# نائٹ کلبز سے اسلام: موت کا سامنا، زندگی بدل گئی | @TheDeenShowTV

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/from-nightclubs-to-islam-i-had-it-all-until-i-faced-death-at-thedeenshowtv
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=TjBEUU7DydY
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

پیسہ، پاور اور پوزیشن کے پیچھے دوڑنا کے پیچھے دوڑنا یہ صرف خواہش پرستی کی زندگی تھی ۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ سڑک پر کچھ لڑکے تھے جبکہ رات پہلے ہی بہت ہو چکی تھی ۔ ان لڑکوں نے ہم سے پوچھنا شروع کر دیا "اوئے، کیا ہو رہا ہے ؟" وہ بہت قریب آ رہا تھا ۔ میں نے اس لڑکے کو مارا ۔ لیکن اسی دوران، ان لوگوں میں سے ایک نے ٹوٹی ہوئی بوتل لی اور میری پیٹھ میں گھونپ دی ۔ میرے دوستوں نے مجھے بتایا "ارے، یار میرے دوستوں نے مجھے بتایا "ارے، یار، تمہارا خون بہہ رہا ہے ۔" اب آپ اہم سوالات پوچھنا شروع کریں ۔ میرے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟ مجھے کیوں پیدا کیا گیا ہے؟ مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ پارٹی میں گیا اور لفٹ پھنس گئی ۔ ذرا سوچیں،ایک ایسی لفٹ جو لوگوں سے بھری ہوئی ہے اور مجھے وہاں پسینہ آ رہا ہے پہلا منٹ، ٹھیک ہے، آپ پرسکون رہتے ہو ۔ دوسرا منٹ، اگر آپ کو تنگ جگہوں پر گھبراہٹ محسوس ہوتی ہوں اور آپ سوچیں اگر اس حالت میں مجھے موت آجائے تو کیا ہوگا، کہ میں ایک پارٹی سے گھر آ رہا ہوں کہ میں ایک پارٹی سے گھر آ رہا ہوں میں اپنے مقصد کے مطابق زندگی نہیں گزار رہا ؟ میرا خالق، کیا چاہتا ہے میں کس طرح کی زندگی گزاروں ؟ اس وقت، میں نے سوچا؟ کہ خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟ میرا پیدا کرنے والا مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟ السلام علیکم، بھائی ایڈی ریڈزووِک ۔ ہماری دعوت قبول کرنے اور ہمارے پاس تشریف لانے کیلئے آپ کا شکریہ ۔ آپ کی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی۔ میں اس سوال سے آغاز کرنا چاہوں گا کہ ایڈی ریڈزووِک کون ہے ؟ وعلیکم السلام ۔میرا نام ایڈی ریڈزووِک ہے ۔ میں Gracie Brazilian jiu jitsu کا پروفیسر ہوں میں دی دین شو کا میزبان بھی ہوں اور فی الحال ہم ایک دین سینٹر کھولنے پر کام کر رہے ہیں ۔ میری پیدائش بفیلو، نیو یارک میں ہوئی میں نے شکاگو میں پرورش پائی اور میں 2000 کی دہائی سے اسلام کا پیغام پھیلانے میں شریک ہوں ۔ کیا آپ ہمیں اپنی اسلامی زندگی سے پہلے کی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں گے ؟ اس سے پہلے آپ کس ماحول میں تھے آپ کی عادتیں کیا تھیں ؟ آپ کس قسم کےمرحلوں سے گزر رہے تھے ؟ اسلام سے پہلے میری زندگی ایسی تھی جسے میں تاریکی میں سمجھتا ہوں ۔ یہ صرف خواہش پرستی کی زندگی تھی ۔ یہ صرف پیسہ، پاور اور پوزیشن کے پیچھے دوڑنے کے جنون کی زندگی تھی ۔ اگر آپ کے پاس اچھے دوست اچھے رول ماڈلز نہ ہوں وہ جو آپ کے رول ماڈل بن سکیں ۔ تو آپ بیٹھ کر میوزک، ریپ ویڈیوز میوزک ویڈیوز، ہالی ووڈ اسٹارز دیکھتے ہیں اور اسی کی آپ تعریفیں کرتے ہیں ۔ آپ اسی کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں ۔ اسی کو آپ اپنا آئیڈیل مانتے ہیں ۔ اوراسی کےجیسا بننا چاہتے ہیں ۔ میں اپنی زندگی کے درمیانی حصے میں جس ماحول میں رہ رہا تھا وہ واقعی ایک بہت ہی برا ماحول تھا اور وہ سارے کا سارا ماحول تھا گینگز کا ۔ یوں کہہ لیں کہ وہ صرف تباہی والا ہی ماحول تھا ۔ وہ گمراہ لوگ تھے ۔ اور میں انھیں گمراہ لوگوں کی پیروی کر رہا تھا ۔ اور ہم بس ایک مسئلے کی طرف سے نکل کر دوسرے مسئلے کی طرف جاتے تھے ۔ یہ صرف پریشانی پیدا کرنے والوں کا ایک گروپ تھا وہ لوگ جو وہاں تھے نوجوان اور بیوقوف سے جو کچھ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کچھ ایسا جس سے آپ کے خیال میں آپ کی زندگی میں زیادہ احترام اور وقار حاصل ہو جائے ۔ تو میں اس طرح کے لوگوں میں گھرا ہوا تھا ۔ اورمیں مقابلے بازی کا بہت ہی شوقین تھا ۔ تو بس بدترین چیزوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ کیا آپ کو اس زمانے کا کوئی واقعہ یاد ہے جو آپ ہمارے ساتھ شیئر کرنا چاہیں ؟ اہ۔۔۔ مثلاً، جب ہمیں پتہ چلتا کہ دوسرا گروپ کہیں موجود ہوگا ہم کسی بار یا نائٹ کلب میں پہنچ جاتے ۔ شاید کسی وقت میں ان کو ہم پر برتری حاصل ہوئی ہو ۔ تو اب ہمیں پتہ چلا کہ وہ کسی جگہ سے باہر نکلیں گے ۔ تو ہم وہاں ان کا انتظار کرتے اور ہمارے لڑکے وہاں موجود ہوتے تو جب وہ باہر آتے اور ہم ان لڑکوں کو دیکھتے تو پھر وہاں پر بہت ہاتھا پائی ہوتی ۔ اور وہ باہر آتے پھر ہم واپس چلے جاتے ۔ اور پھر آپ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں کہ آپ اصل میں لڑ کس لئے رہے تھے ؟ یہ بس مجھے تو یاد بھی نہیں ہے۔ بس کچھ بے وقوفیاں تھیں ۔ اگر آپ اس زندگی کو نہ چھوڑتے اور دوبارہ اسلام کی طرف نہ آتے تو آج کہاں ہوتے؟ میرے خیال میں دو ہی راستے ہیں ۔ اگر آپ اس قسم کی زندگی جاری رکھتے ہیں تو یا تو آپ جیل میں ہوں گے یا آپ کا انجام موت ہوگا ۔ کیونکہ ہمیشہ نیا اور جوان خون آ رہا ہوتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی علاقے کے شیر ہیں ۔ اور پھر کوئی اور آجاتا ہے جو آپ سے زیادہ بھوکا ہوتا ہے بےپروا ہوتا ہے ۔ آپ کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور آپ کمزوری محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ لیکن نئے آنے والے نوجوان انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ لہذا، اگر آپ اس زندگی کو جاری رکھتے ہیں اور ہمیں بس دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ میری بہت سی آئیڈیل اور مشہور شخصیات، جن سے میں متاثر تھا جب انہیں حقیقی زندگی میں دیکھا اور کہا، یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف میں دیکھتا تھا ۔ لیکن ہم نے شروعات فلموں سے کی جیسے ٹونی مونٹانا اور اسکارفیس گڈفیلوز، ال پچینو رابرٹ ڈی نیرو، اور مافیا موویز لیکن پھر آپ حقیقی زندگی میں اصل مافیا کے لوگوں کے ساتھ گھومنے لگتے ہیں اور آپ کہتے ہیں "واہ، یہ تو اور بھی زبردست ہے ۔" میں درحقیقت ان لوگوں کی پیروی کر رہا ہوں یا ٹی وی والوں جیسی زندگی گزار رہا ہوں ۔ اور پھر آپ شروع کرتے ہیں اپنا چھوٹا سا گروہ بناتے ہیں ۔ اور آپ سوچتے ہیں کہ "ہاں، میں توسب سے اوپر پہنچ گیا ۔" لیکن اصل میں آپ سب سے پست ہوتے ہیں ۔ تو آپ کا ایک گینگ تھا اور آپ شاید لیڈر تھے جی ۔ آپ گینگ کےلیڈر تھے ۔ جی ۔ ہم نے شروعات ہائی اسکول سے کی ہائی اسکول میں، مختلف گروپس تھے۔ الگ الگ ۔ اہ۔۔ جیسے باسکٹ بال ٹیم، فٹ بال ٹیم ۔ لیکن ہمارا اپنا ایک چھوٹا سا گروپ تھااور پھر وہ گروپ ۔ دراصل، اس سے پہلے میں اسٹریٹ گینگ میں شامل تھا جب میں بڑا ہو رہا تھا اور پھر وہاں سے، وہ سٹریٹ گینگ کسی حد تک بے معنی ہوگئے رائٹ اور پھر اس کے بعد آپ ایک گروپ بناتے ہیں ۔ تو آپ کو لڑکوں کا ایک گروپ ملتا ہے جو بالکل آپ جیسے ہی کام کرتے ہیں ۔ اب آپ کا اپنا گروپ ہے، جس میں وہ لڑکے ہیں جو آپ کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں۔ کلب جاتے ہیں پارٹی کرتے ہیں، اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، رائٹ ؟ اگر کچھ ہوتا ہے تو یہی لوگ آپ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ اب اگر کچھ بھی ایسا مسئلہ ہے جسے فکس کرنا ہے تو یہی لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ مل کر اسے سنبھالتے ہیں۔ چنانچہ میری پرورش ایسے شخص کے طور پر ہوئی جو جھگڑا پسند کرتا تھا ایک ایسا شخص جو ہمیشہ اپنے آپ کو اسٹریٹ میں ثابت کرنا چاہتا ۔ اور میں اس چھوٹے سے گروپ کا لیڈر بن گیا ۔ کیا آپ کا کبھی پولیس کے ساتھ کوئی مسئلہ بنا؟ پولیس کے ہاتھوں گرفتاری یا کچھ اور ؟ جی ہاں، جی ایک ایساواقعہ ماضی میں پیش آ چکا ہے ۔ ہاں اور آپ جیل گئے ؟ میں کسی فیڈرل جیل میں نہیں گیا میں ایسے نہیں گیا جیسے کچھ لوگوں کو گرفتار کر کے لمبے عرصے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ دراصل میں کوک کاؤنٹی جیل گیا تھا ۔ وہ میں لڑائی کی وجہ سے جیل جاتا اگلے دن باہر نکل آتا، بس اسی طرح کے معاملات تھے ۔ تو کیا آپ کے ذہن میں گینگ کا کوئی واقعہ ہے ہے جو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں ؟ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ ہاں۔۔جی، چند ایک ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں میں نے سر منڈوایا ہوا تھا اور میرے دونوں کانوں میں بالیاں تھیں ۔ اور مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہم ایک پارٹی سے نکلے اور ہم لارنس اسٹریٹ کے چوراہے پر پیدل جا رہے تھے۔ میرے ساتھ میرے کچھ لڑکے تھے ہم آگے چلتے گئے ہم علاقے میں پہنچے ۔ اور میں نے دیکھا کہ اس علاقے میں سڑک پر کچھ لڑکے جمع تھے جبکہ رات پہلے ہی بہت ہو چکی ہوئی تھی ۔ اور شاید یہ رات کے 10 یا 11 کا وقت ہوگا اور جیسے ہی ہم قریب پہنچے انھیں نے پوچھنا شروع کر دیا "اوئے، کیا ہو رہا ہے ؟ تم لوگ کس کے ہو ؟" رائٹ، اب وہاں شکاگو میں امریکہ میں مختلف جگہوں پر ہاتھ کے اشارے چلتے ہیں ۔ اگر آپ صرف ہاتھ سے یہ اشارہ کر دیں تو یہ آپ کو مروانے کے لئے کافی ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ غلط علاقے میں ہیں صرف ہاتھ کے اشارے کی ایک بے وقوفی کافی ہے تو ہم نے کہا، دیکھو اس وقت، ویسے میں نے گینگ چھوڑ دیا تھا اور میں گروپ کے ساتھ تھا ۔ تو، یہ گینگ کا معاملہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ اب گینگ کے رکن ہیں ۔ پوچھنے لگے ۔ ہم کہتے ہیں "دیکھو، ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے" اور ہم وہاں سے جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر وہ اصرار کر رہے ہیں ۔ اور پھر صورتحال وہاں بگڑنے لگتی ہے ۔ اور وہ شخص جو ہمارے سامنے تھا تھا ۔ جو کہ مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا تھا ۔ تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ لڑائی شروع ہونے والی ہے کیونکہ وہ بہت ہی قریب آ رہا تھا ۔ تو آپ کو دفاع تو کرنا ہی پڑتا ہے نا ؟ تو، میں نے اس لڑکے کو مارا ۔ اور پھر دوسرے لڑکے بیچ میں کود پڑے اور پھر گویا، چوہوں کا ایک پوراجیسے گروپ ہو جو ہر طرف سے نکل رہے ہوں ۔ وہاں میرے خیال سے ایک بار تھا بائیں طرف ۔ اور پھر وہ لوگ سیٹیاں بجانے لگے ۔ دراصل ہم ان کے علاقے میں تھے جسے آپ ایریا کہہ لیں چنانچہ وہ باہر نکل آئے اور ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔ لہٰذا ہم پیچھے ہٹنے لگے ۔ لیکن میرا ایک ساتھی ابھی بھی وہیں پھنسا ہوا تھا اور ایک جیسے ہجوم اسے پیٹ رہا تھا چنانچہ میں واپس بھاگا اور ایک لڑکے کو ادھر پھینکا، دوسرے کو اٹھا کر اُدھر پھینکا اور اسے وہاں سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اسی دوران، ان میں سے کسی نے ایک ٹوٹی ہوئی بوتل اٹھائی اور میری پیٹھ میں گھونپ دی ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں زخمی ہوچکا ہوں، ہمین وہاں سے نکلنا تھا اس وقت میں بھاگتا رہا ہم سب بھاگتے رہے بھاگتے رہے اور اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ اپنا بدلہ کیسے لیں گے ؟ جی جی اس وقت ، یہی ذہنیت تھی ۔ اورمیں جا رہا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ مجھے کچھ لانا پڑے گا، جس سے بدلہ لے سکوں ہم ان لڑکوں کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے ۔ اور یہی وہ فطرت ہے، جس سے یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ اور بس پھر چلتے چلتے میں نے اپنے دوستوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "ارے، یار، تمہارا خون بہہ رہا ہے ۔" اور میری کمر سےکافی تیزی سے خون بہہ رہا تھا ۔ اور پھر مجھے چکر آنا شروع ہوگئے جیسے میں بے ہوش ہونے والا ہوں ۔ دوست میرے پاس آئے، میں نیچے بیٹھ گیا ۔ اور الحمدللہ، ہم کافی دور آچکے تھے ۔ اور آخرکار، ایمبولینس کو بلانا پڑا اور مجھے ہسپتال لیجایا گیا ۔ تو بس یہ ایک ایسا لمحہ تھا ، جو کہ ممکن تھا، بہت برا ہو سکتا تھا ۔ ممکنہ طور پر میں مر بھی سکتا تھا ۔ آپ کے والدین کا کیا ہوا ؟ آپ کی فیملی کا آپ کی سابقہ اسٹریٹ لائف اور موجودہ لائف اسٹائل پر کیا رد عمل رہا ؟ کیا وہ پریشان ہوئے ؟ جی ہاں، وہ پریشان تھے۔ یہ ایک ایسی چیز تھی۔ جس نےانہیں فکرمند کر دیا تھا ۔ خاص طور پر میری والدہ کو ۔ وہ واقعی، بہت سڑیس کا شکار تھیں ۔ اور اسی وجہ سے، بالآخر وقت آیا کہ مجھے یہ سب چھوڑنا پڑا ۔ شکاگو چھوڑنا پڑا، اور میں چند سال کے لیے بوسنیا چلا گیا ۔ اس ماحول سے دور ہونے اور اس ماحول تبدیل کرنے کی غرض سے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک حدیث ہے مجھے وہ حدیث یاد آتی ہے جو ہم سنتے ہیں کہ ایک شخص جس نے 99 لوگوں کو قتل کیا تھا میں نے کبھی قتل نہیں کیا اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص ایک عالم کے پاس ایک پڑھے لکھے شخص کے پاس مدد کیلئے گیا اس شخص نے اسے آگے بڑھنے اور یہ سب چھوڑنے کا مشورہ دیا ۔ جی ہاں، امید ہمیشہ موجود رہتی ہے رحمت ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔ لیکن آپ کو اس ماحول سے باہر نکلنا ہوگا اور کچھ نئے دوستوں کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ چنانچہ میں نےوہ ملک چھوڑ دیا ۔ یہ ویسے بھی غفلت کی حالت ہے ۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں بیان فرماتا ہے مختلف جانور ان کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے جیسا کہ گائے، اور دیگر مخلوقات وہ کھاتے پیتے ہیں، سوتے ہیں باتھ روم جاتے ہیں ۔ اور اس طرح انسان بھی تقریباً جانور سے بھی بدتر ہو جاتا ہے کیونکہ جانور اپنے مقصد کی تکمیل کر رہا ہے ۔ لیکن انسان وہ کیا کر رہا ہے ؟ غفلت کی زندگی گزار رہا ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی اور بیشتر لوگوں کی زندگی ایسی ہے۔ ہم گہرائی میں جا کر نہیں سوچتے ، غور و فکر نہیں کرتے۔ کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ وسائل نہیں، بلکہ اصل مقصد۔ اچھا، خاندان، پیسہ۔ اگر آپ کو خاندان نہ ملے تو؟ اگر آپ سب حاصل نہ کر سکیں تو ۔ یا آپ پیسہ کما بھی لو تو ۔ ہمارے پاس ایسے لوگوں کی بہت سی مثالیں ہیں جو اربوں کماتے ہیں، لیکن پھر بھی چھلانگ لگا کر خود کشی کر لیتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دل کے خالی پن کو نہیں بھرتا ۔ تو یہ ایک طرح سے زومبی جیسی کیفیت ہوتی ہے۔ لوگ بس ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جاتے رہتے ہیں ۔ ایک فلم سے دوسری کی طرف اور ایک کام سے دوسرے کام کی طرف ۔ پھر پیسہ یہ ایک دائرے کی طرح ہے ۔ پیر سے جمعہ تک کام، پھر پارٹی، پھر پیر کا دن اور یہ سب پھر سے شروع ہوجاتا ہے۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ گذشتہ زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا کیا ہے ؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ سب سے بڑا پچھتاوا ؟ میں کہوں گا غلط دوستوں کے صحبت اختیار کرنا ۔ میں ایک شخص سے ملا جس کا نام پیکسٹن تھا۔ وہ ایسا شخص تھا جسے میں اپنا آئیڈیل مانتا تھا ۔ اور شاید یہ میراسب سے بڑے پچھتاوا ہے ۔ یہ ایک ایسا شخص تھا جو غلط راستے پر چل رہا تھا ۔ اور میں نے اس شخص کی پیروی کی ۔ اور اس نےدروازہ کھول دیا فتنے کا ۔ اس سے گینگز کے پاس جانے کا دروازہ کھل گیا ۔ گروہ بندی میں شامل ہونے کا اور اس راستے پر چلنے کا راستہ کھل گیا ۔ اور یہ میرا سب سے بڑا پچھتاوا ہے ۔ لیکن آخرکار شایداللہ تعالیٰ کی طرف سے تقدیر میں تھا ۔ یہ ایسی چیز تھی جس نے مجھے وہ بنا دیا جو آج میں ہوں ۔ لیکن اگر آپ مجھ سے منطقی نقطہ نظر سے پوچھتے تو میں اس پر تفصیل سے بات کرتا کہ اچھے دوستوں کا ہونا کتنا اہم ہے آپ کے دوست ایک لفٹ کی طرح ہیں ۔ وہ آپ کو اوپر لے جا رہے ہوتے ہیں یا نیچے ۔ تو اچھے دوستوں کا انتخاب کریں ۔ اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھیں کیونکہ دوستوں کا، واقعی آپ پر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ کیا آپ ہمیں اس دن کے بارے میں بتائیں گے جس سے آپ کی زندگی تبدیل ہونا شروع ہوئی ؟ جب آپ سوچتے تھے کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں ؟ یہ سب کس طرف جا رہا ہے ؟ چنانچہ میں ایک مقام سے گزرا ہوجہاں مجھے زندگی کی بہت سی چیزوں کا تجربہ ہوا ۔ میں بڑا ہو رہا ہوں ۔ آپ دیکھتے ہیں بال سفید ہونے لگتے ہیں تو چیزیں پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی ۔ اور میں نے شروع کیا تو یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ اور یہ ایک ایسی چیز تھی کہ میرا خاندان، یہ ایک طرح سے آپ نے رمضانی مسلمان کی اصطلاح سنی ہوگی ۔ تو کبھی کبھی ہمارے کلچر میں بھی کچھ لوگ صرف روزہ رکھتے ہیں شاید ایک مہینے کے لئے الکوحل چھوڑ دیتے ہیں ۔ میری صورتحال بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔ اچھا، میں روزہ رکھنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں ۔ میں مزید آگے بڑھوں گا اور الکوحل چھوڑ دوں گا ۔ اور پھر میں نے ایک کہانی سنی، اہ۔۔ میری بہن نے مجھے یہ واقعہ سنایا تھا ایک فوت ہونے والے شخص کے بارے میں ۔ اور پھر امام صاحب نے اس شخص کے بیٹے کو اجازت دی جس کا پرس تدفین کے دوران قبر میں گر گیا تھا ۔ اب، یہ کہانی سچ ہے یا نہیں ؟ہم نہیں جانتے ۔ لیکن اس کہانی کی حقیقت اس کے اسلام سے تعلق نے واقعی مجھے ہلا کر رکھ دیا ۔ کیونکہ جب انہوں نے قبر کھودی اس شخص کا پرس چونکہ قبر میں گر گیا تھا ۔ اور اسے جرمنی یا کہیں اور واپس جانا تھا ۔ تو انہوں نے اسے قبر کھودنے کی اجازت دیدی انہوں نے لاش کو باہر نکالا اس کا بدن تشدد زدہ تھا ۔ میں نے کہا، "یہ کیا ہے ؟اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا ؟" میں نے واپس جا کر یہ کہانی اپنے ایک چچا کو سنائی اور میرے چچا نےایک کتاب مجھے دی "The Life, Death, and the Hereafter in the Grave.” یہ ایک ایسا تصور تھا جس پر ہم بحیثیت مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ آخرت برحق ہے ۔ اور قیامت کے دن سے پہلے آپ قبر میں رہتے ہیں ۔ یہ ہم سب کے لئے ایک حقیقت ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ تو میں موت کی اس کہانی سے واقعتاً بہت متاثر ہوا ۔ اور میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ میں اس قبر میں جا رہا ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں پارٹی میں گیا اور لفٹ پھنس گیا ۔ اور ہم میں سے کئی لوگ وہاں تھے ۔ ہمیں وہاں تقریباً آدھے گھنٹے تک رہنا پڑا ۔ جب تک فائر ڈیپارٹمنٹ والے آتے اور ہمیں باہر نکالتے ۔ یہ ایک طرح کا اشارہ تھا، جو اللہ نے میری طرف بھیجا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا میں لفٹ میں گھساہوں جو لوگوں سے بھری ہوئی ہے اس کے باوجود میرے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ پہلا منٹ، ٹھیک ہے، دوسرا منٹ، آپ سوچیں اگر آپ کو تنگ جگہوں پر گھبراہٹ ہوتی ہوں ۔ پھر میں نے اس کہانی کو اپنے اس لفٹ میں پھنسنے سے جوڑنا شروع کیا ۔ اور میں سوچنے لگا، ذرا تصور کرو دیکھو میں کہاں ہوں۔ میں ابھی کہاں جا رہا ہوں ؟ اس پارٹی میں دیکھو،اگر لفٹ پھنس جاتی ہے ۔ میں پہلے ہی اس تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہوں ۔ میں زندگی کے مقصد کے بارے میں غور کر رہا ہوں ۔ اب، میں نے یہ کتاب پڑھی لی ہے ۔ قبر، آخرکار ہم سب نے وہیں جانا ہے۔ اور اگر میں اس حالت میں مر جاؤں تو کیا ہوگا ؟ اس حالت مجھے موت آجائے تو کیا ہوگا کہ میں ایک پارٹی سے گھر آ رہا ہوں میں اپنے مقصد کے مطابق نہیں چل رہا میرا خالق مجھ سے کیسی زندگی چاہتا ہے اور یہ ایک ایسا لمحہ تھا میری زندگی میں کہ بس، کہ بس، موت کا سوچنا آخرت کا۔ یہ ایسی چیز تھی جس نے واقعی مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔ اور پھر آپ نے غور کرنا شروع کیا۔ آپ نے دوسرے مذاہب پر بھی غور کیا یا صرف اسلام پر ؟ اہ۔۔ اس وقت، میں نے جاننا چاہا کہ خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟ میرا پیدا کرنے والا مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟ پہلی چیز نماز قائم کرنا تھی ۔ چنانچہ میں نے فوراً شروع کر دی ۔ میں نے نماز کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ میں اپنے کانوں میں ہیڈ فونز لگائے ہوئے تھا اور میں یوسف اسلام (سابقہ کیٹ اسٹیونز) کی کتاب پڑھ رہا تھا اس نے نماز کا طریقہ لکھا ہوا ہے تو میں اس مرحلے سے گزر رہا تھا ۔ تو مجھے جواب مل گیا، میری کیفیت یہ تھی کہ ٹھیک ہے، خدا مجھ سے یہی چاہتا ہے ۔ مجھے بس محفوظ رہنا ہے، کیونکہ اگر موت آتی ہے لیکن بیک وقت میرے ذہن میں یہ بھی تھا میں سوچ رہا تھا مجھے کیسے پتہ چلے گا ؟ کیونکہ ایسے موقعے پر شیطان آ جاتا ہے اور شک پیدا ہوتا ہے میں کیسے جان سکتا ہوں کہ یہی حق ہے ؟ 100 فیصد کیسے جان سکتا ہوں کہ یہی حق ہے ؟ ٹھیک ہے، یہی وہ موقع ہے جہاں آپ کو واقعی گہرائی سے تحقیق کرنی چاہیے۔ تو میں نے تحقیق شروع کر دی، اورمیں نے ایک سائنسی تجزیاتی انداز اختیار کیا ۔ میں نے مختلف مذاہب کو دیکھا دنیا کے مذاہب کی کتابیں کھول لیں اور میں نے غور کرنا شروع کر دیا اچھا، یہ کیا ہے۔ مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ عیسائیت برحق نہیں ہے ؟ کیسے پتہ چلے گا بدھ مت برحق نہیں ہے ؟ دوسرے مذاہب کو کیسے جان سکتا ہوں ؟ اتنے زیادہ مذاہب ہیں ۔ لہذا جب آپ توحید کے متعلق جانتے ہیں خالص توحید پرستی کے بارے میں جانتے ہیں تو عیسائیت کو دیکھتے ہیں ۔ یہ آپ کو یسوعؑ کی عبادت کی دعوت دیتی ہے ۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر ہم ان سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن اب یہ آپ کو کسی چیز کی دعوت دے رہی ہے اسے سمجھنے کیلئے دماغی قلابازیاں لگانی پڑتی ہیں ۔ ٹرینٹی خدا۔ باپ، بیٹا اور روح القدس لیکن تین نہیں، بلکہ ایک تو پھر آپ سچائی کو دیکھتے ہیں ۔ کہ کتنی کتابیں ہیں متی، مرقس، لوقا اور یوحنا ۔ اور بائبل کے علماء کے مطابق ان میں سے کوئی بھی ان کتابوں میں سے کوئی بھی ان کی طرف سے نہیں لکھی گئی ۔ تو انہیں ایسے مصنفین کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جو گمنام ہیں ۔ اور اس کا کوئی مطلب نہیں بنتا ۔ تو اصل صداقت کا مسئلہ تھا، پیغام کا مسئلہ تھا، یہ چیز فطرتِ سلیمہ سے ہم آہنگ نہیں تھی اور پھر ہم وہاں سے آگے بڑھتے ہیں اور اور دوسرے تمام مذاہب کو دیکھتے ہیں ۔ مثلاََ ہندو مت کو دیکھ لیجیے وہ پوجتے ہیں۔ تو یہ صریح بت پرستی ہے ۔ وہ مختلف مخلوات کو پوجتے ہیں جیسے گائے، چوہا یا کوئی ایسا نظریہ جو یہ کہے کہ خدا ہر چیز میں ہے ۔ ہر جگہ ہے۔ ان میں سے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا ۔ ایک بار پھر، مزید آگے بڑھتے ہوئے، آباء و اجداد کو پوجنا ۔ اگر آپ دیکھیں آگ کی عبادت کررہے ہیں آباؤ اجداد کی عبادت کرتے ہیں ماضی کے لوگوں کی وہ لوگ جو اپنی قبروں میں ہیں ۔ مجسموں کی، یا کسی بھی ایسی چیز کی جس کا انسان تصور کر سکتا ہے۔ اور آپ ان کو ایک ایک کرکے دیکھنا شروع کرتے ہیں تو یہ سب کسی نہ کسی شکل میں مخلوق کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں خدا کو چھوڑ کر غیر کی عبادت کی طرف اللہ کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت توحید، یعنی اسلام کا خالص اور مطلق عقیدۂ وحدانیت ایک بار جب میں نے اسے جان لیا اور میں خالص توحید پر مضبوطی سے قائم ہو گیا خالص توحید، اسلام یہ میرا جانچنے کا پیمانہ بن گیا ۔ یہی وہ چیز تھی جس نے فرق کرنے میں مدد دی ۔ حق اور باطل میں تو وہاں سے، قدم بہ قدم اس میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ تو میں نے فوراً الکوحل چھوڑ دی ۔ میں نے فوراً نماز پڑھنا شروع کر دی ۔ میں نے سنجیدگی باقاعدگی سے عمل شروع کر دیا ۔ مجھے وہی کرنا ہے جو اللہ چاہتا ہے کہ میں کروں، کیونکہ موت اب میں واقعی اس مقام پر ہوں ۔ موت ایک ذریعہ ثابت ہوئی ۔ اس نے واقعتاً میرے دل میں خوف پیدا کر دیا تو آہستہ آہستہ، جس طرح سے میں پیسے کما رہا تھا میرے دوست، اور سب چیزیں یہ ایک امتحان تھا ۔ تو اب ایسا ہےکہ سچائی تمہارے کے سامنے آچکی ہے ۔ کیا تم سچائی کے ساتھ چلو گے یا ابھی بھی ایسے ہی چلتے رہو گے اور بہانے بناوگے اور اسی ماحول میں رہو گے ؟ جس کے نتیجے میں تم وہ نعمت کھو دو گے، جو تمہیں مِلی ہے ۔ تو میں نے ان سب چیزوں کے مقابلے میں اسلام کا انتخاب کیا، الحمداللہ!

جب آپ بغیر پابندی کے زندگی گزار سکتے ہوں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہوں آپ وہ سب کچھ کر سکتے ہوں جو آپ چاہیں ۔ کیا اس طرح کی زندگی کی طرف آنا بہت مشکل نہیں تھا؟ جس میں پابندیاں ہیں اسلام کے قواعد و ضوابط ہیں ؟ جی نہیں، درحقیقت یہ زیادہ نظم و ضبط والی زندگی ہے ۔ اس سے مدد کے احساس میں اضافہ ہوا ہے اور آپ کی زندگی میں ایک طرح کا نظم و ضبط پیدا ہو جاتا ہے جو آپ کو ایک کاروبار کی طرح مرتّب ہونے میں مدد کرتا ہے ۔ اگر کوئی انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے تو آپ کے پاس ایک خاکہ ہونا چاہئے اس کے لئے جس کے مطابق چلیں پھر وہ بالکل ایک راہنما کی طرح کام کرتا ہے ۔ ایک ایسا شخص جس کی آپ واقعی عزت کرتے ہو، ایک ماہر کاروباری انسان ایک ایسا شخص جس نے اربوں کمائے ہوں، اور اب اگر آپ اربوں بنانا چاہتے ہیں اور وہ انسان آپ کو بتا رہا ہے کہ ایسا کیسے کریں ۔ چنانچہ، سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ۔ ہمارے پاس ہمارا خالق ہے، جو بتا رہا ہے کہ اس کامیابی کو کیسے حاصل کیا جائے ۔ اور یہ شاندار ہے۔ تو شاید جب آپ اپنےدین کے بارے میں سنجیدہ ہو جائیں شاید 11/9 کا واقعہ دیکھنے کے بعد اس وقت تو یہ اور بھی مشکل تھا ۔ جی ہاں، یہ بہت ہی زیادہ مشکل تھا ۔ یہ بہت مشکل تھا کیونکہ لوگوں کو اس وقت اسلام کے بارے میں غلط معلومات دی گئی سب نے سوچا، اچھا اسلام دہشت گردی سکھاتا ہے ۔ اسلام وحشیانہ، پُرتشدد مذہب ہے حالانکہ اس کے برعکس ہے ۔ ہماری ذمہ داری ہے ہم آگے بڑھیں اور لوگوں کو حقیقت سمجھنے میں مدد کریں کہ اسلام اور مسلمان حقیقت میں ہیں کیا ۔ اور یہی میں نے محسوس کیا کہ میرا کیا مقصد تھا۔ میرے اندر یہ کرنے کا حقیقی جذبہ اور خواہش تھی ۔ کیونکہ میں نے دیکھا کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ اگر آپ کو کسی ایسے پروڈکٹ کو بیچنا پڑے جس کے خراب ریویوز ہوں ا ور پھر اس کے ساتھ جو صحیح طریقے سے کام نہ کرتا ہو، کبھی کام کرے، کبھی نہ کرے لیکن اسلام خالق کی طرف سے ہے ۔ یہ کامل ہے ۔ یہ مکمل ہے ۔ یہ کوئی انسان کا بنایا ہوا مذہب یا زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں ۔ یہ خالق کی طرف سے ہے، الہامی ہے۔ ایک خدا کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے یہی اس کا مطلب ہے۔ تو اب جب لوگ آگے آتے ہیں اور اس کو آزماتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا اگر وہ مخلص ہیں تو انہیں بھی وہی چیز نظر آئے گی ۔ تو آپ نے یقینا قرآن پاک بھی دیکھا اور پڑھا ہوگا کیا کوئی خاص سورت یا آیت ہے جس نے واقعی آپ کو ہلا کر رکھ دیا ہو یا آپ کو بہت متاثر کیا ہو؟ بہت سی آیات ہیں، ان میں سے ایک تھی کہ ”یاد رکھو، اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔“ مجھے یاد ہے یہ آیت پڑھ کر میں جذباتی ہو گیا تھا ۔ کیونکہ میں اطمینان محسوس کرنا شروع کر چکا تھا ۔ بے سکونی سے نکل کر، میں نے دل میں سکون محسوس کرنا شروع کر دیا تھا اور جب میں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا شروع کر دیا تومیں نے سکینہ، حقیقی سکون اور امن کو محسوس کرنا شروع کر دیا ۔ جسے پا نے کے لئے لوگ ہر قسم کا دنیوی مال خرچ کرتے ہیں ۔ اپنی دولت خرچ کرتے ہیں لیکن نصیب نہیں ہوتا ۔ ان کے پاس مال و دولت اور دنیوی سامان ہوتا ہے لیکن وہ اس سکون کو حاصل نہیں کر سکتے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت میں کیا ہے ۔ جب آپ نے نبی ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالی تو آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا ؟ میں اپنے گھر والوں کو بتا رہا تھا ۔ میں اکثر اپنے گھر والوں کو بتاتا ہوں ۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم اور آپ قرآن کھول کر پڑھ رہے ہوں یا آپ حصن المسلم پڑھ رہے ہوں میں نے کہا، بس ان عام چیزوں کے بارے میں سوچیں اس سے پہلے کہ ہم قرآن کے تمام معجزات اور پیشین گوئیوں پر بات کریں۔ کس انسان کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ یہ سب کچھ اکٹھا کر سکتا؟ کامن سینس کی بات ہے کہ کیسے؟ عقل اسے تسلیم نہیں کرتی جب انہیں پیشکش کی گئی جیسے آج ہمارے سیاستدانوں کو کی جاتی ہے تھوڑی سی رشوت دے کر انہیں لبھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ رقم، یا عہدے کا لالچ دے کر اکثر لوگوں کو خرید لیا جاتا ہے ۔ انہیں بھی ہر قسم کی پیشکش کی گئی۔ آپ کو کیا چاہیے۔کیا آپ عورتیں چاہتے ہیں ؟ تو ہم آپ کو دیں گے ۔ کیا آپ مرتبہ اور پاور چاہتے ہیں ؟ تو ہم آپ کو اپنا سردار بنا دیں گے ۔ اپنا بادشاہ بنا دیں گے۔ اگر آپ چاہیں۔ جو بھی آپ خواہش کریں شہرت، پیسہ، مرتبہ ۔ انہوں نے کہا ، "دیکھو، اگر تم چاند کو میرے داہنے ہاتھ میں رکھو اور سورج کو میرے بائیں ہاتھ میں ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا تم مجھے کیا دیتے ہو میں اپنا مشن کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔ جو کہ ہے”لا الہ الا اللہ“ ۔ اور یہی چیز ہے جو مجھے بہت متاثر کرتی ہے ۔ تو انہی دنوں میں آپ کے ذہن میں دی دین شو کا خیال آیا؟ کیا آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ یہ کیسے شروع ہوا ؟ جی ہاں ۔ یوٹیوب اس وقت شروع ہوا تھا ابھی۔ اور اس وقت میں اپنے پہلے حج پر جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔ تو میرے ایک شیخ تھے شیخ علی، شیخ محمد سید علی وہ ایسے شخص تھے جن سے میری ملاقات ہوئی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کی ریکارڈنگ کریں گے ۔ چنانچہ ہمارے درمیان ایک پینل ڈسکشن ہوئی، جس میں مختلف سوالات پوچھے گئے ۔ ہم نے اس کی ویڈیو بنائی ۔ تو وہ کہنے لگے "واہ، یہ تو بہت خوب ہے ۔" تو میں پہلے ہی سوچ رہا تھا میرا خیال تھا کہ اس کلچر میں بہت سے ایسے لوگ جو یہ پسند نہیں کرتے کہ انہیں بس لیکچر سنایا جائے ان کا اصل میں مزاج ہی ایسا نہیں ہوتا وہ دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔ انہیں ٹاک شوز پسند ہوتے ہیں جو کہ ہم آج کل بہت دیکھتے ہیں ۔ تو میں نے سوچا، چلو اسے آزماتے ہیں اور یہ چل نکلا ۔ ہم نے مزید قسطیں ریکارڈ کیں ۔ ہم نے اسے وہاں اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا، اور میں نے کہا واہ، یہ زیادہ لوگوں تک بات پہنچانے کا ایک زبردست طریقہ ہے۔ اسے اور آگے بڑھائیں اور دلچسپ بنائیں ۔ مجھے معاشرے کے رجحانات اور لوگوں کے سوالات کا اندازہ تھا ۔ لہٰذا، مجھے معلوم تھا کہ وہ کون سے سوالات ہیں، جو لوگوں کے ذہنوں میں ہوتے ہیں میں نے وہ سوالات کرنا شروع کر دیئے ۔ ہم نے اسے وہاں اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا اور الحمدللہ وہاں سے پھر چیزیں بس آگے بڑھتی ہی چلی گئیں الحمد للّه!

کیا آپ کو پہلا کلمہ شہادت یاد ہے آپ جس کا ذریعہ بنے ہوں ؟ میں چوتھے درجے کا بلیک بیلٹ ہوں۔ اہ۔۔۔ Gracie Brazilian jiu jitsu تو میں اسے کچھ اپنے طلباء کے ساتھ شیئر کرتا تھا اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے بالآخر کلمہ پڑھ لیا ۔ پہلی مرتبہ جب آپ کے کسی اسٹوڈنٹ نے کلمہ پڑھا، تو آپ نے کیسا محسوس کیا؟ یہ زبردست احساس تھا ۔ میں بہت پرجوش تھا ۔ یہ دیکھ کر واقعی بہت خوشی ہوئی کہ لوگ اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ یہ یہ بالکل آسان ہے ۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، مخلوق کی نہیں۔ لا اللہ الالہ تمہارے خالق کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ اللہ کے نبی ہیں۔ چنانچہ یہ سمجھ میں آنے والی چیزتھی ، اور وہ لوگ کبھی اسکی مخالفت نہیں کرتے تھے ۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کے ساتھ بار بار گفتگو کرکے ان کے شکوک دور کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ شبہات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بار بار گفتگو کے ذریعے دور کرنا پڑتا ہے ۔ اور لوگ کہتے ہیں، "اچھا تو یہ ویسے نہیں ہے جو مجھے بتایا گیا تھا جو مجھے نفرت پھیلانے والوں اور اسلاموفوبیا انڈسٹری نے بتایا تھا۔ تو آپ راستے میں چلتے ہوئے بھی دعوت دیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے بتایا کہ آپ بہت پرجوش تھے ۔ تو آپ لوگوں سے کیسے رابطہ کرتے تھے ؟ میں نے آپ کے ایک انٹرویوز سے واقعہ سنا ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے تھے ۔ کیا آپ اس سلسلے میں بھی اپنی کاوشوں کے متعلق بتانا پسند کریں گے ؟ کچھ یادیں ہیں ۔ جی ہاں۔۔۔ اچھا، جب ہم باہر جاتے ہیں اور اب تم تیار ہو، آپ یہاں وہاں جا رہے ہیں اورلوگوں کو معلومات دے رہے ہو یا آپ کو کچھ لوگ نظر آتے ہیں اور ایک موقع پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ لوگ ایک پروڈکٹ فروخت کرنے کیلئے باہر نکلتے ہیں ایسی چیز جو شاید فرش کو ویکیوم کے ذریعے ذرا بہتر صاف کرنے میں مدد دے سکے۔ لیکن آپ حقیقی معنوں میں مدد کر رہے ہیں ۔ اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے ایک بے گناہ کو بچانا پورے جہاں کو بچانا ہے ۔ تو سوچیں، کہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانا کتنا بڑا عمل ہوگا مرنے کے بعد دو ہی ٹھکانے ہیں جنت اور جہنم ۔ تو کبھی ایسا ہوتا جب ہم اپنے بہترین دوست ڈاکٹر سبیل اور دیگر کے ساتھ نکلتے تھے۔ اور ہم وہاں سڑکوں پر جاکر مختلف پمفِلٹس تقسیم کرتے مثلاً زندگی کے مقصد کے متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قرآن کے متعلق ۔ اور جب ہم وہاں ہوتے تھے تو بہت سے لوگ آتے تھے۔ اور یہ یادگار لمحات ہیں جب ہم وہاں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور صرف چند منٹ اس سے بات چیت کی اور اس نے وہیں پر اسلام قبول کر لیا ۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اللہ انہیں پہلے ہی تیار کر رہا ہوتا ہے، اور الحمدللہ اس وقت میں اس کا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے ۔ اور یہ ایک بہت حیرت انگیز احساس ہے ۔ دعوت دینے کے دوران آپ کو کسی شخص کی طرف سے موصول ہونے والا سب سے منفی رد عمل کیا تھا؟ توہین نبی کریم (ﷺ) کی ۔ کچھ لوگ آپ کو دہشت گرد دہشت گرد مذہب، کہہ کر پکارتے ہیں کچھ لوگ ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہیں ۔ لوگوں کے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہوتی ۔ سو گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں ۔ دراصل وہ خود سے ناراض ہیں ۔ ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔ ان کا لہجہ تلخ ہے، کیونکہ اگر آپ ایک سچے عیسائی ہیں آپ ایسا برتاؤ نہیں کریں گے آپ کو ایسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یسوعؑ تو محبت کی تعلیم دیتے ہیں "امن کا شہزادہ ۔" لیکن آپ کا تو رویہ توہین آمیز ہے ۔ اس میں اپنے پڑوسی کے لئے محبت نہیں ہے ۔ اس طرح آپ کسی کو عیسائیت کی طرف مائل نہیں کر سکتے ۔ یا جس بھی مذہب کو آپ مانتے ہیں یہ تصورات ہر مذہب میں موجود ہوتے ہیں کہ خود کو ایک اچھا انسان بنایا جائے۔ اور یہ ایک اچھا انسان بننے کا طریقہ نہیں ہے ۔ آپ بد ترین انسان بن رہے ہیں ۔ توہین کر رہے ہیں جبکہ ہمیں ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے ۔ ہم دوسروں کے مذاہب کی توہین نہیں کرتے ہم یسوعؑ کی بے حرمتی نہیں کرتے ۔ ارشادِ باری ہے: ان کے معبودوں کو برا مت کہو ورنہ وہ تمہارے اللہ کو برا کہنے لگیں گے ۔ تو ہم ایسا نہیں کرتے ۔ میں ایک کہانی سناتا ہوں آپ کو میں اپنے بیٹےکے ساتھ اور اپنے ایک دوسرے بھائی کے ساتھ تھا انہیں کہہ رہا تھا کہ جا کر کھانے کو لے آؤ اور اچانک کار دائیں جانب جھکنے لگی ۔ میں نے کہا، "یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تو کرائے کی گاڑی ہے، مجھے مسئلہ کیوں دے رہی ہے؟" اس کے بعد کیا ہوا جب بھائی باہر نکلے تو پتہ چلا کہ ٹائر پنکچر ہو چکا تھا ۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں رک گئے میں نے ٹو کمپنی کو کال کی، اور میں سوچ رہا ہوں اچھا مجھے ٹائر تبدیل کرنا پڑے گا۔ تو میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں "میرے ساتھ آؤ ۔" آپ کو ہمیشہ چاہئے کہ حالات میں اچھائی تلاش کریں ۔ میں نے سوچا، اپنے بیٹے کو زندگی کا ایک ہنر سکھانے کا یہ اچھا موقع ہے ۔ کہ اسے ٹائر تبدیل کرنا سکھایا جائے ۔ توالحمدللہ میں نے ڈمی ٹائر کو اندر سے نکالا۔ جیک لگانے کے دوران میں نے اسے بطور سیفٹی گاڑی کے نیچے رکھ دیا، اب، میں اسے جیک کر رہا ہوں ایسے نہیں، بلکہ ایسے اسپئر ٹائر ڈالنے لگا تو گاڑی نیچے اتر گئی ۔ گاڑی پیچھے چلی گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ دوسرا ٹائر موجود تھا ۔ رائن کہیں سے آتا ہے ۔ اس وقت مجھے اس کا نام معلوم نہیں تھا ۔ تو رائن آتا ہے ۔ وہ کہنے لگا، "گائز کیا ہو رہا ہے ؟ اوہ، ایسا پہلے بھی میرے ساتھ ہو چکا ہے ۔ آپ کو جیک لگانا پڑے گاایسے اور ایسے اور یوں۔" اور ہم بات کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ بھی وہیں ہے ۔ وہ ایک غیر مسلم نوجوان تھا اور بہت ہی اچھا لڑکا تھا ۔ زمین پر بیٹھ کےخود کو گندا کر رہا تھا تاکہ مدد کر سکے میں نے کہا، "کیا میں تمہارے لیے کچھ لا سکتا ہوں؟" اس نے کہا، "نہیں، نہیں، میں ٹھیک ہوں ۔" اور ہم بات چیت شروع کر دیتے ہیں اور آخر میں کام ختم ہو جاتا ہے، اب دعوت کا موقع ہے ۔ لہٰذا ہم نے پیغام پہنچا دیا مجھے ہمیشہ یہ پسند ہے کہ آگے بڑھ کر پیغام پہیچا دوں۔ اور آخر میں میں اس سے ایک سوال کرتا ہوں سادہ سا سوال ہے۔ جو میں اکثر کرتا ہوں۔ میں نے کہا آپ اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ تو رائن کہتا ہے کہ "ٹوئن ٹاورز کے گرنے کے علاوہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔" تو وہ کچھ نہیں جانتا ۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ صرف زیرو ہی نہیں تھا، منفی بھی تھا میں نے اسے دین سینٹر میں آنے کو کہا لیکن ہمارے پاس ابھی اگلے دن، ہمارے پاس ایک مشہور شخص بھی تھا Royce Gracie جس کا نام "وہ ایم ایم اے، مارشل آرٹس کی دنیا کا مائیکل جورڈن ہے۔" لیکن اس واقعے کا نکتہ یہ ہے کہ وہ دین سینٹر میں آیا ۔ اور ہم نے اس کے ساتھ ایک شو کیا شیخ عثمان اور میں نے ۔ اور آخر میں اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا ۔ دا دی دین سنٹر میں یہ ہمارا پہلا قبولِ اسلام تھا ۔ الحمد للہ ۔ " کیسا محسوس ہوا؟ وہ واقعی آپ کے لیے مارشل آرٹس میں ایک رول ماڈل ہے۔" یہ بالکل غیر یقینی محسوس ہوا یہ کچھ ایسا تھا کہ، سبحان اللہ۔ کیا یہ واقعی ہو رہا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔ اور ایک بار پھر سے دراصل ان لوگوں کے لئے جو کہ روئس گریسی کو نہیں جانتے یہ مائیکل جورڈن ہیں مارشل آرٹس کی د نیا کے ۔ کوئی بھی جو خبیب کو جانتا ہے UFC دیکھتے ہیں ۔ اگر آپ اس کے آغاز کی طرف جائیں، تو اس کے بھائی نے الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ کی بنیاد رکھی۔ اور وہی پہلے، دوسرے اور تیسرے چیمپئن تھے جنہوں نے اسے دنیا میں مشہور کیا۔ اور اسی کی وجہ سے خبیب اور دیگر لوگ اس کھیل میں داخل ہوئے تاکہ UFC چیمپئن بن سکیں۔ یہ سب اس شخص روئس گریسی کی وجہ سے ہی تھا اور آخرکار وہ آیا، اور اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا ۔ دین سینٹر میں پہلا قبول اسلام ۔ اس نے مجھے حیران کردیا ۔ الحمد للہ ۔ آپ امریکہ میں اسلام کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں ؟ کیا آپ پرامید ہیں ؟ یہ ایک پیشین گوئی ہے، جو ہمارے ساتھ یا ہمارے بغیر پوری ہو کر رہے گی ۔ یہ ایک ایسا ذخیرہ ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ میں ابھی یہ دیکھ رہا ہوں، میں نے پہلے بھی دیکھا اور اب بھی مسلسل دیکھ رہا ہوں ۔ آپ کے وہاں کچھ سخت قسم کے اسلام دشمن بھی ہیں ۔ ایک خاتون تھیں، جن کا نام تھاCandace Owens اور ابھی حال ہی میں وہ مسلمانوں سے معافی مانگ رہی تھیں ۔ ہم نے ویسے بھی ان کے کچھ پچھلے کاموں کو دیکھا، اور وہ اسلاموفوبز کو بلاتی تھیں، جنہیں جان بوجھ کر پروپیگنڈے کے لیے کھڑا کیا گیا ہوتا۔ یہاں تک کہ کچھ جعلی مسلمان بھی جنہیں منظرِ عام پر لایا جاتا تھا وہ انہیں بلاتے اور وہ اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے۔ کیوں نہ ایسے لوگوں کو بلایا جائے جن پر ایک معتبر علمی اتفاق ہو؟ جو حقیقی عالم ہوں، جو دین کا درست فہم رکھتے ہوں؟ آپ گھٹیا ترین افراد کو ہی کیوں چنتے ہیں؟ یہ لوگ تو پہلے ہی رد کئے جا چکے ہیں۔ تو وہ ایسے لوگوں کو بلاتی تھی کیونکہ وہ جہاں ملازم تھی اس ادارے کی پالیسی یہی تھی لیکن کسی ایسے شخص کو بدلتے دیکھنا اور ان پادریوں کو بھی دیکھنا جن کے میں نے انٹرویوز بھی کیے ۔ اور ان کا یہ کہنا کہ دیکھیں، مجھے ایسا کرنے کو کہا گیا تھا۔۔۔ پھر اس کا کہنا، "مجھے واقعی افسوس ہے۔" وہ مسلمانوں سے معافی مانگ رہی تھی۔ یہ سوچ اور رویے میں ایک بڑا بدلاؤ تھا۔ وہ کہتی ہے کہ میں تصور نہیں کر سکتی کہ مسلمان نائن الیون کے بعد آخر کن حالات سے گزرے ہوں گے پھر میں نے ایک پادری کا انٹرویو لیا ہے ، ایک پادری ایک سینئر پادری، پاسٹر رِک کا ۔ پاسٹر رِک سی این این، سی بی این کرسچن براڈکاسٹ نیٹ ورک میں کام کرچکا تھا ۔ اس نے کہا، "ایڈی، دیکھو مجھے افسوس ہے، کہ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا اور یہ سب اسی انڈسٹری کی طرف سے ہو رہا ہے ۔ وہ یہ سب فلموں اور ڈراموں میں دکھا رہے تھے۔ اس نے کہا، "ایڈی، پھر یہ کلیسیاؤں میں آیا ہمیں برین واش کیا گیا اور مجھے یہ یقین ہو گیا تھا کہ ممکنہ طور پر مسلمان آنے والے ہیں، اور وہ مجھے کوئی چھرا وغیرہ گھونپ دیں گے ۔ اس نے کہا مجھے بیوقوفی محسوس ہو رہی ہے شرمندہ ہوں میں، مجھے افسوس ہے ۔ اب لوگ، اس غفلت اور پروپیگنڈے کے اثر سے بیدار ہو رہے ہیں جس میں وہ لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ اور یہ ایک زبردست تبدیلی ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اب کچھ امید ہے، الحمدللہ، اور ہم دیکھ رہے ہیں یہی اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہا ہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے جیسے کہ نسل کشی کا حالیہ واقعہ جو غزہ میں ہورہا ہے ۔ لوگ اب کیا کرتے ہیں وہ تحقیق کرتے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں، کیوں کیسے یہ لوگ اتنے ثابت قدم ہیں ۔ کہ وہ اب بھی اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں۔ اور بہت سے لوگوں نے اسی وجہ سے اسلام بھی قبول کیا ہے ۔ کوئی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ یہ خود کو تبدیل کرنے اور عملی مسلمان بننے کا صحیح وقت آ گیا ہے ؟ یا آپ کی طرح اسلام کی طرف واپسی کا وقت آ گیا ہے ؟ اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں تو جان لیں کہ وقت صرف ابھی کا ہے۔ اگر اللہ آپ کو موقع دے رہا ہے اب جب آپ کا دل نرم ہو گیا ہے یہ بات دل کو چھو رہی ہے اور سمجھ میں بھی آ رہی ہے ۔ تو اس سے پہلے کہ آپ واپس نشے شراب اور کلب کی طرف جائیں آپ کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا ۔ بس ابھی گر جائیں اور اپنے لیے ہدایت مانگ لیں ۔ میں لوگوں سے ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ ضروری اقدامات شروع کریں اسلام پر غور کریں، تحقیق کریں ۔ اور میں آپ کو بتا رہا ہوں حیرت انگیز چیزیں واقع ہوں گی ۔ بھائی ایڈی، اپنی اسٹوری شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان تمام کاوشوں کا بہترین بدلہ دے جو آپ امت کے لئے کر رہے ہیں ۔ آمین ۔ شکریہ بھائی ۔ شکریہ ۔ شکریہ ۔
