ سے گناہ میں پڑ سکتا ہے۔ مگر وہ ایک مختلف بات ہے۔ مگر ایسے لوگ بھی ہیں جن کا مقصد ہی فساد کو پھیلانا دوسروں کو برائی کی طرف بلانا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ انسانی جسم میں شیطان ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم برائی کی سرگوشی کرنے والوں کے متعلق سوچیں تو ہمیں صرف جنّات ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی دھیان رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص برائی اور گناہ مسلسل کرتا رہے تو وہ شیطان سے بھی بدتر بن سکتا ہے۔ شیطان صرف سرگوشی کرتا ہے مگر ایک انسان، جو آپ کا دوست بھی ہو سکتا ہے صرف سرگوشی ہی نہیں بلکہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو حرام (ناجائز) کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ آپ کے پاس آ کر کچھ اِس طرح کی بات کر سکتا ہے تم بھی کوئی گرل فرینڈ کیوں نہیں بنا لیتے؟ تم بھی کوئی بوائے فرینڈ کیوں نہیں رکھ لیتیں؟ تم نے اِس بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ میرے ایک دوست کے ساتھیوں نے تمہیں دیکھا اور تم انہیں اچھے لگے۔ تم لوگ ساتھ وقت گزار سکتے ہو۔ یہ باتیں آپ کو معصومانہ لگ سکتی ہیں مگر معاذ اللہ (اللہ بچائے) بعض اوقات شیطان ہمارے اِرد گِرد کے لوگوں کو سرگوشی کرتا ہے اور شیطان ہم پر اثر ڈالنے کے لیے اُن لوگوں کو استعمال کرتا ہے۔ اِسی لیے ہمیں دونوں سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے جنّات سے اور انسانوں سے تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔ آئیے ساری آیتیں دہراتے ہیں۔ کہو میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی سب لوگوں کے بادشاہ کی، سب لوگوں کے معبود کی، اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چُھپ جاتا ہے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے چاہے وہ جنّات میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔ جی ہاں، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہاں مکمل ہوئیں۔ ایک کہاوت ہے کہ ‘‘سبق تب تک خود کو دہراتا ہے جب تک سیکھ نہ لیا جائے۔’’ آزمائشیں، مشکلات اور مصیبتیں جن کا ہم سب سامنا کرتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ایک تنبیہہ ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم اُس کے بغیر نہیں جی سکتے۔ اِن کے ذریعے اللہ ہمیں اپنی پناہ میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر اِن جیسی سورتوں اور اِن کے معانی کے ساتھ اللہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اور اب ہم یہ جانتے ہیں کہ راتیں تاریک ہو سکتی ہیں آزمائشیں دبے قدموں آ سکتی ہیں مگر ہمارے پاس ایک رب (پروردگار) ایک مَلِک (بادشاہ)، ایک اِلٰہ (معبود) ہے۔ ہمارے پاس فلق (صبح کا اُجالا) ہے جو ہر اندھیرے کو چِیر دیتی ہے اور ناس ہے جو ہر سرگوشی کو خاموش کر دیتی ہے۔ اِس ویڈیو کے بعد آئیے اپنی زندگی میں صرف ایک عادت اپنا لیں۔ جب آپ سونے کے لیے جائیں تو سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ لیں جیسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ مگر اِس بار، اِنہیں سمجھ کر پڑھیں۔ اللہ کی پناہ مانگ کے اور خود کو اُس کے حوالے کر دیں۔ یاد رکھیں، جس رات بھی آپ نے یہ دونوں سورتیں نہیں پڑھیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے اپنا گارڈ اتار دیا۔ اور جس رات آپ پڑھیں گے، گویا آپ ڈھال پہن لیں گے۔ اور پھر، کوئی اندھیرا آپ کو مایوس نہیں کر سکتا کیونکہ آپ نے صبح کے رب کی پناہ میں آنا سیکھ لیا ہے۔ اِس سیریز کی پہلی ویڈیو سورۃ الفاتحہ (ابتدائی چیپٹر) پر تھی۔ الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے) مجھے یقین ہے کہ وہ ویڈیو گہری تھی متاثر کُن تھی۔ اور اِس سیریز کی اگلی ویڈیو میں ہم ابتدائی دعا کو مزید گہرائی سے سمجھنا جاری رکھیں گے سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ (اے اللہ!

تو پاک ہے) اِس سیریز کے اختتام تک ان شاء اللہ (اللہ نے چاہا تو) ہم پڑھی گئیں تمام آیات کو سمجھ لیں گے۔ ان شاء اللہ، ہم حقیقی عاجزی اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھیں گے اور ہمیشہ کی زندگی کی جانب اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
