# Qur’an aur Bible mein Isa (A.S) ka Taqabul | Islam aur Christianity ke Hairat Angaiz Farq

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/jesus-in-quran-vs-bible-shocking-differences-between-islam-and-christianity
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=2dWmthL_Lsk
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

کھجور کے درخت کے تلے ایک تنہا حاملہ عورت ۔ لیبر پین شروع ہوئی اور بڑھتی ہی گئی۔ لیکن زچگی کے درد سے زیادہ ، وہ اپنی صورتحال سے پریشان تھی۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ جب وہ اپنے لوگوں میں واپس جائے گی تو وہ اس پر بدکاری کا الزام لگائیں گے۔ اس کی کوکھ میں پلنے والا بچہ کوئی عام بچہ نہیں تھا۔ بغیر باپ کے تخلیق کیا گیا یہ بچہ ایک معجزہ تھا۔ جی ہاں، وہ حاملہ ہوگئی تھی حالانکہ کسی مرد نے اسے کبھی چھوا تک نہیں تھا۔ اور اب وہ اس بچے کو جنم دینے والی تھی۔ لیکن اس کے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے اور جھوٹے الزامات لگائیں گے۔ آخر یہ بچہ کون تھا جسے اتنے معجزاتی انداز میں تخلیق کیا گیا؟ وہ جو باپ کے بغیر پیدا ہوا تھا،جو اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیاکرتے، لاعلاج بیماریوں کو ٹھیک کر دیتے،جو پیدائشی اندھوں کو بینا‏ئی بخشتے اورجو آسمانوں پر اٹھائے گئے تھے۔ مریم کے بیٹے، یسوع مسیح (علیہ السلام) جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ہیں ۔ آپ کو اسلام اور عیسائیت دونوں میں مانا جاتا ہے، دونوں مذاہب میں آپ کی کہانی مختلف ہے۔ آج ہم قرآن اور بائبل کے نقطہ نظر سے اس کہانی کو دریافت کریں گے اور ان میں مماثلت اور اختلافات کا موازنہ کریں گے۔ اگر آپ تیار ہیں تو،شروع کریں۔ مریم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ،جنہیں میری بھی کہا جاتا ہے ، آپ کی والدہ حنہ نے منت مانی کہ اگر ان کی اولاد ہوئی تو وہ اسے یروشلم، بیت المقدس میں ہولی ٹیمپل کے لئے وقف کر دیں گی۔ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں ایسے کیا گیا ہے۔ "یاد کرو جب عمران کی اہلیہ نے کہا"اے میرے رب، میرے رحم میں جو کچھ ہے، اسے میں تیری خدمت کے لیے وقف کرتی ہوں۔ لہذا میری طرف سے اسے قبول فرما۔ بے شک تو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ '' اور جب حنہ نے یہ دعا کی تو دراصل اسے ایک لڑکے کی توقع تھی،لیکن اس کے بجائے اس کی بیٹی ہوئی۔ پہلے تو ایسا لگا کہ اللہ نے اس کی دعا قبول نہیں فرمائی، لیکن حقیقت میں اللہ نے یہ دعا بہت خوبصورت انداز میں قبول کی تھی۔ لڑکی ہونے کے باوجود،مریم علیہ السلام کوان کی والدہ نے بیت المقدس میں دے دیا۔ کسی لڑکی کو ایسی جگہ پر وقف کرنا بے مثال تھا،یہ ایک بہت نئی بات تھی۔ وہاں مریم نے اپنی زندگی دن رات اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر دی تھی۔ان کے خالو نبی زکریا علیہ السلام ان کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے۔ اوربائبل میں زکریا کے نام سے بھی جاناجاتا ہے، آپ ان پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ ایک دن،جب مریم معمول کی طرح عبادت میں مشغول تھیں، انہوں نے اچانک اپنے سامنےایک شخص کو دیکھا۔ اور ان کا دل خوف سے لرز اٹھا۔ انہیں ڈر تھا کہ شاید وہ انہیں نقصان پہنچائے۔ اس نے کہا،"میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں، ۔ اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔" لیکن اس کے سامنے جو شخصیت کھڑی تھی وہ معمولی نہ تھی۔ وہ برائیوں سے پاک ایک فرشتہ تھا۔ جبریل علیہ السلام، بائبل میں گیبریل کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ مریم کا خوف کم کرنے کے لیے، وہ انسانی شکل میں نمودار ہوئے اور وہ انہیں خوشخبری سنانے آئے تھے۔ انہوں نے پرسکون اور تسلی بخش آواز میں کہا،"میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔" مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں · اور میں بدکار بھی نہیں ہوں؟" فرشتے نے کہا کہ یونہی ہوگا تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے، اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے اپنی طرف سے ایک نشانی اور رحمت بنائیں اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔ اس طرح عیسی علیہ السلام کی خوش خبری دی گئی تھی۔ اللہ تعالٰی نے اس کا حکم دیا کہ وہ باپ کے بغیر پیدا ہوں گے۔ اللہ کے لئے ایسا کرنا بہت آسان تھا،جس طرح اس نے پہلے انسان، نبی آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تھا، بنا ماں باپ کے، اسی طرح وہ عیسی کو پیدا کرے گا۔ اور صرف مریم علیہ السلام جیسی نیک شخصیت ہی اس ذمہ داری کو نبھا سکتی تھیں۔ مریم علیہ السلام کے حمل کی کہانی بائبل میں تقریبا اسی طرح سنائی گئی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہےکہ کسی کو ان کا حمل عجیب نہیں لگتا یا سوال نہیں اٹھاتا۔جبکہ قرآن کے مطابق، اس سے مریم علیہ السلام کے لئے ایک عظیم آزمائش کا آغاز ہوا۔ دن گزر گئے اور پیدائش قریب آ جاتی ہے۔ لیکن وہ کیسے اپنے لوگوں کو یقین دلائیں گی؟ وہ اسے کیسے ثابت کریں گی؟ اندرہی اندر جذبات کے اس طوفان کے ساتھ ،وہ وہاں سے دور، سب سے الگ چلی گئیں۔ اور اب پیدائش کا وقت آگیا تھا۔ درد میں،وہ کھجور کے درخت کے قریب پہنچیں۔ اضطراب اور اداسی سے مغلوب ہو کر،وہ کہتی ہیں " اے کاش کہ میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی میں کوئی بھولی بسری ہوجاتی۔" کیا آپ اس خوف کا تصور کرسکتے ہیں؟ بچے کی پیدائش کے درد سے زیادہ،وہ اس بارے میں پریشان تھیں کہ لوگ اس سے کیا کہیں گے۔ تب جبرئیل نے انہیں پکارا۔ کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے۔ اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر عمدہ تازہ کھجوریں گرائے گا۔ تو کھاؤ،پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو،خوش رہو۔ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو اشارے سے کہہ دینا کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے، تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔" حضرت مریم جس تکلیف سے گزریں،پیدائش کیسے ہوئی، اور انہیں اپنے لوگوں سے کیسا ردعمل ملا، قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن بائبل میں کہانی کےاس حصے کا کوئی ذکر نہیں،اور نہ ہی ایسے ماحول کا جہاں لوگوں کو یہ واقعہ غیر معمولی لگے۔ جب آپ اس بارے میں سوچتے ہیں ،تو کیا یہ بہتان نہیں لگتا؟ چلیں دریافت کرتے ہیں اس عمل کے دوران کیا ہوا۔ وہ ان پر ایک خوفناک گناہ کا الزام لگا رہے تھے جس سے ان کا قطعی کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کی بے گناہی کو ثابت کرنا پڑا ، اور انہیں اس خوفناک الزام سے بچانا پڑا۔ اللہ کے حکم سے، انہوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ بڑے صدمے میں،انہوں نے کہا،" "ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں " پڑا ہوا ایک بچہ ہے ؟ لیکن وہاں کچھ تھا جسے وہ نہیں جانتے تھے۔ وہ اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ تھا۔ تب عیسی علیہ السلام گہوارے میں ہی بات کرنے لگے۔ بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہےاور مجھے نبی بنایا ہے۔ " ہر شخص بچے کی باتیں سن کر حیرانگی میں پڑ گیا۔ تاہم بائبل میں حغرت عیسی علیہالسلام کا گہوارے سے پولننے کے واقعے کا ذکر نہیں ہے۔ تو بائبل میں کہانی کیسے سامنے آتی ہے؟ اسلام اور عیسائیت دونوں کے مطابق،مسیحا اب پیدا ہو گیا تھا،اور اس کا مطلب شاہ ہیروڈ کے لئےخطرہ تھا،جو اس خطے کا بادشاہ تھا۔ بائبل کے بیانیہ کے مطابق ،ایک پجاری،اس وقت کا نجومی ، آیا اور پوچھا ، "وہ کہاں ہے؟ جو یہودیوں کا بادشاہ پیدا ہوا ہے؟ ہم نے اس کا ستارہ طلوع ہوتے دیکھا ہے اور اس کی عبادت کے لئے آئے ہیں۔ " اور جب بادشاہ نے اس بارے میں سنا تو وہ پریشان ہوا۔ اس خوف سے کہ اس کی پاور کم ہو جائے گی ، ظالم بادشاہ نے ایک خوفناک حکم جاری کیا۔ اور وہ حکم تھا موسی علیہ السلام والے قصے سے ملتا جلتا ۔ بیت اللحم اور آس پاس کے علاقوں میں،دو سال اور اس سے کم عمر کے تمام لڑکوں کو قتل کیا جائے گا۔ لیکن ایک بات جو کنگ ہیروڈ بھول گیا کہ اگر اللہ کے پاس اپنے بندے کے لئے کوئی خاص منصوبہ ہو تو کوئی بھی راستے میں نہیں آ سکتا۔ لیکن یسوع کوکیسے محفوظ رکھا جائے گا؟ بائبل میں،یہ ذکر کیا گیا ہے کہ مریم جوزف نامی ایک نوجوان سے منسلک تھی۔ تاہم،اسلامی ذرائع میں ایسے کسی شخص یا تعلق کا ذکر نہیں ہے۔ گوسپل آف میتھیو کے مطابق، ، بادشاہ کے حکم سے کچھ دیر قبل ایک فرشتہ جوزف کو خواب میں نمودار ہوا اور کہا ، "اٹھو،بچے اور اس کی والدہ کو لے کر مصر فرار ہو جاؤ۔ " تو یسوع کچھ عرصے کے لئے مصر میں رہتے ہیں۔ پھر بادشاہ کی موت کے بعد،وہ واپس آئے اور ناصرت میں آباد ہوگئے۔ تو حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کا فریضہ کیسے سونپا گیا؟ اس وقت تک انہوں نے اپنی روحانی نشوونما جاری رکھی اور 30 سال کی عمر تک پہنچے۔ اب انہوں نے لوگوں کو ابدی زندگی اور خدا کی وحی کی خوشخبری سنانے کے لئے روحانی پختگی حاصل کرلی تھی۔ اسلام کے مطابق،ان کا مشن تب شروع ہوا جب جبریل علیہ السلام ان کے پاس وحی لائے۔ جبرئیل کا دوسرا نام قرآن میں روح القدس ہے، جس کا مطلب ہے مقدس روح۔ تاہم، بائبل کے مطابق ،بپتسمہ کے بعد، صحرا میں یسوع کی قیادت مقدس روح نے کی تھی، جہاں وہ 40 دن رہے اور انہیں شیطان نے آزمایا۔ بائبل میں یہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ شیطان انہیں اونچی جگہ پر لے گیا اور انہیں ایک لمحے میں دنیا کی تمام ریاستیں دکھائیں۔ اور اس نے ان سے کہا ، "میں آپ کو ان سب کا اختیار اور شان دوں گا۔ یہ مجھے دیا گیا ہے،اور میں اسے ہر ایک کو دے سکتا ہوں۔ اگر آپ میری عبادت کریں تو یہ سب آپ کا ہوگا۔ یسوع نے جواب دیا،"صحیفوں کے مطابق تجھے تو صرف خداوند اپنے خدا کی عبادت کرنی ہوگی۔ کیا آپ کو بھی عجیب نہیں لگتا؟ بائبل کے مطابق،یسوع کو شیطان کے ذریعے آزمائش ڈالا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایسے تھے،جسے میرے اور آپ کے جیسے ،جنہیں آزمایا جا سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ عیسائیت کے مطابق خدا ہے تو انہیں کیسے آزمایا جا سکتا ہے؟ اور شیطان کو بھی ان کی نیچر کا علم ہونا چاہیے، تو پھر،وہ انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کیوں ہی کرے گا؟ لیکن پھر بھی ہم اسے بائبل میں ایسا کرنے کی کوشش کرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا، یسوع کا جواب واضح تھا۔ وہ یہ کہ وہ کبھی شیطان کی پوجا نہیں کریں گے، لیکن صرف اللہ کی عبادت اور خدمت کریں گے۔ انہوں نے اس پر زور دیا کہ نہ دولت اور نہ ہی شیطان ، اور نہ ہی کسی دوسری مخلوق کی عبادت کرنی چاہئے۔ بائبل میں ہے کہ شیطان نے 40 دن تک آزمایا۔ جی ہاں 40 دن تک لیکن آخر وہ ناکام رہا۔ اور بعد میں یسوع Galilee واپس آگئے،تو انہوں نے دیکھا کہ یہ ان کے اپنے لوگ تھے، اسرائیلی تھے جنھیں اس جواب کی شیطان سے زیادہ ضرورت تھی۔ وہ اتنے کرپٹ ہوگئے تھے کہ وہ اللہ کے احکامات میں اپنے مفاد کا مواد ڈال رہے تھے، اور اپنے مفاد کی خاطر اپنے نبی کی جان کے در پہ ہو گئے۔ چونکہ یسوع کو بھی توریت کا علم سکھایا گیا تھا،تو انہیں ایسے لوگوں کا سامنا تھا جو مذہب کو اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرتے تھے،اور انہیں بے خوفی سےاس قوم کو وہ صحیح تعلیمات یاد دلانی تھیں، جو ان کے مفادات کے منافی تھیں۔ ان کے خطبات اور الفاظ کا لوگوں پر گہرا اثر ہوتا، تاکہ وہ سب کی توجہ مبذول کرکے اور انہیں سننے پر مجبور کریں۔ بائبل ان کے مشن کے آغاز کے بارے میں ایک مختلف کہانی سناتی ہے ۔ یسوع نے دریائے اردن میں نبی یحیی سے بپتسمہ لیا۔ جسے بائبل میں جان دی باپٹیسٹ کہا گیا ہے۔ جب یسوع پانی سے باہر آرہے تھے، روح القدس ان پر جسمانی طور پر فاختہ کی شکل میں نازل ہوئے۔ اب وہ ان نبیوں کے کام کو آگے بڑھائیں گے جو ان سے پہلے آئے تھے۔ قرآن مجید میں،اللہ تعالی فرماتا ہے،" پھر ہم نے ان کے پیچھے اپنے کے قدموں کے نشانات پر اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی ، اور اس کے پیروکاروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی۔" وہ ان کی رہنمائی کریں گے کہ کیا جائز ہے اور ممنوع چیزوں سے خبردار کریں گے، انہیں اللہ کی فرمانبرداری یاد دلائیں گے۔ چلیں ایک مثال کے ساتھ اس گفتگو کا تصور کرتے ہیں۔ ایک دن، ایک مذہبی عالم نے ، یسوع سے رابطہ کیا اور ان سے ایک سوال پوچھا۔ گوسپل آف مارک کی ایک عبارت ہے۔ "'تمام احکامات میں سے ، سب سے اہم کون سا ہے؟ ' "یسوع نے جواب دیا،"سب سے اہم یہ ہے۔ "سنو،اے اسرائیل،خداوند ہمارا خدا،خداوند ایک ہے۔ خداوند، اپنے خدا سے پورے دل سے محبت کرو ، اور اپنی ساری روح کے ساتھ ،اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ ، اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ۔ ' 'ٹھیک ہے،استاد محترم،' اس شخص نے جواب دیا ، 'آپ یہ ٹھیک کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور اس کے سوا کوئی اور نہیں۔" اب کریسچین تھیولوجی کی مین اسٹریم کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ جواب غیر متوقع لگتا ہے،ہے ناں؟ یاد کریں یسوع نے شیطان سے کیا کہا؟ ایسا نہیں لگتا جیسے وہ یہاں ایک ہی چیز پر زور دے رہے ہیں؟ "خداوند ہمارا خدا،خداوند ایک ہے ،" مطلب،وہ آپ کااور میرا دونوں کا خدا ہے۔ اور اس عقیدے کو بائبل میں اس بیان سے مزید تقویت ملی ہے "کہ اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہے۔" اسی طرح،قرآن مجید میں،عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو مشترکہ سچ بتایا۔ 'بے شک،اللہ میرا رب اور آپ کا رب ہے،لہذا صرف اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ " ہر نبی کو معجزات کے ساتھ مدد فراہم کی گئی جب انہیں اپنے لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔ اور دوسرے تمام نبیوں کی طرح،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا ذکر قرآن اور بائبل دونوں میں ہے۔ تاہم ان میں سے.

کچھ معجزے دونوں صحیفوں میں مشترک ہیں اور باقی منفرد ہیں۔ مثال کے طور پر،دونوں کتابوں میں کچھ معجزوں کا ذکر ہے۔جیسے مردے کو زندہ کرنا، جلدی بیماریوں کاعلاج کرنا،اور نابینا کو بینا کرنا۔ تو کون سے معجزوں کا ذکر صرف قرآن مجید میں ہے؟ مثال کے طور پر،حضرت عیسی کا گہوارے میں ہی بولنے کا معجزہ۔ قرآن مجید میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب آپ نے مٹی سے پرندہ بنا کر اس پہ پھونکا تو اللہ کے حکم سے وہ زندہ ہو گیا۔ یا اپنے حواریوں کی درخواست پر، انہوں نے اللہ سے دعا کی تو کھانے پینے کی چیزوں سے بھری ایک ٹیبل آسمان سے اتر آئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، "میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔ " آخر میں،ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں کہ انہیں مصلوب ہونے سے بچا گیا اور آسمان پر اٹھالیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ جو عیسائی یہ دیکھ رہے ہیں، ان کے لیے ایک سپوائلر ہے۔ جب ہم ان معجزوں کو دیکھتے ہیں جس کا ذکر صرف بائبل میں ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع نے5000 لوگوں کو صرف پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے سیر کیا۔ وہ پانی پر چلتے اور ایک انجیر کے درخت کو خشک کرکے ختم کر دیتے۔ ان معجزات کے علاوہ، ان خصوصیات میں سے ایک جس نے انہیں خصوصی بنایا،وہ ان کا گہرا تقویٰ تھا۔ بہت اخلاص اور عقیدت کے ساتھ عبادت کرتے۔ کبھی کبھی وہ پہاڑوں کی طرف جا کر پوری پوری رات عبادت میں گزار دیتے۔ بائبل بھی ان کی عبادت کے بارے میں بات کرتی ہے۔ "ان دنوں جب وہ مادی جسم میں تھے۔" یعنی، زمین پر اپنی زندگی کے دوران یسوع نے ، " زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور التجائیں کیں، وہی خدا ہے جس نے اسے موت سے بچایا۔ ان کے خدا ترس ہونے کے سبب ان کی التجا کو سُنا گیا۔ " اسی طرح بہت سی دوسری آیات یسوع کی عبادت اورخدا سے دعا کو بیان کرتی ہیں۔ اپنے آپ سے زیادہ عظیم ذات سے دعا کرنا،ایک عاجز بندے کا رویہ دکھانا،بے بسی سے رونا،اسی سے ڈرنا۔ کیا یہ چیزیں مکمل طور پر ان کے خدا ہونے کے خیال سے متصادم نہیں؟ بہرحال،آپ کو خدا کا اپنی عبادت کرنے جیسا کچھ بھی ، قرآن،بائبل یا کسی بھی دوسرے صحیفے میں نہیں ملے گا۔ اس طرح کی آیات بائبل میں ایسے سوالیہ نشان ہیں جو چرچ کی روایتی تعلیمات کے بارے سوالات اٹھاتی ہیں۔ ایک اور خصوصیت جس نے انہیں اپنے وقت کے لوگوں سے ممتاز کیا وہ ان کا انداز گفتگو تھا۔ انہوں نے سچائی کو آسانی سے سمجھانے کے لیے خوب صورت تشبیہات استعمال کیں۔ ہم ایک بار پھر خود کو ان کے وقت میں تصور کرتے ہیں، اور ان کی ایک تقریر سنتے ہیں جو گوسپل آف میتھیو میں ہے ۔ "جُھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تُمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطِن میں پھاڑنے والے بھیڑئیے ہیں۔ تم ان کے پھلوں کو دیکھ کراُن کو پہچان لوگے۔ جس طرح تم کانٹے دار جھاڑیوں سے انگور نہیں پا سکتے۔ جیسے ہر اچھے درخت پہ اچھا پھل ہوتا ہے اور برے درخت پہ برا۔ ایک اچھا درخت خراب پھل نہیں رکھتا ، اور ایک خراب درخت اچھا پھل نہیں رکھتا۔ ہر درخت جو اچھا پھل نہیں رکھتااسے کاٹ کر آگ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔ " تاہم قرآن مجید، جھوٹے نبیوں کی نشاندہی کے لیے اس طریقے کا ذکر نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے ، اسلامی عقیدے کے مطابق ، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری نبی ہیں۔ اور چونکہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے،فطری طور پر،اس طرح کے کسی طریقہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم،اس تمثیل کے ساتھ،یسوع نے بتایا کہ نبوت کا سلسلہ ان کے ساتھ ختم نہیں ہوتا ہے۔ وہ یہ واضح کردیتے ہیں کہ ایک اور نبی مستقبل میں آئیں گے اور وضاحت کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح پہچانا جاسکتا ہے۔ اب ہم ان کی نبوت کے تیسرے سال میں ہیں۔ وہ 30 سال کی عمر سے صبر اور ہمت سے پیغام کی بنا رکے تبلیغ کر رہے تھے۔ اور ان دنوں یہودیوں کا تہوار قریب آرہا تھا۔ یہودی مذہبی لیڈر خود بھی جھوٹ بول بول کر تھک چکے تھے کہ وہ اس مقام تک ، پہنچ گئے جہاں وہ اب عیسیٰ علیہ السلام کو بالکل برداشت نہیں کرسکتےتھے۔ تو انہوں نے کچھ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ مل کر ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا۔ تاہم وہ عیسی علیہ السلام کےلئے لوگوں کی محبت اور حمایت سےخوفزدہ تھے ۔ اسی لئے انہوں نے خفیہ طور پر ان کے خلاف پلان بنایا، عیسی علیہ السلام نے محسوس کیا کہ اپنے لوگوں میں ان کے آخری دن ہیں، لیکن پھر بھی وہ ان کے لیے پریشان تھے۔ ان کے جانے کے بعد کیا ہونے والا تھا؟ کیا سبھی لوگ اور ان کے بعد کی نسلیں قیامت تک کفر میں رہیں گی؟ ان کی رہنمائی کون کرے گا؟ حضرت عیسی جیسے ہمدرد انسان کے لیے یہ سب برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن انہیں ایسی بات کا علم تھا کہ جس سے وہ پرسکون ہو گئے۔ کہ لوگوں کو رہنمائی کے بغیر اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بعد کوئی آئے گا جو ساری انسانیت کو سچائی کی طرف لے آئے گا۔ اس کا ذکر قرآن اور بائبل دونوں میں کیا گیا ہے ۔ گوسپل آف جان میں ہم یہ حوالہ دیکھتے ہیں۔ "مجھے تم سے اور بھی بہت کچھ کہنا ہے۔ جو تمہاری برداشت سے زیادہ ہے ۔ لیکن جب وہ سچائی کی روح والا آئے گا، وہ تمہاری ساری سچائیوں میں رہنمائی کرے گا۔ وہ خود سے بات نہیں بنائے گا،وہ صرف وہی بولے گا جو وہ سنتا ہے، اور تمہیں بتائے گا کہ ابھی کیا باقی ہے۔" یاد کریں،ایک اور جگہ پر انہوں نے جھوٹے نبی کو پہچاننے کے طریقہ کار کا ذکر کیا۔ اس حوالہ میں ، انہوں نے آنے والے آخری نبی کی شناخت کے بارے میں بھی ایک اشارہ دیا۔ ایک عیسائی کے لئے،یہ یقینی طور پر غیر متوقع ہے ، لیکن اگر وہ زیادہ توجہ سے دیکھیں،تو پتہ چلے گا کہ بائبل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنا واقعی ضروری ہے۔ کیوں؟ کیونکہ عیسائی نقطہ نظر سے، اب دو امکانات ہیں۔ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سچے نبی ہیں یا ، معاذاللہ جھوٹے ہیں۔ جب ہم اسے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ان کے مذہب کی پیروی کرتی ہے۔ اور پوری تاریخ میں،ان گنت لوگ ، عیسائی اسکالرز سمیت،عیسائیت سے اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ اگر وہ سچے نبی نہ ہوتے، تو حضرت عیسی یقینی طور پر عیسائیوں کو متنبہ کیا ہوگا۔ انھوں نے کہا ہوتا ، "ایسا شخص مستقبل میں آئے گا۔ اس پر یقین نہ کریں۔ اور اس طرح ، وہ ان کی حفاظت کرتے۔ لیکن اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سچے نبی ہیں تو یسوع کو کہنا چاہئے تھا ، کہ"ان خصوصیات کا ایک نبی میرے بعد آئے گا ، اور وہ آپ کو صحیح راہ پر گامزن کرے گا۔ آپ کو اس کی پیروی کرنی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں ، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی انداز میں ، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یسوع نے اس کا ذکر ضرور کیا ہوگا؟ در حقیقت ، بہت سارے اسکالرز نے اس کی وضاحت اور ثابت کیا ہے نبی کریم کی بائبل کی مختلف آیات میں پیش گوئی کی گئی تھی ، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا تو یسوع جانتے تھے کہ ایک نبی ان کے پیچھے آئے گا ، اور یہ ان کے آخری دنوں میں سب سے بڑی راحت اور تسلی تھی۔ آخر ، پاس اوور کا وقت آگیا ، اور یہ خاص دن یسوع کے لئے ایک اہم موڑ بن گیا۔ جب اس نے دعا ختم کردی تھی ، تو یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ چلا گیا اور وادی Kidronکو عبور کیا۔ دوسری طرف ایک باغ تھا ، اور وہ اور ان کے شاگرد اس میں چلے گئے۔ اب یہودہ ، جس نے ان کے ساتھ غداری کی ، اس جگہ کو جانتا تھا ، کیونکہ یسوع اکثر وہاں اپنے شاگردوں سے ملتے تھے۔ تو یہوداہ سپاہیوں کے ایک دستے اور سردار کاہنوں اور فریسیوں کے کچھ اہلکاروں کو لے کر باغ میں آیا، جو یہودی مذہبی عالم تھے۔ وہ مشعلیں، لالٹین ، اور ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔ تب فوجیوں اور یہودی عہدیداروں نے حغرت عیسیٰ کو گرفتار کیا اور انہیں باندھ دیا۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یسوع نے اپنی گرفتاری کے لیے آنے والوں پر کیا ردِعمل ظاہر کیا۔ کیونکہ دو مختلف انجیلوں میں جوایک ہی واقعہ کو بیان کرتیں ہیں ، ہم دو بالکل مخالف رویوں کو دیکھتے ہیں۔ انجیلِ متی میں یسوع کو پُرامن طور پر سرنڈر کرتے ہوے دکھایا گیا ہے، اور وہ اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں کہ متشدد نہ ہوں۔ جبکہ انجیلِ یوحنا میں وہ زیادہ اختیار اور دلیری کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ متی میں ، یسوع نے کہا ، "دوست، جس کے لئے آپ آئے تھے وہ کرو۔ لیکن یوحنا کے اکاؤنٹ میں ، جب فوجی پہنچے ، یسوع آگے بڑھا اور پوچھا کہ وہ کس کی تلاش کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے جواب دیا، "یسوع ناصری" تو انہوں نے فرمایا، "میں ہوں"، اور وہ سب زمین پر گر پڑے۔ اگرچہ مسیحی مانتے ہیں کہ دونوں اناجیل وحی سے نازل شدہ ہیں، تاہم واقعات میں اختلافات ہمیشہ ایک معمہ ہی رہے ہیں۔ کیونکہ یہ تضادات صرف یہاں نہیں ہیں۔ وہ کہانی کے پہلے اور بعد کے کچھ حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ چاروں انجیلوں میں ، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بعض اوقات معلومات مماثل نہیں ہوتی ہیں اور بعض اوقات واقعات کا حکم مختلف ہوتا ہے۔ تو ان کی گرفتاری کے بعد کیا ہوا؟ اسلامی ذرائع کے مطابق ، حکام کو پتہ چلا کہ عیسیٰ کہاں رہے تھے اور انہیں پکڑنے آئے ، لیکن وہ پہلے ہی جا چکے تھے۔ اللہ نے انہیں ان ظالم لوگوں سے بچا لیا تھا اور معجزانہ طور پرانہیں آسمانوں تک پہنچا دیا۔ تاہم ، وہ اس سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔ کیونکہ ان کے سامنے کھڑا ہوا وہ شخص تھا جو عیسیٰ کی طرح نظر آتا تھا۔ یہودا، اللہ نے یہودا کو عیسیٰ کی طرح ظاہر کیا اور حکام نے اسے موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ اگرچہ یہودا شدت سے پکارا ، "میں یسوع نہیں ہوں ،" کسی نے بھی اس پر یقین نہیں کیا۔ بہرحال ، اللہ کی سزا کے راستے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ غداری کرنے والا اپنے جرم سے کیسے بچ سکتا ہے؟ کسی نے اس کی بات نہیں سنی۔ اور خوف اور مایوسی کے عالم میں ، غداری کرنے والا مصلوب ہوگیا۔ اسے اس دنیا میں اپنی سزا کا ایک حصہ ملا ، اور اس کی اصل سزا کی طرف اس کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے ساتھ کیا ہوا قرآن میں اس کے بارے میں کہا گیا ہے۔ "انہوں نے اسے نہیں مارا ، نہ ہی انہوں نے اسے مصلوب کیا ، اُنہیں ایسا ہی دکھائی دیا۔" بلکہ اللہ نے اسے اپنے پاس اٹھایا۔ "اور اللہ زبردست، بڑی حکمت والا ہے۔ اسلام میں یہ خیال کیا جاتا ہے یسوع آسمانوں میں ہیں ، مطلب آسمان ، جنت میں نہیں۔ جبکہ بائبل میں ، کہانی کا یہ حصہ اس طرح بتایا جاتا ہے۔ کہ وہ فوجی جنہوں نے یسوع کو مصلوب کیا وہ ان کا مذاق اڑا رہے تھے اور ان کی توہین کررہے تھے ، اور یہودی لوگ گواہ ہونے کے لئے جمع ہوئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اور آخر کار یسوع نے پکارا۔ "میرے خدا ، میرے خدا ، تم نے مجھے کیوں ترک کیا؟ جب آپ اس منظر سے بیان کردہ منظر کا موازنہ کرتے ہیں تو آپ کیا اختلافات دیکھتے ہیں؟ کیا واقعی میں یسوع کی کہانی ختم ہونی چاہئے تھی؟ طنز اور توہین کے تحت مرنا ، ایسے الفاظ کہتے ہوئے جو خدا سے بغاوت جیسے لگیں؟ یا پھر اس طرح جس طرح قرآن اسے بیان کرتا ہے؟ اور کیا یہ عجیب نہیں کہ جسے خدا مانا جاتا ہے، اس کا انجام ایسا ہو؟ اس حقیقت کو چھوڑ کر کہ ان کی موت ہوگئی ، اگر وہ خدا ہیں ، تو وہ کس سے بات کر رہے تھے؟ جب اُنہوں نے کہا، "تو نے مجھے کیوں ترک کیا؟" مطلب ، تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اس کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس نے اپنی زندگی وقف کردی لوگوں کو خدا کی طرف بلانے میں۔ کیا اس کا آخری جملہ یہ تاثر نہیں چھوڑتا جو اللہ پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے؟ کیا یسوع واقعی یہ کہہ سکتے تھے؟ کیا انہوں نے یہ الفاظ اس لئے کہے کہ ان کے خیال میں انہوں نے غلط شخص پر بھروسہ کیا ہے؟ اگر وہ واقعی خدا ہوتے، تو کیا ایسا کہنا کہ "تم نے مجھے کیوں ترک کیا؟" یہ ظاہر نہیں کرتا کہ وہ لاعلمی یا مایوسی کا شکار تھے۔ اور یہ خصوصیات خدا کے مطابق کیسے ہوں گی؟ اور بھی بہت سارے سوالات ہیں جو ہم پوچھ سکتے ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اسلام میں بیان کی جانے والی کہانی ہمیں یسوع کی زیادہ درست تصویر فراہم کرتی ہے؟ کہانی کے بہت سے حصوں میں، جب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے لئے استعمال ہونے والے القاب جیسے "خدا" اور "خدا کا بیٹا" کو "نبی" اور "رسول" سے بدل دیتے ہیں، تو الجھن ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے بار باراس بات پر زور دیا کہ خدا ایک ہے اور خدا کو اپنے لوگوں سے "ہمارے خدا" کے طور پر متعارف کروایا۔ بالکل عہد نامہ قدیم کے نبیوں کی طرح۔ ان میں سے کسی نے بھی خدا کے بارے میں دوسرا یا تیسرا شخص ہونے کی بات نہیں کی۔ اس کے بجائے ، انہوں نے ہمیشہ اس کی وحدت پر زور دیا اور کہا کہ خدا پہلا اور آخری ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی یسوع کی پوجا نہیں کی اور نہ ہی انہیں خدا کی حیثیت سے اپنے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس نقطہ نظر سے ، کیا ہم واقعی یہ کہہ سکتے ہیں کہ؟ ان میں سے کوئی بھی عظیم نبی صحیح راہ نہیں ڈھونڈ سکا؟ آئیے اب کہانی پر واپس چلیں۔ بائبل کے مطابق ، یسوع کا انتقال ہوگیا، تین دن کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا ، اور پھر وہ جنت چلے گئے ۔ لہذا اگر دونوں عقائد اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اٹھائے گئے ہیں ، تو آگے کیا ہوتا ہے؟ یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں ہم مشترکات میں سے ایک کو دیکھتے ہیں اسلام اور عیسائیت کے مابین۔ دونوں کا خیال ہے کہ یسوع وقت کےاختتام کے قریب زمین پر واپس آجائیں گے۔ وہ زمین پر آئیں گے اور تباہی سے انسانیت کو نکالیں گے۔ وہ ان نظریات کے خلاف لڑیں گے جو لوگوں کی دنیاوی اور ابدی زندگی کو برباد کررہے ہیں ، اور ایک منصفانہ جج کی حیثیت سے انہیں صحیح راہ پر گامزن کریں گے۔ مزید برآں، اسلام کے مطابق، وہ لوگوں کو دکھائیں گے عیسائیت کی اصل حقیقت اور اس مذہب کو پاک کریں گے باطل اور توہم پرستی سے اور اس کی اصل شکل کو ظاہر کریں۔ یعنی، وہ انہیں اسلام کی طرف جو کہ تمام پیغمبروں کا مشترکہ پیغام ہے۔ وہ ان کو حضرت محمد (ص) کی راہ پر گامزن کریں گے۔ ، نبی آخرالزماں کی راہ پر۔ اور تمام عیسائیوں کے سامنے فیصلے کے دن ، یسوع اللہ کے ساتھ اپنے آقا کے ساتھ سچ بولیں گے۔ سورت المائدہ میں ، اس منظر کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ "اور (دن سے بچو) جب اللہ کہے گا ، 'اے یسوع ، مریم کے بیٹے!

کیا آپ نے لوگوں سے کہا ، '"مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟"' 'وہ جواب دیں گے، "پاک ہے تُو! میرے لئے یہ کہنا جائز نہیں تھا جو میں نے کبھی کہا ہو۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا، تو یقیناً تُو اسے جانتا۔ تو وہ جانتا ہے جو میرے اندر ہے، اور میں وہ نہیں جانتا جو تیرے اندر ہے۔ یقیناً، تُو ہی سب غیب کو جاننے والا ہے۔ میں نے کبھی ان سے کچھ نہیں کہا سواۓ اس کے جو تُو نے مجھے حکم دیا، کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ میں نے کبھی ان سے کچھ نہیں کہا سواۓ اس کے جو تُو نے مجھے حکم دیا، کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ لیکن جب تُو نے مجھے اٹھا لیا، تو تُو ہی ان پر نگہبان تھا اور تُو ہر چیز کا گواہ ہے۔ ہیں۔ الکورن 5: 116-117
