# Main Buddhist Mandir Mein Pala Bara, Lekin Islam Ko Chuna | Aik Japanese Couple Ne Islam Qabool Kiya

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-grew-up-in-a-buddhist-temple-but-i-chose-islam-a-japanese-couple-converts-to-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=_b36ybUtO8M
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں بدھ ازم پر یقین رکھتا تھا۔ میں مندر کے نوجوانوں کے گروپ کا حصہ تھا۔ میں مندر کی سرگرمیوں میں بہت زیادہ شامل رہتا تھا۔ میرے والد ایک سخت نظریے کے ایتھیسٹ فلاسوفر تھے۔ جنہوں نے کئی سال یہ سکھانے میں گزار دیے کہ خٖدا پرست لوگوں کے خلاف بحث کیسے کرنی ہے۔ یونئو ، مجھے اسکول سے نکالا گیا۔ میں نے مشکل وقت کا سامنا کیا۔ اور اس پوائنٹ پر مجھے احساس ہوا کہ میرا مذہب مجھے کوئی رہنمائی نہیں دے رہا تھا۔ اسلام کا نقطۂ نظر بہت واضح ہے۔ یہ تمام مسائل حل کرتا ہے۔ اور یہ سادہ ہے۔ جب میری بیوی کو اندازہ ہونے لگا کہ میں مسلمان ہوں، تو وہ اسلام کے خلاف ہو گئی۔ اس نے اسلام کا مطالعہ ان چیزوں کی تلاش میں شروع کیا جو مجھے مسلمان ہونے سے روک سکیں۔ اسے کورونا ہو گیا، اور ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے آکسیجن لیول ابھی بھی ٹھیک تھے، تو میں بہت زیادہ پریشان نہیں تھا، لیکن فکر مند ضرور تھا۔ مجھے برے خیالات آنے شروع ہوگئے تھے میں نے سوچا کہ کہیں میں بھی اسی طرح مر نہ جاؤں۔ پھر ایک دن اچانک، بغیر کسی وجہ کے اس نے کہا، ہاں، اگر میں مر جاؤں، تو میں نہیں چاہتی کہ میں تم اور بچوں سے الگ جگہ جاؤں۔ السلام علیکم، بھائی شیگی اور بہن لیزا۔.

ہمارے انٹرویو میں آنے کے لیے ٹوورڈز ایٹرنٹی کی طرف سے بہت شکریہ۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ شکریہ۔ تو کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ مختصر سا بتا سکتے ہیں؟ میں چوتھی نسل کا جاپانی نژاد امریکی ہوں۔ میرے والد ایک سخت نظریے کے ایتھیسٹ فلاسوفر تھے جنہوں نے بعد میں بدھ ازم اختیار کیا۔ میری والدہ پیدائشی بدھ ازم کی پیروکار تھیں، جن کا خاندان امریکہ میں جاپانی بدھ ازم مشن کا حصہ چار نسلوں سے رہا ہے۔ میں نے اپنی زندگی بدھ ازم سے شروع کی اور جاپان میں ایک روایتی جاپانی فن میں مہارت حاصل کی، تاکہ اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑ سکوں، لیکن اس کے بجائے میرا تعلق اسلام سے جڑ گیا۔ میری پیدائش جاپان میں ہوئی۔ میرے والدین، ظاہر ہے، جاپانی ہی تھے۔ اور میرا یقین تھا جیسس پر۔ تو میں کہتی تھی "آمین"۔ شاید میں حضرت عیسیٰؑ سے باتیں کرتی تھی۔ لیکن مجھے اسلام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ تو ایمان کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ شاید بدھ ازم ہماری فیملی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے دادا کو برادری میں بہت زیادہ عزت دی جاتی تھی۔ ظاہر ہے کہ میری ماں مندر میں خدمت گار تھیں، تو میں زیادہ تر وہيں ہوتا تھا۔ ہم ہر ہفتے کے آخر میں وہاں ہوتے تھے۔ میں مندر کے نوجوانوں کے گروپ کا حصہ تھا۔ میں مندر کی سرگرمیوں میں بہت سرگرم تھا۔ تو، مجھے حیرت ہوئی کیونکہ وہاں اتوار کو عبادت ہوتی تھی، جیسے عیسائی چرچ میں ہوتی ہے، لیکن جاپان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ تو میں حیران تھی کہ وہاں بدھا کے بارے میں گانے اور نغمے گائے جاتے تھے۔ میں وہاں ہر اتوار نہیں جایا کرتی تھی۔ میں صرف چند مہینوں تک گئی وہ بھی شاید اس لیے کہ میرے والد ہمیں عیسائی چرچ لے جانا چاہتے تھے۔ وہ کیا وجہ تھی جس نے آپ کو اپنے عقائد پر شک کرنے پر مجبور کیا؟ میں ہمیشہ اپنے عقائد پر سوال اٹھاتا رہا ہوں۔ یہ ایسا نہیں میں بدھ ازم پہ یقین رکھتا تھا، لیکن جودو شِنشو پہ بالکل نہیں۔ یہ جاپانی بدھ ازم کی ایک قسم ہے۔ دراصل شاید یہ اہم جاپانی بدھ ازم ہے جاپان میں ایک وقت میں بدھ ازم ایک بہت سیاسی مذہب بن چکا تھا۔ مطلب انتہائی سیاسی۔ اور حقیقت میں جاپان میں ایک قانون بھی پاس ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ ہر جاپانی خاندان کو اپنا نام رجسٹر کروانا ہوگا، کسی ایک بدھ مندر کے ساتھ۔ جب آپ تاریخ کا مطالعہ شروع کرتے ہیں، تو یہ سوچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک سچا مذہب اپنے مذہبی فیصلے جو تاریخ کی سیاست پر مبنی کرے، جبکہ مذہب سیاست سے پہلے آیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کافی چیزیں تھیں جو مجھے سمجھ نہیں آتی تھیں۔ اور آپ کا سفر اسلام کی طرف کیسے شروع ہوا؟ ہائی اسکول میں مشکل وقت گزرا۔ اور میں مشکلات میں اس لئے آیا کیونکہ میں خود کو منوانے کی دھن میں لگ گیا تھا۔ شاید حد سے بہت زیادہ.

پھر مجھے اسکول سے نکال دیا گیا، میں بہت مشکل وقت میں تھا۔ اور اس پوائنٹ پر مجھے احساس ہوا کہ میرا مذہب مجھے کوئی رہنمائی نہیں دے رہا تھا۔ یہ زندگی کے صحیح فیصلے کرنے میں مدد نہیں کر رہا تھا۔ تب ہی میں نے فیصلہ کیا کہ میں جاپانی ثقافت سیکھنے پر پوری طرح توجہ دوں گا۔ میں نے سوچا، ویل، ٹھیک ہے، کچھ وقت کے لیے مذہب کو سائڈ میں رکھ دیتا ہوں۔ اور اپنی تمام توانائی کسی مثبت چیز پر لگا دیتا ہوں، تو پھر میرے پاس غلط کاموں کے لیے توانائی نہیں بچے گی۔ یعنی وہ کام جو مجھے نہیں کرنے چاہییں۔ تو اس طرح سب کچھ شروع ہوا۔ میں ۲۰۰۶ میں جاپان آیا، بطور غیر ملکی ایکسچینج اسٹوڈنٹ۔ تبھی میری ملاقات میری بیوی سے ہوئی۔ میرے خیال میں میرے لیے خود کو حقیقی محسوس کرنا بہت اہم تھا۔ اسی لیے اور شاید اسی لیے میں نے خود کو پوری طرح روایتی جاپانی ثقافت میں پوری طرح ڈوبا دیا۔ اور کچھ وقت کے لیے وہی میرا "مذہب" بن گئی۔ قصۂ مختصر، تو ۲۰۱۲ آ گیا۔ اور اب وہ میرا ایک بہت اچھا دوست ہے، ایک شامی شخص جو شام کی خانہ جنگی کے دوران جاپان آیا تھا۔ وہ سیاسی پناہ گزین کے طور پر آیا تھا۔ اور ہم نے باتیں کرنا شروع کیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خدا کا کیا تصور رکھتا ہےِ۔ جیسے خدا کیا ہے؟ خدا کیا کائنات ہے؟ کیا خدا بادلوں میں بیٹھا ایک داڑھی والا آدمی ہے؟ یعنی تمہارے نزدیک خدا کیا ہے؟ اور اس نے مجھے کچھ یوں جواب دیا کہ بلکہ اس نے مجھے کہا کہ، "آئو، میں تمہیں کچھ دکھاتا ہوں"۔ اور اس نے مجھے "اخلاص" دکھائی۔ اس نے کہا، " یہ ہے ہمارا عقیدہ۔ میں نے کہا، اچھا، تو خدا کوئی شخص نہیں ہے؟ وہ ہنس کر بولا، " ظاہر ہے کہ خدا کوئی آدمی نہیں ہے"۔ کیا خدا کائنات ہے؟ نہیں، وہ ایسا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نا اس جیسا کوئی ہے، نا اس کے برابر کوئی ہے۔ اور اس کا عیسائی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسے وہ نہیں تھا نہ وہ پیدا کیا گیا، نہ اس نے کسی کو پیدا کیا۔ ایک بار پھر، یہ باتواضح ہوگئ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ہاں، یہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ ہاں، ٹھیک ہے، میں اس بات سے متفق ہوں۔ جب میری ملاقات اس شامی آدمی سے ہوئی، یہ میری زندگی کے اُس وقت کی بات ہے جب میں اپنے طرزِ زندگی پر دوبارہ غور کر رہا تھا۔ اور مجھے احساس ہوا کہ میں پہلے سے ہی خدا پر یقین رکھتا تھا۔ اور جب میں نے زندگی میں پیچھے مڑ کے دیکھا، تو مجھے لگا کہ میں پوری زندگی سے ہی خدا پر ایمان رکھتا آیا ہوں۔ لیکن کسی نہ کسی وجہ سے میں ہمیشہ سے اس احساس کو دبانے کی کوشش کرتا تھا۔ شاید میں اس لیے اسے دبا رہا تھا کیونکہ میرے میرے والد ایک انتہائی سخت نظریات رکھنے، والے ایتھیسٹ فلاسوفر تھے جو برسوں سے مجھے یہی سکھاتے رہے کہ میں کیسے مزہبی لوگوں سے مناظرے کروں ، اور ان کو کیسے جواب دوں اور کس طرح، اُن کے خدا کے عقیدے کو کمتر دکھایا جائے۔ کیسے ان عیسائیوں کا مقابلہ کروں جو مجھے یو نئو، یسوع کا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں تو شاید بہت کم عمر سے تقریباً، دس سال کی عمر سے ہی مجھے لگنے لگا کہ خدا پر ایمان رکھنا کوئی اچھی بات نہیں۔ تو مجھے یہ نہیں کرنا چاہئے۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا، اور مندر کے ساتھ وابستہ ہوتا گیا، مجھے مزید لگنے لگا کہ میں خدا پر ایمان نہیں لا سکتا، کیونکہ مجھے مندر سے وابستہ رہنا ہے، یا مجھے یہاں کی جاپانی کمیونٹی کے ساتھ جڑے رہنا ہے، وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ تو میرا روحانی سفر دراصل بہت مختصر تھا۔ بہت تیزی سے مکمل ہوا۔ میں اس شخص سے ملا، اس نے اسلام کے بارے میں بتایا۔ میں نے اپنی زندگی کے مختلف ٹکڑوں کو یاد کیا، اور سوچا، کہ ہاں، اگر میں اپنے آپ سے مخلص ہوں، تو یہی وہ چیز ہے جس پر میں یقین رکھتا ہوں۔ یہ مشکل نہیں تھا، بلکہ آسانی سے ہو گیا۔ مجھے بہت جلد یقین ہو گیا کہ میں مسلمان ہوں۔ اسلام کا نظریۂ حیات بہت واضح ہے۔ اگر تمہیں کوئی صحیح طریقے سے بتائے، اور تم ایماندار ہو، تو یہ بات اتنی واضح ہے کہ تم اسے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ تمام مسائل کا حل دیتا ہے، اور بالکل سادہ ہے۔ لیکن وجہ یہ تھی کہ مجھے کافی وقت لگا، کیونکہ میں نے تحقیق کی، مطالعہ کیا، اور مختلف پہلوؤں کو دیکھا، کیونکہ میری سوچ تھی کہ میں بعد میں ان تمام لوگوں کو آسانی سے سمجھا سکوں۔ میں سوچتا تھا کہ میں اپنے فلسفی باپ کو یہ سب کیسے سمجھاؤں گا؟ اور اپنی بدھ پرستی کی پیروکار ماں کو، جو مندر میں کام کرتی ہے، کیسے بتاؤں گا؟ میں اپنے خاندان اور کمیونٹی سے کیسے بات کروں گا، جن کے ساتھ میں پلا بڑھا ہوں؟ میں تو اسی مندر میں پلا بڑھا ہوں۔ وہ سب میرے نانا کو جانتے ہیں، میری ماں کو جانتے ہیں، اور اب مجھے بھی...

جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ کے خاندان اور آپ کی بیوی کا ردعمل کیسا تھا؟ وہ چیز جس سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے تھے؟ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں، آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ "ٹوورڈز ایٹرنیٹی" ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔ ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیوز بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو ہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ کے خاندان اور آپ کی بیوی کا ردعمل کیسا تھا؟ وہ چیز جس سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے تھے؟ اسی وجہ کے خاطر تو میں پڑھ رہا تھا، کیونکہ مجھے معلوم تھا میں کس صورتحال میں ہوں۔ مجھے پتا تھا میرا، سب سے پہلے میری بیوی اسے قبول نہیں کرے گی۔ اور اس کا خاندان بھی بالکل قبول نہیں کرے گا۔ میرا اپنا خاندان بھی قبول نہیں کرے گا۔ میرے والد، میری والدہ، سبھی اس بات کو قبول نہیں کریں گے۔ مجھے پہلے سے ہی معلوم تھا کہ کوئی خوش نہیں ہوگا۔ لہٰذا ایک طرح سے زندہ رہنے کی ترکیب کے طور پر، میں اسے جتنا ممکن ہو چھپانے کی کوشش کرتا رہا میں لوگوں کے سامنے نماز نہیں پڑھتا تھا۔ اگر روزہ رکھتا تھا تو کسی کو نہیں بتاتا تھا۔ میں بہانے بناتا تھا، جیسے میری ڈاکٹر سے ملاقات ہے بعد میں۔ یا مجھے خالی پیٹ رہنا ہے۔ میں یوں ظاہر کرتا کہ میں کچھ پی رہا ہوں حالانکہ نہیں پیتا تھا۔ کافی عرصے تک میں نے سب کچھ چھپائے رکھا۔ میں نے سوچا کہ اپنی بیوی کے ساتھ میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں لاؤں گا۔ اور اگر میں ایک بہتر انسان بن گیا، یا اگر وہ دیکھتی کہ ہمارا خاندانی نظام بہتر ہو رہا ہے، تو وہ شاید مجھ سے پوچھتی، "ارے، اب تم اتنے اچھے شوہر کیسے بن گئے ہو؟" "کیا ہوا تمہیں؟" لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تو لہٰذا ہر چھوٹی سی تبدیلی مجھے بہت ہی زیادہ احتیاط سے لانی پڑتی تھی۔ مثلاً نماز پڑھنا، فجر کے وقت اٹھنا۔ میں کتنا خاموش رہ سکتا تھا، کوئی آواز نا ہو؟ تو اور اب بھی، یہ کچھ مزاحیہ لگتا ہے، لوگ ہنستے ہیں۔ جب میرا الارم بجتا ہے، میں ٹرینڈ ہوں تو جیسے میں فوراً اٹھ کر، پہلی بیپ ختم ہونے سے پہلے ہی الارم بند کر دیتا ہوں۔ یعنی الارم بجتا ہے تو میں فوراً...

تو میں اسے بند کر دیتا ہوں۔ جب میری بیوی کو پتا چلنا شروع ہوا کہ میں مسلمان ہوں، اور میں اسلام کی وجہ سے روزہ رکھتا ہوں، اور شراب نہیں پیتا، اور میں نے اس سے کہا کہ وہ سور کے گوشت سے پرہیز کرے، تو وہ اسلام کے خلاف ہو گئی۔ اس نے اسلام پڑھنا شروع کیا تاکہ وہ ایسی چیزیں تلاش کرے جن سے میں اسلام چھوڑ دوں۔ اور پھر شروع میں سب کچھ کسی حد تک ٹھیک چل رہا تھا، لیکن پھر میں نے داڑھی رکھنا شروع کر دی۔ ہاں، بالکل۔ تو میرے اردگرد جو بھی عورتیں تھیں، وہ جب میرا چہرہ دیکھتیں تھیں، تو کہتیں تھیں "تم اوسامہ بن لادن جیسے لگتے ہو۔ اگر تمہیں داعش میں شامل ہونا ہے، تو پھر جاپان میں کیا کر رہے ہو؟ چہرہ صاف کرو، تم گندے لگ رہے ہو، تمہیں شیو کرنا چاہیے۔ کیا تمہیں میں ریزر خرید کر دوں؟" اور یہ ہر ملاقات پر ہوتا ہے۔...

• معاف کیجیے۔ • ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ ہمیشہ یہی ہوتا رہا۔ تو پھر آپ کی بیوی مسلمان کیسے بنیں؟ تو دوبارہ حالات بہت خراب ہونے لگے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم علیحدگی پر بات کر رہے تھے۔ ظاہر ہے، میں نہیں چاہتا تھا۔ اور اس نے کہا، "ٹھیک ہے، ہمیں علیحدہ نہیں ہونا، لیکن تم کہیں اور جا کر رہ سکتے ہو۔" "تم الگ کمرے میں رہ لو، یا الگ فلیٹ لے لو، اور وہاں مسلمان بن کر رہو۔" "مجھے کوئی پرواہ نہیں، قانونی طور پر ہم شادی شدہ رہیں گے۔" "تم بچوں سے ویک اینڈ پر مل سکتے ہو، لیکن تم بس..." "مسلمان بن کر کہیں اور رہو۔" "ہمیں اس میں مت گھسیٹو، تم ہماری زندگی مشکل بنا رہے ہو۔" حالات خراب ہو گئے ہم ہمیشہ لڑتے رہتے۔ مجھے یاد ہے ایک رات میں گھر واپس آیا، اور ہم دوسری منزل پر رہتے تھے۔ میں اپارٹمنٹ کے باہر سیڑھیوں کے نیچے پہنچا، اور میرے پاس پہلی سیڑھی چڑھنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ اور میں سیڑھیوں کے سامنے کھڑا تھا، اور بس بہت تھک گیا تھا۔ میں لڑتے لڑتے تھک گیا تھا۔ اپنے عقیدے کا دفاع کرتے کرتے تھک گیا تھا۔ لوگوں کے "چہرہ صاف کرو" کہنے سے تنگ آ گیا تھا۔ میں بہت سی چیزوں سے تھک گیا تھا۔ اور وہیں کھڑا ہو کر پہلی بار میں نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ میں نے کہا، "یا اللہ، میں اب مزید یہ سب نہیں کر سکتا۔" "جو بھی میرے لیے بہتر ہے، وہی کر دے۔" "اگر میری بیوی کے ساتھ بہتر ہے، تو ہمارے درمیان صلح کر دے۔" "اور اگر نہیں، تو پھر..." "مجھے کچھ بہتر عطا کر دے،" لیکن اب میں نہیں کر سکتا۔ "میں واقعی بہت تھک گیا ہوں۔" اسی وقت، یہ کورونا کے شروع کے دنوں میں تھا۔ شاید پانچواں دن تھا یا کچھ ایسا ہی، جب جو لوگ ٹھیک ہوتے ہیں، وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، جو بگڑتے ہیں، ان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ اور یہ وہ وقت تھا جب ہم خبروں میں دیکھ رہے تھے، اتنے سارے لوگ مر رہے ہیں، اور اسپتال بھر چکے ہیں، یعنی اسپتالوں میں اب گنجائش نہیں بچی تھی۔ یہ خوف کی انتہا تھی۔ ہر کوئی کورونا سے ڈرا ہوا تھا۔ اور شروع میں ہی مجھے کورونا ہو گیا۔ تو یہ وہ وقت تھا جب اگر کسی کو کورونا ہو جاتا، تو ہسپتال اسے داخل نہیں کرتے تھے، اور ایمبولینس بھی اُسے لینے نہیں آتی تھی۔ آپ لوگوں کو نہیں بتانا چاہتے تھے کہ آپ کو کورونا ہے، کیونکہ ابھی بھی ایک، اس سے بدنامی جڑی ہوئی تھی، جیسے آپ کو کوئی خطرناک طاعون ہو گیا ہو۔ تو کچھ دنوں کے لئے میں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا تھا۔ اور نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن میں ٹھیک ہونے لگا۔ مگر جیسے میں ٹھیک ہو رہا تھا، میری بیوی بیمار ہو گئی۔ اور یہ ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ اچھا، تو اب دو ہفتے ہو چکے ہیں، اور اس کی طبیعت مزید خراب ہو رہی ہے اس کی کھانسی بڑھ رہی ہے، پھر تین ہفتے ہو گئے ہیں، اور لگ رہا تھا، ٹھیک ہے، کہ یہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ اور پھر میری نظر سے دیکھو تو، میں فکر مند تھا۔ تو اس کے آکسیجن لیول ابھی بھی قابلِ قبول تھی، تو میں بہت زیادہ پریشان نہیں تھا، مگر فکرمند تھا۔ پھر اچانک ایک دن، بغیر کسی تمہید کے، اس نے مجھ سے کہا، "کہ سنو، تو شہادت (ایمان لانے کے اعلان) پڑھنے کے لیے دو لوگ دو گواہ درکار ہوتے ہیں، ہیں نا؟" میں حیران ہو گیا، کیا؟ میں نے کہا، یہ سوال تم کسی دوست کے لیے پوچھ رہی ہو؟ تو یہ بولی، "نہیں، اپنے لیے۔" میں نے کہا، کیا؟ شہادت (ایمان لانے کے اعلان)؟ دو گواہ؟ ہاں۔ کیا؟ تم...تم مسلمان ہونا چاہتی ہو؟ اور یہ میری طرف دیکھ کر بولی، "ہاں، اگر میں مر جاؤں، تو میں تم اور بچوں سے الگ جگہ نہیں جانا چاہتی۔ اگر میں مری تو میں وہیں جانا چاہتی ہوں جہاں تم لوگ جاؤ۔" تو میں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ، "یوکی، آؤ ادھرآؤ بیٹا،۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے، ضرورت ہے۔" وہ ابھی بچہ تھا، تو شاید یہ گواہی شمار نہ ہو، مگر کورونا کا وقت تھا، لاک ڈاؤن چل رہا تھا، ہم یہی کر سکتے تھے۔ میں نے کہا، "مجھے چاہیے کہ تم میرے ساتھ گواہ بنو۔" تو ہم دونوں وہاں کھڑے ہوئے، اور اس نے قرنطینہ والے کمرے سے ہی شہادت پڑھی، اور بس، وہ لمحہ مکمل ہو گیا۔ کئی ہفتوں بعد مجھے احساس ہوا کہ، رکو زرا، میں نے تو ہار مان لی تھی، اور دو ہفتوں میں سب کچھ بدل گیا۔ ایسے تو مجھے آٹھ سال پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے تھی۔ میں سوچنے لگا اتنے سالوں سے کیا کر رہا تھا؟ کتنے گھنٹے ضائع کر دیے میں نے؟ آپ نیکیاں جمع کر رہے تھے...

بہت سی نیکیاں۔ سارا وقت، ہاں، سارا وقت۔ اگر کوئی سبق ہے جو کوئی اس سے سیکھ سکتا ہے، تو وہ یہ ہے کہ جب لوگ مجھ سے اسلام قبول کرنے کی کہانی پوچھتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ میری کہانی اتنی اہم نہیں ہے۔ سب سے اہم تبدیلی کی کہانی میری بیوی کی ہے۔ کیونکہ میں آٹھ سال تک کچھ نہیں کر سکا، مجھے کئی مشکلات کا سامنا ہوا اس رشتے میں، اور مجھے صرف یہ کرنا تھا کہ میں ہار مان لوں اور کہوں، "اے اللہ، یا اللہ، براہ کرم، یہ معاملہ میرے ہاتھوں سے نکال لے، میں نہیں کر سکتا۔" اور پھر صرف دو ہفتے بعد...

میرے لیے یہ سب کچھ اتنا اچانک تھا، اور مجھے کافی وقت لگا یہ سمجھنے میں کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ اور میں جب فجر کے وقت اٹھتا تھا اور سوچتا تھا کیا میں اسے جگاؤں یا نہیں؟ پھر سوچوں ۔۔، کہ کیا میں اسے سونے دوں؟ اگر میں اسے جگا دوں تو کہیں یہ ناراض نہ ہو جائے؟ کیا یہ مسلمان ہو گئی ہے؟ یہ سچ ہے؟ لیکن پھر میں آہستہ سے جھکتا ہوں، یہ آنکھیں کھول کر کہتی ہے، "فجر؟" میں نے کہا، "ہاں۔ "تو پھر ہم نماز پڑھتے۔ آپ برسوں سے ایک خاص ثقافت کا حصہ تھے، آپ کے رشتے دار اور پیارے بھی۔ آپ مسلمانوں کی کمیونٹی کے لیے اجنبی تھے۔ کیا آپ کے لیے مشکل نہیں تھا ان چیزوں کو چھوڑنا جن کے آپ عادی تھے؟ ہاں، بہت مشکل تھا۔ میں نے سب کچھ قربان کر دیا چاہے وہ میرا پیسہ ہو، میرا وقت ہو، میری توانائی، یہاں تک کہ میرے دوسرے لوگوں سے تعلقات بھی۔ لیکن جب میں نے وہ دنیا چھوڑی، تو میرے پاس کچھ باقی نہیں تھا۔ مجھے کوئی دوسرا کام نہیں آتا تھا۔ مجھے کوئی اور کاروبار نہیں آتا تھا۔ میرے پاس کوئی اور اعلیٰ تعلیمی ڈگری نہیں تھی یا کسی اور شعبے کا علم واقعی نہیں تھا۔ ہاں، یہ بہت مشکل تھا۔ لیکن میں ہمیشہ ایک چیز کو یاد رکھتا ہی تھا وہ یہ کہ اللہ کا فرمان ہے، اگر تم میری خاطر کچھ چھوڑ دو، تو میں تمہیں اس سے بھی بہتر عطا کروں گا۔ تو میرے دائیں ہاتھ میں ایمان تھا، اور بائیں ہاتھ میں، میری دنیا کی ساری چیزیں تھیں۔ اور مجھے بس چھوڑ دینا تھا، اور یقین رکھنا تھا کہ اللہ راستہ نکال دے گا۔ الحمد للہ، میں واقعی ایمان سے کہتا ہوں کہ اللہ نے میرے دل میں یہ یقین، یہ ایمان ڈال دیا۔ اور بس، یہی سب کچھ تھا۔ جب یہ مسلمان ہوئی، تو اس نے میرے ساتھ پہلا رمضان گزارا۔ میرا رمضان ہمیشہ بہت تنہا، میں سمجھ سکتی ہوں۔ بہت تنہا اور خاموش ہوتا تھا۔ یہ بہت، بہت ہی مشکل اور کٹھن اور تنہائی بھرا وقت ہوتا تھا۔ آپ اکیلے سحری کرتے ہیں افطار اکیلے کرتے ہیں، اور یہ کسی طرح کا لطف نہیں دیتا تھا۔ دوسری طرف، یہ انسٹاگرام پر تھی، اور اس میں تصویریں دیکھ رہی تھی جہاں لوگ بڑے خوبصورت افطار سجائے بیٹھے ہیں، افطار پارٹیز ہو رہی ہیں، اور لوگ رمضان کو ایک تہوار کی طرح منا رہے ہیں۔ اور یہ مجھ سے ناراض ہو گئی۔ اور کہنے لگی، "نہیں، میں ایسا رمضان چاہتی ہوں!" "کہہ رہی تھی کہ یہ رمضان تو بالکل بُرا ہے!" تو اس وقت سے لے کر اب تک ، یہ جے ڈی سی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہم اس میں شامل ہو گئے، اور اب یہیں ہیں، جاپان مسلم ایسوسی ایشن جے یم اے میں ہم اس کا حصہ ہیں اور، اور ہم مدد کرتے ہیں ٹوکیو کے علاقے میں مختلف تقریبات میں، یہاں جے ڈی سی کے ساتھ، اور اپنے مقامی مسجد یوکوہاما میں بھی۔ آپ دونوں ایک دوسرے میں سب سے زیادہ کس چیز کو پسند کرتے ہیں؟ میں اس میں بہت ساری چیزوں کو پسند کرتا ہوں۔ اور جب سے ہم ملے ہیں، بہت سی ایسی باتیں ہیں جو یہ فطری طور پر کرتی تھی، جو ایک مسلمان کو کرنی چاہییں۔ میں نے بتایا تھا کہ میں ایک انقلابی امریکی پس منظر سے آتا ہوں، جہاں اگر کوئی مجھے کہے کہ میں کیا کروں، تو میرا پہلا ردِعمل ہوتا ہے، ہاں، چھوڑو یار، تمہیں کیا۔ ہاں، یہاں سے نکل جاؤ۔ چاہے وہ میرے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ استغفراللہ (میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں)۔ لیکن اس کے ساتھ، یہ ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ اُس نے کبھی محسوس کیا ہو کہ، جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ لیکن اُس نے ہمیشہ اچھا رویہ رکھا۔ اور میں اُس بات کی بہت عزت کرتا ہوں۔ یہ ہمیشہ خاندان کے گرد مرکوز رہی۔ ہمیشہ ہمارے بچوں کا خیال رکھتی ہے، اور ان کی زندگیوں میں بہت شامل رہی۔ میں اس بات کی بہت قدر کرتا ہوں۔ تو…

بنیادی طور پر کچھ خاص نہیں۔ ہاں بلکل صحیح کہا میں ںے یہ کہہ رہی ہے کہ بہت اچھا آدمی ہے۔" ہاں یہ بھی سچ ہے کیا واقعی؟ بس یہی کہا انہوں نے؟ ہاں بالکل۔، جو بھی کہا بالکل سچ ہے آپ کو نبیِ پاک ﷺ کے بارے میں سب سے زیادہ کیا چیز متاثر کرتی ہے؟ جب وہ فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی دعا قیامت کے دن ہمارے لیے محفوظ رکھی ہے، جب ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، انہوں نے اپنی دعا بچا کر رکھی ہے، وہ ایک دعا جو ضرور قبول کی جائے گی۔ انہوں نے وہ دعا ہمارے لیے محفوظ رکھی۔ جب میں ایسی باتیں سنتا ہوں، تو مجھے واقعی لگتا ہے کہ وہ ہمارے ہی بارے میں بات کر رہے تھے، جب اُنہوں نے وقت کے پار دیکھا، تو شاید اُنہوں نے مجھے دیکھا۔ شاید انہوں نے آپ کو دیکھا، انہوں نے اس نسل کو دیکھا۔ تو میرے لیے شاید یہی ہے — وقت سے آگے دیکھنے کی اُن کی صلاحیت جن سے وہ کبھی نہیں ملے اُن لوگوں کے لیے شفقت یہی سب سے متاثر کن بات ہے۔ بھائی شیگی، بہن لیزا، آپ دونوں کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنی کہانی دیانت داری سے ہمارے ساتھ شیئر کی۔ اللہ آپ کو اجر دے، اور ان شاء اللہ، اللہ،آپ کو اس راستے پر ثابت قدم رکھے، سیدھے راستے پر، اور آخری سانس تک، ان شاء اللہ۔ اور آخرت میں آپ دونوں کو جنت میں دوبارہ ملائے، ان شاء اللہ۔ جزاکمُ اللہ خیرً بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
