# Philosopher Atheist VS Muslim Debate! Did He Convert?

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/philosopher-atheist-vs-muslim-debate-did-he-convert
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=XJXZUBF_lqo
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

انسانی ہستی ایک موسیقی کے آلہ کی مانند ہے جسے خالق نے تخلیق کیا۔ لیکن اس خالق نے کبھی اس آلہ موسیقی کا استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ اس کے وہ ساز نہیں چھیڑ سکتا جس کیلئے یہ بنا ہے۔ لوگ صرف اسی بات کا یقین کرتے ہیں جسکا وہ کرنا چاہتے ہیں۔ سائنس بھی ایسا ہی کرتی ہے لیکن خدا ایسا نہیں کرتا۔ یہ انسانی تخلیقات ہیں۔ انسان نے اسے بنایا ہے جسکو سائنس پہلے ہی کھول کر ہمارے سامنے بیان کرچکی ہے۔ چونکہ ان وجویات کا ہمیں پہلے سے ہی علم ہے لہذا یہ کوئی اچھنبھے کی بات نہیں ہے۔ کم از کم میرے لئے تو نہیں۔ +اگر آپکو ایک معتبر ثبوت فراہم کیا جائے تو کیا آپ اپنا ذہن تبدیل کر لیں گے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دنیا کا کوئی خالق بھی ہے۔ +لیکن دلائل کی روشنی میں اسے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ دیکھیں ہم خالق کہتے کس کو ہیں؟ دیکھو یہ ہستی ہم ہیں۔ + بریان، آپ کیا کر رہے ہو؟ کیا آپ طالب علم ہیں؟ جی میں سالِ آخر کا طالب علم ہوں۔ +آپکا کیا خیال ہے؟ آپکا مذہب کیا ہہے؟ میرے خیال میں مذہب کوئی قدیمی تہذیب ہے۔ نہ تو میں کہہ رہا کہ کوئی خالق ہے اس دنیا کا نا ہی میرا یہ ماننا ہے کہ دنیا بغیر کسی خالق کے بنی۔ کسی کے پاس انکا کامل علم نہیں ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس دنیا کا کوئی خالق ہے۔ +کیا آپ اپنا مؤقف تبدیل کریں گے؟ اگر میں آپ کو یہ بات دلیل سے ثابت کر دوں۔ کیا یہ آپ کے عقل و خرد کیلئے قابلِ قبول ہوگئی۔ اگر آپکو ایک معتبر ثبوت فراہم کیا جائے تو کیا آپ اپنا ذہن تبدیل کر لیں گے جی میں خالق کے وجود کے متعلق اپنا نظریہ تبدیل کر سکتا ہوں پھر۔ لیکن میں اس خالق کی عبادت نہیں کروں گا۔ اگر کوئی خالق ہے تو دنیا کا کوئی نظام بھی ہہونا چاہیے۔ اسکا قرآن میں بھی ذکر ہے۔ یہ کامل نظام کہلاتا ہے لیکن مجھے ایسا نظام نظر نہیں آتا +ہم ملکر اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ آیئے اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ فرض کریں کہ نظام بے ہنگم ہے۔ اور بہت پچیدہ بھی۔ ستارے ادھر اٰدھر نکتلے نظرآتے ہیں۔ چاند بھی مسلسل توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ فرض کرو کہ افرا تفری کا عالم ہے۔ جیسا ابھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں رہا۔ فرض کرو کہ ایسا ہو چکا ہے۔ لیکن یہ خالق کےہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اسکا تعلق ترجیہات کے تبدیل ہو انے سے ہے۔ شعبہ نفسیات میں، خارج التحصیل اور ایم فل جیسے مراحل ہیں۔ اسی ظرح میڈیکل اور انجنئرنگ میں بھی۔ اور اسی طرح سائنس کے دوسرے شعبوں میں بھی۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں لوگ تعلیم کے ذریعے خود کو قابل بناتے ہیں۔ جبکہ واقعات مسلسل جنم لے رہے ہیں۔ لہذا، اس میں ایک نظام کی روح نظر آتی ہے۔ کیونکہ جہاں نطام نہ ہو وہاں کوئی تسلسل نہیں ہوتا۔ بہرحال میں انجنئرنگ کا طالب علم تھا۔ انجنئرنگ میں بہت سارے فارمولے ہیں۔ مثال کے طورایک مضمون کا نام ہے، شوٹنگ بہت ہی سادہ اور آسان فرض کرو میں یہاں سے ایک پتھر پھنکتا ہوں۔ جس رفتار سے میں اسے پھینکتا ہوں اس کے لحاظ سے یہ فاصلہ طے کرے گا اور اسی لحاظ سے وقت لے گا پہنچنے میں۔ ایک فامولہ استعمال کرکے اس کے گرنے سے پہلے لیے جانے والے وقت کا تعین کیاجا سکتا ہے۔ یہ کوئی مبہم بات نہیں ہہے۔ فزکس میں یہ بہت واضح ہے۔ دنیا جو کسی فارمولے کی پابند ہے۔ کائنات جو ایک نظام کے تحت ہے۔ کیا ہم اس میں کوئی بے ترتیبی دیکھتے ہیں؟ اتنا جامع فارمولا کہاں بنایا گیا؟ آخر اس فارمولے کو بنایا تو انسان نے ہی ہے نا۔ یہ انسان کا بنایا فارمولا ہے۔ +نہیں کیا ہم نے یہ فارمولا بنایا؟ کس نے بنایا یہ فارمولا؟ بلکل ہم نے ہی بنایا +اجسامِ فلکی کے مابین باہمی کشش ایسا کیوںکر ممکن ہے؟ یہ سب ایک فارمولے کے تحت ہے؟ اب کیا میں نے ان اجسام کو اس بات پرمجبور کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچیں نہیں +نہیں۔ میں نے تو صرف اس کا مشاہدہ کیا۔ میں نے کہا کہ دیکھو وہ ان میں باہمی کشش ہے۔ یا سیاروں میں بھی باہمی کشش ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اگر ان میں باہمی کشش ہے تو کسی قانونِ فطرت کے ماتحت ہے۔ لہذا میں نے کہا کہ انسانوں نے اس اس نطام اور فارمولے پر قوانین دریافت کیے۔ لہذا میں نے دیکھا کہ یقینا کوئی نظام ہے۔ یہ ہمارا عنوان تھا کہ پہلے سے موجودہ چہزوں میں نظام ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک نظام ہے۔ اگر مجھے آپ کو ثبوت دینا ہو تو جسا کہ میں نے پہلے کہا اس کا منطقی اور دلیلی جواب دوں گا تو آپ اپنا فیصلہ تبدیل کریں گے۔ جی میرا نقظہ نظر تو شاید بدل جائے مگر میں کسی خالق کی عبادت نہیں کروں گا۔ +جی بہتر۔ اب اس پر نظردوڑائیں۔ میں آپ کو خالق کے وجود پر دلائل دوں گا۔ پھر ہم اس بات کی تشخیص کریں گے۔ کیونکہ اگر مذکورہ دلائل اور انکی تشخیص باہم نہیں کی جاتی تو ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر آپ ایک ٹرین پر سوار ہیں۔ اور اس میں ایک دس سالہ بچہ بھی سوار ہے جس کی کمر پہ ایک رسی ہے۔ وہ اس ٹرین کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کو بھی ہلا رہا ہے۔، اب دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا اس ٹرین کو چلا رہا ہے۔ لیکن کیا آپ اس پر یقین کر لییں گے؟ یا آپ اس کی حقیقی وجہ جاننے کی کوشش کریں گے؟ جی بلکل میں اس کے درپردہ حقائق جاننے کی کوشش کروں گا۔ +کیوں؟ کیونکہ اسکی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ بچہ اس ٹرین کوکھینچھ سکے۔ لہذا میں اسکی حقیقی وجہ جاننے کی کوشش کروں گا۔ یا کوئی ایسا نظام جسکو میں نے پہلے نہ دیکھا ہو۔ جی +بلکل اسی طرح اس کائنات کی مثال لیں۔ میں اسکی وجوہات اورنتائج کا جائزہ لوں گا۔ اس میں ایک وسیع فاصلہ ہے مثال کے طور پر۔آپ ایک چھوٹا سا بیج دیکھیں آپ اسکو زمیں میں ڈالتے ہیں پھر یہ ایک قدآور درخت بن جاتا ہے۔ یہ ایک انڈے کو دیکھ لیں۔جسکے پاس کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن اس کے نتائج دیکھیں اس میں سے ایک بڑا مرغا نکل آتا ہے۔ یہ بہت حیران کن نتائج ہیں جو لوگوں کو محو، حیرت کر دیتے ہیں۔ یا منی کے ایک قطرے کو دیکھ لیں لیکن اس سے سپرم بنتا ہے اور آپ کی طرح ایک شخص جنم لیتا ہے۔ ایک منطم نطام جس کا پر پہلو حیران کن ہے جس میں سے انسانیت جنم لیتی ہے جس پر بیالوجی اور اناٹومی کے مضامین کی بنیاد بنتی ہے۔ جب اسکی وجہ پر جاتے ہیں۔ایک سادہ سا پانی کا قطرہ ہے جسے ہم سپرم کہتے ہیں پھر میں کہتا ہے کہ وجہ پر توجہ دیں اور پھر اس کے نتائج پر ہم اس بات پر متفق تھے کہ ایک دس سالہ نحیف سا بچہ ایک کمزور سی وجہ یقینا اس ٹرین کو کھینچ نہیں سکتا۔ ہم نے پھرکہا کہ ضرور اسکی کوئی اور وجہ ہوگی۔ جس سے معلوم ہوا ابھی جس وجہ کی ہم نے بات کی یہ بہت سادہ ہے تمام چیزیں مردہ تھیں۔ لیکن ایک کامل چیز ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جس سے ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔ اگر یہ مذکورہ چیزیں مردہ ہیں تو اصل وجہ کیا ہے انکے نتائج کی کیا اسکی کوئی اور حقیقی وجہ نہیں ہونی چاہیے؟ 137 00:04:21,694 --> 00:04:24,197 ایک خالق جس نے یہ کامل چیزیں بنائیں۔ آپ نے بہت اچھی طرح واضح کیا لیکن بیج کا درخت میں اور سپرم کا انسان میں تبدیل ہونا اس میں کچھ بھی حیران کن نہیں ہے۔ یہ سائنسی عمل ہے نہ کہ کسی خدا کا +میں حیران ہوں کہ آپکو یہ چیزیں معمولی نظر آتی ہیں۔ یہ بے جان آشیا ہیں۔ جیسا کہ پانی کا قطرہ ایٹم سے بنی ہوئی۔ کیاایٹم جاندار چیز ہے ایٹم بے جان شے ہے۔ +تو پھر یہ بے جان چیز ایک جاندار چیز میں کیسے تبدیل ہوئی؟ اس مثال میں ہم نے بات کی کہ بچہ زندہ ہے لیکن پھر بھی وہ ٹرین کو ہانک نہیں سکتا۔ ان تمام زیر بحث معاملات کا تعلق بے جان ہونے سے ہے۔ فرض کرو کہ یہ زندہ ہیں۔ ایک بار پھر۔ یہ بے اثر شے ہے۔ لیکن کیسے ایک بے جان بے شعور چیز۔ جس میں کوئی طاقت نہیں۔ وہ یہ نتایج کیسے پیدا کر سکتی ہے کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے؟ جب کوئی تھوڑی سی تحقیق کرے تو سائنس ان تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیتی ہے۔ جب سپرم انڈے میں داخل ہوتا ہے۔ لاکھوں سپرم میں سے صرف ایک سپرم انڈے میں داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ سپرم مختلف مراحل میں سے گزر کر جاندار بنتا ہے۔ سائنس ان تمام سوالات کا جواب پہلے ہی دے چکی ہے۔ چونکہ یہ کوئی مخفی بات نہیں ہے لہذا یہ حیران کن بھی نہیں ہے۔ +پھر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ سائنس کسی بھی چیز کے تمام مراحل کے جواب دیتی ہے۔ لیکن اس بات کا جواب نہیں دے سکتی کہ ایسا کیونکر ممکن ہے۔ سائنس علم پر مبنی شے ہے۔ یہ مجھے بتاتی ہے کہ کوئی بھی کام کیسے ہوتا ہے۔ مثال کے طور ہر، کیمرے کی قوتِ تحلیل کو دیکھ لیں۔ پہلے اسکی طاقت دو تھی پھر چوبیس ہوئی اور آجکل یہ چھالیس ہے۔ اب ہم اس کیمرے کی مدد سے یہ شو کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیمرے کا نظام جدید تر ہوچکا ہے۔ سائنس کو اس زاویے سے دیکھیں۔ 174 00:05:37,870 --> 00:05:37,904 سائنس دن بدن ترقی کر رہی ہے۔ یہ معلومات مہیا کرتی ہے۔ سائنس کیا کرتی ہے؟ یہ میرے سوالات کے جواب دیتی ہے۔ ہوا کیا پھر؟ اس نے کیرے کو جدید کیا۔ اورجدید کیا اور جدید تر کر دیا۔ میرے خیال میں نظفہ پانی کا قطرہ ہے۔ میں اسکی تفصیل میں گیا اور مجھے سمجھ آئی کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ اسکی تفصیل میں جانے سے حقیقت نہیں بدلی۔ سوال پھر وہی ہے۔ کہ ایک قطرے سے ایک جاندار کیسے بن گیا؟ ہم اس نظام میں رہتے ہیں جو ہمارا بنایا ہوا ہے۔ ہم فنونِ لطیفہ، سائنس اور فلاسفی کے دور میں رہتے ہیں۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ اشیاء کسی گمنام ہستی نے آشکار نہیں کی۔ نہ فنون لطیفہ، نہ فلاسفی، نہ بیالوجی۔ ان اشیاء کو خدا نے نہیں بنایا۔ یہ انسانی تخلیق ہے۔ انسان نے اسے بنایا۔ آپ اسے خدا کا کارنامہ سمجھتے ہو میں اسے سائنس کا کرشمہ سمجھتا ہوں۔ +دیکھیں بات ابھی بھی مبہم ہے کہ یہ وجوہات نحیف ہیں۔ آپ مجھے ان وجوہات کا اثر بتا رہے ہیں۔ جبکہ میرے مطابق اسکی وجہ سیدھی سی ہے۔ کیونکہ اس وجہ کے نتایج کامل ہیں۔ یہ اس وجہ کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ وجہ اسکی متحمل نہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کہ اگر یہ وجہ ان نتائج کا ذریعہ نہیں ہے پھر اس کے درپردہ، ایک ہستی ہے جسکو اسکا علم ہے۔ جو شعور رکھتی ہے، جس کے ہاہتھ میں طاقت ہے۔ اس ہستی کو ہم خالق کہتے ہیں۔ نہیں یہ ہم انسان ہیں۔ یہ یم ہی ہیں +آپ کا کہنا ہے کہ یہ ہم ہیں لیکن میرا کہنا ہے کہ یہ وہ ہستی ہے جس نے ہم کو پیدا کیا جو ہم نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ ہم ہیں تو کیا آپ انسانوں کو تخلیق کر سکتے ہیں۔ جب بھی آپ چاہیں تو آپ کو انڈے بھی خود بنانے چاہیے۔ اور جب چاہیں اس میں سے مرغ پیدا کر کے دکھائیں۔ کیا سب بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ بلکل نہیں۔ +جیسا کہ آپ نے کہا کہ ہم طاقتِ کل ہیں۔ تو کوئی بھی جب چاہے بچے کو جنم دے دے۔ آپ کا کہنا کہ ہم اسکی اصل ہیں یہ ہم ہیں جو اس قابل ہیں لیکن آپ اسکی اصل بلکل بھی نہیں کیوں؟ کیونکہ آپ پہلے ہی اسکی وجہ تھے۔ یہ کیسے ممکم ہے نتیجہ ہی اپنی اصل ہو۔ مثال کے طور پر۔ آپ کسی وجہ کو کسی چیز سے منسلک کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اس اصل کے درپردہ حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ اور آپ اسے خدا یا خالق کا نام دیتے ہیں۔ +شروع میں آپ نے بھی اس کو کھوجا لیکن لیکن پھر آپ نے بچے کی پیدائش کی دوسری وجہ جاننے کی کوشش کی۔ یہ اس سے مختلف یہ کہ دس سالہ جچہ ٹرین کو ہانکتاہے۔ اور بیج درخت بن جاتا ہے۔ +بعد آزاں والی زیادہ کامل ہے کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا آپ ان چیزوں سے زیادہ کامل نہیں ہیں۔ یہ زیادہ حیران کن ہے۔ ٹرین کا خود بخود چلنا، محض فورس کی بات ہے۔ یہاں ایک سادہ سے مادہ سے ایک جاندار چہز بن رہی ہے۔ پانچ سو پینسٹھ میگا پکسل کا کیمرہ یعنی آنکھ بنتی ہے۔ ایک منظم جسم بنتا ہے۔ ہر چہز ہر زاویے پہ کامل آتی ہے۔ ایسا نظام سائنس کی بنیاد رکھتا ہے۔ معلم بنتے ہیں طبیب بنتے ہیں اور یہ زیادہ حیران کن ہے۔ آپ کہاں ہیں؟ ٹرین کہاں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ نہیں۔ +کیا آپ کی ہستی مذکورہ مثالوں سے زیادہ کامل نہیں ہے۔ میں آپ سے زیادہ متاثر ہوا ہوں، میں یقینا کامل نہیں ہوں۔ لیکن دس سالہ بچے کا ٹرین کو ہانکنا متاثر کن ہے۔ کیونکہ سائنس اسکا جواب دے سکتی ہے مابعد الطبعیات کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ +میں متفق نہیں ہوں کیونکہ ہم سائنس کی بات کر رہے تھے۔ سائنس نے معاملات کا جواب تفصیل سے دیا ہے۔ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ لہذا سائنس اسکا جواب نہیں دے سکتی۔ کئی معاملات کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ میرا کہنا ہے کہ یہ دیتی ہے اور میں اس پر تحقیق کر رہا ہوں۔ لیکن میرا سائنس کا مطالعہ کم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اسکا جواب مل جائے گا۔ میرا ماننا ہے کہ سائنس کے پاس اسکا جواب ہے۔ +بھیا مجھے آپ کو کچھ معلومات دینی ہیں۔ سائنس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ہے کیا آپکو معلوم ہے کہ ڈے این اے میں کتنی بنیادیں ہیں۔ نہیں +ڈی این اے کی چار بنیادیں ہیں۔ ایڈینائن، تھائیمائن، جیانائن، سائٹوسائن ان چار بنیادوں میں چار عناصر ہیں کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن جب میں ڈی این اے کی بنیادوں اور ان عناصر کی تفصیل میں جاتا ہوں تو پھر بات وہیں آجاتی ہے لاشعور، بے جان اور بے طاقت کچھ بھی نہیں بدلا پھر یہ ایک سادہ سا معاملہ ہے۔ لیکن اس میں سے جو معاملہ ظاہر ہوتا ہے۔ اور اسکا نتیجہ پھر حیران کن ہے۔ آپ سائنس کی تحقیق کریں گے تو معاملہ پھر رہیں رہے گا منطقی جواب یہ ہے کہ چونکہ میں اسے نہیں دیکھ سکتا لیکن ایک ایسی ہستی کا وجود ہے۔ تو کیا یہ انسان ہے جس نے خدا کو بنایا۔ +میں اس پہ بھی متفق نہیں ہوں۔ علم ظاہری چیزوں کا محتاج ہے اگر کوئی حقیقت ہے کسی کی سوچ نہیں بدلتی۔ اپنی آنکھیں بند کریں اور کہیں کہ میرے سامنے مکعب نما مائیکروفون تھا کیا آپ اس حقیقت کو جٹھلا سکتے ہیں؟ نہیں۔ +جی آپ نہیں کر سکتے ایسا۔ آپ کے خیالات اور احساسات سے حقیقت نہیں بدلتی۔ جتنا سوچنا چاہیں سوچ لیں۔ جس وجہ اور نتایج کی میں بات کررہا ہوں وہ حقیقی ہیں۔ جب تک حقیقت ہے چاہے آپ خالق کے ہونے پر ایمان لائیں یا نہیں لیکن حقیقت نہیں بدلتی۔ انسان خالق کا تخلیقی ساز ہیں۔ اور خالق اسکا استعمال نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ اس میں سر پیدا نہیں کر سکتا۔ ہاں خدا ہے لیکن وہ انسان کے دل یادماغ میں ہے۔ وہ انسان کے دل یادماغ میں ہے۔ انسان روشنی یا درخت میں بھی یقین کر سکتا ہے۔ آپ کے خیال میں خدا کیا چیز ہے؟ +میں بیان کرتا ہوں اسکی صفات کی بات کرتے ہیں۔ میرا ذہن انکو تلاش کر سکتا ہے۔ میرا نقطہ نظر محدود ہے۔ 309 00:09:46,786 --> 00:09:47,386 اگر میں دیکھ سکوں ایک ایسی ہستی ہے جسکی نظر لامحداد ہے میں سن سکتا ہوں میری سماعت محدود ہے۔ لیکن خدا کی سماعت لامحدود ہے۔ والدین کی شفقت کی بات کریں ہاں ماں شفیق ہوتی ہے میں اسے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہوں کوئی ایٹم اس شفقت کا باعث نہیں ہے۔ کیا ایٹم شفیق ہیں؟ نہیں +لہذا کوئی شفیق ہستی کا وجود ہے رحمان، رحیم،رؤف میں پھر دہراتا ہوں کہ وہ ذات مہربان ہے۔ دیکھیں میں اس طرح کی بہت سی صفات دیکھ سکتا ہوں۔ میں اسکا بھی تذکرہ کر دوں آپ نے ٹی شرٹ کی بجائے سویٹر کیوں نہیں پہنا۔ کیونکہ گرمی ہے۔ +کیا یہ منطقی ہے؟ دانشمندانہ فعل ہے جی ہاں 330 00:10:21,053 --> 00:10:23,022 آپ کے شعور نے آپکو ایسا کرنے پر مجبور کیا جی ہم اپنی محدود منطق کیساتھ دانشمندانہ کام کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا کا علم لا محداد ہے۔ البتہ ایسا خالق جسکا علم اور شعور لامحدود ہے اسکے ہر کام میں حکمت ہے اور جو کام بھی کرے گا حکمت سے کرے گا۔ چانکہ اس نے یہ کائنات تخلیق کی کیا اسکا مقصد کسی کو یہاں بھیجنا اور ایسے سوالات کے جواب دینا ہے۔ ہم یہاں کیوں آئے کس نے بھیجا میں کہاں جا رہا ہوں میرا نصب العین کیا ہے؟ مجھے کیوں بھیجا گیا؟ میرے پاس یہ صلاحتیں کیوں ہیں؟ میری کونسی خصوصیات مجھے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انبیاء اور پیغمبروں کو بھیجنا۔ اس بات کی دلیل ہیں کہ انبیاء اس دنیا میں کیوں آئے اور ایسے سوالات کا جواب دیا۔ میرے مطابق یہ منطق کیلئے لازم ہے۔ یہ منطق کیلئے لازم ہے۔ آسکی کتابیں، نیکی اور بدی میں تفریق بتاتی ہیں۔ جب میں قرآن کو دیکھتا ہوں۔ اس میں ہزاروں مثالیں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان لکب نہیں سکتا۔ ایسی معلونات جن تک انسانی رسائی نا ممکن ہے۔ وہ اس کتاب میں چودہ سوسال پپہلے لکھ دی گئی۔ ایسی کتاب جو رہنمائی کا ذریعہ ہے جسکا میں متلاشی ہوں۔ مثال کے طور پر سورہ روم کے دو معجزات ہیں۔ الٓمٓ۠١غُلِبَتِ الرُّومُۙ٢ف۪ٓي اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَۙ٣ف۪ي بِضْعِ سِن۪ينَ ا ل مۤ ۔روم مغلوب ہو گئے۔نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔چند ہی سال میں بازنطینیوں کو قریب ترین سرزمین میں شکست ہوئی ہے لیکن وہ اپنی شکست کے بعد دوبارہ اٹھیں گے تین سے نو سال کے عرصہ میں بازنطینی اور فارسی جنگ میں تھے جنگ 613 میں ہوئی، اور بازنطینیوں کو ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انہیں اپنے گرجا گھروں میں مقدس قیمتی چیزیں بھی بیچنی پڑتی ہیں میں شکست کی سطح کو سمجھ سکتا ہوں۔ جب کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بازنطینی ختم ہو جائیں گے۔ ایک آیت اترتی ہے۔ آیت کہتی ہے کہ بازنطینیوں کو شکست ہوئی۔ لیکن وہ جیت جائیں گے ایک ناقابل یقین دعوی، ہے نا؟ جی +کچھ ایسا اچانک کہنا زیادہ تر لوگوں کو حیران کر دیتا ہے۔ نہ ماننے والے اچانک خوش ہونے لگتے ہیں۔.

کیوں؟ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ یقیناً ہار جائیں گے۔ وہ خوش ہونے لگتے ہیں، یہ مانتے ہوئے کہ اسلام نے ایک بوسیدہ دعویٰ کیا ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟ نو سال بعد، 622 میں، وہ دوبارہ لڑے بازنطینیوں اور فارسیوں کا مقابلہ ہوا۔ اور یونانی واقعی فتح یاب ہو گئے اسی آیت میں ایک اور معجزہ بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ جہاں جنگ ہوئی تھی وہ "فی ادنی الارض" تھا ارض کا مطلب ہے زمین اور ادنی کا مطلب ہے نچلی جگہ دوسرے الفاظ میں اس کا کہنا ہے کہ جنگ زمین کے نچلے ترین مقام پر ہوئی تھی۔ اگر میں پوچھوں کہ اس گلی کا سب سے چھوٹا آدمی کون ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے مجھے اسکو ڈھونڈنا پڑے گا۔ +آپ کو ایک ایک کرکے سب کو دیکھنا ہوگا۔ جی ہاں +پھر زمین پر سب سے نچلے مقام کو جاننے کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ آپ کو تلاش کرنا اور تلاش کرنا ہے۔ +پوری زمین کو جاننا ضروری ہے۔ لیکن کیا اس وقت ایسی صورتحال تھی؟ یقینا نہیں لیکن ہم ایک نظر ڈالیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ زمین کے نچلے ترین مقام پر ہوا اور یہ ابھی ثابت ہوا ہے۔ سطح سمندر کے لحاظ سے سب سے نچلہ مقام وہ ہے جہاں جنگ ہوئی تھی یہ کہہ کر، جس مقام کو ہم بحیرہ مردار کا طاس کہتے ہیں وہ سطح سمندر سے 395 میٹر نیچے ہے۔ سوال یہ بنتا ہے اب کوئی ہمیں کیسے بتا سکتا ہے کہ یہ زمین کا سب سے نچلا مقام ہے؟ یہ صرف خالق ہی بتا سکتا ہے۔ جنگ کے واقعات تاریخی ریکارڈ میں سب کو معلوم ہیں۔ نہ صرف اسلامی ذرائع میں کہوں گا کہ یہ معلومات جاننا کسی شخص کا کام نہیں ہو سکتا اس کے پیچھے ایک تخلیق کار ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے، اور یہی واحد طریقہ ہے جس سے میں ان واقعات کی وضاحت کر سکتا ہوں تو، یہ وہ نبی ہے جس کی میں تلاش کر رہا تھا۔ کتاب جو مجھے دماغ سے ملی 411 00:13:11,657 --> 00:13:14,260 خالق کا وجود میں نے دماغ سے پایا یہ بات واضح ہے.

جب خالق کی عدم موجودگی ثابت نہ ہو پھر میں کیوں نہ منطقی نتائج کو قبول کروں۔ جو میں بو ل شکا ہوں اس کے وجود کے بارے جب مجھے ثبوت مل چکا ہے تو میں کیوں نہ اسلام کو قبول کروں؟ کیا اسکی کوئی وجہ ہے؟ میں یقینی طور پر اس کے بارے میں بات نہیں کرسکتا آپ نے قرآن پڑھا آیات معنی کیساتھ آپ نے اسے پڑھا ہے، اور آپ جانتے ہیں، لیکن میں نے اسے ابھی تک نہیں پڑھا ہے۔ میں تلاش کروں گا، اور مجھے امید ہے کہ مجھے صحیح راستہ مل جائے گا۔ +انشاء اللہ، کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اسستنبول میں ابدیت کی طرف ہے۔ جب چاہو آجاؤ، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں ہم یہ کر سکتے ہیں بھائی ضرورت پڑی تو ہم دن بھر بات کر سکتے ہیں آپ جب چاہیں ہم گھنٹوں بات کر سکتے ہیں۔ مجھے آپ کی گفتگو پسند آئی شکریہ +آپ کی گفتگو بھی بہت اچھی تھی جیسا کہ آپ نے کہا، آپ تلاش کریں گے تو آئیے تلاش کرتے ہیں۔ اور اسے ایک ساتھ تلاش کریں آئیے یہاں سے جاری رکھیں اچھا +آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ اپنا خیال رکھیں
