# Kya Islam Waqai Auraton Ki Qadar Karta Hai? Hijab, Polygamy Aur Doosray Haqooq!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/surprising-womens-rights-granted-by-islam-the-facts-vs-the-propagandas-ep-1
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=H0aiDYcgQaQ
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

اسلام میں عورتوں کی کیا حیثیت ہے؟ کیا یہ اِنہیں کمتر سمجھتا ہے؟ کیا یہ اِن کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کرتا ہے؟ جب آپ کسی غیر مسلم سے اسلام کے متعلق بات کرتے ہیں، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، تو پہلی چیز وہ اسلام میں عورتوں کے بارے میں ہی پوچھتا ہے۔ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ مین اِسٹریم اور سوشل میڈیا دونوں پر بڑے گروپس نے اپنی ساری کوششیں عورتوں کے موضوع کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لگا دی ہیں۔ اور وہ مسلسل اِس پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر اصل حیرت کی بات ہمارے پاس موجود دیگر اعداد و شمار ہیں۔ U.S.

میں ہر پانچ میں سے چار مسلمان ہونے والی عورتیں ہیں۔ اس کے علاوہ، UK میں ایک اور جائزے سے پتہ چلا کہ 2001 سے 2011 کے درمیان اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں سے 75% عورتیں تھیں۔ اگر اسلام واقعی عورتوں کے لیے خطرہ ہوتا، تو کیا یہ اعداد و شمار بالکل الٹ نہیں ہونے چاہیے تھے؟ ورنہ یہی بات ہو سکتی ہے کہ عام خیال کے برعکس، اُنہیں اسلام میں وہ عزت ملتی ہے جس کی اُنہیں تلاش ہوتی ہے۔ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے بہت سے اہم مسائل ہیں۔ اور ظاہر ہے، چند مشہور سوالات کے جواب بھی دینے ہیں۔ کیا مرد چار بیویاں رکھ سکتا ہے؟ کیا سر اور جسم کو چُھپانے والا حجاب واقعی ایک پابندی ہے؟ عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھی وراثت کیوں ملتی ہے؟ اور ایک مشہور قرآنی آیت جس پر بہت سوں نے اعتراضات کیے ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں، تو آئیے شروع کرتے ہیں۔ 1700 صدی عیسوی میں، ایک انگریز تاریخ دان اور لکھاری نے استنبول میں قدم رکھا جس کا نام تھا Lady Elizabeth Craven۔ اور اِس اسلامی شہر نے اُسے حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اُس کے ملک میں عورتوں کے ساتھ جو ہو رہا تھا اور جو کچھ اُس نے یہاں ہوتے دیکھا دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ یہ جگہ مکمل طور پر مختلف تھی۔ اور اُس نے مسلمان عورتوں کو اِن الفاظ میں بیان کیا ’’دنیا کی خوش ترین زندہ ہستیاں‘‘۔ اُس نے اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا۔ ’’میرے خیال میں، میں نے ترکی جیسا کوئی ملک کبھی نہیں دیکھا جہاں عورتوں کو اتنی آزادی حاصل ہے اور وہ ہر طرح کے طعنوں، الزام یا تنقید سے آزاد ہیں۔‘‘ وہ خلافتِ عثمانیہ کا دور تھا۔ تو وہ کونسی بات تھی جس نے اُسے اتنا حیران کیا؟ جو کچھ اُس نے انگلینڈ میں دیکھا تھا کیا اُسی نے اُسے یہ الفاظ کہنے پر مجبور کیا؟ بدقسمتی سے، ہمیں تاریخ کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ میں جن مسائل کا ذکر کرنے والا ہوں اُن میں سے ایک بھی اُس کے وزٹ کردہ اسلامی شہر میں موجود نہیں تھا۔ مثلاً، انگلینڈ اور امریکہ میں، جب عورت کی شادی ہوتی ہے، تو اُس کی ساری ذاتی پراپرٹی عموماً اُس کے شوہر کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ جاب کرتی ہے، تو اُس کی کمائی قانونی طور پر اُس کے شوہر کی ہوتی ہے، اور اُس کے مطالبے کا اُسے کوئی حق نہیں ہوتا۔ جب اُس کے باپ کا انتقال ہوتا ہے، تو وراثت میں اُس کا حصہ براہِ راست اُس کے شوہر کو جاتا ہے اور اُس پر اُس کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ طلاق کی صورت میں، سارے بچے باپ کو دے دیے جاتے ہیں۔ ماں کو اپنے بچوں سے الگ کر دیا جاتا ہے، جنہیں اُس نے پیدا کیا، پالا پوسا اور جن کے لیے ہر طرح کی قربانی دی۔ اور ظاہر ہے، بچوں کو بھی اپنی ماؤں سے جدا ہونا پڑتا ہے۔ سوائے چند ایک کے، عورتوں کو نان نفقہ، یعنی طلاق کے بعد مالی خرچہ نہیں دیا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ، یہ صرف معاشرتی ناانصافیاں ہی نہیں تھیں، بلکہ قانونی طور پر قائم کردہ اصول تھے۔ اور اِس سے بھی بڑھ کر، عورتوں کو شدید اخلاقی اور جذباتی ناانصافیوں کا سامنا تھا۔ 20 ویں صدی تک انگلینڈ میں، عجیب و غریب طریقے رائج تھے۔ جن میں سے ایک، بیوی کو بیچنا تھا۔ اِس بیچنے کا مطلب کیا ہے؟ اِس پر یقین کرنا بھی مشکل ہے، جب کوئی مرد اپنی بیوی سے بور ہو جاتا یا اُس میں دلچسپی ختم ہو جاتی، تو وہ اُسے مارکیٹ لے جاتا اور کسی چیز کی طرح اُسے بیچ دیتا۔ درحقیقت، 1913 کے ایک ریکارڈ کے مطابق، ایک انگریز نے اپنی بیوی کو £1 میں بیچ دیا تھا۔ اِسی دوران قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں جو کچھ ہو رہا تھا، وہ اِس سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔ 15 ویں اور 17 ویں صدی کے درمیان، کیتھولک چرچ نے جادوگرنیوں کو پکڑنے کی مہم چلائی۔ بے گناہ عورتوں کو بے بنیاد الزامات اور بہتان لگا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ریکارڈز کے مطابق، 40,000 سے 100،000 عورتوں کو نہایت بے رحمی سے مارا گیا، زندہ جلایا گیا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ اگر کسی کو کوئی کم تر صورت کی عورت نظر آتی تو وہ کہہ دیتا کہ یہ جادوگرنی ہو سکتی ہے۔ یا اگر کوئی عورت کسی مرد کو رد کر دیتی، تو گویا اب وہ جادوگرنی ہے۔ اُس کی زندگی ختم ہو گئی۔ اِن باتوں کو سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ اور اُسی معاشرے میں، لوگ سنجیدگی سے اِن سوالات پر بحث کرتے تھے کہ ’’کیا عورتیں انسان ہیں؟ کیا اُن میں روح ہوتی ہے؟‘‘ آخر Lady Craven نے ویسے ہی تو وہ الفاظ نہیں کہہ دیے تھے۔ اُس اسلامی شہر میں اُس نے جو کچھ دیکھا وہ ویسٹ میں ہونے والی چیزوں سے بالکل ہی الٹ تھا۔ ویسٹ کی عورتوں کو جو حقوق ایک صدی کے بعد، 1882 میں ملے، وہ یہاں پہلے ہی صدیوں سے حاصل تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ ایک عورت مقدمہ دائر کر سکتی تھی، پراپرٹی پر قانونی معاہدے کر سکتی تھی، وراثت میں حصہ لے سکتی تھی، اور انگریز عورتوں سے کہیں زیادہ حقوق رکھتی تھی۔ آپ نے شاید یہ اندازہ لگا لیا ہوگا کہ اُس زمانے میں ویسٹ کی عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف، جب ہم دنیا کی سب سے پرانی مسلسل کام کرنے والی یونیورسٹی کو دیکھیں تو اُسے ایک مسلمان عورت نے قائم کیا تھا۔ آپ اِسے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں دیکھ سکتے ہیں۔ مراکش میں القرویین یونیورسٹی کو فاطمہ الفہری نے 859 میں قائم کیا تھا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان ملکوں میں عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا تھا تبھی تو وہ اتنا بڑا کام کر پائِیں۔ اِس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کو پراپرٹی کی مالک بننے کا حق حاصل تھا، ورنہ وہ یونیورسٹی قائم نہ کر پاتِیں۔ مزید اِس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمان عورتیں معاشرے میں اہم کردار اپنا سکتی تِھیں جس کی بدولت یہ کارنامہ ممکن ہوا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ ایک مسلمان خاندان میں کسی ذلت کے احساس کے ساتھ نہیں بلکہ خود اعتمادی اور اپنے وجود اور شناخت کی عظمت کو پہچان کر پلتی بڑھتی تھیں۔ اپنی آنکھیں بند کریں اور اِس منظر کا تصور کریں۔ 100,000 سے زیادہ لوگ جوش اور تجسس کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔ اُن کے سامنے ایک ایسا لیڈر کھڑا ہے جس نے پوری تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ سال ہے 632 عیسوی، اور اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے ایک موقع پر، اُنہوں نے یہ الفاظ کہے۔ ’’اے لوگو!

میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق کا احترام کرو اور اِس معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے عورتوں کو اللہ سے ایک امانت کے طور پر لیا ہے، اور اللہ کے نام پر وعدہ کرکے اِن کی عصمت کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔ جس طرح تمہارے عورتوں پر حقوق ہیں، اِسی طرح اُن کے بھی تم پر حقوق ہیں۔‘‘ دوسری بے شمار چیزوں کے علاوہ، عورتوں کے حقوق کے حوالے سے، اُنہوں نے اپنے آس پاس کے علاقے کو بالکل بدل دیا تھا۔ اب آئیے اُس معاشرے میں رہنے والی عورت کی زندگی کے مراحل پر ںظر ڈالتے ہیں اور اسلام سے پہلے اور بعد کے زمانے کا موازنہ کرتے ہیں۔ اسلام سے پہلے، جب لڑکی پیدا ہوتی تھی، تو اُس کا باپ اُسے اپنے لیے شرم کا باعث سمجھتا تھا، اور بہت مرتبہ ایسا ہوتا کہ اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ جب اسلام آیا، تو اس نے اِس عمل کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اور اگر وہ اُسے زندہ رکھتے، تب بھی اُسے اپنے باپ سے وہ محبت اور شفقت کبھی نہ ملتی جس کی وہ خواہش رکھتی تھی۔ وہ اُس کی نظر میں بے قدر و قیمت ہی رہتی۔ مگر پیغمبر محمد (ﷺ) نے بعد میں فرمایا تھا، ’’جو شخص تین بیٹیوں کی پرورش کرے، اُنہیں عمدہ تربیت دے، اُن کی شادی کر دے، اور اُن کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ فرض کریں وہ بڑی ہوگئی اور شادی کی عمر کو پہنچ گئی۔ تو اسلام سے پہلے، اُس کی زبردستی شادی کر دی جاتی تھی۔ کوئی نہ پوچھتا تھا کہ اُس کی رائے یا احساس کیا ہے۔ مگر پھر اسلام آیا جس نے لڑکی کی مرضی کے بغیر اُس کی شادی کرنے سے منع کر دیا۔ تب سے، اگر کوئی مرد اُس سے شادی کرنا چاہے، تو پہلے اُسے پیغام بھیجنا ضروری ہے۔ چند ملاقاتوں کے بعد، اگر عورت راضی ہوتی ہے اور سمجھتی ہے کہ رشتہ مناسب ہے تو شادی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ شادی کے معاہدے کے تحت، دُلہے کے لیے لازمی ہے کہ وہ دُلہن کو مہر دے، جو ایک مخصوص رقم یا کوئی قیمتی تحفہ ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سیکیورٹی کی ایک شکل ہے۔ اگر اُن میں طلاق ہو جائے یا شوہر مر جائے، تو عورت یہ رقم استعمال کرکے ایک مخصوص عرصے تک اپنی مالی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے، اِس کا یہی واحد مقصد نہیں ہے۔ عورتیں اپنی پوری زندگی میں جیسے چاہیں یہ رقم استعمال کر سکتی ہیں۔ وہ کوئی بزنس شروع کر سکتی ہیں، کہیں سرمایہ لگا کر منافع لے سکتی ہیں، یا اپنے پاس سنبھال کر رکھ سکتی ہیں۔ مہر کی رقم عورت طے کرتی ہے۔ مرد کے لیے اِسے ادا کرنا لازمی ہے اور وہ اِسے واپس نہیں لے سکتا۔ لیکن اگر عورت اپنے شوہر کی مالی مدد کرنا چاہے، تو وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ شادی کے بعد، عورت کی بنیادی ضروریات پوری کرنا اُس کے شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اُس کے لیے بالکل ضروری نہیں کہ وہ کوئی جاب یا کام کرے، یا گھر کے اخراجات میں حصہ ملائے۔ شادی سے پہلے، اُس کا باپ اُس کی بنیادی ضروریات کا ذمہ دار تھا۔ شادی کے بعد، اُس کا شوہر یہ ذمہ داری لے لیتا ہے۔ تاہم، آج بھی، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ جب ہم نے شیخہ فاطمہ برکت اللہ کا انٹرویو کیا، جو UK میں رہنے والی ایک فی میل اسلامک اسکالر ہیں، تو اُنہوں نے ہمیں ایک بڑی حیرت انگیز بات بتائی۔ یہ اسلام کی اُن باتوں میں سے ایک ہے جن سے غیر مسلم عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہیں، کیونکہ عمومی طور پر، اُنہوں نے اپنے معاشروں میں کبھی یہ تصور نہیں دیکھا تھا کہ کوئی اور اُن کی کفالت کرے۔ ایک مخصوص عمر کے بعد، کنواری لڑکیاں اکثر اپنے باپ سے جدائی کا سامنا کرتی ہیں۔ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے تصور کے تحت، اُنہیں ایسی زندگی کی طرف دھکیلا جاتا ہے جس کی نہ تو وہ عادی ہوتی ہیں اور نہ پابند۔ نتیجتاً، لاکھوں بیٹیاں لمبے عرصے تک دُکھ اٹھاتی ہیں، اور اکثر غلط سوچ والے لوگوں سے ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ شادی سے پہلے اور بعد بھی، وہ اپنی زندگیاں اپنے دفاع میں گزار دیتی ہیں۔ مگر اسلام اُس کی کفالت کی ذمہ داری شادی سے پہلے اُس کے باپ پر اور شادی کے بعد شوہر پر ڈالتا ہے۔ جب شادی کا وقت آتا ہے، تو اُسے یہ مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی کفالت کر سکنے والے مرد کا انتخاب کرے۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں۔ اسلام سے پہلے، جب عورت کی شادی ہوتی تھی اور وہ ماں بنتی تھی، تو اُسے کوئی عزت یا مقام نہیں ملتا تھا۔ مگر دیکھیں کہ ہمارے پیارے نبی (ﷺ) نے کیا فرمایا۔ ’’سب سے پرفیکٹ ایمان والے وہ ہیں جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے، اور تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جن کا اپنی بیویوں کے ساتھ سلوک سب سے اچھا ہے۔‘‘ ماؤں کی اہمیت واضح کرنے کے لیے، اُنہوں نے ایک بار ایک صحابی سے فرمایا، ’’جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔‘‘ اُنہوں نے ماں کے حقوق کو ادا نہ کرنے اور اُس پر ظلم کرنے کو سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک قرار دیا۔ اسلام سے پہلے، اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا، تو اُسے اُس کی وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ بلکہ الٹا اُسے اور اُس کے بچوں کو وراثتی مال سمجھا جاتا تھا۔ کوئی بھی ایرا غیرا مرد اُس فیملی پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرکے اُس عورت سے شادی کر سکتا تھا۔ جب اسلام آیا، تو اِس نے اِس عمل کا خاتمہ کیا۔ اور مرنے والے شخص کی بیوی، بچوں اور والدین کے درمیان وراثت کو ایک خاص مقدار کے مطابق تقسیم کیا۔ جی آپ نے ٹھیک سنا کہ وراثت میں والدین کو بھی حصہ ملتا ہے۔ یہ اہم بات ہے کیونکہ آج، بہت سے ملکوں میں، جنہیں ہم ترقی یافتہ کہتے ہیں، والدین کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ مگر عقلی طور پر، امکان یہی ہوتا ہے کہ مرنے والے شخص کے والدین بوڑھے ہو گئے ہونگے اور غالباً اُنہیں نگہداشت کی ضرورت ہو۔ اسلام اُن کا خیال رکھنے کی ذمہ داری بیٹے پر ڈالتا ہے، اور اگر بیٹا مر جائے، تو وہ اِس مقصد کے لیے اُس کی وراثت سے ایک حصہ اُنہیں دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اسلام کسی عورت کو ماں بننے کے بعد بھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اُس کی کفالت کی ذمہ داری اُس کے بچوں پر آ جاتی ہے۔ ایک لحاظ سے، اِسے عورتوں کے لیے اعلیٰ تر مقاصد حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں یا کام کرنا نہیں چاہتیں، تو آپ کو آمدنی کمانے میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنا وقت زیادہ اعلیٰ مقصد، جیسے کہ تعلیم کو دے سکتی ہیں۔ آخرکار، کیا تعلیم ہی ہر چیز کی بنیاد نہیں ہے؟ کسی بھی معاشرے کی تبدیلی اور اُس کی روحانی فلاح و بہبود آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اگر کوئی عورت کام کرنے کا فیصلہ کرے، تو اسلامی تاریخ میں اِس کی بھی زبردست مثالیں موجود ہیں۔ پیغمبر (ﷺ) کی بیوی، خدیجہ (رضی اللہ عنہا) مکہ کے کامیاب ترین تاجروں میں سے ایک تھیں۔ وہ ایک کمال کی بزنس وومن تھیں۔ یا فاطمہ الفہری کو دیکھ لیں، جنہوں نے پہلی یونیورسٹی بنائی۔ یہ انٹر پرینیئرشپ کا واقعی شاندار مظاہرہ ہے۔ اگر حلال اور حرام چیزوں کے درمیان فرق کا خیال رکھا جائے، تو بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عموماً، کسی بھی معاشرے میں کوئی عادت، جیسے کہ اسموکنگ کو چُھڑوانا بھی تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ پھر بھی پیغمبر محمد (ﷺ) تنہا ڈٹے رہے اور انتہائی مختصر وقت میں اُس معاشرے سے یہ تمام خوفناک رسم و رواج چُھڑوا دیے۔ اور صرف یہی نہیں، اُنہوں نے اِن کی جگہ ایسے خوبصورت اور انصاف کرنے والے اصول دیے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی انسانیت اُس سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ بہت سی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ اور یہ ساری تبدیلی صرف 23 سال میں رونما ہوئی۔ اِس غیر معمولی تبدیلی کی وضاحت عظیم اسلامی اسکالر بدیع الزماں نُرسی نے اِن الفاظ میں کی ہے، ’’اِن لوگوں سے سو فلاسفرز اکھٹا کروائیں، پھر اُنہیں اُس زمانے اور علاقے میں بھیجیں اور وہاں اُنہیں 100 سال تک کام کرنے دیں۔ کیا وہ اُس کامیابی کا 1% بھی حاصل کر پائیں گے جو اُس عظیم شخص نے صرف ایک سال میں حاصل کی؟‘‘ ہمارے پیغمبر (ﷺ) کو دنیا سے گئے ہوئے ابھی 20 سال بھی نہیں گزرے تھے کہ دنیا نے تاریخ میں ایک اور شاندار واقعہ ہوتے دیکھا۔ عمر ابن الخطاب، دنیا میں آنے والے طاقتور ترین لیڈرز میں سے ایک، جو اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے، اور جو اپنی انصاف پسندی کے لیے مشہور تھے۔ ہم ایک مثال دیکھیں گے کہ اسلام نے عورتوں کو کتنا اعتماد اور اہمیت دی۔ ایک دن، عمر کو شکایتیں ملیں کہ عورتیں زیادہ مہر مانگنے لگی ہیں۔ آپ کو مہر یاد ہے ناں؟ وہ مالی سیکیورٹی جسے طلب کرنے کا حق عورت کو شادی کے وقت ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے، حضرت عمر نے ایک عوامی تقریر کی اور مہر کی زیادہ سے زیادہ رقم پر حد مقرر کرنے کی تجویز دی۔ ایسے لیڈر کی بات پر اعتراض کرنے کی جرأت کس میں ہو سکتی تھی؟ یہ وہ شخص تھا جس نے فارس کی سلطنت کو شکست دی تھی اور رومیوں کے خلاف بڑی کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وہ اتنے طاقتور شخص تھے۔ مگر اُس لمحے، ایک عورت کھڑی ہوئی اور اِس پر اعتراض کیا۔ وہ بہادری سے کہنے لگی، ’’کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ نے قرآن میں کیا فرمایا ہے، ’اپنی بیوی کو دیے ہوئے مہر میں سے کچھ واپس مت لو، کچھ بھی واپس مت لو، چاہے تم نے اُسے بڑی مقدار میں سونا ہی کیوں نہ دیا ہو۔‘ ‘‘ ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ کوئی عورت سب کے سامنے ایک حکمران کی مخالفت کرے۔ تو عمر نے کیا ردعمل دیا؟ اُنہوں نے عاجزی سے قبول کیا کہ اِس عورت نے سچ کہا اور عمر سے غلطی ہوئی ہے۔ ہر شخص کے پاس عمر سے زیادہ علم ہے۔ پھر وہ ایک اونچی جگہ پر گئے اور لوگوں کے سامنے اپنے الفاظ واپس لیے۔ یہ واقعہ سوچیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ لہٰذا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کے مین اِسٹریم میڈیا نے اسلام کو بڑے پیمانے پر بدنام کر دیا ہے۔ آپ میں سے کچھ لوگوں کو مشہور آئرش گلوکارہ، Sinead O'Connor یاد ہوگی جو مسلمان ہو گئی تھی۔ وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار سمجھی جاتی تھی۔ اور پھر اُس نے اپنے اسلام کی طرف سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا، میں نے خدا کے بارے میں سچائی تلاش کرنے کے لیے مختلف مذاہب کی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ میں نے کوئی مذہب اپنانے کا کبھی نہیں سوچا تھا، اور اسلام کو تو میں نے سب سے آخر میں رکھا تھا کیونکہ اسلام کے لیے میرے دل میں شدید تعصب تھا۔‘‘ بے شک اسلام کے خلاف بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے، خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں۔ مگر جب لوگ سنجیدگی سے اِس پر غور شروع کرتے ہیں، تو اُنہیں محسوس ہوتا ہے کہ سچائی بالکل مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ US میں مسلمان ہونے والے ہر پانچ لوگوں میں سے چار عورتیں ہوتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ، UK میں بھی مسلمان ہونے والے افراد میں سے تقریباً 75% عورتیں ہیں۔ آئیے اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ اگر اسلام ایسا سسٹم ہوتا جو واقعی عورتوں پر ظلم کرتا، تو اِس سے دُور بھاگنے والی سب سے زیادہ عورتیں ہی نہ ہوتیں؟ مگر اِس کے برعکس، وہی سب سے زیادہ اِسے قبول کر رہی ہیں۔ کیونکہ وہ دیکھتی ہیں کہ اسلام اُنہیں حقیقی عزت دیتا ہے اور اُنہیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی ذات یہیں مکمل ہوتی ہے۔ جب ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک ہی ترتیب نظر آتی ہے۔ جب بھی واضح حدیں مقرر نہیں کی گئیں، جب بھی لوگوں نے خدا کی رہنمائی کو نظرانداز کیا، تو سب سے زیادہ نقصان عورتوں کا ہی ہوا۔ اُن کے حقوق چھینے گئے۔ اُن پر ظلم و زیادتی کی گئی۔ یہاں تک کہ آج بھی، جدید دنیا عورتوں کے حقوق کا مکمل طور پر تحفظ نہیں کر سکی۔ ایسی بہت سی خواتین ہیں جنہیں برابر کام کے بدلے برابر معاوضہ نہیں ملتا۔ اُن کے جسموں کو ایڈورٹائزنگ میں مارکیٹنگ ٹُولز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اُن پر خوبصورتی کے مخصوص معیارات مسلسل تھوپے جاتے ہیں، جن کے بغیر وہ خود کو اَدھوری محسوس کرنے لگتی ہیں، یا اُنہیں بے کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ بے شمار عورتیں فلرٹ کے ذریعے دھوکے کھاتی ہیں اور بہت سی زہریلے رشتوں میں ذہنی اذیت کا شکار ہوتی ہیں۔ کچھ تو جنسی تشدد کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف، ایسی ہزاروں عورتیں ہیں جن کے پارٹنرز نے اُنہیں بچے کی پیدائش کے بعد چھوڑ دیا۔ انگلینڈ اور ویلز کے 236 ٹاؤنز میں، آدھے سے زیادہ گھرانے اکیلی رہ جانے والی مائیں چلا رہی ہیں۔ ذرا سوچیں اُن بے چاری عورتوں پر کتنا بوجھ ہوتا ہے اور اُن کے پرورش پاتے بچوں کو اور ایک مردانہ رول ماڈل کے بغیر کتنے چیلنجز پیش آئیں گے۔ اور جب آپ جرائم کی راہ پر نکلنے والے بہت سے لوگوں کو دیکھیں، تو عموماً آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی زندگی میں باپ کی شخصیت سے محروم رہے۔ مسائل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ تو اصل میں ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ ہمیں ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے جو مردوں اور عورتوں دونوں کو مکمل ترین اور پرفیکٹ انداز میں جانتا اور سمجھتا ہو۔ اور کوئی انسان ایسا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ بہرحال، ہم سب میں خامیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ہم غلطیاں کرتے ہیں۔ ہمارے اندازے اور فیصلے غلط ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایک ایسا سسٹم چاہیے جو انسانی کمزوریوں سے پاک ہو۔ ایسا سسٹم جس سے مرد اور عورتیں دونوں مطمئن ہوں اور خوشی سے اُس پر عمل کریں۔ وہ سسٹم ہمیں پیدا کرنے والی ہستی کی جانب سے بھیجا گیا ہے کیونکہ وہی ہمیں سب سے بہتر جانتا ہے، وہ ہمیں ہم سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے۔ وہ مردوں اور عورتوں دونوں کی تمام خصوصیات کو جانتا ہے، وہ اِن کی رگ رگ سے واقف ہے۔ اُس کا علم لا محدود ہے، اس لیے صرف وہی سب سے زیادہ انصاف والے اور پرفیکٹ فیصلے کر سکتا ہے۔ اور چونکہ اللہ کی ذات کسی بھی جنس یا صنف سے پاک ہے، لہٰذا اُس کے فیصلوں میں کسی طرفداری کی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی بھی دوسرا سسٹم، چاہے کتنا ہی ایڈوانسڈ ہو، اُس میں خامیاں ہوں گی، اور وہ ہمیں نظر آتی بھی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ، وہ جوابات جن کی ہمیں تلاش ہے، وہ حل جنہیں جاننے کی کوشش ہم برسوں سے کر رہے ہیں، وہ ہمیں اسلام کے ذریعے 1400 سال پہلے ہی دیے جا چکے ہیں۔ اور نہ صرف ہمارے ذکر کردہ، بلکہ اور بہت سے مسائل کے حل اسلام میں پائے جا سکتے ہیں۔ جوں جوں آپ مزید تحقیق اور مطالعہ کریں گے، تو آپ خود اِس حقیقت کو جان لیں گے۔ مگر اِس مرحلے پر کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ اب تک کی گئی ہر بات معقول ہے۔ ہاں، اسلام عورتوں کو ایک منفرد مقام اور عزت دیتا ہے۔ ہاں، صرف ہمارا خالق ہی وہ اصول بنا سکتا ہے جن کی ہمیں حقیقتاً ضرورت ہے۔ مگر ابھی بھی، جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا، اسلام میں عورتوں سے متعلق کچھ موضوعات ایسے ہیں جو لوگوں کو اُلجھن آمیز لگتے ہیں۔ آئیے پہلے حجاب کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ لاکھوں لوگ ایک ہی سوال پوچھتے ہیں۔ ’’کیا یہ ایک بڑی پابندی نہیں ہے؟‘‘ اگرچہ حجاب کو عموماً ظلم یا پابندی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ اسلام کی اُن چیزوں میں سے ایک ہے جو غیر مسلم عورتوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ عجیب بات ہے، ہے ناں؟ تو ایسا کیوں ہے؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں، تو ایک ایتھیسٹ کو بھی حجاب پہننے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ ایک ایتھیسٹ کو؟ جی ہاں۔ کیونکہ خود کو ڈھانپنا ایک فطری چیز ہے، ایسی چیز جو انسانوں کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ فطری طور پر، عورت ایک ایسا مرد تلاش کرتی ہے جس کے ساتھ وہ پُرامن، خوش اور محفوظ محسوس کرے۔ اِسی طرح مرد اپنی بیوی پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے، ایک محبت کا رشتہ قائم کرنا، اور اُس کے ساتھ خوش رہنا چاہتا ہے۔ فیملی کا امن اور خوشی محفوظ رکھنے کے لیے، اِس رشتے کا مضبوط رہنا ضروری ہے۔ اِسی لیے فیملی کاؤنسلرز اکثر ایک بنیادی حقیقت پر زور دیتے ہیں۔ ایک خوشگوار ازدواجی رشتے کے لیے، میاں بیوی کے درمیان وفاداری اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔ یہیں پر اسلام مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے حجاب کا حل پیش کرتا ہے۔ سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی اُن کے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے۔ وہ جو کارروائیاں کرتے ہیں، اللہ اُن سب سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ پھر اِس کے بعد والی آیت میں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ خود کو ڈھانپ کر رکھیں۔ لہٰذا اگر آپ نوٹ کریں تو حجاب کا حکم پہلے مردوں کو دیا گیا۔ ’’اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔‘‘ گویا اُن کے لیے اُن کی آنکھوں کے پپوٹے حجاب ہیں۔ تو ہم یہاں دو طرفہ احتیاطی تدبیر دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیملیز کے تحفظ اور اُن کی خوشیاں قائم رکھنے کے لیے اقدامات نافذ فرما رہا ہے۔ مگر آج، مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے حجاب کی یہ صورتیں مسلسل تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔ اچھا اگر فیملی سے اِن حفاظتی تدابیر کو نکال دیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟ جس اعتماد اور وفاداری کی ہم نے بات کی، وہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہونے لگتا ہے۔ ہر عورت کی فطرت ہے کہ اُسے خوبصورت لگنا اور اپنی تعریف سننا اچھا لگتا ہے۔ اور جب کوئی عورت اپنی اِس فطرت کے ساتھ حجاب پہنے بغیر باہر جاتی ہے، تو اُس کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں۔ وہ یا تو باہر کے لوگوں کو اپنے کپڑوں، زیورات، بالوں اور جسم سے باوقار اور دلکش نظر آئے گی، یا پھر لا پرواہ اور بے کشش دکھائی دے گی۔ دونوں میں سے کوئی ایک ہی صورت ہوگی۔ بِیچ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مگر اپنی فطرت کے لحاظ سے، وہ خوبصورت دِکھنا اور اپنی تعریف سننا چاہتی ہے۔ لہٰذا باہر جاتے ہوئے وہ لازماً یہی کرے گی، وہ اِس بات کا خیال رکھے گی کہ خوبصورت نظر آئے اور سارا دن اِسی حال میں گزارے گی۔ حجاب کے بغیر ایسا ہونا لازمی ہے۔ تو آپ کے خیال میں کتنے فیصد مرد کہیں گے کہ، ’’ہو سکتا ہے یہ کسی کی بیوی ہو، مجھے نہیں دیکھنا چاہیے؟‘‘ آئیے ایک سماجی تجربے سے اِس کا جواب لیتے ہیں جو چند سال پہلے کیا گیا تھا۔ شاید آپ نے بھی دیکھا ہو۔ ایک عورت نیویارک شہر میں پانچ گھنٹے تک جسم دِکھانے والے کپڑوں میں گھومتی رہی، اور نتیجتاً اُسے 108 مرتبہ زبانی طور پر ہراساں کیا گیا۔ یعنی اُسے نامناسب جملے سننے کو ملے۔ اِس سے بھی بڑھ کر، کئی مردوں نے اُسے بُری نظروں سے گُھورا۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے۔ اُسی عورت نے دوبارہ یہی تجربہ کیا، مگر اِس بار حجاب پہن کر۔ نتیجہ؟ کسی نے بھی اُسے پہلے کی طرح نہیں گُھورا۔ چاہے میاں بیوی کو احساس ہو یا نہ ہو، یہ صورتحال آہستہ آہستہ اُن کے درمیان اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔ حسد اور اعتماد کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں، جو اُن کے رشتے میں سکون و اطمینان کو ختم کر دیتے ہیں۔ کوئی مرد یہ برداشت نہیں کرے گا کہ کوئی اُس کی بیوی کو بُری نیت سے دیکھے۔ اُس میں حسد اور ملکیت کا احساس اُبھرتا ہے۔ یہ اُس کی فطرت کا حصہ ہے۔ اِسی طرح، عورت کی فطرت میں یہ چاہنا ہے کہ اُس کا شوہر صرف اُسی میں دلچسپی لے اور دوسری عورتوں کو نہ دیکھے۔ یہ دونوں جذبات تب سکون اور ہم آہنگی پا سکتے ہیں جب میاں بیوی دونوں حجاب کے احکامات پر عمل کریں۔ آئیے اب مخالف صورتحال کا تصور کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ میاں بیوی دونوں اپنے حجاب کا خیال رکھتے ہیں۔ تو اب صورتحال کیا ہوگی؟ شوہر کے دل میں کوئی شک یا فکر نہیں رہے گی کہ دوسرے مرد اُس کی بیوی کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ اِسی طرح، جب ایک مرد اپنی نظروں، اپنی آنکھوں کا خیال رکھے گا، تو وہ اپنی بیوی کے لیے اپنی وفاداری کا ثبوت دے گا۔ اِس سے اُس کی بیوی کے ذہن میں ایسے سوالات نہیں آئیں گے کہ ’’کیا یہ دوسری عورتوں کو دیکھ رہا ہے؟ کیا دوسری عورتوں کو یہ زیادہ پُرکشش سمجھتا ہے؟‘‘ وہ ایسی باتیں سوچ سوچ کر پریشان نہیں ہوگی۔ حجاب عورت کو آسانی سے کسی کے ہاتھ آنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اُس کی اہمیت بڑھاتا ہے اور اُسے زیادہ قدر و قیمت والا بناتا ہے۔ کوئی بھی اُس کی اجازت کے بغیر اُس کا ایک بال تک نہیں دیکھ سکتا۔ اُس سماجی تجربے پر غور کریں جو ابھی میں نے آپ سے شیئر کیا۔ جب عورت جسم دِکھانے والے کپڑوں میں چلتی رہی، تو وہ بے شمار گھٹیا نظروں اور زبانی بدکلامی کا نشانہ بنی۔ مگر جب اُس نے حجاب پہنا، تو یہ بتایا کہ اُس کا جسم اُس کا اپنا ہے۔ اُس نے یہ پیغام دیا کہ وہ محض کوئی استعمال کی چیز نہیں، بلکہ اُس کے خیالات اور شخصیت اُسے قدر و قیمت والا بناتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ، اُس نے ایک لحاظ سے چھانٹی بھی کرلی کہ کون لوگ اُس کے قریب آ سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو صرف ظاہری جسمانی خدوخال دیکھتے ہیں، یا گرا ہوا اخلاقی معیار رکھتے ہیں، وہ حجاب پہننے کے بعد، اُس کے قریب نہیں آتے۔ کیونکہ وہ اُن کے لیے کشش کا باعث نہیں ہوتی۔ ایسے میں حجاب پہننے کا مطلب ہوتا ہے صرف اُنہی لوگوں سے تعلق رکھنا جو آپ کی اصل شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو آپ کے ظاہری خدوخال نہیں، بلکہ آپ کی روح، اور آپ کے بلند اخلاقی معیارات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں۔ آپ دوسروں کی طرف سے خوبصورت ہونے یا نہ ہونے کا لیبل لگائے جانے سے کہیں بلند ہیں۔ آپ کو دوسروں کی خواہشات اور توقعات کے بنائے ہوئے معیار پر پورا اترنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو دوسروں کے خیالات کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق لباس پہننا چاہیے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا اور زمین کو آپ کے قدموں تلے بِچھایا۔ کچھ لوگ آپ سے آپ کی خوبصورتی کی وجہ سے محبت کرتے ہوں گے، مگر اللہ نے آپ کو اپنی محبت کی وجہ سے پیدا فرمایا ہے۔ اُس نے آپ کو وہ منفرد خوبصورتی دی ہے جو کسی اور کو نہیں دی۔ یاد ہے ناں ہم نے کہا تھا کہ حجاب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مردوں کا حجاب اور عورتوں کا حجاب۔ اِس کے ساتھ ساتھ، مرد اور عورت کے درمیان تعلقات میں کچھ حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔ مثلاً، مخالف جنس کے کسی ایسے مرد یا عورت کے ساتھ ہنسی مذاق یا بے باک گفتگو کرنا منع ہے جو اُس کی فیملی سے نہ ہو یا شریکِ حیات نہ ہو۔ لہٰذا جب دونوں فریق اِن اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو وہ مقناطیس کے مخالف سِروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف کِھنچنے لگتے ہیں، اور دنیا کا نظام بگڑنے لگتا ہے۔ جنسی جذبات عمل میں ڈھلنے لگتے ہیں، جو ناجائز تعلقات، جنسی بے راہ روی، اور بالآخر جرائم کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اِس معاملے میں دونوں پر ذمہ داری آتی ہے، اور جب دونوں ہی اپنا اپنا کردار ادا نہیں کر پاتے تو قصور بھی دونوں کا سمجھا جاتا ہے۔ CDC کے ایک جائزے کے مطابق، 2020 میں، US میں تقریباً 500,000 اسقاطِ حمل انجام دیے گئے اور اِن میں سے 86% بچے ناجائز تھے۔ ایک ہی ملک میں، صرف ایک سال میں، ناجائز تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے 400,000 بچوں کی جانیں لے لی گئیں۔ ظاہر ہے، ایک عورت کے لیے یہ انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور زیادہ تر صورتوں میں بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اِسی ادارے کی جانب سے، 2021 میں کیے گئے ایک اور جائزے کے مطابق، صرف امریکہ میں 1.4 ملین ناجائز بچے پیدا ہوئے۔ اور زیادہ تر صورتوں میں، ماں کو یہ بوجھ اٹھانے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ وہ اکیلی برسوں تک بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کرتی ہے جبکہ اُس کے پاس شوہر کا کوئی سہارا موجود نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ذرا اُس ماں کی جذباتی اور ذہنی کیفیت کا تصور کریں، اور اُس بچے کے مسائل پر بھی غور کریں جو باپ کے بغیر پرورش پا رہا ہوتا ہے۔ اور ایسا دوبارہ ہونے سے روکنے کا حل وہی دو قرآنی احکامات ہیں جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اب پورا منظرنامہ بڑی حد تک واضح ہو چکا ہے، مگر ابھی بھی کچھ سوالات باقی ہیں جن کے جوابات دینا ضروری ہے۔ جیسے کہ ایک مرد کا چار عورتوں سے شادی کرنا، بھائیوں کے مقابلے میں بہنوں کو آدھی وراثت ملنا، اور سورۃ النساء، آیت نمبر 34 کا وہ مشہور اور بار بار پوچھا جانے والا مسئلہ۔ اِن تمام سوالات کے جواب اتنے مشکل نہیں جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ ہم پارٹ 2 میں اِن تمام تفصیلات پر بات کریں گے۔ ہمارے ساتھ رہیے گا۔
