# “Meri Hindu Girlfriend Ne Mujhe Wapas Islam Se Joda” – @The Sunnah Guy Ki Kahani

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/my-hindu-girlfriend-led-me-back-to-islam-emotional-life-story-of-at-the-sunnah-guy
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=A-xPS0uZY7c
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

میری ایک گرل فرینڈ تھی، وہ ہندو تھی۔ میرا پورا خاندان مذہبی ہو گیا تھا، مجھے مذہبی نہیں بننا تھا، مجھے سچ میں نفرت تھی...

۔۔۔ایسے مذہب سے جو مجھ پر پابندیاں لگائے۔ میں آزاد رہنا چاہتا تھا، لیکن میرے والد بہت سخت تھے، وہ مجھے ہر روز فجر کی نماز کے لیے اٹھاتے تھے۔ اور میں نیچے جاتا تھا، منہ پر پانی مارتا تھا، اور واپس بستر میں جا کر سو جاتا تھا، میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ پانچ سال تک میں یہی کرتا رہا۔ میں بہت بری طرح بیمار ہوا۔ قے پر قے، قے پر قے، بس قے ہی ہو رہی تھی۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا۔ میں نے کہا، "یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔" میں شکوک و شبہات میں پڑ گیا۔ شیطان ہر لمحے میرے کان میں وسوسے ڈال رہا تھا۔ اگر اسلام سچا نہ ہو تو؟ اور پھر میں نے سوچا، اب مجھے تحقیق کرنی چاہیے۔ میں سوچ رہا تھا، کیا یہ وہ چیز ہے جسے میں نظرانداز کرتا رہا ،ساری زندگی؟ السلام علیکم بھائی شعیب حسین، جنہیں "دا سُنّہ گائے" بھی کہا جاتا ہے۔ خوشی ہے کہ آپ ٹوورڈز اٹرنٹی میں ہمارے ساتھ ہیں۔ سب سے پہلے بتائیں شعیب حسین کون ہے؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتے ہیں؟ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرے بھائی۔ الحمدللہ، یہاں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ تو میرا نام شعیب حسین ہے اور میں برطانیہ میں رہنے والا ایک پاکستانی ہوں۔ میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جو بہت زیادہ امیر نہیں تھا، بس ایک ،بس برطانیہ میں موجود ایک عام سا خاندان ۔ میں سچ بتاؤں تو، بچپن سے ہی، مجھ میں والدین کے خلاف بغاوت کا رجحان تھا۔ مختصر یہ کہ جیسے جیسے میں بڑا ہوا، میرا پورا خاندان مذہبی ہو گیا۔ مجھے مذہبی نہیں بننا تھا۔ مجھے تو سچ میں مذہب کے اس تصور سے نفرت تھی جو مجھ پر قابو رکھے۔ میں آزاد زندگی جینا چاہتا تھا۔ اور میں نے سولہ سال کی عمر میں اسلام کو پایا۔ اور پچھلے سولہ سال سے میں نے اپنی زندگی اسلام کا پیغام پہنچانے میں لگائی ایسے طریقے سے جس سے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد اور ان پر اثر ڈال سکوں۔ کیا آپ ہمیں ان پرانے دنوں میں واپس لے جا سکتے ہیں، اسلام کا شعور ملنے سے پہلے آپ کا ماحول کیسا تھا، آپ کو کن چیزوں کا شوق تھا؟ مجھے یاد ہے ایک وقت جب میں سکول میں تھا اور ایک غیر مسلم بچے کو پاکستانی مسلمان بچے تنگ کر رہے تھے۔ اور میں نے کہا، "یہ غلط ہے۔" کیونکہ میرے سکول میں پاکستانی اکثریت میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بلاوجہ اس کے بیگ کو لاتیں مار رہے ہیں۔ وہ اسے تنگ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا، "یہ غلط ہے۔ یہ کیسے کر سکتے ہو؟ اس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟" تو اس کا دفاع کرنے پر مجھے تنگ کیا گیا۔ پرائمری سکول میں بھی مجھے تنگ کیا گیا اور سیکنڈری سکول میں بھی تنگ کیا گیا، کیونکہ میں سب سے مختلف تھا۔ اور پھر بعد میں، جب میں پانچ سال کا تھا، تب میرے والد نے مذہب کی طرف رجوع کیا۔ اور تب وہ سخت ہو گئے، بہت سخت۔ لیکن مجھے یہ سختی پسند نہیں تھی۔ کڑواہٹ پسند نہیں تھی۔ زبردستی نماز پڑھائی جاتی تھی، مجھے پسند نہیں تھا کیونکہ میں نے کہا، "رکو، مجھے تو اپنی آنٹی کے ساتھ آزادی ملی ہوئی تھی، مجھے اس کی عادت ہے۔ یہ نہیں چاہیے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔" میرے والد اتنے پکے ارادے کے تھے کہ سکول کے بعد، ہر روز دو گھنٹے، آٹھ سال کی عمر سے چودہ سال کی عمر تک، مطلب چھ سال تک،انہوں نے مجھے مدرسے بھیجا۔ میں وہاں جاتا، بیٹھا رہتا بوریت سے جیسے مر ہی جاتا، اور اس لمحے کا بے چینی سے انتظار کرتا کہ کب گھڑی میں ساڑھے چھے بجیں گے ۔ واللہ، مجھے آج بھی یاد ہے وہ گھڑی کیسی دکھتی تھی۔ وہ چاندی کی گھڑی تھی۔ میں اسے ایسے گھورتا رہتا تھا۔ جیسے ہی ساڑھے چھ بجتے میں سوچتا، اے میرے خدا، اب میری جان چھوٹ گئی۔" تو وہ سکول میرے والد سے بچنے کا ایک ذریعہ تھا ۔ میرے والد جب مجھے کہتے "نماز پڑھو، سکول میں وضو ضرور کرو۔" میں نے کبھی نہیں کیا۔ ہمیشہ اسے نظر انداز کیا۔ میں نے چار، پانچ سال نماز نہیں پڑھی۔ میرے والد سمجھتے تھے میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ کیونکہ بغاوت میری عادت تھی۔ مجھ میں رچ بس گئی تھی۔ میں ایسے ہی بڑا ہوا تھا۔ انہیں اس کا نہیں پتہ تھا۔ اور شاید یہی وہ مقام تھا جہاں ایک کشمکش تھی کیونکہ میرے دل کے اندر ایک اخلاقی روشنی تھی جو صحیح کام کرنا چاہتی تھی، سو فیصد صحیح کام ، لیکن میرے والد بہت سخت تھے، تو وہ مجھے ہر روز فجر کی نماز کے لیے اٹھاتے تھے۔ اور میں نیچے جاتا تھا، منہ پر پانی مارتا تھا، اور واپس بستر میں کود جاتا تھا۔ اور میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ پانچ سال تک یہی کرتا رہا۔ وہ سمجھتے تھے میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ جبکہ میں لڑکیوں سے باتیں کرتا تھا۔ اور یہ سب کچھ ان کی پیٹھ پیچھے ہو رہا تھا۔ میری والدہ، سبحان اللہ، انہیں تھوڑا بہت پتہ تھا۔ تو وہ ابو سے کچھ باتیں چھپا لیتی تھیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میری پٹائی ہو۔ یہ 2008 کی بات ہے۔ اس وقت پیس ٹی وی بہت مقبول تھا۔ تو یہ پہلا انگریزی چینل تھا جس پر بات ہوتی تھی، یونئو دعوت کے بارے میں، اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں، اور یہ سکائی ٹی وی پر تھا۔ اللہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر رحمت فرمائے۔ تو وہ ڈاکٹر ذاکر کو سنتی تھی، اور سبحان اللہ، جب وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سنتی تھیں۔ ہر بار وہ کہتی تھیں، "دیکھو دیکھو انہیں، دیکھو، دیکھو ۔" دیکھو، دیکھو انہیں، اور وہ مجھ سے کہتی تھیں، "کہ کاش تو بھی ان جیسا بن جائے۔" اور میں وہاں سے چلا جاتا تھا اور سوچتا تھا، مائی گاڈ، یہ چاہتی ہیں میں اس جیسا بنوں؟ نہیں نہیں چھوڑو۔ یہ کبھی نہیں ہونے والا، کبھی نہیں۔ کیا آپ ہمیں اس لمحے میں لے جا سکتے ہیں جب آپ نے کہا، "رکو ذرا، میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟" اور جب آپ کی زندگی بدلنے لگی؟ میری ایک گرل فرینڈ تھی 2010میں ۔ 2009-2010 کی بات ہے۔ وہ ہندو تھی۔ مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی ۔ میں اسے "محبت" سمجھ رہا تھا، اور پھر ایک دن جو ہوا، اچھا یہ سات سال تک ادھر اُدھر منہ مارنے کے بعد کی بات ہے۔ میں اس سے فون پر بات کر رہا تھا کیونکہ برف پڑی ہوئی تھی، اور برف کی وجہ سے اسکول نہیں جاتے تھے۔ تو یہ کرسمس کی چھٹیوں کے بعد کی بات تھی۔ سو میں اس سے فون پر باتیں کر رہا تھا۔ ہم جاگ رہے تھے، کیونکہ ہم اسکول واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ تو میں فجر کے بعد اس سے بات کر رہا تھا۔ میری امی میرے کمرے میں آنے والی تھیں۔ وہ اندر آنے والی تھیں، لیکن وہ ہماری باتیں سن کر رک گئیں۔ اور پھر وہ بیس منٹ تک وہیں کھڑی رہیں، سنتی رہیں۔ مجھے پہلے کبھی پکڑا نہیں گیا تھا۔ اور وہ سنتی رہیں، سنتی رہیں۔ اور پھر وہ واپس جا کر سو گئیں۔ میں بھی سو گیا۔ میں اٹھا تو میری امی نے مجھ سے کہا، "فون پر کون تھا؟" بھائی میں آپ کو بتا نہیں سکتا، مجھے ٹھنڈے پسینے آ نے لگے۔ "فون پر کون تھا؟" اور میں بس...

میں نے کافی کوشش کی بہانے وغیرہ بنانے کی۔ اور پھر میں پھٹ پڑا۔ میں نے سب کچھ بتا دیا۔ سات سال کی بھڑاس نکل گئی۔ میں نے کہا، "آپ لوگ کبھی نہیں سمجھیں گے کہ محبت کیا ہے۔ آپ کو نہیں پتہ یہ کیا ہے،" ڈا ڈا ڈا ڈا ڈا میں اپنے والدین کے سامنے پھٹ پڑا، دونوں کے سامنے۔ اور مجھے لگا ابو مجھے ماریں گے، لیکن وہ خاموش رہے۔ اور پھر میں باہر نکلا اور پورا دن روتا رہا کیونکہ دل ٹوٹ چکا تھا۔ اور میں سوچ رہا تھا... کہ میری امی نے دیکھا وہ غیر مسلم ہے، انہوں نے نام پوچھا۔ اور جیسے ہی میں نے نام بتایا...!

۔ امی نام سن کر چیخنے لگی، زور سے چیخنے لگی، کیا تم نہیں جانتے کہ وہ ایک غیر مسلم ہے۔ میں نے تمہاری ایسی پرورش تو نہیں کی تھی؟ یہ وہ یہ وہ اور پھر مجھے سوچنے کا وقت ملا۔ میں فوراً نہیں بدلا، ان دنوں میں غمگین گانے سننے لگا۔ اور دوستوں کے ساتھ گھومنے لگا۔ اور میرے دوست سمجھاتےتھے، "برو، کوئی بات نہیں، فکر نہ کر و۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ تمہاری ہے تمہیں مل کر رہے گی۔ " پھر میں نے اپنی گرل فرینڈ کو بتایا کہ، "میرے والدین کو پتہ چل گیا ہے۔ تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا اگر یہ رشتہ آگے بڑھانا ہے تو اسلام قبول کرو۔" اور اس نے کہا، " ائی ایم سوری ۔ میں نہیں کر سکتی۔ میں اپنی ماں کے مذہب کے خلاف نہیں جاؤں گی۔" اور واللہ، مجھے یاد ہے، بس یہی بحث چلتی رہی۔ میں اسے سمجھاتا رہا کئی دنوں تک ، اور پھر میں نے سوچا، کہ اب مجھے تحقیق کرنی چاہیے۔ مجھے اسے قائل کرنا ہوگا، کسی بھی طرح۔ اسے قائل کرنا ہوگا کہ اسلام سچا ہے۔ تو پھر میں نے گوگل اور یوٹیوب پر جا کر ٹائپ کیا، "کہ ایک ہندو کو کیسے قائل کریں کہ اسلام سچا ہے۔" واللہ، مجھے یاد ہے، وہ گوگل کرنا۔ اور جو شخص میرےسامنے آیا وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک تھے۔ اور اس بار میں نے واقعی انہیں سنا۔ سالوں تک امی نے مجبور کیا انہیں سننے پر، لیکن اس بار میں انہیں خود سننا چاہ رہا تھا۔ پھر میں نے انہیں لگایا اور ان کے سارے لیکچرز سنتا رہا۔ پہلے ایک لگایا ،پھر دوسرا ،پھر تیسرا، پھر ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد ایک، اور بس دیکھتا ہی گیا۔ جب انہوں نے بات شروع کی جنین کے بارے میں ، بگ بینگ کے بارے میں، قرآن میں سائنس کے بارے میں۔ میرا منہ کھلا رہ گیا۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ وہ پیس ٹی وی پر بھی یہی کہہ رہے ہوتے تھے لیکن میں سنتا نہیں تھا۔ آواز آتی تھی، لیکن میں دھیان نہیں دیتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ جب میں نے ، انہیں توجہ کے ساتھ سننا شروع کیا ، تب میں نے سوچا، " کہ کیا یہ وہی چیز ہے جسے میں ساری زندگی نظرانداز کیا؟ کیا انہی باتوں سے میں بے خبر رہا؟ اتنے عرصے تک انہی باتوں کو میں نظر انداز کرتا رہا؟" سبحان اللہ۔ میں نے سوچا، "اوو میرے خدا۔" اور پھر میرے پاس پورے دو، تین ہفتے تھے غور فکر کے لیے۔ ان دو، تین ہفتوں میں میں بہت بیمار ہو گیا۔ فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے لگتا تھا مر جاؤں گا ۔ پھر مجھے یاد ہے میں سیدھا جائے نماز پر گیا اور سجدے میں گر گیا۔ میں نے وضو کیا اور پھر نماز پڑھی۔ پھر میں نے کہا، "یا اللہ۔ یا اللہ، مجھے معاف کر دے، سب کچھ معاف کر دے۔" سبحان اللہ، میں وہ خوبصورت لمحہ نہیں بھول سکتا جب میں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ویڈیوز دیکھنا شروع کیں۔ تو مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام سچا ہے۔ اور پھر میں نے آہستہ آہستہ سکول میں دوستوں کو سمجھانا شروع کیا، تو انہوں نے میرا مذاق اڑایا۔ پھر میں نے دوستوں سے فاصلہ کر لیا۔ اور پھر اللہ نے مجھے بہت بری بیماری دی۔ میں چھے دن تک بیمار رہا۔ قے پر قے، قے پر قے، بس قے ہی ہو رہی تھی۔ -جسمانی بیماری؟ -ہاں ہاں ، جسمانی بیماری۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا۔ میں خود کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ بالکل نہیں سنبھال پا رہا تھا۔ پھر اس کے بعد میں نے کہا، "یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔" اور میں بہت، بہت جذباتی تھا اس وقت۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس دن میں نے کہا۔ "آج کے بعد کبھی بھی میں نماز نہیں چھوڑوں گا۔" اور یہی وہ دن تھا جب میں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے عہد کیا اور فیصلہ کیا۔ اور اس کے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اور سبحان اللہ اسی وقت سے میری زندگی بدل گئی۔ اور مجھے احساس ہوا کہ اسلام سچا ہے۔ واقعی سچا ہے۔ سبحان اللہ، اللہ حقیقی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی ہیں۔ وہ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اللہ نے ان سے اپنے فرشتے جبرائیل کے ذریعے بات کی۔ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کیا بات ہے!

یہ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی۔ اور میں نے سوچا، " کہ، میں ساری زندگی کیا کرتا رہا؟" تو سبحان اللہ، یہی وہ وقت تھا جب میں بدل گیا۔ آپ کے دوستوں نے آپ کی نئی شخصیت، آپ کی نئی پہچان پر کیا ردعمل دیا؟ میں نے انہیں حرام چیزوں کے بارے میں بتانا شروع کیا اور کہا کہ ہمیں نماز پڑھنی چاہیے۔ وہ سب ہنسنے لگے۔ اور مل کر میرا مذاق اڑانے لگے۔ ہمارے یہاں ایک چیز ہوتی ہے جسے پروم کہتے ہیں۔ اسکول چھوڑنے کی گریجویشن پارٹی۔ سب اچھے لباس پہنتے ہیں۔ لیموزین کرائے پر لے کر ،سب لوگ لندن جاتے ہیں، شیشہ پیتے ہیں اور تھوڑی مستی کرتے ہیں، اور واپس آتے ہیں۔ میرے دوستوں نے لیموزین کرائے پر لی، اور میں نے کچھ مہینے پہلے ہی اسلام پر عمل شروع کیا تھا۔ میں نے نماز شروع کی، میں بدلنے لگا۔ مجھے یاد ہے میرے دوستوں نے مجھ سے بہت اصرار کیا، "تمہیں آنا ہوگا۔" میں نے کہا، "اب میں نہیں آسکتا کیونکہ مجھے نماز پڑھنی ہے۔ اور میں اپنی نماز کو نہیں چھوڑ سکتا۔" تو میرے دوستوں نے کہا، "تم فکر مت کرو، تمہاری نماز نہیں چھوٹے گی۔" اور پھر جو ہوا وہ یہ کہ، میں گاڑی میں تھا اور فجر کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ اور مجھے یاد ہے انہوں نے مجھے اتارا، اور میں فورا گھر گیا اور میں نے دیر سے فجر پڑھی۔ انہوں نے مجھے گھر سے بیس منٹ دور اتارا تھا۔ میں پیدل گیا۔ میں نے کہا ''مجھے گھر کیوں نہیں اتارتے؟" تو کہنے لگے "نہیں نہیں ہم ایسا نہیں کر سکتے، ہمیں یہ لیموزین واپس کرنی ہے ،" وغیرہ وغیرہ۔ یقین کریں مجھے پیدل جانا پڑا۔ میں ٹکسیڈو میں تھا۔ میں سولہ سال کا تھا۔ سورج ابھی ابھی نکلا تھا۔ میں نے کہا، "اب میں ان دوستوں سے دوبارہ کبھی نہیں ملوں گا ۔" اس کے بعد کیا ہوا، آپ کالج گئے اس کے بعد؟ اور آپ اپنے دین اپنے ایمان میں کیسے آگے بڑھے؟ جب میں نے سکول چھوڑا تو میں نے فٹبال کالج میں داخلہ لیا۔ یعنی فٹبال بھی کھیلو اور پڑھائی بھی کرو۔ وہاں میں اکیلا مسلمان تھا پینتالیس، پچاس غیر مسلموں کے درمیان۔ کالج میں مجھے مذہب کی وجہ سے بہت تنگ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "اگر تم سچے مسلمان بننا چاہتے ہو، تو تمہیں سورۃ العصر پر عمل کرنا ہوگا۔" "آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر۔" "ایمان لانا ہوگا۔ تمہیں نیک اعمال کرنے ہوں گے۔ تمہیں لوگوں کو حق کی دعوت دینی ہوگی اور صبر کی تلقین کرنی ہوگی۔" تم سچے مسلمان نہیں ہو سکتے اگر تم لوگوں کو بھلائی کی طرف نہیں بلاتے۔ میں نے سوچا، "ٹھیک ہے، مجھے دعوت دینی ہوگی۔ دعوت فرض ہے۔" کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔ میں سولہ سال کا تھا۔ میں نے بسوں میں کھڑے ہو کر دعوت کے ڈبے بانٹنا شروع کیے نصیحتیں کر رہا تھا۔ بس جو بھی مجھے صحیح لگتا، وہ کرتا تھا۔ لوگ میرا مذاق اڑاتے اور طعنے دیتے۔ وہ لوگ میرا بہت مذاق اڑاتے تھے۔ وہ میرا مذاق اڑاتے، اللہ کا مذاق اڑاتے، اس کے رسول کا مذاق اڑاتے۔ اور پھر سبحان اللہ، میری زندگی میں کچھ ایسا ہوا کہ میں شکوک و شبہات میں پڑ گیا۔ شبہات میں۔ ایک دن میں گھر واپس جا رہا تھا تو مجھے خیال آیا۔ ایک ایسا خیال جس نے میری زندگی بدل دی۔ اور وہ خیال تھا، "کہ اگر اسلام سچا نہ ہو تو؟" شیطان ہر لمحے میرے کان میں طرح طرح کے وسوسے ڈال رہا تھا۔ تو وہ شاید میری زندگی کا سب سے مشکل دور تھا۔ ان دنوں میری آنکھوں میں، جلن شروع ہو گئی تھی۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ میری انکھیں خشک ہونے لگی ہیں کیونکہ ان چند سالوں میں، میں بہت رویاتھا۔ کیونکہ میں یہ سوچتا تھا کہ میں غیر مسلم ہو گیا ہوں۔ کیونکہ میں نے سوال کیا تھا کہ اللہ کو کس نے بنایا؟ مجھے اس کا جواب نہیں مل رہا تھا۔ میں سجدے میں جاتا اور یہ سوچتا تھا کہ، "میں ایک دیوار کو سجدہ کر رہا ہوں۔ کوئی خدا نہیں ہے۔" میں اپنی نماز کے دوران سجدے سے اٹھتا، اور اپنی نبض چیک کرتا۔ پھرسوچتا، "سبحان اللہ، یہ کس نے بنائی ہے؟" پھر میں رو پڑتا خشوع کے ساتھ ،ایمان کے ساتھ۔ اور اس تضاد کی وجہ سے، ایک طرف لگتا تھا جہنم میں جاؤں گا، پھر سوچتا تھا کوئی خدا نہیں ہے اور خیال آ تا تھا کہ بس نماز چھوڑ دوں، اور پھر میں ایسی حالت میں آ جایا کرتا تھا لگتا تھا کہ زندگی مل گئی۔ کئی بار ایسا ہوتا تھا، بار بار، بار بار، بار بار۔ میری زندگی میں ایک ہلچل تھی، بھائی، میرا سر بس گھوم رہا تھا۔ میرا دل ہر طرف بھٹک رہا تھا۔ اور پھر میں نے ایک حدیث سنی جس سے مجھے سکون ملا۔ واللہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مومنوں کے دل الرحمٰن کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ جیسے چاہے انہیں پھیرتا ہے۔" اور پھر ایک اور حدیث، “مومن کا دل ابلتے ہوئے پانی کی طرح ہے۔” یہ ہمیشہ اوپر نیچے، اوپر نیچے، اوپر نیچےہوتا رہتا ہے۔ تمہارا ایمان اوپر نیچے اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے، "فلیسأل اللہ أن یجدد الایمان فی قلوبکم۔" "تو اللہ سے مانگو کہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرے، "مسلسل۔ مجھے یہ سب باتیں سن کر بہت سکون ملتا تھا۔ میں اکیلے ہی اسلام پر عمل کر رہا تھا۔ میں لیکچرز سنتا تھا۔ میں شیخ بلال اسد جیسے لوگوں کو سنتا تھا۔ اور مجھے یاد ہےکہ میں لوگوں کو تلاش کرتا تھا۔ میں نعمان علی خان کو بہت سنتا تھا، ان کے قرآنی...

اعجاز القرآن، قرآن کے معجزات۔ اس نے مجھے بہت مضبوط رکھا۔ اللہ نعمان علی خان پر رحمت فرمائے جو انہوں نے کیا۔ سبحان اللہ، میرے لیے یہ بہت بڑی چیز تھی، بہت بڑی۔ میں کانفرنسز میں گیا، تقریبات، کلاسز اور لیکچرز میں گیا۔ میں ایک شیخ سے ملنے گیا۔ شیخ نوید عزیز، جو بیرون ملک سے آئے تھے۔ وہ کینیڈا سے ہیں۔ اور وہ برطانیہ آئے تھے کچھ لیکچرز دینے کے لیے۔ اور میں نے ان سے کہا، "کہ شیخ، میں ان وسوسوں سے بہت پریشان ہوں۔" انہوں نے کہا، "بھائی چارہ تلاش کرو۔" تومیں نے کہاکہ ، "مجھے نہیں مل رہے، میرے آس پاس کوئی بھائی نہیں ہیں۔" تو انہوں نے کہا، " جا کر بھائی چارہ بناؤ۔" تو پھر میں اپنے سجدوں میں ایک دعا مانگتا تھا۔ "یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک" "اے دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔" اس کے بعد میری دوسری دعا بھی تھی۔ "یا اللہ، میری مدد فرما کہ میں اپنے اطراف بھائی چارہ قائم کر سکوں۔" یہ دوسری دعا تھی۔ 2011، نومبر۔ اور پھر فروری 2012 میں، میرے والد ایک آنٹی کو جانتے تھے جوملبورن، آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ فیس بک فرینڈ تھی۔ انہوں نے مجھے شیخ بلال اسد کا ایک پیغام بھیجا۔ بھائی آپ سوچیں ذرا، میرا کوئی مسلمان دوست نہیں تھا، میں شیخ بلال اسدکے سارے لیکچرز آن لائن دیکھتا تھا۔ اور اب مجھے ان کا ایک ویڈیو پیغام ملا۔ "السلام علیکم شعیب،" اور جانتے ہیں انہوں نے مجھ سے کیا کہا، "بہنوں نے مجھ سے تمہارا بہت ذکر کیا ہے۔" یہ سن کر میں نے کہا، کیا؟ شیخ بلال مجھے جانتے ہیں؟ اور پھر انہوں نے کہا، "تم برطانیہ میں میرے پسندیدہ ہو، اور میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں میرے بھائی۔" بس یہی تھا۔ میں نے اس ویڈیو کو ساری زندگی سنبھال کر رکھا۔ میں نے اس ویڈیو کو ساری زندگی دل میں رکھا۔ وہ ویڈیو میرے دل میں بسی ہوئی تھی۔ یہ 2012 کی بات ہے بھائی۔ وہ مجھے جانتے بھی نہیں تھے۔ بس ایک عام سی ویڈیو بنا کر بھیج دی۔ سبحان اللہ۔ اور یقین کریں اس ویڈیو نے میری بہت مدد کی بھائی۔ اور میں بہت خاص محسوس کر رہا تھا۔ اور اس کے بعد سبحان اللہ، اس چیز نے مجھے اور دعوت دینے کی ترغیب دی۔ تو میں نے دعوت کا اسٹال لگایا۔ وہ بند ہو گیا، میں نے دوبارہ لگایا۔ میں نے بھائیوں کو اکٹھا کیا، ہم نے دعوت دینا شروع کی۔ پھر مجھ میں دعوت دینے کا بہت جنون آ گیا، اور اور اور زیادہ۔ اور مجھے یاد ہے 2012 کے آخر میں جولائی میں کالج چھوڑنے کا مجھے بے چینی سے انتظار تھا۔ مجھے بس بے چینی سے کالج چھوڑنا تھا۔ میں نے کالج چھوڑا اور کہا، میں پوری طرح دعوت میں لگ جاؤں گا۔ تو پھر میں ہفتے میں تین بار شہر کے مرکز میں دعوت دیتا تھا۔ کبھی کبھی اکیلے کھڑا ہو کر پمفلٹ بانٹتا تھا، لوگوں سے بات کرتا تھا۔ ایک سال میں ایک سو ستر سے زیادہ لوگوں نے کلمہ شہادت پڑھا، لیکن سب چلے گئے۔ تو ہمیں احساس ہوا کہ ہمیں ایک ڈھانچہ چاہیے۔ ہم لوگوں کو ایسے گھر میں بلا رہے تھے جس میں فرنیچر ہی نہیں۔ تو پھر میں نے بھائیوں کی تربیت شروع کی، ان پر محنت کی، انہیں مضبوط کیا، اور نوجوان مسلمانوں سے بات چیت شروع کر دی۔ انہیں فٹبال کھلانے لے جاتا، کھانے پر لے جاتا، سب کو اکٹھا کرتا، رضاکارانہ کام کرواتا، تقریبات اور کانفرنسز میں لے جاتا، گاڑیوں میں بیٹھ کر سفر پر جاتے اور اسی طرح کی چیزیں کرتے ہیں۔ مقصد ایک ہی تھا، لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانا۔ اور پھر COVID آ گیا۔ اس وقت میں دوراہے پر تھا۔ میں ہمیشہ آن لائن آنا چاہتا تھا۔ ہمیشہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہتا تھا۔ ہمیشہ چاہتا تھا کہ اسلام کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچاؤں۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر یہ زیادہ لوگوں کو پیغام ملے تو زیادہ لوگ جہنم سے بچ سکیں گے۔ تو میں نے "دا سُنّہ گائے" شروع کیا، اور مختصر اسلامی فلمیں بنانا شروع کیں۔ میں اس کے لیے تیار تھا۔ مجھے لگا کہ یہ مؤثر ہوگا۔ مجھے یاد ہے میں نے ایوینجرز کی فلم دیکھی۔ اور ایوینجرز کے آخری حصے میں میں رو پڑا۔ اور جب میں رویا تو سوچا، "یہ تو بہت بہت موثر کن ہے۔ مجھ پر اتنا اثر کیوں ہو رہا ہے؟" اور پھر مجھے سمجھ آئی، جب ہم بھائیوں کو آگ کے گرد بٹھاتے توصحابہ کرام کے قصے سناتے۔ جنت اور جہنم کے بارے میں یاد دلاتے۔ ہم دیکھتے کہ تمام بھائی رو رہے ہوتے۔ میں نے سوچا، سبحان اللہ۔ جب تم آواز، آگ، بھائیوں اور ماحول کو ملا دو، تو دل پر اثر ڈال سکتے ہو۔ جذبات کو حرکت میں لا سکتے ہو۔ اور سبحان اللہ، پھر میں نے خود سے کہا، "اگر تم یہ ویڈیوز میں کر سکو تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔" تو پھر ہمارا ارادہ ہوا کہ اسے سینما میں دکھائیں۔ پھر میں نے سوچا، "کیوں نہیں؟ کیوں نہیں کر سکتے؟ بالکل کر سکتے ہیں۔" میں اور میرے سینیماٹوگرافر نے بیٹھ کربات کی، منصوبہ بنایا، چار، پانچ، آٹھ، نو، اورمزید اور تقریبا بارہ، تیرہ سین شامل کیے، اب بہت سارے سینز تھے۔ اور یہ برطانیہ کی پہلی اسلامی فلم تھی جو سینما میں دکھائی گئی۔ یہ پہلی بار تھا جب مسلمانوں نے اس بڑی سکرین کے سامنے نماز پڑھی برطانیہ کے سینماؤں میں۔ تو یہ بہت بڑا لمحہ تھا۔ مجھے بلوایا گیا، پروڈکٹ پرزینٹ کرنے کی دعوت ملی، ایمان چینل کی طرف سے جو ایمان اکیڈمی تھی، لائٹ اپون لائٹ کے اسٹیج پر۔ شیخ بلال اسد اس لائٹ اپون لائٹ کانفرنس میں گیسٹ سپیکر تھے۔ میں اسٹیج سے اترا، پھر ایک مقرر آیا، اور پھر شیخ بلال اسد آئے۔ اور جب وہ اسٹیج سے اترے تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں پکڑا۔ "مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔" وہ بس بولے، "کیا؟" تو پھر میں نے انہیں ان کے بچوں کی پرانے زمانے کی تصاویر دکھانا شروع کیں۔ کیونکہ اس آنٹی نے مجھے صرف ویڈیو نہیں بھیجی تھی، بلکہ ان کے بچوں کی تصاویر بھی بھیجی تھیں۔ میں ان کے بچوں کی تصاویر دیکھتا تھا اور سوچتا تھا، "واہ، یہ ان کے بچے ہیں، واہ۔" ان کے بچوں کی قرآن پڑھنے کی ویڈیوز۔ انہوں نے مجھے ایسے دیکھا، "کیا؟ تمہیں یہ تصاویر کہاں سے ملیں؟ میرے پاس بھی یہ تصاویر نہیں ہیں۔ یہ تمہیں کہاں سے ملیں؟" اور سبحان اللہ، پھر میں نے انہیں وہ ویڈیو دکھائی جو انہوں نے مجھے گیارہ سال پہلے بھیجی تھی۔ پھر انہوں نے کہا، " یہ تم ہو؟" میں نے کہا، "شیخ، یہ میں ہوں۔" گیارہ سال پہلے کی بات ہے۔ آپ نے مجھے یہ ویڈیو پیغام بھیجا تھا، پھر میں نے انہیں اپنی کہانی سنائی اور بتایا کیا ہوا، اور کیسے میں شکوک اور شبہات سے لڑ رہا تھا، اور انہوں نے کیسے مدد کی۔ اور میں اور وہ ایک کمرے میں بیٹھے اور ہم دونوں خوب روئے۔ سبحان اللہ۔ اور پھر ایک سال بعد، میں آسٹریلیا کے دورے پر تھا، شیخ بلال اسد کے ساتھ، اسٹیج پر۔ ماشاء اللہ۔ ملبورن میں سب کے سامنے اور وہ آنٹی، وہ ہمارے ساتھ اسٹیج پر آئیں۔ اور میں اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ میں ان سے پہلی بار ملا۔ واللہ بھائی، زندگی جیسے، میری زندگی کا دائرہ مکمل ہو گیا تھا۔ سارا سفر مکمل ہو گیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اس کمرے میں تشریف لے آئیں تو آپ اُن سے کیا کہیں گے؟ میں کوشش کر رہا ہوں، یا رسول اللہ۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔ بس یہی کہوں گا۔ ظاہر ہے ان کا شکریہ ادا کرنے اور ان کے قدموں اور پیشانی کو بوسہ دینے کے بعد، میرے لیے دعا کیجیے، یا رسول اللہ، کہ یہ کام کامیاب ہو۔ چند مختصر سوالات اور مختصر جوابات، اور پھر ہمارے پاس کچھ اور سوالات ہیں۔ وہ کام جو دا سنّہ گائے کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ ایسا مواد بنانا جو لوگوں کے دلوں کو چھوئے تاکہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قریب ہو سکیں اور اپنے خالق کو پہچان سکیں۔ مجھے یہ پسند ہے۔ جب میں ان کی آنکھوں میں وہ نور دیکھتا ہوں جب وہ اللہ کو پہچان لیتے ہیں، بھائی، اس سے بہتر کچھ نہیں ہے۔ دا سنّہ گائے نے اب تک کا سب سے بہترین فیصلہ کون سا کیا؟ اسلام کو نہ چھوڑنا۔ ہاں۔ واللہ۔ اسلام کو نہ چھوڑنا اور علم حاصل کرتے رہنا۔ نہیں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں، اس سے بہتر کوئی فیصلہ نہیں تھا۔ سب سے پہلا کام جو دا سنّہ گائے کرے گا اگر جنت میں داخل ہو جائے، ان شاء اللہ۔ میں نبی پاکﷺ اور ان کے صحابہ کے پاس شکریہ ادا کرنے جاؤں گا۔ میں حضرت عمر بن الخطاب کا شکریہ ادا کروں گا فارس کی طرف لشکر بھیجنے پر، اور خالد بن الولید کا شکریہ ادا کروں گا جنگ قادسیہ میں ان کی بہادری پر، اور میں ان کی پیشانی اور ان کے قدموں کو بوسہ دوں گا، کیونکہ انہوں نے میرے دادا ،پردادا کو شرک سے آزاد کرایا۔ شاید سب سے پہلے یہی کروں گا۔ ان شاء اللہ۔ آپ کی وہ ذاتی عادت جو آپ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے؟ میں کہوں گا کہ میں کبھی کبھی جلد بازی کر لیتا ہوں۔ میری شخصیت جنونی ہےاور یہ اچھائی اور برائی دونوں میں جا سکتی ہے۔ ہاں، بس یہی دو باتیں ہیں واقعی۔ آخری چیز جو آپ نے گوگل پر سرچ کی؟ -کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟ -ہاں ہاں، بالکل۔ میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں ۔ استنبول میں سورج نکلنے کا وقت۔ ہاں۔ آپ ابھی رات کو پہنچے ہیں - ہاں۔ تو یہ فطری بات ہے۔ ایک مزاحیہ لمحہ جس میں آپ کو بہت شرمندگی ہوئی، جو آپ کبھی نہیں بھول سکتے؟ میں چھوٹا تھا اور مسجد میں تھا، اور مشرقی لندن میں ایک کانفرنس تھی۔ اور مشرقی لندن میرے گھر سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ اور وہ اگلے دن تھی۔ اور ہماری مسجد کے امام بہت سخت، بہت ہی سخت امام تھے۔ اور مجھے کانفرنس تک لفٹ چاہیے تھی۔ اور میں سترہ سال کا تھا۔ میں کسی کو نہیں جانتا تھا جو اس کانفرنس میں جا رہا ہو۔ تو نماز کے بعد، میں کھڑا ہوا اور اعلان کر دیا۔ میں نے کہا، "کل ایک شاندار کانفرنس ہو رہی ہے۔ کل کے دن فلاں شیخ آ رہے ہیں، فلاں شیخ آ رہے ہیں، فلاں شیخ آ رہے ہیں۔ اور اگر کوئی بھائی جانا چاہیں تو مجھے بتائیں کیونکہ ہم میں سے کچھ جانا چاہتے ہیں۔" وہ شیخ جو ہماری مسجد کے امام تھے۔ وہ ان مشائخ سے مکمل اختلاف رکھتے تھے۔ انہوں نے ان کی سرعام تردید بھی کی ہوئی تھی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا، "بھائی، یہ کوئی سرکس نہیں ہے جہاں تم اٹھ کر کچھ بھی اعلان کر دو۔ کسی کو اس میں دلچسپی نہیں ہے۔ چلو بیٹھ جاؤ۔" پوری جماعت کے سامنے۔ اور بھائی، میں باہر گیا اور بس ایسے ہو گیا۔ واللہ، کچھ بھائیوں نے کہا، "ایسا ہوتا رہتا ہے۔" لیکن لفٹ مل گئی مجھے، الحمدللہ۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان نوجوانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو زندگی میں مقصد نہیں ڈھونڈ پاتے اور نشے میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حقیقت میں کیا ہو رہا ہے اور یہ نوجوان اصل میں کیا جھیلتے ہیں؟ آپ کو نوجوانوں میں عزم اور جوش کی کمی کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا، یہ کہ وہ کسی بھی مقصد کا حصہ نہیں بن پاتے۔ مغرب میں نوجوانوں کی اندرونی توانائی کو صحیح سمت دینے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی توجہ شیطان اور اس کے لشکر پر مرکوز کر دو۔ انہیں جوش دلاؤ کہ وہ خود کو بچائیں اور دوسروں کو جہنم کی آگ سے بچائیں۔ لیکن سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں انہیں مقصد ملے۔ ایسے دوست جو مقصد ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ لیکن ان دوستوں کے مقصد بھی پکے ہوں۔ اصل وجہ تک جاؤ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس سمت نہیں ہے اور مقصد نہیں ہے۔ انہیں مقصد دو۔ کیونکہ جب تم انہیں مقصد دو گے تو وہ دوسروں کو مقصد دیں گے۔ لیکن اگر تم بس کہو، "جاؤ نماز پڑھو،" ہے بس ایسا کرو۔ یہ تو ابتداء ہے۔ یہ بس گاڑی کا انجن سٹارٹ کرنا ہے۔ صرف انجن سٹارٹ نہ کرو۔ گاڑی کو آگے بڑھاؤ۔ ایک نوجوان ابھی دیکھ رہا ہے اورکہہ رہا ہے، "میں حرام چیزوں میں گھرا ہوا ہوں، ایسے وقت میں اپنی آخرت کیسے بچاؤں؟" آپ اس شخص سے کیا کہیں گے؟ فور سٹیپ فارمولا دوں گا میں اسے ۔ سب سے اہم کام جو تمہیں کرنا ہے وہ ہے اللہ سے تعلق جوڑنا۔ اللہ عزوجل کے ساتھ ایک گہرا اور ذاتی تعلق بناؤ۔ دوسرا کام جو تمہیں کرنا ہے وہ ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب سے تعلق رکھنا۔ پھرچاہے ترجمے میں ہو یا اس زبان میں جو تم سمجھتے ہو۔ لیکن قرآن پڑھو۔ اسے پڑھنا سیکھو۔ تقریبا چھے مہینے اس پر توجہ دو۔ پھر تمہیں ایک استاد ڈھونڈنا ہے یا کوئی جس سے سیکھ سکو۔ اور ان کے ساتھ بیٹھو اور پڑھو۔ اور آخری بات یہ ہے کہ تمہیں بھائی چارے کا حصہ بننا ہے، اور ایسے لوگوں کے ساتھ رہو جو اللہ عزوجل کی راہ میں کوشش کر رہے ہوں۔ اور اگر میں ایک اور آخری نصیحت دے سکوں، وہ یہ ہے کہ جب تم خود کو مضبوط کر لو، تو دوسروں کو جہنم کی آگ سے بچانے میں مقصد ڈھونڈو۔ تصور کریں کہ کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے، اور جب آپ اپنی کہانی سنا رہے تھے، اس نے اپنی پوری زندگی کے بارے میں سوچا۔ آپ اس شخص سے کیا کہنا چاہیں گے، مطلب، صرف ایک منٹ میں؟ حبیبی، تم ابھی جس سے گزر رہے ہو، جب بڑے ہو گے تو یہ بس ایک لمحہ لگے گا۔ ابھی جو تمہارے دل میں فکر ہے، تمہیں وہ اللہ عزوجل کو سونپنی ہوگی۔ کبھی بھی سکون اور امن محسوس نہیں ہوگا جب تک تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ ایک ذاتی اور گہرا رشتہ نہیں بناتے جس کے بارے میں صرف تمہیں اور اللہ کو پتہ ہو۔ بس۔ جب تم ایسا کر لو تو خود کو مضبوط کرو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب سے رشتہ جوڑ کر۔ واللہ، اللہ کی کتاب کے بغیر اس زمین پر کوئی سلامتی نہیں۔ جاؤ اور علم حاصل کرو۔ اور نیک ساتھی ڈھونڈو، اچھی صحبت ڈھونڈو اور انہیں تھامے رکھو، اپنے نیک دوستوں کو تھامے رکھو، کیونکہ جب تم ایسا کر لو تو تمہیں یقینی بنانا ہے کہ تم بالکل الٹا بھی کرو۔ جب تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے تعلق جوڑو، تو ان سب چیزوں سے ناطہ توڑ دو جو تمہیں اللہ سے دور لے جا رہی ہیں۔ جب تم علم حاصل کرنے نکلو، تو سستی اور بس نیٹفلکس دیکھنے کی عادتوں سے چھٹکارا پاؤ۔ جب تم نیک ساتھی ڈھونڈ لو تو اپنی زندگی سے برے دوستوں کو بھی نکال دو۔ بس یہی کہوں گا۔
