# "Main Saudi Arabia Christianity Phailanay Gayi, Lekin Khud Muslim Ban Gayi" – Missionary Ki Kahani

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/i-went-to-s-arabia-to-preach-christianity-but-i-became-muslim-missionary-converted-to-islam
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=q-wTQ7f1_Zc
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

ہماری پوری زندگی چرچ کے گرد گھومتی تھی۔ میں کہوں گی کہ Jesus میرے بہترین دوست تھے۔ میں کام کے سلسلے میں سعودی عربیہ گئی۔ اور میرا ارادہ انہیں عیسائیت سکھانے کا تھا۔ ہر طرف سے اذانیں سن کر دل دہل گیا، واو، یہ واقعی بہت اثرانگیز ہے۔ مجھے جھٹکا لگا۔ یہ کیفیت پہاڑ کی چوٹی پر طاری ہوئی اور میں اسے بیان نہیں کر سکتی۔ میں دوڑ کر قریبی ہوٹل ڈھونڈنے لگی، تاکہ اپنے خاندان کو فون کر کے بتا سکوں۔ کہ اس سرزمین میں کچھ تو ہے۔ اس مٹی میں کوئی راز ہے، وہی مٹی جہاں سے شاید انبیاء اٹھائے گئے۔ جو ہمیں امریکہ میں محسوس نہیں ہوتا۔ جب میں نے قرآن میں سورۃ مریم پڑھی تو میں نے کہا، "واہ، یہ سب تو بائبل میں ہے ہی نہیں۔" میں رات کو سوتی اور صبح جاگتی اور کہتی، "یہی سچ ہے۔" جب اللہ آپ کو کچھ بتاتا ہے تو پھر آپ کو اس کی پیروی کرنی ہوگی۔ میں گھر واپس تو عیسائی ہی گئی لیکن کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ السلام علیکم، سسٹر ڈیزی۔ ہماری دعوت قبول کرنے اور یہاں آنے کے لیے بے حد شکریہ۔ Towards Eternity میں، ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں بتائیے سسٹر ڈیزی کون ہیں؟ کیا آپ مختصراً اپنی زندگی سے متعلق بتائیں گی؟ وعلیکم السلام برادر۔ مجھے یہاں مدعو کرنے کا شکریہ۔ میرا نام ڈیزی ہے اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔ میں کیلیفورنیا، جنوبی کیلیفورنیا میں پلی بڑھی۔ میں نے اپنا زیادہ وقت سمندر میں سرفنگ، اور گھڑ سواری میں گزارا۔ میرا خاندان کیتھولک تھا۔ ہم ایک مذہبی آئرش کیتھولک خاندان میں پروان چڑھے۔ میری بہن دراصل تھرڈ آرڈر کارمیلائٹ نن تھی۔ میرے چند چچا پادری ہیں۔ میں نے تقریباً 20 سال پہلے اسلام قبول کیا، اور الحمدللہ تب سے اب تک بہتر مسلمان بن رہی ہوں، ان شاء اللہ۔ ایمان کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کس پر ایمان رکھتی تھیں؟ اس وقت کا ماحول کیسا تھا؟ اس سے پہلے، میں ہمیشہ jesus یا مریم سے دعا کرتی تھی، اور روزاری پڑھتی تھی، یعنی یہ تسبیح جیسی ہوتی ہے۔ لیکن یہ مریم سے دعا کرنا ہوتا تھا، جو بالکل مختلف تھا۔ اور میرا jesus کے ساتھ ایک رشتہ بن گیا تھا۔ میرے خاندان نے چند چرچ بھی تعمیر کیے۔ ہماری پوری زندگی چرچ کے گرد گھومتی تھی، کیٹیكزم، CCD، کنفرمیشن کلاسز جانا، نوجوانوں کو تعلیم دینا، اور اسی طرح کی سرگرمیاں۔ اس وقت میری سب سے اچھی سہیلیاں ننز تھیں، سو۔۔۔ مجھے سکھایا گیا تھا کہ jesus خدا ہے، اور یہ تین ایک ہیں یعنی Jesus ، روح القدس، ٹرینٹی کا تصور، ظاہر ہے، کیونکہ ہم کیتھولک تھے۔ میں کہوں گی کہ ہمیں سکھایا گیا تھا کہ jesus میرے بہترین دوست ہیں۔ ہم ہر چیز کے لیے انہی پر انحصار کرتے اور ہر وقت ان سے بات کرتے رہتے۔ ایسی کون سی بات تھی جس نے آپ کو اپنے عقائد پر شک کرنے پر مجبور کیا؟ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اگر وہ خدا ہیں تو وہ مر کیوں رہے تھے؟ خدا نہیں مرتا۔ میں ہمیشہ یہ بات سمجھنے سے قاصر رہی۔ خدا اپنے بیٹے کے ساتھ ایسا کیوں کرے گا؟ اگر وہ خدا کا بیٹا ہے تو پھر اسے تکلیف کیوں دی؟ خدا نے اسے بچایا یا واپس کیوں نہیں بلا لیا؟ میں بچپن میں یہی سوچا کرتی تھی۔ کیسا خدا ہے جو اپنے بیٹے کے ساتھ ایسا سلوک کرے یا ہونے دے؟ یعنی صلیب پر چڑھائے جانے اور ٹرینیٹی کے بارے میں بہت سی باتیں تھیں، جو میری سمجھ سے باہر تھیں۔ آپ کا اسلام کی جانب سفر کیسے شروع ہوا؟ میں کہوں گی جب میں سعودیہ عرب گئی۔ میں وہاں امریکن ایمبیسی میں کام کر رہی تھی جہاں مجھے ایمبیسی کے عملے کے لیے ایک چائلڈ کیئر قائم کرنا تھا۔ میں وہاں گئی، لیکن ساتھ ہی اپنے پادری کے ساتھ بھی کام کر رہی تھی۔ اور جب میں نے انہیں بتایا کہ میں وہاں جا رہی ہوں تو انہوں نے کہا، "یہ عیسائیت کو وہاں پہنچانے کا بہترین موقع ہے، کیونکہ ہمیں وہاں داخلہ نہیں ملتا۔" اس زمانے میں عیسائیوں کے لیے وہاں جانا واقعی بہت مشکل تھا۔ تو انہوں نے کہا، تم یہ کام کر سکتی ہو ہم تمہیں عربی میں ترجمہ شدہ بائبل دیں گے اور تمہیں سب سامان مہیا کریں گے۔ تم وہ شخص بن سکتی ہو جو انہیں jesus کی محبت کے بارے میں سکھائے گی کیونکہ وہ اس سے واقف نہیں ہیں۔ یہ ایک بہت غیر مہذب معاشرہ ہے اور ان کو کچھ پتا نہیں۔ لہذٰا انہیں یسوع کی محبت اور مریم کو جاننا ہوگا۔ اسی نیت سے میرا سفر شروع ہوا۔ میں اسی مقصد سے وہاں گئی۔ اور جب مجھے سعودی لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا، تو میں نے محسوس کیا کہ اگرچہ مجھے قرآن کا کچھ علم نہیں تھا، لیکن انہیں بائبل کا علم تھا۔ وہاں بہت لوگ بائبل جانتے تھے۔ وہ سکھائی گئی تعلیمات سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں jesus کے بارے میں مجھ سے زیادہ معلوم تھا۔ جب میں ان کو jesus کے معجزات بیان کرتی، تو وہ الگ معجزات بیان کرتے۔ انہوں نے بچپن میں بولنے کے معجزے کا ذکر کیا، اور پھر دوسرے معجزات بھی سنائے۔ پھر انہوں نے Mary کا ذکر کیا۔ وہ مجھے سورۃ مریم کے بارے میں بہت خوبصورت باتیں بتاتے، اور کھجور کے درخت، دوران زچگی وہ اس سے کھجوریں حاصل کر رہیں تھیں۔ اور میں سوچتی، "ارے، یہ سب تو بائبل میں ہے ہی نہیں!" اور یہ وہی ہیں جنہیں ہم خدا مانتے ہیں، جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں، یہی ہمارے مسیحا ہیں، یہی یسوع مسیح ہیں۔ تو یہ سب کچھ میرے لیے ایک جھٹکے کی طرح تھا، جس نے مجھے جگایا۔ میرے لیے اپنی بات قائم رکھنا مشکل ہو گیا، اتنا مشکل کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی، اور کبھی کبھارتو میں بھی دنگ رہ جاتی۔ مجھے کہنا پڑتا، "رکو، میں چرچ فون کر کے پوچھتی ہوں۔" اور میں گھر فون کر کے پوچھتی، "یہ کیا ہے؟ یہ کیا معجزہ ہے؟" وہ کہتے، "ایسا کوئی معجزہ نہیں ہے، jesus نے بچپن میں بات نہیں کی۔" میں کہتی، "نہیں، انہوں نے کہا ہے، یہ ان کی کتاب میں لکھا ہے۔" اور وہ حیران ہوتے، "کیا؟!" یعنی انہیں بھی علم نہیں تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب نہ لوگ مجھے جانتے تھے نہ ہی انٹرنیٹ موجود تھا۔ یہ 80 کی دہائی کی بات ہے، تب ہمارے پاس سیل فونز وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ یعنی، اس وقت جاننے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں تھا۔ جب آپ پہلی بار سعودی عریبیہ گئیں تو کیا آپ نے کعبہ دیکھا؟ میں نے دوبارہ فون کیا، اپنے گھر، چرچ اور پادری کو، اور کہا، "یہاں عین وسط میں ایک ڈبہ سا ہے جس کے گرد لوگ چکر لگا رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ میں بھی جاؤں۔" میں نے یہی کہا، معاف کیجیے گا، کیونکہ میں نہیں جانتی۔ "یہ لوگ گول چکر لگا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں بھی دیکھوں۔" تو میرے پادری نے کہا، "نہیں، نہیں، نہیں، یہ لوگ غلط ہیں۔ یہ ابراہم کا گھر نہیں ہے، نہیں نہیں، یہ جگہ ہی غلط ہے۔ مت جانا، یہ بالکل بے معنی بات ہے۔" اور میں نے کہا، "اچھا، شکریہ۔" مجھے ڈنرز پر بلایا جاتا، مختلف ڈنزر پر اور گھومنے پھرنے کی جگہوں پر۔ اکثر نماز کا وقت ہوتا تھا۔ اذان ہوتی، تو میں اپنی روزاری نکالتی، اور وہ بھی اپنی تسبیح نکالتے، اور ہم دونوں۔۔۔ اسی طرح یہ سب شروع ہوا۔ میں نے پوچھا، "کیا آپ کو روزاری کا پتا ہے؟ کبھی سنا ہے اس کے بارے میں؟" تو وہ کہتے، "سیم، سیم۔" کیونکہ ہماری انگریزی اور عربی کمزور تھے۔ بس وہ کہتے، "سیم، سیم۔" میں نے کہا، "ٹھیک ہے، تو ہمارے پاس سیم، سیم ہے۔" پھر میں ان سے jesus کے بارے میں بات کرنے لگی۔ وہ بولے، "ہم جانتے ہیں عیسیٰ کو۔ عیسیٰ، عیسیٰ بن مریم۔" اور میں حیران رہ گئی، "کیا؟" آپ لوگ ان کا مختلف نام لے رہے ہیں، مگر شاید شخصیت ایک ہی ہے۔ اور پھر مجھے پتا چلا کہ شاید یہی ان کا اصل نام ہے۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ مجھے کہا گیا تھا کہ وہ Jesus کو نہیں جانتے۔ مگر مغربی دنیا میں ہمیں جو سمجھایا جاتا ہے، وہ کچھ اس طرح ہے کہ، "عورتیں ظلم کا شکار ہیں، دباؤ میں ہیں، وہ باہر نکلنا چاہتی ہیں، ان کے پاس کوئی اختیار نہیں وغیرہ۔" مجھے لگا کہ مریمؑ کے معاملے میں بھی کہانی کچھ اور ہی تھی۔ یہ کہ عورتیں دباؤ میں نہیں تھیں۔ نہ ہی ان پر ظلم ہو رہا تھا۔ انہیں وہاں رہنا پسند تھا وہ اپنی زندگی سے خوش تھیں۔ انہیں سب کچھ پسند تھا، اپنی زندگی، اپنے اطراف سب کچھ۔ اور مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کیونکہ میں سوچ رہی تھی کہ، "بیچاری خواتین، انہیں Mary کو جاننا چاہیے تاکہ یہ آزاد ہو سکیں۔" لیکن وہ دباؤ میں نہیں تھیں۔ بلکہ خوش تھیں۔ شاید ہم سے زیادہ خوش تھیں، میں تو یہی کہوں گی۔ میں امریکی خواتین کو اسی طرح سمجھایا کرتی تھی کہ وہ زیادہ آزاد تھیں، ان کی زندگی واقعی بہتر تھی۔ جو کچھ میں نے یہاں سیکھا تھا، وہاں جا کر رہی تو سب الٹ نکلا۔ بالکل مختلف۔ لوگ بہت ہی شفیق، مہربان، محبت کرنے والے، مہمان نواز اور فیاض تھے۔ اور وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ نماز میں بہت پابند تھے۔ دن میں پانچ بار نماز پڑھتے، چاہے کچھ بھی ہو۔ میں واپس تو عیسائی ہی آئی، لیکن کچھ بھی ویسا نہ رہا۔ یوں لگا جیسے وہاں میرے دل میں ایک بیج بو دیا گیا ہو۔ اور وہ بیج کبھی ختم نہ ہوا۔ جتنا میں نے کوشش کی، اور یہ ایک طویل آزمائش تھی۔ Towards Eternity میں ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا ازم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے، آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے، حرام کام چھوڑنے، نماز شروع کرنے، حجاب پہننے، قرآن کی تلاوت سیکھنے اعمال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور اِن تمام نیک اعمال کہ بدلے اجرعظیم پا سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ Towards Eternity کو عطیہ دیں اور اِس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ میں نے ایک فلم دیکھی، کچھ مناظر دیکھے میری ایک دوست کے پاس "دی میسج" نامی فلم تھی، اور میں نے اس کا آدھا حصہ دیکھا۔ یہ محمد ﷺ کے بارے میں تھی۔ اور میں حیران ہوئی، "محمد؟ میں نے تو کبھی سنا نہیں۔" یہ کافی پرانی بات ہے۔ میں سوچنے لگی، "یہ محمد کون ہے؟" اور میں وہ فلم دیکھتی رہی، اور فلم سے محبت ہو گئی۔ میں اتنی پرجوش ہو گئی کہ دوڑی دوڑی گھر گئی۔ میں نے کہا، "فلم روکو، میں واپس آتی ہوں، مجھے اپنے گھر والوں کو لانا ہے۔" میں دوڑتی ہوئی اپنے ماں باپ اور خاندان کو بتانے گئی، اور مجھے ادھر جانے سے روک دیا گیا۔ میں فلم کا دوسرا حصہ کبھی نہیں دیکھ سکی۔ پھر میں نے اپنے والدین کی بات مانی اور واپس چرچ چلی گئی۔ لیکن وہ چیز میرے دل میں بیٹھ گئی۔۔۔ کہ "یہ محمد نام کا شخص کون ہے؟" جب میں واپس آئی تو میرے خاندان نے مجھے راہبوں کے پاس لے جانا شروع کیا کیونکہ وہ خوفزدہ ہو گئے تھے کہ میں مسلسل محمدﷺ کی باتیں کر رہی ہوں۔ میں کہتی، "یہ وہی شخص ہے جس کا میں نے تمہیں بتایا تھا جب میں نے وہ فلم دیکھی تھی، اور وہ واقعی حقیقی ہے۔ یونو، میں نے دیکھا ہے، اور یہ کچھ بہت بڑا ہے۔ یہ معمولی نہیں ہے۔ یہ بڑی چیز ہے جو اسلام کہلاتی ہے۔ تو وہ گھبرا گئے۔ میرا خاندان غصے میں آ گیا، ڈر گیا۔ میری بہن، جو نَن تھی، مجھے مختلف پادریوں کے پاس لے گئی۔ بڑے سے بڑے -- یعنی بشپ اور کارڈنل تک۔ اس نے ایک بھارتی راہب کو ڈھونڈا، جو مسلمانوں کے ساتھ رہا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ اسکول گیا تھا۔ اس نے کہا، "یہ تمہیں سمجھا دے گا کہ یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔" میں سات سال تک ہر ہفتے اس کے پاس جاتی رہی، بحث کرتی رہی۔ میں اس سے محمد ﷺ کے بارے میں بات کرتی، اور وہ کہتا، "تم ایک پاگل شخص کی پیروی کیوں کرنا چاہتی ہو؟" (نعوذباللہ) میں رات کو سوتی اور صبح اٹھ کر کہتی، "یہی سچ ہے۔ تم درست راستے پر ہو۔ آگے بڑھو، پیچھے نہ ہٹو۔" تو پھر میں ہر ہفتے راہبوں کے پاس جاتی اور انہیں بتاتی جو کچھ میں نے وہاں رہ کر سیکھا تھا۔ مجھے انگریزی زبان میں قرآن ملا، اور ان کے پاس ایک بڑی لائبریری تھی۔ لیکن ان کے پاس قرآن نہیں تھا۔ تو میں نے سوچا، شاید یہ ان کی لائبریری کے لیے اچھا ہو۔ میں ان کے لیے قرآن لے کر گئی۔ لیکن وہ بہت ناراض ہو گئے اور قرآن اٹھا کر مجھ پر پھینک دیا، اور بولے: "تم اس سب کو چھوڑو گی نہیں؟ تمہارے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ تمہیں اسے اپنے دماغ سے نکالنا ہوگا۔" یہ سب بہت مشکل تھا۔ بعد میں وہ راہب سخت بیمار ہو گیا، اُسے بہت بھیانک کینسر ہو گیا۔ یہ بہت افسوسناک تھا۔ اس نے مجھ سے معافی مانگی۔ مرنے کے وقت اُس نے کہا: "میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا میں اس پر شرمندہ ہوں"۔ اور بولا، "سب انسان اچھے ہوتے ہیں، چاہے وہ عیسائی ہوں، یہودی یا مسلمان ہوں۔ اچھے بُرے لوگ سب جگہ ہوتے ہیں، اور میں اپنے کیے پر شرمسار ہوں۔" یہ اُس راہب سے میری آخری ملاقات تھی۔ میری والدین گزر چکے تھے اور ان برسوں میں، میں راہبوں کے ساتھ رہی۔ میرے والدین چل بسے، وہ راہب بھی گزر گیا۔ میرا پادری گزر گیا۔ مددگار راہب ڈیکن کا انتقال ہو گیا۔ ان دنوں جب میں بار بار آ جا رہی تھی، میں نے اپنے کئی پیارے کھو دیے۔ میں ایک کے بعد ایک موت کا صدمہ سہہ رہی تھی۔ پھر ایک آخری واقعہ ہوا۔ میری بہن، جو نَن ہے، مجھے ایک اور خاص پادری کے پاس لے گئی۔ وہ بہت پختہ ارادے والی اور سخت مزاج تھی۔ خیر میں فادر ٹام کے پاس گئی۔ وہ لوگ باہر انتظار کر رہے تھے، اور اس نے دروازہ بند کر کے کہا: "جانتی ہو کیا ہو رہا ہے؟ تمہیں تمہارا خاندان یہاں کیوں لایا ہے؟" میں نے کہا، "کیونکہ میں عرب میں رہی، میں وہاں گئی تھی۔" میں نے اسے وہی سب بتایا جو میں نے آپ کو بتایا تھا۔ اور وہ بس تھوڑا پیچھے ہو کر بولے، "ہو سکتا ہے میں چرچ میں اپنا عہدہ کھو بیٹھوں، مگر مجھے یہ کرنا ہی ہوگا۔ شاید میں مشکل میں پڑ جاؤں، لیکن تمہیں اپنے دل کی سننی چاہیے۔ تمہیں وہی کرنا چاہیے جو خدا تمہیں حکم دے۔ نہ کہ میری، نہ اپنی بہن کی، نہ ہی راہبوں کی۔" پھر وہ کچھ اور بولا۔۔۔ اس نے کہا، "نہ کارڈینل، نہ ڈیکن، یہاں تک کہ اگر پوپ خود بھی کہے۔ لیکن اگر خدا تمہیں کچھ اور کہے تو تمہیں خدا کی بات ماننی ہے۔" اور میں نے کہا، "اوہ خدایا، شکریہ۔ واقعی، آپ یہ سب کہہ رہے ہیں؟" وہ بولا، "مگر اب مجھے کہنا ہی ہوگا کیونکہ میں خدا کے سامنے جوابدہ ہوں۔" اور یہ سب سے بہترین بات تھی۔ کتنا عظیم انسان تھا وہ، جو اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ تب میں نے جانا کہ اب مجھے یہ سب کرنا ہے۔ پھر میں نے آہستہ آہستہ اسلام کی طرف سفر شروع کیا۔ میرے پہلے دو بیٹے، میرے چار بیٹے ہیں، میں نے انہیں کیتھولک طریقے سے پالا۔ وہ کیتھولک تھے، اور بعد کے دو بیٹے مسلمان بنے۔ تو وہ میرے ساتھ شامل ہو گئے۔ بعد کے دو میرے ساتھ مسلمان ہوئے۔ ہم ایک فلسطینی مسجد میں گئے۔ میں نے ان سے کہا، مجھے نہیں معلوم یہ سب کیسے کرنا ہے، ہمیں کچھ نہیں آتا میرے ساتھ میرے دو چھوٹے بیٹے ہیں۔ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔ ہمیں نہیں پتا اسلام میں نماز کیسے پڑھتے ہیں یا کہاں سے شروع کریں؟ ہم تھوڑے گھبرائے ہوئے تھے۔ تو امام صاحب نے کہا: "میرے پاس آپ کے لیے ایک بہترین خاتون ہے۔" اور وہ ایک ذرا سخت مزاج سی خاتون کو لے آئے۔ میں نے اُسے دیکھا اوردل میں کہا، "اوہ نہیں۔۔۔" اور جب اُس نے مجھے دیکھا،تو وہ بھی بولی، "اوہ نہیں۔۔۔" تو امام صاحب بولے، "ہاں، آپ دونوں ساتھ ہی رہو گے۔" اور پھر وہ سیدھا ہمیں جائے نماز والی جگہ پر لے گئی، اور حقیقتاً اُس نے ہمارے سروں کو پکڑ کر زمین پر جھکا دیا۔ اور کہا، "یہی ہے نماز، اس طرح سجدہ کیا جاتا ہے۔" وہ پہلا موقع تھا جب میرا ماتھا سجدے کے لیے زمین پر لگا۔ اور یہ لمحہ بہت عظیم تھا، کیونکہ میں بس روتی رہی۔ میں اٹھ ہی نہیں سکی۔ اور اگر اُس مضبوط فلسطینی عورت نے میرا سر جھکایا نہ ہوتا، تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتی۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ سجدے میں کیسا محسوس ہوا؟ اور جب آپ نے پہلا سجدہ کیا تو دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا؟ انکساری۔ عاجزی۔ خاکساری۔ بے حد عاجزی کا احساس تھا۔ میں سوچتی رہی، "واہ، اس چرچ میں تو میں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔" سر کبھی زمین پر نہیں ٹکاتے۔ راہب سجدہ کرتے تھے اور زمین پر لیٹ جاتے تھے، لیکن عام لوگ یہ نہیں کرتے تھے۔ بس گھٹنے ٹیکتے یا کرسی پر بیٹھتے۔ سب کچھ آرام دہ ہوتا تھا۔ لیکن جب آپ اپنا ماتھا زمین پر رکھتے ہیں تو وہ اللہ کے سامنے حقیقی عاجزی ہوتی ہے۔ آپ نے سات سال تک کیسے ایمان قائم رکھا پیغمبر محمد ﷺ، قرآن اور اسلام پر، جبکہ ہر طرف سے پروپیگنڈا تھا؟ میرا خیال ہے جب اللہ آپ کو پکارتا ہے، جب وہ لمحہ آتا ہے۔۔۔ جب اللہ آپ کو چُنتا ہے، تو آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں پھر آپ پوری دنیا سے لڑ سکتے ہو، اور آپ وہی بنو گے جو آپ کو بننا ہے گھر والے مشکل تھے، لیکن چرچ کا سامنا اس سے زیادہ مشکل تھا۔ سچ یہی ہے۔ آپ سچائی کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیا آپ کے گھر والوں یا قریبی لوگوں میں سے کوئی اور بھی مسلمان ہوا؟ جی ہاں، میرے خاندان میں سے ایک فرد نے اسلام قبول کیا۔ میری بیٹی، جسے میں نے کیتھولک مذہب میں پالا تھا۔ وہ کبھی مسلمان نہ ہوتی، میں نے۔۔۔ یہ واقعی مشکل تھا۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں نے اُسے کیتھولک مذہب میں اچھا پروان چڑھایا، اور اُس کی پوری زندگی اسی میں گزری تھی۔ میری بیٹی، میرے بیٹے کی گریجویشن پر آئی تھی۔ ہم گریجویشن کی تیاری کر رہے تھے، تو اُس نے کہا، "میں کلمہ پڑھنا چاہتی ہوں۔" سچ میں، اُس نے کہا کہ چھوٹے بھائیوں کو اسلامی طرز زندگی میں بڑھتے دیکھ کر اس کا دل بھی کلمہ پڑھنے کو چاہا۔ صرف اُن کی زندگی کو دیکھ کر وہ متاثر ہوئی، بالمقابل اُن دو بچوں کے جنہیں کیتھولک مذہب میں پالا گیا۔ اُس نے اندازہ کیا کہ پرورش کے انداز میں کتنا فرق ہے۔ بہت الگ تھا۔ آپ کے خیال میں اسلام قبول کرنے والا اپنے خاندان کو اسلام کیسے سمجھائے؟ میرے خیال میں وہ ڈرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ جن سے اب تک میری ملاقات ہوئی ہے، وہ خاندان کو بتانے سے ڈرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اس پر توجہ دینی چاہیے کہ، خاندان سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈرے۔ بات سیدھی سی ہے، ہے نا؟ اور میرا نہیں خیال کہ زیادہ تبلیغ کرنا کوئی اچھا طریقہ ہے۔ میرے نزدیک، آپ کی مثال آپ کا طرز ِ زندگی ہے، جو آپ کرتے ہو، کیسے پیش آتے ہو، اپنے گھر والوں سے۔۔۔ مسلمان ہونے کے بعد آپ کو خاندان سے پہلے سے بھی بہتر سلوک کرنا چاہیے رائٹ؟ آپ کا برتاؤ پہلے سے بہتر ہو۔ اور جب وہ یہ سب دیکھتے ہیں، جیسے میری بیٹی نے دیکھا، کہ بطور مسلمان اب ہمارا طرزِ زندگی کیسا ہے، ہمارے بھائی کیسے اسلامی ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں، تو اس کا اثر تبلیغ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات باتیں صرف باتیں ہی رہ جاتی ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو دوسرے طرف ہیں۔ انہیں اسے دیکھنا ہوگا تاکہ وہ یقین کریں۔ کیا آپ نے کبھی ایسا کوئی خاص واقعہ محسوس کیا ہے جس میں آپ کو اللہ سے خاص تعلق کا احساس ہوا ہو؟ ہاں، ایک واقعہ تو فوراً ذہن میں آتا ہے۔ جب میں سعودی عرب میں طائف میں تھی، اور پہاڑی علاقے میں گھوم رہی تھی۔ میں ایک چرواہے کے ساتھ اکیلے ہی پہاڑ پر چڑھ رہی تھی۔ اور ایک دم سے مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔ میں اسے بیان نہیں کر سکتی میں بھاگ کر قریبی۔۔۔ کسی ہوٹل کی تلاش میں گئی تاکہ اپنے گھر فون کر سکوں، اور انہیں بتا سکوں کہ اس سرزمین میں کچھ خاص ہے۔ اس مٹی میں کوئی راز ہے، وہی مٹی جہاں سے شاید انبیاء اٹھائے گئے۔ جو ہمیں امریکہ میں محسوس نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے والد کو یہ بتایا اور کہا، "بابا، یہاں کچھ ہے، جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، جو امریکہ میں نہیں، لیکن یہاں ہے۔" اور میرے والد نے کہا، "یہ خدا ہے۔" اور میں بس حیران رہ گئی!

اسی وقت اذان کی آواز آنے لگی۔ مجھے اُس وقت یہ پتا نہیں تھا کہ یہ کیا تھا۔ اور ہر طرف سے الگ الگ اذانیں سنائی دے رہی تھیں۔ بہت ساری اذانیں ایک ساتھ۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر تھی، اور وہ لمحہ بہت ہی حسین تھا۔ ہر طرف سے آتی ہوئی اذانوں کی آواز۔ چرواہے کو اپنے ریوڑ کے ساتھ دیکھنا، اور پہاڑ کی بلندی پر ہونا۔ "واو، یہ بہت اثرانگیز ہے۔" "یہاں ایک ایسی چیز ہے جو ہر کسی کے پاس ہونی چاہیے، ہر کسی کے پاس۔" اور بس میں یہ سوچتی رہی کہ امریکہ کو اس کا علم ہونا چاہیے۔ انہیں ابھی اس کا پتا نہیں ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد Jesus اورMary آپ کے لیے کون ہیں؟ اسلام قبول کرنے کے بعد،میرے لیے اب Jesus خدا نہیں تھے۔ خدا تو خدا ہے۔ کیونکہ مجھے یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ میرے لیے یہ ناقابلِ فہم تھا کہ Jesus خدا ہو اور خدا Jesus۔ پھر تو دو طاقتوں والے ہو گئے، اور کسی ایک کو اختیار میں ہونا چاہیے، رائٹ؟ تو وہ صرف خدا ہی ہو سکتا ہے۔ یہ تو کامن سینس ہے۔ اسلام میرے لیے کامن سینس پر مبنی تھا۔ اور مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ مجھے Jesus کو نبی کے طور پر ماننا چاہیے۔ ایک بہت معزز نبی، علیہ السلام۔ اور آج بھی میری ان سے محبت اور عقیدت ویسی ہی گہری ہے۔ لیکن میں ان سے دعا نہیں مانگتی۔ میں اس ذات سے دعا مانگتی ہوں جس سے وہ مانگتے تھے۔ اور Mary کے لیے، میرے دل میں بے حد احترام ہے۔ اور جب میں نے قرآن میں سورۂ مریم پڑھی اور سنی، تو بس آنکھیں بھر آتی ہیں،یونو؟ رونا آ جاتا ہے۔ یہ قرآن کی سب سے خوبصورت سورۃ ہے۔ آپ عیسائیت تک میں اسے نہیں پا سکتے جب تک کہ جان نہ لو اور اسے پڑھ نہ لو۔ اور جیسا میں نے کہا، ان لوگوں سے بات کریں جو اسے جانتے ہیں، یعنی مسلمان۔ آپ کو لگے گا کہ آپ نے کچھ کھویا نہیں، آپ بس حاصل کر رہے ہو۔ آپ اور بھی زیادہ خوبصورت معجزات پا رہے ہو۔ اور پھر، میرا خیال تھا کہ کیونکہ Jesus نے تو ہمارے لیے سب کچھ کر دیا ہے تو پھر ہر کوئی گناہ کرے گا اور کہے گا کہ تو ٹھیک ہے " Jesus ، its okay تمھارے لیے قربان ہو گئے۔" تو یہ چیز بھی بہت الجھاتی تھی۔ میں کہوں گی کہ یہ الجھن ہمیشہ رہی۔ لیکن وہ کہتے تھے، بس ایمان رکھو، ایمان رکھو۔ کیا آپ نے یہ سوال اپنے پادریوں سے کیے؟ اوہ ہاں، اور انہوں نے۔۔۔ میں، میں بہت شرمیلی تھی، زیادہ سوال نہیں کرتی تھی۔ لیکن جب کبھی کرتی، تو کچھ باتیں ان سے کرتی تھی، جنہیں میں سمجھ نہیں پاتی تھی۔ اور وہ کہتے، "بس اندھا یقین رکھو۔" وہ اسے غیب یا نامعلوم کہتے تھے۔ بس ایمان رکھو، سوال نہ کرو۔ تو میں یہی کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور اگر آپ۔۔۔ یہ بھی ایک بات تھی، کہ اگر آپ سوال کریں، تو وہ کہتے "بس اندھا یقین رکھو۔" تمھارا ایمان کمزور ہے۔ جبکہ اسلام اس کے برعکس ہے، اسلام سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ تو Jesus سے متعلق جو باتیں تھیں اور ٹرینیٹی کو لے کر جو الجھن تھی۔ جو میں نے آپ کو بتائیں، انہوں نے مجھے یہی کہا۔ اگر کوئی عیسائی آپ سے پوچھے کہ: "آپ نے Jesus اور Mary کو کیوں چھوڑا اور مسلمان کیوں ہوئیں؟" میں نے نہیں چھوڑا۔ میں انہیں بتاؤں گی کہ، میں نے نہیں چھوڑا۔ بلکہ مسلمان ہو کر میں نے انہیں اور بہتر جانا اور ان سے زیادہ محبت کی۔ میں دراصل سعودی عرب میں کام کرنے گئی تھی۔ میں یہ سوچ کر گئی تھی کہ وہاں جا کر انہیں عیسائیت کے بارے میں سکھاؤں گی۔ لیکن ایسا بالکل نہ ہوا۔ بلکہ وہ لوگ مجھے میری ہی عیسائیت کے بارے میں سکھا رہے تھے، وہ میرے نجات دہندہ Jesus christ کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔ اور یہ بات واقعی میرے لیے حیران کن تھی، سچ میں۔ میں نے سوچا، یہ تو بہت بڑے معجزات ہیں جو آپ مجھے بتا رہے ہیں۔ میں واپس جاتی اور وہ کہتے،"یہ تو کہیں ہے ہی نہیں، پتہ نہیں تم کیا کہہ رہی ہو۔" اور پھر میں نے سوچا، عیسائی آخر یہ کیسے نہیں مانتے یہ خدا اور مسیح ہیں؟ وہ قرآن میں موجود اس معجزے کو کیسے نہیں مانتے؟ اگر آپ اپنے 18 سالہ خود سے بات کریں تو کیا کہیں گی؟ اوہ۔۔۔ اسلام، اسلام، اسلام۔ کم عمری سے ہی شروع کرو۔ جیسے ہی سچ جان لو، اسی وقت شروع کرو۔ انتظار نہ کرو۔ بالکل بھی انتظار نہ کرو۔ ہاں، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرو۔ جو لوگ اس وقت آپ کو دیکھ رہے ہیں اور اسلام کی طرف مائل ہیں، لیکن اپنے گھر والوں یا رشتہ داروں کے ردعمل سے ڈرتے ہیں۔ تو آپ ایسے شخص سے کیا کہنا چاہیں گی؟ آپ جو کچھ میڈیا میں سن رہے ہو، اس پر یقین نہ کرو۔ خود تحقیق کرو، یا مستند ذرائع سے معلومات لو۔ مسلمانوں سے خود جاننے کی کوشش کرو۔ ڈرو نہیں۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اگر تم نے شہادت دے دی اور پھر بھی کچھ غلط ہو گیا۔ جیسے میرے ساتھ ہوا، میں پھر چرچ چلی گئی تھی۔ .It's okay, it's okay شہادت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف برکتیں ہی برکتیں اور رحمتیں لاتی ہے۔ اور ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم سب ایک اُمت ہیں، ہم سب آپ کی فیملی ہیں آپ کو لگے گا کہ شاید آپ خاندان کھو رہے ہیں، لیکن تمہیں اس سے کہیں بہتر خاندان ملے گا۔ مسلمانوں کا ایک ایسا خاندان ملے گا جو اس خاندان سے بھی بڑھ کر ہوگا جو تمہیں اللہ کی طرف سے ملا۔ ذرا تصور کریں کہ آپ جنت میں پہنچ گئی ہیں، ان شاء اللہ۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے بعد، آپ کس سے بات کرنا چاہیں گی؟ Jesus۔ اوہ، اور ان سے کیا کہنا چاہیں گی؟ خدایا، یہ بھی بڑا مشکل سوال ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی قوم آپ کو سمجھ نہ سکی۔ اور آپ نے تو سچا پیغام پہنچایا تھا، لیکن لوگوں نے اسے غلط لے لیا۔ مجھے افسوس ہوتا ہے، مجھے ان کے لیے دکھ محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ میرا دل کہتا ہے کہ۔۔۔ Jesus نے کبھی نہیں کہا تھا کہ انہیں پکارو یا ان کو پوجو۔ تو میں بس یہ سوچ کر خوش ہو جاؤں گی کہ وہ بھی مسلمان ہیں اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ اور اب سب کچھ واضح ہو گیا ہے۔ کیونکہ عیسائیوں کے ہاں، مجھے لگتا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں ہے۔ لیکن اسلام میں، Jesus کی بات واضح ہے۔ وہ ایک پیغام لے کر آئے تھے، لیکن وقت کے ساتھ وہ پیغام بہت بگڑ گیا، مسخ ہو گیا۔ اور یقیناً یہ ان کے لیے بہت مشکل رہا ہوگا۔ سسٹر ڈیزی، آپ کے جوابات کا، آپ کی پرخلوص باتوں کا بہت شکریہ۔ Towards Eternity میں ہمیں آپ کی میزبانی کر کے بہت خوشی ہوئی۔ اللہ آپ کو اس دین کے لیے کی گئی ہر کوشش کا بہترین اجر دے۔ اوہ، مجھے بلانے کا بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو اس کام کے لیے اور آپ کی ہر کوشش کے لیے اجر دے۔ جو کچھ آپ کر رہے ہیں، وہ واقعی ایک خوبصورت عمل ہے۔ شکریہ
