# "میں نے محمد کو قتل کر دیا!"–احد ایک صدا سے لرز اٹھا – اے آئی سے بنائی گئی سیریز –اے رسول | قسط ہفتم

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-klled-muhammad-uhud-was-shaken-by-a-cry-ai-visualized-o-messenger-ep-7
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=CPWL76pGaBI
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

مسلمان فتح کے بالکل قریب تھے۔ میں اللہ کا شیر ہوں!

لیکن ایک بڑی غلطی نے سب کچھ الٹ کر رکھ دیا۔ مجاہدین نے اچانک خود کو آگے اور پیچھے، دونوں طرف سے گھرا ہوا پایا، دونوں اطراف سے شدید حملوں کا سامناکرتے ہوئے۔ غزوہ احد کے اس دن، جو آزمائشوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا، مسلم فوج میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ صحابہ کرام بالکل الجھن کا شکار تھے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ کیا وہ اس جان لیوا جال سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کر پائیں گے؟ جب فتح اتنی قریب تھی، تو حالات اس نہج تک کیسے پہنچ گئے؟ آئیے آغاز کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لئے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ مکہ کے کئی بڑے سرداروں کے مارے جانے کے بعد، ابو سفیان کو قریش کا نیا سردار بنایا گیا۔ اس نئے سردار پر ہر کوئی بدلہ لینے کا دباؤ ڈال رہا تھا۔ دوسری طرف، ابوسفیان کے قبیلے کی ساکھ بدر کی شکست سے بری طرح مجروح ہوئی تھی۔ وہ اسے تسلیم نہیں کر پا رہے تھے، نہ ہی اسے بھول سکتے تھے۔ وہ ہر حال میں اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ غلام جنہوں نے کبھی ان کی خدمت کی تھی وہ بھی اب کھلے عام اپنے سابقہ آقاؤں کو للکار رہے تھے۔ یہ سب قریش کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ان کے کچھ سرکردہ افراد جیسے جبیر بن مطعم، صفوان بن امیہ، اور عکرمہ بن ابو جہل اکٹھے ہوئے اور ایک تجویز پیش کی۔ "محمد (ﷺ) نے ہمارے بزرگوں کو قتل کر کے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ اب بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔" "ہاں۔ تجارتی قافلے کا سرمایہ اس کے مالکان کو واپس کر دیتے ہیں اور منافع کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔" سب اس منصوبے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے سامان بیچ کر اسے رقم میں تبدیل کیا، اور منافع کو جنگ کی تیاریوں پر لگا دیا۔ سب نے، خاص طور پر انہوں نے جنہوں نے بدر میں اپنے پیاروں کو کھویا تھا، ایک اور جنگ کی تیاری میں اپنی پوری جان لگا دی۔ نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس نے نبی پاک ﷺ کو مکہ میں ہونے والے حالات سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ تین ہزار آدمیوں کا لشکر مدینہ کی طرف پیش قدمی کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ سن کر، نبی پاک ﷺ نے صحابہ کو جمع کیا اور اس صورتحال کے بارے میں ان کی رائے پوچھی۔ آپ ﷺ کی اپنی رائے یہ تھی کہ مدینہ کا دفاع شہر کے اندر رہ کر کیا جائے۔ لیکن صحابہ سے مشورہ کرنا آپ ﷺ کی سنت تھی۔ ایسے نازک لمحات میں بھی۔ آپ ﷺ اکیلے فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ آپ کے صحابہ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اس مشاورتی مجلس میں، دو اہم آراء سامنے آئیں۔ نوجوان صحابہ باہر جا کر کھلے میدان میں دشمن کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے، بالکل بدر کی طرح۔ حضرت حمزہ نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ دوسری طرف، جو لوگ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے، وہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ایک بڑے اعزاز سے محروم رہ گئے، اسی لیے وہ بھی کھلے میدان میں لڑنا چاہتے تھے۔ اس خیال کی تائید کرنے والے ایک صحابی حضرت خيثمہ تھے۔ بدر سے پہلے، انہوں نے اور ان کے بیٹے سعد نے قرعہ اندازی کی تھی تاکہ فیصلہ ہو سکے کہ میدان جنگ میں کون جائے گا۔ قرعہ ان کے بیٹے کے نام نکلا، اور سعد بدر کے شہداء میں شامل ہو گئے۔ اور اب حضرت خيثمہ خود شہادت کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ، مجھے امید ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں قریش پر فتح عطا فرمائے گا۔ لیکن اگر دوسرا نتیجہ سامنے آتا ہے، یعنی شہادت، تو میں بدر میں اس اعزاز سے محروم رہا۔ میری جگہ میرے بیٹے نے اسے حاصل کیا۔ اب میرے دل میں جنت میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے کی شدید خواہش پیدا ہو گئی ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں، اور میری خواہش ہے کہ میں اپنے رب سے ایک شہید کی حیثیت سے ملوں۔ مجھے اس سے محروم نہ رکھیں۔ دعا فرمائیں کہ مجھے شہادت نصیب ہو اور میں جنت میں اپنے بیٹے سعد سے جا ملوں۔" وہ اس موت کی طرف دوڑ رہے تھے جس سے باقی سب ڈرتے تھے، اور اس دنیاوی زندگی سے منہ موڑ رہے تھے جسے دوسرے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھے، اور اس کے بجائے وہ آخرت کے ہمیشہ کے گھر کی خواہش کر رہے تھے۔ نبی پاک ﷺ اور زیادہ تجربہ کار صحابہ کرام، شہر کے اندر رہ کر اس کا دفاع کرنے کے حق میں تھے۔ لیکن مشاورت کے بعد، اکثریت نے کھلے میدان میں دشمن کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ نبی پاک ﷺ نے ان کے فیصلے کو تسلیم کیا اور شہر سے باہر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔ نماز جمعہ پڑھانے کے بعد، نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ سے خطاب کیا کہ جہاد کے لیے کس طرح تیاری کی جائے اور فرمایا: "جہاد میں پیچھے ہٹنا یا تاخیر کرنا کمزوری کی علامت ہے۔ جب صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، تو اللہ کی مدد آتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور ثابت قدم رہو۔" نبی پاک ﷺ نے خاص طور پر ان دو خوبیوں پر زور دیا۔ آپ ﷺ کا بولا گیا ہر لفظ بامقصد اور با معنی تھا۔ جلد ہی، میدان جنگ میں ایک ایسا بڑا واقعہ پیش آنے والا تھا جو جنگ کا رخ بدل دیتا اور کئی آزمائشوں کے دروازے کھول دیتا۔ وہیں صبر اور استقامت کی حقیقی معنوں میں ضرورت پڑنے والی تھی۔ پھر، عصر کی نماز پڑھانے کے بعد، نبی پاک ﷺ گھر تشریف لے گئے تاکہ اپنی زرہ پہنیں اور تلوار تھام لیں۔ اسی دوران، دو صحابہ، سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر نے، باہر جمع ہونے والے مسلمانوں سے بات کی اور کہا: "اگرچہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے باہر نہیں جانا چاہتے تھے، لیکن تم ضد کرتے رہے کہ ہمیں باہر جانا چاہیے۔ لیکن انہیں تو آسمانوں سے حکم ملتا ہے۔ یہ معاملہ ان پر چھوڑ دو، اور جو وہ فیصلہ کریں اس کی پیروی کرو۔" ان الفاظ نے ان لوگوں کے ذہن بدل دیے جو شہر سے باہر دشمن کا سامنا کرنا چاہتے تھے، اور ان میں سے کچھ تو پشیمانی بھی محسوس کرنے لگے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ نبی پاک ﷺ گھر سے باہر آئے ہیں اور زرہ پہنی ہوئی ہے اور تلوار تھامی ہوئی ہے، تو انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ ﷺ، ہم وہ نہیں چاہتے جو آپ کو ناپسند ہو۔ اگر آپ مدینہ میں رہنا چاہتے ہیں، تو ہم بھی آپ کے ساتھ رہیں گے۔ ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کی مرضی کے خلاف کام کریں۔" نبی پاک ﷺ نے جواب دیا: "کسی نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ زرہ پہننے کے بعد دشمن سے لڑنے سے پہلے اسے اتار دے، اور اس سے پہلے کہ اللہ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان کوئی فیصلہ فرما دے۔" اپنی فوج کے ساتھ، نبی پاک ﷺ الشيخين نامی مقام سے روانہ ہوئے اور احد کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے درمیان مدینہ کے منافقین بھی شامل تھے، جو مسلمانوں کے اتحاد کو کمزور کرنے اور ان کے حوصلے توڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہے تھے۔ اور ان کے سردار، عبداللہ بن ابی بن سلول کو یاد رکھیں، وہ شخص جو نبی پاک ﷺ کے خلاف ہمیشہ سازشیں کرتا رہتا تھا حسد کی وجہ سے، اس کے ذہن میں ایک بار پھر ناپاک ارادے تھے۔ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا تھا، مگر اس کے دل میں کوئی ایمان کا نام و نشان نہ تھا۔ وہ اتنی دور تک تو آ گیا تھا، لیکن بالکل شروع سے ہی، وہ ہچکچاہٹ اور خوف کا شکار تھا۔ پھر، اچانک، وہ کھڑا ہوا اور چلایا: "محمد نے ناتجربہ کار لڑکوں کی بات مانی اور میرا مشورہ رد کر دیا!

اے لوگو!

مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم اس کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں کیوں ڈالیں، جب اس نے ہماری بات ہی نہیں مانی۔" اس کے بعد اس کے قبیلے کے تقریباً 300 آدمی اور وہ منافقین جو اس کے حمایتی تھے، اچانک فوج سے الگ ہو گئے اور اس کے ساتھ واپس مدینہ لوٹ گئے۔ اس غداری کی وجہ سے، مسلم فوج گھٹ کر صرف 700 رہ گئی۔ یعنی قریش کے لشکر کا صرف ایک چوتھائی حصہ۔ اللہ عزوجل ایک لحاظ سے، احد کی آزمائش کے ذریعے مسلمانوں کا امتحان لے رہا تھا تاکہ کھرے اور کھوٹے ایمان والوں کو الگ کر سکے۔ اور اللہ نے اس بات کو اپنے نبی ﷺ پر ظاہر فرمایا اس آیت کے ذریعے: "اس دن جو مصیبت تم پر آئی جب دونوں فوجیں آپس میں ٹکرائیں، وہ اللہ کے حکم سے تھی، تاکہ وہ سچے مومنوں کو پہچان لے اور منافقوں کو بے نقاب کر دے۔" نبی پاک ﷺنےاس وجہ سے واپسی کا ارادہ نہیں کیا ، کیوں کہ ان کی فوج چھوٹی ہو گی تھی۔ آپ ﷺ نے باقی رہ جانے والے صحابہ کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ لیکن ساتھ ہی، وہ ایک خواب کی وجہ سے ایک گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ تو وہ خواب کیا تھا؟ انہوں نے یہ خواب اپنے صحابہ کو سنایا: "میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار زمین پر ماری اور اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ یہ اس مصیبت کی طرف اشارہ تھا جو کچھ مسلمانوں پر آنے والی تھی، احد کے دن۔ پھر میں نے اسے دوبارہ مارا، اور وہ اپنی اصل حالت میں، بالکل ٹھیک ہو کر واپس آ گئی۔ اور یہ اللہ کی طرف سے اس فتح کی اور مومنوں کے اکٹھے ہونے کی علامت تھی۔ “ وہ رات گئے احد پہنچے۔ نبی پاک ﷺ نے میدان جنگ کا بغور جائزہ لیا اور وہ بہترین جگہیں منتخب کیں جہاں مسلمانوں کو پوزیشن لینی چاہیے تھی۔ ان کے سامنے ان کی تعداد سے چار گنا بڑی فوج تھی، جس میں تقریباً 200 گھڑ سوار تھے۔ اس لیے نبی پاک ﷺ کو ہر قدم بہت احتیاط سے اٹھانا تھا۔ آپ ﷺ نے 50 ماہر تیر اندازوں کو جبلِ عینین پر تعینات کیا۔ اگر دشمن کے گھڑ سوار اس طرف سے حملہ آور ہوتے، تو مسلمان آسانی سے دو طرفہ حملے کی زد میں آ جاتے۔ اس لیے اس پہاڑی کی حفاظت انتہائی ضروری تھی۔ اگر تیر انداز اپنی جگہ چھوڑ دیتے، تو دشمن فوری طور پر فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ نبی پاک ﷺ نے تیر اندازوں کو واضح حکم دیا: "اگر تم دیکھو کہ ہم دشمن کو ہرا رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا جب تک میں تمہیں نہ کہوں یا کسی کو تمہیں بلانے کے لیے نہ بھیجوں۔ اور اگر دشمن ہمیں شکست دینے لگے، تب بھی یہ کہہ کر اپنی جگہ نہ چھوڑنا کہ 'چلو چل کر ان کی مدد کریں۔'" ان ہدایات کو بار بار دہرانے کے بعد، نبی پاک ﷺ نے مزید فرمایا: "یہاں تک کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارے جسموں کو نوچ رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ سے ہرگز مت ہلنا جب تک کہ میں تمہیں بلاوا نہ بھیجوں۔" اس کے بعد نبی پاک ﷺ نے اپنے لشکر کو ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن پر کھڑا کیا، جہاں احد کا پہاڑ ان کی پشت پر تھا۔ اس کی وجہ بالکل واضح تھی۔ اگر دشمن حملہ آور ہوتا، تو انہیں اپنے پیچھے پہاڑ کا سہارا مل جاتا۔ اور اگر مسلمان حملہ کرتے، تو اس سے دشمن کے لیے بھاگنا آسان ہو جاتا۔ یہ حکمت عملی اس لیے بنائی گئی تھی تاکہ کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ فتح حاصل کی جا سکے۔ ایک موقع پر، نبی پاک ﷺ نے ایک تلوار اٹھائی اور اپنے صحابہ سے پوچھا: "کون یہ تلوار مجھ سے لے گا؟" کئی صحابہ اسے لینا چاہتے تھے۔ اس بار نبی پاک ﷺ نے پوچھا: "کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا؟" یعنی، اس کا صحیح استعمال کرے گا۔ ایک آواز آئی: "یا رسول اللہ، اس کا حق کیا ہے؟" یہ حضرت ابو دجانہ تھے، ایک انصاری صحابی جو اپنی بہادری اور بے خوفی کے لیے مشہور تھے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "اس کا حق یہ ہے کہ تم اس سے دشمن کے خلاف تب تک لڑو جب تک کہ یہ ٹوٹ نہ جائے، یا مزید استعمال کے قابل نہ رہے۔" "میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا، یا رسول اللہ۔" اور انہوں نے تلوار لے لی۔ دونوں لشکر اب ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی صفیں بنا لی اور انتظار میں کھڑے تھے۔ وہ لمحہ آ چکا تھا۔ مزید انتظار نہ کرتے ہوئے، بالآخر دونوں طرف سے حملہ ہو گیا۔ یہ ٹکراؤ بجلی کی سی تیزی سے شروع ہوا۔ مجاہدین، جو اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے بے تاب تھے، انتہائی بہادری کے ساتھ میدان جنگ میں اتر گئے۔ اب حضرت ابو دجانہ کے لیے اپنا وعدہ نبھانے کا وقت تھا۔ "میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا!" وہ دشمن کی صفوں میں انتہائی تیزی سے داخل ہوئے، اپنی تلوار پوری طاقت سے چلاتے ہوئے، بنا رکے آگے بڑھنے لگے۔ ہر وار کے ساتھ، جو بھی ان کے راستے میں آیا، انہوں نے اسے کاٹ گرایا اور مضبوط قدموں سے آگے بڑھتے رہے۔ اسی دوران، حضرت حمزہ پکار رہے تھے: "میں اللہ کا شیر ہوں!" اور وہ بے خوفی کے ساتھ دشمن کی صفوں میں گھس کر، دائیں بائیں تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے۔ اس وقت، خالد بن ولید، جو قریش کی طرف سے لڑ رہے تھے، عینین کی پہاڑی کے پیچھے 200 گھڑ سواروں کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔ مسلمان ان کی فوج پر حاوی ہو رہے تھے۔ اس لیے وہ جنگ میں شامل ہو کر ان کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ وہ وقتاً فوقتاً پہاڑی پار کرنے کی کوشش کرتے، لیکن وہ تیر انداز جنہیں نبی پاک ﷺ نے وہاں بٹھایا تھا، انھیں آگے بڑھنے نہیں دے رہے تھے۔ اس لیے خالد رک کر، حملہ کرنے کے بہترین موقع کا انتظار کرتے رہے۔ مسلم فوج اپنی پوری طاقت کے ساتھ لڑ رہی تھی، بے مثال عزم اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ جلد ہی، مشرکین کی فوج مزید جم کر نہ لڑ سکی اور خوف سے بھاگنے لگی۔ ڈھول بجا کر اور گیت گا کر، قریش کی عورتیں بھاگتے ہوئے فوجیوں کو واپس بلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن ایمان سے خالی دلوں کے لیے، یہ سب کوششیں بے سود تھیں۔ وہ اپنی جانیں بچا کر بھاگے۔ لیکن پھر، وہ مصیبت کیا تھی جسے نبی پاک ﷺ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا؟ سب کچھ مسلمانوں کے حق میں جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اچانک ایک بالکل غیر متوقع واقعہ پیش آیا۔ جب پہاڑی پر موجود تیر اندازوں نے قریش کو پیچھے ہٹتے دیکھا، تو انہوں نے سوچا کہ جنگ ختم ہو گئی ہے اور ان کا کام پورا ہو گیا ہے۔ ان میں سے عبداللہ بن جبیر نے، انہیں نبی پاک ﷺ کے حکم کی یاد دلائی اور پکارا: "کیا تم بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں کیا کہا تھا؟ جو حکم اور ہدایت انہوں نے تمہیں دی تھیں؟" لیکن ان کے متنبہ کرنے کے باوجود، سوائے چند لوگوں کے جو ان کے ساتھ رکے رہے، ان کی اکثریت نے عینین کی پہاڑی چھوڑ دی اور مالِ غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ یہ بالکل وہی لمحہ تھا جس کے لیے نبی پاک ﷺ نے صبر اور استقامت پر اتنا زور دیا تھا۔ اسی لمحے، خالد بن ولید، جو ابھی تک عینین کے پیچھے اپنے 200 گھڑ سواروں کے ساتھ منتظر تھے، انہوں نے موقع دیکھا اور فوری طور پر حملہ آور ہو گئے۔ انہوں نے ان 10 صحابہ کو شہید کر دیا جو پہاڑی پر موجود تھے اور پیچھے سے مسلم فوج پر ٹوٹ پڑے۔ یہ دیکھ کر، قریش کی فوج بھی واپس پلٹ آئی۔ اچانک مسلمانوں نے خود کو دشمن کی دو فوجوں کے درمیان پھنسا ہوا پایا۔ مسلمانوں کے لیے یہ واقعی ایک حیران کن اور تباہ کن لمحہ تھا۔ لیکن، کیا آپ اس واقعے کے بارے میں سب سے حیران کن بات جانتے ہیں؟ آج تک کوئی نہیں جانتا کہ وہ 40 صحابہ کون تھے۔ جنہوں نے پہاڑی چھوڑی تھی۔ سوائے ان لوگوں کے جو اس دن وہاں موجود تھے، کوئی اور ان کے نام کبھی نہ جان سکا۔ کیوں؟ کیونکہ کسی کو ان پر الزام لگانے کا حق نہیں تھا۔ ممکن تھا کہ ان صحابہ سے درجے میں کم تر لوگ، ان کے بارے میں سخت فیصلہ کرتے اور ان کی خوبیوں، قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے، اور ان تمام عظیم صفات کو جو ان میں موجود تھیں۔ مزید یہ کہ، کسی کی غلطی کو بے نقاب کرنا، یا انہیں کسی ایسی بات سے یاد کرنا جسے وہ ناپسند کریں، چاہے وہ سچ ہی کیوں نہ ہو، غیبت ہے۔ اور یہ ایک گناہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جن صحابہ کو ان کے نام معلوم تھے، انہوں نے کبھی ظاہر نہیں کیے۔ انہوں نے کردار اور آداب کا یہ خوبصورت احساس نبی ﷺ سے سیکھا تھا۔ یہ جنگ احد کا دوسرا مرحلہ تھا۔ یہ وہ لمحات تھے جب مسلمانوں کو ان کی زندگی کی کچھ سخت ترین آزمائشوں سے گزارا گیا۔ مجاہدین اس اچانک حملے سے بوکھلا گئے اور مکمل طور پر صدمے کی کیفیت سے دوچار ہوگئے۔ وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور میدان جنگ میں منتشر ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اس قدر افراتفری کے باوجود، تقریباً 10 سے 15 صحابہ نبی پاک ﷺ کے پاس ڈٹے رہے۔ مومنوں کی یہ مٹھی بھر جماعت ثابت قدم رہی، اور اپنی پوری طاقت سے لڑتی رہی۔ وہ نبی پاک ﷺ کے آگے خود کو بطور ڈھال پیش کر رہے تھے، تاکہ دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں، نیزوں، اور تلواروں کی بارش سے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔ پھر، اس افراتفری کے درمیان، کفار کی طرف سے پھینکا گیا ایک پتھر نبی پاک ﷺ کے مبارک چہرے پر لگا، جس سے آپ کا نیچے کا دایاں دانت مبارک شہید ہو گیا۔ ایک اور پتھر نے آپ کی پیشانی کو زخمی کر دیا اور آپ کا نچلا ہونٹ کٹ گیا۔ پھر عبداللہ بن قمیئہ نامی ایک کافر نے، اپنی تلوار سے وار کیا، جس سے نبی پاک ﷺ کا خود ٹوٹ گیا، اور اس کی دو دھاتی کڑیاں، آپ کے مبارک چہرے میں پیوست ہو گئیں۔ نبی پاک ﷺ کا چہرہ خون سے لہولہان ہو گیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا اور فرمایا: "وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کا چہرہ خون سے رنگ دے، جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو؟" دوسری جانب، حضرت حمزہ ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے تھے، اور مشرکین کے حملوں کا پوری طاقت سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اور پوری طاقت سے لڑ رہے تھے۔ وہ ثابت قدم رہے، دشمن کا سینہ سپر ہو کر بے خوفی سے مقابلہ کرتے رہے۔ جنگ کے بالکل آغاز سے ہی، ایک شخص حضرت حمزہ کو مسلسل دیکھ رہا تھا، اور انہیں شہید کرنے کے مناسب وقت کی تاک میں تھا۔ وہ وحشی تھا، جو جبیر بن مطعم کا غلام تھا۔ جبیر کا چچا بدر کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ بدلہ لینے کے لیے، اس نے خاص طور پر وحشی کو چنا اور کہا: "فوج میں شامل ہو جاؤ۔ اگر تم محمد ﷺ کے چچا حمزہ کو میرے چچا طعیمہ بن عدی کے بدلے میں قتل کر دو، تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔" ایک اور جو حضرت حمزہ سے بدلہ لینا چاہتی تھی، وہ ہند بنت عتبہ تھیں، جو ابو سفیان کی بیوی تھیں۔ اس کے والد، چچا، اور بھائی سب بدر میں مارے گئے تھے۔ اس کے دل میں حضرت حمزہ کے خلاف شدید کینہ تھا اور اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ ان کا کلیجہ چبائے گی۔ اس نے وحشی سے اپنے زیورات انعام میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انتقام کی ان تمام خواہشات کو پورا کرنے کے لیے، وحشی کو حضرت حمزہ کو شہید کرنے کے لیے میدان جنگ میں بھیجا گیا۔ حضرت حمزہ جانتے تھے کہ وہ اپنے آخری سانس تک لڑیں گے۔ اپنے ایمان، ہمت، اور اللہ پر کامل یقین کے ساتھ، وہ دشمن کے سامنے ثابت قدم رہے۔ دوسری طرف، اپنا نیزہ تھامے، وحشی کافی دیر تک حضرت حمزہ کے گرد چکر لگاتا رہا۔ لیکن ان کے قریب جانا ناممکن تھا۔ اللہ کا شیر اپنی بے مثال بہادری اور طاقت سے دشمنوں کے دلوں میں خوف کی علامت بن چکا تھا۔ "میں اللہ کا شیر ہوں!" جب حضرت حمزہ اپنی تلوار سے مشرکین کو کاٹ رہے تھے، تو وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ وہ نیزہ پھینکنے میں ماہر تھا، اور وہ وار کرنے کے لیے بالکل صحیح موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ موقع پاتے ہی وحشی نے اپنا نیزہ پھینکا اور وہ اس عظیم صحابی کے سینے کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ اور احد کے اس دل دہلا دینے والے دن، حضرت حمزہ شہید ہو گئے۔ وحشی یہیں تک نہیں رکا۔ ابو سفیان کی بیوی ہند کو خوش کرنے کے لیے، اس نے حضرت حمزہ کا سینہ چاک کیا، ان کا جگر نکالا اور اس کے پاس لے آیا۔ انتقام کی آگ میں اندھی ہو کر، ہند نے اس عظیم شہید کا جگر دانتوں سے کاٹا اور چبانے لگی۔ لیکن اتنا کچھ بھی اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ وہ حضرت حمزہ کے جسد خاکی کے پاس گئی اور ایک انتہائی دردناک عمل میں، ان کے ناک اور کان کاٹ لیے تاکہ اپنے لیے ہار اور پازیب بنا سکے۔ صحابہ کرام، جو ابھی تک حضرت حمزہ کی جدائی کے صدمے میں تھے، ان پر ایک اور تباہ کن خبر آ گری۔ "میں نے محمد کو قتل کر دیا!

میں نے محمد کو قتل کر دیا!

میں نے محمد کو قتل کر دیا!" جب صحابہ نے یہ سنا، تو وہ سن ہو گئے، سمجھ نہ آیا کہ کیا کریں۔ کچھ نے تو مدینہ واپس لوٹنے کا بھی سوچ لیا۔ کیا واقعی رسول اللہ شہید ہو گئے تھے؟ جب وہ وہاں کشمکش میں کھڑے تھے، تو ایک گرج دار آواز آئی: "تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟" وہ حضرت انس بن نضر تھے۔ "ہم کیا کریں؟ رسول اللہ انتقال فرما گئے ہیں۔" "اگرچہ نبی شہید کر دیے گئے ہیں، لیکن نبی کا رب تو زندہ ہے۔ اس کے علاوہ، نبی کے بعد تم اپنی جانوں کا کیا کرو گے؟ آؤ لڑیں اور ان کی طرح شہید ہو جائیں۔" پھر بنا کسی ہچکچاہٹ کے، وہ سیدھے دشمن کی صفوں میں جا گھسے۔ اس دن نبی ﷺ کی محبت کی آگ میں جلتے ہوئے، حضرت انس شہید ہو گئے۔ ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ جنگ کے بعد، ان کی بہن انہیں صرف ان کی انگلیوں سے پہچان سکی تھیں۔ انس کی باتوں سے حوصلہ پا کر، صحابہ نے خود کو سنبھالا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا واقعی نبی پاک شہید ہو چکے ہیں۔ وہ ہر جگہ انہیں تلاش کر رہے تھے۔ دراصل ہوا کیا تھا؟ نبی پاک ﷺ کہاں تھے؟ اس وقت، نبی پاک ایک ایسے گڑھے میں گر گئے تھے جو مشرکین نے کھودا تھا۔ لیکن زخموں کی وجہ سے، ان میں باہر نکلنے کی طاقت نہیں تھی۔ بالآخر، چند صحابہ نے انہیں تلاش کر لیا اور انہیں گڑھے سے باہر نکلنے میں مدد دی۔ مگر پھر، وہ شخص کون تھا جس کے بارے میں ابن قمیئہ نے یہ دعویٰ کر کے شور مچایا تھا "کہ میں نے محمد کو قتل کر دیا"؟ وہ مصعب بن عمیر تھے، جو ظاہری طور پر نبی پاک ﷺ سے کافی مشابہت رکھتے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، انہوں نے رسول اللہ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور مسلم فوج کا پرچم تھاما ہوا تھا۔ جنگ کے دوران، ان کا سامنا ابن قمیئہ سے ہوا اور انہوں نے بہادری سے اس کا مقابلہ کیا۔ ابن قمیئہ نے مصعب کے اس بازو پر وار کیا، جس سے انہوں نے پرچم پکڑا ہوا تھا، اور ایک ہی وار میں اسے کاٹ دیا۔ مصعب کو اسلام کا پرچم اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔ انہوں نے اسے اپنے دوسرے بازو سے پکڑ لیا، تاکہ وہ گرنے نہ پائے۔ پھر ابن قمیئہ نے دوبارہ وار کیا، اور ان کا بچا ہوا بازو بھی کاٹ دیا۔ ناقابل برداشت درد کے باوجود، مصعب نے اپنے کندھوں کی مدد سے پرچم کو اپنے سینے سے لگا لیا، اور اسے سیدھا رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن جب ابن قمیئہ نے ان پر آخری وار کیا، تو وہ شہید ہو گئے۔ مصعب بن عمیر، وہ شخص جس نے مدینہ والوں کو اسلام سکھایا تھا، انہوں نے احد کے دن بے مثال بہادری سے لڑائی کی اور اس پرچم کے لیے اپنی جان دے دی جس کے لیے انہوں نے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ ان کے لیے جدوجہد کا وقت ختم ہو چکا تھا، اور انعام پانے کا وقت آ گیا تھا۔ ابن قمیئہ نے وہ الفاظ اس لیے کہے تھے کیونکہ اسے لگا تھا کہ مصعب ہی نبی پاک ﷺ ہیں۔ نبی پاک ﷺ، اپنے ارد گرد موجود چند صحابہ کے ساتھ، ایک چھوٹی سی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ وہاں نبی ﷺ کے پاس صرف دو راستے تھے۔ یا تو وہ خاموش رہتے، یا پھر اپنی بکھری ہوئی فوج کو جمع کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن انہیں واپس بلانے کے لیے، انہیں اپنی آواز بلند کرنی پڑتی۔ اور اگر وہ ایسا کرتے، تو مشرکین ان کی آواز سن لیتے اور سیدھے انہیں شہید کرنے آ جاتے۔ نبی پاک ﷺ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسرا راستہ چنا۔ آپ نے اونچی آواز میں پکارا اور ایک بار پھر اپنے صحابہ کو جمع کر لیا۔ جب مشرکین کو احساس ہوا کہ نبی پاک ابھی زندہ ہیں، تو وہ فوراً دوبارہ اکٹھے ہوئے اور ہر طرف سے تیروں کی بارش کر دی۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ہی آخری وار میں اس بات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ لیکن نبی پاک کے گرد موجود چند صحابہ نے اپنے جسموں کی ڈھال بنا کر ان کی حفاظت کی۔ وہ آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار تھے۔ اور وہاں ایک اور ہستی بھی موجود تھیں۔ ایسی ہستی جن کے بارے میں بعد میں نبی پاک ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے: "میں نے اس دن جہاں بھی دیکھا، میں نے انہیں اپنے دائیں بائیں لڑتے ہوئے پایا۔" وہ ہستی ہماری ماں، حضرت نسیبہ تھیں۔ وہ غیر معمولی جرات کے ساتھ نبی پاک ﷺ کی حفاظت کر رہی تھیں، اپنی پوری طاقت سے دشمن سے لڑ رہی تھیں۔ اپنے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ، وہ مسلسل نبی پاک ﷺ کے قریب رہیں۔ اس دن انہیں تقریباً 13 زخم آئے، اور انہیں ٹھیک ہونے میں تقریباً ایک سال لگ گیا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اس دن، نبی ﷺ نے اتنے تیر چلائے کہ بالآخر ان کی کمان ٹوٹ گئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص آپ کے پہلو میں کھڑے تھے، اور آپ کی حفاظت کے لیے یکے بعد دیگرے تیر چلا رہے تھے۔ وہ اس قدر تسلسل سے تیر چلاتے رہے کہ نبی پاک ﷺ نے ان سے، اور صرف انہی سے فرمایا: "میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔" جب مشرکین کو احساس ہوا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک اور شکست سے بچنے کا بہترین طریقہ پیچھے ہٹنا ہے۔ چنانچہ غرور اور تکبر کے ساتھ، وہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ نبی پاک ﷺ زخمی اور نڈھال تھے۔ آپ ﷺ میں خود سے چلنے کی طاقت تک نہیں تھی۔ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ کے سہارے چلتے ہوئے، آپ ﷺ آہستہ آہستہ اس گھاٹی کی چٹانی ڈھلوان کی طرف بڑھے، جہاں مسلمانوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ آپ ﷺ وہاں آرام کر کے اپنی طاقت بحال کرنا چاہتے تھے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد، وہ تھوڑی بہت طاقت بھی جواب دے گئی۔ آپ ﷺ نے جو دو زرہیں پہن رکھی تھیں، وہ بہت بھاری ہو گئی تھیں۔ اس موقع پر، حضرت طلحہ بن عبید اللہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور عرض کیا: "آئیے، یا رسول اللہ۔ میری پیٹھ پر سوار ہو جائیے۔ مجھ میں طاقت باقی ہے۔" پھر انہوں نے نبی ﷺ کو اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا اور چٹانوں تک لے گئے۔ قریش کی فوج آہستہ آہستہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔ میدان جنگ کا ایک چکر لگانے کے بعد، ان کے سردار ابو سفیان نے قریبی پہاڑی پر چڑھ کر آواز دی: "کیا محمد زندہ ہیں؟" نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ہدایت فرمائی: "اسے جواب مت دو۔" ابو سفیان نے یہی سوال تین بار پوچھا، لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ "کیا ابو قحافہ کا بیٹا زندہ ہے؟" یہاں ان کی مراد حضرت ابوبکر سے تھی۔ ایک بار پھر، نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ "کیا خطاب کا بیٹا زندہ ہے؟" ان کا اشارہ حضرت عمر کی طرف تھا۔ پھر بھی، نبی پاک ﷺ نے کسی کو جواب دینے کی اجازت نہیں دی۔ "ہم نے ان سب کو مار دیا ہے!" اس بار، حضرت عمر خود کو روک نہ سکے۔ "تو جھوٹ بکتا ہے، اے اللہ کے دشمن!

اللہ کی قسم، یہ جھوٹ ہے! وہ سب زندہ ہیں! اور بالکل یہیں ہیں!" جب ابو سفیان نے حضرت عمر کی آواز سنی، تو وہ سمجھ گیا کہ وہ انہیں قتل نہیں کر سکے۔ "تو، تم تینوں زندہ ہو؟ ہاں! یہ بدر کا بدلہ ہے۔ تم بدر میں جیتے تھے، اور آج ہم احد میں جیتے ہیں۔ جنگ ایسی ہی ہوتی ہے، کبھی تم جیتتے ہو، تو کبھی ہم۔ آج کا دن بدر کے جواب میں تھا۔" "ہرگز نہیں! یہ دونوں برابر نہیں ہیں! ہمارے شہید جنت میں ہیں!

اور تمہارے والے جہنم میں ہیں!" "کوئی چیز ہمیں کبھی برابر نہیں کر سکتی، اے اللہ کے دشمن!" "اگلے سال، ہم دوبارہ ملنے اور بدر میں لڑنے کا وعدہ کرتے ہیں!" "رسول اللہ ﷺ کو منظور ہے۔ اگر اللہ نے چاہا، تو وہی ہماری ملاقات کی جگہ ہوگی۔" پھر ابو سفیان میدان جنگ سے چلا گیا۔ جنگ بالآخر ختم ہو چکی تھی۔ اسلام کے مجاہدین کے لیے، اب آرام کرنے، اپنے زخموں کا علاج کرنے، اور اپنے شہداء کو دفنانے کا وقت تھا۔ ایک لمحے کے لیے خود کو وہاں تصور کریں۔ اس منظر کا تصور کرنے کی کوشش کریں۔ کتنے ہی صحابہ شہید ہو چکے ہیں۔ آپ کے وہ دوست جن کے ساتھ آپ کی ان گنت یادیں وابستہ تھیں، آپ کے وہ بھائی جن کے ساتھ آپ نے دکھ سکھ بانٹے تھے، اب شہداء کے روپ میں آپ کے سامنے زمین پر لیٹے ہیں۔ جب آپ ان کے درمیان چلتے ہیں، ایک کے بعد ایک چہرہ پہچانتے ہیں، تو آپ کا دل اور بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ اس قدر چھلنی ہیں کہ پہچانے نہیں جاتے۔ آپ کی یادیں تیزی سے لوٹ آتی ہیں۔ ایک ناقابلِ بیان درد۔ اور اس لمحے، جو واحد چیز آپ کو تسلی دیتی ہے وہ آپ کا یہ پختہ یقین ہے کہ آپ ان سے ایک ابدی جہان میں دوبارہ ملیں گے، ہمارے حقیقی گھر، جنت میں، ان شاء اللہ۔ ایک ایسی جگہ جو ہر دکھ اور درد سے دور ہے، جہاں آپ کبھی دوبارہ جدا نہیں ہوں گے۔ آخرت پر ایمان کے بغیر، اس لمحے آپ جو درد محسوس کرتے وہ ناقابل برداشت ہوتا۔ نبی ﷺ جاننا چاہتے تھے کہ شہداء میں حضرت حمزہ کے ساتھ کیا ہوا۔ اس لیے آپ نے حارث نامی ایک صحابی کو ان کی تلاش کے لیے بھیجا۔ جب حارث نے حضرت حمزہ کو پایا، تو وہ سکتے میں آ گئے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ نبی پاک ﷺ کو کیسے بتائیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ وہ بیٹھ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ جب حارث واپس نہ آئے، تو نبی پاک ﷺ نے حضرت علی کو ان کے پیچھے بھیجا۔ اور جب حضرت علی آئے اور انہوں نے حضرت حمزہ کو دیکھا، تو وہ بھی رو پڑے۔ وہ اس منظر کو نبی پاک ﷺ کے سامنے کیسے بیان کر سکتے تھے؟ اپنی ہمت جمع کرنے کے بعد، وہ واپس گئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ نبی پاک حضرت حمزہ کو اس حالت میں دیکھیں۔ لیکن نبی ﷺ نے اصرار کیا۔ آپ اس جگہ تشریف لے گئے جہاں حضرت حمزہ شہید ہوئے تھے۔ جب آپ نے انہیں دیکھا، تو فرمایا: "اے حمزہ، رسول اللہ کے چچا۔ اے حمزہ، اللہ اور اس کے رسول کے شیر۔ اے حمزہ، نیکیاں کرنے والے۔ اے حمزہ، رسول اللہ کے محافظ۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔" حضرت حمزہ مشرکین کے سامنے ہمیشہ چٹان کی طرح کھڑے رہتے تھے، اور میدان جنگ میں ان کے دلوں میں خوف کی علامت تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ابو جہل کی گستاخیوں کے خلاف اپنے بھتیجے کا دفاع کیا۔ یاد ہے وہ دن جب انہوں نے اسلام قبول کیا تھا؟ اور رسول اللہ ﷺ اس وقت کتنے خوش ہوئے تھے مسلمانوں کو ہمیشہ ان سے تقویت ملتی تھی۔ لیکن اب، وہ شہید ہو چکے تھے۔ نبی پاک ﷺ کا دل اس قدر رنجیدہ تھا کہ آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ نبی ﷺ وہاں کافی دیر روتے رہے۔ اپنے انسانی جذبات سے مغلوب ہو کر، آپ ﷺ نے فرمایا: "میں قسم کھاتا ہوں کہ بدلے میں، میں ان کے 30 آدمیوں کا یہی حال کروں گا۔" لیکن پھر، سورۃ النحل کی 126ویں آیت ایک تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی۔ "اور اگر تم بدلہ لو، تو بس اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو، تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔" قبریں کھودی گئیں، اور نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "شہداء کو وہیں دفن کیا جائے جہاں وہ گرے تھے۔" شہداء میں، آپ ﷺ نے مصعب بن عمیر کو دیکھا۔ لشکر کے پرچم بردار۔ مدینہ میں اسلام کے پہلے معلم۔ جب نبی پاک ﷺ کو مصعب کے پرانے دن یاد آئے، تو آپ ﷺ کا دل گہرے رنج سے بھر گیا۔ انہیں دفنانے کے لیے کفن تک میسر نہیں تھا۔ ان کے جسم پر صرف ایک ہی چادر تھی۔ جب صحابہ ان کا سر ڈھانپتے، تو ان کے پیر ننگے ہو جاتے۔ اور جب پیر ڈھانپتے، تو سر ننگا ہو جاتا۔ یہ دیکھ کر، نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "ان کا سر چادر سے ڈھانپ دو، اور پیروں پر اذخر کی گھاس ڈال دو۔" مصعب کسی زمانے میں بے پناہ دولت اور آسائشوں میں پلنے والے نوجوان تھے۔ لیکن انہوں نے اسلام کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور مدینہ ہجرت کر لی تھی۔ اور اب، ان کے جسم کو ڈھانپنے کے لیے کپڑا بھی پورا نہیں تھا۔ انہوں نے اللہ کے دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ سب چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ شہادت کے اس رتبے پر پہنچ چکے تھے جس کی انہیں تمنا تھی۔ اور جو باقی بچ گئے تھے، زخمی اور نڈھال، انہوں نے مدینہ کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا۔ نبی پاک ﷺ نے ایک بار فرمایا تھا: "حقیقی مجاہد وہ ہے، جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔" اور اب، ان کے لیے ایک بڑا جہاد (جہادِ اکبر) شروع ہونے والا تھا۔ جلد ہی، صحابہ کے ایمان اور وفاداری کا ایک بار پھر امتحان ہونے والا تھا۔ اسی دوران، مدینہ میں ایک اور مسئلہ سر اٹھا رہا تھا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے شہر کے امن کے لیے خطرہ پیدا کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشیں کر رہے تھے۔ لیکن ان کی غداری کا آخری عمل برداشت کی حد پار کر دے گا۔ تو وہ سازش کیا تھی؟ اور نبی پاک ﷺ اس پر کیا ردعمل دیں گے؟ ”مشرکین کبھی ہمیں دوبارہ ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتے، حتیٰ کہ اللہ ہمیں فتح یاب کردے۔“ نبی پاک ﷺ کے یہ الفاظ ایک نرم تسلی تھے، ان دلوں کے لیے ایک راحت جو احد کے بعد اب بھی غمگین تھے۔ احد کی شکست نے کئی مسلمان عورتوں کو بیوہ کر دیا تھا۔ کئی ماؤں نے اپنے بیٹے کھو دیے تھے، اور کئی بچے یتیم ہو گئے تھے۔ وہ سب اپنا دکھ ہلکا کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کے پاس آ رہے تھے، تاکہ ان کے دلوں کو سکون اور روحوں کو قرار مل سکے۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا الگ طرح کا نقصان تھا۔ کسی نے اپنے شوہر کو کھویا تھا، کسی نے باپ کو، اور کسی نے اپنے بیٹوں کو۔ پھر بھی، ان سب کی زبانوں پر ایک ہی بات تھی۔ "میرے ماں اور باپ، آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ۔" نبی ﷺ کا دل ابھی بھی فکرمند تھا۔ وہ مسلسل اس امکان پر غور کر رہے تھے کہ قریش شاید واپس پلٹ آئیں اور مدینہ پر حملہ کر دیں۔ شکست کے بعد شہر میں بے چینی تھی، اور اس کیفیت کو دور کرنا ضروری تھا۔ مسلمانوں کو یہ دکھانے کی ضرورت تھی کہ ان کی ہمت اور طاقت ابھی بھی زندہ ہے۔ احد سے واپسی کی اگلی ہی صبح، نبی ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی اور حضرت بلال کو بلایا۔ اور انہیں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: "اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ ہمارے دشمن کا پیچھا کرو!

جو کل ہمارے ساتھ احد میں نہیں لڑے، وہ ہرگز نہ آئیں۔ صرف وہی جائیں گے جو جنگ میں شامل تھے!" تقریباً تمام صحابہ جنگ میں حصہ لے چکے تھے۔ لیکن صحابہ زخمی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود زخمی تھے، ہر کوئی تھکا ہوا اور نڈھال تھا۔ احد سے واپس آئے ابھی بہت ہی کم وقت گزرا تھا۔ پھر بھی، جب نبی پاک نے انہیں دوبارہ بلایا، تو ان میں سے کسی ایک نے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ صحابہ میں دو بھائی ایسے تھے جو دونوں شدید زخمی تھے۔ لیکن ان کے جہاد کے شوق نے انہیں اپنا درد بھلا دیا، اور وہ ایک بار پھر روانہ ہو گئے۔ جب ان میں سے ایک چلنے سے قاصر ہو جاتا، تو دوسرا اسے اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا۔ اور وہ اسی طرح اپنا سفر جاری رکھتے رہے۔ شدید زخمی صحابہ میں سے ایک حضرت اسید بن حضیر تھے۔ انہیں سات گہرے زخم آئے تھے، جن میں ابھی تک شدید درد تھا۔ انہیں آرام کرنا چاہیے تھا اور اپنے زخموں کا علاج کرنا چاہیے تھا، لیکن جب انہوں نے نبی پاک ﷺ کا حکم سنا، تو انہوں نے اپنا علاج چھوڑا اور لشکر میں شامل ہو گئے۔ نبی پاک ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نفل ادا کیے۔ پھر آپ نے زرہ پہنی اور سر پر خود رکھ لیا۔ صرف آپ کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اسی حالت میں، آپ ﷺ نے اپنے لشکر کی کمان سنبھالی۔ نبی پاک ﷺ نے تین آدمیوں کو آگے بھیجا تاکہ دشمن کا سراغ لگائیں۔ ان میں سے ایک بہت تھک گیا اور پیچھے رہ گیا، جبکہ باقی دو آگے بڑھے اور انہوں نے قریش کے لشکر کو ڈھونڈ نکالا۔ بالکل ویسا ہی جیسا نبی پاک ﷺ نے سوچا تھا، کفار مسلمانوں کے خلاف پیش قدمی کی تیاری کر رہے تھے۔ ان دونوں جاسوسوں کو پکڑ لیا گیا اور وہیں شہید کر دیا گیا۔ نبی پاک ﷺ، حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے اور وہیں اپنا خیمہ نصب کیا۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کو رات کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیا۔ جب اندھیرا چھا گیا، تو خیمے میں آگ کے سینکڑوں اَلاؤ روشن کر دیے گئے۔ نبی ﷺ کا مقصد دشمن کو خوفزدہ کرنا تھا، انہیں یہ باور کرانا تھا کہ مسلمانوں نے ایک بہت بڑا لشکر اکٹھا کر لیا ہے۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ رات بھر تقریباً 500 جگہ آگ جلتی رہی، جس نے مشرکین کے دلوں میں ہیبت بٹھا دی۔ وہ خوف کے مارے بھاگ گئے۔ قریش کا لشکر اب کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ صرف ایک آدمی پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ سو گیا تھا۔ یہ ابو عزہ تھا، وہ شاعر جو بدر میں قید ہوا تھا۔ اپنی شاعری کے ذریعے، یہ نبی پاک ﷺ اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا اور گستاخی کرتا تھا، جس سے انہیں بہت تکلیف پہنچی تھی۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور اسے بغیر فدیے کے چھوڑ دیا گیا تھا۔ لیکن اس نے اپنا وعدہ توڑا اور احد کی جنگ میں آ گیا۔ جہاں وہ اپنی نظموں کے ذریعے، قریش کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل بھڑکا رہا تھا اور ان کی توہین کر رہا تھا۔ "میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا!

میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں کروں گا!" لیکن نبی پاک ﷺ کی طرف سے اسے جو جواب ملا وہ اٹل اور دو ٹوک تھا۔ "مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ خدا کی قسم، میں تمہیں اس لیے آزاد نہیں کروں گا کہ تم مکہ واپس جاؤ، اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرو اور فخر سے کہو 'میں نے محمد (ﷺ) کو دو بار دھوکہ دیا اور انہیں بے وقوف بنایا'۔" پھر نبی ﷺ نے حکم دیا، اور ابو عزہ کو موت کی سزا دی گئی۔ نبی پاک ﷺ ابھی حمراء الاسد میں ہی تھے، جب قبیلہ خزاعہ کا معبد بن ابی معبد، جو تہامہ کے علاقے میں رہتا تھا، آپ ﷺ سے ملنے آیا۔ اگرچہ ابھی اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، لیکن وہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ مخلص اور وفادار تھا۔ "اے محمد (ﷺ)، احد کے المیے نے ہمیں بھی دکھی کیا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو صحت دے اور آپ کے دشمنوں کے خلاف سلامتی عطا فرمائے۔" ان الفاظ کے ساتھ، اس نے نبی پاک ﷺ کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ وہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اور یہی سوچ کر، وہ اپنے راستے پر آگے بڑھ گیا۔ روحاء نامی مقام پر، اس کا سامنا قریش سے ہوا جو مشورہ کر رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف چڑھائی کے لیے جمع ہوئے تھے۔ "ہم نے محمد کے صحابہ کو مارا اور، ان کے بہترین اور بہادر آدمیوں کو۔ لیکن ہم نے انہیں پوری طرح ختم نہیں کیا۔ ہم اس طرح مکہ واپس کیسے جا سکتے ہیں؟ ہمیں ان کے باقی ماندہ لوگوں کے پیچھے جانا چاہیے اور انہیں ختم کر دینا چاہیے!" جب قریش کے سردار ابو سفیان نے معبد کو دیکھا، تو اس نے پوچھا: "اے معبد!

جہاں سے تم آ رہے ہو وہاں کی کیا خبر ہے؟ محمد اور اس کے ساتھی تمہارا پیچھا کرنے کے لیے نکل پڑے ہیں، ایک اتنی بڑی فوج کے ساتھ جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ہائے میری بربادی!

تم کیا کہہ رہے ہو، معبد؟" چونکہ ابو سفیان جانتا تھا کہ معبد مسلمان نہیں ہے، اس لیے اس نے اس کی باتوں کو بہت غور سے سنا۔ لیکن اس نے جو سنا وہ اس کی توقع سے بالکل مختلف تھا۔ پھر معبد نے اشعار میں مسلم فوج کی تعریف شروع کر دی۔ اور جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیا، ابو سفیان کا خوف بڑھتا گیا۔ خوف پہلے ہی ان کے دلوں میں بیٹھ چکا تھا، اور آخر کار، انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور مکہ کی طرف نکل گئے۔ اس ہوشیار چال سے، معبد نے مسلمانوں کی ایک بڑی خدمت کی تھی۔ پھر اس نے اپنے قبیلے کے ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ نبی پاک ﷺ کو خبر دے کہ کیا ہوا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے ایک بار پھر احتیاط سے کام لیا اور حمراء الاسد میں تین راتیں قیام کیا۔ جب آپ نے دشمن کی طرف سے کوئی حرکت نہ دیکھی، تو آپ بالآخر مدینہ واپس آ گئے۔ ہمارا رب قرآن کی ان آیات میں ان دنوں کی یاد دلاتا ہے: "وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہا اس کے باوجود کہ انہیں گہرے زخم آ چکے تھے۔ ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور اللہ سے ڈرے، ان کے لیے اجرِ عظیم ہے۔ وہ لوگ جن کے ایمان میں اس وقت اور اضافہ ہوا، جب لوگوں نے ان سے کہا، 'بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف ایک بڑا لشکر جمع کر لیا ہے، لہٰذا ان سے ڈرو۔' تو انہوں نے جواب دیا، 'ہمارے لیے اللہ کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے۔'" وہ واقعی اس ساری تعریف کے مستحق تھے۔ رسول اللہ کی صرف ایک بات، ایک حکم پر، وہ اپنی پوری زندگیاں بدل لیتے تھے۔ اور یہ وفاداری بار بار دکھائی جائے گی، پوری سیرتِ طیبہ کے دوران۔ اب، وہ جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ رہے تھے۔ لیکن یہ بڑا جہاد کیا تھا؟ یہ وہ جدوجہد تھی جس کا سامنا انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں کرنا تھا۔ ان کے اپنے نفس کے خلاف جنگ۔ اور مدینہ میں جلد ہی ان کی وفاداری کا ایک بار پھر امتحان ہونے والا تھا، شراب کی حرمت کے ساتھ۔ یہ ہجرت کے بعد چوتھا سال تھا۔ ابھی تک شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا۔ اسے حرام قرار دینے والی آیت، ابھی نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت، جزیرہ نما عرب میں چار مشروبات عام تھے: پانی، دودھ، شربت اور شراب۔ لہٰذا شراب کا عام استعمال ہوتا تھا اور یہ عرب ثقافت میں گہرائی تک سرایت کر چکی تھی۔ لوگ اسے پینا پسند کرتے تھے، اس پر شاعری کرتے تھے، اور بہت سے گھروں میں شراب کے مٹکے پائے جاتے تھے۔ ایک لحاظ سے، اس زمانے میں یہ اتنی ہی عام تھی جتنی آج کل کولڈ ڈرنکس ہیں۔ آئیے اس ماحول کا تصور کرنے کی کوشش کریں، حضرت عمر کی نظر سے۔ کیونکہ ان دنوں جو کچھ ہو رہا تھا، اسے ان کے جذبات کے ذریعے بہترین انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ انہیں شراب سے نفرت تھی اور وہ کسی بھی دوسرے سے زیادہ اس کے حرام ہونے کے خواہشمند تھے۔ یہ بات انہیں اتنی پریشان کرتی تھی کہ وہ اس کے لیے مسلسل اللہ سے دعا کرتے تھے۔ لیکن وہ کیا چیز تھی جو انہیں اتنا پریشان کرتی تھی؟ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو اس حالت میں دیکھنا برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ ان کے نزدیک، یہ مومنوں کی عزت اور وقار کے بالکل بھی لائق نہیں تھا۔ اسی دوران، کچھ صحابہ بھی نبی پاک ﷺ سے شراب اور جوئے کے احکام کے بارے میں پوچھ رہے تھے، اور نبی پاک جو بھی حکم دیں گے، اسے ماننے کے لیے تیار تھے۔ حضرت عمر نے دعا کی: "اے اللہ، ہمیں شراب کے بارے میں کوئی واضح اور دو ٹوک حکم عطا فرما۔" کچھ ہی عرصے بعد، اس کے خلاف تنبیہ کرنے والی پہلی آیت نازل ہوئی۔ "وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔" یہ سن کر، کچھ مسلمانوں نے اس کے نقصانات کی وجہ سے شراب چھوڑ دی، جبکہ دوسروں نے پینا جاری رکھا، کیونکہ اسے ابھی پوری طرح حرام قرار نہیں دیا گیا تھا۔ اس مقام پر، کوئی پوچھ سکتا ہے: "کہ اسے ایک ہی بار میں حرام کیوں نہیں قرار دیا گیا؟" یہاں ہم اسلام کا نہایت ہی دانشمندانہ طریقہ دیکھتے ہیں۔ شراب پینے جیسی عادتیں، ایسی چیزیں جو نشے کی لت لگاتی ہیں، انہیں راتوں رات چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔ معاشرے سے شراب کو ختم کرنے کے لیے، قرآن تدریج کا طریقہ استعمال کرے گا، یعنی، مرحلہ وار پابندی، قدم بہ قدم۔ ہمارا رب، مومنوں کو اس کی مکمل پابندی کے لیے آہستہ آہستہ تیار کر رہا تھا۔ اور اس عمل کے دوران، کچھ مسلمان یا تو اسے پوری طرح چھوڑ دیتے یا اس کا استعمال کم کر دیتے۔ اور یہ بھی ایک پیش رفت تھی۔ اگرچہ کوئی بھی چیز ایک ہی بار میں حاصل کی جا سکتی ہو، اسے پوری طرح ترک نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف، اس زمانے کے لوگ جو شراب سے گہری رغبت رکھتے تھے، شاید ان کے لیے اسلام قبول کرنا مشکل ہو جاتا، اگر اسے فوراً ہی حرام قرار دے دیا جاتا۔ شاید وہ اسے آسانی سے چھوڑ نہ پاتے۔ اسی وجہ سے، قرآن میں شراب کے متعلق آیات مرحلہ وار نازل ہوئیں، قدم بہ قدم اس کے نقصانات بتاتے ہوئے۔ بالآخر، تیسرے مرحلے میں، حرمت کا واضح اور حتمی حکم دیا جائے گا۔ نفسیات اور رویوں کے علم کے نقطہ نظر سے، قرآن کا طریقہ واقعی حیران کن تھا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ یہاں تک کہ پانچ وقت کی نمازیں بھی ہجرت سے صرف ڈیڑھ سال پہلے فرض کی گئی تھیں، شبِ معراج کے موقع پر۔ نبی ﷺ پر پہلی وحی نازل ہونے کے تقریباً 11 سال بعد۔ انہوں نے تخلیق کے مقصد کے بارے میں جانا، انسانیت کو اس دنیا میں بھیجے جانے کی وجہ کے بارے میں، پہلے انسان سے لے کر ان کے وقت تک نبوت کے مشن کے بارے میں، اللہ کے ناموں اور صفات کے بارے میں، اور توکل اور تفکر کی گہری حقیقتوں کے بارے میں جانا۔ انہوں نے آخرت، جنت اور جہنم کے بارے میں سیکھا۔ ایک ایسا طریقہ جس کے مرکز میں ایمان تھا۔ جس نے ایمان کو پہلا سبق بنایا، وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتا تھا۔ اور ایک بار جب اتنی مضبوط بنیاد رکھ دی گئی، اور اس کے بعد آنے والے احکامات جیسے نماز، زکوٰۃ، روزہ، حجاب، یا شراب کی حرمت، اب صحابہ پر بوجھ محسوس نہیں ہوں گے۔ وہ ان عبادات کو مجبوری یا ہچکچاہٹ کے ساتھ نہیں، بلکہ جوش اور محبت کے ساتھ ادا کریں گے۔ جب نماز کا وقت ہوا، تو نبی پاک ﷺ کے حکم سے یہ اعلان کیا گیا: "رسول اللہ کا فرمان ہے، نشے کی حالت میں کوئی شخص، نماز کے قریب نہ آئے۔" اس کے باوجود، ایک مسلمان نے اس شام شراب پی اور نماز پڑھنے آ گیا۔ حضرت عمر ایک بار پھر بے حد پریشان اور دکھی ہوئے۔ لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے، سوائے اس کے کہ ایک بار پھر اپنے ہاتھ اٹھائیں اور دعا کریں۔ "اے اللہ، ہمیں شراب کے بارے میں ایک واضح اور دو ٹوک حکم عطا فرما۔" اور بالآخر، وہ طویل انتظار کے بعد آنے والا حکم مندرجہ ذیل آیات میں نازل ہوا: "اے ایمان والو!

بیشک شراب، جوا، بت پرستی، اور فال کے تیر، شیطان کے کاموں میں سے ناپاک چیزیں ہیں۔ لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے، شراب اور جوئے کے ذریعے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟" یہ شراب کی حرمت کا تیسرا اور آخری مرحلہ تھا۔ تو اب آگے کیا ہونے والا تھا؟ نبی ﷺ کے حکم سے، مدینہ کی گلیوں میں ایک منادی نے یہ اعلان کیا: "سنو، اے لوگو!

شراب حرام کر دی گئی ہے!" اس دن کے چشم دید گواہوں میں سے ایک، حضرت انس بن مالک نے فرمایا: "جب مسلمانوں نے یہ حکم سنا، تو انہوں نے فوراً اپنے گھروں میں موجود ساری شراب بہا دی۔ انہوں نے اپنے شراب کے مشکیزے پھاڑ دیے اور مٹکے توڑ دیے۔ اور مدینہ کی گلیوں میں شراب ندیوں کی طرح بہہ نکلی۔ اس لمحے کے بعد، مسلمانوں نے اپنے پاس موجود شراب کے ہر قطرے سے چھٹکارا پا لیا۔" بعض اوقات، آپ کو صرف اسے خلوص اور صاف دلی سے کہنے کی ضرورت ہوتی ہے: میں اسے چھوڑتا ہوں، میرے رب۔ گناہ چاہے کوئی بھی ہو، اگر تو نہیں چاہتا کہ میں یہ کروں، تو میں اسے چھوڑتا ہوں۔ یہ جسم تیرا ہے۔ یہ تیری طرف سے ایک امانت ہے۔ میں صرف کچھ وقت کے لیے اس کا محافظ ہوں۔ جبکہ تو ہی وہ واحد ہستی ہے جسے مجھے راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، میں اپنی خواہشات یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش چھوڑتا ہوں۔ انہوں نے اپنے رب کی محبت اور رضا کی خاطر چیزوں کو قربان کر دیا۔ کیونکہ آخر میں، "جو اللہ کے لیے قربانی دے سکتے ہیں، وہی حقیقی کامیاب ہوں گے۔" کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح قرآن کے حکم اور رسول اللہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا؟ آج، حتیٰ کہ معمولی سی عادت کو چھوڑنے کے لیے بھی، لوگ ماہرینِ نفسیات کا رخ کرتے ہیں، اور پھر بھی اکثر یہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ اور پھر بھی، ایک انسان کے الفاظ میں اتنی طاقت کیسے ہو سکتی ہے؟ اتنی کہ وہ پورے معاشرے سے ایک گہری جڑ پکڑ چکی عادت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ کیا اس سے زیادہ واضح کوئی اور نشانی ہو سکتی ہے کہ ان کے پیچھے خدائی طاقت تھی؟ یاد رہے، ہم نے کہا تھا کہ شراب اس دور کے چار اہم مشروبات میں سے ایک تھی۔ اتنی عام چیز کو ختم کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ اُن پر نازل ہونے والے الٰہی قوانین کے ذریعے، بطور ایک فردِ واحد آپ نے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا اور انہیں روشنی میں لے آئے۔ اس بے مثال کامیابی کے بارے میں، عظیم اسلامی مفکر بدیع الزماں سعید نورسی نے فرمایا: "ان میں سے ہر ایک سو فلسفیوں کو ساتھ لے، وہاں جائے، اور سو سال تک کام کرے۔ کیا وہ اس کا ایک فیصد بھی حاصل کر سکیں گے، جو آپ ﷺ نے ایک سال میں کر دکھایا؟" شعائرِ اسلام، یعنی اسلام کی علامتیں، اس کے قوانین اور ضوابط، ایک ایک کر کے قائم ہو رہے تھے۔ اللہ کے احکامات اور پابندیوں اور اس کے رسول ﷺ کے ذریعے۔ اس دوران، رسول اللہ ﷺ احد کے واقعات کے بعد محتاط رہے، اور مدینہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ اگرچہ مسلمان کمیونٹی دن بہ دن بڑھ رہی تھی، شہر کے ارد گرد اب بھی کئی یہودی قبیلے آباد تھے۔ اور ان میں سے ایک بنو نضیر کا قبیلہ تھا، ایک مالدار اور طاقتور قبیلہ جو حضرت ہارون کی اولاد میں سے تھے۔ وہ مکہ جانے والے راستے پر مضبوط قلعوں میں رہتے تھے، مدینہ سے تقریباً دو گھنٹے کے فاصلے پر۔ ان کا نبی پاک ﷺ کے ساتھ ایک معاہدہ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی حرکت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے دشمنوں کا ساتھ دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود، وہ مسلسل قریش اور مدینہ کے منافقین کے ساتھ خفیہ معاہدے کرتے رہے۔ خاص طور پر غزوہ احد کے بعد، انہوں نے مشرکین اور منافقین کے ساتھ اپنے تعلقات اور بھی مضبوط کر لیے تھے۔ اس اور کئی دیگر واقعات کی وجہ سے، نبی پاک ﷺ ان پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ بنو نضیر مدینہ کے معاہدے کے ساتھ کتنے وفادار ہیں، نبی پاک ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب وہ قبیلے کی بستی میں پہنچے، تو یہودیوں نے شروع میں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ انہوں نے انہیں یقین بھی دلایا کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری بھی کریں گے۔ "ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے وعدے اور معاہدے پر قائم ہیں۔" لیکن جب وہ ایک طرف گئے، تو وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ "اس شخص کو مارنے کے لیے تمہیں اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا ۔ آؤ ابھی اس چھت پر چڑھتے ہیں، اور اس پر ایک بھاری پتھر گرا دیں، اور اس سے چھٹکارا پا لیں۔" اسی لمحے، ان کے ایک سردار، سلام بن مشکم نے کہا۔ "خدا کی قسم، اگر تم نے کوئی ایسی کوشش کی، تو وحی کے ذریعے اسے خبردار کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اس سے ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔ میری بات سنو، اس منصوبے کو چھوڑ دو۔ ورنہ اس کا مطلب یہودیوں کی تباہی ہوگا اور اسلام کا عروج جو قیامت تک جاری رہے گا۔" اور بالکل ویسا ہی جیسا اس نے کہا تھا، وہ غداری بھرا قتل کا منصوبہ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نبی پاک ﷺ پر ظاہر کر دیا گیا۔ نبی پاک اچانک کھڑے ہوئے، اور بغیر کچھ کہے، گھر کے اس حصے سے یوں چل دیے جیسے انہیں کوئی کام کرنا ہو۔ پھر وہ سیدھے مدینہ واپس روانہ ہو گئے۔ جو صحابہ ان کے ساتھ تھے وہ کچھ دیر انتظار کرتے رہے، یہ سوچ کر کہ شاید وہ واپس آئیں گے۔ لیکن جب انہیں احساس ہوا کہ وہ واپس نہیں آ رہے، تو بالآخر وہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ اس بری سازش سے، بنو نضیر کے قبیلے نے واضح طور پر دکھا دیا تھا کہ اب وہ اپنے معاہدے پر قائم نہیں تھے۔ اور اس پر ستم یہ کہ منافقین کے ساتھ ان کی خفیہ ملی بھگت اور مشرکین کی حمایت ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ نبی پاک نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور ان سے کہا کہ وہ بنو نضیر کے پاس جائیں اور انہیں بتائیں کہ مدینہ چھوڑنے کے لیے ان کے پاس 10 دن کا وقت ہے۔ "رسول اللہ فرماتے ہیں: تمہارے پاس مدینہ چھوڑنے کے لیے 10 دن ہیں۔" جب بنو نضیر نے یہ حکم سنا، تو انہوں نے اپنے جرم سے انکار نہیں کیا۔ وہ جانے پر راضی ہو گئے اور تیاریاں شروع کر دیں۔ جب منافقین کے سردار، عبداللہ بن ابی نے اس بارے میں سنا، تو وہ بہت پریشان ہوا۔ اگر وہ چلے گئے، تو وہ اپنا ایک اور حلیف کھو دے گا، اور مسلمانوں کی طاقت مزید مضبوط ہو جائے گی۔ اس نے جلدی سے ایک مکارانہ منصوبہ بنایا، اور وقت ضائع کیے بغیر، اس نے یہودیوں کو ایک پیغام بھیجا۔ "اپنے گھر یا مال کو ہرگز مت چھوڑنا۔ میں دوسرے عرب قبیلوں سے 2,000 آدمی تمہاری مدد کے لیے بھیجوں گا۔ وہ اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اور بنو قریظہ کے یہودی بھی، تمہاری مدد کو آئیں گے۔" خوف کے مارے، منافقین کے سردار نے یہ پیغام خفیہ طور پر بھیجا تھا۔ اور جب بنو نضیر کو یہ پیغام ملا، تو انہوں نے نکلنے کا اپنا ارادہ بدل دیا۔ انہوں نے نبی ﷺ کو پیغام بھیجا: "ہم نہیں جائیں گے!

آپ جو چاہیں کر لیں!" اس جواب کے بعد، جو کرنا تھا وہ بالکل واضح تھا۔ قلعے کا محاصرہ کیا جائے گا، اور بنو نضیر کو باہر نکلنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ایک بار جب تیاریاں مکمل ہو گئیں، تو نبی پاک ﷺ اور آپ کے صحابہ، بنو نضیر کے علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے باغات اور کھیتوں کے درمیان عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد، آپ ﷺ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا اور اپنا حکم دہرایا۔ "مدینہ چھوڑ دو۔" بنو نضیر نے نہ صرف نبی پاک ﷺ کا حکم ماننے سے انکار کیا بلکہ گستاخی سے جواب دیتے ہوئے کہا: "جو تم ہم سے مانگ رہے ہو اس سے بہتر موت ہے۔ ہم اسے ماننے کے بجائے مرنا پسند کریں گے۔" یہودی کئی دنوں تک اپنے قلعوں کے اندر محصور رہے۔ "ہمارے پاس بس یہی راستہ بچا ہے۔ ہمیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔" اور منافقین کے سردار، عبداللہ بن ابی کی طرف سے جس مدد کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ کبھی نہیں آئی۔ اور وہ کبھی آتی بھی نہیں۔ کیونکہ منافقین کی اصل فطرت یہی تھی۔ اپنے وعدے پورے نہ کرنا، جھوٹ بولنا، اور دھوکہ دینا۔ آخرکار، ایک ایسے شخص سے مدد کی توقع رکھنا یا اس کی بات پر اعتبار کرنا بیکار تھا، جس نے پہلے ہی دوسروں کو دھوکہ دیا تھا، یقیناً، اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ احساس ہونے پر کہ وہ مزید مقابلہ نہیں کر سکتے، یہودی ہتھیار ڈالنے پر راضی ہو گئے اور درخواست کی کہ انہیں نقصان نہ پہنچایا جائے۔ نبی پاک ﷺ نے ان کی درخواست قبول کر لی، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں اتنی دولت ساتھ لے جانے کی اجازت دی جتنی وہ اپنے اونٹوں پر لاد سکتے تھے، سوائے ان کے ہتھیاروں کے۔ جیسے ہی وہ مدینہ سے نکلنے والے تھے، آسمان میں دھواں اٹھنے لگا۔ لیکن یہ کہاں سے آ رہا تھا؟ اس کا پتہ لگانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ یہودی اپنے ہی گھروں کو جلا رہے تھے، تاکہ ان کے جانے کے بعد مسلمان ان میں نہ رہ سکیں۔ اگرچہ ان کی جانیں بخش دی گئی تھیں، پھر بھی وہ غصے اور نفرت سے بھرے ہوئے مدینہ سے نکلے۔ لیکن ان کی دشمنی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ یہ بعد میں دوبارہ ابھر کر سامنے آنے والی تھی۔ ان کے پیچھے، ان کے حلیف، منافقین غمگین تھے۔ وہ یہودی قبیلہ جس کے ساتھ مل کر وہ مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشیں کرتے تھے، اب جا چکا تھا۔ لیکن یہ انہیں پریشانی پیدا کرنے اور فتنہ پھیلانے کے نئے طریقے تلاش کرنے سے نہیں روک سکتا تھا۔ لیکن مسئلہ صرف منافقین کا نہیں تھا۔ اسلام کے دشمن جلد ہی اپنے اختلافات بھلا کر مسلمانوں کو مکمل طور پر مٹانے کے لیے ایک ساتھ ملنے والے تھے۔ ایک بہت بڑی جنگ نبی ﷺ اور ان کے صحابہ کا انتظار کر رہی تھی۔ جنگ کی بے مثال حکمت عملیاں، تیاری کا ایک انتہائی مشکل مرحلہ اور غداریاں۔ تو اس بار کون جیتے گا؟ کیا مشرکین بالآخر اپنا مقصد حاصل کر لیں گے؟ یہ سب ہم اگلی قسط میں جانیں گے، ان شاء اللہ۔ ساتھ رہیے گا۔
