# “Mai Depression Mein Doob Raha Tha - Islam Ne Meri Zindagi Badal Di" @WAYOFLIFESQ Ki Revert Kahani

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-was-drowning-in-depression-until-islam-saved-me-the-incredible-revert-story-of-at-wayoflifesq
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=9M-T0pFPPr4
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

اُس عورت کا خیال جس کے متعلق، میں سوچتا رہتا تھا۔ مطلب، میں اُسے اپنے ذہن سے نکال نہیں پا رہا تھا، بُرو۔ وہ واقعی 24/7 میرے دماغ پر چھائی رہتی تھی۔ تو میں ہائی وے پر ڈرائیونگ کر رہا تھا، 75، 80 کی رفتار سے۔ پیر میں نے گراؤنڈ پر رکھ دیے، ہاتھ یہاں۔ اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ پانچ۔ چار۔ تین۔ دو۔ ایک۔ اور اُس وقت، میں نے محسوس کیا کہ مجھے زیادہ گہری اور معنی خیز چیز کی تلاش کرنی چاہیے۔ تو اب، میں نے مختلف ازمز کی کتابوں سے مدد لینے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے بدھ ازم کو پڑھا، ہندو ازم کو پڑھا، تورات کو پڑھا، بائبل کو پڑھا۔ مگر یہ مجھے معقول نہیں لگیں۔ میں نے قرآن ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ اور اِسے پڑھنا شروع کر دیا۔ 20 منٹ گزر چکے ہیں۔ اور، ٹھہرو، ذرا ایک سیکنڈ رکو۔ میں نے پچھلے 25 منٹ میں اُس لڑکی کے متعلق بالکل نہیں سوچا۔ یہ تو حیرت انگیز بات ہے۔ اور پھر میرے سامنے یہ آیت آئی۔ اُسے یہ کیسے معلوم ہوا؟ اُس نے میرا ذہن کیسے پڑھ لیا؟ اُسے یہ کیسے معلوم ہوا؟ السلام علیکم، برادر SQ۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر انتہائی خوشی ہے۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ برادر SQ کون ہیں؟ کیا آپ اپنی زندگی کے متعلق مختصراً بتا سکتے ہیں؟ اپنے بارے میں یہی کہوں گا کہ میں Bronx کا ایک یتیم بچّہ تھا، بالکل ایک عام سا لڑکا۔ نارمل سی شروعاتی زندگی تھی۔ زندگی میں بہت سی چیزوں سے گزرا، فیملی کے ساتھ، والد کے ساتھ۔ گھریلو تشدّد، بدسلوکی۔ میں دراصل ایک پناہ گزین ہوں۔ لوگ درحقیقت یہ بات نہیں جانتے، کیونکہ، میرے والد، سبحان اللہ، میری والدہ، میرے اور میری بہنوں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے تھے۔ ہم دو ہی بھائی بہن تھے۔ اُن کی بدسلوکی بڑھتی رہی، اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ ہماری زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔ ایک دن جب وہ سو رہے تھے، تو ہم بھاگ نکلے۔ میں 10 ستمبر، 2011 کو نیو یارک آ گیا۔ 9/11 سے کچھ گھنٹے پہلے۔ اور میں 9/11 کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، مگر اسنے میری زندگی بدل دی۔ مطلب، اگر آپ گورے نہ ہوں اور آپ دوسروں سے ذرا مختلف ہوں، تو پھر آپ نشانے پر ہیں۔ آپ کے ساتھ سب کچھ ہوتا ہے۔ جیسے، مجھے اسکول کا پہلا دن یاد ہے، ہر کوئی کہنے لگا، ’’یہ بن لادن کہاں سے آ گیا؟‘‘ کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا۔ وہ تو بچّے تھے۔ اُنہیں وہی پتہ تھا جو اپنے والدین سے سنا تھا یا جو خبروں میں آتا تھا۔ اُس وقت اسلامو فوبیا زیادہ تھا۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اب بڑھ گیا ہے، تو اُس وقت کا آپ کوبلکل علم نہیں ہے۔ اور میرا تعلق اسلام سے تھا۔ تو وہ واقعہ میرے لیے مشکلات پیدا کر رہا تھا، جبکہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ مجھے ایسی چیز کا الزام دے رہے تھے جس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں تھا، رائٹ؟ میں اُس سے منسوب ہونا بھی نہیں چاہتا تھا۔ کیونکہ اسلام اور دہشت گردی ایک ہی چیز کے دو نام تھے۔ اسلام اور دہشت گردی ایک ہی چیز ہے، میرا یقین تھا۔ ہاں، مسلم دہشت گرد ہیں۔ حالانکہ آپ مسلمان تھے۔ ہاں، میرا یہی خیال تھا۔ تو بچپن میں، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے میں اسلام سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ لوگ مجھ سے پوچھتے کہ تم کہاں سے ہو۔ میں انھیں یہ بتاتا کہ میں پورٹو ریکن ہوں۔ یا یہ کہہ دیتا کہ میں ڈومینی کن ہوں۔ یا میکسی کن ہوں، مگرپاکستانی ہوں، یہ نہیں بتاتا۔ نیو یارک میں، ہمارے اسکول میں میٹل ڈیٹیک ٹرز ہوتے تھے۔ مجھے اُن سے خوف آتا تھا۔ میں نے یقینی بنایا کہ میرے پاس کبھی کوئی ایسی چیز نہ رہے۔ کیوں؟ اگر بیپ بج گئی تو پھر سننے کو ملے گا، ’’اوہ، اِس کے پاس بم ہے۔‘‘ ’’یہ دہشت گرد ہے۔‘‘ یہ میرا نِک نیم تھا۔ ٹیرارِسٹ میرا نِک نیم تھا۔ آپ خود کو میری جگہ ایک 14 یا 15 سالہ لڑکے کی جگہ پر رکھیں۔ کیا تب آپ مسلمان رہنا چاہیں گے؟ بالکل نہیں۔ بالکل بھی نہیں۔ مسلمان ہونا میرے لیے ایسی چیز بن گئی تھی جس نے میری خوشیاں چھین لی تھیں۔ یہی میرے احساسات تھے۔ مسلمان ہونا میری زندگی مشکل بنا رہا تھا۔ میں اِس سے دُور رہنا چاہتا تھا۔ جو میرا نفس مجھ سے کہتا، میں کر جاتا تھا۔ اگر عورت کی طلب ہوتی، تو مل لیتا۔ نشہ چاہتا، تو کر لیتا۔ شروع میں تو اِس میں بہت مزہ آتا تھا مگر پھر طلب بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اور یہی وہ چیز تھی جس نے میری زندگی میں ڈپریشن پیدا کیا، میرے ڈپریشن نے مجھے بالکل تباہ کر دیا۔ یہاں تک کے میں خودکشی کرنےکا سوچنے لگا۔ یعنی اِس چیز نے مجھے اسلام سے دُور، بہت دُور کر دیا تھا۔ میری والدہ، سبحان اللہ، جب چل رہی ہوتی تھیں۔ تو میں اُنہیں آگے نکلنے دیتا ۔ تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ یہ میری والدہ ہیں۔ یہ بُری حرکت تھی۔ میں یہ سب باتیں فخر سے نہیں بتا رہا، بلکہ اس وقت کے اپنے احساسات اور حالت بتا رہا ہوں۔ میری والدہ مجھے بہت محبت سے پالتی تھیں، کیونکہ مجھے یاد ہے، ہم سرکش اور ضدی ٹین ایجر ہوا کرتے تھے۔ یہ چیز ہم میں تھی۔ اورجن چیزوں کی میں بات کر رہا ہوں، یہ جہالت اور حرام ہیں، جن سے میری ماں کو نمٹنا پڑتا تھا۔ جیسے، میں کلب میں ہوتا تو میری ماں ہی تھی جو رات بھر جاگ کرگزارتی تھی۔ جب آپ گھرپر نہ آئیں، لوگوں کواحساس نہیں ہوتا،واللہ ۔ اگر میں جنّت میں گیا، تو ماں کی وجہ سے جاؤں گا۔ میری ماں میرے لیے دعائیں کرتی تھی۔ اُس نے میرے لیے دعائیں کیں۔ وہ دعائیں کرتی تھیں، کہ ’’یا اللہ اِسے ہدایت دے۔‘‘ اور یہ کوئی رات بھر کا قصّہ نہیں۔ یہ مہینے بھر کی بات نہیں۔ اِس میں کئی سال لگے،اس میں وقت لگا۔ پتہ ہے، جب وہ یہاں آئی تھیں۔ اُن کے پاس کوئی باقاعدہ تعلیم وغیرہ کچھ نہیں تھی۔ وہ گیس اسٹیشن وغیرہ پر کام کیا کرتی تھیں۔ لیٹ نائٹ شفٹس میں۔ راتوں میں، برادر۔ راتوں میں۔ جب بد سے بدتر لوگ وہاں آتے ہیں۔ کام کرتی ہوئی ایک عورت۔ اور اُس کا بیٹا اُسے مجبور کرتا تھا کہ جو کچھ وہ کماتی ہے اس سے میری مرضی کی چیزیں خریدے۔ یہ کیا چیز تم مجھے دے رہی ہو؟ بچے ہنسیں گے اسکول میں میرے اوپر۔ یہ کیسے جوتے ہیں؟ اوہ، کاش تم پڑھی لکھی ہوتیں۔ یہ مجھے کیسی ماں مل گئی ہے؟ کچھ پڑھی لکھیں ہوتیں تو شاید ہمیں اچھی طرح پال لیتیں۔ تصوّر کریں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے، تمہاری ماں کیا کرتی ہیں۔ تو مجھے اپنی ماں پر شرمندگی ہوتی تھی۔ شرمندہ ہوتا تھا میں کہ دیکھو وہ کیا کرتی ہیں۔ ہمارے سروں پر چھت بھی نہیں دے سکتیں۔ اعوذ باللہ، میں کس قسم کا بیٹا تھا؟ اُن دنوں آپ کے سوچنے کا انداز کیسا تھا، کیا آپ اپنی زندگی کا تجربہ بیان کر سکتے ہیں؟ اور کیا آپ اُس لائف اسٹائل سے واقعی خوش تھے؟ آخرکار، میں ایک ایسی عورت سے ملا جو میرے خیال میں میری من چاہی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اُس کا ایک بوائے فرینڈ تھا۔ مگر اُس کے لیے الحمدللہ۔ چاہے وہ جہاں بھی ہو، جہاں کہیں بھی ہو، اللہ اُسے ہدایت دے، اور اُس پر رحم کرے۔ کیونکہ اِسی چیز کی وجہ سے میں اسلام کی طرف آیا۔ کیونکہ ہمارا تعلق ختم ہونے کے بعد، میرا دل اُس کی طرف زیادہ مائل ہونے لگا اور بہت زیادہ لگاؤ پیدا ہوا، میں سوچتا کہ اِس لڑکی کے ساتھ تعلق کب تک چلے گا؟ جب تک میرا دل اِس سے بھر نہیں جاتا، بُرو۔ اور مجھے لگے گا کہ اِسے ختم کرنا چاہیے۔ Towards Eternity میں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے، آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے، حرام چھوڑنے، نماز شروع کرنے، حجاب پہننے، قرآن سیکھنے جیسے اعمال میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور اِن تمام اعمال کے بدلے اجرِ عظیم پا سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ Towards Eternity کو عطیہ دیں اور اِس سنہرے موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ جب تک میرا دل اِس سے بھر نہیں جاتا، بُرو۔ اور مجھے لگے گا کہ اِسے ختم کرنا ضروری ہے۔ پھر ایک دن میں نے اُس کے ساتھ تعلق ختم کر دیا اور پھرمیں اپنے مالک کی طرف پلٹ آیا نشہ کرنے لگا،ایک بار پھر سے۔ لوگ ڈپریشن کی دوائیں کیوں لیتے ہیں؟ میں بتاتا ہوں کہ کیوں۔ کیونکہ آپ کے پاس سب ہوتا ہے۔ آپ کے پاس سب ہوتا ہے، سوائے اللہ کے۔ اصل میں کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ خالی ہاتھ ہیں، کیونکہ آپ کی زندگی میں اللہ نہیں ہوتا۔ تو میں ہائی وے پر ڈرائیونگ کر رہا تھا، تقریباً 75، 80 کی رفتار سے۔ پیر میں نے گراؤنڈ پر رکھ دیے، اور ہاتھ بلکل یہاں پر، اوراپنی آنکھیں بند کر لیں۔ پانچ۔ چار۔ تین۔ دو۔ ایک۔ میں اب بھی زندہ تھا۔ مجھے کسی حادثے کی تمنّا تھی۔ میں منتظر تھا کہ مجھے کچھ ہو جائے۔ کیونکہ میں تھک گیا تھا۔ میں کچھ نہیں چاہتا تھا۔ آپ اِس ڈپریشن سے کیسے نکلے؟ مجھے لگتا ہے کہ ڈپریشن سے نکلنے تک مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں ڈپریشن کا شکار ہوں۔ پھر مجھے لگا کہ میں طویل عرصے سے اس میں مبتلا تھا۔ مجھے اِس کیفیت کا انتہا پر جانا یاد ہے، جب یہ میری برداشت سے باہر ہو گیا تھا مجھ میں کوئی خوشی باقی نہیں رہی تھی، اور مجھے وہ وقت پوری تفصیل سے یاد ہے۔ میں شاور لے رہا تھا۔ میں باتھ ٹب میں تھا۔ پانی گر رہا تھا اور میں باتھ ٹب میں روئے جا رہا تھا۔ میں رو رہا تھا۔ باہر سے اگر آپ دیکھتے، تو جیسے میں نے بتایا، روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ میرے لیے عورتوں کی کمی بھی نہیں تھی۔ نشہ، شراب، پارٹیاں، شہرت، مقبولیت ہر وہ چیز جو میں نے سوچی اور چاہی تھی، رائٹ برو؟ میں مقبول ہونا، شہرت پانا چاہتا تھا۔ میں پارٹیوں کی جان ہوا کرتا تھا۔ جب میں داخل ہوتا تو سب کہہ اٹھتے، ’’یووو، وہ آ گیا!‘‘ ب مڑ کے دیکھتے!

میں اُن میں مقبول تھا۔ اور یہی شخص اپنے ٹوائلٹ میں بیٹھا رو رہا ہے، اپنے گھر جاتے ہوئے رہا ہے، اور خودکشی کرنا چاہتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی کی خودکشی کا سُن کر کہتے ہیں، ’’مگر میری ابھی تو اُس سے بات ہوئی تھی،تو بہت خوش تھا وہ۔‘‘ کیونکہ کوئی بھی اپنے خودکشی کے خیالات ظاہر نہیں کرتا۔ مگر شیطان آپ پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اُس کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ آپ خود کو قتل کر دیں۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ جہنم کا زبردست، VIP، تیز رفتار، فرسٹ کلاس ٹکٹ ہے۔ اسی طرح شیطان جیت حاصل کرتا ہے۔ تو میں اپنے باتھ ٹب میں بیٹھا رو رہا تھا۔ میری حالت بری تھی۔ اور میں مسلسل روئے جا رہا تھا۔ پھر اللہ تعالی نے دل میں بات ڈالی کہ میں اُس سے دعا کروں۔ مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ میں دعا کر رہا ہوں۔ میں نے بس اتنا کہا، ’’اگر اِس سے آگے بھی کچھ ہے، تو پھر مجھے اِس صورتحال سے نکال دو۔ ابھی اور اِسی وقت نکال دو۔ اورمجھے صحیح راستے کے اوپرڈال دو۔ ایسا راستہ جہاں مجھے پتہ ہو کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ کوئی رہنمائی، کوئی اشارہ دے دو، تاکہ مجھے یہ سب سہنا نہ پڑے۔ اگر نہیں، تو اِسے ابھی ختم کر دو۔ میں اب اِس طرح نہیں جینا چاہتا۔‘‘ تو الحمدللہ، اُس شاور نے میری زندگی بدل دی۔ تو میں باہر آیا اور اُسی وقت اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھے حوصلہ دیا۔ مگر اُس وقت مجھے اِس کا علم نہیں تھا۔ اللہ نے میرے دل میں بات ڈالی کہ میں پاکستان کا سفر کروں۔ میرا خاندان ہےوہاں ، تو کیوں نہ وہاں جاؤں؟ اوکے۔ بہترین۔ مجھے پتہ چلا کہ میری والدہ پاکستان جانے والی ہیں۔ خود اکیلی۔ میں نے کہا، ’’ مجھے بھی ساتھ لے چلیں،پلیز ۔‘‘ اور اُس وقت، میں نے محسوس کیا کہ مجھے زیادہ گہری اور معنی خیز چیز کی تلاش کرنی چاہیے۔ تو اب، میں نے مختلف ازمز کی کتابوں سے مدد لینے کا ارادہ کیا اور سوچنے لگا کہ میں اپنے احساسات کے اِس طوفان سے کیسے نمٹ سکتا ہوں۔ کیونکہ اب مجھے پتہ لگنے لگا تھا کہ یہ نارمل صورتحال نہیں ۔ یہ اِس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تو پہلی کتاب جسے میں نے دیکھنا شروع کیا تو اُس کا نام تھا “دی سیکرٹ” اس میں مظہر، مثبت انرجی، مثبت تھنکنگ، وغیرہ تھا، رائٹ؟ یونیورس۔ میری مدد کرویونیورس ۔ کائنات کو پکارنا، علامتیں اور اشارے دیکھنا...

ہوا چلتی ہے، یہ ایک اشارہ ہے۔ مطلب، یہ فضول سی باتیں۔ تو میں جان گیا کہ اِس میں خامیاں ہیں۔ کیونکہ اُسے پڑھنے کے باوجود، میرا ڈپریشن ختم نہیں ہو رہا تھا۔ اُس عورت کی سوچیں مجھ سے دُور نہیں ہو رہی تھیں۔ بلکہ وہ مسلسل آتی اور چھاتی رہیں لہٰذا مجھے وہ کتاب چھوڑنی پڑی۔ پھر ایک دن میں بُک اسٹور گیا اور مجھے بُدھ ازم پر یہ کتاب ملی۔ اِس کی ابتدا بدھ ازم کے سات اُصولوں سے ہوتی ہے۔ خوشی کے قوانین اور اس جیسی ساری چیزیں۔ میں نے مراقبے کی اِن تیک نیکس کی بہت زیادہ مشق کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ آنکھیں بند کریں اور اِن تمام سوچوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں، سانس پر اور اِن تمام چیزوں پر توجہ رکھتے ہوئے؟ مگر یہ سوچیں ختم نہیں ہوئیں، یہ تو اب بھی تمہارے اندر سرایت کر رہی ہیں۔ صرف مثبت سوچنا کافی ہے۔ اِس سے فائدہ نہیں ہوا۔ اُس موقع پر میں نے بائبل کو بھی چُنا۔ اور وہ تمام جینیسس کی کتابیں بھی پڑھنی شروع کر دیں۔ تو اُنہیں پڑھنے کے باوجود، مجھے یہ خامیاں نظر آ رہی تھیں۔ مگر اِس کے ساتھ ساتھ، اِن کا میرے دل پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ بالکل بھی نہیں۔ یہ مجھے محسوس ہونے والے ڈپریشن سے، اُس عورت کے خیال سے مجھے دُور نہیں کر رہی تھیں جو میری سوچوں پر حاوی تھی۔ میں اُسے اپنے ذہن سے نہیں نکال پا رہا تھا، بُرو۔ وہ 24/7 حاوی تھی دماغ پر۔ تب تک، میں تھک چکا تھا، میں بہت تھک چکا تھا۔ میں نے کہاکہ، یہ سب فضول باتیں ہیں۔ سب کچھ، یہ سب کچھ۔ بدھ ازم،یہ من گھڑت ہے۔ لوگ دوسروں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور مذہب سب کا سب جھوٹ اور فریب ہے۔ میرے دماغ میں یہ باتیں آ رہی تھیں۔ تو، اُس وقت تک میں ، اُس وقت تک میں پاکستان پہنچ چکا تھا۔ اور اچانک، رمضان بس دو دن بعد آنے والا تھا۔ تب میری والدہ میرے پاس آئیں اور مجھے کہا، ’’دیکھو، رمضان شروع ہونے والا ہے، اور تم روزے بھی رکھو گے۔ بس اِس میں نمازیں پڑھنے کی بھی کوشش کرنا کیونکہ اللہ تمہیں صرف بھوکا پیاسا رکھنا نہیں چاہتا۔ اُسے اِس کی ضرورت نہیں۔ نماز کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرنا۔ کیونکہ اگر تم واقعی اِس کے سارے فائدے پانا چاہتے ہو، تو نماز پڑھو۔‘‘ اب مجھے نماز پڑھنا تو آتی نہیں تھی۔ میری والدہ نے مجھے یہ باتیں کہیں اور اِن کا میرے دل پر کچھ اثر ہوا، کہ میں آپ کی طرح نماز پڑھوں گا۔ بہرحال میں نے سوچ لیا کہ روزے میں نماز پڑھوں گا۔ وہ پہلا روزہ تھا۔ اور میں نے اپنے فون پر قرآن ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ میں نے کتاب تک نہیں خریدی۔ جیسے دوسرے لوگ بک اسٹور سے ایسی چیزیں لیتے ہیں۔ میں نے سوچا، ’’ایپ ہی ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہوں۔‘‘ اور نماز کے بعد میں نے اُسے پڑھنا شروع کیا۔ بالکل شروع سے۔ سورۃ الفاتحہ۔ شروع میں، میں نے ویسے ہی جائزہ لیا۔ اسکرولنگ کرتا رہا، ’’اچھا، یہ تو کافی سارے چیپٹرز ہیں۔‘‘ ٹھیک ہے۔ شروع کر دیتا ہوں۔ الفاتحہ سے شروع کیا، اور اِسے پڑھا صرف انگلش۔کیوں کہ عربی نہیں جانتا تھا۔ بس پڑھتا گیا۔ پڑھتا رہا۔ پڑھتا رہا، پھر اگلے چیپٹر پہ گیا۔ سورۃ البقرۃ۔ اسے پڑھنا شروع کیا۔ واؤ!

20 منٹ گزر چکے ہیں۔ اور، ٹھہرو، ذرا ایک سیکنڈ رکو۔ میں نے پچھلے 25 منٹ میں اُس لڑکی کے متعلق بالکل نہیں سوچا۔ یہ تو حیرت انگیز بات ہے۔ آپ ذرا سمجھیں، میرے بھائی۔ یہ میرے لیے انکشاف تھا۔ ورنہ پانچ منٹ بھی ایسے نہیں گزرتے تھے کہ وہ لڑکی میرے دماغ پر سوار نہ ہو، جو میرے کام سے میری توجہ پھیر دیتی تھی۔ میں نے سوچا، ذرا ٹھہرو، یہ تو کمال ہو گیا۔ اور واللہ، میں قرآن کو صرف اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا تھا نعوذباللہ، صرف اُس لڑکی کو بھولنے اور اُس کی یاد سے پیچھا چھڑانے کے لیے۔ اپنی توجہ بٹانے کےلئے استعمال کر رہا تھا۔ قرآن استعمال کرنے کا میرا یہی مقصد تھا۔ قرآن میرے لیے ، میری ایکس کا خیال بھگانے کا ایک ذریعہ تھا بس۔ صرف اِس لیے پڑھتاتھا کہ اپنی ایکس کو بھول جاؤں۔ میرا اِسے پڑھنا ایساہی تھا جیسے ترکیب ہاتھ لگ گئی ہو۔ اِسے پایا تو ترکیب پا لی۔ اُسی دوران، اذان بھی ہوا کرتی۔ یعنی وہ نماز کا وقت ہوتا تھا۔ میں نماز پڑھ لیتا تھا کیونکہ میرے خیال میں پڑھنی چاہیے تھی۔ اور مجھ میں جوش بڑھنے لگا۔ میں قرآن پڑھتا تھا۔ میں سوچتا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ جب بھی میں قرآن نہیں پڑھتا تھا، تو میرا ڈپریشن واپس آ جاتا تھا۔ میری ایکس پھر ذہن پر سوار ہو جاتی تھی۔ وہ ہر وقت میرے دماغ پر چھائی رہتی ، اور مجھ میں پھر وہی احساسات پیدا ہونے لگتے۔ میں سوچتا کہ، نہیں، مجھے قرآن پڑھنا شروع کر دینا چاہیے۔ تو میں بیٹھ جاتا۔ لوگ باتیں کر رہے ہوتے۔ مگر میرا اُن پر دھیان نہیں جاتا۔ میں بس قرآن پڑھ رہا ہوتا۔ صرف ایک مقصد کے لیے اِسے پڑھتا رہتا کہ اُس لڑکی کا خیال نہ آئے۔ اُس کا ترجمہ، رائٹ؟ میں قرآن کے ترجمے کو صرف اپنی ایکس کو بھلانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ لہٰذا، میں پڑھتا رہا، پڑھتا رہا مگر ایسا کرتے ہوئے، اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) میرا دل آہستہ آہستہ کھول رہا تھا۔ کیونکہ میں مسلسل اُسے پڑھ رہا تھا، رائٹ؟ بہرحال میں بھی ایک انسان ہوں جو شعور رکھتا ہے، جو تھوڑا بہت سمجھ سکتا ہے، رائٹ؟ اور جو کچھ اللہ نے اُس قرآن کے ترجمےسے انگریزی ترجمے سے سکھانا چاہا۔ میں کوئی آیت پڑھنے لگتا اُس آیت کو پڑھتا، اور اُس کے بارے میں سوچنے لگتا، ’’اوہ، اِس بات سے اللہ کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟‘‘ ’’اِس آیت سے کیا مطلب نکلتا ہے؟‘‘ میں سوچوں میں گم ہو جاتا، اور جب میں اپنے فون کی طرف دیکھتا تو وہ آف ہوتا۔ اُس کا وال پیپر، اسکرین آف ہوتے۔ جب آپ اپنا فون کافی دیر تک یونہی پڑا رہنے دیں تو وہ آف ہو جاتا ہے۔ اور مجھے یاد ہے کہ اُس وقت فون کا آئیڈیل ٹائم 15 منٹ تھا۔ یعنی میں اپنے خیالات میں گم ہو جاتا تھا، اُس آیت پر غور کرتا رہتا15 منٹ تک۔ اور تب اپنے فون کو دیکھتا، تو اسکرین بلیک ہوتی۔ مجھے دوبارہ آن کرکے اپنا پاسورڈ ڈالنا پڑتا۔ میں سوچتا کہ ’’واہ، یہ تو کمال کی معلومات ہیں۔‘‘ اُس وقت، مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر کوئی کتاب واقعی خدا کی طرف سے ہے تو وہ یہی کتاب ہے۔ مگر مجھے اِس پر پورا یقین نہیں تھا۔ لہٰذا میں اِسے آزمانا چاہتا تھا، اعوذ باللہ، مگر میں اِسے آزمانا چاہتا تھا۔ میں کہتا، ’’اوکے، آج اِسے آزماؤں گا، آج میں قرآن نہیں پڑھوں گا۔ نماز نہیں پڑھوں گا۔ بس موج مستی کروں گا۔ روزہ ضرور رکھوں گا، موج مستی کے ساتھ مگر عبادت نہیں کروں گا۔‘‘ میرے بھائی، میں مذاق نہیں کر رہا، واللہ میں مذاق نہیں کر رہا، ابھی یہ سوچتےہوئے دس منٹ بھی نہیں ہوئے تھے اور میں شاور لینے گیا تو وہ تمام خیالات دوبارہ میرے اندر اُٹھنے لگے، ڈپریشن کی وہی لہر، اُس لڑکی کے متعلق تمام باتیں۔ وہ تمام باتیں میرے دماغ میں آنے لگیں۔ میں نے شاور لینا بند کیا، اپنا بدن صاف کیا، اور یہ کتاب پڑھنے لگا۔ یہ کتاب چابی ہے،یہ کتاب چابی ہے۔ میں اُسے پڑھ رہا تھا، اور اُس میں مزید سے مزید تفصیلات آ رہی تھیں۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ اللہ، خدا تعالیٰ نے کسی نہ کسی طریقے سے یہ کتاب نازل کی ہوگی۔ شاید روشنی کی صورت میں اتاری ہو، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا، اور اُنہیں دس احکامات دیے تھے۔ مجھے اِس کا ذریعہ، یعنی پیغمبر محمد (ﷺ) پر وحی نازل ہونے کا تصوّر نہیں معلوم تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ خدا کی کتاب ہے اور وہ ہمیں باتیں بتا رہا ہے۔ اور میں اِسے پڑھ رہا ہوں اور یہ مجھ پر اثر کر رہی ہے۔ اور پھر میرے سامنے یہ آیت آئی اور اِس آیت نے واقعی مجھے اپنی پوری زندگی گزارنے کے انداز پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اِس آیت میں کہا گیا تھا کہ ’’یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دِلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘ اُسے پڑھتے ہی ...

مجھے جھرجھری سی آ گئی۔ میں نے اپنا فون بند کیا۔ میں نے کہا، ’’مجھے یہ بند کرنا پڑے گا۔‘‘ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا تھا۔ وہ کیا تھا؟ اُسے یہ کیسے معلوم ہوا؟ اُس نے اِس طرح سے میرا ذہن کیسے پڑھ لیا؟ اُسے کیسے معلوم ہوا کہ اِس سے میرے دل کو اطمینان مل رہا ہے۔ اُسے کیسے معلوم ہوا؟ میں تب ایک نتیجے پر پہنچا۔ مجھے نہیں پتہ یہ کیسے نازل ہوا۔ مجھے اِس کے نازل ہونے کے ذرائع نہیں معلوم۔ میں اِس کے متعلق نہیں جانتا۔ مگر یہ خدا کا کلام ہے، بلا شک و شبہ۔ یہ خدا کا ہی کلام ہے۔ تو اب، رمضان ختم ہونے والا تھا۔ میرا سفر بھی ختم ہونے والا تھا۔ مجھے دوبارہ نیو یارک جانا تھا۔ مجھے دوبارہ ساری حقیقتوں کا سامنا کرنا تھا۔ وہاں کوئی ڈھال نہیں ہے۔ اِس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ میں قرآن سے اتنا کچھ پڑھ چکا ہوں اور میں شراب کے بارے میں وہ سب باتیں جانتا ہوں جو اِس میں لکھی ہیں، نشے کے متعلق باتیں جولکھی ہیں، زِنا کے متعلق جو بتایا گیا ۔ اور میں سوچنے لگا، ایک سیکنڈ رکو۔ مجھے سمجھنا چاہیے کہ میں ڈیڑھ مہینے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ میرے سارے دوست مجھے واپس دیکھ کر خوش ہوں گے۔ میرے پہنچتے ہی، وہ مجھے شراب پلانے کی کوشش کریں گے۔ مجھے نشہ کروانے کی کوشش کریں گے۔ وہ مجھے عورتوں میں لے جانے کی کوشش کریں گے، وہ چاہیں گے کہ پارٹی ہو۔ اور تب میں سوچنے لگا کہ مجھے خود سے کچھ وعدے کرنے ہوں گے، اوکے؟ پہلا وعدہ یہ ہےکہ : جب میں واپس جاؤں گا، تو میں نماز نہیں چھوڑوں گا۔ یہ نماز، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے، مگر اِس نماز میں کوئی طاقتور چیز ہے۔ اِس کے بعد، میں قرآن پڑھنا نہیں چھوڑوں گا۔ ترجمہ۔ میں اِسے پڑھنا نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ میں ڈپریشن سے نکلنے اور اُس لڑکی کو بُھلانے میں مدد دینے والی اِن دونوں چیزوں کو آپس میں لنک کر چکا تھا۔ اللہ نے میری مدد کی۔ نہیں پتہ تھا کیا کروں گا۔ واپسی پر لوگ خوش ہونگے۔ مجھے فن پر لے جانا چاہیں گے۔ اِس طرح کی چیزیں کریں گے۔ جب میں وہاں پہنچوں گا تو، ’’یووو، تمہاری تھکن اتارتے ہیں۔‘‘ چلو سگریٹ پیتے ہیں۔ ’’مجھے پتہ ہے، برو۔ آؤ، آؤ، آ ؤ۔‘‘ جاتے ہی کہیں گے، ’’یووو، گھونٹ لگاؤ۔‘‘ وہ جام انڈیلیں گے۔ ’’ساری شراب 3 پر۔ 3-2-1!‘‘ اور میں، ’’ارے میں نہیں پی سکتا۔‘‘ وہ کہیں گے، ’’تم نے اپنا گلاس نہیں پیا۔ ہاتھ تک نہیں لگایا۔ رکھوالی کررہے ہو، کب تک،کب تک پکڑ کر بیٹھے رہو گے پی جاؤ، کم آن۔‘‘ مجھے نہیں پتہ میں اُنہیں کیسے بتاؤں گا۔ میں خود کو لوزر محسوس کروں گا۔ لیم (lame) محسوس کروں گا۔ ’’گائز، میں مزید نہیں پینے لگا۔‘‘ لہٰذا میں نے یہ نہیں کیا۔ اور کہا، ’’میری طبیعت ٹھیک نہیں، گائز۔ میرا معدہ۔ اصل میں ابھی فلائٹ سے آیا ہوں ناں۔ اِس لیے شاید طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘ اوکے۔ دوسری دفعہ جب میں اُن کے ساتھ تھا تو یار!

سگریٹ پیتے ہیں۔ آؤ، چلو۔ ابھی چلو۔ گائز، میری طبیعت اب بھی ٹھیک نہیں ہوئی ہے اور اِسی طرح کے بہانے ۔ اوکے، کُول۔ تیسری بار، اُنہوں نے بلانا چھوڑ دیا۔ اُنہوں نے بلانا ہی چھوڑ دیا۔ میں اُنہیں برا اور بورنگ لگنے لگا۔ مگر میرا ایک اور دوست تھا، اُسے میں نےسب کچھ سچ بتا دیا۔ مجھے یاد ہے میں کار میں تھا۔ میں نے کہا، ’’برو...

اُس نے مجھ سے پوچھا تھا۔ دوسروں نے نہیں پوچھا تھا۔ اُس نے پوچھا تھا، ’’برو، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے شراب چھوڑ دی ہے۔ عورتوں کے حوالے سے بھی تمہارا رویہ پہلے سے بدل گیا ہے۔ سب ٹھیک تو ہے ناں؟ سب ٹھیک ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’برو، میں اسلام کے متعلق جان رہا ہوں۔ میں قرآن پڑھ رہا ہوں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لیے اب ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ کہنے لگا، ’’واقعی؟‘‘ اور میں نے سوچا کہ اب مجھے اس کے سامنے بے پناہ شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ مگرمجھے حیرانی ہوئی کہ وہ اِس سے اِمپریس ہوا۔ مگر کسے پتہ کہ جب آپ یہ باتیں دوسروں کو بتاتے ہیں تو وہ بھی اِس پر غور کرنا شروع کر دیں۔ کہ مجھے اِس سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ مطلب...

میں نے محسوس کیا کہ اِن تمام حرام چیزوں پر پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ تم اللہ کی ناراضگی کما رہے ہو۔ اس کی ناراضگی پر خرچ کر رہے ہو۔ اس سے صرف جہنم ہی نہیں مل رہی بلکہ نشے پر، عورتوں پر ویپ پر پیسہ برباد ہوتا ہے۔ مگر دعا مفت ہے، نماز مفت ہے، رائٹ؟ تہجد مفت ہے، قرآن پڑھنا مفت ہے۔ ذکر مفت ہے۔ کم آن۔ ہم حرام کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ اِن سب چیزوں کی ادائیگی کر رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اِس کا حل بالکل مفت رکھا ہے۔ اور یو نو، وہ اب بھی میرا دوست ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ ہم اب بھی گھوم پھر سکتے ہیں، تم بس ایک وِنگ مین ہوگے۔ تم ہمارے ڈرائیور ہوگے اور ہم ساتھ اچھا وقت گزاریں گے۔ اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں، کیونکہ ہمیں پتہ ہے تم صحیح اور اچھے انسان ہو۔‘‘ میں نے کہا ، ٹھیک ، کُول۔ میں بھی گھر پر رہ کر کیا کروں گا؟ تو میں بھی اُن جگہوں پر جانے لگا۔ میں پھر اُن بارز اور کلبز میں جانے لگا۔ مگر اب میں کوئی نشہ نہیں کرتا تھا۔ اب میں ایسا کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ میں اُن بارز میں، اُن کلبز میں جاتا تھا۔ اعوذ باللہ، میں اب پیتا پلاتا نہیں تھا۔ بلکہ، میری حیثیت ایک ڈرائیور کی تھی۔ اور میں اُن سب لوگوں کو دیکھتا، اور وہ سب گندگی کے ڈھیر نظر آتے۔ جیسے سارے ہیپناٹائزڈ ہوں۔ جیسے سب کسی کے اشاروں پر چل رہے ہوں۔ وہ سارے ایک جیسا گویا ایک جیسا نظر آنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ اور وہ سب ایک ہی مقصد سے وہاں آتے تھے۔ میں نے سوچا کہ مجھے یہاں کھڑا بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بہت بری جگہ ہے۔ میں نے کہا، ’’برو، تم لوگ اپنا کام کرو، میں باہر جا کر انتظار کروں گا، میں یہاں نہیں...‘‘ اللہ نے اس سے میرا ایسے دل پھیر دیا کہ مجھے یہاں کھڑے رہنا بھی گوارا نہیں۔ تو میں بار کے باہر بینچ پر بیٹھ گیا۔ ایک عورت آئی اور میرے برابر میں بیٹھ گئی۔ وہ وہاں بیٹھی تھی۔ اور اُس کے ساتھ میری بھرپور گفتگو ہوئی۔ وہ مجھ سے بات کر رہی تھی، اور میں اُسے اسلام سے متعلق بتانے سے رہ نہ سکا۔ میں نے کہا، ’’میں اِس چیز کے بارے میں پڑھ رہا ہوں اور یہ قیامت کے دن کے بارے میں ہے، اور اِس کے بعد ایک جنّت ملے گی۔ اور جب مر جائیں گے تو،تو ہم جنّت میں جائیں گے، ہم اِن سارے مسائل سے نکل جائیں گے۔ وہ بڑی خوبصورت جگہ ہے۔ اور ایک خالق ہے اور وہ اکیلا ہے۔ اور ہم اُس کے پاس لوٹ کر جائیں گے، اُس نے ہمیں یہ زندگی دی ہے اور وہ ہمیں آزماتا ہے۔‘‘ اور اِسی طرح کی چیزیں، اور یہ تمام چیزیں کیسےہیں،اور یہ تمام چیزیں کیسے ہمیں ہمارا اصل مقصد اور اصل فطرت بھلا سکتی ہیں۔ یہ ہماری توانائیاں چھین رہی ہیں۔ یہ ہمیں ہماری بہترین شخصیت بنانے سے روک رہی ہیں۔ اور پھر پتہ ہے کیا ہوا، وہ رونے لگی۔ بار کے باہر وہ عورت بار کے باہر رونا شروع ہو جاتی ہے۔ کہنے لگی، ’’ خوبصورت بات ہے‘‘ میں نے کہا،’’ رائٹ؟‘‘ کہنے لگی، ’’میں ایک سوال پوچھتی ہوں۔‘‘ میں اس سے پورےوقت بات کرتا رہا، پورا وقت اسلام کے بارے میں بولتا رہا۔ ’’مجھے ایک بات کا جواب دو۔‘‘ میں نے کہا، ’’کہیں‘‘۔ کہنے لگی، ’’تم اِس پر یقین رکھتے ہو۔ سچ؟‘‘ میں نے کہا، ’’ ہاں‘‘۔ کہا، ’’پھر تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ پتہ ہے میں نے کیا جواب دیا۔ مجھے نہیں پتہ۔ میں نے کہا، ’’مجھے نہیں پتہ‘‘۔ کہنے لگی، ’’تم اِس جگہ اچھے نہیں لگتے۔‘‘ تمہارا تعلق یہاں سے نہیں ہے۔ اور وہ آخری مرتبہ تھا کہ میں بار گیا۔ اور اللہ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تمہارے لیے وہ جگہ نہیں ہے۔ میں بس گھر جانا اور قرآن پڑھنا چاہتا تھا۔ بس اتنا ہی چاہتا تھا۔ قرآن کا ترجمہ پڑھنا جاری رکھنا، اور اس ایکس کا خیال چھوڑ دینا ۔ جب اِس طرح کے لمحات سے میرا سامنا ہونے لگا تو میں نے پتہ ہے کیا محسوس کیا؟ میری ا زندگی کو ایک مختلف تبدیلی کا حق اور ضرورت ہے۔ اگر میں اِس راستے پر رہنا چاہتا ہوں، تو مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا ہوگا جو میری ہی طرح سوچتے ہیں اور اِسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں کا علم نہیں تھا مگر جب میں نے مسجد جانا شروع کیا تو ایسے لوگوں سے ملا جو میری طرح سوچتے تھے، اور ایسی ہی باتوں پر یقین رکھتے تھے۔ میں نے سوچا، واؤ، یہ تو زبردست ہو گیا۔ انھیں لوگوں کے ساتھ تو رہنا چاہتا تھا۔ تو مختصر، لیکن بھرپور تفصیل کے ساتھ یہ میری زندگی کی کہانی تھی، الحمدللہ۔ اللہ میرے دل اور میری زندگی میں اسلام لایا اور اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھے ہلاکت سے نکالا۔ اور دعا ہے کہ اللہ اسی راستے پر چلاتا رہے، کیونکہ دوبارہ اِن چیزوں میں پڑ جانا اور شراب کا نشہ اور سگریٹ کی لت لگنا اور عورتوں کے جال میں آنا بہت آسان ہے۔ اور جو کوئی بھی اِس وقت میری بات سن رہا ہے، اِس قسم کے دوستوں اور ماحول سے دُور رہیں۔ کیونکہ ہمارے لیے، اِس جاہلانہ لائف اسٹائل میں رہنا بائیک چلانے جیسا ہے۔ ہم بہت تیزی سے اس طرف پلٹ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنا ماحول بدلنا ہوگا، اِس قسم کے لوگوں سے دُور ہجرت کرنی ہوگی۔ بالکل ایسے ہی جس طرح 99 لوگوں کے قاتل نے ہجرت کی تھی اورپھر اُس نے 100 ویں کو بھی قتل کر ڈالا تھا اور پھر ایک عالم سے مشورہ مانگا۔ عالم نے کہاکہ، ’’اللہ تمہیں معاف کر دے گا، مگر تمہیں ہجرت کرنی ہوگی۔‘‘ اِس ماحول سے چلے جاؤ۔ ایک برانڈ نیو زندگی شروع کرو۔ ایسے لوگوں کے ساتھ جنہیں تمہارے ماضی کا پتہ نہ ہو، جو تمہیں اِس کی یاد نہ دلا سکیں۔ کیا ہوا بُرو؟ تم نے شراب چھوڑ دی۔ تم نے سگریٹ چھوڑ دی۔ نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔ بس ایک دفعہ آ جاؤ،آ جاؤ، بُرو، آ جاؤ،آجاو ۔ صرف میرے لیے،آجاؤ، آجاؤ۔ آپ کو اِس زندگی سے دُور ہونا پڑے گا۔ صرف اِسی طریقے سے آپ اِس ماحول سے دُور ہو سکتے ہیں۔ ایک فریش شروعات کریں۔ اپنے ارادوں کو بدلیں۔ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) سے تعلق جوڑیں۔ خود سے کچھ وعدے کریں اور اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کی طرف پلٹ جائیں۔ اور واللہ، یہ کام مشکل ہوگا، مگر اللہ ا آسان بنا دے گا، ان شاء اللہ۔ تو اِس کے بعد پھر آپ کی زندگی کا مقصد کیا بنا؟ پھر آپ نے بھرپور انداز میں دعوت دینا شروع کی۔ کیا آپ ہمیں اُن دنوں کے متعلق بھی بتا سکتے ہیں؟ جیسے آپ کےاپنے پاس موجود کسی چیز سے عشق ہو، تو آپ اُس کے بارے میں بات کرتے نہیں تھکتے، رائٹ؟ یہ فطری بات ہے کہ ہمیں جب کسی چیز سے محبت ہوتی ہے تو ہم اِس کی ریسرچ کرتے ہیں۔ یہ ہماری فطرت میں ہے کہ جب کسی چیز کو اہم جانتے ہیں تو اُس کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ہر ایک بات کو کھوجتے ہیں ہمیں اُس سے محبت ہوتی ہے۔ جب میں نے اسلام کے بارے میں جاننا شروع کیا، تو الحمدللہ۔ الحمدللہ۔ ماشاء اللہ۔ اللہ کے حکم سے، اُس نے یہ محبت میرے دل میں ڈال دی۔ مجھے اِس سے محبت ہو گئی کیونکہ میں جان گیا تھا کہ یہ کتنا پریکٹیکل اور کتنا اثر انگیز ہے۔ کیونکہ ذاتی طور پر، اسلام نے مجھے ڈپریشن سے باہر نکالا۔ اسی نے مجھے دلدل سے نکالا۔ قرآن کے ترجمے نے، قرآن کے پڑھنے نے۔ اِس نے مجھے ڈپریشن سے باہر نکالا۔ میں اپنے تجربے سے جانتا تھا کہ یہ کتنا طاقتور ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ کتنے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں، جنہیں جانے انجانے میں اِس دوا کی ضرورت ہے۔ اُنہیں اِس علاج کی ضرورت ہے۔ اور اگر اللہ اِسے ساری دنیا تک پہنچانے کے لیے مجھ سے کام لے لے، تو زندگی کا اِس سے بڑا کیا مقصد ہوگا؟ اگر یہی مقصد ہے، تو اللہ مجھے استعمال کرلے، مجھ پر اپنی عنایتیں جاری رکھے۔ اور مجھ سے یہ دین پھیلانے کا کام لے لے اور اِسے ہر گھر میں داخل فرما دے۔ اِس ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئے کتنے سال ہو گئے؟ میرا خیال ہے 12 سال ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ۔ میں ابھی تک بچّہ ہی ہوں۔ میں ابھی بھی 12 سال کا ہوں۔ مگر ہاں 12 سال ہو گئے۔ کتنے ہی اتار چڑھاؤ آئے۔ آج بھی آ رہے ہیں۔ مگر الحمدللہ، ہم دین پر ہیں، ہم توحید پر ہیں اور یہی سب سے اہم بات ہے۔ آپ اب بھی پھسل سکتے ہیں۔ بگڑ سکتے ہیں۔ ایک ہی رات میں جاہلیت کے سالہا سال چھوڑ دینا آسان نہیں۔ آپ کو آزمایا جائے گا۔ مگر اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) رحیم ہے۔ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) آپ کو معاف فرما دے گا۔ لہٰذا اگر آپ بھی اِس جاہلیت کے فیز سے گزرے ہیں تو آپ پھسل سکتے ہیں، مگر اللہ آپ کو معاف فرما دے گا۔ شیطان آپ کو قائل کرے گا کہ وہ معاف نہیں کرے گا۔ شیطان آپ کو کہے گا کہ آپ کا کھیل ختم ہو گیا۔ کہے گا، بُرو، تم دوغلے ہو۔ تم منافق ہو۔ اللہ توبہ کرنے والے گناہ گار سے محبّت کرتا ہے۔ لہٰذا اللہ سے توبہ کرتے رہو۔ وہ آپ کو اِس سے پاک کر دے گا۔ اپنی کہانی خلوص کے ساتھ ہم سے شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔ ہم نے آپ سے بہت کچھ سیکھا۔ ہمیں آپ کی کہانی سے بہت حوصلہ ملا ہے۔ اللہ آپ کو اُن تمام کاموں کا اجر دے جو آپ نے اِس اُمّت کے لیے کیے ہیں۔ آپ کا بھی بے حد شکریہ اور تمام دیکھنے والوں کا بھی۔ اللہ آپ سب پر اپنا کرم کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کے درجات بلند کرے۔ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) آپ کے چینل کو ترقی دے اِس چینل کو ضرورسبزسکرائب کریں۔
