# Yeh Musalman Shadiyon Ko Tabah Kar Deta Hai – Dair Honay Se Pehly Is Video ko Dekhain

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/expert-marriage-tips-you-need-to-hear-find-your-perfect-spouse
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=h4kBWO37-g0
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

کیا شادی کے لیے محبت میں پڑنا ضروری ہے؟ ہم کیسے سمجھیں گے کہ کون سا شخص ہمارے لیے درست ہے؟ سب سے پہلے تو خود کو سمجھنا ضروری ہے۔ جیسے ہم اکثر لوگوں سے کہتے ہیں، "کیا تم خود سے شادی کرو گے؟" یہی تو سوال ہے۔ مجھے کسی سے محبت ہے اور ہم شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ بری عادتیں ہیں۔ وہ شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا یا ہو جائے گی؟ اگر کسی کا ماضی بری عادتوں سے بھرا ہوا ہو، تو شادی ایسے شخص کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ یہ کوئی سوئچ نہیں ہوتا کہ جیسے ہی شادی ہوئی، ماشاءاللہ، بندہ صالح بن جائے۔ آپ سے ڈیٹنگ یا شادی سے متعلق سب سے عجیب اور دلچسپ سوال کیا پوچھا گیا؟ مطلب ہے، واہ!

السلام علیکم، شیخ یاسر برجاہ۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم آج شادی سے متعلق چند سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ بالکل ضرور۔ ہمیں امید ہے ہمارے سوالات آپ کے پسینے چھڑا دیں گے۔ بسم اللہ، میں تیار ہوں۔ پوچھیئے۔ ٹھیک ہے۔ تو اسلام میں ڈیٹنگ منع ہے۔ یہ تو ہمیں پتہ ہے، لیکن عام طور پر لوگ پوچھتے ہیں کہ میں کسی کو مزید کیسے جان سکتا ہوں؟ مجھے تو کوئی اور طریقہ ہی نہیں سجھائی دیتا۔ اور ویسے بھی، کون گارنٹی دے سکتا ہے کہ جو شخص کسی نے تجویز کیا ہے، وہی میرے لیے سب سے موزوں ہوگا؟ میرا خیال ہے کہ ڈیٹنگ کے بارے میں یہ سب سے بڑی فہمیوں میں سے ایک ہے کہ یہ آپ کو صحیح انتخاب یا کامیاب شادی تک لے جائے گی۔ یہاں امریکہ میں، کم از کم امریکہ میں، لوگ ڈیٹنگ کو طلاق کی پریکٹس کہتے ہیں۔ کیونکہ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ڈیٹنگ یہ گارنٹی نہیں دیتی کہ آپ ایسا شخص چن لیں جو دیرپا تعلق نبھا سکے۔ یعنی جو آپ کے ساتھ لمبے وقت تک چلے۔ اور اب تو یہ ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ زیادہ تر پیسے بنانے کا ذریعہ ہے۔ ڈیٹنگ اور اس کے کلچر سے متعلق بہت سی ویب سائٹس ہیں اور ایسی دیگر بھی۔ اس کی خوب پروموشن ہوتی ہے، لیکن اس سے یہ ہرگز لازم نہیں کہ آپ کو کوئی ایسا ملے جو شادی کے لیے موزوں ہو۔ ورنہ اگر امریکہ میں ڈیٹنگ واقعی کامیاب ہوتی، تو پھر ہم آج بھی لوگوں کی شادی اور شادی قائم رکھنے میں اتنی مشکلات کیوں دیکھ رہے ہوتے؟ کیونکہ یہاں شادی کی شرح بہت کم اور طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے۔ تو اس لحاظ سے، ڈیٹنگ کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آپ کو صحیح شریکِ حیات ہی ملے گا۔ تو پھر کسی کو ڈھونڈنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ سچ پوچھیں تو، چاہے ہم جتنا بھی زور لگا لیں، سب سے بہتر طریقہ اب بھی زبانی سفارش ہے۔ ایسے لوگ جو کسی کو جانتے ہوں اور آپ کو اس سے ملوا دیں، اور آپ دونوں کو آپس میں جوڑ دیں۔ پھر جب وہ کسی کے بارے میں جان لیتے ہیں، تو پھر رسمی ملاقاتیں، سوالات اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ایک دوسرے سے گفتگو اور سمجھنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اور اس طرح، اس طریقے سے ہم وہ شخص ڈھونڈ سکتے ہیں جو آپ کے لیے شادی کے لحاظ سے موزوں ہو۔ آپ سے ڈیٹنگ یا شادی سے متعلق سب سے عجیب اور دلچسپ سوال کیا پوچھا گیا؟ میرا مطلب ہے، واو!

لوگ بہت سی چیزیں تلاش کرتے ہیں۔ سب سے نمایاں بات جو لوگ پوچھتے ہیں وہ یہ ہے کہ انہیں انھیں ایک مکمل انسان چاہیے۔ جب وہ میرے پاس آتے ہیں، تو کہتے ہیں، "کسی کو ڈھونڈنے میں کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟" میں کہتا ہوں، " ضرور۔" میں اکثر لوگوں سے مذاق میں کہتا ہوں، جب وہ آ کر پوچھتے ہیں "کیا آپ بیوی یا لڑکی کی تلاش میں میری مدد کرسکتے ہیں؟" میں کہتا ہوں، "اچھا،کیسی لڑکی چاہیے؟" تو وہ شخص ایک لمبی فہرست دے دیتا ہے۔ بقول ان کے، " انتہائی خوبصورت ہو، دیندار ہو، ایسی ہو، ویسی ہو۔" یعنی وہ خواہشات کی پرفیکٹ لسٹ گنوا دیتے ہیں۔ پھر وہ پوچھتے ہیں، "آپ کا کیا خیال ہے؟" بتایئے میں کہتا ہوں، شاندار۔ اگر آپ کو ایسی مل جائے، تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ میں خود اُس سے شادی کرنا چاہوں گا، کیونکہ ایسی حقیقت میں تو نہیں ہوتیں۔ دیکھیں، کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا۔ آپ کو کوئی انسان مل سکتا ہے جس کا خاندان زبردست ہو، مگر بدقسمتی سے انفرادی شخص کی حیثیت سے شاید وہ آپ کے لیے موزوں نہ ہو۔ کوئی اخلاق کے لحاظ سے ماشاء اللہ بہترین ہو سکتا ہے، ان کے آداب بہت اچھے ہوں گے۔ لیکن تعلیم یا معاشی حالات کے لحاظ سے وہ آپ کے لیے مناسب نہ ہوں۔ تو کوئی بھی کامل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے لوگ ایک خوش فہمی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر انہیں وہ کامل شخص مل جائے، وہ ہم خیال ساتھی، تو ان کی زندگی بہترین ہو جائے گی، لیکن یہ سچ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے، لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ" (سورۃ البلد، آیت 4) جس کا مطلب ہے "یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں (رہنے والا) پیدا کیا ہے۔" اور شادی بھی اگر دیکھا جائے تو دراصل ان آزمائشوں کا ایک حصہ ہے۔ اب اسے خوبصورت بنانا ہے یا بدصورت، یہ آپ پر منحصر ہے۔ تو ہاں، جب لوگ سوال کرتے ہیں تو وہ غیر حقیقی سوالات کرتے ہیں، اور شریک حیات کے لیے غیر حقیقی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ دیکھیں، لوگ، سوال کرتے ہیں۔ اکثر وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہوتے ہیں جسے میں مثالی نمونہ کہتا ہوں، یا آپ کہہ سکتے ہیں سب سے موزوں مثال۔ میں کہتا ہوں کی اگر ڈھونڈنا ہے تو، " کسی کامل انسان کو نہیں، بلکہ صحیح انسان کو ڈھونڈو۔" اور فرق یہ ہے کہ جب بات پرفیکشن کی ہوتی ہے، یہ تجریدی ہے، یہ نظریاتی ہے۔ آپ اسے کاغذ پر پاتے ہیں، جیسے ان کی جیسے ان کی تعلیم کا معیار، ان کی عمر، ان کا وژن، ان کی شخصیت۔ یہ سب کاغذ پر خوبصورت لگتا ہے۔ لیکن جب بات آتی ہے حقیقت میں ساتھ رہنے اور ساتھ ہونے کی، تو یہ مختلف کہانی ہے۔ لہذا، اس لیے کامل شخص کو مت ڈھونڈو، صحیح شخص کو ڈھونڈو۔ کیونکہ صحیح شخص ہی آپ کے لیے پرفیکٹ انسان بن جائے گا۔ تو پھر آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ صحیح شخص کون ہے؟ سب سے پہل تو خود کو سمجھنا ضروری ہے۔ جیسے ہم اکثرلوگوں سے کہتے ہیں، کیا تم خود سے شادی کریں گے؟ یہی تو سوال ہے۔ ہاہاہا، خود سے۔ یعنی اگر آپ اپنے مخالف جنس کواپنے جیسا تصور کر سکیں، تو کیا آپ اس شخص سے شادی کریں گے یا نہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں نہیں، تو پھر آپ کے اندر خود اعتمادی کی کمی ہے۔ آپ اپنے بارے میں یقین نہیں رکھتے۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ جب میں پوچھتا ہوں، "آپ کس خوبی کی تلاش میں ہیں؟" وہ کہتے ہیں، "مجھے مذہبی شخص چاہیے۔" میں کہتا ہوں، "آپ کتنے مذہبی ہیں؟" کسی ایسے شخص سے شادی کریں گے جو آپ سے کم مذہبی ہو، یا اس سے جو آپ سے زیادہ مذہبی ہو؟ وہ ہمیشہ کہتے ہیں، "میں زیادہ مذہبی کی تلاش میں ہوں۔" میں کہتا ہوں، "کیوں؟" "میں چاہتا ہوں مجھے بہتر مسلمان بنانے میں مدد کرے، مجھے بہتر شخص بنائے۔" میں نے کہا، ٹھیک ہے، اگر آپ اس لیول پر ہیں، اور آپ کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو آپ سے بہتر ہو، تو یہ شخص جو آپ سے بہتر ہے، وہ کس کو تلاش کر رہا ہوگا؟ وہ بھی کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہوگا جو اس سے بہتر ہو۔ تواس طرح، آپ کبھی بھی کسی سے شادی نہیں کر پائیں گے کیونکہ آپ اس کی تلاش میں ہیں جو آپ سے بہتر ہو اور آپ کو قبول بھی کرے۔ تو پھر ہم کہتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی ایسے شخص کی تلاش کریں جو تقریبا آپ کے جیسا ہو۔ کوئی ایسا جو آپ جتنا معیار رکھتا ہو، تو آپ دونوں مل کر آگے بڑھیں۔ اگر آپ کسی ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتے ہیں جو اس لیول پر ہو، تو پہلے خود پر کام کریں تاکہ آپ یہاں تک پہنچ سکیں، اور جوسیم لیول پر ہو، اسے متوجہ کر سکیں ۔ یہی بات دیگر معاملات پر بھی لاگو ہوتی ہے، جیسے کہ تعلیم، یا پھر بات خاندان کی ہو اورمعاشی و سماجی حیثیت کی ہو۔ یعنی، ایسے ساتھی کی تلاش کریں جو آپ کے برابر ہو۔ وہی شخص آپ کے لیے صحیح شخص ثابت ہوگا۔ کیونکہ جتنا زیادہ آپ ان معاملات میں ہم آہنگ ہوں گے، اتنا ہی آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ تاکہ توقعات کے فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کم سے کم ہوں۔ کیا شادی کے لیے محبت میں پڑنا ضروری ہے؟ ڈیپنڈ کرتا ہے محبت کو کیسے بیان کرتے ہیں۔ اگر آپ محبت کو ویسے بیان کرتے ہیں جیسے ٹی وی پر دکھاتے ہیں، میں آپ کو بتا دوں، یہ جو اداکار اور اداکارائیں ہیں، وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی محبت بھری زندگی ٹی وی جیسی ہی پرفیکٹ ہو۔ لیکن امریکہ میں ہمارے یہاں جتنے بھی سیلیبریٹیز ہیں، ان کی مثال لے لیں، وہ بار بار شادی کرتے ہیں، بار بار طلاق دیتے ہیں۔ شادی کرتے ہیں،طلاق دیتے ہیں۔ کبھی تو شادی بھی نہیں کرتے، بس یونہی رہتے ہیں۔ تو چاہے وہ آپ کو ٹی وی پر جتنی مرضی محبت کی حسین کہانی کیوں نہ دکھائیں، لیکن ان کی اصل زندگی بدقسمتی سے اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ تو چنانچہ، پھر محبت کا مطلب کیا ہے؟ میرا ماننا ہے کہ کسی بھی رشتے کی کامیابی کے لیے محبت ایک بہت ہی ضروری عنصر ہے۔ لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے۔ ساتھ ہی محبت اللہ تعالیٰ سورۃ روم میں فرماتا ہیں، اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس سے بیویا ں پیدا کیں۔ کیوں؟ کیوں؟ تاکہ تم ان کے ساتھ سکون اور اطمینان پا سکو۔ اور اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت اور رحمت، الفت اور شفقت پیدا کر دی۔ الفت اور شفقت پیدا کر دی۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اللہ سبحان تعالٰی ہمیں بتا رہے ہیں کہ ، "میں تمہیں سکون اور امن کی ضمانت دیتا ہوں، جو کہ ہر کوئی رشتے میں تلاش کرتا ہے۔ اگر تم مجھے محبت اور رحمت دو، اگر آپ ایک دوسرے کے ساتھ محبت و رحمت میں زندگی گزارو۔" تو محبت، کامیاب رشتے کا ایک خاص جزو ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ محبت ہے کیا؟ اگر آپ لوگوں سے پوچھیں، تو محبت کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے۔ محبت ایک سپیکٹرم ہے اور رشتہ میں محبت اپنی شکل تبدیل کرتی رہتی ہے۔ کبھی آپ کسی سے کسی خاص وجہ سے محبت کرتے ہیں، پھر وہ وجہ ختم ہو جاتی ہے اور رشتے میں نئی چیزیں آ جاتی ہیں۔ پھر بچے ہو جاتے ہیں، تو آپ اس لیے محبت کرتے ہیں کہ آپ کے بچوں کے والدین ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ محبت کو صرف ایک جذباتی احساس سمجھتے ہیں، یعنی ایک احساس جو میرے دل میں ہو۔ اور اگر مجھ میں وہ احساس ہے، تو ہم ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگر نہیں،تو سب ختم۔ یعنی رشتہ ہی ختم ہوجانا چاہیے۔ مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ بہت سے رشتے اسیے ہو تے ہیں جو محبت پر نہیں چلتے۔ وہ تو رحم پر قائم ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آیا۔ اس نے کہا، "مجھے لگتا ہے میں اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا۔" تو حضرت عمرؓ نے فرمایا، "کیا تم سمجھتے ہو کہ سارے گھر محبت پر قائم ہیں؟" کیا سارے رشتے صرف محبت سے بنتے ہیں؟ ہاں اکثر اوقات ہمارے درمیان وہ پیشن جو ہے وہ کم ہوجاتا ہے لیکن ہم پھر ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے لیے شفقت ہوتی ہے، کچھ اور اقدار ہوتی ہیں۔ اور اسی لیے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر شادی کرتے ہیں۔ لیکن کبھی انسان شادی تو کر لیتا ہے، مگر یہ جانتا نہیں کہ وہ اس شخص سے محبت کرے گا یا نہیں۔ لیکن سبحان اللہ، اس کے اخلاق اور رویے کی وجہ سے آپ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ کوئی آ کر کہتا ہے، ایک رشتہ ہے جس پر میں غور کر رہا ہوں۔ یہ شخص کچھ شرائط پر پورا اترتا ہے، کچھ پر نہیں۔ دل کا ایک حصہ کہتا ہے، اگر چھوڑ دیا تو شاید بعد میں پچھتاوا ہوگا۔ دوسرا حصہ کہتا ہے، اگر شادی کر لی تو شاید بعد میں پچھتاوا ہو گا۔ یعنی یہ کہ میں درمیان میں پھنسا ہوا ہوں۔ تو ایسے میں کیسے فیصلہ کریں کہ شادی کرنی ہے یا نہیں؟ کتنے فیصد شرائط پوری ہوں تو شادی کر لینا چاہیے؟ یہ تو واقعی مشکل سوال ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی مخصوص فیصد نہیں ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے کہا، یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ آپ شریکِ حیات میں تلاش کیا کر رہے ہیں؟ دیکھیں یہ بات ہم نے نبی کریم ﷺ کی حدیث سے سیکھی ہے، ایک بار نبی کریم ﷺ کسی سفر سے واپس آرہے تھے راستے میں آپ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مدینے کی طرف جلدی جلدی جا رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: "کیا بات ہے جابر؟ اتنی جلدی کس لیے؟" کہنے لگے،"یا رسول اللہ ﷺ، آپ کے ساتھ روانہ ہونے سے پہلے نکاح کر کے آیا تھا اب میں جلدی سے اپنی بیوی کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں۔" "مجھے اس کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع نہیں ملا، اسی لیے جلدی میں ہوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "تم نے کس سے نکاح کیا ہے؟ پنی طرح کسی کنواری لڑکی سے یا کسی بیوہ سے؟" حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، "بیوہ عورت سے۔" تو نبی ﷺ نے فرمایا، "اپنی جیسی کنواری لڑکی سے کیوں نہیں؟" انہوں نے عرض کیا، “یا رسول اللہﷺ، میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، میری سات بہنیں ہیں، اور میں اکلوتا بھائی ہوں۔ سوچا سمجھدار عورت سے نکاح کروں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔ نہ کہ اس سے جس کی خود مجھے دیکھ بھال کرنی پڑے۔" یہ سن کر نبی کریمﷺ نے ان کے انتخاب کی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعا کی۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ حضرت جابر کے لیے سب سے بہترین رشتہ تو وہی ہوتا جو اس کی عمر کا ہو، اور دونوں زندگی کا تجربہ ساتھ حاصل کرتے۔ لیکن ان کے حالات نے انہیں مجبور کیا وہ کسی تجربہ کار خاتون سے شادی کریں جو ان کی بہنوں کی دیکھ بھال میں ان کا ہاتھ بٹا سکے۔ تو ان کے لیے وہی فیصلہ درست تھا، اب، یہ کہنا کہ 50 فیصد، 30 فیصد 20 فیصد، یہ میں نہیں بتا سکتا۔ کیونکہ ہرکسی کے حالات منفرد ہوتے ہیں۔ کسی کے لیے مالی مسئلہ ہوتا ہے، کسی کے لیے خاندانی یا ثقافتی پس منظر اہم ہوتا ہے، رائٹ؟ سب کچھ پرفیکٹ ہے، بس مسئلہ یہ ہے کہ وہ میری ثقافت سے تعلق نہیں رکھتی۔ وہ کسی اور ثقافت سے تعلق رکھتی ہے۔ بعض کے لیے یہ بہت بڑی بات ہوسکتی ہے، ٹھیک ہے؟ حالانکہ یہ مجموعی معیار میں صرف 10 فیصد معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن اکثر وہ 10 فیصد ان کے لیے باقی 90 فیصد سے زیادہ بھاری پڑ جاتا ہے۔ ٹھیک تو پہلی ملاقات ہوگئی، مگر مجھے نہیں پتا کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں کیا مجھے پہلی نظر میں محبت نہیں ہو جانی چاہیے تھی؟ مجھے منفی احساس نہیں ہوا، مگر مجھے کوئی خاص مثبت بھی نہیں لگا۔ اب کیا کروں؟ یہ ہمارے دور کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے خاص طور پر نوجوانوں میں۔ اور صاف بات کریں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آج کے نوجوان ایسی چیزوں سے نبرد آزما ہیں جو کہ پچھلی نسلوں کے پاس نہیں ہوا کرتیں تھیں۔ جسے ہم "کثرت کی ثقافت" کہہ سکتے ہیں۔ یعنی ہر طرف بے شمار آپشنز موجود ہیں، اور جتنے زیادہ آپشن ہو، اتنا ہی کم امکان ہوتا ہے کہ آپ کسی ایک فیصلے سے مطمئن ہوں۔ اسی لیے لوگ الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ بہت زیادہ لوگوں سے ملتے ہیں،اور بہت باتیں کرتے ہیں، اور پھر وہی "جوا کھیلنے" والی سوچ آ جاتی ہے۔ شاید تھوڑا اور انتظار کر لوں۔ شاید اگلا بہتر ہو، شاید یہ، شاید وہ۔ تو جتنا زیادہ آپ دیکھیں گے، اتنا ہی کم اطمینان حاصل ہوگا۔ اور اتنا ہی فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تو میں نوجوانوں سے اکثر کہتا ہوں، بات یہ نہیں کہ آپ کو اس سے محبت ہو جائے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ آپ کو اس کے ساتھ ایک ذہنی سکون محسوس ہو۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ کہ جب میں اس سے بات کرتا ہوں، تو مجھے ایک راحت سی محسوس ہوتی ہے۔ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ پتہ نہیں، شاید ابھی نہیں، مگر۔۔۔ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ پتہ نہیں، شاید ابھی نہیں، مگر میرا مطلب ہے، یہ ایک جاری عمل ہے۔ میں ابھی اتنا جانتا نہیں، میرا مطلب ہے، یہ ایک جاری عمل ہے۔ میں ابھی اتنا جانتا نہیں، لیکن ممکن ہے رشتہ آگے چل کر مضبوط ہو جائے، ہے ناں؟ تو ہاں، یہ بات نہیں کہ اس سے محبت ہوجائے۔ دیوانگی کی حد تک کی محبت۔ یہ سوچ کی بات ہے، کہ آپ اس کے ساتھ کتنا سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ اطمینان ہونا کہ وہ ایک دن وہ میری اولاد کی ماں بنے گی یا وہ میرا شوہر، یا میرے بچوں کا باپ ہوگا۔ اگر آپ اس سطح کے سکون تک پہنچ جائیں تو مشورہ ہے کہ آگے بڑھ جائیں۔ رشتہ طے کرنے سے پہلے کی ملاقات میں کن اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے؟ تو جب، ایک جوان مرد، ایک جوان عورت آپس میں ملنا چاہتے ہیں، وہ نکاح کے لیے اس تعلق کو مزید جانچنا چاہتے ہیں۔ انہیں کن چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے؟ ظاہر ہے کہ دو دائرے ہوتے ہیں۔ بنیادی صفات ہوتی ہیں اور ثانوی یا ضمنی صفات ہوتی ہیں۔ تو بنیادی صفات کا ہم نے ذکر کردیا۔ اب دین اور اخلاق کو دیکھتے ہیں۔ "إذا جاءكم من ترضون دينه و خلقه فزوجوه" یعنی جب کوئی آپ کے پاس آتا ہے تو آپ اس کے ذہنی صفات سے متاثر ہوتے ہیں یعنی ان کا اپنے خالق اللہ سے رشتہ، اور اخلاق، یعنی اللہ کی مخلوق سے ان کا رشتہ ان کے آداب اور اخلاق۔ یعنی یہی دو اہم ترین صفات ہیں۔ یہی بنیادی صفات بھی ہیں۔ آج کل یہ بھی ایک دائرہ ہے، یعنی جب دین کی بات کی جاتی ہے۔ جیسا ہم نے پہلے کہا، اپنے سے کسی بہتر کو مت دیکھیں۔ اپنے جیسے معیار کے انسان کو دیکھیں اور مل کر بہتر انسان بنیں۔ دیگر خصوصیات کی بات کریں تو ظاہر ہے، آپ عمر کے لحاظ سے بھی دیکھتے ہیں خوبصورتی کا فیکٹر، حسب و نسب، ملازمت، تعلیم وغیرہ۔ یہ سب ذاتی ترجیحات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہر شخص، انہیں مختلف ترتیب سے ترجیح دیتا ہے۔ یہ کسی کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں، اور کسی کے لیے ان کی اسطرح سے کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ لیکن سب سے اہم دو چیزیں جن پر غور کرنا ہے، وہ دین اور اخلاق ہیں، اور یہ پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ دوسری چیز، جو ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے، وہ ہے مزاج کی مطابقت۔ یعنی آپ کی شخصیات ایک جیسی ہیں یا نہیں۔ کیا آپ خود میں رہنے والے ہیں یا لوگوں میں گھلنے والے؟ لوگوں کے ساتھ رہنا پسند ہے یا نہیں؟ کیا آپ ایکٹو ہیں؟ آپ کا طرز زندگی ایکٹو ہے، یا مثال کے طور پر آپ کو گھر پر بیٹھ کر کتابیں پڑھنا زیادہ پسند ہے؟ یعنی شخصیت کے پہلو کو اچھی طرح پرکھیں پھر ان کے وژن کو بھی جاننے کی کوشش کریں۔ یعنی شادی آپ کے نزدیک کیسی ہونی چاہیے؟ بطور شوہر یا بیوی آپ اپنا کردار کیسے دیکھتے ہیں؟ مستقبل میں آپ اپنے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اگر آپ کے بچے ہوں تو آپ کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ کیا ہم دونوں ایک ہی سوچ رکھتے ہیں یا مختلف راستوں پر چل رہے ہیں؟ ان سے مالی معاملات کے متعلق بھی سوال کریں، کہ مثلاً ان کے ان کے مالی اہداف کیا اصل میں؟ کیا وہ بجٹ بنانے پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر جتنا دل چاہے وہ خرچ کرنے کے قائل ہیں؟ بنیادی طور پر ان کے وژن، شخصیت، اخلاق اور اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ وہ مشکلات، آزمائشوں، غصے اور دیگر معاملات کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔ امید ہے آپ کو ایسے جوابات ملیں گے جو آپ کو مطمئن کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ ملاقات کے دوران کن اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ مثلاً یہ کہ تنہا ملاقات نہ ہو، وغیرہ۔ اور دیگر اخلاقی رویّے بھی مدنظر رہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو شروع ہی سے تعلق میں برکت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے کچھ نوجوان ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جیسے مخالف جنس کے ساتھ اکیلے باہر جانا۔ ڈیٹنگ کرنا یا راتیں ساتھ گزارنا وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ سب چیزیں ان لوگوں کے لیے جائز نہیں ہیں جو شادی کے خواہش مند ہیں، حتٰی تک نکاح نہ ہو جائے۔ یعنی، عقد مکمل ہو چکا ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ شروع ہی سے خاندان کو شامل کریں۔ جیسے ہی کسی کی دلچسپی ہو، کہہ دیں: "ٹھیک ہے، میرے خاندان سے بات کریں"۔ تاکہ وہ آ کر ان سے مل سکیں، بات کر سکیں، جب، الحمدللہ، دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع مل جائے، تو پھر وہ فون پر بات چیت کر سکتے ہیں یا کم از کم ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے، تاکہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں مزید جان سکیں۔ اگر وہ باہر ملاقات کرنا چاہیں تو خاندان کا کوئی تیسرا فرد ساتھ ہونا چاہیے اگر ممکن ہو، تو یقیناً، تاکہ نکاح تک اکیلے نہ ہوں۔ جتنا ہو سکے اکیلے ہونے سے گریز کریں جب تک نکاح نہ ہو جائے۔ اب، آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ فیصلہ کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے، پہلے یہ کہنے سے پہلے، "یہ وہ ہے" یا "وہ وہ ہے"؟ یہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگتا ہے لیکن شماریاتی طور پر، یہ فیصلہ کرنے میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ جب آپ کسی کو دیکھتے ہیں، آپ کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ، آپ جانتے ہیں، وہ یہی ہے یا یہ وہی ہے۔۔ یا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ اندر سے اس سے خوش نہیں ہیں۔ تو پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ گھنٹوں گھنٹوں تک سوالات کرتے ہیں جسے ہم ذہنی جواز کہتے ہیں۔ اب آپ یہ صرف سوال کر رہے ہیں، اور آپ کا دل اور دماغ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں آپ کا دل آپ سے کہہ رہا ہے کہ یہ اچھا خیال نہیں ہے یا یہ اچھا خیال ہے۔ میں لوگوں سے مذاق کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں، جب آپ کسی چیز کو دکان سے خریدنے جاتے ہیں، کیا آپ اسے جذباتی طور پر خریدتے ہیں یا عقل کی بنیاد پر؟ سب کہتے ہیں، "عقل کی بنیاد پر، کیونکہ مجھے اس کی ضرورت ہے"۔ میں کہتا ہوں، "نہیں، نہیں، نہیں۔ آپ نے یہ کیوں منتخب کیا، یہ نہیں؟" یہاں تک کہ ٹماٹر بھی۔ کیونکہ آپ کو یہ پہلے پسند آیا۔ تو ہم ہمیشہ فیصلے جذباتی بنیاد پر کرتے ہیں۔ مجھے پسند توآگیا لیکن میں باقی سارا وقت خود کو جواز دینے میں گزار دیتا ہوں۔ اس لیے جب آپ کچھ خریدتے ہیں، تو رسید اپنے پاس رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ اپنا ذہن بدلیں، تو آپ دوبارہ واپس جا سکتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ نے پہلی بار اسے منتخب کیا تو وہ اچھا خیال تھا کیونکہ آپ کو پسند آیا تھا۔ لیکن بعد میں جب آپ نے خود سے بات کی، تو آپ کو پتہ چلا کہ یہ بہت مہنگا ہے، تو آپ کو پتہ چلا کہ یہ بہت مہنگا ہے، مجھے نہیں لگتا مجھے اس کی ضرورت ہے، پھر آپ اسے واپس کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بات ریلیشن شپ کے بارے میں بھی ہے۔ آپ کسی کو دیکھتے ہیں، آپ کا دل کسی فیصلے پر لاک ہو جاتا ہے۔ اور اب آپ اپنے آپ کو ذہنی طور پر جواز دے رہے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ 10 بار یا 20 بار بات کرتے ہیں، یا 100 بار یا 1000 بار ملتے ہیں اس سے پہلے کہ آپ فیصلہ کریں۔ حقیقت میں، زیادہ ملاقاتیں اور زیادہ لوگوں سے ملنا شماریاتی طور پر دراصل آپ کی کامیابیوں کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔ کیونکہ جتنا زیادہ آپ دیکھیں گے، اتنا ہی آپ الجھن میں پڑیں گے۔ اور آپ اس جوئے کے کھیل میں پڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ شاید یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ سوچتے ہیں، یہ لڑکا یا لڑکی پرفیکٹ ہے۔ یا شاید مجھے ایک بارکسی اور کو دیکھنا چاہیے۔ شاید یہ، شاید وہ۔ اور پھر ہم،سوچوں میں الجھ کر فیصلہ نہ کر پانے کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپشنز آپ کے سامنے ہوں گے، اتنا کم امکان ہے کہ آپ صحیح یا اچھا فیصلہ کریں گے۔ تو اگر آپ کے جذبات ہاں کہے، لیکن آپ کی عقل کہے نہیں؟ یا اس کے برعکس؟ یہ ہمیں شاید اس نکتے تک لے آتا ہے جو پہلے ہم نے ذکر کیا تھا۔ دراصل یہ ہمیں ایک بہت اہم نکتے تک لے آتا ہے جو سمجھنا ضروری ہے۔ کہ جب لوگ اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، تو صحیح شخص کا انتخاب کر یں، نہ کہ بہترین یا پرفیکٹ شخص کا۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر میرا دل مجھے کہہ رہا ہے کہ یہی وہ لڑکا ہے، یا یہ وہی لڑکی ہے، لیکن میرے حالات مجھے بتا رہے ہیں کہ اچھا خیال نہیں ہے، کیونکہ دیکھو، آپ کی نوکری نہیں ہے یا آپ کواس کا ویزا حاصل کرنے میں مشکل ہوگی یا یہ یا وہ۔ ہر کسی کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ میں دل سے مائل ہوں۔ مجھے یہ شخص پسند ہے۔ اس کا تعلق صحیح حالات سے بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اگر تمہارا دل تمہیں بتا رہا ہے یہی وہ لڑکا ہے اور یہی وہ لڑکی ہے، لیکن تمہارے تمام دلائل یہ بتا رہے ہیں کہ یہ اچھا خیال نہیں ہے۔ تو تمہیں اپنی عقل کی سننی ہوگی کیونکہ ہوسکتا ہے یہ اچھا خیال نہیں ہو۔ ہاں، تم اسے محبت کر سکتے ہو، لیکن تمہارے حالات صحیح نہیں ہیں۔ تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ تمہیں اپنے حالات کو اس طرح بدلنا ہوگا کہ یہ رشتہ جو ہے وہ آگے بڑھ سکے۔ اگر میری عقل مجھے بتا رہی ہے یہ اچھا خیال ہے، لیکن میرا دل نہیں مان رہا، کیا مجھے اس کے ساتھ جانا چاہیے؟ اب یہ پھر سے وہی اصول آجاتا ہے۔ اگر تمہارا حالات صحیح ہیں، تو اس رشتہ کے کامیاب ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، میں اسے پسند نہیں کرتا۔ ٹھیک ہے، لیکن کم از کم، کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ لڑکا یا لڑکی ٹھیک ہیں؟ یعنی کیا آپ کے دل میں اُس کے لیے قبولیت اور رضا کا وہ درجہ موجود ہے؟ اگر موجود ہے، تو امید ہے ٹھیک حالات تمہارے لیے محبت کی آگ کو بھڑکائیں گے۔ یہ بنیادی طور پر وہ نقطہ ہے۔ یہ سب صحیح حالات پر منحصر ہے۔ میرا خاندان اُسے قبول نہیں کررہا جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرا دل اُس ممکنہ شریک حیات سے وابستہ ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے ہم خوش رہیں گے، لیکن میں کسی کے خلاف نہیں جانا چاہتا۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ یہ اچھا خیال نہیں کہ تم اپنے خاندان کے خلاف جاؤ۔ آپ کو خاندان کو راضی کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے یا کم از کم انہیں اعتراض نہ ہو۔ کیونکہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ایک بار شادی ہوجائے گی، تو آپ اور آپ کا شریک حیات ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے۔ مگر وہ وقت آئے گا جب بدقسمتی سے آپ کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہوگا، اور آپ کو اپنے خاندان کی مدد اور خاندان کی مداخلت کی ضرورت ہوگی۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے خاندان کی دعاؤں کے ساتھ اپنے رشتہ کو آگے بڑھائیں۔ البتہ، اگر خاندان کا معیار،مجھے درکار معیار سے بالکل مختلف ہوں تو بات ہے۔ مثلاََ، الحمدللہ، میں ایک پریکٹسنگ مسلمان ہوں۔ میں ایک مذہبی شخص ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی مذہبی ہو، کوئی ایسا شخص جو اسلام پر چلتا ہو، کم از کم تاکہ ہم دونوں اپنے ایمان اور دین میں ایک ساتھ آگے بڑھیں۔ لیکن میرا خاندان، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی صرف امیر ہو، کوئی ایسا ہو جو ہمارے خاندان سے ہو، ہمارے روایات سے، ہماری ثقافت سے۔ تو ہاں، یہ منحصر ہے۔ اگر وہ انتخاب جو وہ تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ تمہارے معیار سے بہت مختلف ہے، دین اور اخلاق، جو کہ ان کا ایمان اور ان کی پریکٹس، آداب اور اخلاق ہیں۔ تو اس صورت میں، ہاں، مجھے اپنے معیار پر قائم رہنا ہوگا۔ اور میں کہوں گا، دیکھو، سنو، اگر آپ مجھے اپنے لیے میرے معیار کے مطابق کسی کو نہیں لانے دے رہے ہو، تو مجھے وہ انتخاب کرنا پڑے گا۔ تو، کسی نہ کسی وقت انہیں فیصلہ کرنا پڑے گا۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کسی کے لیے اچھا خیال ہے کہ وہ اپنے خاندان کی رضامندی اور دعاؤں کے بغیر شادی کرے۔ یہ ان کے رشتے سے برکت چھین لے گا۔ مجھے کسی سے محبت ہے اور ہم شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن اس کی کچھ بری عاداتیں ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ اس سے مستقبل میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، مگر مجھے کوئی اور حل دکھائی نہیں دیتا سوائے اس کی بہتری کی دعا کرنے کے۔ وہ شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا یا ہو جائے گی؟ یعنی، واقعی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس کی عادت کی بات کر رہے ہیں۔ میرا مطلب ہے، اگر کسی کا ماضی بری عادتوں سے بھرا ہوا ہو، تو شادی ایسے شخص کو ٹھیک نہیں کرتی۔ یہ کوئی سوئچ نہیں ہوتا کہ جیسے ہی، شادی ہوئی، ماشاء اللہ، بندہ صالح بن گیا۔ شادی سے باہر آئے، تو دوبارہ غیر صالح ہو گئے۔ یہ ایسےنہیں ہوتا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ شادی کے بعد اگر کوئی آ کر آپ سے وعدہ کرے، "دیکھو، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں، اب میں اس سے چھٹکارا پا چکا ہوں۔" جیسے کہ، مثال کے طور پر، سگریٹ نوشی۔ مثلاً، یہ ایک بری عادت ہے، لڑکی کو سگریٹ نوشی کرنے والا پسند نہیں۔ اور اسے فکر ہے کہ اگر ہم شادی کر لیتے ہیں، تو وہ یہ عادت چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اور وہ کہتا ہے، "نہیں، نہیں، فکر مت کرو، میں واقعی کوشش کر رہا ہوں۔ میں سگریٹ نوشی یا ویپنگ چھوڑ دوں گا، اور ایسا اور ویسا وغیرہ۔" لیکن اس کا کوئی ضمانت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض معاشروں میں، یہ ایک ثقافتی چیز ہے۔ تو وہ جہاں بھی جاتے ہیں، یہ کرتے ہیں۔ اور اگر وہ کہیں بھی جائیں تو اس کے لیے رکنا مشکل ہوجاتا ہے وہ اسی ثقافت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ، شادی کے بعد لوگ اپنی عادات بدل دیں گے اور یہ سب عادتیں چھوڑ دیں گے۔ لیکن اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جو شخص اچھا ہے ہوسکتا ہے، وہ شادی کے بعد بری عادتیں اختیار کرلے۔ تو پھر کیا مجھے اس شخص کو قبول کرنا چاہیے یا نہیں؟ پھر سے اس عادت پر منحصر ہے جس کی ہم بات کررہے ہیں۔ ان میں سے کچھ حرام ہو سکتی ہیں، اس لئے میں کہوں گا نہیں اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ انفرادی طور پر، میں نہیں جانتا کہ وہ شادی کے بعد آپ کے ساتھ کیسے مخلص رہیں گے۔ یعنی، وہ آپ کے لیے اسے چھوڑ دیں گے۔ تو یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آخر اس کی عادت کیا ہے اور وہ کس حد تک اس میں ملوث ہے۔ لیکن عموماً یہ خراب ثابت ہوتا ہے۔ یعنی، عام طور پر وہ نہیں چھوڑتے ایسا کہ عام طور پر لوگوں کے لئے عادات ترک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عادتیں ختم نہیں ہوتی بس انہیں بدلا جاسکتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ مثال کے طور پر یہ بری عادت اپناتے ہیں، تو اس سے آپ کو بچنے کے لئے آپ کو کچھ مختلف کرنا ہوگا۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ، نئی عادت کا وزن پرانی عادت کو دبا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ نئی عادت کو چھوڑ دیں، تو بری عادت دوبارہ باہر آ جاتی ہے۔ اس لئے، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ انسان واقعی اس تبدیلی کے لئے مخلص ہے، چاہے وہ آپ سے شادی شدہ ہو یا نہ ہو۔ تو شیخ یاسر برجاہ کی شادی کیسے ہوئی؟ کیا آپ ہمیں اپنے پراسس کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ دلچسپ ہے یہ میری شادی 26 سال پہلے ہوئی۔ الحمدللہ رب العالمین اور حقیقت میں، یہ بہت ہی سادہ طریقے سے ہوئی ۔ یعنی، ان وقتوں میں ان دنوں میں، بہت سادگی تھی۔ میں اس وقت یورپ میں کام کر رہا تھا اور میں نے اپنی والدہ سے کہا، "امّی، مجھے واپس آنا ہے، اور مجھے بیوی ڈھونڈنی ہے۔ کیا آپ اس میں میری مدد کر سکتی ہیں؟ کیا آپ کی نظر میں کوئی لڑکی ہے؟" وہ بولیں، "ٹھیک ہے، ان شاء اللہ، تم واپس آجاؤ، میں ڈھونڈ دوں گی۔" ہاں دراصل، وہ اس وقت جارڈن میں تھیں۔ میں تب یورپ میں تھا، بوسنیا میں تھا، مین اس وقت وہاں کام کر رہا تھا۔ اور میں نے انہیں بتایا کہ مجھے شادی کرنے کے لیے واپس آنا ہے۔ انہوں نے کہا۔ " جب تم واپس آؤ گے، انشاء اللہ، میں لڑکی دیکھ کر رکھوں گی۔" تو، ٹھیک ہے۔ بسم اللہ۔ تو جب میں واپس آیا، میری والدہ نے تین میرے لیے تین لڑکیاں دیکھ رکھی تھیں۔ اور ہم نے ان سے بات کی۔ اور اللہ کے حکم سے میں نے اپنی بیگم کا انتخاب کیا، الحمد اللہ۔ اور اس میں ہمیں کتنا وقت لگا؟ ایمانداری سے، فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ یہ 10 سے 12 دن کے درمیان ہوا۔ ایک ماہ کے اندر ہماری شادی ہوگئی اور میں نے ان کا ویزا اپلائی کردیا اور ہم ساتھ میں ہی بوسنیا آگئے۔ اب 26 سال ہو گئے ہیں اور ہمارے چار بچے ہیں۔ الحمدللہ۔ اگر آپ ہزار بار دوبارہ اس دنیا میں آئیں، تو کیا آپ ہر بار اپنی بیوی کو چُننے کا یہی طریقہ اختیار کریں گے؟ یا۔۔۔ بالکل۔ میں اسے تبدیل نہیں کروں گا، سچ میں۔ ایمانداری سے، کیونکہ یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ یہ سب سے سادہ طریقہ ہے، میں تو یہی کہوں گا۔ دیکھیں، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کی کامیابی اس پر منحصر ہے کہ آپ کو شادی سے پہلے آپ جس سے شادی کرنے جارہے ہیں اس کو جاننا ضروری ہے۔ خیر، یہ ناکام ثابت ہو چکا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ڈیٹنگ بہت عام ہو چکی ہے لیکن یہ لوگوں کے لیے ناکام ہو رہی ہے۔ آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں نہ کہ صرف ان کے دماغ اور خیالات کو نہیں۔ بڑے احترام کے ساتھ، کبھی کبھار وہ ان کے ساتھ سوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اب کچھ مخفی نہیں۔ اور پھر بھی یہ تعلق کی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ لہذا، جب اور یہی سب سے دلچسپ بات ہے، بلکہ حقیقت میں یہ عجیب تضاد بھی ہے۔ میں بہت ایسے لوگوں کو جانتا ہوں، جو کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتے جسے وہ بہت زیادہ جاہتے ہوں۔ حالانکہ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے اس شخص کو جاننا ضروری ہے، ٹھیک ہے ؟ لیکن کبھی کبھار بہت زیادہ جاننا لوگوں کو ان سے شادی کرنے سے روک دیتا ہے۔ لہذا وہ ایسے شخص سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں جس کے ساتھ انہیں کچھ سرپرائز کا عنصر ہو۔ جیسے یہاں امریکہ میں، مثال کے طور پر، MSA، یعنی مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، جو نوجوان کالج میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر۔۔۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت وقت گزارتے ہیں۔ لیکن جب شادی کی بات آتی ہے، ان میں سے چند ایک ہی ایک دوسرےسے نکاح کریں گے۔ شاید وہ اپنے ملک کے دوسرے حصے سے شادی کرنا پسند کریں گے بجائے اس کے کہ وہ اسی گروپ میں سے کسی سے شادی کریں جس کے ساتھ وہ رضاکارانہ کام کرتے ہیں اور وقت گزارتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا، کیوں نہیں؟ وہ کہتے ہیں، ہم ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ بہت قریبی ہیں۔ ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے ہیں۔ تویہ شادی کے لیے باعث کشش نہیں رہا۔ تو یہ ایسی غلط فہمی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کو شادی سے پہلے شخص کو جاننا ضروری ہے۔ خیر، جتنی ضرورت ہو اتنا جان لیں۔ میرے خیال میں، یہ مناسب بات ہے۔ یعنی مجھے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ انسان اچھا ہے۔ یہ انسان، الحمدللہ، ان کا کا دینی رجحان مناسب ہے۔ اخلاق ماشاءاللہ اچھے ہے، شہرت اچھی ہے۔ یعنی، یہ جاننا کافی ہوگا۔ لیکن کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ یہ شخص ویسا ہی ہوگا جیسا آپ کو بتایا گیا تھا، بالکل کامل اور بے عیب؟ ہم نہیں جانتے۔ میرا مطلب ہے۔ ہمیشہ سرپرائز کا ایک عنصر تو ہوتا ہے۔ وہ مثبت بھی ہو سکتا ہے، منفی بھی۔ یہی ہماری آزمائش ہے۔ اللہ ان لوگوں کے لیے آسانی فرمائے جو ایسی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ ہم نے آپ کی کچھ کوکنگ ویڈیوز بھی دیکھی ہیں۔ کیا یاسر برجاہ گھر کے کچن میں بھی آتے ہیں؟ کیا ایسا خاص کھانا ہے جو آپ بنائیں اور آپ کی اہلیہ ویسا نہ بنا سکتی ہوں؟ جی بلکل میں اکثر کچن میں جاتا ہوں۔ مجھے کھانا پکانا بہت پسند ہے۔ میں آپ کو بتاتا دوں میرا انجینئیرنگ بیک گراؤنڈ ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری انجینئرنگ کی سوچ یہاں بھی کام آتی ہے۔ کیونکہ کھانا پکانا دراصل انجینئرنگ ہی ہے۔ یہ مصالحوں اور ذائقوں وغیرہ کی پرفیکشن پر مبنی ہوتی ہے۔ تو مجھے یہ سب بہت پسند ہے۔ میں کبھی کبھار حصہ لیتا ہوں۔ کچن میں خود بھی چلا جاتا ہوں۔ خاص طور پر جب میری اہلیہ کو میری مدد درکار ہو، یا اگر وہ کسی دن کھانا نہ بنا سکے، یا وہ تھکی ہوئی ہوں یا بیمار ہوں، تب تو ضرور۔ مجھے یہ سب کرنا اچھا لگتا ہے۔ اگر کوئی خاص ڈش ہے جس کے لیے میں مشہور ہوں، تو میرے بچے کہیں گے، "بابا بہت ماہر ہیں ، سوپ اور سلاد میں۔" یعنی بس یہی میری اسپیشیلٹی ہے۔ ویسے تو میں اور بھی کھانے پکاتا ہوں، لیکن بچوں کا کہنا ہے کہ "ابو جو سوپ بناتے ہیں، وہ لاجواب ہوتے ہیں۔" کیونکہ میں مختلف اقسام کے سوپ بناتا ہوں۔ میں اکثر آن لائن ترکیبیں دیکھتا ہوں اورپھر ان میں اپنے اجزاء شامل کرتا ہوں، اور وہ مزیدار بن جاتا ہے۔ سلاد کے ساتھ بھی یہی کرتا ہوں۔ میں سلاد کی بھی مختلف ترکیبیں تلاش کرتا ہوں، البتہ، جب میری اہلیہ کھانا پکاتی ہیں، تو ظاہر ہے اُن کا ہر کھانا میرے کھانے پر بھاری پڑتا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ میرا بھی کچن میں ایک خاص انداز ہے۔ آپ اپنی بیٹی کو اس کی شادی کے موقع پر کیا نصیحت کریں گے؟ میں اسے یہی نصیحت کروں گا کہ شادی دراصل ہونی کیسی چاہیے۔ یعنی اُسے یہ سمجھنا چاہیے کہ شادی جو ہے وہ آسان نہیں ہوتی، لیکن اسے خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔ میں کہوں گا کہ شادی ایک تصویر کی مانند ہے، جیسے ایک فن پارہ۔ اور اُس کا فنکار وہ خود ہے۔ دو فنکار ایک جیسے رنگوں سے تصویر بنا رہے ہوں، اُن کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ تصویر خوبصورت بن سکے۔ شادی کے معاملے میں، اصل چیز محبت اور رحمت ہوتی ہے۔ آپ اسے صرف محبت تک محدود نہیں کر سکتے۔ آپ کو اس میں رحم، معافی اور لچک بھی رکھنی ہوگی۔ شادی کی بات کی جائے، تو یہ ایک ازمائش بھی ہے، یعنی کہ یہ دنیاوی زندگی کا حصہ ہے۔ آپ کو اس رشتے میں ہر وہ چیز نہیں ملے گی جو آپ چاہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو ناپسند ہوں گی، اور کچھ آپ کو بہت پسند آئیں گی، الحمدللہ۔ تو کُل ملا کر، یہ ایک سفر ہے۔ اور آپ کو اس سفر کے اتار چڑھاؤ کو قبول کرنا ہوگا۔ اور آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کی شادی خوبصورت تھی؟ شاید 40 یا 50 سال بعد جب آپ مڑ کر دیکھیں گے، تو کہیں گے، " کیا شاندار سفر تھا!" لیکن اس دوران، آپ صرف انہی لمحوں پر توجہ دیں گے جو مشکل ہوں گے، جن میں آزمائش ہو گی۔ شیخ یاسر برجاہ، آپ کے جوابات کا بہت شکریہ۔ ہم نے آپ سے بہت کچھ سیکھا۔ اللہ آپ کو اُمت کے لیے کی گئی کاوشوں کا بہترین اجر دے۔ جزاک اللہ خیر۔ بارک اللہ۔ مجھے مدعو کرنےکے لیے بہت شکریہ۔
