# Jannat Aur Jahannam Mein Pehle 24 Ghante | AI Se Tasveer Bana Hua Qayamat Ka Din Series - Ep. 4

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/first-24-hours-in-jannah-jahannam-ai-visualized-day-of-judgment-series-ep-4
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=QOMr52InQ9g
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

اب فیصلہ ہو چکا ہے۔ خدا کی عدالت مکمل ہو چکی ہے، اور ہر شخص کا آخری مقام طے ہو چکا ہے۔ کھربوں لوگ اب دو گروپس میں تقسیم ہو چکے ہیں: کچھ جنت کے لیے اور کچھ جہنم کے لیے۔ جو لوگ جنت کے دروازے پر انتظار کر رہے ہیں وہ ناقابلِ بیان حد تک خوش ہیں۔ جوش و جذبے سے بھرپور، وہ اپنے آخری گھر میں داخلے کے منتظر ہیں۔ اور آخرکار، جنت کے دروازے اُن کے لیے کھول دیے جاتے ہیں ایک ایک کرکے ۔ اُنہیں اتنا سکون محسوس ہوتا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا، جیسے اُن کے کاندھوں سے سارے بوجھ اتار دیے گئے ہوں۔ پھر اچانک، روشنی ظاہر ہوتی ہے، جس سے آس پاس کی ہر چیز روشن ہو جاتی ہے۔ اور جنت کے فرشتوں کی آواز سنائی دیتی ہے: ’’سلام ہو آپ پر۔ اب اِس جنت میں ہمیشہ کے لیے رہنے آ جائیے۔‘‘ چمکتے چہروں والے مومنین ہمیشہ باقی رہنے والی خوشیوں کی طرف قدم بہ قدم چلتے ہیں۔ اُس لمحے، ہر مشکل، ہر آزمائش جو اُنہوں نے دنیا میں سہی تھی اپنے معانی پا لیتی ہے۔ صبر کا بدلہ اب نہ ختم ہونے والی نعمتوں کی صورت میں مل چکا ہے۔ اب، نہ تو کوئی تھکاوٹ ہوگی، نہ موت، اور نہ کوئی آنسو۔ ایک طرف، جہاں خوشیاں ہیں، تو وہیں دوسری طرف، درد اور اذیت سے بھرپور پچھتاوا ہے۔ جہنم اب بھرنا شروع ہو چکی ہے، اور غم و اذیت کی ماری چیخیں اِس کی گہرائیوں میں گونج رہی ہیں۔ تو، اصل میں جنت اور جہنم کیسی ہیں ؟ کیا جنت ہماری دنیا کی طرح دِکھتی ہے؟ کیا وہاں بھی گرمی اور سردی، رات اور دن آتے ہیں؟ کیا وہاں ہمیشہ رہنا بور نہیں کر دے گا؟ اور جنت میں جانے والے آخری شخص کا کیا قصہ ہے؟ اُس کی حالت کیا ہوگی؟ آئیے ایسی بہت سی چیزوں کا جائزہ لے کر تفصیل سے جانتے ہیں کہ دونوں جانب ہمیں کیا کچھ ملنے والا ہے۔ ایک حدیثِ قدسی کے مطابق، ہمارا رب فرماتا ہے، ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی نے سنیں، اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا ہے۔‘‘ لہٰذا جنت اِس سے کہیں زیادہ بڑی اور کہیں زیادہ خوبصورت ہوگی جو آپ اِس ویڈیو میں دیکھیں گے۔ جو ہم آپ کو دِکھائیں گے وہ صرف ایک مثال کے لیے ہیں، تاکہ آپ کو حقیقی چیزوں کا تصور مل سکے۔ اور ظاہر ہے، جہنم کے لیے بھی ایسا ہی ہے۔ ایک طرف، رونے چیخنے کی آوازیں ہیں، تو دوسری طرف کِھکِھلاتی ہوئی مسکراہٹیں۔ ظالموں کو اپنے ظلم کا نتیجہ مل جائے گا، جبکہ مظلوموں کو اُن کے صبر کا بدلہ دیا جائے گا۔ جنت والوں کے لیے، اب ساری مشکلات، تکلیفیں، اور ذہنی تناؤ ختم ہو چکا ہے۔ نہ تو اب تنہائی ہے اور نہ ہی آنسو۔ قرآن میں، جنت کو اتنی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اپ خواہش کریں گے کہ اپ جلد از جلد وہاں پہنچ جائیں۔ ’’اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ اور اِس میں تم ہمیشہ رہو گے۔‘‘ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا، ’’تم ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہیں ہوگے۔ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی۔ تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہیں ہوگے۔ تم ہمیشہ راحت میں رہو گے اور کبھی محتاج نہیں ہوگے۔‘‘ جنت میں، انسان کی عمر ہمیشہ 33 سال رہے گی، جو طاقت اور خوبصورتی کا عروج ہوتا ہے۔ جب میاں بیوی جنت میں ایک ساتھ داخل ہوں گے، تو اُن کی ازدواجی زندگی ہمیشہ خوش و خرّم رہے گی۔ اور اِس دنیا میں جن کی شادی نہیں ہوئی ہوگی وہ جس سے چاہیں گے شادی کر سکیں گے۔ نبی کریمﷺ نے جنت کا تذکرہ اِن الفاظ میں فرمایا ہے: ’’جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی، اور اِس کا گارا خالص مُشک ہے۔ اِس کی کنکریاں ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں، اور اِس کی مٹی زعفران ہے۔ جو اِس میں داخل ہوگا ہمیشہ خوش رہے گا اور بدحال نہیں ہوگا۔ وہاں ہمیشہ رہے گا اور فوت نہیں ہوگا۔ اُس کے کپڑے کبھی بوسیدہ نہیں ہوں گے، اور اُس کی جوانی ہمیشہ قائم رہے گی۔‘‘ اور ایک بڑی دلچسپ بات یہ کہ فطرت کے قوانین اور اِس دنیا کے سبب اور اثر کے تعلقات وہاں لاگو نہیں ہوں گے۔ یعنی جو آپ چاہیں گے وہ فوراً ہو جائے گا۔ پھل کھانے کے لیے، آپ کو بیج بو کر انتظار کرنا یا کہیں جا کر لانا نہیں پڑے گا، کیونکہ جنت میں، کسی عمل یا مرحلے سے نہیں گزرنا ہوگا۔ جو آپ چاہیں گے اللہ اُسے براہِ راست پیدا فرما دے گا۔ جب آپ کسی درخت سے پھل توڑیں گے، تو فوراً اُس کی جگہ دوسرا پیدا ہو جائے گا۔ درخت سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا۔ جو گوشت کھانے کا دل چاہے گا، وہ پکا پکایا آپ کے سامنے فوراً آ جائے گا۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ آپ نے اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک کتنی قسم کے کھانے کھائے ہیں؟ اِس زندگی میں، ہم پوری دنیا کے ذائقوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہی چکھ سکتے ہیں، اور یہ چھوٹا سا حصہ بھی ہمیں انتہائی لذت انگیز لگتا ہے۔ گویا ہم اپنی پوری زندگی سمندر سے ایک گلاس پانی کا بھر کر گزار لیتے ہیں اور پھر بھی خوش ہوتے ہیں۔ مثلاً، ٹماٹر کا اپنا ذائقہ ہے، انڈے کا اپنا ذائقہ ہے، اور مرچی کا اپنا ذائقہ ہے، لیکن جب ان کو مکس کر دیں، تو آپ کو ایک نیا ذائقہ ملتا ہے۔ اب تک، شاید ہم نے دنیا کے کھانوں کا 1 فیصد بھی نہیں چکھا ہے۔ اور جنت کے ذائقوں کے مقابلے میں، یہ اُس کا دس لاکھواں حصہ بھی نہیں ہیں۔ ایک اور نعمت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جنت میں، ہمارے دِلوں میں کوئی نفرت، غصہ یا حسد نہیں ہوگا۔ تمام منفی اور تکلیف دہ احساسات ہم سے دور کر دیے جائیں گے۔ ہر کوئی بھائیوں اور بہنوں کی طرح خوشی خوشی رہے گا۔ اللہ اِسے قرآن میں یوں بیان فرماتا ہے: ’’اُن کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اُسے ہم نکال پھینکیں گے۔ وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔‘‘ اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’اُن کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہو جائیں گے، جن میں نہ کوئی اختلاف ہوگا نہ نفرت اور کدورت۔‘‘ اہلِ جنت، دوستوں اور بھائیوں کی طرح، اِس دنیا میں اپنی یادوں کے بارے میں باتیں کریں گے۔ وہ اپنے گزارے اور دیکھے ہوئے لمحات کو دوبارہ دیکھیں گے، جیسے کہ پردے پر کوئی فلم چل رہی ہو۔ وہ تاریخ کے دلچسپ ترین واقعات کے مناظر دیکھ سکیں گے بلکہ وہاں جا بھی سکیں گے۔ اب، جنت کی مزید خوبصورتیاں بیان کرتے ہیں۔ وہاں صاف شفاف پانی کی نہریں، دودھ کی نہریں، شہد کی نہریں، اور ہمارے تصور سے بھی باہر دیگر بہت سی نہریں ہوں گی۔ قرآن میں، اللہ فرماتا ہے، ’’وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، اُس کا حال یہ ہے کہ اُس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اُس کے پھل بھی سدا بہار ہیں، اور اُس کی چھاؤں بھی۔‘‘ ’’اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں جو سراپا لذّت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نِتھرا ہوا ہوگا۔ اور اُن جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور اُن کے پروردگار کی طرف سے مغفرت۔‘‘ مگر یہاں بیان کردہ شراب اِس دنیا کی شراب سے بالکل مختلف ہوگی۔ اِس میں جنت کی خصوصیات ہوں گی۔ یہ پاکیزہ مشروب ہوں گے جو سُرُور اور راحت پیدا کریں گے۔ اِن سے کسی کو نشہ نہیں چڑھے گا۔ اِن تمام فطری خوبصورتیوں کے علاوہ، جنت کی آب و ہوا بھی بالکل معتدل ہوگی۔ اِس دنیا کے برعکس، وہاں نہ تو گرمی ہوگی نہ سردی، بلکہ معتدل آب و ہوا جو ہمیں سب سے زیادہ بھاتی ہے۔ اور جنت میں، رات کبھی نہیں ہوگی۔ وہاں ہمیشہ ایسی روشنی رہے گی جو دِلوں کو خوشی سے بھر دے گی۔ ’’اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے۔‘‘ جنت میں رات نہیں ہوگی۔ وہاں صرف روشنی اور نور ہوگا۔ اور جنت میں نیند نہیں ہوگی۔ اِس دنیا میں، نیند اِس لیے اچھی لگتی ہے کیونکہ یہ تھکاوٹ کو دور کرتی ہے، مگر جنت میں، کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ نہیں ہوگی۔ ’’وہاں کوئی تھکن اُن کے پاس نہیں آئے گی۔‘‘ اِس دنیا میں دلچسپ ترین چیزیں کرتے ہوئے بھی کچھ وقت کے بعد ہم بور ہو جاتے ہیں، رائٹ؟ تو کیا جنت میں بھی ایسا ہوگا؟ بالکل نہیں۔ اللہ، جس نے بوریت کو پیدا کیا ہے، وہ یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ آپ وہاں کبھی بوریت محسوس نہ کریں۔ تو جنت خوشیوں سے بھرپور ایک ہمیشہ کا گھر ہوگا جہاں ہر طرح کا راحت کا سامان ہوگا اور کوئی محتاجی نہیں ہوگی۔ اور اس میں داخل ہونے والے ہمیشہ رہیں گے۔ قرآن اور حدیث سے، ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اِن دروازوں سے داخل ہوں گے۔ ان میں باب الصلاۃ (نماز کا دروازہ)، باب الجہاد (جہاد کا دروازہ)، باب الصدقہ (صدقہ خیرات کا دروازہ)، باب الریّان (روزہ داروں کا دروازہ)، باب الحج (حج کا دروازہ)، باب الکاظمین الغیظ و العافین الناس (معافی کا دروازہ)، باب الایمان (ایمان کا دروازہ)، اور باب الذکر (ذکر کا دروازہ) شامل ہیں۔ اور مومنین اپنے مرتبے اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کے لحاظ سے جنت کے سات درجوں میں سے کسی ایک میں ہوں گے۔ یہ سات درجے الفردوس، عدن، نعیم، دارالخُلد، الماویٰ، دارالسلام، اور علیّون ہیں۔ لہٰذا اگر جنت کے مرتبے اور درجے مختلف ہیں، تو سب سے اونچے درجے میں موجود شخص سب سے نچلے درجے میں موجود شخص کے ساتھ کیسے ہوگا؟ بدیع الزماں نُرسی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک حدیث کے ذریعے اِس کی وضاحت بڑی خوبصورتی سے کی ہے۔ حدیث کے مطابق، ’’ اُنہی کے ساتھ ہوگے جن سے تم محبت کرتے ہو۔‘‘ مثلاً، فرض کریں کہ میری ذائقے کی حِس بہت طاقتور ہے اور آپ کی بہت کمزور ہے۔ ہم ایک خوبصورت جگہ پر ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہیں۔ میری نظر بھی بہت تیز ہے۔ میں دُور تک دیکھ سکتا ہوں مگر آپ اتنی دُور نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہم ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہوئے کھانا کھائیں، تو کون زیادہ لطف اٹھائے گا؟ ظاہر ہے کہ میں، کیونکہ میری نظر زیادہ تیز ہے اور میری ذائقے کی حِس بھی زیادہ طاقتور ہے۔ اِسی طرح، اگر ہم جنت میں اپنے دوست کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوں اور ایک ہی کھانا کھا رہے ہوں، پھر بھی ہمیں حاصل ہونے والا مزہ مختلف ہوگا۔ مگر کوئی بھی اِس کی شکایت نہیں کرے گا۔ ہر کوئی خود کو ملنے والی نعمت پر مکمل خوش ہوگا۔ کوئی بھی اونچا درجہ نہ ملنے پر افسردہ نہیں ہوگا کیونکہ، ہر منفی یا تکلیف دہ احساس اُن کے دِلوں سے دور کر دیا جائے گا۔ اور جنت میں لوگ کس طرح کا لباس پہنیں گے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جنت کا لباس ریشم کا بنا ہوا ہوگا اور بہت خوبصورت ہوگا۔ ’’اُن کے اوپر باریک ریشم کا سبز لباس اور استبرق (ایک قسم کا موٹا ریشم) کے کپڑے ہوں گے۔‘‘ ’’وہاں ان کو سونے کے گہنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور اُن کا لباس وہاں پر ریشم کا ہوگا۔‘‘ اور جنت میں ہماری خوبصورتی کیسی ہوگی؟ ہماری شکل و صورت ایسی ہی ہوگی جیسی دنیا میں تھی۔ جنت میں، اللہ ہر شخص کو ایسی مکمل خوبصورتی اور صورت و شباہت عطا کرے گا جو اُسے سب سے زیادہ پسند ہوگی۔ اور یہ خوبصورتی صرف ایک شکل میں محدود نہیں ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کو اجازت دے گا کہ وہ جب چاہیں صورت و شباہت اختیار کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اہلِ جنت اپنی پسند کے مطابق مختلف انداز کی خوبصورتی کے حامل ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’بے شک، جنت میں، ایک بازار ہے جہاں مردوں اور عورتوں کی شباہت کے علاوہ اور کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوگی۔ تو جس شخص کو بھی کوئی صورت پسند آئے گی وہ اس صورت کا حامل ہو جائے گا۔‘‘ کیا آپ نے داخل ہونے والے آخری جنتی کے بارے میں سنا ہے؟ ہمارے نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا، ’’میں اُس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔ وہ دوزخ سے نکلے گا تو پیٹ کے بل رینگتا ہوا نکلے گا، اور اللہ اُس سے فرمائے گا ’جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‘ وہ جنت میں آئے گا، مگر اُس کو خیال آئے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ لوٹ کر آئے گا اور کہے گا، ’اے میرے رب، میں نے اُس کو بھرا ہوا پایا۔‘ اللہ دوبارہ فرمائے گا، ’جا اور جنت میں داخل ہو جا، تیرے لیے اس میں دنیا کے برابر اور اس کے 10 گنا برابر ہے۔‘ وہ شخص حیرت سے کہے گا، ’تو تو کائنات کا بادشاہ ہے۔ کیا مجھ سے مذاق کر رہا ہے؟ یا مجھ سے ہنسی کر رہا ہے؟‘ ‘‘ اس کو بیان کرنے والے صحابی، عبدللہ ابنِ مسعود فرماتے ہیں، ’’یہ کہتے ہوئے، میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی مبارک ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔‘‘ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جنت والوں میں سے سب سے کمتر درجے میں ہوگا۔ اور اب، ایک بڑا سوال۔ کیا ہم جنت میں اللہ کو دیکھ پائیں گے؟ جی ہاں، ان شاء اللہ، ہماری سب سے بڑی خوشی اللہ کو دیکھنا اور یہ جاننا ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے۔ قرآن اِس نعمت کا تذکرہ اِس طرح کرتا ہے: ’’اُس دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یہ جنت میں سب سے بڑا انعام ہوگا۔ بدیع الزماں نُرسی نے ایک اور تفصیل بیان کی ہے۔ جس (قرآنی تشریح) میں وہ فرماتے ہیں، ’’زمین پر ایک ہزار سالوں کی خوش باش زندگی جنت میں گزارے ہوئے ایک گھنٹے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اور جنت میں گزارے ہوئے ایک ہزار سال اللہ کو دیکھنے کے لیے ایک گھنٹے کے برابر نہیں ہیں۔‘‘ اِس کا موازنہ اپنی موجودہ زندگی سے مت کریں۔ بلکہ، ایسی زندگی کا تصور کریں جو شروع سے آخر تک کسی ایک بھی مشکل کے بغیر خوشیوں سے بھری ہوئی ہو۔ ایسی زندگی کے ایک ہزار سال بھی کس کے برابر نہیں ہیں؟ جنت میں ایک گھنٹے کے۔ اور جنت میں ایک ہزار سالوں کا تصور کریں جہاں تصور سے بھی بڑھ کر نعمتیں ہوں گی مگر وہ اللہ کو دیکھنے کے ایک گھنٹے کے برابر بھی نہیں ہیں۔ مومن جب اپنے رب کی خوبصورتی دیکھیں گے تو اُن پر سحر طاری ہو جائے گا، اور وہ اپنی شکر گزاری کا اظہار اِن الفاظ سے کریں گے، ’’سبحان اللہ (اللہ بڑی شان والا ہے)، الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)، اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔‘‘ اور ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جنت والے جہنم والوں کو دیکھیں گے۔ اور جہنم والے جنت والوں کو دیکھیں گے۔ ایک طرف والوں کا پچھتاوا کئی گنا بڑھ جائے گا، جبکہ دوسری طرف والوں کی شکر گزاری کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اچھا، جب جنت والے ایسی نہ ختم ہونے والی خوشیوں میں ہوں گے۔ تب جہنم والوں کی کیا کیفیت ہوگی؟ جہنم (دوزخ)...

جہنم جسے ہزاروں سالوں سے باندھا ہوا ہے غیظ و غضب سے اُبل رہی ہے۔ بہت سے ظالم جنہوں نے معصوموں کے ساتھ زیادتی کی...

سیکڑوں بچے قتل کیے، اور بے شمار لوگوں کے حقوق ضائع کیے وہ اب یہاں قید ہیں۔ اس کے اندر، گُھپ اندھیرا ہے۔ یہاں تکلیف اور پچھتاوے سے بھرپور منظر ہے، لوگوں کی چیخوں اور آہوں کی گونج ہے۔ ’’جو کوئی قیامت کی گھڑی کو جھٹلائے اُس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ اِن کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اُس کے بِپَھرنے اور پُھنکارنے کی آواز سنیں گے۔ اور جب اِن کو اچھی طرح باندھ کر اُس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کو آواز دے کر پکاریں گے۔ (اُس وقت اِن سے کہا جائے گا کہ) ’آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔‘ ‘‘ اِس قدر خوفناک جہنم کا ہونا انصاف کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اور انصاف مظلوموں کے لیے رحمت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’اور ہم نے اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘ ایمان والوں کے لیے دوزخ ایک عارضی جگہ ہوگی۔ اگر اُنہوں نے بڑے گناہ کیے مگر ان سے توبہ نہیں کی ، اور اگر ان کے گناہ اُن کی نیکیوں سے بڑھ گئے اور کوئی سفارش اُن کے کام نہیں آئی، تو وہ کچھ مدّت تک جہنم کی آگ میں رہیں گے۔ ظاہر ہے، اگر اللہ نے معاف فرما دیا، تو اُنہیں جہنم میں نہیں ڈالا جائے گا۔ لیکن اگر مومن جہنم میں گیا تب بھی اُس کی سزا پوری ہوتے ہی وہ اُس سے باہر آ کر جنت میں داخل ہو جائے گا۔ جہنم کے سزا دینے والے فرشتے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بہت سخت اور بے رحم ہیں۔ اُن کی خوفناک صورت ہی جہنم والوں کے عذاب کے لیے کافی ہے۔ قرآن میں، کافروں اور جہنم کے داروغہ فرشتے کے درمیان ہونے والی بات چیت کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ وہ پکار کر کہیں گے، ’’اے مالک، تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے۔‘‘ وہ کہے گا، ’’تمہیں اِسی حالت میں رہنا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہارے پاس حق بات لے کر آئے تھے، مگر تم میں سے اکثر لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں۔‘‘ مگر وہاں صرف آگ کا عذاب ہی نہیں ہوگا۔ جہنمی شخص اور بھی محرومیوں کا شکار ہوگا، جیسے کہ جنت کی نعمتوں سے محرومی، تنہائی، خاموشی، شیطان کے ساتھ جلایا جانا، جلا دینے والی آگ کی اذیت اور جلا دینے والی ٹھنڈک کی اذیت، اللہ کا نا شکرا قرار پانے، اور اُس سے بات نہ کر نے کی اذیت۔ یعنی، وہ شخص وہاں کئی طرح کی سزائیں جھیل رہا ہوگا۔ اُس دن، اللہ جہنمیوں سے فرمائے گا، ’’مجھ سے بات مت کرو۔‘‘ کتنا دردناک منظر ہے، اپنے رب سے اُن کا رابطہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ جہنمیوں کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے ہوں گے، اور شعلے اُن کے پورے جسم پر لپٹے ہوں گے۔ اُن کی آنکھیں خوف کے مارے اُبل رہی ہوں گی۔ اُن کی ہر سانس میں جہنم کی جھلسا دینے والی آگ رچی بسی ہوگی۔ وہ بھاگ نکلنے اور خود کو بچانے کی کوشش کریں گے مگر ایسا نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اُن کے سروں پر اُبلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جو اُن کی چمڑی کو پگھلا اور اندر کو جلا دے گا۔ قرآن اِسے یوں بیان کرتا ہے: ’’اور تمہیں کیا پتہ کہ سقر (دوزخ) کیا چیز ہے؟ وہ نہ کسی کو باقی رکھے گی، اور نہ چھوڑے گی، وہ کھالوں کو جھلسا دینے والی چیز ہے۔‘‘ اُن کا کھانا زَقُّوم ہوگا، جو جہنم میں اگنے والا ایک کانٹے دار درخت ہے۔ اور اُن کا مشروب کھولتا ہوا پانی اور پِیپ ہوگا۔ جب بھی وہ اسے پیئیں گے، تو عذاب اُنہیں اپنی ہڈیوں میں اترتا محسوس ہوگا۔ ’’اُس کے آگے جہنم ہے، اور (وہاں) اُسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ وہ اُسے گھونٹ گھونٹ کرکے پیئے گا۔ موت اُس پر ہر طرف سے آ رہی ہوگی، مگر وہ مرے گا نہیں۔ اور اُس کے آگے (ہمیشہ) ایک اور سخت عذاب موجود ہوگا۔‘‘ ایک اور آیت میں اللہ فرماتا ہے، اُن کے لیے ایک کانٹے دار جھاڑ کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا جو نہ جسم کا وزن بڑھائے گا، اور نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ جب بھی وہ چیخے گا کہ، ’’میں اور برداشت نہیں کر سکتا،‘‘ تو سزا اور زیادہ سخت ہو جائے گی۔ اُن کی واحد امید یہ ہوگی کہ وہ مر جائیں، ختم ہو جائیں، اُن کا وجود باقی نہ رہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کیا یہ وہی لوگ نہیں تھے جنہوں نے اِس دنیا میں معصوم لوگوں پر بم برسائے، اُن کی آنسوؤں کی ذرا بھی لاج رکھے بغیر اُنہیں اذیت دیتے رہے؟ کیا وہ مایوسی سے روتی ہوئی ماں کو دیکھ کر ہنسا نہیں کرتے تھے؟ ’’ہائے، کاش میں اس وقت سمجھ جاتا۔ کاش مجھے صرف ایک اور موقع مل جاتا۔‘‘ اُن کی چیخیں اندھیرے میں گونجتی رہیں گی، مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اِس دنیا کی آزمائش ختم ہو چکی ہے،اور اب وہ اپنے اعمال کا بدلہ چکھ رہے ہیں۔ اور اُس دن، جہنم کی آگ میں جلتے ہوئے گروہ ایک دوسرے سے بحث بھی کریں گے۔ وہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے اور لعنت ملامت کریں گے۔ قرآن میں اِسے یوں بیان کیا گیا ہے: ’’اللہ فرمائے گا کہ: ’جاؤ، جنات اور انسانوں کے اُن گروہوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ۔‘ (اس طرح) جب بھی کوئی گروہ دوزخ میں داخل ہوگا، تو وہ اپنے جیسوں پر لعنت بھیجے گا۔ جب سب اُس میں اکٹھے ہو جائیں گے، تو ان میں سے جو لوگ بعد میں آئے تھے وہ اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں کہیں گے، ’اے میرے رب!

اِنہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈالا ، اِس لیے اِن کو آگ کا دگنا عذاب دینا۔‘ اللہ فرمائے گا، ’سبھی کا عذاب دگنا ہے، لیکن تمہیں (ابھی) پتہ نہیں ہے۔‘ اور پہلے آنے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے، ’تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت تو حاصل نہ ہوئی۔ لہٰذا جو کمائی تم خود کرتے رہے ہو اُس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔‘ ‘‘ کچھ جہنمی شیطان کو بھی الزام دیں گے، اور شیطان انہیں اِس طرح جواب دے گا: ’’ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا ، اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تو اُس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اِس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہ تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے بات مان لی۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری مدد کر سکتے ہو۔ تم نے اِس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اُس سے انکار کر دیا ہے۔‘‘ آخرکار، ظالموں کو وہی کچھ ملے گا جس کے وہ حق دار ہیں، اور مظلوموں کو وہ مل جائے گا جس کے وہ حق دار ہیں۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ہمیں موت کب آئے گی، مگر اِس پوری سیریز میں ہم نے جو باتیں کی ہیں، وہ ضرور ہو کر رہیں گی۔ موت کا فرشتہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ قبر آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ آپ کا حساب آسان نہیں ہوگا۔ ایک طرف جنت ہے، اور دوسری طرف جہنم۔ اور اگر آپ اب بھی یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں، یعنی آپ کی آزمائش ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ مطلب اپ کے پاس اپنے معاملات ٹھیک کرنے کا موقع ہے۔ اِس دنیا کی کونسی خوشی جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہو سکتی ہے؟ کیا اِس زندگی کی عارضی خوشیوں کے لیے ہمیشہ کی نعمتیں کھو دینا عقلمندی ہے؟ کونسا کام مشکل ہے؟ اُن نمازوں کے لیے تھوڑی سی محنت جن میں ہم سُستی کرتے ہیں یا جہنم کا عذاب؟ توبہ کرنا اور روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، جنہیں ادا کرنے میں اپ کو ایک گھنٹہ بھی نہیں لگتا؟ جب موت کے بعد آنے والے خوفناک حالات میں ہر کوئی خوف و ہراس کا شکار ہوگا، تو کیا ایسے میں خوشی سے مسکرانا اور ہمیشہ کی جنت میں جانا سب سے بڑی کامیابی نہیں ہے؟ ہمیں اِس دنیا میں بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا ہے۔ موت حقیقت ہے۔ قبر حقیقت ہے۔ اور قیامت کا دن ضرور آ کر رہے گا۔ ہم اِن سچائیوں سے انکار نہیں کر سکتے۔ ہمارے سامنے حقائق ہونے کے بعد، ہم یوں کیسے جی سکتے ہیں جیسے کسی حقیقت کا وجود ہی نہ ہو؟ موت روزانہ 250,000 لوگوں کا دروازہ کھکھٹاتی ہے۔ کیا اب بھی یہ سب آپ کے لیے کچھ نہیں؟ جاگ جائیں اِس سے پہلے کہ موت آپ کو جگائے، کیونکہ موت کو خود موت نہیں آتی۔ اپنی توبہ میں دیر نہ کریں۔ آج آپ کے پاس وقت ہے، آپ کا دل اب بھی دھڑک رہا ہے، آپ اب بھی سجدے میں گر سکتے ہیں، توبہ کا دروازہ اب بھی آپ کے لیے کھلا ہے۔ اگر آپ نماز نہیں پڑھتے، تو ابھی سے نماز شروع کر دیں۔ ہماری اشتہارات سے پاک مفت صلاۃ (نماز) کی ایپ کے ساتھ آپ روزانہ کی پانچ نمازوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا ایمان مضبوط اور اسلامی معلومات کو وسیع کرنا چاہتے ہیں، تو ہم آپ کے لیے اِس چینل پر بہت سی ویڈیوز تیار کر چکے ہیں۔ آپ اِنہیں دیکھنے کے لیے ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ عربی میں قرآن پڑھنا نہیں جانتے، تو ہم ’’لام الف قرآن‘‘ نامی ایک ایپ تیار کر چکے ہیں جہاں آپ اسے تیزی سے، آسانی سے اور بلکل مفت سیکھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری مفت مطالعے کی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ جوں ہی آپ نے اپنے لیے ایک ہدف مقرر کیا، چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، تو ہر چیز بدلنا شروع ہو جائے گی۔ آئیے قرآن کی اِس آیت سے اختتام کرتے ہیں جو امید کا سب سے بڑا دروازہ کھول دیتی ہے: ’’کہہ دو کہ: ’’اے میرے وہ بندو!

جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘ ‘‘ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب اپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں اتا۔ چونکہ “Towards Eternity” ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف اپ کی مدد سے یہ ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ اگر اپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو Towards Eternity کو عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
