# “Mujhe Lagta Tha Khuda Kamzor Logon Ke Liye Hai” – Canadian Atheist Ne Islam Qabool Kiya

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/canadian-atheist-converts-to-islam-i-thought-god-was-for-weak-people
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=ygafmuwyokk
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں نے مغربی کینیڈا میں پہاڑوں کے درمیان پرورش پائی ۔ ہمارے گھر میں مذہب کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ خدا کمزور لوگوں کیلئے ہے جو زندگی گزارنے کیلئے سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ ا ٓپ جانتے ہیں میرے بہنوئی نے خود کشی کرلی ۔ اپنی بہن کو کھو دیافینٹینیل کی اوور ڈوز کے سبب ۔ خاص طور پر ایک رات میں میرا دوست آیا، جو خون میں لت پت تھا ۔ اسے کئی جگہوں پر چاقو مارا گیا تھا۔ تو مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ میں کہاں جا رہا ہوں؟ اذان کی آواز آنا شروع ہوئی اور میں مذاق نہیں کر رہا میرے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔ مجھے اس کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا تھا، لیکن یہ سیدھی میرے دل کو لگ رہی تھی۔ یہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمان بھائیوں کا ایک گروہ تھا۔ وہ نماز پڑھنے کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اور جب میں نے یہ اتحاد دیکھا، جہاں رنگ کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا، تو میں دنگ رہ گیا۔ چنانچہ، پہلی بار جب میں اس عمارت میں داخل ہوا، تو میں نے اسے دیکھا اور وہ پہلی مسلمان تھی جس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ اس سے ملنا تھا، اور پھر اس نے میری پوری سمجھ بوجھ کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ رب کے کام نرالے ہیں یہ بھی ان میں سے ایک تھا ۔ ایک دن، انہوں نے مجھے خط لکھا، اور اُس میں کہا، مجھے خوشی ہو گی اگر تم میری بیٹی سے شادی کرلو ۔ السلام علیکم بھائی وِل صالح ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ Towards Eternity میں آپکی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی ۔ سب سے پہلے بتائیں وِل صالح کون ہے ؟ کیا آپ مختصراً اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ وعلیکم السلام الحمدللہ مجھے دعوت دینے کے لئے آپ کا بہت شکریہ ۔ میں بے صبری سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ تو، مختصراً، میں نے مغربی کینیڈا میں پہاڑوں کے درمیان پرورش پائی گھر میں مذہب کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ اور درحقیقت، یہ ایک "ایتھیسٹ" قسم کاخاندان تھا، جہاں ہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے یہ سمجھتے کہ خدا ان کمزور لوگوں کیلئے ہے جنہیں زندگی گزارنے کیلئے سہاراچاہیے۔ تو میری مذہب کے بارے میں پرورش کچھ ایسی تھی۔ جب میں بہت چھوٹا تھا ، بعض اوقات جب کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا تو کمیونٹی میں Jehovah's Witness کا کا ایک کنگڈم ہال تھا جو کہ ایک مسیحی فرقہ ہے۔ ہم سبھی وہاں جایا کرتے تھے۔ میرے والد اپنے دور کے ایک مشہوربائیکر تھے۔آپ جانتے ہیں نا؟ بڑی داڑھی، ٹیٹوز ۔ لہذا، جب آپ لوگوں سے ملتے ہیں آپ انہیں جاننے لگتے ہیں۔ تو جان پہچان کے باعث ایک بار ہم وہاں گئے۔ اور میرے لئے ایک موقع تھا کہ میں بچوں کی طرح سوٹ اور چھوٹا ٹائی پہن کر تیار ہوں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہی واحد موقع تھا جب ہم چرچ گئے اور اس لیے نہیں کہ ہم بطور خاندان خدا کی تلاش میں تھے بلکہ اس وجہ سے کہ کرنے کو کچھ اور نہیں تھا۔ میں نے اسلام کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا ۔ میں نے ہائی اسکول تک مسلمانوں کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔ 9/11 کا واقعہ پہلا موقع تھا کہ جب میں نے مسلمانوں کے بارے میں سنا۔ اور میرے پورے ہائی اسکول کے دور میں مشرقِ وسطیٰ میں ”وار آن ٹیرر“ جاری رہی اور یہی میرے لیے اسلام کا بنیادی تعارف تھا۔ میں کہوں گا کہ اسلام کے بارے میں وہ میرے تصورات کا واحد ذریعہ تھا۔ جب آپ ایسے ماحول میں بڑے ہوتے ہیں تو آپ کو بہت سے تعصبات نسل پرستی اور اس طرح کی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد سے، ایک طویل سفر کا آغاز ہوا، جو تلاش، دنیا کے سفر اور ادیان کو سمجھنے کا سفر تھا۔ اور پھر بیس کی دہائی کے اوائل میں،میں نے درحقیقت اسلام کو دریافت کیا۔ ہائی اسکول کے ابتدائی سالوں میں تقریباً 2003 کے آس پاس سخت منشیات نے ہمارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ میری زندگی میں بے شمار واقعات ہیں جہاں پر لوگ منشیات کی وجہ سے مر گئے کچھ لوگ چاقو سے قتل ہوئے، کچھ جیل چلے گئے اور بہت سی ایسی تباہ کن چیزیں ہوئیں۔ جب میں 17 سال کا تھا تو وینکوور میں کام کرنے گیا۔ اور ایک جمعہ کی رات میں وینکوور کے ایسٹ سائیڈ گیا، اور میں حیران رہ گیا کیونکہ میرے خیال میں شاید وہ دنیا کا ہیروئن کا دارالحکومت ہے، وہ ہیسٹنگز اور مین کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے، جو وینکوور میں واقع ہے۔ میرے بہت سے دوست منشیات کے اوور ڈوز سے مر گئے، ان کی زندگیاں برباد ہو گئیں۔ میرے ایک دوست کے بارے میں مجھے کچھ سال پہلے پتہ چلا کیونکہ میں وہاں سے شفٹ ہو گیا تھا کہ وہ نشے کی حالت میں نہا رہا تھا اور باتھ ٹب میں ڈوب کر مر گیا۔ جوان ہوتا بچہ، میرا مطلب ہے کہ،شاید مجھ سے صرف دو سال بڑا تھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے آپ کو بتایامیرے ایک قریبی دوست نے جو بار بار جیل جاتا رہا، اس نے کسی کو قتل کر دیا۔ اور یہ کوئی انوکھی باتیں نہیں ہیں بد قسمتی سے۔ میرے بہنوئی نے بھی خودکشی کر لی۔ اپنی بہن کو کھو دیا فینٹانائل کے اوور ڈوز کے سبب۔ چند سال پہلے ہی -آپ کی بہن ؟ میری بہن ہاں ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ویسے شاید خدا کے وجود پر سوال نہ اٹھائیں لیکن جب آپ اردگرد دیکھتے ہیں تو ضرور سوال کرتے ہیں۔ جیسے میں آپ کو بتاوں مجھے ایک واقعہ یاد ہےان کا سالانہ بیس بال ٹورنامنٹ ہوتا تھا اور کیمپ گراؤنڈ میں بڑی پارٹی ہوتی تھی سب شراب پی رہے ہوتے تھے۔ اور ایک رات، میں ایک گروپ کے ساتھ آیا ۔ ہم لوگ گھوم رہے تھے، ،دوسرے لوگوں کے ساتھ مزے کر رہے تھے اور پھر میرا دوست آیا، جو خون میں لت پت تھا۔ اسے کئی جگہوں پر چاقو مارا گیا تھا۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اور میں شاک تھا یہ کیا ہو رہا ہے؟" دوسرے دوست کے پاس گیا،اسے بھی اسی طرح زخمی کیا گیا تھا۔ ایسی چیزیں دیکھ کر بہت مشکل ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ “اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔” تو مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ اور میری کہانی کا انجام آخر کیا ہوگا؟ تو یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے شادی کرنی ہے۔ میں نہیں جانتا کیسے، کس سے،اور کہاں، لیکن مجھے خود کو اپنے لئے بدلنا ہوگا ۔ میرےیہ فیصلہ کرتے ہی میں نے اپنی تمام بری عادتیں فوراً چھوڑ دیں اور اس پوری زندگی سے میں کنارہ کش ہو گیا۔ اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ یہ اس وقت شروع ہوا جب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے شادی کرنی ہے اور اپنی زندگی بدلنی ہےاور میں ایک نئے شہر منتقل ہو گیا۔ میں ان دنوں نوکری تلاش کر رہا تھا اور میں ایک فیوچر شاپ کے پاس سے گزرا جو الیکٹرنکس سٹور تھا۔ تو میں نے سوچا"جو بھی ہو، کوشش کر تےہیں۔" اور بالآخر، تین مہینے بعد مجھے سیزنل ملازم کے طور پر رکھ لیا گیا اور وہیں میری ملاقات میری بیوی سے ہوئی ۔ اور وہ پہلی مسلمان تھی جس سے میں کبھی ملا تھا۔ اس سے ملنا تھا پھر اس نے میری پوری سمجھ بوجھ کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ گفتگو کا آغاز یوں ہوا کہ اس نے کہا: “میں مسلمان ہوں۔” میں نے کہا، اچھا ”وہ کیا ہوتا ہے؟“ اور اس نے پھر مجھے کچھ مختلف باتیں بتائیں۔ اور میں نے کہا: ”لیکن میں تو ان لوگوں کو ایسا ایسا سمجھتا ہوں۔” اس نے کہا نہیں نہیں، آپ کا خیال بالکل غلط ہے ۔ اور یہی وہ مقام تھا جہاں اسلام کے بارے میں میرے تصورات اور ایک حقیقی مسلمان کے درمیان پہلا تصادم ہوا۔ اس کے والد اُس شہر میں مسلم ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے جہاں میں منتقل ہوا تھا ۔ اور یہی چیز میرے لیے محرّک بنی کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں خود کو جاہل شخص سمجھوں یا جب آپ میرے سامنے حقائق رکھیں اور میں ان سے انکار کروں، حالانکہ وہ حقیقت پر مبنی ہوں۔ لہٰذا، یہ وہ چیز تھی جس نے ابتدا میں میرے سفر کو جنم دیا یعنی اُس مغربی میڈیا کی پروپیگنڈا کو سمجھنے کی کوشش جو 2001 سے مجھے مسلسل ذہنی طور پر متاثر اور مسخ کرتی آ رہی تھی۔ تو یہ دراصل کئی برسوں تک جاری رہنے والی مسلسل ذہنی یلغار تھی اور اس میں اُس وقت فلسطین، عراق اور افغانستان میں جو کچھ ہو رہا تھا، اور مجموعی طور پر جو حالات تھے، وہ سب شامل تھے۔ اور یوں معاملہ یہ تھا کہ میں یہ سب مانتا چلا آ رہا تھایا کم از کم مجھے یہی بتایا گیا تھا، یہی سکھایا گیا تھا اور اسی سوچ کے ساتھ مجھے ذہنی طور پر ڈھالا گیا تھااور اب ایک ایسا شخص، جسے خود اس کا تجربہ تھامجھے بتا رہا تھا کہ میں غلط ہوں۔ تو یہی وہ مقام تھا جہاں سے سفر شروع ہوا۔ اس ابتدائی گفتگو کے دوران ہم نے تین گھنٹے تک بات کی ۔ میں اس بات سے بہت متاثر تھا کہ وہ کبھی کسی پارٹی میں نہیں گئی تھی اس نے کبھی سگریٹ نہیں پی ،کبھی شراب نہیں پی تھی، اس کا کبھی کوئی بوائے فرینڈ نہیں رہا تھا ۔ یعنی یہ ساری باتیں یہ سارے تصورات میرے لیے بہت اجنبی تھے۔ میں نے کہا، "یہ کیسے ممکن ہے ؟" اس نے کہاکہ ، "یہ میرا ایمان ہے۔" “اسی طرح میری پرورش ہوئی ہے یہی میری ثقافت اور میرا ایمان ہے۔” یعنی کہ مسلم کلچر اور مسلم عقیدہ ۔ اور میں اس سے بہت متاثر ہوا ۔ یعنی، میں یہ سب اپنی انکھوں سےدیکھ رہا تھا بس یہی وہ لمحہ تھا، جب میں نے سوچا “بس یہی ہے۔ بس یہی وہ لڑکی ہے۔” بس جو ہے یہی ہے ۔ اُسی رات جب ہمارے درمیان یہ بات چیت ہوئی اور جب میں نے اس میں گہرائی سے دیکھنا شروع کیا، تو سب کچھ الجھا سا محسوس ہوا، سمجھنے کی کوشش میں پیچیدگی بڑھتی چلی گئی یہ بہت مشکل تھا۔ اور مجھے ایک ڈی وی ڈی مِلی پتا نہیں آپ ان سے واقف ہیں یا نہیں یہ شیخ خالد یاسین کی تھی، جو امریکہ سے ہیں "The Purpose of Life" اس لیکچر نے میری زندگی بدل دی ۔ میں نے اسے بار بار سنا، اور میں بہت ہی حیران تھا کہ جیسا کہ میں نے مختصراً ذکر کیاان تمام مسائل کے حل کے لیے جوابات دے رہے تھے وہ مسائل کے حل کیلئے ایک روڈمیپ فراہم کر رہے تھے جن کے متعلق ہم یہاں مغرب میں شکایت کرتے ہیں کہ ان کا کوئی بھی حل موجود نہیں۔ اوروہ سب کا مکمل حل پیش کر رہے تھے۔ لیکن شروع میں، انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی اور وہ یہ تھی کہ اس کی مثال ایک گلاس پانی کی طرح ہے۔ آپ کا دل ایک برتن کی مانند ہے جیسے ایک گلاس پانی۔ اگر آپ اس گلاس کو الٹا کر دیں تو آپ اس پر جتنا مرضی پانی ڈالتے رہیں آپ اسے بھر نہیں سکتے۔ لیکن ایک بار، ایک بار جب آپ اسے سیدھا کر لیں تو پھر اسے بھر سکتے ہیں ۔ وہ کون سی بات تھی جس نے آپ کو یہ کہنے پر آمادہ کیا کہ ٹھیک ہے، میں مسلمان ہو رہا ہوں۔ بس، میں ابھی یہ قدم اٹھا رہا ہو؟ تو کس چیز نے آپ کو حتمی قدم اٹھانے پر آمادہ کیا ؟ میرے خیال میں، یہ احساس کہ یہ مقدس کتاب غیر تبدیل شدہ ہے ۔ اور اس میں تمام سوالات کے جوابات ہیں۔ یاد ہے میں نے کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر خدا واقعی موجود ہے تو وہ ہمیں بغیر راہنمائی کے نہیں چھوڑے گا۔ اور یہ ایسا تھا کہ جب مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ قرآن ایک غیر تبدیل شدہ کتاب ہے پھر مجھے اس چیز نے بے حد متاثر کیا کہ دوسری مذہبی کتابیں۔۔۔ میں نے مختلف مذاہب کی کچھ کتب کا مطالعہ کیا ہے اور جب آپ خود قرآن پر غور کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ باقی سب کو رَد کر دو۔ اس سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اسے ایک دن میں لفظ بہ لفظ، بالکل اسی طرح دوبارہ تیار کروا سکتے ہیں، جیسا کہ وہ چودہ سو سال پہلے تھا۔ زبانی روایت کے ذریعے۔ یہ ایک اہم یہ میرے لئے واقعی ایک اہم عنصر تھا ۔ اور پھر میری کیفیت یہ تھی کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اسلام قبول کرنے کا لمحہ کیسا تھا ؟ آپ کو کیسا لگا؟ یہ بہت دباؤ والی صورتحال تھی۔ تو جب ان بھائیوں نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے کہا۔۔۔ دراصل ہم اندر داخل ہوئے اور وہاں تقریباًً 30 افراد تھے ۔ تو میں وہاں بیٹھا ہوں اور میں ایک 22، 23 سالہ نوجوان ہوں ۔ تو ایسا تھا کہ 30 افراد اردگرد بیٹھے ایسے۔۔۔ مجھے دیکھ رہے تھے ۔ میں نے سوچا "یہ تو عجیب ہے ۔"اور امام صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ " آپ کے کوئی سوالات ہیں، جس میں ہم آپ کی مدد کر سکیں ؟" اور یہ سب دیکھ کر میں نے کہا "میرے بہت سے سوالات ہیں ۔" میں نے کہا، لیکن میں جانتا ہوں کہ” میں اسی کے لیے بنا ہوں اور مجھے یہ کرنا ہی ہے۔“ اور میں نے وہیں کلمہ شہادت پڑھ لیا، میرے ہونے والے سسر میرے ہونے والے سالے اور میری مستقبل کی کمیونٹی، جس کے بعدسامنے مجھے کھڑا ہو کر نماز کی امامت کا موقع بھی ملا۔ یہ جذباتی لمحہ تھا ۔ جیسے میرے دماغ میں بہت سی چیزیں گردش کر رہی ہوں، رائٹ؟ مثلاً میرے خاندان کے لوگ کیا سوچیں گے ؟ ایک ملحدانہ رویہ جو مذہب سے نفرت کرتا تھا اور ذہنوں کو اپنی سوچ میں ڈھالتا تھا، مجھ سے بھی بدتر۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایمانداری سے جیسے جیسے آپ دیکھتے ہیں، جانتے ہیں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلم کی جدوجہد، جن حالات کا سامنا آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں کیا۔ ہم سب جدوجہد کرتے ہیں ۔ مشکلات اور امتحانات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر چند سال ایسے گزرے جن میں میں ایک نئے مسلمان کے طور پر مشکلات کا سامنا کرتا رہا کوئی ماحول موجود نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایک بھائی وہی جس کی اذان سن کر میں آنسو بہانے پر مجبور ہو گیا تھا ۔ اس نے مجھے تین دن کیلئے اپنے ساتھ جماعت میں جانے کی دعوت دی ۔ اور یوں میں نے حقیقتاً یہ موقع پایا کہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر عمل کر سکوں، سوالات پوچھ سکوں، اور درست طریقے سے نماز پڑھنے اور دیگر اعمال کرنے کا طریقہ سیکھ سکوں۔ اور اسی مقام سے میرا سفر شروع ہوا ۔ اور پھر اس کے بعد، میں نے خود پر محنت کرنا اور دین سیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں گھرواپس آیا، وہاں پھر چار ماہ لگائے اور پھر میں 3-4 سال کیلئے مسجد میں امام بن گیا۔ لیکچر دینے لگا، یونئو،چرچ کے لوگ آتے تھے، اسکول بورڈ کے لوگ آتے تھے، اور جمعہ کے خطبات اور دیگر چیزیں۔ اور پھر حقیقتاً یہ سب دل میں اترنے لگا، یہ واقعی حیرت انگیز تھا۔ اب اسی کہانی پر واپس چلتے ہیں۔ آپ کی ہونے والی بیوی وہ سب کیسے ہوا؟ بلآ خر آپ کی شادی کیسےہوئی ؟ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ جی، جی ۔ تو، سبحان اللہ ۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا ؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا ۔ کیونکہ Towards Eternityایک غیر منافع بخش تنظیم ہے ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیو بنا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں عطیہ کریں اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نا جانیں دیں ۔ اب اسی کہانی پر واپس چلتے ہیں۔آپ کی ہونے والی بیوی وہ سب کیسے ہوا؟ بلآ خر آپ کی شادی کیسے ہوئی ؟ اس بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں ؟ جی، جی ۔ تو، سبحان اللہ ۔ چلیں واپس چلتے ہیں۔ تو میں پہلی باراس عمارت میں داخل ہوا جو ٹریننگ کے لیے تھی۔ اس سے ملاقات سے تین ماہ پہلے، میں نے اسے دیکھا۔ اور میں نےکہا "واو، وہ بہت خوبصورت ہے ۔" ٹھیک ؟ اور لیکن میں نے تین ماہ تک اس سے بات نہیں کی پھر جب ہم نے گفتگو کی، تو ایک اپنایت والاتعلق محسوس ہوا، اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک ساتھ کام کریں گے اور بات چیت کریں گے ۔ جس رات ہم ملے تو میں نے اسے بتایا ، شاید پہلےبتا چکاہوں معاف کرنا، کوئی بات نہیں دوبارہ بتائیں اس نے کہا کہ ایک مسلمان کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ ہر چیز کا ہونے کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ یہ خدا کے منصوبے کے تحت ہوتا ہے ۔ اس نے کہا کہ، "مجھے تجسس ہے ہمارے ملنے کی کیا وجہ ہے" "میں سوچ رہی تھی کہ اس کا مقصد ہوگا۔ میں نے کہا، " شادی کرنا مقصد ہے، اور ہمیں بچے پیدا کرنے ہیں بس۔" میں ذرا منہ پھٹ تھا ۔ میں نے تھوڑی پہل کی۔ - پہلی ہی ملاقات میں ؟ - ہاں،ہاں بالکل ۔ پہلی بار جب میں نے اس سے بات کی ۔ وہ ہنس پڑی اور کہنے لگی "واہ، یہ عجیب ہے ۔" اور ہاں،تو وہ بھائی جس نے اذان دی تھی، جس کی وجہ سے میرے آنسو بہ گئے تھے، وہ درحقیقت اس کی فیملی کا، اس کے والدین کا جاننے والا تھا، تو وہ میرے سرپرست کی طرح بن گئے ۔ اور انہوں نے میری طرف سے رشتے کی بات کی اور جواب تھا، بالکل نہیں ۔ دوبارہ یہ بات بھی نہ کرنا۔ نہیں۔ - صاف ناں ؟ - صاف ناں ۔ بالکل نہیں!

چنانچہ ہماری اس ملاقات کے بعد سے اس میں پانچ سال لگ گئے یہاں تک کہ میں واپس آیا پاکستان سے ۔ اور پھر ہم دوبارہ گئے اور پھر وہی ہوا وہ میری طرف سے وہاں رشتہ لے کے گئے اور اس بار جواب میں مزید سخت ناں سننے کو مِلی۔ یعنی نہیں دوبارہ یہ رشتہ میرے سامنے لے کر مت آنا۔ بالکل بھی نہیں۔" - یہ کہنے والا کون تھا؟ - میری ساس۔اچھا!

سسر تو پسند کرتے تھے مجھے، کیونکہ وہ میرے پیچھے نماز پڑھتے تھے مسجد میں ۔ اور انہوں نے میرے خطبات، میری تقاریر سنی تھیں۔ وہ مجھ سے واقف تھے۔ مجھے اچھی طرح جانتے تھے رشتے سے کوئی اعتراض نہیں تھا انہیں۔ لیکن جب والدہ نے نہ کہہ دیا تو بات ختم۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ کی ساس کی رائے تبدیل ہوگئی ؟ تو یہی اس کائنات کی خوبصورتی ہے کہ وہ ایک کہاوت ہے کہ کہتے ہیں نا کہ رب کے کام نرالے ہیں ۔تو، یہ بھی ان میں سے ایک تھا ۔ یہ رمضان کا آخری عشرہ تھا ۔ میں مسجد میں اعتکاف کر رہا تھا ۔ اور وہ پورا خاندان نمازِ تراویح کے لیے آیا کرتا تھا۔ اور میں اذان دیا کرتا تھا کیونکہ اس وقت ہمارے پاس ایک امام آئے ہوئے تھے جو حافظ تھے اور تراویح کی امامت کرواتے تھے۔ تو میں اذان دیتا تھااور انہیں وہ بہت پسند آگئی ۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ آوازکس کی ہے لیکن پھر معلوم ہوا کہ وہ میں ہی تھا ۔ جب وہ گھر گئے، اور میری ساس نے میرے سسر سے پوچھا، "یہ لڑکا جو خوبصورت اذان دیتا ہے اور تقریر کرتا ہے، یہ کون ہے ؟" انھوں نے جواب دیا "یہ وہی ہے جسے تم نے ”ناں“ کہا تھا ۔" وہ کہنے لگی، "کیا ؟ واقعی ؟" پھر وہ قرآنِ پاک کی ایک آیت پڑھ رہی تھیں اگر میرا حافظہ میرا ساتھ دے تو وہ یہ تھی۔۔۔ مجھے پوری آیت تو یاد نہیں آ رہی لیکن اس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ لوگوں کو جانچا نہ جائے، بلکہ انہیں موقع دیا جائے تاکہ وہ خود کو ثابت کر سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے یہ پڑھا تو سب کچھ بدل گیا۔ بس اللہ تعالیٰ نے ان کا دل بدل دیا ۔ اور حقیقت یہی ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہمارے دل ہیں۔ اور پھر ایک دن، اچانک غیر متوقع طور پر جب کسی کو اس کی امید نہیں تھی، انہوں نے مجھے ایک خط لکھا ۔ اور اس میں کہا کہ، “مجھے خوشی ہوگی کہ اگر تم میری بیٹی سے شادی کرلو۔ اور میں نے کہا، "کیا ؟" اور عید الاضحی پر ہماری شادی ہوگئی۔ خاندان اوردوسروں کا ردِ عمل کیا تھا آپ کے اسلام قبول کرنے پر ؟ جی ہاں ۔ چنانچہ، جب میں مسلمان ہو گیا میرا ایک بھائی ہے جو اسپیشل پرسن ہے۔ اور دو بڑی بہنیں ہیں، جس میں سے ایک فوت ہو گئی ہے۔ لیکن جب میں مسلمان ہو گیا تو میری بہنوں کا رویہ ایسا تھا کہ ”تم کون ہو؟ اور تم ہم میں سے نہیں ہو۔“ لہٰذا اسی وجہ سے ہمارے درمیان تعلق نہیں رہا تھا۔ ہم ایک دوسرے سے بالکل اجنبی ہوگئے تھے۔ تو میں نے چند سال ایسے گزارے جب وہ میرے گھر آئے تو میں گھر میں جائے نماز بچھا دیتا یا پھر قرآن سامنے رکھ دیتا۔ تو، کچھ عرصے کے بعد اچانک، جیسا میں نے بتایا میں فون پر بات کر رہا تھا مجھے سیاق و سباق تو یاد نہیں البتہ کسی چیز کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ شاید اس بارے میں تھا کہ میں بھول گیا ہوں، شاید میری والدہ کو یاد ہو کہ یہ کرسمس پر نہ آنے کے بارے میں تھی۔ میرا خیال میں یہی بات ہو رہی تھی،پھر میں نے کہا، "میں مسلمان ہو چکا ہوں ۔ اب میں یہ سب نہیں کر سکتا ۔"اور ان کا جواب بہت کلاسک تھا ۔ کہنے لگیں"تمہیں کیا لگتا ہے، ہم بیوقوف ہیں ؟" تو مجھے یوں لگا کہ مشن مکمل ہو گیا، ماں، اگر آپ دیکھ رہی ہیں تو میں کہوں گا کہ، ہماری بات ہو چکی ہے اب آپ کی باری ہے۔ میرے اور میرے والد کے درمیان بھی کچھ بحث ہوئی تھی۔ کچھ بھی ڈراما نہیں تھا۔ لیکن سب سے بڑی بات، جب میں نے اپنا نام تبدیل کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کہا گیا کہ، "تمہاری ہمت کیسے ہوئی ؟" کیونکہ میں آخری بیٹا ہوں، یعنی میں اپنے خاندانی نسب میں آخر میں ہوں ۔ میرا خاندان مجھ پر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر میرا کوئی بیٹا نہ ہو، تو خاندان کا نام جاری نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ پھر محمد ولیم صالح بن گیا ۔ اسلام کی طرف سب سے زیادہ کس چیز نے مائل کیا؟ مجھے اسلام کی طرف سب سے زیادہ، ابتدائی طور پر، وہ مسلمانوں کا اتفاق اور اتحاد تھا۔ جب میں نے اسلام قبول کیا تو وہاں ایسے بھائیوں کا گروپ موجود تھا جو پوری دنیا سے آئے ہوئے تھے۔ اور وہ ہمارے شہر میں موجود تھے، نہایت خوبصورت ماحول تھا۔ میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے،اور وہاں میری بیوی کے والد موجود تھے جو مسجد کمیٹی کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ہی ان سے رابطہ کیا اور پھر مجھے آنے کی دعوت دی ۔ تو میں وہاں چلا گیااور وہ بھائی کہنے لگے "ٹھیک ہے، ہم نماز پڑھنے جا رہے ہیں ۔" پھر اذان کی آواز آنا شروع ہوئی میں مذاق نہیں کر رہا، میرے آنسو بہنا شروع ہوگئے ۔ مجھے اس کی مطلب سمجھ نہیں آ رہا تھا، لیکن یہ سیدھے میرے دل کو لگ رہی تھی۔ وہ نماز پڑھنے کیلئے اکٹھے ہو رہے تھے ۔ وہاں پاکستانی اور افریقی لوگ موجود ہیں اور میں ایک سفید فام شخص کی حیثیت سے بیٹھا ہوں اور یہ مختلف رنگوں اور لوگوں کا ایک دائرہ الگ الگ زبانیں، سب کچھ مختلف۔ اور وہ نماز پڑھنے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اور یہ ایک بنیادی چیز تھی ۔ اور جب میں نے یہ اتحاد دیکھا جو رنگت کی بنیاد پر نہیں تھا، یعنی حقیقت میں، کسی کے ذہن میں سب سے آخر میں جو بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کس رنگ سے ہیں یا آپ کہاں سے ہیں ۔ یہ ایسا اتحاد ہے کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر آپ مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو اس وقت کیا کر رہے ہوتے ؟ آپ کس قسم کی صورتحال میں ہوتے ؟ اُف۔ مر تا یا جیل میں ہوتا ؟ ہاں!

واقعی ایسا ہی ہوتا ۔ بدقسمتی سے جب میں اپنے ماحول میں، اپنے ارد گرد،اور اپنے دوستوں کو،اور اپنی ثقافت کو دیکھتا ہوں، تو اپنے ماحول اور حالات کو دیکھتے ہوئے، جن لوگوں کے ساتھ میں پلا بڑھا تھا مجھے نہیں لگتاکہ میری حالت اچھی ہوتی۔ آپ کو نبی کریم ﷺ کی کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ سبحان اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلم ۔ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے ۔ مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ جب میں انہیں بطور رول ماڈل دیکھتا ہوں زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور مصیبتوں سے کیسے نمٹا جائے۔ چند سال پہلے، ہمارے یہاں حمل ضائع ہو گیا۔ اور میں یہ کہوں گا کہ شایدایک باپ کی حیثیت سے میرے لیے سب سے مشکل چیز تھی۔ گھر آ کر اپنے بچوں کو بتانا تھا کہ ان کا آنے والا بھائی/بہن فوت ہو چکا ہے ۔ اور یہ چیز آج تک میری آنکھوں میں آنسو لے آتی ہے، اور دل کو چیر دیتی ہے۔ میرا اپنا معاملہ نہیں بلکہ ان کا ردِ عمل۔ ٹھیک ہے؟ اور پھر میں ایک ایسی ہستی کو دیکھتا ہوں جنہوں نے اپنی زندگی میں ایک کے سوا تمام بچوں کو کھو دیا ۔ میں ایک ایسے شخص کو دیکھتا ہوں جن کا اپنا خاندان ان کے خلاف ہو گیا، انہوں نے انھیں مارنے کی کوشش کی، ان کا بائیکاٹ کیا، انھیں بھوکا رکھا ۔ آپ کی زندگی میں یہ سب مشکلات پیش آئیں لیکن اس کے باوجود آپ ثابت قدم رہے ۔ اور ساتھ ہی آپ نمازیں ادا کرتے رہے۔ آپ نے رمضان کے روزے رکھے۔ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو برداشت کرناآپ کے بس میں نہ ہو۔ تو ہم بحیثیت والدین، بحیثیت مسلمان، بحیثیت انسان جب ہم آپ کی اس ثابت قدمی کی مثال کو دیکھتے ہیں کہ آپ کا اسلام کے پیغام پر ایمان کس قدر مضبوط تھا۔ اور اس سب کے بعد فتحِ مکہ کے بعد، اپنے گھر واپس لوٹنا، اور یہ کہنا، "یہ رحم کا دن ہے۔ ہم یہاں لڑنے مارنے، کچھ بھی کرنے کے لیے نہیں آئے ہیں ۔ ہم یہاں اس لیے نہیں آئے ۔" تو جب میں آپ کو دیکھتا ہوں، تو مجھے آپ میں ایک مثال دکھائی دیتی ہے جس کی پیروی کرکے سکون حاصل کیا سکتا ہے، جب ہم آپ کو اور پیش آنے والی مشکلات کو دیکھتے ہیں۔ اگر آپ کو پوری غیر مسلم آبادی سے بات کرنے کا موقع ملے اور آپ کے پاس چند لمحے ہوں تو آپ انہیں کیا کہنا چاہیں گے؟ میں یہ کہوں گا کہ جن مسائل سے ہم سب دوچار ہوتے ہیں، اور جو مشکلات ہمیں درپیش ہوتی ہیں،ان سب کے لیے ایک حل موجود ہے۔ اوربدقسمتی سے وہ حل جان بوجھ کر آپ سے چھپایا جا رہا ہے، اُن لوگوں کی طرف سے جو نہیں چاہتے کہ آپ حقیقت کو دریافت کریں۔ اور وہ نہیں چاہتے کہ آپ حقیقت تک پہنچیں کیونکہ اگر آپ وہاں پہنچ گئے۔ تو آپ اُس نظام کے محتاج نہیں رہیں گے جو انہوں نے قائم کیا ہے۔ آپ خود کو آزادکروا لینگے گےجیسا کہ کہتے ہیں، "میٹرکس" سے ۔ تو یوں آپ اپنی سوچ، اور اپنی زندگی کے مقصد کے اعتبار سے خود کو اُس نظام سے آزاد کر لیں گے۔ کہ ہمارا ایک مقصد ہے ۔ اور ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اِن جالوں میں پھنس جائیں، یعنی بس ہم اس تیز چلتی مشین کا حصہ بن کر رہ جائیں جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔ آپ کا مقصد اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے ۔ اور ایک بار جب آپ واقعی اس حقیقت کو قبول کرلیں کہ مجھے عاجز بننا ہوگا، میں مغرور نہیں ہو سکتا، پھر آپ اسلام کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ، ایک سیکنڈ رکیں، یہ تو ان سب مسائل کا حل ہے وہ مسائل جو مجھے درپیش ہیں، نہ صرف وہ مسائل جو مجھےہیں بلکہ ایک معاشی حل بھی ہے ، سیاسی مسائل کے لیے بھی ایک مکمل حل موجود ہے۔ اگر آپ اسے سمجھنے کے لیے وقت نکالیں تو یہی تمام مسائل کا حل ہے ۔
