# "وہ  آپ کو ملحد بنا دے گا" اس کے دوستوں نے ہمیں خبردار کیا!  –  الحاد بمقابلہ اسلام

- Language: ur
- Published: 2026-08-25
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/he-will-make-you-an-atheist-his-friends-warned-us-atheism-vs-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=ai0rgHcpkck
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

- آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ ایپتھیزم ۔۔۔ اسے حقیقت پسندانہ الحاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔+ جب کہ لوگ کسی بھی مذہب پر ایمان لانے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں، لیکن میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ خدا اپنے آپ کو کس پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ تو وہ ہمیں کیوں پیدا کر رہا ہے؟ تو، اگر کوئی خالق ہے تو وہ کیسے وجود میں آیا؟ وہ کسی چیز کے بغیر کیسے وجود میں آ سکتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسی کائنات بنا سکتا ہے جس میں کوئی چیز نہ ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ - یہ کہہ کر آپ خدا کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ یعنی وہ موجود تھا، تو اس نے باقی سب کچھ پیدا کیا۔ آپ مجھے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ اس کتاب میں 1400 سالوں سے کوئی ہیرا پھیری نہیں ہوئی ۔+ اشھدان لاالہ الاللہ واشھد ان

محمدا عبدہ و رسولہ+ - کیا یہ ٹھیک ہے اگر ہم اسے یو ٹیوب پر پوسٹ کریں؟ یقیناً، آپ اسے کہیں بھی پوسٹ کر سکتے ہیں۔+ -آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ ایپتھیزم ۔۔۔ اسے حقیقت پسندانہ الحاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔+ لہٰذا، عام طور پر، کچھ لوگ ایک مذہب کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں، مگر میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہائی اسکول کے دوران میں نے کافی تحقیق کرنا شروع کر دی۔ سب سے پہلے، میں نے اگنوتھیزم کے بارے میں سیکھا کیونکہ نہ تو آپ یقین کر سکتے ہیں اور نہ ہی میں کبھی یقین کر سکتا ہوں۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ کوئی خالق ہے یا نہیں۔ یہاں تک کہ اگر میں اس پر ایمان لے آتا ہوں، تب بھی میں آپ کو یہ ثابت نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں نے مزید تفصیلی تحقیق کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے، میں نے کتابیں پڑھیں۔ میرے ذہن میں ایک

سوال الجھا ہوا تھا، جو کہ یہ تھا: "شروع سے آخر تک، خالق بہتر جانتا ہے کہ سب کچھ کب اور کیسے ہونا ہے۔ پھر وہ ہمیں کیوں پیدا کر رہا ہے حالانکہ وہ پہلے سے ہی سب کچھ جانتا ہے؟" میں نے اس بارے میں سوچنے کی کوشش کی۔ میں نے یہ سوال اپنے جاننے والے مسلمان شیخوں سے بھی کیا۔ انہوں نے مجھے جوابات دیے، لیکن جب جوابات سے میری تسلی نہ ہوئی، تو میں نے کہا: " کیا یہاں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے؟" - تو، کیا ہوا؟ آپ کی رائی بدل گئی۔ یہ میرا نقطہ آغاز تھا۔+ پھر، جیسے ہی دوسرے سوالات پیدا ہوئے، میں نے کہا کہ: " یہ بہت الجھا ہوا معاملہ ہے اور یہ زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے"۔ - اچھا، میں اب آپ سے یہ مخلصانہ طور پر پوچھنے لگا ہوں۔ + جی جی بالکل۔ - کونسی چیز آپ کو اپنا خیال بدلنے اور واپس آنے پر مجبور کرے گی؟ میں اس طرح

سے کہہ سکتا ہوں کہ میں دو سال سے اس ذہنیت میں مبتلا ہوں،+ اور مجھے پوری طرح یقین نہیں ہے کہ کوئی چیز میرا خیال بدل سکتی ہے۔ لیکن مجھے جس چیز کے بارے میں تجسس ہے وہ یہ ہے کہ آپ اسے دلیل کے ساتھ مجھے سمجھا سکیں گے یا نہیں۔ اگر آپ کسی دلیل کے ساتھ وضاحت کریں گے تو میں اس بارے میں دوبارہ سوچوں گا۔ - پھر آئیے شروع کرتے ہیں۔ ہم تمام چیزوں کودلیل کے ساتھ دیکھیں گے۔+ ٹھیک ہے۔ - تقدیر ایک نہ سمجھ آنے والا موضوع ہے۔ یہ موضوع اکثر زیرِبحث بھی ہوتا ہے۔ ہم اسے اس طرح سے سوچ سکتے ہیں: تقدیر اللہ تعالیٰ کا علم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ہی اس کے بارے میں کچھ جانتا ہے؛ ماضی، حال اور مستقبل میں ہونے والی ہر چیز کا علم تقدیر کہلاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ: " ہاں، اگر خدا سب کچھ جانتا ہے تو اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟"

ہم اللہ تعالیٰ کے علم کو اس کی مداخلت سے الجھاتے ہیں۔ سورج کے مختلف رنگ ہیں، ٹھیک ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ اس کا ایک رنگ پیلا ہوتا ہے اور دوسرا سرخ ہوتا ہے۔ اب، اسی طرح، اللہ تعالیٰ کا نام العلیم بھی ہے، اور اس کا نام القادر بھی ہے۔ العلیم نام "جاننے" کے لفظ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔ تقدیر بھی اس نام کے زمرے میں آتی ہے۔ اس طرح وہ اللہ ہی ہے جو چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ مداخلت کرنے، اور کسی چیز کو تخلیق کرنے کے عمل کا تعلق القادر اور الخالق کے نام سے ہے۔ یہ اس کی ایک الگ خصوصیت ہے۔ تو ہم قسمت کے بارے میں کہاں الجھتے ہیں؟ جب ہم " اللہ کے علم" اور " اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مداخلت" کے تصورات کو آپس میں ملا دیتے ہیں، جیسے اگر سورج کے پیلے اور سرخ رنگ کو ملا دیا جائے۔۔۔ اگر ہم ان کو دو الگ الگ خصوصیات کے طور پر

دیکھ سکیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں: علم کا انحصار معلوم پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا کسی چیز کے بارے میں جاننا اس چیز کے وقوع پذیر ہونے پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر، طلوع آفتاب کا وقت مخصوص ہے، ٹھیک ہے؟ چلیں فرض کرتے ہیں کہ اس کا وقت 07:30 کا ہے۔ یہ کیلنڈر پر بھی لکھا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا سورج اس وقت اس لیے طلوع ہوتا ہے کیونکہ کیلنڈر پر 07:30 کا وقت لکھا ہے یا پھر کیلنڈر پر 07:30 اس لیے لکھا ہوتا ہے کیونکہ سورج اس وقت نکلتا ہے؟ اس کو سائنس کے ذریعہ سمجھا گیا ہے ، اس لیے یہ لکھا ہے۔ تو، میں کہتا ہوں: " علم معلوم کے تابع ہے"۔ اس لیے، یہاں پر معلومات کا انحصار واقعہ کے وقوع پذیر ہونے پر ہے۔ بالکل اس مثال کی طرح، حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں ا

س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مداخلت کرتا ہے۔ ہم پہلے سے ہی سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں، اور چونکہ ہم یہ کر رہے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ اسے ہماری قسمت میں لکھ دیتا ہے۔ میرا مطلب ہے، کہ وہ یہ سب جانتا ہے۔ اب، بھائی ، میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ کی بات منطقی ہے۔ اور بات سمجھ میں آتی ہے۔+ لیکن جب وہ جانتا ہے تو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ تو، وہ پہلے سے جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے، اور سب کچھ ظاہر ہوتا ہے۔ پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ - تو، آپ پوچھ رہے ہیں کہ : "پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟" اللہ تعالیٰ کا ہم سب کو پیدا کرنا اس کی صفات کی عکاسی کرتا ہے، یعنی یہ اس کی صفت کا مظہر ہے۔ مثال کے طور پر، فرض کرتے ہیں کہ آپ بہت سخی انسان ہیں۔آپ میں ایسی کئی خصوصیات ہیں۔ آپ آتے ہیں اور کہتے ہیں: کہ "میں آپ کو کوئی

چیز دینا چاہتا ہوں" اور میں آپ کے ہاتھ باندھ دیتا ہوں اورآپ کی اس خصوصیت کو بے نقاب ہونے سے روک دیتا ہوں۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے؟ یہ بہت غلط بات ہو گی۔+ - یہ غیر منطقی بات ہو گی۔ بالکل اسی طرح، سخاوت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ جب آپ قادر مطلق کے نام الجواد کو دیکھتے ہیں یا دوسرے ناموں یعنی الرحیم یا الحکیم کو دیکھتے ہیں، تو مطلق الحکیم اللہ تعالیٰ کی ان تمام کاموں میں سے سب سے زیادہ منطقی اور فائدہ مند کام کرنے کی ایک صفت ہے ۔ دوسری خصوصیت کیا ہے؟ وہ مطلق الجواد ہے۔ یعنی سخاوت، لا محدود سخاوت۔ اب، اللہ تعالیٰ انسانوں کو وجود میں لانا، مخلوقات کو ظاہر کرنا، ان کو تخلیق کرنا، اور ان کو اپنی سخاوت پیش کرنا اور ان کو انعام دینا چاہتا تھا۔ وہ ابدی زندگی میں بھی اپنی رحمتیں برساتا ہے، جیسے وہ زمین

پر اس مختصر وقت میں اپنی رحمتیں پیش کرتا ہے۔ سخاوت کی صفت کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ اب جیسا کہ ہم نے کہا کہ کسی کی سخاوت کو روکنا عقلمندی نہیں ہے، اور اس کا کوئی مطلب بھی نہیں بنتا کیونکہ سخاوت کی صفت ہے کہ وہ واضح ہونا چاہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عدم سے وجود میں لے کر آیا کیونکہ سخاوت اس کے نام کی صفت ہے۔ یہ بھی ایک آپشن تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پیدا نہ کرتا، تو پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ ہم نے کہا تھا کہ، " اللہ تعالیٰ ہر چیز میں سے سب سے زیادہ منطقی اور سب سے زیادہ فائدہ مند کام کرتا ہے"۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے لوگوں کو عدم وجود سے وجود میں لانے کا آپشن منتخب کیا، پھر بہت سی وجوہات کی بنا پر سب سے زیادہ منطقی اور فائدہ مند چیزیں فراہم کیں کیونکہ یہ اس کی صفات کا عکس ہے۔ اچھا،

میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔+ اللہ تعالیٰ اپنا موازنہ کس کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ صفات صرف اسی میں موجود ہیں۔ -اصل خوبصورتی یہاں ہے، آپ جانتے ہیں؟ کیونکہ، مثال کے طور پر، ہم اپنے آپ کا ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ٹھیک ہے؟ مثال کے طور پر، کہتے ہیں کہ تم مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو۔ تم مجھ سے زیادہ سخی ہو۔+ یہ تو انا کی تسکین بھی ہو سکتی ہے۔ - شاید، لیکن یہ صرف انسانوں کے لیے ہو سکتی ہے۔+ جی ہاں۔ -کیوں؟ کیونکہ ہم ایک جیسے لوگ ہیں ، ہم انسان ہیں، اس لیے ہم ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ ایک ہے۔ وہ مادی چیزوں اور جگہ کے معاملات سے پاک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا اور اپنی انا کا کسی اور

کے ساتھ موازنہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی برابری کا کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ اپنا موازنہ کر سکے یا کرے۔ مذہب کے مطابق وہ عروج پر ہے۔ کوئی چیز اس سے برتر نہیں ہے۔+ - وہ کسی اور جیسا نہیں ہے۔+ جی ہاں۔ - یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کیمروں اور بیگ کے سامنے فخر کرتے ہیں اور مغرور ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ احمقانہ ہو گا۔ بالکل اسی طرح، انا کا تصور بھی اس کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔ جو ہم دیکھتے ہیں وہ اس کی خصوصیات ہیں جو ظاہر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم کسی بچے کے لیے ماں کی محبت کو دیکھتے ہیں، تو وہ اس کے سر پر پیار کرتی ہے اور اس وقت بھی پیار کرتی ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے۔ اب کیا ماں یہ اس لیے کر رہی ہے کہ اسے اس کی ضرورت ہے، یا وہ اس لیے کر رہی ہے کہ وہ بچے سے پیار کرتی ہے؟ وہ ایسا اس لیے

کرتی ہے کیونکہ وہ بچے سے پیار کرتی ہے۔+ لہٰذا ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس لیے پیدا نہیں کرتا کہ اسے ہماری ضرورت ہے۔ وہ ہمیں پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے۔ - ویسے بھی ماں کو یہ پیار کس نے عطا کیا؟ اس ہمدردی کا سرچشمہ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ، اور خدا اور بندے کا رشتہ، یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔+ - ایک جیسا نہیں ہے، لیکن رحمت کے لحاظ سے ایک جیسا ہے کیونکہ رحمت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ رحیم ہے، اور اس نے کائنات میں رحمت پیدا کی ہے۔ اس نے ہمیں سخاوت کا احساس دیا ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ وہ سخی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں موازنہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس موازنہ کی بنیاد پر، آپ اس کو تلاش کرتے ہیں۔ تخلیق کا

مقصد یہی ہے: موازنہ کے ساتھ خالق کو تلاش کرنا۔ کیا میں آپ سے 2 مختلف سوالات پوچھ سکتا ہوں؟+ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ خدا کے وجود کی کوئی ابتدا نہیں ہے، لیکن انسانیت کے وجقد کی ابتدا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ انسانیت کے وجود میں آنے سے پہلے تک ایک لامتناہی وقت ہے، تو اس نے اتنا وقت گزرنے کے بعد اپنی سخاوت دکھانے کے لیے لوگوں کو کیوں پیدا کیا؟ - جس تصور کو ہم وقت کہتے ہیں اس کا آغاز کائنات سے ہوتا ہے۔ تو ، یہ کیا ہے؟ آپ نے شاید بِگ بینگ تھیوری کے بارے میں سنا ہو گا۔ وقت اور کائنات کا نقطہ آغاز۔ جس تصور کو ہم وقت کہتے ہیں اس کا آغاز بِگ بینگ سے ہوتا ہے۔ وقت مادے کی حرکت سے متعلق ایک نظام ہے۔ جس کا آغاز کائنات بننے سے ہوا۔ وقت کا تعلق کائنات کی موجودگی سے ہے، اس لیے ہمیں کہنا چاہیے کہ: وہ ذات جس نے

کائنات اور وقت کو پیدا کیا، وہ قدرتی طور پر وقت اور کائنات سے پہلے موجود تھی۔ فطری طور پر، یہ اس لحاظ سے غیر متعلقہ ہے کہ یہ اس کی تخلیق سے مشابہت نہیں رکھتا، کیونکہ وہ وقت کو پیدا کرنے والا ہے۔ جس طرح فون بنانے والے کسی شخص کا فون کے قوانین میں شمار نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، فون پر ایک لاک لگا ہے۔ کیا فون بنانے والے شخص کو بھی اس فیچر میں شامل کیا جائے گا؟ جب آپ اپنا فون لاک کریں گے، تو کیا وہ شخص بھی لاک ہو جائے گا؟ نہیں۔ –وہ لاک نہیں ہو گا، ٹھیک ہے؟+ کیونکہ قواعد صرف فون پر لاگو ہوتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کیا اور کائنات میں زمان و مکان جیسے تصورات کو مربوط کیا۔ اللہ تعالیٰ وقت سے بے نیاز ہے۔۔۔ جس طرح کسی فارغ شخص کے لیے، طویل یا مختصر وقت کے لیے انتظار جیسے تصورات

درست نہیں ہیں۔ اسی طرح قدرتی طور پر خدا کے لیے وقت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بھائی، آپ جانتے ہیں کہ کسی چیز کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔+ مثال کے طور پر، اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ میرے ہاتھ کی ہتھیلی میں کچھ بھی نہیں ہے ،لیکن یہاں ایٹم کے ذرات موجو د ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ لامکاں سے ایسی کائنات بنا سکتا ہے جب کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ - دراصل یہ کہہ کر آپ اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔+ نہیں ، دیکھیں۔۔۔ - کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پہلے سے کچھ بھی موجود نہ ہو، اس لیے وہاں اللہ تھا؛ اس نے سب کچھ پیدا کیا۔ جیسا کہ آپ نے کہاکہ، میرے ہاتھ پر ہوا کے ذرات ہیں؛ یہاں ذرات موجود ہیں حالانکہ ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم مادی دنیا میں رہتے ہیں، لیکن جس کے بارے میں

ہم بات کر رہے ہیں وہ مادے سے پاک ہے۔ وہی ایک ذات ہے جس نے مادے کو پیدا کیا۔ وہ وقت سے بھی پاک ہے۔ وہی ہے جس نے وقت کو پیدا کیا۔ وہ مادے پرمنحصر نہیں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے جو مادے کے بغیر ہے۔ آپ نے کہا کہ" کسی مادے کے بغیر کوئی چیز نہیں بن سکتی"۔ لیکن یہ بات صرف مادی چیزوں کے لیے درست ہے، لہٰذا یہ خیال دراصل اللہ تعالیٰ کے وجود کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ مادہ کسی چیز کی عدم موجودگی کے باوجود خود بخود پیدا نہیں ہو سکتا۔ یقینی طور پر، مادہ کو پیدا کرنے والے کے پاس ایک خاص طاقت کا ہونا ضروری ہے۔ چونکہ ایک خالق موجود ہے، ٹھیک ہے؟ اگر یہ خالق سب کچھ پیدا کر سکتا ہے،+ تو یہ خالق کیسے وجود میں آیا؟ بغیر کسی چیز کے کوئی بھی چیز کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟ بہت اچھا سوال ہے۔

ٹھیک ہے، آئیے اسے اس طرح سے دیکھتے ہیں: کہیں کہ میرے ہاتھ میں پانی کا ایک گلاس ہے، ٹھیک ہے؟ اگر میں ایک گلاس پانی آپ پر گِراؤں، تو آپ گیلے ہو جائیں گے، میں نے ٹھیک کہا؟ کیوں؟ پانی آپ کو گیلا کرتا ہے، لیکن اگر پانی کے اوپر پانی گِرایا جائے، تو پانی پانی کو گیلا نہیں کرتا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ پہلے سے ہی گیلا ہے، اس لیے پانی گیلا نہیں ہو سکتا۔ یہ پہلے سے گیلی چیز کو متاثر نہیں کرتا بلکہ جو چیز خشک ہے اسے گیلا کرتا ہے۔ یہاں اہم مسئلہ یہ ہے کہ: " آپ کا جسم گیلا ہونا عارضی چیز ہے"، جو بعد میں متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح، اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی منفرد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے، اور وہی مادہ کو پیدا کرتا ہے۔ مادہ بعد میں پیدا کیا گیا، اور مادہ کا ماخذ اللہ تعالیٰ ہے۔ اور پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ

تعالیٰ کی پیدا کی گئی مخلوق پر ماحول کی کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا ، کیونکہ اس کی تخلیق اس کے طریقے سے منفرد ہے۔ جس طرح ماحول کے اثر سے پانی بھیگتا نہیں ہے اسی طرح اللہ کی مخلوق ضروری ہے اس لیے ماحول کا اس پر اثر نہیں ہوتا ، لیکن اللہ تعالیٰ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس لیے یہاں "پہلے" اور " بعد" جیسے تصورات لاگو نہیں ہوتے کیونکہ یہاں وقت کا کوئی تصور نہیں ہے، ماضی کے بارے میں پوچھنا، جیسے کہ " خدا کو کس نے بنایا؟" ایک تضاد ہے کیونکہ جہاں وقت کا تصور نہیں ہوتا وہاں ماضی کا تصور بھی نہیں ہوتا۔ ظاہر ہےکہ، ایک ایسی ہستی کے لیے جس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا ہے، یہ پوچھناکہ " اسے کس نے پیدا کیا؟" ایک غیر معقول بات ہے۔ اچھا، بھائی میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں: + " بائبل، تورات اور زبور کے

بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں تبدیل کر دیا گیا ہے۔- جی ہاں۔ قرآن مجید 1400 سال پہلے حضرت محمدﷺ پر نازل ہوا تھا۔+ اگرچہ یہ بہت درست طریقے سے مرتب کیا گیا تھا، لیکن آپ مجھے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ کتاب 1400 سالوں کے دوران تبدیل نہیں ہوئی۔ - اب، ہمیں یہاں ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ قرآن مجید بدل دیا گیا ہے۔ آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے، اور اب آپ کو اسے ثابت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ دیکھیں، میں نے یہ نہیں کہاکہ" یہ بدل گیا ہے"۔ آپ مجھے غلط مت سمجھیں، لیکن میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ " یہ نہیں بدلا ہے"۔ - ٹھیک ہے، پُر سکون ہو جائیں، پھر ہم اسے اس طرح سے جانتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کسی بھی ملک میں کسی بھی مسجد میں جاتے ہیں تو وہاں تمام قرآن مجید ایک جیسے ہوتے ہیں یہ اس

بات کا ثبوت ہے کہ قرآن مجید تبدیل نہیں ہوا ہے۔ جب میں یہاں کی مسجد میں جا کر قرآن مجید پڑھتا ہوں، اور جب میں انگلستان کی کسی مسجد کے اندر جا کر قرآن مجید پڑھتا ہوں، تو وہ دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں، وہ لفظ بہ لفظ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک بھی فرق نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب بالکل ایک جیسے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن مجید میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اگر اس میں کسی نے ذرابھی تبدیلی کی ، تو یہ بہت سے ٹکڑوں کا باعث بنے گا، کیونکہ سب سے پہلے تو اس پر ڈومینو کا اثر ہو گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں کسی قسم کا فرق نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت ، لاکھوں حافظ موجود ہیں، لاکھوں۔۔۔ جو قرآن مجید کو شروع سے آخر تک حفظ کرتے ہیں

اور بہت سے لوگوں نے اس خیال کو اپنایا ہے۔ حتیٰ کہ 1400 سال بعد اس دور میں بھی لاکھوں لوگ اسے حفظ کرتے ہیں۔ لہٰذا، یاداشت کا تسلسل ہمیں کیا دکھاتا ہے؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ قرآن مجید اسی طرح حفظ کیا جاتا رہا تھا اور اسی طرح آج تک چلتا آ رہا ہے۔ انگلستان کی برمنگھم یونیورسٹی میں ، انہیں ایک قرآن مجید ملا۔ انہوں نے اس پر کاربن 14 ٹیسٹ کیا اور یہ جان پائے کہ یہ حضرت عثمان کے زمانے کا ہے۔ تقریباً 13، 14 صدیوں تک،+ یہ کہیں پڑھا جاتا رہا ہوگا۔ - حتیٰ کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے پر بھی یہ ہر بار بالکل ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم اسے دیکھتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید لفظی طور پر ایک جیسا ہی ہے۔ میں اسے اس طرح سے بتاتا ہوں بھائی، کہ جب ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں، تو کچھ ایسے نکات ہیں جو

منطقی لگتے ہیں،+ لیکن ایسے نکات بھی ہیں جو ہمیں غیر معقول معلوم ہوتے ہیں۔ اس تضاد میں پڑنا آپ کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ " مجھے کیا کرنا چاہیے؟" - کیا صرف اس وجہ سے مذہب سے منہ موڑنا مناسب بات ہے کہ " میرا ذہن اس کے تصور کو پوری طرح سمجھ نہیں سکا"؟ یہاں یہ اہم ہے کہ آپ یہ کام کیسے کرتے ہیں: آپ اندر سے تحقیق کرتے رہیں۔ ایک محل کے بارے میں سوچیں جس میں 100 دروازے ہوں اور آپ نے صرف ایک دروازہ کھولا۔ حتیٰ کہ اگر یہاں بہت سے دروازے بند ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نکا ت ایسے ہیں جن کو آپ نہیں سمجھ سکے، لیکن یہ آپ کو اندر جانے سے نہیں روک سکتا۔ اندر جانے کے لیے ایک دروازہ ہی کافی ہے۔ آپ باقی دروازوں کو اندر سے کھولنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسے نکات موجود ہیں جو آپ کو سمجھ نہیں آتے ، تو آپ اسلام

کے محل کے اندر سے باقی دروازے کھولتے رہیں۔ میں اسے دہراتا ہوں، آپ اسلام کے محل کے اندر سے اپنی تلاش جاری رکھیں۔ میرا مطلب ہے، بھائی۔۔۔+ آپ کے الفاظ بہت دلکش تھے۔ میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی تحقیق کو جاری رکھوں گا۔ بس آپ کی اس خوبصورت تقریر کی خاطر، میں تحقیق کرتا رہوں گا۔ میں مزید تلاش جاری رکھوں گا۔ شاید یہ صحیح بات ہے، یا شاید نہیں، میں ابھی یقینی طور پر نہیں جانتا، لیکن میں تحقیق جاری رکھوں گا۔ - کیا ہم مِل کر اندر سے تحقیق کریں؟ میں مذہب کی طرف واپس نہیں جا سکتا۔ دیکھیں، اگر میں نہ چاہتے ہوئے بھی مذہب کی طرف واپس چلا جاؤں تو۔۔۔+ - نہیں ، نہیں، آپ ایسا مت سوچیں کیونکہ آپ اپنی دلیل کا استعمال جاری رکھیں گے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ،" میں اس دلیل کے بارے میں چھان بین کروں گا ، لیکن

اندر سے کروں گا۔" آخر میں، میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنی دلیل کا استعمال کیے بغیر تحقیق جاری رکھیں۔ میں کہہ رہا ہوں کہ " عقل سے کام لیں"۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شیطان کی چال ہے کیونکہ آپ اپنی دلیل پر قائم رہیں گے۔ پھر شاید میں کوشش کر سکتا ہوں۔+ - آئیے مِل کر تحقیق کرتے ہیں، اور آپ جب چاہیں ہمیں دوبارہ پیغام بھیج سکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آئیے مِل کر اس کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ - ٹھیک ہے جناب بہت اچھا، کیا آپ کو کلمہ یاد ہے؟ چلیں پڑھتے ہیں۔+ اشھدان لاالہ الاللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ
