# Perfect Life Partner Kaise Choose Karein? Shadi Se Pehle Zaroor Dekhein.

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/this-destroys-your-marriage-watch-this-before-its-too-late
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=nffssalFWqs
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

کیا ایک ناخوشگوار شادی کو ختم کر دینا بہتر ہے، یا صبر کرنا اور یہ سمجھنا کہ یہ ایک آزمائش ہے؟ کچھ میاں بیوی میں وقت کے ساتھ ساتھ محبت میں کمی کیوں آ جاتی ہے؟ کیا شروع کے دنوں جیسی محبت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے؟ اگر صحیح طریقے سے نبھایا جائے تو شادی محبت کو اور مضبوط کر دے گی۔ ایک بات جو لوگ نہیں سمجھتے، یہ ہے کہ اِس رشتے میں محبت بڑھتی ہے، اور یہ ایک درجے سے دوسرے درجے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ زور آپ کو شیطان کے خلاف لگانا ہوگا۔ کیونکہ شیطان آپ سے یہ کہے گا، ’’چیخو، بُرا بھلا کہو، یہ کرو، وہ کرو۔‘‘ مگر آپ کو یہ وسوسے دُور دھکیلنے ہیں۔ کیا نبی (ﷺ) کا اپنی بیویوں سے کبھی کوئی اختلاف ہوا یا ہمیشہ خوشی اور محبت کا ماحول ہی رہتا تھا؟ ہاہاہا، اوکے۔ السلام علیکم شیخ یاسر بِرجاس۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ آج ہم شادی کے بارے میں کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں۔ بالکل بالکل۔ تو ہم اپنے سوالات سے آپ کو تھوڑا پریشان کرنے والے ہیں۔ بسم اللہ۔ میں تیار ہوں۔ شروع کریں۔ اوکے۔ کچھ میاں بیوی میں وقت کے ساتھ ساتھ محبت میں کمی کیوں آ جاتی ہے؟ کیا شروع کے دنوں جیسی محبت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے؟ کیا شادی محبت کو ختم کر دیتی ہے؟ دراصل۔ سبحان اللہ۔ ابن القیم (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی ایک کتاب میں اِس موضوع پر لکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صحیح طریقے سے نبھایا جائے تو شادی محبت کو اور مضبوط کر دے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ، صحیح طریقے سے نبھانے کا کیا مطلب ہے؟ ہمارے مطابق اللہ نے قرآن میں بتایا کہ اس کے دو اہم اجزاء ہیں محبت اور رحمدلی، جذبہ اور ہمدردی۔ اور یہ ظاہر ہے، ایک بات جو لوگ نہیں سمجھتے، یہ ہے کہ اِس رشتے میں محبت بڑھتی ہے اور یہ ایک درجے سے دوسرے درجے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب دس سال گزر جاتے ہیں اور 2 ، 3 بچے ہو جاتے ہیں تو اس وقت بھی وہ اپنے شریکِ حیات سے اُسی انداز میں محبت کی توقع کرتے ہیں جیسی وہ دس سال پہلے کرتے تھے، جب وہ جوان تھے، ماشاءاللہ، جب اُن پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ یہ تو ناانصافی ہے۔ مگر اب میں تم سےکسی اور وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ بچوں کے باپ یا ماں ہونے کے ناطے تم سے محبت کرتا یا کرتی ہوں۔ میں اِس لیے تم سے محبت کرتا ہوں کہ جب میں تھک جاؤں تو تم میرا سہارا بنتی ہو۔ مجھے یہ بات بہت عزیز ہے کیونکہ تم میری مددگار بنتی ہو، تم مجھے سمجھتی ہو، خیال رکھتی ہو، وغیرہ ،وغیرہ۔ رشتے میں دراڑیں کب آنے لگتی ہیں؟ لوگ کب ایک دوسرے سے دور ہونا شروع ہوتے ہیں؟ اصل نکتہ یہاں یہ جاننا ہے کہ یہ دُوری کیوں جنم لیتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے۔ کسی بھی رشتے کا بنیادی مقصد راحت اور سکون حاصل کرنا ہے۔ اور سکون ایک ری چارج ایبل بیٹری کی طرح ہے۔ آپ اپنا دن % 100 اطمینان کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ اور پھر سارا دن گزار کر، آپ اپنے% 90 پر آ جاتے ہیں۔ تب آپ اپنے شریکِ حیات سے کیا چاہتے ہیں؟ کہ وہ آپ کو ری چارج کرکے 100 پر لے آئے۔ لیکن، بدقسمتی سے، برے سلوک کے ساتھ، یہ بیٹری مزید خالی کرنے لگتے ہیں۔ پھر ہم %70 کے ساتھ سونا شروع کرتے ہیں۔ اور پھر کچھ عرصے بعد ہم % 90کے ساتھ جاگنا اور دن کے آخر میں %70 پر آنا اور% 50کے ساتھ سونا شروع کرتے ہیں۔ اگر یہی طرزِ عمل رہا۔ تو ایسا وقت آتا ہے جب آپ میں کوئی انرجی باقی نہیں بچتی۔ یہی وقت ہوتا ہے جب لوگ رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کو میرے لیے راحت اور سکون کا ذریعہ بننا ہے اور مجھے آپ کے لیے راحت اور سکون کا ذریعہ بننا ہے۔ تو لوگ لڑتے جھگڑتے کیوں ہیں؟ وہ اِس لیے لڑتے ہیں کہ آپ میرے سکون کو تباہ کر رہے ہیں۔ تو مجھے وہ سکون واپس لانا ہوتا ہے۔ اور اگر آپ اِس میں میری مدد نہیں کریں گے، تو میں طاقت سے اِسے لے لوں گا۔ اور تبھی ہم میں اختلاف اور جھگڑا پیدا ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے رشتے میں اِس طرح سے سکون پانا چاہتا ہے جو اُس کے لیے با معنی ہو۔ اور اگر ہم اِس کے اہل نہ ہوئے، ہم ایک دوسرے کو وہ سکون دینے کے لیے تیار نہ ہوئے اِس احساس کے بغیر کہ دوسرا خود کو خالی محسوس کر رہا ہے، تو لوگ پھر ہر وقت جھگڑتے ہی رہیں گے۔ ہمارے پیغمبر (ﷺ) کا اپنی بیویوں سے کیا رویہ تھا؟ اوہ مائی گاڈ۔ مطلب، وہ تو خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک تھا، جو مجھے حضور (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ، اُن کی ذاتی زندگی کے متعلق پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اور میں نے رسول اللہ (ﷺ) کی ذاتی زندگی پر بہت زیادہ حدیثیں جمع کی ہیں۔ نبی (ﷺ) ناقابلِ یقین شخصیت تھے (ﷺ)۔ آپ (ﷺ) انتہائی شریف النفس انسان تھے۔ اِنہی میں سے ایک قصہ حضرت صفیہ (رضی اللہ عنھا) کے ساتھ آپ (ﷺ) کی شادی کا ہے، وہ اُس وقت حیفا سے واپسی کے سفر پر تھے اور اُسی دوران اُسی سفر کے دوران ایک موقع ایسا آیا جب اُنہیں اپنے اونٹ پر سوار ہونا تھا، اونٹ کی اونچائی زیادہ تھی۔ تو ہمارے پیارے نبی(ﷺ) نے کیا کیا کہ آپ گھٹنوں کے بل گھٹنوں کے بل جھک گئے۔ اور آپ نے اپنا دوسرا گُٹھنا اُن کے لیے ذرا اٹھا کر رکھا۔ تاکہ وہ دہلیز کی طرح اپنا ایک قدم گھٹنے پر آسانی سے رکھ سکیں۔ تو وہ آپ (ﷺ) کے گٹھنوں پر قدم رکھ کر اونٹ کی کمر پر سوار ہوگئیں۔ جب وہ یہ کر رہی تھیں، تو حضور (ﷺ) نے اپنے اعلیٰ اخلاق کا اظہار کرتے ہوئے حضرت صفیہ (رضی اللہ عنھا) کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا ۔ آپ نے اِس طرح اُنہیں ڈھانپ لیا تھا۔ جب وہ آپ (ﷺ) کے گٹھنے پر قدم رکھ رہی تھیں کیوں؟ کیونکہ جب وہ آپ (ﷺ) کےگھٹنے پر اپنا قدم رکھنے کے لیے ایک پیر اٹھاتیں، ممکن تھا اُن کی دوسری ٹانگ ظاہر ہو تی۔ تواِس لیے آپ (ﷺ) اُنہیں اسطرح ڈھانپ رہے تھے۔ یہ ہیں اعلیٰ اخلاق۔ اعلیٰ اخلاق کا کیا مطلب ہے؟ اِس موقع پر اِس سے مراد دراصل ایک حقیقی مرد کا رویہ ہے۔ کیونکہ آپ (ﷺ) اُن کے محافظ اور شریف النفس انسان تھے۔ آج کے دور میں اِس کی مثال اپنی بیوی کے لیے دروازہ کھولنا، جب وہ گزرنے لگے تو اُس کے لیے دروازے کو تھام کر رکھنا وغیرہ، اِس طرح کے رویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ کلچرز میں، لوگ اِسے اپنی کمزوری سمجھتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ اِس سے اُن کی مردانگی اور برتری پر آنچ آتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنی شریک حیات کے ساتھ اپنے تعلقات سے کتنے خوش ہیں۔ یہ اُن پر ہے۔ اگر آپ بتانا چاہیں تو، کیا آپ اپنی بیوی کے لیے ایسا رویہ اپناتے ہیں؟ یہ مجھ سے نہیں میری بیوی پو چھیں۔ صحیح۔ صحیح۔ مگر میں اپناتا ہوں۔ یہ سب کرتا ہوں۔ الحمدللہ۔ الحمدللہ۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے احترام کا اظہار کیسے کرنا چاہیے؟ اصل میں، آج کے دور میں بدقسمتی سے ہم جس طرح کا لائف اسٹائل اپنائے ہوئے ہیں، اُس میں ’احترام‘ کا لفظ بھی حسّاس ہو گیا ہے۔ آج کل جب عورتیں احترام کا لفظ سنتی ہیں، تو اُن میں ایک بے چینی سی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اُن کے لیے بہت حسّاس لفظ بن گیا ہے کیونکہ وہ احترام کا مطلب لیتیں ہیں کنٹرول۔ رائٹ۔ فرمانبرداری ہاں فرمانبرداری کا مطلب وہ زور زبردستی لیتی ہیں، بدقسمتی سے۔ لہٰذا، احترام کے لفظ، فرمانبرداری کے لفظ سے منفی معانی لیے جاتے ہیں۔ میں اِس کا الزام عورتوں کو نہیں دیتا کیونکہ بدقسمتی سے کچھ مرد ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ وہ احترام کا مطلب نہیں سمجھتے۔ لہٰذا وہ اُن سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں جو احترام سے بالاتر ہوتی ہیں۔ مگر درحقیقت دیکھا جائے تواحترام کا موضوع کلچرز کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کاکیا مطلب؟ یعنی کچھ کلچرز میں، شریکِ حیات کے منہ پر جواب دینا احترام کے خلاف سمجھا جاتا ہے،الرائٹ؟ لیکن کچھ کلچرز میں نارمل ہے۔ بلکہ رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے میں بھی ایسا ہوتا تھا۔ کیونکہ مکے والےرسول اللہ (ﷺ) کے زمانے میں، مکے والے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُن میں مردانگی زیادہ تھی۔ اور وہ اپنے خاندانوں کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ اِس رشتے پر کنٹرول کرنے والے ہوتے تھے۔ توجب وہ مدینہ آ گئے، تو انصاری عورتیں، وہ نسبتاً زیادہ بولنے والی تھیں۔ وہاں اُنہیں زیادہ اختیارات تھے۔ کیونکہ شاید وہ کھیتوں میں اور دوسری جگہوں پر کام بھی کرتی تھیں۔ لہٰذا بات کرنے کے حوالے سے وہ زیادہ ہمت والی عورتیں تھیں۔ تبھی، حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) بھی حیران ہو گئے تھے کہ اُن کی بیوی انصاری عورتوں سے سیکھ کر اُن کے سامنے جواب دینے لگی تھیں۔ اور ظاہر ہے، اُن کے لیے یہ احترام کے خلاف بات تھی۔ تو ہمیں اِس سے کیا سبق ملتا ہے کہ جب ہم احترام کے معنی کو دیکھتے ہیں، تو یہ دراصل مختلف پہلو رکھتا ہے۔ تو فرض کریں اگر کوئی اپنے ہی گاؤں یا اپنے ہی ٹاؤن میں شادی کرے تو توقع یہی ہوگی کہ آپ کی شریکِ حیات آپ کے ساتھ جانا پہچانا رویہ اپنائے جو آپ نے اپنے انکلز، اپنے کزنز یا رشتے داروں میں دیکھا ہوگا۔ کیونکہ کلچر ایک ہوگا۔ مگر جب لوگ دوسرے کلچر میں دوسرے گاؤں میں دوسرے شہر میں یادوسرے ٹاون میں رشتہ جوڑتے ہیں شادی کرتے ہیں تو ہمیں احترام کے معانی برقرار رکھنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ میاں کے لیے نارمل بات ہو سکتی ہے۔ مگر ہو سکتا ہے بیوی کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف بات ہو۔ یا ہو سکتا ہے اُس کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہ ہو، مگر میاں کے لیے یہ احترام کے خلاف ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، ہم کوئی معانی طے نہیں کر سکتے کہ ’’احترام اِس چیز کو کہتے ہیں۔‘‘ پھر وہی بالمعروف کا اصول سامنے آتا ہے، یعنی آپ خود اس چیز کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسا رویہ مناسب ہے اور کونسا نہیں۔ لہٰذا روایتی گھرانوں میں کیا ہو تا ہے، مرد توقع کرتا ہے کہ بیوی ہر چیز کا خیال رکھے گی۔ کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کا خیال اور ایسے ہی سارے کام۔ شوہر کا کام صرف باہر سےکما کر لانا ہے۔ مگر آج کے دور اور جدید معاشروں میں، ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اِس سے مختلف توقع رکھ سکتے ہیں۔ تو اگر آپ اپنی بیوی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی کمانے میں شریک ہو، تو ظاہر ہے یہ ان کیلئے آج کے دور میں احترام کے خلاف نہیں ہوتا۔ اِس حوالے سے رسول اللہ(ﷺ) کی زندگی کیسی تھی۔ ان کا لائف اسٹائل وہ تھا جسے آج کل ٹرانزیشنل کہا جاتا ہے، یعنی روایتی اور برابری کے حقوق والے رویوں کا درمیانی دور تھا۔ تو نبی(ﷺ) جب گھر میں ہوتے تھے، عائشہ (رضی اللہ عنھا) سے پوچھا گیا، ’’رسول اللہ (ﷺ) گھر میں کیسے رہتے تھے؟‘‘ تو وہ فرماتی ہیں، ’’ دوسرے عام لوگوں کی طرح ہی رہتے تھے، وہ صفائی کرتے اپنے جوتے خود مرمت کر لیا کرتے، کپڑوں کو خود پیوند لگا لیا کرتے، اور ہمارے لیے بکری کا دودھ دھو لیا کرتے تھے۔‘‘ ’’مگر جیسے ہی اذان کی آواز آتی، تو سارے کام روک دیتے ۔‘‘ آپ ﷺ نماز سے واپس آتے اور تمام کام کرتے جو ایک مرد کو کرنے چاہئیں۔‘‘ تو ہاں اِس لیے، مرد ہونا ہرگز اِس بات سے منع نہیں کرتا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا خیال رکھے یا گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹائے۔ مگر اِس کے ساتھ ساتھ، ظاہر ہے عورت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو اُس کی طرف سے دی جانے والی مدد کے بدلے وہ احترام دے وہ عزت دے جس کا وہ مرد حق دار ہے۔ آپ نے کامیاب شادیوں میں کونسے ایک جیسے پہلو نوٹ کیے؟ میں کہوں گا کہ کامیاب شادی کا سب سے زیادہ مشترک پہلو درحقیقت اخلاق اور حسنِ سلوک ہے۔ چاہے دونوں ایک دوسرے سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔ چاہے آپ کتنے ہی امیر یا غریب ہوں کتنے ہی تعلیم یافتہ یا غیر پڑھے لکھے ہوں، وہ چیز جو دونوں کو ساتھ جوڑ کر رکھتی ہے، وہ اہم ترین چیز اُن کا حسنِ سلوک، اُن کا اخلاق ہے ایک دوسرے سے ان کا سلوک کیسا ہے۔ چاہے آپ اپنے شریکِ حیات کو جذبے اور دیوانگی کی حد تک نہ بھی چاہتے ہوں، تب بھی آپ رشتے میں احترام اور عزت کو برقرار رکھتے ہیں۔ شادیاں درحقیقت اِسی طرح سے چل پاتی ہیں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، کونسی چیز لوگوں کو جوڑ کر رکھتی ہے؟ دیکھیں، لوگوں کو جوڑنے والی چیز ہم آہنگی ہے۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا۔ تو دیکھیں ہمارا ایک ہی وژن ہوتا ہے، ہماری ایک جیسی پرسنالٹی ہوتی ہے، ہوسکتا ہے ہماری منزل اور زندگی کے خواب بھی ایک جیسے ہوں۔ یہ تمام باتیں خوبصورت ہیں۔ اِن سے دونوں کو شادی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مگر یہ شادی برقرار رہنے کی گارنٹی نہیں ہیں۔ جو چیز رشتہ برقرار رکھنے کی گارنٹی دیتی ہے وہ لچک ہے۔ لچکدار بننا پڑے گا۔ حالات کے مطابق ڈھلنا پڑے گا۔ ورنہ اگر آپ محبت کا مطلب سمجھنے، رشتے کو نبھانے کے انداز، اور بچوں کی پرورش کے طریقے، اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی ہی بات پر اڑے رہے۔ اگر آپ اپنی شادی سے لے کر آج تک اُنہی اصولوں سے چپکے رہیں، تو یہ خطرناک ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہر کوئی تبدیل ہو تا ہے۔ ہم سب بدل جاتے ہیں۔ ہم بچے ہو جانے کی وجہ سے بدل جاتے ہیں۔ ہم زندگی زیادہ مصروف ہو جانے کے باعث بدل جاتے ہیں۔ ڈھلتی عمر کی وجہ سے ہم اسلئے بدل جاتے ہیں۔ کیونکہ چیزوں کی جانب ہماری توجہ تبدیل اور منتقل ہوجا تی ہے۔ اگر آپ شریکِ حیات میں تبدیلی قبول کرنے، خود کو اِس تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار نہیں تو پھر یہ رشتہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اس لیے، لچک لانا ضروری ہے۔ تو یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں لچک کیسے آتی ہے؟ ہمدردی سے، احساس سے، اور معافی سے۔ یعنی ایک کھلے ذہن کی شخصیت۔ اور آگے بڑھنے کا شعور۔ پتہ ہے کیسے؟ جیسے کہ ہم سب سیکھتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ ہم میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ اصول لوگوں کو ساتھ جوڑے رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر اُن میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کا یہ احساس نہیں ہوگا، اگر اُن میں ایک دوسرے کے لیے رحم دلی کا جذبہ نہیں ہوگا، ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف نہیں کریں گے، اپنے شریکِ حیات کا آگے بڑھنا قبول نہیں کریں گے، تو پھر ایسے رشتے کی ناکامی اور خاتمہ ہو کر رہتا ہے۔ اصل میں۔ تو ناکام شادیوں میں سب سے عام پہلو کونسا ہوتا ہے؟ ناکام رشتوں میں سب سے عمومی چیز اپنے رویے میں لچک کا نہ ہونا ہے۔ جب ایک یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر چیز اُس کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے، اور وہ اکوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ مثلاً، جب شوہر چیزوں کو ایک مخصوص انداز سے ہی کرنے پر زور دیتا ہے، اور بیویاں اپنے مخصوص انداز پر ہی زور دیتی ہے۔ اور بدقسمتی سے دونوں میں سے کوئی بھی سمجھوتے کے لیے لچک نہیں دکھاتا، تو پھر یہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ سب سے عمومی وجہ ہے۔ اچھا، اِس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ میں اپنے کلائنٹس کو رشتے میں ناکامی سے بچنے کے لیے عام طور پر دو باتیں سکھاتا ہوں۔ نمبر ایک تو ایسی چیز ہے جسے میں رشتوں کا خاموش قاتل کہتا ہوں۔ رشتے کا خاموش قاتل ہے آرزوئیں، یا نامکمل آرزوئیں۔ اب اِس کا کیا مطلب ہے؟ ہم سبھی کچھ نا کچھ آرزوئیں لے کر رشتہ جوڑتے ہیں۔ ہم دل میں خود سے، شریکِ حیات سے، معاشرے سے رشتے سے، یہ آرزو لیے آتے ہیں کہ چیزیں ایک خاص انداز سے چلیں گی۔ مگر جب آپ کی آرزوئیں پوری نہیں ہوتیں، تو آپ مایوس ہو جاتے ہیں۔ زیادہ مایوسی ذہنی الجھن اور غصے کی طرف لے جاتی ہے۔ کیونکہ اب آپ کے ذہن میں غیر یقینی خیالات آتے ہیں کہ کیا اب سب کچھ ایسے ہی چلے گا؟ کیا میری زندگی اب ایسی ہی رہے گی؟ اور جب آپ میں یہ شک پیدا ہونے لگتے ہیں، تو اینگزائٹی ڈیرہ جما لیتی ہے جوکہ پہلا سیلف ڈیفنس میکانزم ہے۔ پھر آپ کو فکر ہونے لگتی ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا، کیا زندگی میں کوئی تبدیلی بھی آئے گی؟ ایسی فکریں انسان کو خوف اور اندیشوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ زیادہ خوف انسان کو مفلوج کر دیتا ہے۔ بے حسی کی کیفیت ہو جاتی ہے اور انسان فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ نتیجتاً، دل میں رنجشیں جنم لینے لگتی ہیں۔ ہم میں ہمدردی کے جذبات ختم ہونے لگتے ہیں، اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں، ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ ذراسی بات بھی آپ کو غصہ دلا دیتی ہے، اور غصہ ہمیشہ مسئلے کی علامت بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ وہ پہلی چیز ہے۔ جسے رشتے کا خاموش قاتل کہا جاتا ہے، نہ پوری ہونے والی امیدیں۔ دوسری وہ چیز ہے، جسے میں ’ٹِپنگ پوائنٹ‘ کہتا ہوں۔ ٹِپِنگ پوائنٹ وہ ہوتا ہے جب میاں بیوی اپنا رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم رشتے میں ہمیشہ وہ ایک چیز تلاش کرتے ہیں۔ ہر کوئی ایک ہی چیز تلاش کرتا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ اِسے راحت اور سکون کہتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم اِسے جذباتی تسکین کہتے ہیں۔ جذباتی تسکین راحت اور سکون دیتی ہے۔ لہٰذا میاں بیوی میں طلاق کی سب سے پہلی وجہ ان کا یہ کہنا ہے کہ، ’’مجھے کوئی جذباتی تسکین نہیں مل رہی۔‘‘ اِس کی سب سے پہلی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ مجھے لگتا ہے میری قدر نہیں کی جا رہی۔ یعنی قدر افزائی میں کمی۔ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ قدر نہیں کی جا رہی؟ جب وہ نہ الفاظ سے کہے، نہ پر اپنے کسی عمل سے ظاہر کرے۔ تو ہم کیسی قدر افزائی چاہتے ہیں؟ ہم کیسی تعریف کے متلاشی رہتے ہیں؟ زبانی تعریف جیسے کہ ’’شکریہ‘‘ یا ’’آج آپ بہت اچھے لگ رہے یا رہی ہیں۔‘‘ ’’اِس کام میں میری مدد کرنے کا شکریہ۔‘‘ یا جسمانی انداز میں چاہت اور قُربت۔ مثلاً، گلے لگنا، بوسہ دینا، وغیرہ،وغیرہ، جو یہ پیغام دے کہ ’’مجھے تمہارا ساتھ پسند ہے۔‘‘ جب رشتے سے یہ چیزیں غائب ہو جاتی ہیں، تو لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ اُن کی قدر نہیں کی جا رہی۔ وہ خالی پن محسوس کرتے ہیں اور یہی چیز رشتہ ختم ہونے کی وجہ بن جاتی ہے۔ اِس کے بعد لوگ چُپ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جب کچھ اچھا کہنے کو نہ ہو، تو چپ ہو جاتے ہیں۔ لیکن انسان آخر کب تک چپ رہ سکتا ہے؟ زیادہ عرصہ نہیں۔ اور جب وہ اپنا منہ کھولتے ہیں، تو اُن سے کیسے الفاظ نکلتے ہیں؟ اچھی بات نہیں۔ تنقید یا پھر الزام۔ وہ دوسرے کے عمل پر تنقید کرتے ہیں، یا کردار کو نشانہ بناتے ہیں اور یہی چیز رشتے کی قاتل بن جاتی ہے۔ مرد یا عورت اپنی شادی شدہ زندگی میں کونسی چیز سب سے اہم سمجھتے ہیں؟ عموماً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مرد اور عورتیں سب سے زیادہ کس چیز کی امید کرتے ہیں، جب وہ ایک دوسرے سے سب سے زیادہ کیا چاہتے ہیں اگر ایک لفظ میں کہوں چیزیں تو ویسے بہت ہیں، رائٹ ایک عورت کو مرد سے جو چیز چاہیے ہوتی ہے وہ ہے محبت۔ ایک لفظ میں کہوں تو مرد کو عورت سے احترام چاہیے ہوتا ہے۔ تاہم، محبت اور احترام دونوں ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، مگر مرد اور عورتیں اِسے مختلف انداز سے سمجھتے ہیں۔ یعنی مرد بھی چاہتا ہے کہ اُس سے محبت کی جائے، وہ محبت کو احترام کے زمرے میں لیتا ہے۔ اور عورت بھی چاہتی ہے کہ اُس کا احترام کیا جائے، مگر وہ اِس احترام کو توجہ اور محبت کے پردے میں دیکھتی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایک مرد اپنی عورت سے محبت کا اظہار نا کرے، پھر وہ بھی احترام نہیں کرتی۔ اور جب مرد کا احترام نہیں کیا جاتا، تو وہ اپنی محبت کا اظہار نہیں کرے گا۔ یہ نہ ختم ہونے والا دائرہ ہے۔ محبت کے بغیر، عورت آپ کا احترام نہیں کرے گی۔ مرد محبت کے بغیر اورعورت احترام کے بغیر رشتہ نبھاتی ہے۔ اور یوں ایک دائرہ بن جاتا ہے۔ اِس دائرے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کرنا چاہیے۔ اوکے، مگر ایسا کیسے کیا جائے؟ کیونکہ میں تو اپنے ہر عمل کو ٹھیک سمجھتا ہوں، اچھا، یہ سب کرنے کے لیے آپ کو وہ طریقہ اپنانا ہوگا جو آپ کی بیوی کے لیے معنی رکھتا ہو، چاہے وہ خود آپ کو بے معنی لگے۔ میں لوگوں کو اکثر ایک مثال دیتا ہوں، مثلاً ایک خاتون ہیں جنہیں ڈارک چاکلیٹ پسند ہے، جبکہ اُس کے شوہر کو مِلک چاکلیٹ۔ جب وہ اُس سے محبت کا اظہار کرتاہے تو اُسے مِلک چاکلیٹ لے کر دیتا ہے۔ کچھ وقت بعد بیوی کیسا محسوس کرے گی؟ مایوس، محسوس کرے گی تنہا محسوس کرے گی، وہ سمجھے گی کہ شوہر خود غرض ہے، وہ صرف اور صرف اپنی پسند کے بارے میں سوچتا ہے۔ اور جب بیوی اس بات کا اطہار کرتی ہے، تو شوہر بُرا مان جاتا ہے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو ایک بہترین شوہر سمجھتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے، ’’دیکھو، میں تمہارے لیے مارکیٹ کی سب سے اچھی چاکلیٹ لا رہا ہوں۔‘‘ ’’یہ بیلجیئن چاکلیٹ ہے، کیا زبردست چاکلیٹ ہے۔‘‘ تو وہ کہتی ہے، ’’ مجھے ڈارک چاکلیٹ پسند ہے۔‘‘ اور وہ اس سے کہتا ہے، ’’نو، نو، نو ڈارک چاکلیٹ کون پسند کرتا ہے؟‘‘ ’’مِلک چاکلیٹ ڈارک چاکلیٹ سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اکثر گھروں میں میاں بیوی کی یہی کہانی ہے۔ مرد محبت کا وہ طریقہ اپناتا ہے جو خود اُس کے لیے معانی رکھتا ہے۔ اور عورت اُسے محبت اور احترام اپنے انداز میں دینا چاہتی ہے۔ نتیجتاً، دونوں ایک دوسرے سے دُور ہو نا شروع ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے محبت کا اظہار اُس طریقے سے کرے جو اُس کے لیے بامعنی ہو چاہے وہ اُس کے اپنے معیار پر پورا نہ اُترے۔ اور یہی چیز عورت کو چاہیے کہ وہ شوہر کا احترام شوہر کی چاہت کے مطابق کرے، چاہے وہ انداز اُس کی نظر میں اہم نہ ہو۔ جب تک یہ شریعت کے خلاف یاغیر معقول نہ ہو، تو کیا برائی ہے؟ کیا آپ حضور (ﷺ) کی زندگی سے دلوں کو چھو لینے والا کوئی قصہ سنا سکتے ہیں؟ اُن کی ہمدردی، اُن کا بیوی کی ضروریات کو سمجھنا، وہ واقعی...

بہت زیادہ خیال کرنے والے، بہت مہربان، اور ہمدرد تھے۔ آپ (ﷺ) اپنی بیویوں کی ضروریات کو سمجھتے تھے۔ اِن میں سے ایک مثال حضرت صفیہ کی ہے۔ صفیہ (رضی اللہ عنھا) کا تعلق یہودی خاندان سے تھا۔ تو جب اُن کی شادی ہمارے نبی (ﷺ) سے ہوئی، تو آپ مدینہ آ گئیں، تو ہمارے علم کے مطابق وہ واحد بیوی تھیں، جو نبی (ﷺ) کو اعتکاف کے دوران بار بار ملنے آتی تھیں جب آپ (ﷺ) رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ یعنی آپ (ﷺ) تو عبادت میں مشغول ہوتے تھے۔ تو وہ آپ (ﷺ) سے کیوں ملنے جاتی تھیں؟ پتہ ہے اس کی وجہ؟ کیونکہ شاید وہ حضور (ﷺ) کی.

واحد بیوی تھیں جن کا مدینے میں کوئی رشتے دار نہیں تھا۔ پورے مدینے میں باقی تمام بیویوں کی کزنز تھیں۔ اُن کے والدین تھے۔ اُن کی فیملی تھی۔ کیونکہ وہ سب زیادہ تر عرب تھیں، سوائے ماریہ (رضی اللہ عنھا) کے، جو ظاہر ہے کہ بعد میں آئی تھیں۔ مگر صفیہ (رضی اللہ عنھا) کے لیے رسول اللہ (ﷺ) کے علاوہ مدینے میں کوئی نہیں تھا۔ لہٰذا، وہ ا ُنھیں (ﷺ) یاد کرتی تھیں۔ اور اعتکاف کے دوران بھی آپ (ﷺ) سے ملنے مسجد چلی جایا کرتی تھیں۔ نبی (ﷺ) کا ردعمل سوچیں کیا وہ ان سے یہ کہتے ہوں گے، ’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ ’’میں اعتکاف میں ہوں۔ مجھے یہ مکمل کر لینے دو۔‘‘ ’’میں لیلۃ القدر کی تلاش میں ہوں۔‘‘ تم کیا کر رہے ہو انھوں (ﷺ) نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا، ’’استغفراللہ، تم اِس وقت مسجد نہیں آ سکتیں، واپس چلی جاؤ۔‘‘ وہ رات میں ملنے آتی تھیں وہ آپ سے ملنے آئیں کیونکہ اُنہیں تنہائی محسوس ہوتی تھی۔ آپ (ﷺ) اُن کے ساتھ بیٹھے۔ اُن سے باتیں کیں۔ مسجد میں اور جب اُنہیں کچھ راحت مل گئی اور وہ جانے لگیں، تو آپ (ﷺ) ُاُن کے ساتھ چلنے لگے۔ آپ باہر صحن تک اُنہیں چھوڑنے کے لیے آئے۔ اور ظاہر ہے اُن کی باتیں ختم نہیں ہوئی تھیں، لہٰذا وہ آپ (ﷺ) سے باتیں کرتی رہیں، کیونکہ آپ (ﷺ) کے ساتھ وقت گزارنا اُنہیں پسند تھا، رائٹ؟ وہ باتیں کیے جارہی تھیں۔ اور رسول (ﷺ) اُن کا وقت اُن کے لیے اچھا بنا رہے تھے کیونکہ اُس وقت اُنہیں اِسی کی ضرورت تھی۔ تو اِس قصے سے ہمیں کیا سبق ملا کہ حضور (ﷺ) نے حضرت صفیہ، اُن کے احساسات، اُن کے جذبات کا کس قدر خیال رکھا کہ اپنا اتنا قیمتی وقت بھی اُنہیں دیا۔ تو نبی (ﷺ) کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں، بہت محبت کرنے، بہت خیال رکھنے والے تھے۔ اُن کی اس محبت اور شفقت کا یہ اظہار اُن کی زندگی کے آخری دنوں میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ جب آپ (ﷺ) بیمار تھے تو بار بار فرمایا کرتے، ’’کل مجھے کس کے گھر جانا ہے؟ کل مجھے کس کے گھر جانا ہے؟‘‘ کیونکہ آپ (ﷺ) باری باری سب بیویوں کے ہاں قیام فرماتے ۔ دوسری بیویوں نے عرض کیا، ’’یا رسول اللہ، آپ عائشہ کے پاس رہیں، ہم خود آپ سے آ کر مل لیا کریں گی۔‘‘ اور پھر وہ لمحہ، وہ آخری لمحہ کتنا خوبصورت ہے۔ عائشہ (رضی اللہ عنھا) فرماتی ہیں، اُنہوں نے آپ (ﷺ) کو تھاما ہوا تھا، آپ (ﷺ) جیسے ذرا جھکے ہوئے تھے اور آپ (ﷺ) کی پیٹھ اُن کے سینے سے لگی ہوئی تھی، آپ (ﷺ) کا مبارک ہاتھ تھامے، وہ قرآن کی تلاوت فرما رہی تھیں اور وہی دستِ مبارک لے کر آپ (ﷺ) کے جسم مبارک پھیر رہی تھیں تاکہ درد میں کمی آئے۔ جب اُنہوں نے یہ قصہ بیان کیا تو کیا فرماتی ہیں، فرماتی ہیں کہ ’’آپ (ﷺ) کا وصال میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان ہوا۔‘‘ اِس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی ’’میں نے اپنے شوہر کو آخری لمحے تک خود سے جدا نہ ہونے دیا۔‘‘ کیا خوبصورت لمحہ تھا۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں، کہ ہر شوہر کی یہی خواہش ہوگی کہ اُس کا آخری لمحہ ایسا ہی ہو۔ آپ کے خیال میں طلاق کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ کیا آپ کبھی ٹوٹنے والی شادی کو بچانے کا ذریعہ بنے؟ الحمدللہ، میں بہت سی شادیوں کو بچانے کا ذریعہ بنا ہوں۔ مگر میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میری کوششیں ہر ایک پر کامیاب ہوئیں۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ پانی سر سے گزر جانے کے بعد آتے ہیں۔ جیسے اُنہیں زبردستی مشورے یا کاؤنسلنگ کے لیے بھیجا گیا ہو۔ ایسے لوگ ضدی ہوتے ہیں، وہ آنا نہیں چاہتے، اُنہیں اِس پر یقین نہیں ہوتا۔ میں کسی اجنبی کو اپنے معاملات کیوں بتاؤں کہ وہ ہماری شادی کے بارے میں بات کرے؟ لہٰذا وہ بالکل آخری لمحے میں آتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ آپ کوئی معجزہ دِکھا کر اُن کی شادیاں بچا لیں گے۔ بدقسمتی سے، جب معاملات بگڑ جاتے ہیں تو الزام مشورے پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ خود پر کوئی الزام نہیں لیتے۔ مگر الحمدللہ، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، ماشاء اللہ، جن کی شادیاں ہم نے بچائی ہیں، الحمدللہ۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ اپنی زندگی میں لوگوں سے ملنا مختلف کانفرنسز، مختلف سفر وغیرہ کرنا۔ اور جب وہ ہمیں بتاتے ہیں الحمدللہ کہ ہم نے آپ کے ساتھ کاؤنسلنگ کی یا ہم نے اپنے طور پر کی، الحمدللہ۔ اور آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اِس سے ہمیں مدد ملی۔ اور الحمدللہ، ہماری شادیاں بچ گئیں۔ اچھا، میاں بیوی میں طلاق ہونے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ ظاہر ہے، اِس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بہت زیادہ وجوہات ہیں۔ آجکل اس کی ایک بڑی وجہ مرد وہ ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے جو بطور مرد اُنھیں نبھانی چاہئیں۔ مطلب اُنہیں اپنے گھرانے کو جس طرح لِیڈ کرنا چاہیے، وہ نہیں کر رہے۔ اور عورتیں بھی گھر میں ایک بیوی اور ایک ماں کی حیثیت سے اپنا کردار نہیں نبھانا چاہتیں۔ نتیجتاً، ذمہ داریوں کے لحاظ سے اب ایک عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔ مرد، شادی کرنے کے بعد بھی کنواروں جیسی زندگی گزارتا ہے۔ عورت شادی کے بعد بھی پہلے جیسی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اورحقیقت میں، شادی کے معاملے میں، یہ چیز نقصان دیتی ہے۔ اِس سے میاں بیوی اور گھریلو زندگی کے لیے ایک صحت مند ماحول ہرگزنہیں بنتا۔ اورآجکل، اِس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے نوجوان آتے ہیں اور آ کر پوچھتے ہیں، ’’اگر ہم شادی تو کرلیں مگر بچے پیدا نہ کریں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟‘‘ یعنی وہ بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ اور اسلامی لحاظ سے، یہ حرام نہیں ہے۔ اجازت ہے اگر آپ بچے نہ پیدا کرنا چاہیں۔ مگر آپ اِس رشتے کو مستقبل میں کیسے نبھا پائیں گے؟ وقت آئے گا رشتہ بورِنگ ہو جائے گا۔ اور دیکھا جائے تو دراصل بچے اِس رشتے کو مضبوط رکھنے کی ایک اور وجہ بن جاتے ہیں۔ بچوں کی پرورش بے شک آسان نہ ہو، مگر پھر بھی یہ رشتہ قائم رکھنے اور زندگی کا سفر مل کر طے کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ تو ہاں، بعض دفعہ ہم دیکھتے ہیں کہ بدقسمتی سے مرد اور عورتیں، شادی کی اصل حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ جب وہ رشتہ قائم کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے اپنی اپنی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ اور جب وہ امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ ایک دوسرے سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کیا ایک ناخوشگوار شادی کو ختم کر دینا بہتر ہے، یا صبر کرنا اور یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک آزمائش ہے؟ اگر ہم ناخوشگوار شادی کی بات کریں، تو اگر جو شادی ہے وہ بدسلوکی پر مبنی نہیں ہے، اور اِس رشتے میں بہت زیادہ جسمانی یا ذہنی تکلیف نہیں ہے، تو کسی بھی طریقے سے انفرادی طور پر یا پھر بچوں کی خاطر اپنے رشتے کو برقرار رکھنا بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو طلاق سے پہلے مصالحت کی جتنی ہو سکے کوشش کی جائے۔ اور یہ اِس بات پر ہو سکتی ہے کہ شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریوں کو کم کرکے رشتہ برقرار رکھا جائے، جو طلاق سے بہتر ہے۔ لیکن اگر یہ رشتہ بدزبانی، بدسلوکی، میں بدل جائے، غیر صحتمند یا زہر آلود ماحول میں بدل جائے، تو پھر علیحدگی ہی ان کے لیے بہتر ہے، واللہ اعلم۔ کوئی ایسی بات بتائیے جو میری شادی شدہ زندگی میں میرے دل کو نرم کر دے، ہر اختلاف کے موقع پر میرے اور میری بیوی کے درمیان ٹینشن کو کم کر دے اور أعوذ بالله من الشيطان الرجيم اپنے خلوصِ دل سے۔ ریلی اللہ سبحانَ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اِس کا حل دیا ہے۔ سورۃ فُصّلٰت، سورۃ نمبر 41، آیات نمبر 33 سے 36 میں اللہ سبحانَ تعالیٰ اِن آیات میں فرماتا ہے، پوری آیات میں بیان نہیں کر رہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو بہترین ہو۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ یہاں عربی لفظ ’اِدفع‘ کا مطلب ہے ’دھکیلنا‘۔ اور دھکیلنے میں محنت لگتی ہے، آپ کا پسینہ نکلتا ہے اور آپ تھک بھی جاتے ہیں۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ شادی شدہ زندگی میں، ایسے بہت سے لمحے آئیں گے جب آپ کو زور لگانا ہوگا۔ مگر آپ کو یہ زور شیطان کے خلاف لگانا ہوگا۔ کیونکہ شیطان آپ سے یہ کہے گا، چیخو، بُرا بھلا کہو، یہ کرو، وہ کرو۔‘‘ مگر آپ کو یہ وسوسے دُور دھکیلنے ہیں۔ اِدْفَعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ہمیشہ برائی کا بدلہ بہترین طریقے سے دو۔ آپ کا شریکِ حیات آپ سے اِس درجے پر آکر برتاؤ کرے، تو آپ اِس سطح پر آ کر بہتر برتاؤ کریں۔ کیونکہ آپ دوسروں سے اُن کے کردار کے مطابق نہیں اصل میں اپنے کردار کے مطابق سلوک کرتے ہیں۔ اگر آپ کا کردار بلند ہے، تو پھر آپ کا اخلاق بھی بلند ہونا چاہیے۔ وہ کہے آپ نے شروع کیا، آپ کہیں اُس نے کیا۔ بحث چھوڑدیں۔ آپ کو ہر حال میں صحیح قدم اٹھانا ہے۔ اچھا رویہ اپنانا ہی بہتر ہے۔ تو ہاں، صحیح قدم اٹھانا ہی اہم ہے۔ اللہ فرماتا ہے، اِدْفَعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ برائی کا جواب بہترین طریقے سے دو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شخص جس سے تمہارا جھگڑا یا دشمنی ہو تمہارا سب سے قریبی اور محبوب انسان بن جائے۔ اللہ جانتا ہے یہ سب کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے، ’’یہ صفت اُنھیں نصیب ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔‘‘ جس کا مطلب ہے صبر کرنا بہت ضروری ہے۔ اور قرآن میں صبر کی کوئی قیمت نہیں لگائی گئی۔ کیونکہ صبر کی اصل قیمت کوئی نہیں چُکا سکتا۔ فرمایا کیا مطلب ہے ’’تمہارا انعام میرے پاس ہے، لوگوں کے پاس نہیں۔‘‘ میں تمہیں تمہارے صبر کا حَظِّ یعنی بھرپور انعام عطا کروں گا۔ تو بات یہ ہے کہ دیکھو ، ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مہربان رہنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو صبر سے برداشت کرنا چاہیے اور یہ توقع رکھنی چاہیے کہ غلطیاں سب سے ہو سکتی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو ان کی غلطیوں پر معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔ غلطیوں کو بھولنا، اور مل کر بہتر ہونا سیکھنا چاہیے۔ کیا نبی (ﷺ) کا اپنی بیویوں سے کبھی کوئی اختلاف ہوا یا ہمیشہ خوشی اور محبت کا ماحول ہی رہتا تھا؟ کیا یہ حقیقت سے ہٹ کر ایک تصوراتی بات نہیں ہوگی؟ دیکھو آپ (ﷺ) کا گھرانہ بھی ایک عام گھرانے کی طرح ہی تھا۔ آپ (ﷺ) کو خاموشی والے رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کی ایک زوجہ کی جانب سے آپ کو زیادہ نان نفقے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اُنہیں کبھی کبھار اپنی بیویوں کے درمیان ہونے والے اختلافات کو بھی حل کرنا پڑا یہاں تک کہ اپنی بیٹی اور عائشہ (رضی اللہ عنھا) کے درمیان اختلاف کو بھی۔ ہر گھرانے کی طرح، اُن کے گھر میں بھی غصے کے معاملات بھی تھے، معاشی تنگی جیسے مسائل تھے، اور اِسی طرح کی اور بھی چیزیں تھیں۔ اور یہ سب کچھ احدیث میں موجود ہے۔ آپ (ﷺ) کی احادیث کی کتابوں کے ذریعے یہ باتیں بتائی گئی ہیں۔ اُنہیں اِن تمام مشکل معاملات کو حل کرنا پڑتا تھا۔ اور اِن تمام مشکل حالات سے نمٹنے کا جو سب سے بہترین انداز تھا وہ تھا نبی (ﷺ) کا انداز اور اخلاق۔ شیخ یاسر بِرجاس، آپ کے جوابات کا شکریہ۔ آپ سے بہت کچھ سیکھا۔ اللہ آپ کو امت کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا اجر عطا کرے۔ بارک اللہ مجھے مد عو کرنے کا بھی بہت بہت شکریہ۔
