# Qaum E Lut Par Azaab – AI Se Manzar Kashi | Quran Ke 3 Mojzay Daryaft!

- Language: ur
- Published: 2026-08-29
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/how-the-people-of-lut-pharaoh-saba-were-destroyed-3-quranic-miracles-discovered
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=fUcirUaM6Ok
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

صدیوں پہلے قرآن میں جن تباہ شدہ شہروں کا ذکر کیا گیا تھا، وہ بالآخر ایک ایک کر کے منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ ڈی کوڈ کیے گئے قدیم تصویری کتبے، آسمان سے برسنے والے پتھر، اور ایسے کھنڈرات جن پر تباہی کے واضح آثار موجود ہیں۔ اس ویڈیو میں، ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے قومِ لوط، سبا اور فرعون کی اچانک بربادی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ہزاروں سال پہلے، وہ بڑی عیش و خوشحالی میں رہتے تھے، عالی شان عمارتیں تعمیر کرتے تھے، اور تکبر و نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگتے تھے۔ لیکن ایک دن، سب کچھ الٹ کر رہ گیا۔ قرآن نے ان کی تباہی کی ایک ایک تفصیل بیان کی ۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ان حقائق کو کامل یقین کے ساتھ پہنچایا، حالانکہ اس وقت ان کا یہ جاننا بالکل ناممکن تھا۔ اور صدیوں بعد، سائنس نے ان تمام باتوں کی تصدیق کرنا شروع کر دی۔ تو پھر قرآن کے صفحات آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے عین مطابقت کیسے رکھتے ہیں؟ یہ سب بالآخر کیسے سامنے آیا، اتنے طویل عرصے تک زمین کے نیچے دفن رہنے کے بعد؟ اور بالآخر یہ تینوں قومیں کس طرح برباد کی گئیں؟ اگر آپ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے تیار ہیں، تو آئیے شروع کرتے ہیں۔ "پھر سورج نکلتے ہی انہیں ایک ہولناک چیخ نے آ گھیرا۔ پھر ہم نے اس بستی کو الٹ کر رکھ دیا، اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔ بلاشبہ، وہ بستی ایک راستے پر واقع ہے۔" تقریباً 4,000 سال سے چھپا ہوا ایک راز افشا ہونے کا منتظر تھا۔ 2005 میں، سچائی کی تلاش سٹیون کولنز کو وادیٔ اردن کی ایک عظیم الشان اور خاموش پہاڑی پر لے گئی، جسے کہتے ہیں تل الحمام ۔ مقامی لوگ اسے منحوس سمجھ کر وہاں جانے سے گریز کرتے تھے۔ لیکن یہ جگہ آخر تھی کہاں؟ یہ سدوم اور عمورہ کے شہر تھے، جو کسی زمانے میں اپنی بے پناہ دولت، عیش و عشرت اور خوبصورتی کے لیے مشہور تھے۔ لیکن جب اخلاقیات کا زوال ہو جائے، تو پھر دولت کس کام کی؟ یہ شہر جنسی بے راہ روی کی ایسی دلدل میں جکڑے ہوئے تھے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ حضرت لوط علیہ السلام سالہا سال انہیں خبردار کرتے رہے، باوجود اس کے کہ وہ بالکل اکیلے تھے۔ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ اور بالآخر، وہ اسی طرح صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے جیسا کہ قرآن نے بیان کیا۔ برسوں تک لوگ اس بات کا مذاق اڑاتے رہے کہ اتنی بڑی تباہی واقعتاً آئی تھی۔ کیا ایسی تہذیب کے آثار تلاش کرنا ممکن تھا؟ کیا علمِ آثارِ قدیمہ واقعی حضرت لوط علیہ السلام کا واقعہ ثابت کر سکتا تھا؟ اس کا جواب راکھ اور پتھروں کی تہوں تلے گہرائی میں دفن، دریافت ہونے کا منتظر تھا۔ سب کی نظریں بحیرۂ مردار (ڈیڈ سی) پر ٹکی ہوئی تھیں۔ یہ علاقہ صدیوں سے قومِ لوط سے منسوب چلا آ رہا ہے۔ جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تل الحمام میں کھدائی شروع کی، تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے لگے۔ جیسے کہ پگھلے ہوئے مٹی کے برتن، راکھ کی تہیں اور جلی ہوئی انسانی باقیات۔ یوں لگتا تھا جیسے ان شہروں پر اچانک کوئی بڑی آفت نازل ہوئی ہو اور وہ ایک ساتھ تباہ و برباد ہو گئے ہوں۔ لیکن کیسے؟ امریکی اور اردنی محققین نے برسوں تک اس علاقے میں کھدائی کی۔ اور جو کچھ انہوں نے دریافت کیا، وہ جلد ہی پوری دنیا کو حیران کر دینے والا تھا۔ یہ صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ ایک بہت بڑی شہری ریاست تھی۔ یہ تباہی بے ترتیب نہیں تھی، بلکہ اس کی ایک واضح سمت تھی۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس نے عمارتوں کو ان کی بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا اور تمام چیزوں اور لاشوں کو کئی میٹر دُور ایک ہی سمت میں پھینک دیا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایسے انسانی ڈھانچے ملے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے تھے۔ کچھ ہڈیاں تو بالکل باریک ذرّات میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ ایک ڈھانچہ دفاعی حالت میں ملا، جیسے وہ اپنے چہرے کو شدید حرارت سے بچانے کی کوشش کر رہا ہو۔ محققین کو 'شاکڈ کوارٹز' اور ہیرے جیسے ذرّات ملے جو صرف شدید ترین دباؤ کے تحت ہی بنتے ہیں۔ انہیں مٹی میں پگھلے ہوئے نایاب عناصر جیسے ایریڈیم اور پلاٹینم ملے۔ یہ معدنیات کسی خلائی دھماکے کی واضح علامتیں ہیں۔ ان دھاتوں کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 2,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنا ضروری تھا، جو کسی آتش فشاں سے بھی زیادہ گرم ہے۔ اتنی کم بلندی پر زمین کی کوئی بھی چیز اتنی زیادہ حرارت اور دباؤ پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ یہ ایک نایاب اور ہولناک تباہی تھی جو آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ اس دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا۔ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ ایسا تھا جیسے قرآن کی آیات ان کی آنکھوں کے سامنے جیتی جاگتی حقیقت بن گئی ہوں۔ "ہم نے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔" "پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس شہر کو الٹ کر رکھ دیا۔" تو پھر، بحیرۂ مردار (ڈیڈ سی) آج کیسا ہے؟ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا اس کا نام: مردہ۔ قرآن ماحولیات کے بارے میں ایک ایسی بات بیان کرتا ہے جو واقعی حیرت انگیز ہے، خاص طور پر اس دَور کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں یہ نازل ہوا تھا۔ "خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ان برائیوں کے سبب جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔" آج بحیرۂ مردار میں کوئی مچھلی یا جاندار زندہ نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ جگہ کسی زمانے میں ایک ایسے معاشرے کا مسکن تھی جس نے اللہ کی قائم کردہ حدود کو پامال کر دیا تھا۔ " اجنبیوں، کیا اتنی دور سے آئے ہوئے، وہ بھی بغیر عورت کے؟ " "ہمارے پاس کوئی عورت نہیں ہے۔ خدارا ہمیں جانے دیں۔" اللہ نے ان کی طرف ایک رسول بھیجا ، مگر انہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اب تباہی نازل ہونے میں بس چند ہی گھنٹے باقی تھے۔ اللہ کے فرشتے خوبصورت مردوں کے روپ میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ لیکن۔۔۔ "میں نے آج رات ایک اور خوبصورت شخص کو ان کے گھر داخل ہوتے دیکھا۔" جب شہر کے بدکار لوگوں نے یہ سنا، تو انہوں نے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ ان کے ارادے بالکل واضح تھے۔ "اب تم انہیں اور نہیں چھپا سکتے۔ باہر آ جاؤ، ہمارے صبر کا امتحان نہ لو۔" حضرت لوط علیہ السلام اس قدر شرمسار اور ندامت محسوس کر رہے تھے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پکار اٹھے: "اللہ سے ڈرو، اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی معقول انسان نہیں ہے؟" "باہر نکلو!

ہمیں اکیلا چھوڑ دو!" جس منظر کو وہ کبھی معمولی سمجھتے تھے، وہ اس رات اپنے تاریک ترین انجام تک پہنچ چکا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ذرا بھی دیر نہ کی اور ایمان والوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ساتھ شہر سے نکل گئے۔ جیسے ہی رات سے صبح ہوئی، پُوری قوم تباہ و برباد ہو چکی تھی۔ دولت، شان و شوکت، غرور۔۔۔ صبح ہوتے ہوتے، یہ سب تاریخ کے صفحے سے مٹ چکے تھے۔ ان کی جگہ صرف پتھر اور راکھ ہی باقی رہ گئی۔ اب، ہم قدیم مصر کا رُخ کرتے ہیں۔ جو تاریخ کی طاقتور ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ یہ بے پناہ دولت، عالیشان محلوں اور مضبوط فوجوں کی سرزمین تھی۔ لیکن ایک دن، وہاں کا حکمران فرعون ایک خواب دیکھ کر دہشت زدہ ہو گیا۔ جس میں بنی اسرائیل کے ایک لڑکے کے ہاتھوں اس کے زوال کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ چنانچہ اپنے تاج و تخت کو بچانے کے لیے، اس نے ایک ظالمانہ حکم جاری کیا۔ "ہر پیدا ہونے والے لڑکے کو قتل کر دیا جائے!" اور یہ عین وہی وقت تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ تاہم، ان کی والدہ نے ایک الہامی اشارے پر عمل کرتے ہوئے انہیں لکڑی کے ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی نذر کر دیا۔ تقدیر کے ایک عجیب کھیل کے تحت، دریا انہیں ان کے سب سے بڑے دشمن کے محل تک لے گیا۔ فرعون کو خبر بھی نہ تھی کہ جس بچے سے وہ ڈر رہا تھا، وہ اب اسی کے اپنے گھر میں پل رہا ہے۔ اور سالوں بعد، تقدیر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے حقیقی مقصد کے لیے تیار کرنے کی خاطر محل سے دُور لے گئی۔ صحرا میں ایک پُرسکون زندگی گزارنے کے بعد، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی مقدس ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مصر واپس لوٹے۔ ایک بادشاہ کے غرور اور ایک نبی کے مقصد کے درمیان سب سے بڑی جنگ شروع ہونے والی تھی۔ صدیوں تک کوئی بھی قدیم مصری تحریروں کو نہ سمجھ سکا۔ تاہم، ایک واحد دریافت نے سب کچھ بدل دیا: "روزٹا اسٹون" (حجرِ روزٹا)۔ یہ پتھر ماضی کی کلید بن گیا، جس نے بالآخر ہمیں ان قدیم تصویری کتبوں کو پڑھنے کے قابل بنایا۔ اور ایک بار پھر، جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں بالکل درست تاریخی معلومات ملتی ہیں جو جدید دریافتوں سے عین مطابقت رکھتی ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ان پوشیدہ حقائق تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کیونکہ یہ زبان صدیوں پہلے ختم ہو چکی تھی۔ اس سے ایک منطقی نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اگر قرآن تاریخ کے ایسے پوشیدہ حقائق بیان کرتا ہے جو صدیوں بعد سچ ثابت ہوتے ہیں، تو یہ لازماً خالقِ کائنات ہی کا کلام ہے۔ یہ انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سفر ایک حقیقی تاریخی واقعہ تھا۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ مصر کے بارے میں یہ مخصوص حقائق تورات میں موجود نہیں ہیں۔ ایک سادہ سی مثال کے طور پر، آئیے قرآن میں استعمال ہونے والے القابات کو دیکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے واقعے میں حکمران کو "فرعون" کہا گیا ہے۔ جبکہ حضرت یوسف کے واقعے میں حکمران کو "بادشاہ" کہا گیا ہے۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ "فرعون" کا لقب صرف 'جدید بادشاہت' کے دَور سے استعمال ہونا شروع ہوا تھا، اور یہ عین حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہی زمانہ ہے۔ اس سے پہلے، حضرت یوسف علیہ السلام کے دَور میں، مصری حکمرانوں کو بادشاہ کہا جاتا تھا۔ جبکہ تورات اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر دونوں ادوار کے لیے "فرعون" کا لفظ ہی استعمال کرتی ہے۔ وہ دونوں کو فرعون ہی کہتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن میں ایسی منفرد تاریخی درستگی موجود ہے جو عہد نامہ قدیم میں نہیں تھی۔ قرآن کس طرح تاریخ کے پوشیدہ حقائق کو ظاہر کرتا ہے، اس کی ایک اور مثال دیکھنے کے لیے ہم اس عظیم مقابلے کے دن کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام سنا، تو وہ تکبر اور غصّے سے بھر گیا۔ اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے، اس نے حضرت موسیٰ کو ایک عوامی مقابلے کا چیلنج دیا۔ "یہ دربار تمہارے خدا کے جادو کے آگے نہیں جھکے گا۔ مصر اپنے بہترین جادوگر کے ساتھ اس کا جواب دے گا۔ آؤ ایک ایسی جگہ اور وقت طے کریں جہاں سب بآسانی جمع ہو سکیں۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دن کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا۔ انہوں نے ایک ایسا دن چنا جب تمام لوگ جمع ہوتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن اس دن کو "یوم الزینۃ" کہتا ہے، جس کا مطلب آرائش، سجاوٹ اور خوبصورتی کا دن ہے۔ اور یہی وہ بات تھی جو اس تہوار کو دیگر تہواروں سے ممتاز کرتی تھی۔ جب ہم قدیم مصری تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ایک بڑا جشن نظر آتا ہے جسے "اوپت فیسٹیول" کہا جاتا تھا۔ اور اس تہوار کی سب سے نمایاں خصوصیت آراستگی اور سجاوٹ ہی تھی۔ گھروں کو سجایا جاتا تھا، مرد و خواتین خود کو سنوارتے تھے، عبادت گاہوں اور بتوں کو آراستہ کیا جاتا تھا، اور ان بتوں کو خوبصورتی سے سجائی گئی گلیوں سے گزارا جاتا تھا۔ تو یہ سجاوٹ اور آراستگی کا دن تھا۔ ایک بار پھر، قرآن ایک ایسی سچائی کو ظاہر کرتا ہے جسے تاریخ بھول چکی تھی۔ اور یہ تفصیل بھی آپ کو تورات میں نہیں ملے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واضح معجزات دکھانے کے باوجود۔۔۔ فرعون نے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ اس نے بنی اسرائیل پر اپنے مظالم جاری رکھنے کا راستہ چنا۔ اور اس کے نتیجے میں، مصر پر تنبیہ کے طور پر قدرتی آفات اور بلاؤں کا ایک سلسلہ نازل کیا گیا سیلاب۔۔۔ ٹڈیاں۔۔۔ کیڑے۔۔۔ مینڈک۔۔۔ پانی کا خون میں بدل جانا، اور سالہا سال کا قحط۔ "یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟" "یہ اسی کی بددعا ہے!

ہم پر موسیٰ کا قہر نازل ہوا ہے!" آج بھی ہم ان آفات کا اندراج اس دَور کی دستاویزات میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایپوَر پاپائرس میں، جو نیدرلینڈز کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ اس کی کچھ سطریں واقعی حیرت انگیز ہیں۔ "ہر طرف خون ہی خون ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دریا خون بن چکا ہے، پھر بھی لوگ اس سے پانی پی رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ پانی پینے کے بعد بھی ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ جو کچھ کل نظر آتا تھا، وہ آج باقی نہیں رہا۔" زمین بنجر ہو چکی ہے اور ایسے ویران پڑی ہے جیسے السی کی فصل کٹ جانے کے بعد کا کھیت۔ بالائی مصر ویرانی میں بدل چکا ہے۔ واقعی، ہر طرف اناج تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ زمین روشنی سے محروم ہو چکی ہے۔ "کیا واقعی موسیٰ کو کسی عظیم خدا نے بھیجا ہے؟ شاید۔۔۔ وہ سچ ہی کہہ رہا تھا۔" "پوری سرزمین میں ایک مہلک وبا پھیلی ہوئی ہے۔" بالآخر، بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کا وقت آ پہنچا۔ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رات کی تاریکی میں چپکے سے تمام ایمان والوں کو اکٹھا کیا اور آزادی کی سمت روانہ ہو گئے۔ تاہم، فرعون کو خبر ملنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ "موسیٰ۔۔۔ آج سورج غروب ہونے سے پہلے تم میرے آگے گھٹنے ٹیکو گے۔ سپاہیو!

آج کوئی بچ کر نہ نکلنے پائے!" فرعون اور اس کے عظیم الشان لشکر نے ان کا تعاقب شروع کر دیا۔ ایمان والے سمندر کے کنارے جا پہنچے، سامنے پانی اور پیچھے تعاقب کرتے ہوئے لشکر کے درمیان گھِر گئے۔ "اب ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں بچی۔" "وہ رہا موسیٰ! اور اس کے لوگ!" "موسیٰ!

کیا تم سمجھتے ہو کہ تم مجھ سے بھاگ سکتے ہو؟" اللہ کے حکم سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا سمندر پر مارا، اور پانی دو عظیم الشان دیواروں کی صورت میں بٹ گیا، اور درمیان میں ایک خشک راستہ بن گیا۔ تمام ایمان والے فوراً سمندر کے اندر ان دیواروں کے درمیان سے گزرنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر فرعون ذرا بھی نہ ہچکچایا۔ "سمندر بھی میرے حکم کے تابع ہے۔ مجھ سے بھاگنے والوں کو اب کوئی نہیں بچا سکتا!" اپنے غصّے میں اندھا ہو کر، اس نے اپنے لشکر کو سمندر کے بیچوں بیچ اتار دیا۔ اس نے سوچا کہ یہ راستہ اس کے لیے بھی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ایک غیبی شکنچے میں قدم رکھ رہا تھا۔ "موسیٰ!

آج تمہارا خدا بھی تمہیں نہیں بچا سکتا!" نعوذ بااللہ اچانک، ایک ہولناک اور شدید گرج گونجنے لگی۔ اور سمندر اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ان پر دوبارہ ملنے لگا۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ "ہم برباد ہو گئے!

یہ موسیٰ کا قہر ہے!" فرعون نے توبہ کرنے کی کوشش کی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ صدیوں تک، فراعین خدائی کا دعویٰ کرتے رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کی موت پر خود قدرت بھی اپنا ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ پانچویں خاندان کے اہرام کے نوشتوں میں یہ بات صاف طور پر درج ہے: "آسمان تمہارے لیے روتا ہے، زمین تمہارے لیے کانپتی ہے۔" تاہم، قرآن اس شاہی پروپیگنڈے کو چیلنج کرتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ جب فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوا، تو نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین۔ سورۃ الدخان، آیت 29۔ اہرام پر کندہ تحریروں کے عین برعکس قرآن کا یہ اندازِ بیان ایک حیرت انگیز تاریخی معجزہ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن کا سرچشمہ قدیم مصر کی انتہائی پوشیدہ تحریروں کا بھی علم رکھتا تھا۔ اور قرآن فرعون کا قصہ ایک حیرت انگیز وعدے کے ساتھ ختم کرتا ہے: "پس آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بن جائے۔" یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی گئی تھی جب مصری زبان اور اس کی روایات مکمل طور پر ختم ہو چکی تھیں۔ اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم حکمرانوں کے حنوط شدہ اجسام (ممیز) دریافت کر لیے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ کے بارے میں یہ ماننا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ آج انہیں دیکھنا سچائی کی ایک مضبوط گواہی ہے۔ قرآن قدیم مصر کو ایک تفصیلی نقشے کی طرح بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس میں 'ہامان' نامی ایک شخص کا ذکر ہے، جو فرعون کے بہت قریب تھا اور تعمیرات کا ذمہ دار تھا۔ جب قدیم تصویری تحریروں کو بالآخر پڑھا گیا تو وہاں ایک نام دریافت ہوا: ہامان۔ اور اس کا عہدہ: سنگ تراشی کے کاریگروں کا سربراہ۔ یہ بات عین مطابقت رکھتی ہے۔ قرآن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے ایک شخص 'سامری' کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اور آج ہمیں مصر کے ایک پادری طبقے کا علم ہے، جسے سیمیریو کہا جاتا تھا، جو قرآن میں بیان کردہ اس شخص کی خصوصیات سے بالکل میل کھاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ان مخصوص القابات سے کیسے واقف ہو سکتے تھے؟ اس کے باوجود، قرآن انہیں 100٪ درستگی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہ صرف تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک غیبی دستخط ہے۔ یہ کسی انسان کا کام نہیں، بلکہ خود وقت کے خالق کا کلام ہے۔ ہماری آخری منزل یمن کے جھلستے ہوئے سورج تلے پھیلی ایک بنجر وادی ہے۔ صدیوں تک، پتھروں کے عظیم الشان کھنڈرات ریت میں آدھے چھپے یہاں موجود رہے۔ لوگ ریت میں پرانی دیواریں اور ٹوٹے ہوئے ستون تو دیکھ سکتے تھے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کس مقصد کے لیے تھے۔ تقریباً 150 سال پہلے، جوزف ہالیوی اور ایڈورڈ گلیزر جیسے سیاحوں کو پراسرار تحریروں سے ڈھکے قدیم پتھر ملے۔ ان تحریروں میں ایک ڈیم اور دو شاداب زمینوں کی کہانی درج تھی۔ صحرا کے بیچوں بیچ ایک ڈیم؟ وہاں اس کا کیا مقصد تھا؟ دہائیوں بعد، جب بالآخر بڑے پیمانے پر کھدائی شروع ہوئی تو انہیں دو ایسے عظیم الشان دروازے ملے۔ جو پانی کو دو بالکل درست سمتوں میں تقسیم کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کو حیران کر دینے والی یہ دریافت قرآن میں بہت پہلے ہی بیان کر دی گئی تھی۔ "بے شک قومِ سبا کے لیے ان کے اپنے وطن میں ایک نشانی تھی: دو باغ، ایک دائیں جانب اور ایک بائیں جانب۔" سبا ایک ایسی قوم تھی جس کا یمن میں آباد ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ کسی زمانے میں، اس بنجر وادی کے وسط میں ایک شاندار منظر تھا: باغ، پانی کی نہریں اور سرسبز و شاداب زمین۔ اس کا راز 580 میٹر طویل 'مآرب ڈیم' تھا، ایک ایسی تعمیر جس نے ہزاروں ہیکٹر زمین کو سیراب کیا۔ اس کی دانشمندانہ ساخت نے پانی کو دو سمتوں میں موڑ دیا۔ اس سے وادی کے دائیں اور بائیں دونوں اطراف شاداب باغ وجود میں آئے۔ لہٰذا اگر اللہ چاہے، تو صحرا بھی ایک شاداب باغ بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے قومِ سبا امیر ہوتی گئی، وہ شکر ادا کرنا بھول گئی۔ انہوں نے اللہ کی قائم کردہ حدود کو پامال کر دیا۔ اتنی بڑی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے، وہ متکبر اور مغرور ہو گئے۔ ہر گناہ گار قوم کی طرح، انہیں بھی خبردار کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے تنبیہات کو نظر انداز کرتے ہوئے غفلت جاری رکھی۔ چنانچہ، اپنی دولت و ثروت کے عروج پر، جب انہیں گمان بھی نہ تھا، ڈیم میں دراڑیں پڑ گئیں۔ ایک عظیم سیلاب آنے والا تھا۔ پانی اچانک پتھر کی دیواریں توڑ کر شہر میں داخل ہو گیا، اور باغ برباد کر دیے۔ سیلاب ان کی تمام تر شان و شوکت کو بہا لے گیا۔ قرآنی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "مگر انہوں نے منہ موڑ لیا، تو ہم نے ان پر ڈیم کا سیلاب بھیج دیا، اور ان کے دو باغوں کے بدلے انہیں ایسے دو باغ دیے جن میں کڑوے پھل، جھاؤ کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیڑیاں تھیں۔" آیت میں ذکر کردہ "سیلِ عرم" کا لفظ کوئی عام نام نہیں تھا۔ عربی زبان میں "عرم" کے معنی بند يا ڈیم کے ہیں۔ لہٰذا سیلِ عرم بالکل درست نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سیلاب کیسے آیا تھا: یعنی بند (ڈیم) کے ٹوٹنے سے۔ 'CIH 541' نامی معروف ایک مشہور کتبے میں، ہم ڈیم کو بچانے کی ایک سر توڑ کوشش دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی مرمّت نہیں تھی؛ بلکہ ایک بہت بڑا قومی منصوبہ تھا۔ جس میں ہزاروں لوگوں نے ڈیم کی مرمّت کے لیے مہینوں کام کیا۔ یوں یہ تمام پہیلیاں سلجھ گئیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن ہمیں آگے کیا بتاتا ہے؟ "کیا یہ منکرین زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام دیکھ لیتے؟" آج محققین ان نشانات کو ایک ایک کر کے تلاش کر رہے ہیں۔ اور یہ سب تو ابھی صرف شروعات ہے۔ قرآن پہلے ہی ماضی کے بارے میں بہت سی تفصیلات دے چکا تھا۔ لیکن یہ واقعات بتانے والی ہستی، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم، نہ تو پڑھنا جانتے تھے اور نہ ہی لکھنا۔ اگر بالفرض وہ پڑھنا لکھنا جانتے بھی، تب بھی وہ کوئی ماہرِ آثارِ قدیمہ نہیں تھے۔ انہوں نے نہ تو کوئی کھدائی کی تھی، نہ دریافت شدہ چیزوں کا تجزیہ کیا تھا، اور نہ ہی کسی کتبے کو ڈی کوڈ کیا تھا۔ وہ ان شہروں اور واقعات کے بارے میں کیسے بتا سکتے تھے جنہیں تاریخ صدیوں بعد جا کر ظاہر کرنے والی تھی؟ اس کا جواب بالکل واضح ہے: انہیں اللہ کی طرف سے خبر دی گئی تھی۔ وہی اللہ، جو ہر چیز کا کامل علم رکھتا ہے۔ یہ اقوام اس لیے برباد ہوئیں کیونکہ انہوں نے اللہ کی تنبیہات کو نظر انداز کیا۔ لیکن سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ جن برائیوں نے ماضی کی قوموں کو تباہی تک پہنچایا، وہ آج ہمارے ہاں حد سے زیادہ موجود ہیں۔ شاید واحد فرق یہ ہے کہ اب عذاب اوپر یا نیچے سے نہیں آتا بلکہ ہمارے اپنے اندر سے جنم لیتا ہے۔ آج شاید ہی کوئی اس بات پر غور کرتا ہو کہ ہمیں کس طرح تنبیہ کی جا رہی ہے۔ روحانی تھکن۔ معاشرتی زوال۔ خاندانی رشتوں کا بکھر جانا۔ جدید دور میں افسردگی کی وبا۔ وہ زندگی جو کبھی لذّت کا باعث تھی، اب اذیّت بن چکی ہے۔ جرائم کی شرح۔ متعدی بیماریوں کی مسلسل لہریں۔ فطرت کی تباہی۔ ماحولیاتی بحران اور دیگر مسائل۔ کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟ شاید اس دور کا عذاب ایک خاموش اور مسلسل زوال ہے۔ کیا کوئی عقلمند انسان وہی غلطی بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی توقع رکھ سکتا ہے؟ ان کی مہلت ختم ہو چکی ہے، لیکن ہم اب بھی سانس لے رہے ہیں۔ آیت کی اس تفصیل کو یاد رکھیں: "اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھاتا ہے تاکہ وہ لوٹ آئیں۔" اس سب کا مقصد بالکل واضح ہے۔۔۔ تاکہ وہ لوٹ آئیں۔ ہمارا رب چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں۔ کیا آپ کا دل یہ نہیں کہتا کہ مجھے اس بلاوے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے؟ اگر آپ اپنے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان نہیں بننا چاہتے، تو ابھی اپنی آنکھیں کھول لیں۔ کیونکہ سبق اس وقت تک دہرایا جاتا رہے گا جب تک اسے سیکھ نہ لیا جائے۔ کیا آپ کو روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے؟ یا شاید آپ عربی میں قرآن پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں اور رب کے قریب ہونا چاہتے ہیں، معلوم نہیں کہ آغاز کہاں سے کریں۔ ہمارے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ ہم نے مکمل طور پر مفت اور اشتہار سے پاک ایپس تیار کی ہیں تاکہ اس میں آپ کی مدد کر سکیں۔ ہماری نماز ٹریکر ایپ کے ذریعے 40 دن تک اپنی نمازوں کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں اور اس کی عادت بنا سکتے ہیں۔ Lamelif ایپ کے ذریعے آپ بالکل ابتدا سے قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں مختصر، آسان اور دلچسپ اسباق کے ذریعے۔ اب مزید دیر نہ کریں۔ آج ہی اپنا پہلا قدم اٹھائیں اور ڈسکرپشن میں موجود لنکس سے ایپس ڈاؤن لوڈ کریں۔
