# Pornography Kesey Apke Mustaqbil Ki Zindagi Ko Asar Karti Hai! - NoFap Fail! ‪@iamLucid‬

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/how-does-pornography-affect-your-future-life-nofap-fail-at-iamlucid
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=FdZ9Xzjpo1s
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں دن میں درجن بار مشت زنی کرتا ہوں۔ میں 12 دفعہ سے زیادہ مشت زنی کرسکتا ہوں۔ گویا تم اگر دن میں 3 دفعہ یہ کرتے ہو برو تو مسلسل اسی ذہنیت میں پھنسے رہتے ہو، اوہ !

کام ہوگیا یہاں ایک پریشان کن مسئلہ، جو مسلسل بڑھ رہا ہے، یہ بچوں پر جنسی زیادتی کی لاکھوں فُحش تصاویر کی تخلیق ہے۔ یہ بُھوت آپ اپنے دماغ میں پال لیتے ہیں۔ بالکل صحیح۔ میں دیکھ رہا ہوں پورنوگرافی آپ کی کیا حالت کر رہا ہے۔ لوگوں کو اِس کی لت پڑ چکی ہے۔ یہ نئے زمانے کے سگریٹس ہیں۔ سنگاپور میں ہوسٹ کردہ بچّوں کے فحش ویب پیجز میں بڑا اضافہ یہ V کارڈ میرے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی کے کنوارے پن کی نشانی۔ لوگ اصل زندگی سے زیادہ سوشل میڈیا پر تصاویر میں انویسٹ کرتے ہیں۔ تو مشت زنی کوئی فطری ضرورت نہیں ہے اگر آپ اپنے ہاتھ سے بچّے پیدا نہیں کر سکتے تو مشت زنی ہرگز ایسی چیز نہیں ہو سکتی جس کا فطرت سے کوئی تعلق ہو۔ لوگ اسے ا صل مباشرت کی جگہ شارٹ کٹ کے طور پر کرتے ہیں۔ آپ کی اصل فطری ضرورت یہ ہے کہ باہر جائیں، پارٹنر سے ملیں، اُس سے شادی کریں اور پھر اُس سے جنسی ملاپ کریں درحقیقت آپ اسی طریقے سے نسل بڑھاتے ہیں۔ لہٰذا یہ چیز فطری ضرورت ہے۔ لیکن جہاں تک اپنے ہاتھ سے مشت زنی کی بات ہے، اِس کا بالکل کوئی سینس نہیں بنتا۔ مجھے یقین ہے یہ کبھی فطری ضرورت نہیں بن سکتی۔ یہ ایک لت بن جاتی ہے کیونکہ آپ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے، جب آپ اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تب مستقبل میں پتہ چلتا ہے کہ آپ تین، چار، پانچ مرتبہ ناکام ہو چکے ہیں، حالانکہ آپ خود کو کہہ چکے تھے کہ بس آخری مرتبہ میں یہ کام کر رہا ہوں۔ افسوسناک سچ یہ ہے کہ یہ سب کچھ لوگوں، اور وقت کے ساتھ ساتھ خصوصاً کم عمر لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ پورنوگرافی سب کی پہنچ میں ہے۔ اب، مشت زنی کو خود ایک مسئلہ بنا دینے والی چیز یہ ہے کہ پورنوگرافی سب کی پہنچ میں ہے۔ شاید خود سے یہ کام کرنے کے لیے لوگ زیادہ رغبت نہ پاتے جب تک کہ اُن کے جذبات آسانی سے بھڑکانے والی کوئی ایسی چیز نہ ہوتی جو غیر فطری ہو، جس پر زیادہ تر ملکوں میں پابندی نہ ہو، اور جو سب کی پہنچ میں ہو اپنی من پسند ہر کٹیگری کی لاکھوں ویڈیوز تک گھنٹوں اور کئی کئی گھنٹوں کی آسان پہنچ۔ دماغ ایک لرننگ تجزیاتی مشین ہے۔ اگر آپ کا دماغ دوسروں کے جنسی ملاپ کو دیکھ کر جذبات بھڑکانا سیکھ گیا تو ممکن ہے یہ اُس وقت جذبات ابھارنے میں ناکام ہو جائے جب آپ خود کسی کے ساتھ ہوں۔ عموماً اس کی شروعات بہت سکون آمیز اور سادہ سی چیز ہوتی ہے اور پھر یہ انتہائی شہوت انگیز اور جنسی اظہار میں بدل کر آخرکار ان کی زندگی اور رشتوں کو تباہ کر دیتی ہے کیونکہ اُن کے دماغ میں یہ تصوّر بڑھتا چلا جاتا ہے کہ عورت استعمال کی ایک چیز ہے اور اکثر اُسے اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا اثر مرد و عورت دونوں پر پڑتا ہے۔ لیکن خصوصاً اِس زمانے میں زیادہ تر نوجوانوں کے ساتھ یہ ہوتا دیکھتا ہوں۔ لہٰذا جب آپ اس سے رُک نہ سکیں تو یہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ نہیں رُک سکتے۔ لہٰذا پورنوگرافی کے نقصانات تقریباً لامحدود ہیں۔ مثلاً، پہلا نقصان یہ ہے کہ یہ انتہائی، انتہائی شدید لت ہے۔ جس کی انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی جسے ہم مزے سے اپنے پیسوں سے آن لائن فوری تلاش کر سکتے ہیں۔ ہم جب چاہیں اپنے فونز پر لوگوں کے جنسی ملاپ کی ہر قسم کی ویڈیوز کی ہزاروں لاکھوں گھنٹوں تک بلا روک ٹوک رسائی پا سکتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر غیر فطری ہے۔ ہمارے بزرگ، ہمارے باپ دادا، نے کبھی ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا ہوگا جو ہم آج کے زمانے میں 5 منٹ کے اندر اندر دیکھ لیتے ہیں۔ خصوصاً چھوٹے بچّے جو پورنوگرافی کے بہت زیادہ عادی ہو رہے ہیں، دماغ دوسروں کو جنسی ملاپ کرتا دیکھ کر جذبات بھڑکانا سیکھ رہا ہے۔ گویا آپ اپنے دماغ کی پروگرامنگ تماش بین کے طور پر کر رہے ہیں جس کا اختتام آخرکار PIED - پورنوگرافی سے پیدا ہونے والے porn induced erectile dysfunction پر ہوتا ہے میں اصل زندگی میں کسی کو جانتا ہوں جو اس مسئلے کا شکار ہے۔ پھر وہ حقیقی زندگی میں جنسی ملاپ کے قابل نہیں رہتے کیونکہ وہ ویڈیو اور اُس میں انتہائی غیر فطری یا غیر حقیقی جسمانی ابھار والی لڑکی کو دیکھ کر اس چیز کے عادی ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے شخص کو مُوڈ میں لانے والی واحد چیز وہ ہوتی ہے جو حقیقی بھی نہیں ہے۔ وہ اُس تصوّراتی دنیا میں جی رہے ہوتے ہیں جہاں اُن کا جسم بھی ٹھیک کام نہیں کر رہا ہوتا۔ شاید وہ اولاد بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور اُن کی اس لت اور پورنوگرافی دیکھنے کے باعث اُن کی شادی ایک خوفناک خواب بن جاتی ہے۔ لوگوں اور خصوصاً عورتوں کو صرف استعمال کی چیز سمجھنا، جنسی زیادتی، نقصان دہ عادی افعال، ڈوپامائن کی مقدار کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ آپ کو جنسی تسکین کے لیے ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ فحش ہونا پڑتا ہے۔ مثلاً، اگر آپ ایک سادہ ویڈیو سے شروع کریں گے تو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ فحش ویڈیو پر جا پہنچیں گے کیونکہ آپ کے دماغ میں ڈوپامائن ریس یپٹرز بے حس ہو جائیں گے، یا اگر ایک لیول ون آپ میں جنسی جوش پیدا کرتا تھا، تو بعد میں لیول 15 بھی وہ جوش پیدا نہ کرسکے اور یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ ڈوپامائن میں اضافہ جتنا زیادہ ہوگا، بعد میں زوال اتنا ہی بڑا ہوگا۔ اور یہ نہیں کہ آپ زمین پر آ گریں گے، بلکہ آپ پاتال میں دھنس جائیں گے۔ امریکن بورڈ آف سائیکاٹری اور نیورولوجی کے ڈاکٹر لاؤرینس SPECT اسکیننگ کے ذریعے ہمیں بتا رہے ہیں کہ فحش میڈیا دیکھنے پر آپ کے دماغ کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ یہ جنسی لت کے شکار دماغ کا اسکین ہے۔ ایک 18 سالہ جنسی لت کا شکار دماغ۔ اور ہم اس کا موازنہ ایک نارمل دماغ سے کرتے ہیں۔ بظاہر، ہم بتا سکتے ہیں کہ یہ نارمل نہیں ہے اب ہم اس کا موازنہ ایسے دماغ سے کریں گے جو کوکین کی لت میں مبتلا ہے، یہ شخص کوکین کی لت کا شکار ہے، جیسا کہ نظر آ رہا ہے، پیرائٹل لوب میں، پری فرنٹل کورٹیکس میں، یہ بالکل ایک جیسے ہیں اگرچہ آپ کو اس دماغ کا اوپری حصّہ نظر نہیں آ رہا، ابھار تقریباً ایک جیسے ہیں اگر ہم اسے عمودی حصّوں میں دیکھیں تو یہ شخص اتنا زیادہ دماغ استعمال نہیں کر رہا کیونکہ یہ اپنے دماغ کو ایکٹیو بنانے کے لیے اسے سیکس اور دوسری چیزوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہم جنسی جوش، پورنوگرافی، کوکین اور جنسی لت میں بہت سی ایک جیسی غیر فعالیت دیکھتے ہیں۔ اب آپ کسی کا نارمل دماغ دیکھ کر دوبارہ یہ بتا سکتے ہیں کہ بظاہر ہمیں اتنے زیادہ ابھار نظر نہیں آتے۔ یہ ذہن پر چھا جاتے ہیں۔ بالکل، یہ لوگوں کے لیے کہیں زیادہ شہوت انگیز اور نقصان دہ بلکہ غیر قانونی کاموں کا دروازہ کھولتے ہیں۔ کیونکہ جو ویڈیوز ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں، یہ اصل میں وہ ویڈیوز ہیں جن میں نقالی کی جاتی ہے۔ ویڈیوز میں حقیقی لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہ 18 سال سے کم عمر لوگوں کی نقالی کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ نقالی کرتے ہوئے انتہائی فحش چیزیں کرتے ہیں جو بہت سی ریاستوں میں غیر قانونی ہیں۔ ویڈیوز میں موجود لوگ حقیقت میں یہ سب نہیں کر رہے ہوتے۔ وہ صرف اداکاری کرتے ہیں۔ چنانچہ اُنہیں دیکھنے والوں میں حقیقی طور پر خود یہ سب کرنے کا جذبہ اور بھڑکتا ہے۔ جیسے کہ جنسی زیادتی یا بیہودہ پن...، وہ بیہودگی کے کام اور اسی طرح کے نقصان دہ کام انجام دیتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ویڈیو میں دیکھ رہے ہیں اور اب یہی ان کا اصل معیار بنتا جا رہا ہے۔ تو جیسے میں نے کہا اس کی شروعات بہت سادہ چیز سے ہوتی ہے لیکن اختتام کسی غیر قانونی کام پر ہوتا ہے۔ مثلاً، ویڈیوز میں نابالغ یا ممکنہ نابالغ بچّوں کی کٹیگریز ہوسکتی ہیں جس کے باعث بڑی بڑی کمپنیوں پر اس وقت مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔ یا یہ ریپ جیسے کسی فعل کی نقالی کرسکتے ہیں، جو لوگوں کے لیے پُرکشش ہوتا ہے اور اس سے اُنہیں زیادہ جوش ملتا ہے کہ وہ باہر نکل کر حقیقی زندگی میں بھی یہ کریں کیونکہ یہ ویڈیوز انہیں آسانی سے اپنے فونز میں مل جاتی ہیں۔ اور اس میں ظلم، تشدد اور گھریلو بدسلوکی بھی دکھائی جا رہی ہے اور سب سے بڑھ کر اگرچہ ویڈیو میں یہ سب حقیقی نہیں ہوتا یا اداکاروں کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی، لیکن جو تصوّر اور نظریہ دکھایا اور ان ویڈیوز کے ذریعے شاندار بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ لوگوں کو کہیں زیادہ جارحانہ بنا رہا ہے اور جنسی زیادتیوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ کیا میرا دماغ پورن چھوڑنے کے بعد ٹھیک ہوسکتا ہے؟ جی ہاں آپ ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ پورنوگرافی کی لت کے شکار افراد کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ دماغ سلجھ کر ری سیٹ ہو جاتا ہے۔ سازگار کیفیت آخرکار، عموماً 1 سال کے عرصے میں اصل حالت پر واپس آ جاتی ہے۔ اپنے دماغ کو اچھی تصاویر اور صحت مند عادات کی خوراک دیں۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کو پورنوگرافی سے بھی مکمل دُور رہنا ہوگا۔ اس لت کے دوران، دماغ کے ریسیپٹرز کی تعداد کم ہو جاتی ہے کیونکہ ڈوپامائن کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے وہ عام لوگوں جیسا لطف نہیں اٹھا سکتے۔ جب لوگ مشت زنی چھوڑ دیتے ہیں تو کچھ عرصے بعد ان کے ڈوپامائن ریسیپٹرز کا اضافہ قدرتی حالت پر آ جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور سیر و سیاحت، دوستوں سے گفتگو، عام لوگوں کی طرح گھومنے پھرنے جیسی سرگرمیوں کا لطف اُٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔
