# "Mere Dost Ne Mujhe Chaaku Mara Aur Marne Ke Liye Chhor Diya!" | Akhi Ayman

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/my-friend-stabbed-me-and-left-me-to-die-from-crime-to-islam-tearful-story-of-akhi-ayman
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=BSs0NQIxFxM
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میں کام سے واپس آیا، میں نے ایک دوست کو دیکھا۔ کوئی چند منٹ بعد، جیسے ہی میں مڑ کر جانے لگا، تو اُس نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ اور خنجر میرے پیٹ سے باہر نکل آیا۔ میں اُس کا مقابلہ کرنے کے لیے پیچھے مڑا، لیکن میں کمزور پڑ گیا کیونکہ میرا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ جب میں اسپتال پہنچا تو ڈاکٹر نے کہا کہ، "ہم آپ کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر ہوش میں نہیں آ رہے تھے۔ ہم نے ڈی فبریلیٹر استعمال کیا، لیکن صاف ظاہر تھا کہ آپ کی واپسی ممکن نہیں رہی۔" تو ڈاکٹر نے گھڑی کی طرف دیکھا، اور کہا، "موت کی گھڑی آ چکی۔" واللہ!

(اللہ کی قسم) اُس نے سفید چادر میرے منہ پر ڈال دی۔ اُس کے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے، مشین میں سے آ واز آ ئی ۔ بِیپ، بِیپ، بِیپ۔ میں جیل میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی والدہ کو جیل میں آتے دیکھا۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا، "آپ مجھ سے ملنے دوبارہ کبھی نہیں آئیں گی۔" "تم یہ کیا کہہ رہے ہو، ایمن؟ میں تمہاری ماں ہوں۔ مجھے آنے سے مت روکو۔" مجھے وہ دن یاد ہے جب مجھے اپنی بہن کا فون آیا تھا۔ اور وہ کہہ رہی تھی، "ایمن، امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے!" میرا بھائی مجھے کال کر رہا تھا، "ایمن، میں یہ بات صرف ایک بار کہوں گا، بس ایک بار۔۔۔" کچھ ہی سیکنڈز بعد میری جو حالت ہوئی...

میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔ السلام علیکم ، اخی ایمن۔ -وعلیکم السلام۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ -شکریہ آپ کا۔ آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ اِس سوال سے شروعات کرتے ہیں کہ اخی ایمن کون ہیں، کیا آپ ہمیں اپنی زندگی کے متعلق مختصراً بتائیں گے؟ میرا تعلق عراق سے ہے، اور 11/9 کی وجہ سے مشکل زندگی گزاری۔ اُس کے بعد کرائمز کی دنیا میں چلا گیا، جیل گیا، باہر آیا،قتل کی کوشش کی گئی۔ لیکن میرے لیے تب بھی امید باقی تھی۔ پھر میں نے اپنے راستے بدل لیے، اور میں اللہ کی طرف لوٹ آیا۔ اور اب، میں بس نوجوانوں کو صرف اور صرف اچھائی کی دعوت دیتا ہوں۔ میں اپنے والدین کے ساتھ اچھا تھا۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا تھا، کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں والدین کا احترام کرتا تھا۔ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے، اور امید ہے اب بھی کرتے ہوں گے۔ مگر گھر سے باہر ایسے معاملات تھے اُن سے خود ہی نمٹنا پڑتا تھا۔ اور یہ تو لندن کی سڑکیں ہیں۔ انگریزی نہ بولنے کی وجہ سے ہراساں کیا جاتا تھا، حملے ہوتے تھے، 11/ 9کی وجہ سے۔ اور پھر اُسی دوران، تقریباً 14 یا 15 سال کی عمر میں، مصیبت میں پھنسنا شروع ہوا۔ اور مصیبت بھی سنگین۔ صرف چھوٹے موٹے کرائمز نہیں بلکہ شدید وائلنس (violence)۔ اور ظاہر ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ہم حالات میں الجھتے گئے، آپ جانتے ہی ہوں گے کہ گیارہ ستمبر کو کیا ہوا تھا۔ تو میں اور میرا بھائی، ہم کبھی گینگز کا حصہ نہیں رہے۔ ہم اِس طرح کے بالکل نہیں تھے جو باہر نکل کر شہرت حاصل کرنے کی یا اپنا نام بنانے کی کوشش کرتے۔ تو میرا تعلق جس علاقے سے ہے، وہاں کے ہر محلے، ہر بلاک اور ہر ہاؤسنگ اسٹیٹ میں کوئی نہ کوئی گینگ ممبر موجود تھا، اور ہم بس اُن کے بیچ پھنسے ہوئے تھے۔ وہ لوگ حملہ کر رہے تھے جن سے ہمارا کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔ مسلسل ایک کے بعد ایک جھگڑا۔ ہر دن جنگ کی طرح تھا۔ کبھی کبھی آپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ دشمن کہاں سے آ دھمکے گا۔ تو اس لیے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ اس وجہ سے ہم پولیس کے ہتھے چڑھتے، جیل جاتے اور سبق سیکھتے۔ کیا آپ ہمیں اُس موڑ پر لے جا سکتے ہیں جب آپ نے سوچا، "ایک منٹ رکو، یہ میں کیا کر رہا ہوں؟" یعنی وہ دن جب سے آپ کی زندگی بدلنا شروع ہوئی؟ مجھے یاد ہے کہ جب میں تقریباً دو سال یا اِس سے زیادہ عرصے جیل میں تھا، تو اُسی دوران میں نے اپنی والدہ کو جیل آتے دیکھا۔ تو یہ جیل میں تقریباً میرا پہلا سال تھا۔ اب تک والدہ کو نہیں دیکھا تھا۔ فون پر بات ہوتی تھی۔ تو میری والدہ جیل آئیں، اور مجھے یاد ہے کہ وہ حجاب اور عبایا میں تھیں، بالکل ایک عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والی خاتون کی طرح۔ مجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے، وہ اِس لباس میں تھیں، اور ا ُن کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ اور اُس لمحے، جب وہ مجھ سے ملنے آئیں، تو نہ میں اُنہیں گلے لگا سکتا تھا، اور نہ میں اُن کے ہاتھوں کو چُوم سکتا تھا، کیونکہ بیچ میں شیشے کی کھڑکی تھی۔ اُن کی خوشبو تک محسوس نہیں کر سکتا تھا۔ اور مجھے یاد ہے کہ وہ مسلسل رو رہی تھیں۔ اور وہ۔۔۔ میرے لیے زندگی کا رُخ بدل دینے والا موڑ تھا۔ تب میں نے خود سے کہا تھا کہ، "جب جیل سے باہر جاؤں گا، اُن کا سر فخر سے اونچا کروں گا۔ نوکری ڈھونڈوں گا۔ ضرور کروں گا، ایک اچھا بیٹا بنوں گا۔ والدین کا نام روشن کروں گا۔ نوکری کروں گا، کام کروں گا، میں اُنہیں پیسے دوں گا، اور میں اپنی اسلامی تعلیمات کو سنجیدگی سے لوں گا۔" میں نے اپنی والدہ سے کہا، "آپ مجھ سے ملنے دوبارہ کبھی نہیں آئیں گی۔ میں آپ کو اِس حالت میں خود سے ملنے آتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں برداشت نہیں کر سکتا۔" اور مجھے اچھی طرح یاد ہے اُن کا چہرہ دیکھنا، میری ماں نے مجھ سے کہا، "تم یہ کیا کہہ رہے ہو، ایمن؟ تمہاری ماں ہوں۔ مجھے آنے سے مت روکو۔ میں آؤں گی، ضرور آؤں گی۔" میں نے کہا، "نہیں"، اور جب بھی وہ ملنے کا وقت طے کرتیں، میں کینسل کر دیتا۔ اور ہمارے بِچھڑنے کے بعد، اُن کے جانے کے بعد، میں واپس اپنے لاک اپ گیا، اللہ کے سامنے رونے لگا۔ "یا رب، میں شرمندہ ہوں، معاف کر دے۔ مجھے معاف کر دے۔ میں والدین کو دکھ پہنچانے پر شرمندہ ہوں۔ تیری نافرمانی کرنے پر شرمندہ ہوں۔ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر شرمندہ ہوں۔ خود سے بدلہ لینے پر شرمندہ ہوں۔ شرمندہ ہوں نفسانی خواہشات پرچلنے پر ۔" میں ایک بیٹا تھا، اور مجھے ماں یاد آ رہی تھی۔ اُن کے گلے لگنے، اُن کے ہاتھ کے کھانے، اُن کے پیارکو ترس رہا تھا۔۔۔ میں آپ کو کیسے بتاؤں ؟ مجھے یاد آ رہا تھا اُن کا میرے کمرے کے پاس سے گزرنا اور کہنا، "ایمن، گُڈ نائٹ۔" سمجھ رہے ہیں ناں آپ ؟ میں جیل میں بند تھا۔ میں نے دوبارہ وضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی، اور پکارا، "یا رب توبہ، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں، مجھے معاف کر دے۔ لوگوں کو دکھ پہنچانے پر شرمندہ ہوں ۔ والدین کا دل دکھانے پر شرمندہ ہوں۔" کیونکہ وہ ایسے نہیں ہیں کہ اُنہیں جیل آنا پڑے۔ اچھا بچہ پالا تھا اُنہوں نے، اور میں ہوں اچھا ۔ بس بات یہ تھی کہ مجھے 'ناں' کہنا نہیں آتا تھا۔ کبھی جب آپ اللہ سے بات کر رہے ہوتے ہیں، تو آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ جو خاموش دعا اللہ سے کی جاتی ہے، وہی سب سے بلند بن جاتی ہے۔ اور اُس لمحے میری بھی یہی کیفیت تھی، وہ خاموش دعا۔ آپ جو مانگتے ہیں اللہ اور آپ کے بیچ وہی بلند ہوتی ہے۔ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ آپ کے دل کا حال جانتا ہے ۔ جس دن بالآخر میں دوبارہ اپنے گھر والوں سے ملا، مجھے یاد ہے کہ میرے بڑے بھائی مجھے لینے آئے تھے۔ اس بات کی خبر میرے امی ابو کو بالکل بھی نہیں تھی کہ میرا بڑا بھائی مجھے لینے کے لیے آرہا ہے۔ جیل سے باہر آیا اور سیدھا پروبیشن آفس گیا، دستخط کرنے کے لیے۔ تو وہاں سے نکل کے میں گھر پہنچا۔ وہ جمعہ کا دن تھا اور وہ لوگ نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔ جب وہ گھر آئے، میں نے کہا، "سرپرائز!" اور پھر میرے امی اور ابو رونے لگے، اور ہم ایک دوسرے کے گلے لگ گئے، اور امی نے کھانا بنایا، یہ بالکل ایموشنل تھا۔ اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں نے، بامیا (بھنڈی) اور ڈولما (قیمہ بھرے پتے) کھائے تھے۔ وہ بہترین کھانا تھا۔ اچھا، کیا آپ ہمیں اُس دن کے متعلق بتا سکتے ہیں جب آپ پر حملہ ہوا تھا؟ اصل میں، دو الگ الگ مواقع پر مجھ پر خنجر سے حملہ ہوا تھا۔ پہلا واقعہ مئی 2014 کے آس پاس کا ہے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد، میں ڈینٹسٹ کے پاس چیک اپ کے لیے جا رہا تھا، راستے میں وہ ملا جس سے میرا جھگڑا تھا، وہ گینگ میں تھا۔ لیکن جیسے ہی ٹرین آئی ، وہ اسٹیشن سے جانے لگا، ٹرین پر سوار ہوتے ہوئے اس نے خنجر کسی اور کو دے دیا اور اس نے میری ٹانگ میں گھونپ دیا، پہلی بار تب خنجر لگا۔ دوسرا واقعہ اُس کے کچھ مہینوں بعد اگست میں ہوا، اور یہ ایک دوست نے کیا ۔ میں کام سے واپس آیا، میں نے ایک دوست کو دیکھا۔ میں اُس کی طرف بڑھا، بالکل آمنے سامنے۔ میں نے اُسے دیکھا، اور جیسے ہی ہم ملے، ہم باتیں کرنے لگے۔ اور جیسے ہی میں مڑ کر جانے لگا ، اُس نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ اور خنجر میرے پیٹ سے آر پار ہو گیا۔ بڑا خنجر تھا۔ اُس نے مجھے خنجر مارا، اور پھر میں اُس کا مقابلہ کرنے کے لیے پیچھے مڑا، لیکن کمزور تھا کیونکہ میرا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ اور وہ خنجر۔۔۔اور اُس کا دستہ بڑا تھا ، اُس پر چھوٹے چھوٹے دندانے بنے ہوئے تھے۔ -اچھا۔ تو جب وہ جسم میں جاتا ہے، تو سیدھا اندر دھنس جاتا ہے، اور باہر نکالتے ہوئے ان دندانوں کی وجہ سے ، وہ آپ کے جسم کے اندرونی اعضاء کو بھی اپنے ساتھ باہر کھینچ لاتا ہے۔ پھر وہ وہاں سے بھاگ گیا، اور میں ایک دکان کی طرف بڑھا ، ان سے کہا کہ" ایمبولینس بلائیں، مجھے خنجر لگا ہے،" میں وہیں گر گیا۔ جب میں اسپتال پہنچاتو ڈاکٹر نے میرا آپریشن کرنے سے پہلے ، بات بتاتے ہوئے کہا کہ، "جب ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ ٹھیک ہیں، تو اچانک دل کی دھڑکن رک گئی۔ تو ہم آپ کو فوراً آپریشن تھیٹر لے گئے۔ ہم آپ کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے، ہوش میں نہیں آ ئے۔ ڈی فبریلیٹر بھی استعمال کیا۔ پھر بھی واپسی ممکن نہیں رہی۔" ڈاکٹر نے گھڑی کی طرف دیکھا، اور کہا، "موت کی گھڑی آ چکی ہے۔" واللہ!

(اللہ کی قسم) اُس نے سفید چادر میرے منہ پر ڈال دی۔ اور وہ کمرے سے باہر جانے ہی والا تھا تاکہ جا کر میری امی، میرے ابو، میرے بھائیوں اور دوستوں کو یہ خبر دے سکے کہ ایمن اِس دنیا میں نہیں رہا، اُس کے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے، مشین میں سے آواز آئی۔ بِیپ، بِیپ، بِیپ۔ -سبحان اللہ۔ یہ اللہ کی طرف سے رحم و کرم کا معاملہ ہوا۔ یہ صاف ظاہر ہے جتنی بھی مشین ہیں اس دنیا میں، وہ آپ کو دوبارہ زندگی نہیں دے سکتیں۔ اللہ ہی ہے جو آپ کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ یہ ڈاکٹر نہ تو مسلمان تھا نہ عیسائی، خدا کو مانتا ہی نہیں تھا۔ لیکن اِس واقعے نے اُس کی آنکھیں کھول دیں۔ جی ہاں!

اُس نے کہا، "مجھے ڈاکٹری کرتے ہوئے 40 سال ہو گئے ہیں، مگر میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کرشمہ نہیں دیکھا۔" وہ لوگ میری امی اور میری چھوٹی بہن کو لے کر اسپتال پہنچے۔ اور پورے 18 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد، میں لائف سپورٹ مشین پر رہا۔ نو دن تک ۔ جب مجھے ہوش آیا، مجھے یاد ہے گھبرا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے جیسے ہی میری آنکھ کھلی، میں نے ڈاکٹر سے۔۔۔ مطلب نرس سے کہا، "جاؤ ڈاکٹر کو بلاؤ، شاید وہ میرے پیٹ پر کوئی چیز بھول گئے ہیں!

آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟" تب اُنہوں نے مجھ سے کہا، "ایمن، فی الحال آپ کو کچھ وقت ایسے ہی جینا پڑے گا، اور پھر بعد میں ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم اِسے دوبارہ پہلے جیسا کر سکتے ہیں اور سب کچھ نارمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔" تو اِس وقت میں اپنے پیٹ پر ایک بیگ کے ساتھ جی رہا ہوں۔ یعنی ، یہاں میرے پیٹ پر ایک بیگ لگا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں ٹوائلٹ عام طریقے سے نہیں جا سکتا۔ اور مجھے درد رہتا ہے۔ تکلیف میں رہتا ہوں میں۔ چوبیس گھنٹے یہاں تک کہ ابھی بھی تکلیف میں ہوں۔ جسم کو اِس کی عادت ہو چکی ہے، میں اِس درد کو چھپانا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو اندازہ نہ ہو۔ اِس لیے میں مذاق کرتا ہوں، ہنستا ہوں، اور لوگوں کے ساتھ مذاق کرتا ہوں۔ اپنے درد کو بھلانے کے لیے ۔ خنجر لگنے کے اُس واقعے کے کچھ عرصے بعد، مجھے اغوا کر لیا ۔ مجھے دشمن اٹھا کر لے گئے ۔ اور اُنہوں نے مجھ پر جو ظلم ڈھائے ، اور جو درد ناک اذیتیں دیں، اُن کی وجہ سے میرے پیٹ کا ایک بڑا حصہ کاٹنا پڑا، اور میری آنتوں کا کچھ حصہ نکالنا پڑا۔ اِسی وجہ سے ڈاکٹر نے کہا، " یہ بیگ آپ کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔" اور اُسی دوران، ڈاکٹر نے بتایا کہ میں باپ نہیں بن سکتا، کیونکہ میرے جسم کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ۔ تو بس، اللہ کی طرف سے آزمائش تھی۔ لیکن واللہ، میں نے ان سے انتقام نہیں لیا۔ واللہ، اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ اُن سے بدلہ کیسے لینا ہے۔ جانتا تھا کہ کہاں رہتے ہیں۔ اُن کی ہر ایک جگہ کا علم تھا، واللہ!

یہاں تک پتہ تھا کہ ا ن کی ماں کون سی گاڑی چلاتی ہے! لیکن میں نے اللہ پر چھوڑ دیا۔ میں اُس کا دوست تھا۔ ہم ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ اور سچ بتاؤں تو، میں اُس سے جتنی بھی نفرت کروں، جتنی تکلیف پہنچانا چاہوں اور اپنا بدلہ لوں، لیکن بدلہ لینا اسلام میں نہیں ہے۔۔۔ مثال کے طور پر، اگر اللہ اُسے اسلام کی ہدایت دے، تو میں اُسے گلے لگا لوں گا ۔ اور سگے بھائی کی طرح چاہوں گا، کیونکہ اسلام آپ کو اپنے آپس کے اختلافات بُھلانے کا درس دیتا ہے۔ کچھ میرے دشمن تھے، لیکن آج وہی دشمن میرے دوست ہیں۔ وہ میرے بھائی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اشھد ان لا الہ الا اللہ!

(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔ دین آپ کو سب سے آگے رکھتا ہے۔ نسب یا نسل سے کوئی سروکار نہیں، آپ کی شکل سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہم کالے ہیں گورے ہیں نیلے ہیں پیلے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم مسلمان ہیں، اسلام کا مطلب ایک لڑی میں پیرونا ہے۔ ایک شخص ایسا تھا جسے میں جانتا تھا، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ جس لمحے وہ مسلمان ہوا، اُس نے فوراً مجھ سے رابطہ کیا۔ واللہ !

اُس نے خود مجھ سے رابطہ کیا، " ایمن، السلام علیکم ، میں بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمان ہو گیا ہوں۔ ملاقات ہو جائے تو اچھا ہوگا۔" میں سوچ رہا تھا کہ، "یہ شخص جھوٹا ہے۔ جس نے مجھے پہلی بار خنجر مارا تھا، اس نے کہا مسلمان ہو گیا ہوں۔ وہ شخص کیا باتیں کر رہا ہے؟" لیکن ہم آج اچھے دوست ہیں ۔ کیا آپ ہمیں اپنی والدہ کے آخری دنوں اور اُن کے انتقال کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں، اگر یہ پرائیویٹ معاملہ نہ ہو تو؟ مجھے یاد ہے وہ 2022 کا سال تھا۔ میری امی اور میرے دو بھائی، وہ کچھ وقت مدینہ میں رہے، اوروہاں سے مکہ چلے گئے۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب مجھے اپنی بہن کا فون آیا تھا۔ اور میری بہن کہہ رہی تھی، " امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اُن کے لیے دعا کرو"۔ میں نے کہا، " لیکچر کے لیے جا رہا ہوں خطبہ دینے کے لیے، بعد میں رابطہ کروں گا۔ دعا کروں گا۔ میں جب خطبہ دے رہا تھا، اور بیان کر رہا تھا، اسی دوران مجھے میرے بھائی کا فون آیا۔ پھر میری بیگم نے فون کیا۔ پھر بہن کا فون آنے لگا ۔ پھر میری بڑی بہن نے مجھے فون کیا۔ ہر کوئی مجھے فون کرنے لگا تھا۔ یعنی، میرا دماغ سمجھ گیا تھا، دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ بس وہ سب مجھے یہی خبر دینے کے لیے فون کر رہے تھے۔ میری امی مکہ گئی ہوئی تھیں، وہ عمرہ کر رہی تھیں، اور عمرے کے دوران اُن کا انتقال ہو گیا۔ اور مجھے یاد ہے میں نے اپنے اُس بھائی کا فون اٹھایا جو وہاں اُن کے ساتھ موجود تھا۔ جب میں نے فون اٹھایا، لگا کہ کوئی اچھی خبر ہوگی۔ الحمدللہ۔ وہ مجھے کال کر رہا تھا، لیکن ویڈیو کال کیوں ؟ شاید امی کو دِکھانے کے لیے، ہے ناں؟ مجھے اپنے بھائی کا وہ چہرہ اچھی طرح یاد ہے۔ میرا بھائی بولا، "ایمن، میں یہ بات ایک بار کہوں گا، بس ایک بار۔۔۔ ہماری ماں۔۔۔ اللہ کے پاس چلی گئی ہیں۔" اور فون کاٹ دیا۔ بیان کے دوران ہوا یہ سب، اور ریکارڈ بھی ہو رہا تھا ۔۔۔ اور مجھے یاد ہے، میرا خیال ہے، میں خوش ہوں کہ میرے سامنے ویڈیو نہیں آئی کیونکہ کچھ ہی سیکنڈز بعد جو میری حالت ہوئی۔۔۔ کیسے بتاؤں ،خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔ الحمدللہ ہر حال میں، لیکن۔۔۔ وہ عظیم خاتون تھیں۔ مکہ کا پہلا سفر تھا۔ پہلی بار عمرہ کر رہی تھیں۔ پہلی بار۔ جتنا عرصہ وہ مکہ اور مدینہ میں تھیں۔ میری اُن سے بات نہیں ہو سکی تھی۔ مگر اُن کی واپسی سے، اُن کی واپسی سے ایک دن پہلے، واپسی ایک دن پہلے، اُنہوں نے مجھے ایک وائس نوٹ بھیجا تھا۔ "السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ (تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں) ایمن۔۔۔" اُنہوں نے کہا تھا، "ایمن، میں بس واپس آنے والی ہوں، مجھے اپنے کپڑوں کا ناپ بھیج دو، تاکہ میں وہاں سے تمہارے لیے لے آؤں۔" یہ وہ آخری الفاظ تھے ۔ آہ، یا رب!

الحمدللہ۔ اُن کے انتقال کے کوئی آٹھ یا نو مہینے بعد ، مجھے یاد ہے وہ میرے خواب میں آئیں، اور کہنے لگیں، "کیا تم مجھے بھول گئے ہو؟ایمن" میں اُن کے قریب بڑھ رہا تھا، جوں جوں میں آگے بڑھتا، وہ اور دُور، اور دُور ہوتی جا رہی تھیں ، اُن کا چہرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ بس ایک نور تھا۔ چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں دوڑ کر اُن کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا مگروہ پیچھے ہٹتی جا رہی تھیں، پیچھے ۔ جانتے ہیں اِس خواب نے کیا احساس دلایا؟ یہ کہ کبھی کبھی میں اُن کے لیے دعا کرنا بھول جاتا ہوں۔ اِس لیے وہ میرے خواب میں آئی تھیں کہ، " ایمن، کیا تم مجھے بھول گئے ہو؟" واللہ! ایک وقت آئے گا جب آپ تڑپیں گے کہ کاش آپ کے ابو کا فون آ جائے، امی کی کوئی کال آ جائے، آپ فون اٹھائیں اور کہیں، "جی امی!

جی ابو، بتائیے کیا کام ہے؟ کہیں جانا ہو تو بتائیں؟ کچھ لانا ہو تو بتائیں؟ امی، مجھے بتائیں کس دکان پر جانا ہے؟ کیا چاہیے حکم دیں ، ابھی لے آتا ہوں۔" مجھے اب وہ فون کبھی نہیں آئے گا۔ میری امی چلی گئیں۔ قدر کریں، اپنے والدین کی قدر کر لیں۔ قرآن میں آتا ہے کہ آپ اپنے والدین کو "اف" (ناگواری کا اظہار) تک نہ کہیں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ کی شادی کافی کم عمر میں ہو گئی تھی۔ آپ کی اپنی بیگم سے ملاقات کیسے ہوئی، اور یہ پورا سفر آپ کے لیے کیسا رہا؟ دیکھیں، میری بیوی کا میری زندگی میں آنا اور اُن روایات کے دائرے کو توڑنا جن میں ہم رہتے ہیں، جیسا کہ ہمارا تعلق عراقی کُردش پس منظر سے ہے۔ اپنی برادری میں شادیاں کرتے ہیں ۔ میں نے جن سے شادی کی وہ بالکل مختلف پس منظر سے تھیں۔ اِس فیصلے سے میرے والدین خوش نہیں تھے، ہاں، ایک راضی تھے، کیونکہ بس وہ میری خوشی چاہتے تھے۔ دوسرے نے اِسے قبول نہیں کیا، مگر اُن کا معاملہ نہیں تھا۔ میں اسلامی طریقے سے بالکل صحیح کر رہا تھا۔ آپ مجھے منع نہیں کر سکتے۔ آپ کو اسلامی دلیل سے مجھے بتانا ہوگا کہ میں اِس خاتون سے شادی کیوں نہیں کر سکتا۔ الحمدللہ شادی ہو گئی۔ اور اِس ذمہ داری کو میں نے اِس نیت سے قبول کیا کہ، ان شاء اللہ، یہ میرے لیے ایک صدقۂ جاریہ بن جائے گا، کہ ایک ایسے بچّے کی پرورش کر رہا ہوں جو میرا نہیں ہے۔ ایک طرف مجھے کہا گیا کہ میں کبھی باپ نہیں بن سکتا، اللہ نے میرے لیے ایک ایسی خاتون کے ذریعے راستہ کھول دیا جن کا ایک بچہ تھا۔۔۔ گویا اللہ نے میرے لیے یہی چنا تھا۔ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ،مجھے دل سے قبول ہے ۔ یہی بات تھی۔ اور مجھے ضرورت تھی۔ مجھے ایک فیملی چاہیے تھی۔ اور اللہ نے عطا کر دی۔ شروع کا دور بہت مشکل تھا، جھوٹ نہیں بولوں گا، سوتیلا باپ بن کر رہنا۔ اور مجھے یہ لفظ پسند بھی نہیں ہے۔ میں یہ پسند کروں گا کہ "میں وہ باپ ہوں جس نے ذمہ داری سنبھالی۔" یہ سوتیلا پن نہیں ہے، آپ سمجھ رہے ہیں ناں؟ میں نے وہ فرض نبھایا جو کوئی دوسرا مرد نہیں نبھا سکتا ، اور میں اِس پر اللہ کا شکر گزار ہوں۔ اخی ایمن کی زندگی کا سب سے برا فیصلہ کون سا تھا؟ جیل جانا۔ اس بات پہ مجھے افسوس رہے گا۔ اور سب سے بہترین فیصلہ؟ شادی کرنا تھا۔ شادی کرنا۔ الحمدللہ۔ اخی ایمن کو اب تک کا سب سے اچھا اور سب سے برا کمنٹ کیا ملا؟ مجھے یاد ہے ایک آدمی تھا، وہ میرے پاس آیا، اُس نے مجھے ایک کیفے میں دیکھا تھا۔ اس نےآگے بڑھ کرمجھے گلے لگایا اور مجھ سے کہا، "برادر، آپ کو بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میری 12 سال کی بیٹی نے آپ کی وجہ سے حجاب پہننا شروع کر دیا ہے۔" اور اُس بات نے مجھے بے انتہا خوشی دی۔ "مگر میں آپ کو صرف یہ بتانے نہیں آیا۔ یہ تو اُس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔" کہنے لگا، "میری بیٹی کو دیکھ کر، میری بیوی نے بھی حجاب پہننا شروع کر دیا ہے۔" سبحان اللہ۔ میں نے ہدایت نہیں دی، ہدایت تو اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ میں تو یہ کہنے آیا ہوں کہ، "اسلام کی بنیادی باتوں پر عمل کریں، اور باقی اللہ پر چھوڑ دیں۔" وہ کام جسے کرنا اخی ایمن کو سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے؟ فٹ بال کھیلنا۔ واقعی؟ ہاں!

مطلب، باقاعدہ فٹ بال، ہاں بس فٹبال ۔ امریکن فٹ بال نہیں، بلکہ۔۔۔ نہیں نہیں جسے کچھ لوگ سوکر کہتے ہیں، مگر ہم اُسے فٹ بال ہی کہتے ہیں۔ فٹ بال، بس وہی۔ آخری چیز آپ نے گوگل پر کیا سرچ کی تھی؟ -آخری چیز میں ابھی دیکھ کر بتاتا ہوں۔ -جی بالکل، ضرور۔ آپ کے سامنے دیکھتا ہوں۔ - دکھائیے۔ آپ کو یہ بہت پسند آئےگا۔ کیالکھا ہے، ترابزون؟ ترکی۔ آخری چیز جو میں نے تلاش کی تھی، بس یہی ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ "کتنی خوبصورت جگہ ہے۔" یہ وہ آخری چیز تھی جس کے لیے میں گوگل پر گیا تھا، پیج ابھی بھی کھلا ہوا ہے۔ تو آپ وزٹ کرنے والے ہیں۔ مجھے نیچر بہت پسند ہے۔ ہریالی پسند ہے۔ جب میں ترکی کی اِس جگہ کو دیکھ رہا تھا، تو میں نے سوچا، "ارے، یہ تو بڑی خوبصورت جگہ ہے۔ ضرور جانا چاہیے۔" کوئی ایسا مزاحیہ لمحہ جب آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جسے آپ کبھی نہ بھول پائے ہوں؟ مطلب کسی مثبت انداز میں۔ ایک وقت آیا جب میرا خیال ہے۔۔۔ میں، ٹی وی پر تھا، BBC پر، برسوں پرانی بات ہے۔ میں اسپتال کے اندر کسی ڈاکومنٹری کی شوٹ کر رہا تھا۔ اور میں سب کے سامنے یوں کھڑا تھا، اور کوئی بھی مجھ سے ہاتھ نہیں ملا رہا تھا۔ اور وہ میرے لیے انتہائی شرمندگی کا لمحہ تھا، اِس حد تک کہ کیمرہ مین نے بھی کیمرے کا رخ موڑ دیا تاکہ مجھے تھوڑا سا۔۔۔ وہ پوری دنیا کو یہ منظر دکھانا نہیں چاہتا تھا۔ تو میں وہاں یوں ہی کھڑا تھا، اور کیمرہ مین مجھے دیکھ رہا تھا، اور۔۔۔ وہ میری زندگی کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی زندگیاں آپ کے ذریعے بالکل بدل گئیں۔ ان میں سے جو آپ کو یاد ہیں، کس نے آپ کو جذباتی طور پر سب سے زیادہ متاثر کیا؟ کچھ سال پہلے میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں کوئی 30 یا 40 لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ تھا۔ اور مجھے یاد ہے کہ جیسے ہی میں، ہوٹل سے باہر نکل کر کعبہ شریف کی طرف جانے لگا، تو ساتھ والے نے کہا، "ایمن، ایمن، وہ تمہیں بلا رہا ہے۔" چنانچہ ایک بھائی قریب آیا، "السلام علیکم۔" "وعلیکم السلام۔" اور اُس نے سب کے سامنےکہا، کہ"ایمن، آپ کی وجہ سے میں نے ڈَرَگز کا دھندا چھوڑ دیا۔" اور اُس لمحے، جیسے میرا دل اُن آنسوؤں کو نہ روک پایا جو میری آنکھوں میں آ گئے تھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھیے میرے بتانے کا وہ مقصد نہیں ہے۔ ہدایت میری طرف سے نہیں آتی۔ لیکن کسی کا مجھے یہ کہنا کہ، "چونکہ میں نے آپ کی کہانی سنی تھی اور آپ کو اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے دیکھا اور یہ کہ آپ نے کیسے توبہ کی، اِس بات نے مجھے مجبور کر دیا، اور اِسی لیے آج میں یہاں ہوں۔" کہا، "میں نے باقاعدہ نوکری کی تاکہ حلال پیسے کما سکوں اور سفر کے اخراجات پورے کر سکوں۔" ایسی باتیں کوئی خود سے نہیں بنا سکتا۔ الحمدللہ۔ اللہ ہمیں اخلاص پر قائم رکھے۔ اللّٰھُمَّ آمین۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کھل کر بتائیں۔ اگر آپ کا اِسی وقت انتقال ہو جائے، تو آپ خود کو جہنم کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں یا جنت کے؟ جہنم کے۔ واللہ (اللہ کی قسم)۔ کیونکہ مجھے نہیں معلوم جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں، وہ قبول بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ اور میں اِس بارے میں سوچتا ہوں۔ مطلب، کیا میری نیتیں درست ہیں؟ کیا میں یہ سب لوگوں کو دکھانے کے لیے، یا اللہ کے لیے کر رہا ہوں؟ میں ڈرتا ہوں۔ ہمارے اندر ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ مگر میں کم از کم کوئی ایسی چیز چھوڑ جاؤں گا جس کی وجہ سے لوگ مجھے اچھے لفظوں میں یاد رکھیں، اور میرے لیے دعا کر سکیں۔ باقی میں اللہ پر چھوڑتا ہوں، کیونکہ صرف رحمت، صرف اللہ کی رحمت کے ذریعے ہی میں جنت میں داخل ہو سکوں گا۔ لیکن میں ڈرتا ہوں، کچھ نہیں جانتا۔ میں جانتا ہوں انتخاب کرنا مشکل ہے، مگر وہ کون سی آیت ہے جو آپ کے دل کو سب سے زیادہ چُھوتی ہے؟ قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ میری پسندیدہ آیت۔ "میں اپنے رنج و غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں۔" نہ بیوی سے، نہ ماں سے، نہ باپ سے، نہ بچوں سے، کسی سے بھی نہیں، صرف اور صرف اللہ سے۔ اور یہ سورۃ یوسف کی آیت ہے۔ یہ یعقوب علیہ السلام کا قول تھا، جب اُنہوں نے یوسف علیہ السلام کو کھو دیا تھا، جنہیں اُن کے بھائیوں نے مارنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مر چکے ہیں۔ تب اُنہوں نے کیا فرمایا تھا؟ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ۔ اور اگر ہم سب، اِس آیت کو اپنی زندگیوں میں اتار لیں، تو سب کچھ بدل جائے گا۔ لوگوں کو اپنے مسائل مت بتائیں۔ اُنہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ تو خوش ہوتے ہیں کہ آپ مسائل سے گزر رہے ہیں، وہ ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ سوائے اُس مخلص انسان کے، جو واقعی اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور وہ دل سے آپ کا بھلا چاہتا ہو، وہی صحیح مشورہ دے گا۔ باقی سب ایسے ہی ہیں۔ انہیں آپ کی پریشانی اچھی لگتی ہے۔ آپ کی مصیبتیں دیکھ کر انہیں تسکین ملتی ہے۔ اگر اخی ایمن جنت میں پہنچ گئے، تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے؟ میں نے کچھ سال پہلے امی کو کھو دیا، اُن کا انتقال مکہ میں ہوا، اللہ اُن پر اپنی رحمت فرمائے۔ اگرچہ میں اُنہیں بہت یاد کرتا ہوں، اُنہیں دیکھنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ۔۔۔ سب سے پہلے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دیدار کرنا چاہتا ہوں، ظاہر ہے اللہ کے دیدار کے بعد۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا چاہتا ہوں آپ کاشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، آپ کوگلے لگانا چاہتا ہوں آپ کے ہاتھ کو چومنا چاہتا ہوں، آج میں ان کی وجہ سے مسلمان ہوں۔ کیونکہ اگر آپ ہمت ہار دیتے، تو آج ہم سب کہاں ہوتے؟ آپ نے ہار نہیں مانی۔ آپ پیچھے نہیں ہٹے۔ میں آپ ہی کی وجہ سے مسلمان ہوں۔ میں نے قرآن کو آپ کے ذریعے جانا، کیونکہ وہ آپ پر نازل ہوا تھا۔ میں اِس سنت سے واقف ہوں کہ مجھے اپنی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے، اپنے والدین کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے، صرف اور صرف آپ کی بدولت۔ رحم دلی آپ سے سیکھی، وہ بھی لوگوں کے لیے ،صرف آپ کی بدولت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور میں کہوں گا، " معاف کرناامیدوں پر پورا نہ اتر سکا امت کے لیے کچھ نہ کر سکا۔" ایک شخص آپ کو لفٹ میں دیکھتا ہے۔ وہ آپ کو پہچان لیتا ہے اور پوچھتا ہے، "میری زندگی میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے، پھر میں دین دار بن کر خود پر بِلا وجہ پابندیاں کیوں لگاؤں؟" آپ ایک منٹ میں اُسے کیا جواب دیں گے؟ آپ کے پاس زندگی میں کچھ نہیں ہے، اگر آپ کے پاس اللہ نہیں ہے تو۔ اللہ آپ کو دنیا کے دھندوں میں اُلجھا دیتا ہے۔ آپ دل میں سوچتے ہیں کہ آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ مگر جب اللہ ہی نہ ہو، تو باقی چیزوں کی کیا حیثیت ؟ اللہ آپ کو دنیا میں مزے کرنے دے گا۔ لیکن برادر، جب آپ کے دل میں ایمان نہیں ہوتا، تو اللہ آپ کو آپ کی ذات سے غافل کر دیتا ہے۔ جیسا کہ آیت میں آتا ہے: وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ "اور تم اُن جیسے نہ ہو جانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے، تو اللہ نے اُنہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔" اور وہ آپ کو آپ ہی سے غافل کیسے کرتا ہے؟ اِس طرح کہ وہ آپ کو دنیا کے کاموں میں مصروف کر دیتا ہے۔ "میں نے اتنے لاکھ پاؤنڈ کما لیے، میرے پاس یہ گاڑی ہے، یہ گھر ہے، میری یہ فیملی ہے۔" یہ سب اللہ نے نہیں، میں نے کیا ہے۔ نہیں، نہیں، اللہ آپ سے کہلواتا ہے یہ۔ کیونکہ آپ نے اُسے بھلا دیا تھا۔ اللہ آپ کو خود آپ کی ذات سے غافل کر دیتا ہے۔ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ، "میں گناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہوں، میں اِس سے باہر کیسے نکلوں؟" آپ اُن لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟ آپ اللہ سے چاہے کتنے ہی دُور کیوں نہ چلے گئے ہوں، واپسی کا ایک قدم ہے، بس یہ کہنا کہ "یا رب، مجھے معاف کر دے۔ یا رب!

مجھے معاف کر دے۔" سچے دل سے کہیں، اللہ معاف کر دے گا۔ اللہ آپ کو اُسی وقت معاف فرما دے گا۔ بشرطیکہ آپ مخلص ہوں۔ اور وہ ہر گناہ معاف کر دے گا۔ دیکھیں، شیطان آپ سے کہتا ہے کہ آپ نے اتنے گناہ کر لیے ہیں کہ اللہ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ مگر اللہ فرماتا ہے، "اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو لیں، تم توبہ کر لو، میں معاف کر دوں گا۔ جب تک کہ تمہاری روح تمہارے جسم میں سلامت ہے۔" لیکن کبھی بھی گناہ کو "زندگی کا ایک تجربہ یا سفر" کہہ کر اُس کا جواز پیش نہ کریں۔ کیونکہ میں شراب نوشی کر کے اُسے "ذاتی تجربہ" نہیں کہہ سکتا۔ اور نہ ہی اس آزمائش میں رہنا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عورتوں کو عزت بخشی ہے اور اُن کا رُتبہ بلند کیا ہے۔ اور اگر آپ کسی معاشرے کو تباہ کرنا چاہیں، تو وہاں کی خواتین کو بے پردہ کر دیں۔ آج یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ حیا معاشرے کو دوبارہ سنوارتی ہے۔ اور خدا سے ڈرنے والے مرد اپنی نظریں نیچی رکھتے ہیں اور اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اور ویسے، میں نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ اگر خواتین آج ہماری امت میں خدا سے ڈرنے والی نہ ہوتیں، تو یہ امت پہلے ہی تباہ و برباد ہو چکی ہوتی۔ یہ ماؤں کی دعائیں ہی ہیں جو ہمیں مضبوط بنائے ہوئے ہیں۔
