# Crash Ne Zindagi Badal Di – Allah Se Madad Maangi… Aik Agnostic Musalman Ban Gaya!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-cried-out-to-god-after-crash-an-agnostic-converts-to-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=FkH6KKEiGe8
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں بطور کیتھولک پلا بڑھا۔ کیا آپ کو پتہ ہے دیوار پر موجود تصاویر کا کیا مطلب ہے؟ ایک یسوع جس نے صلیب اٹھا رکھی تھی۔ جب بھی میں نے سوالات پوچھے تو مجھے کہا گیا کہ میں بہت شرارتی ہوں اور مجھے ایسے سوالات نہیں پوچھنے چاہئیں۔ میں نوعمری میں ہی چرچ سے دور ہوتا گیا اور دنیا گھومنے نکل پڑا،اور زندگی گزارنے لگا یکشن سپورٹس کی۔ ایک دن میں کچھ دوستوں کے ساتھ باہر گیا۔ ہمیں یہ ایریا واقعی دلچسپ لگا جہاں بہت سی نیچرل جمپس تھیں جو کہ بہت ہی مختلف انداز میں تھیں۔ اور میرے من میں ایک دم سمایا کہ میں اسے تیزی سے پار کروں۔ ایسا ہی کرتے میں، سیدھا سر کے بل جا گرا۔ اور میں نے کہا،"اوہ ، نہیں۔" میں نے رونا شروع کردیا اور سوچااس سب کا مقصد کیا ہے؟ کیا فائدہ اس ساری کوشش کا؟ میں آخر ان آزمائشوں سے کیوں گزر رہا ہوں،ایک کے بعد ایک آزمائش؟ نہیں جانتا تجھے کیا پکاروں،اور تجھ سے کیسے مانگوں؟ تو بس پلیز، میری تو مدد کر۔ تو میں نے اپنے ڈیڈ سے کہا جو میرے ساتھ آئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے منہ میں کسی اور کی زبان آ گئی ہو۔ تو میں نے ان سے کہا کہ، "شاید میں کسی مسجد چلا جاؤں ، اور شاید میں مسلمان بن جاؤں۔ میں نے اس سے پہلے کبھی بھی مسلمان ہونے کا نہیں سوچا تھا۔ کبھی نہیں۔ السلام علیکم بھائی یوسف۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ آپ کو ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ہم شروع کرتے ہیں کہ یوسف کون ہے؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصرا بتائیے۔ وعلیکم السلام بھائی۔ مجھے بلانے کے لئے آپ کا شکریہ۔ تو میرا اوریجن ویلز سے ہے۔ میرا نام جوزف ہے ، لہذا یوسف اسی نام کا ترجمہ ہے۔ میں بطور کیتھولک پلا بڑھا۔ میں نوعمری میں ہی چرچ سے دور ہوتا چلا گیا اور دنیا گھومنے نکل پڑا اور زندگی گزارنے لگا،ایڈوینچر سے بھڑے ایکشن سپورٹس کی۔ میں نے اس کیریئر میں کامیابی حاصل کی لیکن مجھے سکون نہیں ملا۔ یہی بات مجھے خدا کی طرف واپس لائی اور اسی سفر میں اسلام سے مدبھیڑ ہو گئی۔ الحمدللہ۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا ایمان کیا تھا؟ جیسا کہ میں رومن کیتھولک میں پلا بڑھا۔ پتہ ہے اس میں ہم خدا کے موضوع پر کھل کر گفتگو نہیں کرسکتے تھے۔ یونو۔، میں چرچ بہت جاتا تھا۔ میں رومن کیتھولک اسکول میں تھا۔ اسکول کے اوقات میں ہمیں چرچ لے جاتے۔ جہاں پادری ہم سے انہی مخصوص چیزوں پہ بات کرتا جس پہ اسے بات کرنی ہوتی، صرف مونولوگس۔ اور جب بھی میں نے سوالات پوچھے، مجھے بتایا گیا کہ میں شرارتی ہوں اور ایسے سوالات نہیں پوچھنےچاہئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا دس سال سے بھی تو ایک دفعہ اس نے اپنی انگلی میرے چہرے پہ لہرائی اور ہنس پڑا اور پھر چل دیا۔ اس کا نام جو تھا،میری طرح، میں نے کہا،"فادر جو، کیا آپ جانتے ہیں دیوار پر ان تصاویر میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں یسوع صلیب اٹھائے ہوئے تھے، یونو۔ اور میں بس تفصیل جاننا چاہتا تھا کہ اصل کہانی کیا تھی۔ ہاں مطلب ایسا ماحول نہیں تھا جہاں ہم مذہب کے بارے میں کھل کر بات کرسکیں۔ اور جب کنفرمیشن کی سیکنڈ ریچوئل پر بات آئی،جہاں آپ اپنا بپتسمہ کنفرم کرتے ہیں کہ آپ اس سے متفق ہیں۔ میں نے والدین سے کہا ،"میں متفق نہیں ہوں ، میں کنفرم نہیں کرتا کیونکہ مجھےمذہب کے بارے میں اب بھی کچھ نہیں معلوم ۔ " میں برسوں سے چرچ آرہا ہوں ، لیکن مجھے کچھ نہیں معلوم۔ تو پھر میں نے چرچ چھوڑ دیا اور خود کو اگناسٹک تصور کیا، جسے یقین تو تھا لیکن کس پر، یہ ابھی کنفرم نہیں۔ اسلام سے پہلے ، میں گمراہ تھا، مکمل طور پر گمراہ مجھے نہیں پتہ تھا کیوں؟ بس بدنظمی تھی اور میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ مطلب میں صرف دنیاوی حصول اور مفاد کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ میں بس وہ کام کرتا جس پہ سوسائٹی میں واہ واہ ہو۔ کہ جاؤ یہ حاصل کرو،وہ حاصل کرو۔ یہی میں ہوں، یہی کامیابی ہے۔ اور اس سے میرے اندر ایک خالی پن پیدا ہو گیا۔ اور، تو میں، اللہ کے فضل سے ان سب چیزوں سے دور ہو گیا۔ عیسائیت کے بارے میں آپ کو کیا سمجھ نہیں آیا؟ اگر سچ کہوں تو کچھ بھی نہیں۔ مطلب کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا ہوں اور انہیں اس کا علم بھی نہ ہو۔ یعنی اسی دوران جب وہ مصلوب ہو رہے تھے تو خدا کو بھی پکار رہے تھے؟ تو مطلب وہ خود ہی کو پکار رہے تھے۔ اس کا کوئی مطلب نہیں بنتا،کوئی لاجک نہیں۔ اگر وہ خدا تھے تو ، یقینا رومنز کا خاتمہ کر کے اپنے رستے چل دیتے،میرا مطلب ایک خودمختار آدمی یا خدا کی طرح، جو بھی کہہ لیں۔ بہت سی چیزوں کا سنس نہیں بنتا، بلکہ ان ساری باتوں کا۔ آپ کی دلچسپی کیا تھی اور خواب کیا تھے؟ میرا خواب اس وقت اس سوسائٹی کو چھوڑنا تھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ زندگی جینے کےاور بھی ڈھنگ ہیں۔ زندگی کا یہ مقصد نہیں کہ آپ فٹ بال کھیلو، شراب پیو، اپنے مزاج کے خلاف جاب کرو،آہستہ آہستہ خود کو ختم کر دو۔ بس یہی بات تھی کہ زندگی اس پر ختم نہیں ہے۔ پتہ ہے اس وقت بھی میرے دل کی یہی آواز تھی۔ میرے دماغ میں یہی سوار تھا۔ میں جانتا تھاکہ زندگی اس طرح نہیں گزاری جا سکتی۔ تو مجھے یہ سب چھوڑنا پڑا تاکہ اس گھٹن سے نکل کر تازہ ہوا میں سانس لوں۔ اور دنیا کا مشاہدہ مختلف انداز میں کروں۔ تو اس کے لیے آپ نے خطرناک کھیلوں کا انتخاب کیوں کیا؟ اور اب تک کی سب سے رسکی ایکٹیویٹی کون سی تھی؟ میرا مطلب یہ کیرئیر تو اچھا خاصا رسکی ہے؟ مطلب، اس میں , اس میں ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جہاں لوگ گھر نہیں پلٹتے، اور کسی کھڈے میں جا گرنا، جسے ہم ٹری ویل کہتے ہیں۔ جس میں ایک بڑا سا درخت ہوتا ہے اور اس کی شاخیں ہوتی ہیں۔ گھنی شاخوں کے نیچے کی جگہ جہاں برف نہیں پہنچ پاتی۔ اور لوگ اس میں سر کے بل گر کر دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔ یونو۔ تو ہر وقت آپ ہوشیار رہتے ہو، جیسے مکمل طور پر متوجہ ۔ یعنی اپنے گروپ کے ہر فرد پر نظر رکھنا،یونو؟ اور آپ کو ہر لمحہ چوکنا رہنا پڑتا تھا۔ کیونکہ یہ سپر سپر سیریس چیز ہے، یونو۔ یہاں تک کہ پہاڑ پر چڑھنا سب سے خطرناک حصہ تھا کیونکہ آپ کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک کا قدم بھی غلط پڑ گیا تو وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی گرائے گا۔ کوئی ایک بھی مر سکتا ہے یا پھر دونوں بھی مر سکتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو ٹانگ تو ٹوٹ ہی جاتی ہے۔ آپ کو کس چیز نے اپنے عقائد پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا؟ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ رائڈنگ کے لیے گیا تو مجھے یہ ایریا پسند آیا جہاں بہت سی نیچرل جمپس تھیں جس کے شیپس بھی بہت مختلف تھے ۔ جن سے آپ جمپ کر سکتے ہیں انٹرسٹنگ طریقوں سے۔ ہمارا کھیل وہیں آس پاس کافی وقت تک جاری رہا۔ اور میں نے کئی دفعہ ایک ہی جمپ کو عبور کیا، سب بہت اچھا تھا۔ اور پھر میرے دل میں جیسے موج سمائی اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی۔ میں نے بریک لگائی لیکن میں گبھرا گیا ،"ارے یہ کیا؟۔" مجھ سے پہلے ہی وہاں کوئی موجود تھا۔ اور میرا دماغ ایک دم سُن ہو گیا۔ میں اس وقت بالکل گھبرا گیا تھا۔ میں نے خود سے سنوموبیل دور پھینکنے کی کوشش کی۔ مجھے لگا کہ میں اس کو دور پھینک دوں گا اور بس میں برف میں جا گروں گا۔ پھر لمبی سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوں گا۔ لیکن میرے پاس وقت ہی اتنا کم تھا کہ میں اپنی گاڑی سےاتر ہی نہیں سکا۔ سنو موبیل اتنے خطرناک طریقے سے گری کہ زمین بھی چٹخ گئی۔ کیونکہ یہ ایک کافی فلیٹ لینڈنگ تھی ۔ اور میرے جسم کا دائیاں حصہ ، خاص طور پر میری رائٹ ٹانگ،مشین کے اوپری حصے کے نیچے آگئی۔ اور میری ٹانگ تو جیسے کچومر بن گیا اسکا اور جسم برف میں لپٹ گیا۔ اور مزہ نہیں آیا۔ اس میں واقعی مزہ نہیں آنا تھا۔ اور اس دن پہلی بار میں نے کسی بڑے آدمی سے گلے لگنے کی خواہش کی۔ دو ہزار میٹر کی بلند پہاڑ کی ایک چوٹی پر۔ میں وہاں سے خود سوار ہو کر نکلنے کے قابل نہیں تھا جیسے میں اس مقام پر بے کار ہو گیا تھا۔ میں، مجھے شاک لگا،میں جیسے صدمہ میں چلاگیا تھا۔ میں کانپنے لگا بہت بری طرح سے اور اندر سے بے چین ہو گیا۔ میں نے وہاں اپنے ساتھی سے کہا کہ بازو مجھ پر رکھو اور مجھے تھام لو بس۔" اور میں نے اس کا بازو ایسے پکڑ رکھا تھا۔ میں شدید تکلیف میں تھا اور میں کچھ شور بھی مچا رہا تھا، جیسے چیخ رہا تھا، کراہ رہا تھا۔ اور اس دوران ہیلی کاپٹر کو آنے میں کل 45 منٹ لگے۔ انہوں نے مجھے لافنگ گیس دی تاکہ درد دور ہو۔ پھر میں نے کچھ فضول سے لطیفے سنانا شروع کردیے،، کیونکہ یہ واقعی آپ کو ایلوژن میں ڈال کر سب بھلا دیتا ہے ...

میں درد کو نہیں بھولا کیونکہ وہ اب مجھے ایک اسٹریچر پر لے گئے۔ آٹھ آدمیوں کی ضرورت پڑی کیونکہ برف بہت گہری تھی۔ اور انہیں مجھے واپس ہیلی کاپٹر تک چلا کر لے جانا پڑا۔ اور میرا پاؤں اسٹریچر سے اس طرح لٹک رہا تھا۔ میں تو اسٹریچر پر تھا،میرا جسم ٹھیک تھا لیکن لیکن میرا پاؤں اس طرح لٹک رہا تھا جیسے کسی اور کا ہو۔۔۔ شدید درد میں تھا اتنا بے بس تھا جیسے ، پلیز کوئی آ کر میری ٹانگ ہی پکڑ کر سٹریچر پہ ڈال دے۔ یونو؟ واقعی برا تھا۔ میں تو جیسے ٹوٹ گیا تھا، اور،میں نے رونا شروع کردیا، کہ آخراس سب کا مقصد کیا ہے؟ اس ساری جدوجہد سے کیا حاصل ہوا؟ میں ان آزمائشوں سے کیوں گزر رہا ہوں،ایک کے بعد ایک آزمائش؟ اور پھر ہم بات کر رہے تھے۔ مجھے اپنی ٹانگ پرایک اور سرجری کی ضرورت ہے۔ " اور انہوں نے کہا کہ بلغاریہ میں تو یہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں سے ہر کوئی استنبول جاتا ہے۔ اور میں اسی وجہ سے استنبول آیا تھا۔ آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کب سنا؟ اور آپ کا سفر اسلام کی طرف کیسے شروع ہوا؟ ہاں تو جب میں استنبول آیا سرجری کے لیے جو کامیاب رہی، الحمدللہ میرے دل میں ایک احساس تھا کہ مجھے یہاں رہنا چاہئے۔ پتہ نہیں تھا کیوں۔ میں نے اپنے والد سے کہا جو میرے ساتھ آئے تھے۔ مطلب آپ بلغاریہ واپس جائیں اور بس مجھے یہاں چھوڑ دیں، میں ٹھیک ہوں۔ " انہوں نے کہا، "تمہیں یقین ہے جو تم کرنے جا رہے ہو؟ " میں نے کہا،"سچ کہوں، تو مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں گا، لیکن مجھے یقین ہے میں ٹھیک رہوں گا۔ جب میرے والد جانے لگے اور تب میں نے یہ کہا ایسے جیسے میرے منہ میں کسی اور کی زبان آگئی ہو۔ آپ میرا مطلب سمجھ گئے؟جی میرے منہ سے وہ الفاظ نکلے جو میں نے پہلے کبھی نہیں سوچے۔ میں نے ان سے کہا ،"کہ شاید میں مسجد چلا جاؤں اور شاید میں مسلمان ہو جاؤں۔" جب کہ میں نے اس بارے میں پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ کبھی نہیں۔ میں نے اسلام کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن مجھے سٹیریو ٹائپ پہ یقین نہیں تھا۔ میں نے کبھی مذہب کے بارے میں غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس بارے میں کچھ جانتا تھا۔ مجھے نہ مکہ کے بارے میں معلوم تھا نہ کچھ اور۔ اور شاید یہ کہتے ہوئے میرے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی، مطلب ایک طنزیہ سا انداز تھا۔ جیسے کوئی مزاق ہو۔۔۔۔ کچھ ایسا جو ہونا ناممکن ہو۔ یہ بہت عجیب تھا۔ یہ بہت،بہت ہی عجیب تھا۔ تو وہ چلے گئے۔ اور کچھ دنوں کے لئے ...

ان کے آخری کے دن، میں تھوڑا فکر مند رہا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میری صورتحال اچھی نہیں ہے۔ میرے پاس پیسے کم تھے اور مجھے نئی سرجری کے بعد فزیو بھی کروانا تھا۔ اور اس شہر میں میرا کوئی دوست نہیں تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ میں کہاں رہوں گا۔ لیکن مجھے احساس تھا۔ تو میں اپنے ہوٹل میں رات کے وقت اپنے بستر پر دوبارہ دعا کرنا شروع کردیتا ہوں۔ "اے خدا، پلیز مجھے بتا دے کہ میں یہاں کیوں رکنا چاہتا ہوں۔" "میں جانتا ہوں مجھے یہاں رہنا ہے ، مجھے دکھائیں کیوں۔ کچھ دن بعد،میں ...

میں فزیو سے بالکل بیزار ہو گیا تھا،یونئو، یہ بس مجھے نچوڑ رہی تھی۔ ذہنی، جسمانی ، روحانی طور پر۔ مجھے بریک کی ضرورت تھی۔اوکے۔ تو کیا کریں؟ میں تیر اندازی کا بھی شوقین تھا۔ تیر اندازی خون میں شامل ہے ویلز کے۔ اور چاہتا تھا کہ جا کر کوئی عثمانی کمان دیکھوں۔ میں پہلی بار میٹرو بس میں سوار ہوا۔ مجھ سے میرا سٹاپ مس ہو گيا، بالکل بھول گیا۔اور مجھے وقت کا احساس بھی تھا۔ تو میں اندازے سے ایک طرف تیزی سے چلنے لگا۔ میں بالکل اندازے سے چل رہا تھا۔مجھے کچھ نہیں پتہ تھا۔ کسی چیز نے مجھے چونکا دیا۔ جیسے میں کافی دور چلتا گیا اوراس نے مجھے (اس دھن سے) باہر نکالا اور میں نے سوچا، ٹھیک ہے، میں تھک گیا ہوں یار ۔ مجھے ایک بریک چاہئے۔ مجھے بخار محسوس ہوا۔اور پاؤں میں بھی تکلیف تھی۔ میں پیاسا بھی ہوں۔ لیکن میں ہوں کہاں؟ مطلب میں بریک لوں بھی تو کہاں، رائٹ؟ میں نے ارد گرد دیکھا تو میں ایک مسجد کے گارڈن میں کھڑا تھا۔ اور میں نے وہاں ایک بڑا سا داخلی دروازہ دیکھا۔ میں نے ایک طرح سے اس کی طرف دیکھا۔ میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا اور۔۔۔۔ میں اسی لئے ہی گیا تھا ،یو نو؟ میں اپنی جگہ جم کر رہ گیا، یو نو؟ میں زندگی کے اپنے ذاتی اصول سارے بھول گیا۔ میں مسجد میں کھنچا چلا گیا،اور میں وہاں پہنچا اور "اچھا، اب کیا؟" ایک لمحے تو میں مسجد کے اندر کی خوب صورتی میں کھو گیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں اکثر سیاح سیر کے لیے آتے تھے۔ رائٹ؟ اور میرا مقصد یہ نہیں تھا۔ نہ میں جانتا تھا کہ مسجد بھی موجود ہے۔ اور کچھ دیر فنِ تعمیر دیکھنے کے بعد، میں سمجھ گیا کہ میں ایک مسجد میں ہوں۔ ایک عبادت گاہ میں۔ میں عبادت بھی کرسکتا ہوں۔ لیکن مجھے تو صرف عیسائیوں والا طریقہ آتا تھا۔ تو میں جیسے عبادت کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا، رائٹ؟ یہ سیاحوں سےبھری ہوئی تھی۔ یہ ایک فنی ایکسپرئینس تھا۔ اور لوگ بس اس طرح الگ ہوے۔ اور میں ان میں سے ہوتا ہوا آگے بیرئیر تک چلا گیا۔ میں نے دیکھا کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ میرے زیادہ قریب کوئی نہ تھا۔ مطلب میں اچھے سے عبادت کر سکتا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ اس طرح کراس کیے۔ میں نے اپنا چہرہ مسجد کے گنبد کی طرف اٹھایا، اور جنت کا تصور کیا، یونو، خدا سے باتوں کا تصور کیا۔ اور میں جیسے،"اوہ،خدا۔ "میں آپ کو خدا نہیں کہنا چاہتا کیونکہ لوگ پریشان ہوتے ہیں ، تو کہتے ہیں،"اوہ میرے خدا۔ " میرا مطلب میں پریشان ہوں لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک توہین آمیز اصطلاح کی طرح لگتا ہے۔ میں آپ کو لارڈ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ ٰیہ ایک امیر زادے کی طرح لگتا ہے۔ اور میں ویلش ہوں۔ " "میں نہیں جانتا کہ کیا پکاروں۔ اور آپ سے کیسے دعا کرنی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں استنبول کی ایک مسجد میں کیا کر رہا ہوں۔ تو پلیز، بس میری مدد کریں۔ " دس سے پندرہ منٹ بعد مجھے ساتھ کھڑی ایک لڑکی نے روکا۔ اس نے کہا،"ایکسکیوز می، ایکسکیوز می،"،" اور میں نے دعا چھوڑ کر اسے دیکھا اور کہا،"یس؟" اس نے کہا، "تم انگریزی بولتے ہو؟" میں نے کہا،"ہاں۔" اس نے کہا کہ،"کیا آپ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟" میرے ذہن میں آیا کہ شاید یہ میری دعا کا جواب ہو۔ تو میں نے کہا،"جی ہاں، ضرور۔" پھر مسجد میں ہمیں ایک اچھی جگہ بیٹھنے کو مل گئی۔ ہم ایک دو گھنٹے بیٹھے،اور گفتگو کے دوران ، میرے پاؤں میں بہت تکلیف تھی کیونکہ میں فرش پر ٹھیک سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ لہذا میں اسے سننے کے ساتھ اپنے دل میں طاقت برقرار رکھنے کی دعا مانگ رہا تھا۔ اور میں دعاگو تھا کہ اس کے ذریعے مجھے وہ مل جائے جو خدا مجھے دینا چاہتا ہے۔ اس کھوج میں میری مدد کر۔ میرا درد دور کردے۔ تاکہ میں اچھی طرح فوکس کرسکوں۔ کیونکہ درد کی شدت سے میری توجہ ہٹ رہی تھی۔ میں ہر قسم کے سوال پوچھتا تھا اور وہ جواب دیتی تھی۔ اس نے میرے کسی سوال پہ مجھے نہیں ٹوکا کہ یہ نہیں پوچھنا چاہیے۔ یونو ایک مختلف ویلکم جو کبھی چرج میں نہیں ہوا، ٹھیک؟ میرے کیتھولک ہوتے ہوئے بھی مجھے منہ نہ لگایا۔ اور یہاں میں مسلمان نہیں تھا لیکن میرے سوالوں کے جواب مل رہے تھے۔ یونو؟ اب سب کچھ لوجیک سمجھ آرہا تھا، اور ساتھ ہی سب کچھ صحیح محسوس ہو رہا تھا۔ سب کچھ درست محسوس ہوا۔ تو اس نے مجھے اسلام کے بنیادی اصول سمجھائے،ٹھیک ہے؟ بطور مسلم جن چیزوں پر آپ کو یقین ہونا چاہیے۔ وہ یہ تھیں کہ اللہ ایک ہے۔اسی نے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس نے نبی پیدا کیے۔ انہیں کتابیں دیں، وحی بھیجی۔ کہ سب کچھ مکتوب ہے، تقدیر میں موجود ہے۔ اور آخرت کی زندگی۔ جنت یا جہنم۔ تو میں نے ان سب چیزوں سے اتفاق کیا۔ میں نے کبھی یسوع یا میریم سے دعا نہیں مانگی۔ اس کی تک نہیں بنتی تھی۔ وہ بھی لوگ ہیں۔ "اس نے کہا "اگر آپ ان چیزوں سے متفق ہیں ، پھر، بنیادی طور پر آپ پہلے ہی ایک مسلمان ہیں۔ " "آپ کو صرف ایک یا دو لائنیں کہنے کی ضرورت ہے اور آپ مسلمان بن جائیں گے۔ تو کیا آپ یہ کرنا چاہیں گے؟ " اور میں جیسے "ہاں ، کیوں نہیں؟ سبحان اللہ ہاں تو میں نے کر لیا۔ اور میں نے اسی وقت شہادت پڑھ لی۔ میں نے اپنی شہادت پڑھی۔ جو کہ ایک اعصاب کشیدہ تجربہ تھا۔ کیونکہ پھر اس نے کچھ لوگوں کو ہاتھ ہلا کر بلایا۔ جن میں ایک بڑا سا شخص کسی چیچن جنگجو کی طرح تھا، میں ٹھٹھک گیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے یونو؟ تو وہ مجھے مسجد کے سامنے لے گئے میرے ساتھ بیٹھ گئے ، اور مجھے سکھایا کہ اسے صحیح طرح کیسے کہنا ہے۔ اور وہ میرے ساتھ چلے۔ پھر وہ ...

میرا یوسف نام بھی دراصل اسی خاتون نے رکھا۔ اس نے کہا ،"مبارک ہو،یوسف۔ اب آپ ایک مسلمان ہیں۔ اور پھر وہ مجھے مرکز میں واپس لے گئے اور مجھے مزید معلومات دی ، جو میرے لیے بہت زیادہ تھا،بہت زیادہ۔ جہاں ایک اور بھائی نے مجھے اس سے بچایا۔ اس نے کہا، "بھائیوں بھائیوں رُکو، اس کی حالت تو دیکھو۔ یہ اس کا پہلا دن ہے۔ اس نے ابھی مذہب کے بارے میں سیکھا ہے۔ آرام سے، ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم مزید کسی اور وقت بھی بات کرسکتے ہیں۔ تو واقعی اس نے مجھے بچایا۔ یو نو، کئی لوگ جو اسلام پر غور کرتے ہیں ان میں ماضی کی بری عادتیں ہوتی ہیں۔ کیا ایسے شخص کو مسلمان ہونا چاہیے، جب تک کہ وہ ان سب کو ترک کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے؟ بالکل نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو بھی مسلمان بننے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ جب وہ پالیتے ہیں، تب وہ خود کو ایک کامل شخص میں ڈھالتے ہیں۔ کیونکہ کامل تو کوئی بھی نہیں ہوتا، رائٹ؟ فرشتوں کو کامل مخلوق کے طور پر تخلیق کیا گیا ، لیکن انسانوں کو لوگوں کے طور پر تخلیق کیا گیا کہ ہم گناہ کرتے ہیں۔ ہر انسان گناہ کرتا ہے، یو نو؟ یہاں تک کہ بہترین ...

یہاں تک کہ وہ شخص بھی جو ایسا لگتا ہے کہ بہترین مسلمان ہو گا ، گناہ اس سے بھی ہوتے ہیں، گارنٹی ہے۔ اور انہیں بھی پتہ ہے یہ ہماری نیچر میں ہے۔ پہلے مسلمان بنیں۔ اور خود کو مشکل میں نہ ڈالیں۔ یو نو، اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ لوگ گناہ کرتے ہیں ... اگر ایسے لوگ ہوتے جو گناہ نہ کرتے ، اگر ایسے لوگوں کی سوسائٹی ہوتی جو گناہ نہ کرتی ، میں ان کو تباہ کردیتا۔ اور ان کی جگہ گناہ کرنے والے لوگ لاتا تاکہ وہ میرے پاس واپس آکر مجھ سے مغفرت مانگتے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے بیان کیا ہے ، ایک تصور ہے کہ جب کوئی مسلمان بن جاتا ہے ، اسے اپنی پوری ثقافت ترک کرنی ہے اور اپنی شناخت تبدیل کرنی ہے ، اپنا نام،لباس ، عربوں کی طرح بننا ہوگا۔ کیا یہ سچ ہے؟ بالکل نہیں۔ جیسے ، کچھ لوگ ہیں جو ...

مجھے ایک ایسا مسلمان بھی ملا جو بظاہر مسلم نہیں لگتا تھا۔ یونو۔ ان کا رہن سہن پورا مغربی تھا۔ بالکل ایک عام شخص جسے ہم مغربی کلچر میں دیکھتے ہیں ،یو نو؟ تو یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ کیا آپ کو ...

اچانک، آپ کو ایک سپر مذہبی شخص کی طرح نظر آنا ہوگا صرف اس وجہ سے کہ آپ مسلم ہیں۔ نہیں چوغے پہنے ہوئے، یعنی، ساتھ ہی ہاتھ میں تسبیح لے کر گھومنا یا اس طرح کا کچھ، یو نو؟ جیسے خود سے باتیں کرنا، اپنے ذہن میں نہیں یا کچھ بھی، ذاتی طور پر ،یو نو میں نے ، میں آفیشلی اپنا نام تبدیل نہیں کروں گا۔ یہ صرف میرے نام کا ترجمہ ہے۔ ترکی میں، وہ نہیں کہہ سکتے، "جو" وہ "یو" کہتے ہیں۔ لہذا میں صرف آسانی کے لیے کہتا ہوں،میں یوسف ہوں۔ مل کر خوشی ہوئی۔ یونئو ، یوسف جوزف۔ ایک ہی چیز ، مختلف زبان میں۔ ہاں مطلب،مجھے لگتا ہے یہ خوبصورت چیز ہے۔ میرے پہلے رمضان میں مجھے مکہ مدعو کیا گیا۔ اور میں نے پوری دنیا کے تمام ثقافتوں کے لوگوں کو دیکھا۔ یہ ایک خوبصورت چیز تھی۔ ہر کوئی مسلمان تھا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سب زندگی کے ان بنیادی اصولوں پر متفق ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اپنی ثقافتیں ہیں جو ہمیں مختلف بناتی ہیں اور ہمیں مختلف طریقوں سے مربوط کرتی ہیں۔ جیسے میں نے لوگوں کو ایسے فینٹاسٹک ڈریس میں دیکھا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لہذا آپ اپنی ثقافت کو بالکل برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مسلمان بننے کے بعد ، کیا آپ نے کبھی غیر معمولی واقعے کا تجربہ کیا ہے جس سے آپ کو یہ محسوس ہوا کہ آپ کا اللہ کے ساتھ خاص تعلق ہے؟ سب سے پہلے ،میرے پاس، پیسے نہیں تھا ، پیسے کم تھے، لیکن مجھے زیادہ پرواہ نہیں تھی۔ اللہ فراہم کرے گا۔ یو نو ، میں اچھا ہوں۔ کوئی فکر نہیں۔ میرے پاس پیسہ کم ہے۔اس لئے مجھے محتاط رہناچاہئے۔ میرے پاس کیا بچا ہے۔ لیکن کوئی حرج نہیں۔ اللہ دے گا، یو نو۔ اور پھر میری ایک طرح سے آزمائش ہوئی، یو نو؟ ایک بلی میرے پاس آتی ہے اور یہ ایک ماں ہے۔ ایک بلی میرے پاس آئی۔ اس کے ساتھ بچے تھے۔ اور وہ بہت بھوکی تھی ۔ وہ جارحانہ انداز میں مجھ پر میاؤں کر رہی تھی۔ جیسے مجھے فوراً کھانا دو، یو نو؟ تو میں نے خود پہ غور کیا، میں نے ایسے نہیں سوچا کہ ، "میرے پاس صرف تھوڑا سا پیسہ ہے۔ مجھےخود کے لئے رکھنا ہے،" میں اٹھ کھڑا ہوا ،گیا اور بلی کے لئے کچھ کھانا خریدا ، بلی کو کھلایا اور یہ ہوتا رہا۔ یہاں ہر جگہ بلیاں تھیں جن کے اس عرصے میں بچے بھی تھے۔ یہ موسم کی طرح ہے، مجھے لگتاہے۔ اور میں نے اپنے آپ سے کہا،جیسے، یہ کرنا صحیح کام ہے۔ میں بھوکا رہ سکتا ہوں۔ کوئی حرج نہیں۔ میں ایک مکمل بالغ آدمی ہوں۔ مجھے کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یونئو، میں بڑھ نہیں رہا۔ اور یہ بلی ، جیسے ، یہ بھوک سے مر رہی ہے اور اس کے ساتھ بچے ہیں۔ اور انہیں بڑھنے کے لیے کھانے کی ضرورت ہے۔ جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو ، وہ کر سکتے ہیں۔ تو میں نے تھوڑی سی رقم ان بلیوں کے کھانے کے لیے رکھ دی، رائٹ؟ تب میرا ایک دوست مجھے بعد میں ایک طرف لے گیا۔ اور کہا، بھائی میں آپ سے صرف ایک اپڈیٹ چاہتا ہوں۔ مجھے بتائیں کیا ہو رہا ہے؟ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا کام ہو رہا ہے؟ میں نے کہا ، " میری کوشش ہے کہ میں ایسٹ جا کر اپنی سٹڈیز کروں۔ اسلام کا گہرا مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ بنیادی عقائد بہتر طریقے سے سمجھ سکوں۔ لیکن ابھی میں کیا کر رہا ہوں ، میں کوشش کر رہا ہوں۔ میں توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ میں کچھ چیزيں بیچ رہا ہوں ، جیسے کچھ پیسے بنانے کے لیےکوئی اچھی بزنس ڈیل کی کوشش کر رہا ہوں۔ تاکہ ویزا، فلائٹ کے پیسے کرکے جا سکوں۔ ایک بار جب میں وہاں پہنچا تو میں جانتا ہوں کہ اللہ مجھے دے دے گا۔ کوئی حرج نہیں۔ لیکن ابھی کے لئے، میں نے کہا ، یہ میرا مشن ہے، میں یہی کر رہا ہوں۔ اس نے کہا، "تم نے مجھ سے آ کر کیوں نہیں پوچھا؟" میں نے کہا ویل،میں نے نہیں پوچھا۔ پتہ نہیں کیوں، بس نہیں پوچھا۔ اور اس نے کہا ، "اگر میں کوشش کرکےآپ کو کچھ لوگوں سے لون دلا دوں تو؟" تو میں نے کہا بھائی میں اسے ضرور قبول کروں گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ میں آپ کو کب ادا کرپاؤں گا۔ جیسے مجھے ابھی بھی ٹانگ کا مسئلہ ہے۔ پتہ نہیں میں کب کمانا شروع کروں گا۔ میرا آئیڈیا مطالعہ کرنا ہے، یونو، پیسے کمانا نہیں۔ اس نے کہا"میں سمجھتا ہوں۔" ٹھیک ہے ، بعد میں ملیں گے۔ ہم نے خداحافظ کیا۔اگلے دن میرے پاس آیا۔ اور کہنے لگا،"بھائی،آپ کے لیے کچھ لوگوں سے پیسے ملے ہیں۔ میں نے کہا،"ٹھیک ہے، یہ تو بہت اچھا ہوا۔ پھر بتائو کہ وہ کون لوگ ہیں؟ وہ اس کی واپسی توقع کی کب کرتے ہیں؟ اور وہ بولا، "نہیں یار۔ یہ آپ کے لئے صدقہ ہے۔" تو انہوں نے یہ ڈیسائیڈ کیا ہے، کیونکہ بطور مسلمان اگر کسی کے پاس مال ہے تو وہ صدقہ دیتا ہے، جیسے اگر آپ غریب نہیں تو آپ کو اپنے مال کا ٪2.5 دینا ہوگا ہر سال کسی محتاج کو صدقہ، اور اس نے کہا ، "یہ ان کا زکوت ہے۔" انہیں ویسے بھی یہ کسی ضرورت مند کو دینا تھا۔ آپ محتاج ہیں اور آپ خاص اسلامی علم کے حصول کی کوشش کررہے ہیں۔ تو اس نے کہا،"یہ پیسے بغیر کسی شرط کے ہیں اور واپس نہیں کرنے"۔ میں تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اور اس طرح میں اپنےآپ سے کہتا ہوں، شاید یہ اس وجہ سے تھا جو میں نے بلیوں کے ساتھ کیا۔ مجھے نہیں معلوم۔ یا شاید اس لئے کہ میں نے خدا پر بھروسہ کیا کہ وہ میرا بندوبست کرے گا۔ جیسا کہ وہ قرآن مجید میں کہتا ہے کہ "میں مہیا کروں گا۔" اور یو نو ،حیرت انگیز ہے۔ مغرب میں لوگ عام طور پراسلام کے لیے سرد مہر رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ اور آپ کچھ منٹس میں اپنے غیر مسلم مغربی ممالک کے ساتھیوں کو کیا مشورہ دیں گے؟ ہاں آپ نے جو کہا وہ سچ ہے۔ ایک سردمہر ہے یا ریزو رہتے ہیں آپ کہہ سکتے ہیں یا مغرب میں اسلام کے خلاف ایک بلاکیج ہے۔ لوگ عام طور پر اس بارے میں بات کرنے یا سوچنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کےخلاف پروپیگنڈا کی ایک بہت بڑی مہم چلائی گئی ہے، ایک لمبے عرصے کے لئے، یو نو؟ عام طور پر، ہم سب جانتے ہیں کہ پروپیگنڈا گورنمنٹ کا ایک ٹول ہوتا ہے ، نیریٹیو اور بیلیف سسٹم کنٹرول کرنے کے لئے ، لوگوں کا نکتہ نظر کنٹرول کرنے کے لیے، ٹھیک ہے؟ ہم نے دیکھا کہ ایسا ہسٹری میں کئی بار ہوا۔ عوام کو مشغول رکھنے یا انہیں سچائی سے دوررکھنےکے لیے ایک ٹول کے طور پر، یا کسی کارروائی کا جواز پیش کرنے کے لئے جھوٹ بولنا، لہذا اگر ہم سب کو یہ یقین ہو کہ مشرق وسطی کے لوگ ، یوں کہیں کہ عام طور پر مسلمان ممالک خوبصورت تھے، تو گرم جوش ، مہربان لوگ جو آپ کا خیرمقدم کرتے تھے۔ ، ویسے بھی وہ ایسے ہی ہیں۔ وہ یہی ہیں۔ لیکن ہر ایک کو یہ معلوم ہوتا اور یقین ہوتا ، تب دنیا ان ممالک میں سے کسی ایک کی تباہی دیکھ کر مشتعل ہوجائے گی، رائٹ؟ لیکن اگر مغرب میں گھر میں موجود ہر شخص یہ مان لے کہ یہ لوگ کسی طرح کم مہذب یا انسان نما جانور ہیں، جیسا کہ نیتن یاہو نے کہا ، تو ان کو مارنا اور ان کو تباہ کرنااب یہ اتنا زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ اب اس کا جواز ہے، یو نو؟ اور اس طرح لوگ ان باتوں کو آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ آپ ہر وقت جو میڈیا پر دیکھتے ہیں، اس پر یقین نہ کریں۔ اگر کوئی میڈیا سنسر کیا جارہا ہے، عام طور پر وہی زیادہ سچا میڈیا ہے، رائٹ؟ اگر اس کی پروموشن وہاں موجود ہر دوسرے نیوز آؤٹ لیٹ کے ذریعے جاری ہے ، تو اس کی بھی کوئی وجہ ہے۔ وہ کسی خاص وجہ سے چاہتے ہیں کہ آپ اس چیز پر یقین کریں۔ تو اپنے لئے چیزوں کو خود دیکھیں۔ ہم ایک دماغ کے ساتھ پیدا ہوئے،جسے استعمال کرنا ہے۔ اللہ ہمیں یہ قرآن پاک میں بتاتا ہے۔ ہم ایک دماغ کے ساتھ پیدا ہوئے، تاکہ ہم غور کریں،لہذا اپنے دماغ کا استعمال کریں۔ کچھ چیزوں، کچھ لوگوں کے بارے میں اپنے عزم پر آئیں۔ اپنی تحقیق خود کریں۔ سُنی سُنائی پر یقین نہ کریں۔ آپ اپنی تلاش خود کریں، یو نو؟ اور دوسروں جیسا بننے کی کوشش نہ کریں ۔ بھائی یوسف آپ کا بہت شکریہ!

شکریہ آپ کے پرخلوص جوابات کا۔اللہ آپ کو جزا دے، آمین اللہ آپ کو آخری سانس تک سیدھی راہ پر گامزن رہنے کی توفیق دے۔ آپ کا بھی شکریہ، جزاکَ اللہ۔
