# Islam ne 1400 saal pehle hi nasli tafreeq ka khatma kar diya tha! - Kaala ho ya gora, koi farq nahi.

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/islam-ended-racism-1400-years-ago-black-or-white-doesnt-matter
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=V59hIPdkoX0
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

جب آپ اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ یہ تصویر ۱۹۰۶ کو جزیرہ کونی نیویارک میں لی گئ۔ یہ ایک انسانی چڑیا گھر ہے۔ اس تصویر میں درمیان میں ایک مقامی فلپیینو جس کے ارد گرد ایسے لوگ جمع ہیں جن کو شک ہے کہ یہ لڑکی انسان ہے بھی یا نہیں لیکن ،اس میں کو‏ئی شک نہیں کہ یہ لوگ خود کو برتر سمجھتے ہیں۔ جب آپ ان تصاویر کو دیکھتے ہیں تو واحد لفظ جو سامنے آتا ہیں وہ نسلی تعصب ہے۔ یہ سال ۲۰۲۴ کا ہے۔ ،ہم بہت سے شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، سپیس ٹریول وغیرہ لیکن یکساں طور پر اس تمام ترقی کے باوجود بھی ہم نسلی تعصب کا مسلہ حل نہ کر سکے۔ ایسے منظر کو تصور کریں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آپ کو انسان ہی تصور نہ کریں۔ یہاں تک کہ آپ کی موت بھی غیراہم سمجھی جاۓ۔ صرف اس وجہ سے کہ آپ ۔ ان کی طرح نظر نہیں آتے اور آخرکار آپ دیکھ لیں گے کہ کس طرح صدیوں پہلے اسلام نے انسانیت پر لگےا اس کلنک کے ٹیکے کا کتنا شاندار حل پیش کیا ہے۔ اگر آپ تیار ہیں تو چلیے آغاز کرتے ہیں۔ چلیے ان تصاویر کو دیکھتے ہیں جو ہم نے آپ کو شروع میں دکھائ تھیں ۔ آپ کو کیا لگتا ہیں کہ یہ بچی کتنی خوش ہے ؟ یہ تو جانتی تک نہیں کہ یہ ہے کہاں؟ جب آپ اس کو پہلی بار دیکھتے ہیں تو آپ کے لیے اس ذہنیت کو سمجھنا تقریبأ ناممکن ہوتاہے ۔ "آپ کے ساتھ میں جو بد سلوکی اور بے رحمی کروں گا آپ اس کے پورے حق دار ہیں ۔کیوں؟ کیونکہ آپ اس رنگ اور نسل ۔ کے نہیں ھیں جس کا میں ہوں ہاں!

بالکل ایسا ہی وہ لوگ بھی سوچتے ہیں ان کے مطابق یہ لوگ غاروں میں رہنے والے انسان ہیں یہ ان پر ظلم کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کو جنگلی تصور کرتے ہیں۔ اس نسلی تعصب نے چند بڑے ۔ شہروں میں بہت شہرت حاصل کی مثلاً پیرس ،لندن ۱۹۰۶ میں نیویارک زولوجیکل سوسأٹی کا صدر میڈسن گرانٹ اس حد تک گر گیا کہ اس نے کانگو کے رہنے والے اوتا بینگا کو برونکس زو میں پیش کیا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اس آدمی کو بندروں والے پنجرے میں بند کیا گوریلا اور بنمانس کے ساتھ آپ کو پتا ہے کیوں ؟ کیونکہ پنجرے میں موجود ان دونوں جانوروں کو انسانوں کے قدیم اجداد کے طور پر بتایا جاتا۔ تو کانگو کا رہنے والا یہ آدمی نام نہاد ارتقا کا کھویا ہوا حصہ مانا جاتا تھا اور لوگ اسی طرح اس کو دیکھتے رہتے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے۔ کیا امریکہ میں یہ سب صرف کالے لوگوں کے خلاف ہوا؟ بدقسمتی سے نہیں۔ چلیے اب مقامی امریکن لوگوں ظلم وستم کے دور پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس وقت پر جب امریکہ نے نئی ریاستیں بسانا شروع کیں، ۔اس وقت دردناک طریقے سے مارے جانے والوں کی تعداد آج تک معلوم نہیں ہو سکی ہے کوئی سمندر کے اس پار سے آتا ہے۔ اور آپ کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیتا ہے اور آپ کی نسل کو ختم کرنے کی کو شش کرتا ہے ان کو ضمیر کی ضرورت ہے جو ان کی آنکھیں کھول دے؟ آ جائے جو کہ چودہ سو سال پہلے موجود تھا تو ایسے واقعات وقوع پذیر نہ ہوتے۔ لیکن چودہ سو سال پہلے ایسا کیا ہوا؟ ایک لاکھ سے زائد لوگ ایک شخص کے دہن مبارک سے الفاظ سننے کے متمنی تھے۔ وہ شخص جسے اللہ نے ان کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔ تاریخ میں اس واقعے کو حجۃالوداع کے نام سے جانا جاتا ہے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے سامنے کھڑے مجمعے پر نظر فرماتے ہیں۔ اور اس وقت حاضر انسانوں کے ساتھ ساتھ سارے زمانوں کی انسانیت سے بھی یوں مخاطب ہوتے ہیں۔ اس تقریر میں انسانیت کے لیے بہت سے پیغامات ہیں۔ چلیے ذرا رک کر غور کرتے ہیں اگر ان تمام جرائم کے پیچھے لوگوں میں وہ ضمیر ہوتا جو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان لوگوں کے مطابق ہے جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس دن سنا تھا، تو کیا یہ سب واقعات ہوتے؟ میرے خیال سے نہیں سورۃ الحجرات کی تیرھویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تو اب ہم مختلف قوموں میں تقسیم کیوں ہو گئے ہیں؟ یہ تفریق ایک دوسروں کو جاننے اور ایک دوسرے سے ملنے کے لیے ہے۔ نہ کہ ایک دوسرے کو رد کرنے اور رسوا کرنے کے لیے۔ یہ جہالت کے لیے نہیں ، ایک دوسرے کے استحصال کے لیے یا پھر کالونائز کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کے لیے مختلف قوموں میں بانٹا گیا۔ اس بارے میں سوچیے اگر پوری نوع انسان کی رنگت اور زبان ایک ہی ہوتی تو کیا ہم دوسرے لوگوں سے ملنے میں دلچسپی ظاہر کرتے؟ ہم یہی کہتے کہ وہ سب بھی ایک جیسے ہیں۔ ہے ناں؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف پیدا کیا ہے تاکہ ہم مثبت انداز میں ایک دوسرے سے انسپائر ہوسکیں۔ لیکن ہم ایک دوسرے کے قریب کیوں ہوں؟ کیونکہ آیت میں ہے کہ چونکہ ہم سب آدم اور حوا علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اسی لیے ہم سب ایک دوسرے کے بہن بھائی ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ کیااس آیت کی یہ لاجک بہت خوبصورت نہیں؟ مثال کے طور پر ، یوں سمجھیں کہ آپ کا ایک کزن ہے ، لیکن آپ ایک دوسرے کو نہیں جانتے سالوں بعد آپ لوگ ایک دوسرے کی خبر پاکر آپس میں ملتے ہیں تو آپ دونوں ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہیں گے۔ ہے ناں ؟ تاریخ کے نسلی تعصب والے صفحات میں ، جب بھی اسلام کہیں گیا ، تو ایکچراغ کی طرح اس جہالت کو دور کیا اور انسان کو بھائی چارے کا سبق سکھایا۔ اسلام جس سرزمین پر متعارف ہوا وہاں اس نے نسلی تعصب والی ذہنیت سے لڑ کر اس کا خاتمہ کیا۔ تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ پندرھویں صدی میں سپین میں ایک غیر معمولی حکم نامہ جاری کیا گیا، تمام یہودیوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہم ایک لاکھ سے زائد ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو وہاں صدیوں سے بستے تھے۔ اور ایک دم ہی انہیں وہاں سے نکلنے کا کہا گیا۔ اس دوران جبکہ انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کہاں جائیں اور کیا کریں۔ ایک مسلم ریاست نے ان کا استقبال کیا۔ سلطنت عثمانیہ نے۔ سلطنتِ عثمانیہ نے ہزاروں یہودیوں کو پناہ دے کر اپنی سرزمین میں بسنے کی اجازت دی۔ اور آج فلسطینی مسلمانوں پر جو مظالم یہ کر رہے ہیں اسے دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسرائیل اس احسان کا بدلہ کیسے چکا رہا ہے- لیکن یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جو مذہب سب سے زیادہ نسلی تعصب کے خلاف کھڑا ہے ، وہی سب سے زیادہ نسلی تعصب کی بنیاد پر ہونے والے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ہم مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے نسلی a تعصب کے بارے میں سنتے ہیں۔ فلسطین جس کی سرزمین پر سیونی قابض ہو گئے ہیں اور جن کو مارا جا رہا ہے۔ بچوں اور عورتوں سمیت میانمار کے مسلمانوں کو بھی بدھسٹ رجیم نے ان کے گھروں سے نکال دیا ہے۔ ان کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ انڈیا میں کچھ غنڈےہیں جو پروٹیسٹ کے دوران یہ کہہ رہے ہیں کہ چائنا کی سرپرستی میں مشرکی ترکستان میں مسلمانوں کے خلاف ایک ناقابل تصور نسل کشی ہوئی۔ ہزاروں کی تعداد میں عبادت گاہیں ختم کر دی گئیں اور لاتعداد بچوں کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف ایسے نسلی تعصب کے جرائم کرتے ہیں کیا ان کو شرم نہیں آتی؟ مثلاً اسرائیل کا ضمیر ایک بچے کو بم سے اڑانے کے بعد کیسے اتنا مطمئن ہو سکتا ہے؟ یہاں سائیکالوجی کے ایک کونسیپٹ کی مثال سامنے آتی ہے اور پھر اس بات پر یقین رکھنا تاکہ اپنے ضمیر کو اس بات پر مطمئن کر سکیں کہ ان معصوموں پر ہونے والا ظلم جائز ہے۔ بالکل اسرائیلی گورنمنٹ کے سوچنے کا انداز ۔ کیا وہ معصوم شہریوں پربمبرسا کر ایسا نہیں کہتے کہ ہم انسانی وحشیوں سے لڑ رہے ہیں اور اسی حوالے سے یہ سب کر رہے ہیں۔ اور چودہ سو سال پہلے ہی قرآن مجید میں اس بیمار ذہنیت کی وجہ بیان کر دی گئی ہے۔ اس وقت نہ تو سائیکالوجی کی فیلڈ موجود تھی نہ ہی نسلی تعصب متعارف ہوا تھا ۔ قرآن نے فطری گناہ کے کونسیپٹ کے ساتھ اس کی وضاحت کی ۔ جب ہم اسلام سے یہ سوال کرتے ہیں کہ فطری گناہ کیا ہے؟ تو جواب قطعی مختلف ہوتا ہے۔ چلیں اس کہانی کا مختصر جائزہ لیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان یعنی آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ تو اس وقت وہاں فرشتے تھے ، اور ایک جن تھا جس کو ابلیس کہتے تھے، اور شیطان بھی۔ شیطان نے غیر متوقع طور پر اللہ سے آدم علیہ السلام کے بارے میں یہ جملہ کہا۔ جو کہ ہمیں جانا پہچانا لگے گا۔ یہ بیان ہی نسلی تعصب پر مبنی ہے۔ وہ اپنی برتری آگ سے جتا رہا تھا جس سے وہ پیدا کیا گیا۔ اور آدم علیہ السلام کو کمتر سمجھ رہا تھا جو مٹی سے پیدا کیے گئے۔ شیطان نے اسی طرح خدا سے بغاوت کی۔ اور اس گناہ نے اس کا خاتمہ کیا۔ اگر ہم قرآن میں اس قصے پر غور کریں۔ ہم واقعات کی درج ذیل کڑیاں دیکھتے ہیں۔ جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تو شیطان کو یہ مخلوق الگ سی لگی۔ اس نے اسے اجنبی جانا اور اس سے سرد مہری برتی۔ پھر اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ۔ وہ اس سے برتر ہے۔ اور آخر کار اس نے اپنے اندر چھپے اس بغض کا اظہار کر دیا۔ اور اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اس نے آدم علیہ السلام کی دوسری صفات کو نظر انداز کر کے ان کی مادی خصوصیات کو نشانہ بنایا۔ اور درحقیقت نسلی تعصب اسی طرح وجود میں آیا۔ لہذا قرآن درحقیقت ایک جرم کی نفسیات کو بیان کر رہا ہے جو کہ صدیوں سے انسانیت کے لیے شرم اور رسوائی کا باعث ہے۔ اور قرآن اس چیز کو اس شیطان کی خصوصیت بتاتا ہے جو کہ خدا کا دشمن ہے۔ تاکہ مومنین اس گناہ کی بدصورتی کو دیکھ سکیں اور اپنے آپ کو اس سے دور رکھیں۔ یہ کتنا حیرت انگیز ہے ؟ یہ دیکھ کر عجیب نہیں لگتا کہ دنیا کا پہلا انسان ، ہمارے اجداد بھی نسلی تعصب کا شکار ہوئے؟ لہٰذا لوگوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایسی غلطی نہ کریں۔ یہ رہنمائی سورۃ الحجرات کی تیرھویں آیت میں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، اسلام میں آپ کی اہمیت ان چیزوں کی وجہ سے نہیں ہے جن پر آپ کا کنٹرول نہیں ہے۔ جس کے بارے میں آپ کو چوائس نہیں ملی ۔ بلکہ یہ اہمیت آپ خود جتا سکتے ہیں صرف اچھے اعمال کرکے۔ جب میں اس آیت کو سنتا ہوں تو میرا ذہن اس دنیا کے ایک حصے کی طرف جاتا ہے۔ دو بلین مسلمانوں کی ملاقات کی جگہ، چاہے وہ فزیکلی وہاں موجود ہوں یا نہ ہوں۔ مکہ کعبہ میں۔ اب ہم مسلم دنیا کے مرکز میں ہیں۔ ہم مکہ ، کعبہ میں ہیں۔ یہاں مختلف نسلوں ، بیک گراؤنڈ ز، کلچرز اور قبیلوں کے مسلمان دنیا کے چاروں کونوں سے آتے ہیں۔ وہ سب وہاں ایک مقصد کے تحت آتے ہیں۔ سارے آدمی ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں ۔ دو سفید کپڑے۔ عورتیں باپردہ آتی ہیں۔ اور وہ سب ایک مقصد کے تحت آتے ہیں ، ایک مشترکہ مقصد۔ اپنے آقا کی عبادت کرکے اس کے مقربین میں شامل ہونا اب میں اس شخص کی بات کرنے جا رہا ہوں جس کی اس مقدس سرزمین میں آنے کے بعد پوری دنیا ہی بدل گئی۔ میلکم ایکس۔ آپ ان کا نام پہلے بھی سن چکے ہوں گے۔ وہ ایکسیاہ فامامریکی شہری تھا جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ انیسویں صدی کے درمیان میں رہا اور پورے ملک میں اچھا خاصا مشہور تھا۔۔ وہ سالوں نسلی تعصب کا شکار رہا اور اس سے بہت ڈسٹرب ہوا۔ تو وہ اس مسئلے کا حل دیکھ رہا تھا۔ مسلمان بننے کے بعد ، جب وہ 1964 میں مکہ حج کرنے گیا تو اس نے وہاں وہ کچھ دیکھا جو کہ کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔ اس نے اپنے ایک خط میں اپنی کیفیت کا اظہار کچھ اور یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب نسلی تعصب کا مسئلہ آج کے مقابلے میں عروج پر تھا۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو امریکی سوسائٹی سے نسلی تعصب کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو رنگ و نسل کی بنیاد پر برتری کے تصور کا خاتمہ کرے گا۔ اسلام ہی معصوم بچوں پر ہونے والے نسلی تعصب کے حملوں کو روکے گا۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ سب کچھ بہت واضح ہے؟ بطور انسان اگر ہماری اس دنیا میں رہنمائی نہ کی جائے تو ہمارے ظلم اور نا انصافی کی کوئی حد نہیں ہو گی۔ اور کئی بار ہم اپنے جرائم کو دیمونائزیشن پر مبنی دلیلوں کے تحت جائز قرار دیتے ہیں ۔ اور آپ کو احساس تک نہیں ہوتا کہ آپ کیا غلط کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہم ایک انسان بھی ہیں جو کہ بہت سی غلط چوائسز میں اپنے لیے صحیح چوائس کا انتخاب کرسکتا ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ انسان برائی اور اچھائی دونوں میں انتہا پر جا سکتا ہے۔ تو آپ کو نہیں لگتا کہ ایسی صورت میں وہ ذات جس نے اسے پیدا کیا ہے، اور اس دنیا میں بھیجا، اس کی رہنمائی نہیں کرے گی۔ حتیٰ کہ بحیثیت انسان جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو کیا ہم نہیں چاہتے کہ یہ بہت اچھا ہو۔ اسی طرح جس نے ہمیں پیدا کیا وہ بھی ہمیں ایک اچھے لیول پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ نبیوں پر اتاری گئی اپنی وحی کے ذریعے ہماری رہنمائی بہترین رخ پر کی ہے۔ اب شروع سے ہم جس پر بات کر رہے ہیں وہ اس پیغام کا ایک حصہ ہے جو کہ آخری نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ساری انسانیت کے لیے لائے۔ قرآنِ مجید کی چھ ہزارسے زائِد آیات میں سے ایک ، ان درجنوں مسئلوں میں سے ایک جو کہ قرآن مجید نے انتہائی بصیرت سے حل کیے۔ اور اگر اس کا ایک حل ہی اتنا نادر اور طاقتور ہے تو کیااس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ کتاب اس انسانیت کے لیے وہ مکمل
