# “Maine Hindu Devtaon Par Sawal Uthaye” – Sirf Aik Surah Ne Mujhe Islam Tak Pohncha Diya

- Language: ur
- Published: 2026-08-17
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-questioned-hindu-gods-just-one-surah-led-him-to-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=W96fyLxIOz8
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں ایک ہندو کی حیثیت سے بڑا ہوا۔ خدا تک پہنچنے کے لیے، آپ کو ان بتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ بت بہت بڑے ہوتے ہیں، بہت رنگ برنگے، چمکدار مجسمے۔ لیکن جس چیز نے مجھے واقعی حیران کیا، وہ اس گھر پہنچ کر ہوا جہاں وہ بیٹھی تھی جب وہ مجھے بتا رہے تھے کہ یہی تمہاری خدا ہے۔ وہ شاید مشکل سے کوئی ، 9 -8سال کی ہوگی۔ وہ مجھ سے بھی چھوٹی تھی۔ کوئی سائیں بابا تھے، جب اس کے پیروکار موجود ہوتے، تو وہ یوں اپنی انگلیاں ہلایا کرتا تھا اور اس کے ہاتھوں سے جادوئی طور پر خود بخود راکھ نکلنے لگتی تھی۔ وہ سونے کے انڈے اگل کر باہر نکالتا تھا۔ میری بہن، اس نے مجھ سے کہا، میرے دوستوں نے مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی ہے۔ یہ اسلام کے بارے میں ہے۔ جب میں وہاں پہنچا، تو بالکل دنگ رہ گیا۔ اور میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے، میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔ میں نے پہلے کبھی ایسی تلاوت نہیں سنی تھی۔ اور پھر ظاہر ہے کہ میں نے قرآنِ مجید پڑھا۔ جب میں نے وہ چار آیات پڑھیں، تو جیسے میرے ذہن میں ایک دم روشنی سی ہو گئی۔ اور میرے منہ سے نکلا، 'اوہ میرے خدایا'!

تو ظاہر ہے اس بات نے میرے والدین کو بھی متاثر کیا ہو گا۔ جیسے کہ، تم نے اپنے بچّے کو دشمن، یعنی مسلمان کیسے بننے دیا؟ اس بارے میں سوچ کر جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہوں۔ السلام علیکم، بھائی صلاح الدین پٹیل، ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔ Towards Eternity میں آپ کی آمد پر ہمیں بہت خوشی ہے۔ میں یہاں سے شروعات کرنا چاہوں گا کہ صلاح الدین پٹیل کون ہیں؟ الحمدللہ، السلام علیکم۔ میرا نام صلاح الدین پٹیل ہے اور میں لندن، برطانیہ سے ہوں۔ میں لندن میں ہی پلا بڑھا ہوں۔ میرا تعلق بنیادی طور پر ایک ہندو خاندان سے ہے۔ تو میرے والدین کا تعلق اصل میں ہندوستان سے ہے، جبکہ میری والدہ یوگنڈا میں پلی بڑھیں۔ اور میں 80 کی دہائی میں بڑا ہوا۔ یہ ایک بہت ہی دلچسپ دور تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ کچھ باتیں بلا جواز اور سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اور یہ یونیورسٹی کے دور کی بات ہے جب میں نے اسلام قبول کیا۔ ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کس بات پر یقین رکھتے تھے؟ میں ایک ہندو کی حیثیت سے بڑا ہوا اور اکثر لوگوں کی طرح، انسان اپنے خاندان کی روایت پر ہی چلتا ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ آپ بس اسی کو سچ مانتے ہیں۔ میرے والد فیملی کے ساتھ ہمیں مندر لے جایا کرتے تھے۔ یہ بت بہت بڑے ہوتے ہیں، تقریباً 10 یا 12 فٹ اونچے۔ تو آپ ان بتوں کی طرف اوپر نظر اٹھا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بہت رنگ برنگے، چمکدار مجسمے۔ آپ ایک بچے کے طور پر میرا اندازہ لگا سکتے ہیں، سچ کہوں تو یہ بہت ڈراونا لگتا تھا۔ جب آپ ان بتوں کو دیکھتے تو وہ بہت چمکدار ہوتے تھے۔ ان میں سے بہت سے نیلے رنگ کے ہوتے تھے، لیکن لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ یہ بت جسمانی روپ دھار سکتے ہیں۔ خدا تک پہنچنے کے لیے، آپ کو ان بتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اور انسان اس پر سچ مچ کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ آپ بس یہی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے باپ دادا، ہمارے آبا و اجداد کے طریقے ہیں۔ کون سی بات نے آپ کو اپنے عقائد پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا؟ شاید میں ہائی اسکول میں تھا جب میں ٹی وی پر 'مہابھارت' پروگرام دیکھ رہا تھا۔ میں ان خیالات پر سوال اٹھانے لگا۔ جیسے ان کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی تھی۔ کیونکہ منطقی اور عقلی طور پر، کچھ باتیں بالکل سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ جیسے کسی خدا کا انسان ہونا، جو فطری طور پر محدود ہو۔ کسی خدا کا سب کچھ نہ جاننا۔ کسی خدا کا وجود میں آنے کے لیے دوسرے خدا کی مدد کا محتاج ہونا۔ خدا کا دنیا میں آنے کی ضرورت پیش آنا، خدا کا اس دنیا میں بھی ہونا اور دنیا سے باہر بھی ہونا۔ ایک دن میں گھر پر تھا، اپنے بھائی کے ساتھ، تو میرے والدین ہمارے پاس آئے اور بولے، "دیکھو، ہم ایک مقدس ہستی کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں۔" لیکن جس چیز نے مجھے واقعی حیران کیا، وہ اس گھر پہنچ کر ہوا، جو ایک عام سا گھر تھا، وہاں اس نوجوان لڑکی کی تصویریں ہر جگہ لگی ہوئی تھیں، جو سفید لباس پہنے بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس لڑکی کی بڑی بڑی تصویریں پورے گھر میں لگی ہوئی تھیں۔ پھر ہمیں اس گھر کے اندر ایک خاص کمرے میں لے جایا گیا، جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں سوچ رہا تھا، جب وہ مجھے بتا رہے تھے کہ یہی تمہاری خدا ہے۔ وہ مشکل سے کوئی 8، 9 سال کی ہوگی۔ وہ مجھ سے بھی چھوٹی تھی۔ اس چھوٹی لڑکی کے بارے میں انہوں نے کہا، "ہاں، دیکھو، ہمیں اس سے دعائیں لینی ہیں، ہمیں اس کی پوجا کرنی ہے۔" اور میرے والدین نے اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیا۔ لیکن سچ کہوں تو، میں سوچتا تھا کہ آخر یہ چل کیا رہا ہے؟ میں اس چھوٹی سی لڑکی کی پوجا کیوں کر رہا ہوں؟ لیکن آپ کوئی سوال نہیں اٹھاتے، کیونکہ بات آپ کے والدین کی ہوتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں، آپ مان لیتے ہیں اور اسی کو سچ سمجھتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی لڑکی ہے، جو مجھ سے عمر میں چھوٹی ہے اور میری ہی طرح ایک انسان ہے، اور وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ یہی تمہاری خالق ہے، ہمیں اس سے برکتیں مانگنی ہیں، اس کی پوجا کرنی ہے، ہمیں اس کے آگے سجدہ ریز ہونا ہے۔ اور میں سوچ رہا تھا، میرے لیے یہ بات بالکل غلط تھی۔ ایک اور مثال سائیں بابا کی ہے، شاید کچھ لوگ انہیں جانتے ہوں۔ مطلب وہ ایک انڈین گرو تھے، وہ بہت مشہور ہو گئے تھے اور بھارت میں ان کے لاکھوں پیروکار تھے۔ ہمارے پاس اس کی ایک تصویر ہوا کرتی تھی۔ جیسے ان کے مذہبی لباس میں ایک تصویر، جس میں اس کے گلے میں پھولوں کا ہار ہوتا تھا، ہمارے پاس وہ تھی، اور ہم نے اس کا بت اور تصویر رکھی ہوئی تھی۔ میرے والدین اس کی پوجا کیا کرتے تھے۔ ایک کام وہ یہ کیا کرتا تھا کہ جب اس کے پیروکار موجود ہوتے تھے، تو وہ یوں اپنی انگلیاں ہلایا کرتا تھا اور اس کے ہاتھوں سے جادوئی طور پر خود بخود راکھ نکلنے لگتی تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ایک طرح کی برکت اور کرامت ہے۔ اس کا ایک اور معمول یہ تھا کہ وہ سونے کے انڈے اگل کر باہر نکالتا تھا۔ تصوّر کریں کہ ایک دھات کی پلیٹ رکھی ہوتی، اور پھر وہ کچھ ورد یا منتر پڑھنے کا ڈرامہ کرتا، وہ سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھتا، پھر وہ یوں اگلنے کا دکھاوا کرتا، اور یکایک اس کے منہ سے سونے کا ایک انڈا باہر نکل آتا۔ اب جہاں تک اس راکھ کا تعلق تھا، اس نے انگلیوں میں راکھ کی چھوٹی چھوٹی گولیاں چھپائی ہوتی تھیں۔ تو جب وہ ہاتھ کو یوں گھما کر انگلیوں کو مسلتا، تو وہ راکھ جھڑنے لگتی۔ اور وہ اگلنے والا معاملہ، پتہ نہیں وہ انڈا اس کی آستین میں ہوتا تھا یا نیچے کہیں چھپا رکھا ہوتا، لیکن جب وہ اگلنے کی اداکاری کرتا تو یوں لگتا جیسے منہ سے نکل رہا ہو، یہ سب کچھ ہاتھ کی صفائی تھی۔ تو آپ دیکھیں کہ ہندو مت میں ایسی بہت سی رسومات ہیں جہاں لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اس قسم کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مجھے بس اس بات کا احساس ہو گیا کہ یہ سب چیزیں غیر منطقی ہیں، لیکن کچھ تو منطقی ہو گا۔ تو میری عبادت، جیسا کہ میں نے خدا کو پکارنے کی بات کی تھی، وہ ہمیشہ محض میرا اپنی زبان، یعنی انگریزی میں خدا سے بات کرنا ہی ہوتا تھا۔ میں خدا سے بس یہی مانگتا تھا کہ "مجھے اس معاملے میں مدد درکار ہے" یا "برائے مہربانی مجھے اس غلطی پر معاف کر دے"۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ بات فطری ہے، یہ ہم سب کے اندر پہلے سے موجود ہے۔ اور میں اسی جذبے سے اپنا تعلق قائم کر رہا تھا۔ اسلام کی طرف آپ کے سفر کا آغاز کیسے ہوا؟ مسلمان ہونے سے پہلے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ جمعے کی نماز کے لیے مسجد جایا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں مسجد میں جاتا اور لوگوں کی لمبی لمبی صفیں دیکھتا، لیکن مجھے وہاں کا طریقہ کار ہندو مت سے بالکل مختلف محسوس ہوا، خاص طور پر جب آپ سجدے میں جاتے ہیں، جہاں آپ بنیادی طور پر اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے ہیں، آپ کا چہرہ فرش پر ہوتا ہے، اور یہ کامل اطاعت اور بندگی کی علامت ہے۔ اور یہ ایسا عمل تھا جو میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ کیونکہ میں گرجا گھروں میں گیا تھا، مندروں میں گیا تھا، میں نے بدھ مت کے مندر بھی دیکھے تھے، اور وہاں آپ کو ہمیشہ یا تو تصاویر ملتی تھیں یا بت نظر آتے تھے، لیکن یہاں جب آپ مسجد میں آتے ہیں، تو آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ سب کچھ بالکل سادہ اور صاف ستھرا ہوتا ہے، سامنے بس ایک منبر ہوتا ہے، جہاں امام کھڑا ہوتا ہے۔ انتہائی پاکیزہ، سادہ اور بوجھ سے پاک ماحول، اور یہاں آپ صرف ایک خدا کی عبادت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہاں کوئی بت نہ دیکھنا ایک عجیب بات ضرور تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی، یہ میرے دل کی بات کی تصدیق بھی تھی۔ ایک سکون اور اطمینان کا احساس تھا، کوئی پیسے نہیں مانگ رہا تھا۔ ایسا کچھ نہیں تھا کہ "ان دیوتاؤں کو کوئی نذرانہ دینا ہوگا"، اور نہ ہی عبادت کی قبولیت کے لیے کسی قسم کا کھانا چڑھانے کی ضرورت تھی۔ اور یہی بات سب سے خوبصورت تھی۔ پھر ظاہر ہے میں نے اس مذہب کے بارے میں تحقیق کرنا شروع کی۔ شروع میں، میں سمجھتا تھا کہ یہ کوئی پاکستانی مذہب ہے۔ پھر میں نے مختلف پسِ منظر کے لوگوں کو دیکھا۔ عرب، افریقی، مشرقی، ایشیائی اور ترکیے کے لوگ۔ میرے بچپن کے دوستوں میں ترک بھی شامل تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مسلمان بہت دوستانہ، انتہائی فیاض، بہت صاف ستھرے تھے، مجھے ان سے خاص دلی لگاؤ محسوس ہوتا تھا۔ اور تب انسان کو احساس ہوتا ہے، یہی تو اصل طریقہ ہونا چاہیے۔ اسلام میں ایک پاک، اکیلے اور خالص توحید والے خدا کا تصوّر ہے، جو اپنی مخلوق کا حصّہ نہیں، ابدی ہے۔ پھر دوسری طرف ہندو مت ہے، جہاں دیوتاؤں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ خدا کا مخلوق کے اندر حلول کر جانا۔ یہ بات اسلام کے بالکل برعکس ہے۔ پھر عیسائیت ہے، جہاں ٹرینیٹی (تین خداؤں) کا تصوّر ہے، جسے وہ توحید قرار دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن میں یہ چیز پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ جیسے کہ میں نے بتایا، ہندو مت میں 'تری مورتی' کا تصوّر ہے، جو ان کے اپنے ہاں ٹرینیٹی ہی کی ایک شکل ہے۔ اور وہی بات کہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اہم بات یہ ہے کہ جب میں نے قدیم یونانی اساطیر، ایرانی اور بابلی اساطیر کا مطالعہ کیا، تو ان سب کے ہاں ٹرینیٹی کا یہی تصوّر موجود تھا۔ اگر اس جیسی کوئی بات صدیوں سے یونہی دہرائی جا رہی ہے، لوگ خواہ کچھ بھی ماننے کا دعویٰ کر رہے ہوں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، ایک عالمگیر اور ابدی سچّائی کا ہونا لازمی ہے۔ پھر جب مجھے اسلام کے بنیادی عقائد کا علم ہوا تو میں دنگ رہ گیا۔ یہ فہم و ادراک، کہ خدا ایک ہی ہے، جو مخلوق کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک قادرِ مطلق ہستی ہے۔ اب اپنی زندگی میں پہلی بار، میرا سامنا ایک ایسے مذہب سے ہو رہا تھا، جو بالکل ان باتوں کے مطابق تھا، جنہیں میں سچ سمجھتا تھا۔ اور پھر ظاہر ہے کہ میں نے قرآنِ مجید اور سورۃ الاخلاص پڑھی۔ جب میں نے وہ چار آیات پڑھیں، تو جیسے میرے ذہن میں ایک روشنی سی ہو گئی۔ جیسے ارشاد ہے: "کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے۔" میں بول اٹھا، ہاں!

میں ایک خدا پر ایمان رکھتا ہوں۔ وہ ابدی ہے، بے نیاز ہے اور قادرِ مطلق ہے۔ ظاہر ہے، اگر کوئی خدا ہے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہیے، وہ کوئی مخلوق نہیں ہو سکتا، بے نیاز۔ "نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔" یعنی نہ اس کے ماں باپ ہیں، اور نہ ہی اس کے بچّے ہیں۔ میں ایک ایسے پس منظر سے آیا تھا جہاں دیوتا، نیم دیوتا، خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں سمجھی جاتی تھیں، جسے میں نے مسترد کر دیا تھا۔ یہاں خدا خالق ہے، جس کے نہ کوئی والدین، نہ کوئی اولاد۔ اور آخری بات یہ کہ "اس کا کوئی ہمسر یا برابری کرنے والا نہیں ہے۔" یعنی خدا کے بارے میں آپ جو بھی تصوّر قائم کر سکتے ہیں، وہ خدا نہیں ہو سکتا، کیونکہ خدا مخلوق کے دائرے سے باہر ہے، وہ مخلوق کا حصّہ نہیں ہے۔ ہماری تمام تر سوچ، تصوّرات انہی چیزوں سے بنتے ہیں جو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ اور یہ پڑھ کر میں دنگ رہ گیا کہ، 'اوہ میرے خدایا'!

اور یہی آغاز تھا جب مجھے لگا کہ یہ بات بالکل منطقی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ میں نے عقائد کی کتابیں پڑھنا شروع کیں، قرآن کا مطالعہ کیا، مجھے یاد ہے یہ کتنی دلچسپ بات تھی کہ یہ سب ایک ساتھ ہو رہا تھا، میں مزید قریب ہو رہا تھا، وہ مجھے اسلام کے بارے میں اور زیادہ بتا رہے تھے، میں ان کا عمل اور عبادت کرنے کا طریقہ دیکھتا تھا، میں دیکھتا تھا کہ وہ کس طرح ایک ہی صف میں یکجا ہو کر خدا کی عبادت کرتے تھے، حتیٰ کہ جب میں گریجویٹ ہوا، تو مجھے ایک فیصلہ کرنا تھا کہ اب مجھے آگے کیا کرنا ہے۔ میں ایک ایسے پوائنٹ پر پہنچ گیا تھا، جہاں مجھے لگا کہ نہیں، اگر میں نے یہ قدم نہ اٹھایا تو میں پوری زندگی جھوٹ کے ساتھ گزار دوں گا، مجھے یہ فیصلہ لینا ہی ہوگا۔ چنانچہ میں نے ارادہ کر لیا اور اپنے دوستوں کو بتایا، اور جب میں نے انہیں بتایا تو وہ دنگ رہ گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عملی عبادات یا بنیادی عقائد کے لحاظ سے اس میں کیا کچھ شامل ہے۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ یہی سچ ہے۔ مجھے یہ قدم اٹھانا ہی ہو گا۔ یہی سچا خدا ہے، یہی خدا کا دین ہے، یہی حق ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ جب آپ نے شہادت پڑھی تو آپ کو کیسا محسوس ہوا؟ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں؟ جب میں اس دن کو یاد کرتا ہوں، تو مجھے یاد ہے میں بہت گھبرایا ہوا تھا۔ اور مجھے یاد ہے کہ جب میں نے کلمۂ شہادت ادا کیا، اور مجھے یاد ہے بہت سے لوگ یہ بات کہتے ہیں، تو یوں لگا جیسے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ آپ بالکل ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ میں نے کلمہ پڑھا اور میرے تمام دوستوں نے مجھے گلے لگا لیا، وہ واقعی ایک جذباتی لمحہ تھا۔ آپ خود کو پاکیزہ، ہلکا پھلکا، خدا سے جڑا ہوا اور پر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ کے اسلام قبول کرنے پر آپ کے والدین کا کیا ردِّعمل تھا؟ جب میرے اسلام قبول کرنے کی بات آئی، تو ظاہر ہے یہ ایک ایسی بات تھی جس کا مجھے خیال رکھنا تھا، لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ میں ایک جھوٹی زندگی نہیں گزار سکتا۔ تو اگلا مرحلہ یہ تھا کہ مجھے اپنے والدین کو بتانا ہی پڑے گا، ہے نا؟ جب میں نے انہیں بتایا تو وہ بالکل خوش نہیں ہوئے۔ انہیں سخت مایوسی ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ میری والدہ بہت غصے میں تھیں، جبکہ میرے والد، انہیں بھی بس یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ کیونکہ اب آپ کو خاندان میں ایک بدنام فرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اور پھر بات پھیل جاتی ہے، خاص طور پر ہندو برادری جیسی چھوٹی کمیونٹی میں۔ تو ظاہر ہے اس بات نے میرے والدین کو بھی متاثر کیا ہو گا۔ جیسے کہ، تم نے اپنے بچّے کو دشمن، یعنی مسلمان کیسے بننے دیا؟ خیر، میں نے اپنا سفر جاری رکھا، اور مجھے چند سالوں کے بعد یہ احساس ہوا کہ اگرچہ میں کلمۂ شہادت پڑھ چکا تھا اور مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا، اور مجھے یقین تھا کہ یہی سچ ہے، لیکن پھر بھی کوئی کمی باقی تھی۔ میں دن میں پانچ وقت کی نماز کا پابند نہیں تھا۔ اور پھر، اللہ تعالیٰ نے ایک نشانی بھیجی۔ وہ واقعی شاندار تھی۔ اس بارے میں سوچ کر ایموشنل ہو جاتا ہوں۔ کیونکہ ایک نو مسلم کے طور پر آپ تنہا ہوتے ہیں۔ معذرت، میں رونا نہیں چاہتا تھا۔ تو یہ 2008 یا 2009 کا دور تھا، میں نے مزید ویڈیوز اور معلومات دیکھنا شروع کیں، پھر اللہ نے ایک زبردست نشانی بھیجی۔ میری بہن، جو مجھ سے 10 سال چھوٹی ہے، وہ اس وقت ایک باعمل ہندو تھی۔ پھر ایک دن اس نے مجھ سے کہا، میرے دوستوں نے مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی ہے۔ یہ اسلام کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، چل کر دیکھتے ہیں۔ اپنے پروگرام میں وہ جمعے کے دن ایک مفت تعارفی سیشن رکھتے تھے، اور پھر پورا پروگرام ویک اینڈ پر ہفتہ اور اتوار چلتا تھا، یہ عموماً کسی بڑے ہوٹل میں ہوتا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا، میں بالکل دنگ رہ گیا۔ میں نے زندگی میں پہلے کبھی کچھ ایسا نہیں دیکھا تھا۔ اور مجھے یاد ہے کہ شیخ (اسلامی اسکالر) وہاں لائیو آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ اور میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے، میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔ میں نے پہلے کبھی ایسی تلاوت نہیں سنی تھی۔ تو میں نے سوچا کہ ۔۔۔ اصل میں مذہب یہ ہے۔ تو جمعے کا دن ختم ہوا اور مجھے لگا کہ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔ یہ ایک شاندار تجربہ تھا، سیکڑوں لوگ جمع تھے، میں پہلے کبھی ایسے کورس میں شامل نہیں ہوا تھا، تو میں نے سائن اَپ نہیں کیا لیکن میری بہن نے کرا لیا تھا۔ تو میں نے اپنی بہن سے کہا، "دیکھو،" مجھے پورا اعتماد تھا، میں نے کہا، "دیکھو!

اگر کوئی سوال ہو تو بلا جھجھک شیخ سے پوچھ لینا، ہاں، اگر کوئی بات ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، سب ٹھیک رہے گا، تم وہاں اپنی دوست کے ساتھ ہو گی،" کیونکہ اس کی صومالی دوست وہاں بطور رضاکار موجود تھی، اور اسی کے ذریعے اسے اس کورس کی دعوت ملی تھی۔ مجھے ہفتے کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ معمول کے مطابق گھوم پھر رہا تھا اور وقت ضائع کر رہا تھا، جیسے کہ لوگ اکثر ہفتے کے دن کرتے ہیں، ہے نا؟ پھر شام کے وقت میری بہن نے مجھے ایک میسج بھیجا، اس نے کہا، "ہائی!

میں بس آپ کو بتانا چاہتی تھی کہ میں پروگرام کے دوران سوالات پوچھتی رہی ہوں، اور میں نے فیصلہ کر کے کلمۂ شہادت ادا کر لیا ہے۔" بالکل غیر متوقع طور پر، اور شیخ (اسلامی اسکالر)۔۔۔ جیسے کہ میں نے بتایا، وہ خود بھی اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جمعے کے دن آئے تھے اور بعد میں میری ان سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے اپنے سامنے لوگوں کا ہجوم دیکھا، سامنے مرد حضرات بیٹھے تھے، اور پیچھے خواتین کا حصّہ تھا، اور ظاہر ہے وہ اپنا لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے، تو انہوں نے خواتین کے حصّے میں نوٹ کیا، کہ وہاں ایک بہن بغیر حجاب کے بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا۔ ان کی نظر اسی بہن پر پڑی جو حجاب کے بغیر تھی، اور اس نے سوالات پوچھنا شروع کر دیے۔ ان پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ وہ میری بہن ہیں، جو کہ غیر مسلم تھیں۔ چنانچہ انہوں نے دعوتی (تبلیغی) انداز اختیار کر لیا، کیوں کہ وہ اسلام کے داعی تھے۔ اور انہوں نے اس سے سوالات پوچھنا شروع کر دیے۔ اور ہوا یہ کہ، چونکہ انہوں نے یہ کام انتہائی دانشمندانہ انداز میں کیا، تو بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے میری بہن سے کہا، "اگر یہ تمام باتیں آپ کو منطقی لگ رہی ہیں اور آپ کا مزید کوئی سوال بھی نہیں ہے، تو پھر آپ اسلام قبول کرنے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتیں؟" کچھ اس قسم کی بات۔ اور بہن نے بتایا اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ چنانچہ ان تمام اسلامی بہنوں کی موجودگی میں اس نے اپنا کلمۂ شہادت ادا کر لیا۔ اور جس بات نے مجھے مزید حیران کیا، کیونکہ یاد رہے کہ وہ اس وقت ایک ٹیچر کے طور پر انٹرن شپ پر تھی کہ اسلام قبول کرتے ہی اس نے مکمل حجاب اور عبایا پہننا شروع کر دیا۔ مجھے یاد ہے اس نے مجھے بتایا کہ جب وہ اسکول گئی، تو تمام بچّوں نے اس سے پوچھا، "مس!

مس! آپ کو کیا ہوا ہے؟" کیونکہ وہ اچانک مکمل طور پر بدل چکی تھی۔۔۔ "کیا آپ کو کسی نے مجبور کیا ہے کہ آپ مسلمان بنیں؟" اس نے جواب دیا، "نہیں، نہیں!

میں نے اپنی مرضی سے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔" اور وہاں موجود مسلم طلبہ اور ظاہر ہے اس کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ساتھی یہ دیکھ کر بے حد خوش اور ششدر رہ گئے۔ اور میرے لیے وہی دعا کا جواب تھا۔ میں نے اللہ سے مانگا اور جواب میری بہن کی صُورت میں آیا۔ اور وہ چٹان کی طرح مضبوط ثابت ہوئی ، وہ ایسی بہن تھی، یونو، بہنیں، بھائیوں سے کہیں بہتر ثابت ہوتی ہیں، اس نے فوراً دین پر عمل شروع کر دیا اور اسے پوری طرح اپنا لیا۔ تو ظاہر ہے اس سے مجھے بھی بہت مدد ملی۔ اور اس نے مجھے بتایا کہ ہاں، جب میں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہوئی، تو اس بات کا اس پر گہرا اثر ہوا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا، کیونکہ وہ بھی ظاہر ہے اس بارے میں سوچ رہی تھی۔ اور بے شک ہدایت دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ اسی سال دسمبر میں، چھٹیوں کے دنوں میں، میری بہن میرے پاس آئی اور کہنے لگی، "مجھے ایک پروگرام میں بلایا گیا ہے۔ یہ نئے مسلمانوں کے لیے ہے، جہاں بنیادی باتیں سکھائی جاتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا ہمیں جانا چاہیے؟" میں نے کہا، "کیوں نہیں!

چل کر دیکھتے ہیں، ویسے بھی ہم کچھ نہیں کر رہے، ہمارا جائے گا بھی کیا" اور ہم اس نو مسلم تربیتی نشست میں گئے، جو اسی سفر سے گزر رہے تھے۔ جہاں میری ملاقات دوسرے نئے مسلمانوں سے ہوئی، میری ملاقات ایک سکھ پس منظر والے بھائی سے ہوئی، ایک عیسائی پس منظر والے بھائی سے ہوئی، اور چینی و بدھ مت پس منظر والے بھائیوں سے بھی ملنا ہوا۔ جیسے اللہ ہی میری رہنمائی کر رہا تھا، اور بے شک اللہ بہترین منصوبہ بندی کرنے والا ہے۔ تو میرے لیے اس وقت جس چیز کی ضرورت تھی، وہ مجھے مل گئی، اور پھر میں نے Iera میں دینی کاموں میں حصّہ لینا شروع کر دیا۔ اگر آپ کو کسی کے لیے ایسی دعا مانگنے کا موقع ملے جس کا آپ کو یقین ہو وہ ضرور قبول ہو گی، تو آپ کس کے لیے اور کیا دعا مانگیں گے؟ میں بلا شبہ یہ کہوں گا کہ، تمام نو مسلم غالباً یہی ایک جواب دیں گے۔ اور وہ جواب ہے، اپنے والدین کے لیے دعا۔ نو مسلم افراد کے لیے یہ مشکل ترین بات ہوتی ہے۔۔۔ یہ سوچنا کہ آپ کے والدین، جنہوں نے آپ کی پرورش کی، وہ ہدایت سے محروم ہیں۔ نبی کریمﷺ کی ذاتِ مبارکہ کی کس بات نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟ نبی کریمﷺ کے بارے میں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپﷺ کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جو بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ خانہ کعبہ میں 360 بت موجود تھے۔ اور نبی پاک ﷺ اسے شرک سے پاک کرنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ پیغام جس کے لیے آپﷺ کا انتخاب کیا گیا، یعنی خالص توحید کا پیغام، ایک ایسے مشرکانہ معاشرے میں جو اصل میں توحید کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے جو عظیم کام کیا، اس سے میرا ایک گہرا قلبی تعلق ہے۔ انہوں ﷺ نے اس پورے علاقے کو بت پرستی سے پاک کیا، بت پرستی کو ختم کر دیا، اور مجھے اس بات سے شدید محبت ہے۔ میں اس پوری کہانی اور جدوجہد سے خود کو بہت قریب محسوس کرتا ہوں۔ تو پھر ہندو مت میں بنیادی عقیدہ کیا ہے؟ جی ہاں، ہندو مت کے بنیادی عقائد ذرا مختلف ہیں۔ یہ ایک کثیر خداؤں پر مبنی مشرکانہ مذہب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ متعدد خداؤں کی پرستش پر یقین رکھتے ہیں۔ پھر آپ کو کچھ چیزوں میں اُلجھن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ میں آخر کس خدا کی عبادت کروں؟ اور اگر اتنے سارے خدا ہیں، تو وہ اس کائنات کے نظم و ضبط اور تمام امور کو کیسے چلاتے ہیں؟ زندگی اور موت کے نظریے کے حوالے سے، ہندو مت میں دوبارہ جنم لینے کا عقیدہ پایا جاتا ہے، یعنی آپ اپنی گزری ہوئی زندگی کے اعمال کی بنیاد پر دوبارہ اس دنیا میں جنم لیتے ہیں۔ اگر آپ نے اچھے کام کیے ہوں تو آپ کو کسی اعلیٰ مخلوق کے رُوپ میں دوبارہ جنم ملتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک چوہا تھے، اور اگر آپ نے اچھا چوہا بن کر زندگی گزاری تو آپ ترقی پا کر ریچھ کے رُوپ میں آ جائیں۔ لیکن اسی طرح انسان کے لیے، اگر انسان کی زندگی بُری تھی، وہ مجرم تھا یا اس نے دوسروں پر ظلم کیا تھا، تو وہ کسی ادنیٰ درجے کی مخلوق کے طور پر جنم لے گا۔ مثال کے طور پر کسی کاکروچ کی شکل میں، جس کے بارے میں سوچنا بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں لگتا۔ اور ہندو مت میں زندگی اور موت کا یہ پورا چکر اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ اور پھر اس بات کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے۔ تو مثلاً، اگر آپ کسی ایسے انسان کو دیکھتے ہیں جو معذور، کسی جسمانی نقص یا معذوری کے ساتھ پیدا ہوا ہے، تو بدقسمتی سے لوگ ان کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مذہبی عقیدہ یہ بتاتا ہے کہ اس شخص نے اپنی پچھلی زندگی میں ضرور کوئی برے کام کیے ہوں گے۔ اور اس کی وجہ سے ظلم، ناانصافی اور معاشرے میں کسی کو بُرا سمجھنے کے رویے جنم لیتے ہیں اور انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ حقیقت ایسی نہیں ہے، کیونکہ یہ لوگ، معصوم لوگ ہیں، جنھیں پہلے ہی اپنی کسی دشواری پر قابو پانا ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے ذات پات کے نظام کے بارے میں بتایا، اس میں ایک ایسا گروہ بھی ہے جسے 'اچھوت' کہا جاتا ہے، اور انہیں معاشرے میں اس حد تک نظر انداز اور الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے کہ لوگ ان سے میل جول نہیں رکھتے، انہیں برابر کے حقوق حاصل نہیں ہوتے، تو ذرا تصوّر کریں کہ اگر کوئی اس حالت میں پیدا ہو، تو وہ اس دلدل سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ تجسیم کا تصوّر بھی ہے، یعنی جب آپ بتوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ وہ شکل و صورت کے لحاظ سے انسانوں جیسے ہیں۔ تو تجسیم کا تصوّر یہ ہے کہ خدا کوئی انصاف قائم کرنے کی خاطر کسی انسان یا جانور کی شکل میں زمین پر اترتا ہے۔ اس کی ایک مثال 'گنیش' کی ہے۔ وہ ایک ایسا دیوتا ہے جس کا دھڑ انسان کا اور سر ہاتھی کا ہے۔ اور اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ اس عقیدے کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ ایک دن دو دیوتاؤں کی آپس میں شادی ہوئی، اور ان میں سے جو والد تھا، اسے کچھ عرصے کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرنا پڑی۔ اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے۔ تو کئی سال بعد، تقریباً ایک دہائی کے بعد، جب وہ واپس گھر آیا، تو اس نے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کا بیٹا، جسے وہ جانتا نہیں تھا، گھر کی حفاظت کر رہا تھا اور ظاہر ہے کہ اس نے اس شخص کو نہیں پہچانا، جو کہ اس کا باپ تھا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ چنانچہ ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس دیوتا نے اس چھوٹے بچّے کا سر قلم کر دیا۔ ظاہر ہے ہوا یہ کہ ماں بھاگتی ہوئی باہر آئی، "تم نے یہ کیا کر دیا، یہ ہمارا بیٹا ہے!" چنانچہ دیوتا نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کی خاطر یہ کیا کہ اس نے قریب موجود جانور کا سر حاصل کرنے کی کوشش کی جو اتفاق سے ایک ہاتھی تھا، اور اپنے بیٹے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس کے سر کا استعمال کیا۔ تو میرے لیے ان مسائل میں سے ایک تھا جو مجھے درپیش تھے۔ جیسے جب آپ فلم میں جیک کو دیکھتے ہیں، وہ ایک خاص قسم کا سُوٹ پہنتا ہے اور پھر وہ بنیادی طور پر نیلے اواتاروں سے بات کر رہا ہوتا ہے، ہے نا، یہ ایسا ہی ہے جیسے خدا ایک اوتار کی صورت میں انسانی روپ میں زمین پر اترتا ہے، وہ انصاف کرنے کے لیے نیچے اترتا ہے، صحیح؟ تو بڑا ہوتے ہوئے میں ان خیالات و تصوّرات سے الجھتا رہتا تھا۔ تو یہ تمام نظریات جو ایک طرح سے ہندو مت کی بنیاد بنتے ہیں، میرے لیے وقت کے ساتھ ساتھ غیر منطقی ہوتے گئے، یہ بات دل کو قبول ہی نہیں ہوتی تھی۔ جیسے کہ متعدد خداؤں کا تصوّر، کہ ٹھیک ہے، آخر کس کا حکم چلتا ہے؟ سب سے بڑا خدا کون سا ہے؟ کون سی چیز ایک خدا کو دوسرے خدا سے زیادہ طاقتور یا زیادہ علم والا بناتی ہے۔ دوسری بات تجسیم اور اوتار کا عقیدہ ہے، یعنی خدا کا انسان کی شکل میں ہونا، یا خدا کا خود اپنی مخلوق کے اندر حلول کر جانا یا موجود ہونا۔ ایک بار پھر، جب میں نے اس بارے میں سوچنا شروع کیا، تو یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک کارپنٹر جو فرنیچر کا کوئی سامان، مثلاً ایک میز بناتا ہے، وہی اس کا ڈیزائنر ہے، وہی اسے بناتا ہے، وہی اس کے تمام حصّوں کو جوڑتا ہے، ٹھیک، لیکن وہ کبھی خود میز نہیں بن سکتا۔ کیونکہ کارپنٹر کی فطرت، میز یا کرسی کی فطرت سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کبھی فرنیچر کا حصّہ نہیں بن سکتا، ہے نا؟ اور بالکل اسی طرح جب آپ خدا کو دیکھتے ہیں، تو خدا خالق ہے جو مخلوق سے بالکل ماوراء اور الگ ہے، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، وہ خود اپنی مخلوق کا حصّہ نہیں بنتا۔ جب آپ ہندو مذہبی صحائف کا موازنہ قرآن مجید سے کرتے ہیں تو کیا فرق پاتے ہیں؟ پہلی بات، جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے تو اس کے اندر جو پیغام موجود ہے، وہ بالکل واضح اور معقول ہے، ٹھیک؟ اس کا پیغام انتہائی سادہ اور بالکل واضح ہے۔ اور وہ پیغام یہ ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے، وہ اپنی مخلوق کا حصّہ نہیں ہے، اور وہ تمام جہانوں کا خالق اور پروردگار ہے۔ اس نے پوری انسانی تاریخ میں انبیاء اور وحی کے ذریعے ہم انسانوں سے رابطہ قائم کیا۔ تاکہ وہ ہماری رہنمائی کرے، سچائی کا راستہ دکھائے، اور یہ بتائے کہ یہ زندگی ایک امتحان ہے، تاکہ ہم دوبارہ اپنے خالق سے جڑ سکیں جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اور ایک اچھی و بابرکت زندگی گزار سکیں۔ کیونکہ جس طرح کوئی شخص اگر موبائل فون بناتا ہے، تو آپ کو اسے بہترین استعمال کے لیے ایک رہنما کتابچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح ہم انسانوں کو بھی ایک ایسے ہی ہدایت نامے کی ضرورت ہے، جو ہمارے خالق کی طرف سے نازل ہوا ہو۔ تو میں قرآن مجید کو اسی طرح دیکھتا ہوں، یہ ربط اور منطق سے بھرپور ہے، بالکل واضح ہے، اور مکمل طور پر منطقی ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر، جب آپ ہندو مت کے صحائف کا مطالعہ کرتے ہیں، اگرچہ ان میں بھی بہت سی اچھی تعلیمات اور عمدہ اخلاقی اقدار موجود ہیں، قرآن مجید کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مخصوص دور میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر نازل کیا گیا تھا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ وحی کا یہ 23 سالہ دورِ نزول، ہم جانتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کی یہ روایت صرف تحریری متن تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک زبانی روایت کے ذریعے محفوظ ہوا جو آج کے دن تک قائم و دائم ہے۔ ہمارے پاس لاکھوں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں پورا قرآنِ پاک زبانی یاد ہے، اور آپ اس کا مظاہرہ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ مکمل طور پر محفوظ چلا آ رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود اس کا ذکر فرمایا ہے، کہ میں نے ہی اس (قرآن) کو نازل کیا ہے اور میں ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ جہاں تک ویدوں اور اپنیشادوں کا تعلق ہے، ہمیں وہاں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ میں کسی ایک ایسے شخص کو بھی نہیں جانتا جس نے ان مذہبی صحائف کو پورا یاد کر رکھا ہو۔ کسی اور متن کا تو ذکر ہی الگ ہے۔ یہ ایک معجزہ ہے، یہ واضح نشانیاں ہیں۔ اور پھر جیسا کہ آپ نے کہا، جب آپ قرآن مجید کے اندر دیگر حکمتوں کا جائزہ لیتے ہیں جب آپ اس کی گہرائی میں جاتے ہیں- جیسا کہ حمزہ Tzortzis کہتے ہیں، کہ اس کے اندر کثیر تہہ دار، ہمہ جہت معانی اور نشانیاں موجود ہیں، اور پھر ہر چیز رب کی ایک نشانی ہے۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ میں خدا کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ارد گرد نشانیاں بکھیر رکھی ہیں، آپ کو بس غور سے دیکھنا ہوتا ہے۔ کہ جب آپ اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچا رہے ہوں، تو سب سے بہترین کام جو آپ کر سکتے ہیں کہ کسی کو قرآن مجید کا ایک نسخہ تحفے میں دے دیں۔ اگر وہ مخلص ہوا، تو وہ لازمی سمجھ جائے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ کیا یہ بات سچ ہے کہ وہ گائے کی عبادت کرتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے؟ اور ایسا کیوں ہے؟ جی ہاں، ہندو مت میں گائے کو ایک مذہبی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ گائے مقدس ہے، کیونکہ وہ غذا فراہم کرتی ہے، دودھ دیتی ہے۔ وہ گائے نہیں کھاتے کیونکہ اسے مقدس سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ بیف نہیں کھاتے۔ اس کے علاوہ، وہ گائے کے گوبر کو بھی استعمال کرتے ہیں، جو کہ اس کا فضلہ ہے، وہ اسے گھروں کی تعمیر میں استعمال کرتے ہیں اور ایندھن کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ گائے کے متعدد فوائد اور استعمال دیکھتے ہیں، اس لیے اسے ایک اعلیٰ مقام دیا گیا ہے، یہاں تک کہ ان کے مذہبی عقائد میں وہ 'گاؤ ماتا' پر یقین رکھتے ہیں، اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ماں کا تصوّر انتہائی واجبِ احترام ہے۔ اور کچھ انتہا پسندانہ نظریات کے مطابق وہ یہ مانتے ہیں کہ گائے خود خدا کا ایک رُوپ ہے، ٹھیک؟ اور آپ کو ایسا دیکھنے کو ملتا بھی ہے۔ تو وہ گائے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ اور اگر آپ گائے کے خلاف کچھ بھی کریں، تو وہ اسے اپنے اور اپنی کمیونٹی کے خلاف ایک شدید اشتعال انگیز اقدام سمجھتے ہیں۔ زیادہ تر ہندو ویجیٹیرین ہوتے ہیں۔ اگر آپ ہندو مت کی سخت تعلیمات کو دیکھیں، تو ان میں سے زیادہ تر لوگ ویجیٹیرین ہی ہوں گے۔ لیکن کچھ لوگ چکن اور مٹن کھا لیتے ہیں، تو میری پرورش بھی بڑا گوشت کھائے بغیر ہی ہوئی۔ میری والدہ ہمارے لیے چکن اور مٹن لے آتی تھیں، لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب انہوں نے مزید مذہبی بننے کا فیصلہ کیا، اور ہمیں کسی بھی قسم کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ بچپن میں بغاوت کیا کرتا تھا، اور ہم لوگ چھپ کر چیز برگر کھانے چلے جایا کرتے تھے، انہیں بتاتے نہیں تھے۔۔۔ ہاں، میں وہ کھا لیتا تھا، حالانکہ وہ ہماری روایت کے خلاف تھا۔ میں یہ گھر پر نہیں کھاتا تھا، یہ شدید گستاخی سمجھا جاتا تھا، آپ گھر میں بیف کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے، لیکن جب آپ مجموعی طور پر اسے دیکھتے ہیں، تو یہ بات غیر منطقی لگتی ہے، کیونکہ آخرکار، گائے بھی دیگر جانوروں کی طرح ایک چوپایا اور مخلوق ہی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ایک مخلوق ہے۔ ہاں، یہ بات سچ ہے کہ یہ بہت زیادہ غذائیت فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی بھی لحاظ سے مقدس یا الوہیت کا درجہ رکھتی ہے۔ دریائے گنگا کو مقدس سمجھا جاتا ہے، کیا اس کا کوئی خاص مفہوم ہے، یا آپ اس بارے میں کچھ کہیں گے؟ دریائے گنگا کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کا ایک بابرکت اور مقدس دریا ہے، جہاں لوگ برکت حاصل کرنے کی خاطر آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والدین اور میرے گھر والے اس بارے میں باتیں کیا کرتے تھے، وہ وہاں جا کر ایک طرح سے غسل کرتے تھے، دریا میں نہا کر ایک طرح سے روحانی پاکیزگی حاصل کرنا ان کا مقصد ہوتا تھا۔ وہ اپنے مُردوں کی راکھ بھی وہاں لے جاتے ہیں۔ ہندو مت میں جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے دوبارہ جنم کے بارے میں بتایا، تو جہاں ہم مُردوں کو دفناتے ہیں، وہاں ان کے ہاں مردے کو جلانے کا عقیدہ پایا جاتا ہے، بنیادی مطلب جسم کو آگ میں جلا دینا ہے۔ اور جسم کو اس وقت تک جلایا جاتا ہے جب تک وہ راکھ نہ بن جائے، پھر اس راکھ کو ایک برتن میں محفوظ کیا جاتا ہے، اور پھر اس راکھ کو گنگا دریا میں بہا دیا جاتا ہے، ان کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ آپ واپس جا کر کائنات اور فطرت کے اسی عنصر کا حصّہ بن رہے ہیں۔ کیا ہندوؤں کا ہفتہ وار کوئی معمول ہوتا ہے، روزانہ کا یا پھر ہفتہ وار؟ بنیادی طور پر، ہندوؤں کی اکثریت جب اپنے مذہب پر عمل کرتی ہے، تو وہ اپنے گھروں کے اندر ہی عبادت کی جگہ بناتے ہیں، جسے 'پوجا گھر' کہا جاتا ہے۔ وہاں بتوں کی ایک خاص ترتیب قائم کی جاتی ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر دیوتاؤں کی تعظیم و پوجا کی جاتی ہے، غالباً صبح کے وقت، اور کھانے میں برکت کی خاطر بتوں کو بھوگ چڑھایا جاتا ہے۔ جیسے ہم اسلام میں اس طرح ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں، آپ نے ہندوؤں میں بھی یہ علامت دیکھی ہو گی، جو تعظیم کی علامت ہے اور عبادت کی بھی علامت ہے، تو وہ بتوں کے سامنے مانگتے ہوئے یہ اشارہ یا علامت بناتے ہیں۔ تو ان کا ماننا ہے کہ یہ بت خدا کے مظاہر یا اس کی نمائندگی کا ذریعہ ہیں، تو کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ان بتوں میں خاص طاقت موجود ہے۔ اور یہ ایک دل چسپ بات ہے، کیونکہ جب آپ اسلام کو دیکھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کے خوبصورت اسماء اور صفات ہیں، لیکن یہ تمام تر صفات اور نام صرف ایک ہی ذاتِ واحد االلہ کے ہیں۔ جبکہ یوں لگتا ہے جیسے ان لوگوں نے انہی صفات کو الگ الگ کر کے ان میں سے ہر ایک کے لیے مخصوص بت گھڑ لیے ہوں۔ آپ اُس سے کیا کہنا چاہیں گے جو کہتا ہے کہ مجھے ہندومت پر روحانیت حاصل ہوتی ہے، تو مجھے کسی دوسرے مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ تصوّر کریں ہم اچھے دوست ہیں، میں، آپ اور ہمیں دیکھنے والے تمام ناظرین، ہم سب آپس میں بہت بہترین دوست بن گئے ہیں۔ اور فرض کریں کہ میں ایک انتہائی امیر ارب پتی انسان ہوں۔ اور میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو مثال کے طور پر 10 ملین پاؤنڈز کا تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ تو جب میں آپ کو 10 ملین پاؤنڈز کا تحفہ دوں گا، تو آپ کیا کریں گے؟ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ شکریہ ادا کریں گے۔ کوئی تحفہ دے تو آپ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تو جہاں تک ہمارے وجود کا تعلق ہے، ہمارے پاس جو بھی نعمتیں موجود ہیں، دیکھنے کی صلاحیت، بولنے کی صلاحیت، زندگی کے ہر ایک لمحے کو محسوس کرنے کی صلاحیت، ہم نے خود کو خود تو پیدا نہیں کیا۔ ہم نے اپنی جلد کا رنگ، اپنی جنس خود تو طے نہیں کی، یہ تمام چیزیں ہمیں ایک تحفے کے طور پر عطا کی گئی ہیں۔ اور روحانیت بھی اسی کا ایک حصّہ ہے۔ اب اسی مثال کی طرف واپس آتے ہیں، فرض کریں میں نے آپ کو وہ 10 ملین پاؤنڈز دیے۔ لیکن میرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے، آپ نے لیونل میسی کا شکریہ ادا کر دیا۔ جی، وہ ایک بہترین فٹ بالر ہے۔ لیکن آپ کو وہ 10 ملین پاؤنڈز دینے میں اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اور میں مذہب کو بھی کچھ اسی نظر سے دیکھتا ہوں۔ کہ یہاں یہ تمام مذاہب اور یہ تمام تر روحانی طریقۂ کار موجود ہیں، ہم سبھی اس ایک روحانی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم اس کا رخ غلط سمت میں موڑ رہے ہیں۔ جب ہم تحقیق کرتے ہیں اور عقلی زاویے سے چیزوں کو دیکھتے ہیں، تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی عالمگیر سچائی ضرور ہونی چاہیے۔ جب آپ اس اصل سچائی سے جڑ جاتے ہیں، جو کہ خالق اور ایک سچا معبود ہے، تبھی آپ حقیقت میں اپنے اندر موجود اس روحانی خلا کو پُر کر پائیں گے۔ اگر آپ کو دنیا بھر کے تمام ہندوؤں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو چند لمحوں میں آپ ان سے کیا کہیں گے؟ ہم سب انسان ہیں، اور بالکل میری طرح، آپ بھی اپنی خاندانی روایات کی پیروی صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ آپ ان پر سوال نہیں اٹھاتے۔ لیکن اگر ہم ذرا اور گہرائی میں جائیں تو ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ دنیا بھر میں اور مختلف خطوں میں یہ تمام مختلف روایتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ جب آپ ان مذاہب کے عقائد کا جائزہ لیتے ہیں جو کہ اچھی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں، تو وہ ایک ہی وقت میں درست نہیں ہو سکتے۔ آپ ایک ہی وقت میں متعدد خداؤں اور صرف ایک ہی خدا کے عقیدے کو صحیح نہیں مان سکتے۔ آپ ایسے خدا کا تصوّر نہیں کر سکتے جو کائنات سے ماوراء اور ہمیشہ رہنے والا ہو، اور ساتھ ہی وہ مخلوق کے اندر حلول بھی کر جائے اور اس سے الگ بھی رہے۔ دیکھیں، میں یہاں آپ کے عقائد کو چیلنج کرنے نہیں آیا ہوں۔ میں تو صرف آپ کو سوچنے پر مائل کرنے آیا ہوں، اور اس فہم و شعور تک پہنچانے آیا ہوں کہ کوئی نہ کوئی عالمگیر حقیقت ضرور ہونی چاہیے۔ اور میں آپ سے اپنی فہم و بصیرت کی روشنی میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں مانتا ہوں کہ اسلام ہی سچا دین ہے۔ اسلام ایک سچے معبود پر ایمان لانے کا نام ہے، جو کہ ازلی اور ابدی ہے، جس کے نہ کوئی ماں باپ ہیں اور نہ ہی اولاد، جو بے نیاز ہے، جو اپنی مخلوق کے اندر محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ماوراء ایک مضبوط سہارا ہے، جو ہماری کسی بھی سوچ اور تصوّر سے بالاتر ہے، جو کوئی انسان نہیں ہے، وہی سچا دین ہے۔ قرآن مجید پڑھیے، اور دیکھیے کہ وہ کیا فرماتا ہے، اسلام کی بنیادی تعلیمات پر غور کیجیے، کسی مسلم سے بات کیجیے۔ اور اگر آپ کا یہ یقین ہو کہ یہی سچ ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو سچائی کے راستے کی ہدایت عطا فرمائے گا۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔
