# Madhab Kya Hai? Har Mushkil Sawaal Ka Jawab Ek Hi Video Mein!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/what-is-a-madhab-every-hard-question-answered-in-one-video
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=4tFuzwRu8g0
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

فقہی مذہب سے کیا مراد ہے، اور ہمارے مختلف مذہب کیوں ہیں؟ لہٰذا کوئی بھی شخص پہلی غلطی یہ کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ مذہب کسی شخص کے اقوال کا نام ہے، جو بہت پہلے کے زمانے میں زندہ تھا۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ مذاہب کا مقصد ہماری زندگی کو آسان بنانا ہے۔ بدعت (دین میں نئی ایجاد) کا تصور حقیقت میں کیا ہے؟ رغائب، معراج، برأت، مولِد۔ کیا یہ بھی بدعت ہیں؟ ایک ہی معاملے پر، دو مختلف رائے ہو سکتی ہیں۔ میری رائے میں آج کے ہر مسلمان کو جس اہم ترین پہلی چیز پر تحقیق کرنی چاہیے، اور کچھ نہیں بلکہ اُس کا عقیدہ ہے۔ اور خیالات کی دنیا میں ہمارے موبائل فونز کے ذریعے براہِ راست ہم تک پہنچ رہی ہے۔ السلام علیکم (و رحمۃ اللہ)، ڈاکٹر شدی المصری۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بے حد شکریہ۔ Towards Eternity میں آپ کی آمد ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔ خوش آمدید۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ۔(آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت نازل ہو)۔ آپ کے اِس عظیم چینل پر آنا میرے لیے خوشی کی بات ہے۔ میں تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کا چینل دیکھ رہا تھا۔ اس سے بہت متاثر ہوا ماشاء اللہ ۔ جزاک اللہ (اللہ آپ کو اجر عطا فرمائے)۔بے حد شکریہ۔ آپ کے الفاظ ہمارے لیے سرمایہ ہیں۔ تو، آج ہمارا بنیادی ٹاپک فقہی مذاہب کے بارے میں ہمارے بہت سے سوالات ہیں...

تو فقہی مذہب سے کیا مراد ہے،اور ہمار ے مختلف مذہب کیوں ہیں؟ اوکے، اچھا سوال ہے۔ کسی بھی ایسی بات میں جو غیر واضح یا ظنی (اندازے پر مبنی) ہو، تو اس کے مختلف ممکنہ معنی نکل سکتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک ہی معاملے پر دو مختلف رائے ہو سکتی ہیں۔ اِس کی مثال حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے سے دوں گا، یہ واقعہ آپ ﷺ کی اپنی موجودگی میں جنگِ خندق کے بعد پیش آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے لیے اعلان فرمایا: ’’کہ کوئی بھی عصر کی نماز بنی قریظہ کے پاس پہنچنے سے پہلے نہیں پڑھے گا۔‘‘ یہ ایک قبیلے کا نام تھا بنی قریظہ۔ تو، ہر کوئی تیاری میں لگ گیااپنی رفتار سے۔ کچھ لوگ جلدی چل پڑے اور کچھ دیر سے۔ لہٰذا کچھ لوگ مغرب (سورج غروب ہونے کے بعد کی نماز) کی نماز سے پہلے پہنچے بنی قریظہ کے علاقے میں۔ جبکہ کچھ لوگ دیر سے پہنچے۔ اِس دوران نبیِ پاکﷺ گھر گئے،اپنی تلوار لی، اپنا گھوڑا لیا، اور جب آپ ﷺ راستے میں ہی تھے کہ مغرب ہوگئی۔ پیچھے رہ جانے والا گروپ نے کہا، ’’ٹھہرو، اللہ کے رسول نے کہا تھا کہ بنی قریظہ پہنچنے سے پہلے کوئی نماز نہ پڑھے۔‘‘ تو پھر کسی نے کہا،’’نبیِ پاکﷺ نے یہ بات اصطلاحاً کہی تھی مطلب یہ تھا کہ جلدی کرو اور مغرب سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ۔‘‘ آپ ﷺ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ’’عصرکی نماز وقت پر نہ پڑھو۔‘‘ تو پھر کسی نے کہا،’’میں تو نبیِ پاکﷺ کے ظاہری الفاظ پر عمل کروں گا۔‘‘ یہ بات کسی عام شخص کی نہیں بلکہ نبی کی ہے۔ ’’تو ہم عصر کی نماز نہیں پڑھیں گے۔‘‘ چنانچہ نہیں پڑھی۔ وہ مسلسل رُکے بغیر سفر کرتے رہے اور انہوں نے عصر کی نماز سورج کے غروب ہونے کے بعد پڑھی۔ اور جب دونوں گروپس کا رد عمل نبی پاکﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے دونوں کی رائے کو قبول کیا۔ اِس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبیِ پاکﷺایسا بیان فرما سکتے ہیں جسے ہم اپنے اپنے انداز سے سمجھ سکتے ہیں اور جس کے دو مختلف نتائج نکالے جا سکتے ہیں۔ اور آپ ﷺ نے تصدیق بھی فرمائی کہ دونوں کی رائے قابلِ قبول ہے۔ اس واقعہ سے مذاہب کی موجودگی کا خلاصہ ہوتا ہے، کیونکہ خدا اور اُس کے پیغمبر کے الفاظ اپنے اپنے علم و شعور کے مطابق سمجھے جا سکتے ہیں۔ اپنے انداز سے کیوں سمجھنا؟ یہ بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اِس کے لیے آپ کو عربی زبان میں کچھ خاص مہارتیں حاصل ہونا ضروری ہیں تاکہ آپ بھی اپنی رائے دے سکیں جسے جسے مجتہد کہا جاتا ہے (یعنی وہ شخص جو خود شرعی بصیرت آزادانہ طور پر رائے دے سکتا ہو)۔ ایسا شخص جو اپنے علم و شعور کے ترازو پر تول کر ایک نتیجہ نکال سکتا ہو۔ قرآن شریف میں اللہ ہمیں دو طرح کےاحکامات دیتا ہے۔ ایک وہ حکم جسے صرف ایک ہی انداز سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اُنہیں بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں۔ مثلاً، یہ جاننے کے لیے فقہ کی ضرورت نہیں کہ ہمیں دن میں پانچ وقت نماز پڑھنی ہے، ہمیں پانچ وقت نماز پڑھنی ہوگی،، ہمیں شراب سے بچنا ہوگا۔ ہمیں اِس کے لیے فقہ کی ضرورت نہیں۔ ہم اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہ سب کو معلوم ہیں۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ ہم سے کلام فرماتا ہے اور قرآن میں اِس طرح سے بات کرتا ہے جسے کہتے ہیں، غیر واضح زبان، یا ظنی الدلالہ (اندازے پر مبنی مطلب)۔ اور جس میں شامل باتوں کو مختلف انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اچھا، تو میں ان پر عمل کیسے کروں گا؟ تو، یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے فقہی مذاہب وجود میں آئے۔ پہلے امام ابو حنیفہ کا دور آیا، جو کہ صحابہ (نبی ﷺ کے ساتھیوں) کے فوراً بعد کا زمانہ تھا، جس میں اُنہوں نے بیٹھ کر ہمارے جسم کے متعلق تمام احکام کو مرتب کیا اور تحریری شکل دی۔ کہ ہمارا جسم کن اعمال کا پابند ہے؟ عبادت میں اور ایک دوسرے کے ساتھ سلوک میں۔ اور اُن کے سامنے بہت سے ایسے سوالات آئے جن کے لیے نظر یعنی غور و فکر، کی ضرورت تھی کہ اِس لفظ کے کیا معانی ہیں؟ صحابہ کا اِس پر کیا عمل تھا؟ اِسی کو فقہ کہا جاتا ہے۔ اور ہر امام کا اپنا طریقہ کار ہے۔ فقہی مذاہب کا مقصد ہماری زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ اللہ نے اِس انداز میں بات کیوں کہی؟ نبی کریم ﷺ نے ایسا اندازِ بیان کیوں اختیار فرمایا کہ جیسے روشنی کرسٹل میں داخل ہو کر مختلف خوبصورت رنگوں میں بکھر جائے؟ مگر یہ ہماری آسانی کے لیے کیا۔ اللہ آپ کو تکلیف میں ڈالنا نہیں چاہتا، رائٹ؟ وہ آپ کے لیے یُسر (آسانی) چاہتا ہے۔آسانی چاہتا ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ انسانوں کے بیک گراؤنڈ بھی مختلف ہیں۔ لہٰذا اِس مذہب میں کچھ لچک ہونا ضروری ہے، جو اللہ نے اِس کے اندر رکھ دی ہے۔ تو یہ نرمی اور لچک ہمیں اِس قابل بناتی ہے کہ اگر فی الحال میں کسی ایسی صورتحال میں ہوں جہاں چیزوں کے متعلق میری سمجھ بُوجھ میرے لیے اتنی مشکلات پیدا کر رہی ہے کہ زندگی میرے لیے معمول کے مطابق نہیں رہی۔ یہ بہت دُشوار ہو گئی ہے۔ تو میں غور کرتا ہوں اور اِسی متن کی ایک اور تشریح پاتا ہوں، اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ میری پریشانی دور کر دیتی ہے۔ فقہی مذہب آسانی اور ہمارے لیے اسلام کو قابلِ عمل بنانے کے لیے ہیں۔ یہ ہمیں قبیلوں، یا گروہوں میں تقسیم کرنے کے لیے نہیں بنے ہیں۔ یہ اِس لیے نہیں کہ ہم اِن کی اندھی تقلید کریں، رائٹ؟ اِن کا مقصد ایک مسلمان کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔ کیا مذاہب کے اماموں کے پاس علم کے اتنے ہی وافر ذرائع تھے جتنے کہ آج ہمارے پاس ہیں؟ اور ممکن ہے کہ اُنہوں نے کچھ اجتہادات (خود سے قائم کردہ شرعی رائے) اِس وجہ سے کیے ہوں کہ اُنہیں درست معلومات میسر نہ تھیں۔ تو ہم کیسے یقین کریں کہ اُنہیں درست معلومات میسر تھیں؟ یہ واقعی اچھا سوال ہے۔ اگر آپ اُن اماموں کے اساتذہ کو دیکھیں، تو انسان مطمئن ہو جاتا ہے کہ اُنہوں نے اسلام کو گہرائی سے سمجھا، اُنہوں نے سنت (نبوی اعمال) اور عربی زبان کو بخوبی سمجھا۔ کیونکہ اُن کے اساتذہ صحابہ کرام کے بیٹے اور پوتے تھے۔ یعنی امام حضرات اتنے ابتدائی دور کے تھے۔ اب یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت بہت سے امام موجود تھے، مگر اُن کے شاگردوں نے اُن کے خیالات کو آگے نہیں بڑھایا۔ اور اس طرح یہ بکھر گیا، چنانچہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ اللہ کی مشیت (مرضی) تھی کہ اُس نے اِن چار اماموں کو چنا جن کے مذاہب آج تک باقی ہیں۔ نسل در نسل اِن کے مذاہب کو بار بار پرکھا گیا، جانچا گیا اور بار بار ان کی یقین دہانی کی گئی۔ لہٰذا کوئی بھی شخص پہلی غلطی یہ کرتا ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ مذہب کسی شخص کے اقوال کا نام ہے، جو بہت پہلے کے زمانے میں زندہ تھا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مذہب ایک زندہ علمی مکتبِ فکر ہے، یعنی اُس امام کے دور سے لے کر آج تک ہر نسل میں ایسے علماء موجود رہے ہیں جنہوں نے اُس طریقۂِ سوچ کو اختیار کیا اور جو علمی وسائل اُن کے پاس تھے اُنہیں استعمال کیا۔ اور یہ یقینی بنایا کہ ہر بات کو ایک بار، دو بار، اور بار بار جانچا جائے۔ اور بعض اوقات، ہاں بعض اوقات، اُنہوں نے یہ محسوس کیا کہ اصل امام کا اخذ کیا گیا نتیجہ درحقیقت بہترین جواب نہیں ہے۔ ریئٹ؟ جی، اُن کا طریقہ بالکل درست تھا، اور زیادہ تر کام بالکل صحیح تھا، مگر کسی خاص مسئلے میں ہمیں اُن سے اختلاف ہو جاتا ہے۔ یہ دراصل اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مذاہب قابلِ اعتماد علمی ذرائع ہیں یہ کسی فرقے کی اندھی تقلید نہیں ہے۔ یاد رکھیں، یہ سارا معاملہ اجتہادی رائے کا ہے۔ اورمعاملہ جب رائے کا ہو، تو ان میں کئی لوگوں کی ضرورت ہے، ایسےاہلِ فکر لوگ جو کہیں کہ، ’’ہاں، یہی درست جواب ہے۔‘‘ اِسی وجہ سے ہمیں اِن مذاہب پر اتنا زیادہ اعتماد ہے، کیونکہ اِن میں بہت سے ذہنوں نے کام کیا ہے۔ اور یہی بات اِس تصور کو بھی رد کر دیتی ہے کہ یہ کام ایک امام کا ہے اور ہم سب صدیوں سے اُسی کی پیروی کر رہے ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ فقہ (اسلامی قانون) کے مکتبِ فکر کے علاوہ، ماتری اور اشعری مکاتب بھی موجود ہیں۔ اور یہ ہمیں حقیقتاً کیا بتاتے ہیں، اور اِن دونوں مکاتب کی سخت مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ اچھا، تو اس دور کو ختم ہونے پر، احکامات کو لکھے جانے والا دور ختم ہونے پر، یعنی جب فقہی احکام کو لکھے جانے والا دور ختم ہوا، تو اُس کے بعد عقائد پر بحث کا دور آیا۔ اور عقائد کی بحث کے نتیجے میں اُن غلطیوں سے نمٹنے کے لیے بنیادی طور پر دو مکاتبِ فکر سامنے آئے۔ پہلا مکتبِ فکر تھا حنبلی مکتبِ فکر، جسے اثری مکتبِ فکر بھی کہتے ہیں۔ اور اِس طریقۂ کار کو ہم اثری کہہ سکتے ہیں، اور اِس نظریے کی نمائندگی حنبلی فقہی مکتبِ فکر نے کی، جن کا بنیادی طور پر کہنا تھا، ’’معتزلہ مفکرین کی یہ تمام غلطیاں مسترد کی جاتی ہیں۔‘‘ لہٰذا اُنہوں نے ان پر مکمل پابندی لگا دی۔ یعنی صرف نُصُوص (قرآن و حدیث) کی پیروی کی جائے۔ اب اس کے بعد کلامی مکاتب سامنے آئے۔ اوران مکاتب کی تعداد دو تھی۔ کلام کا مطلب ہے عقلی انداز میں عقائد کی وضاحت۔ یعنی کلام ایک منطقی دلیل ہوتی ہے۔ علمِ کلام کا مطلب ہم آپ کے سوال در سوال کا منطقی اور عقلی جواب دیں گے۔ ہم اصولی طور پر اثری مکتب سے اس پر اتفاق کرتے ہیں، کہ فلاں فلاں احکام غلط ہیں، اور ہمیں قرآن و حدیث کو تھامے رکھنا چاہیے۔ مگر ہم آپ کو جواب دیں گے، کہ یہ غلط کیوں ہے۔ ہم آپ سے مناظرہ کریں گے،اور آپ سے بحث کریں گے اور آپ کی اپنی عقلی بنیاد کے تحت بات کریں گے، یعنی ہم عقلی یا فلسفیانہ طریقہ اختیار کریں گے اور بتائیں گے کہ آپ غلط کیوں ہیں اور مسلمانوں پر ثابت کریں گے کہ اُنہیں اِن مخصوص عقائد پر ایمان آخر کیوں رکھنا چاہیے۔ یہ طریقہ عمومی طور پر ’’کلامی اندازِ فکر‘‘ کہلاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ دونوں مکاتِب سنت کا دفاع کرنے اور ثابت کرنے کے ذرائع ہیں۔ اثری مکتب صرف اور صرف قرآن اور سنت کو بطور ماخذ استعمال کرتا ہے، اور بس۔ جبکہ کلامی مکتب اِن نظریات کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے اور اِن کے ذریعے گمراہوں اورایتھیسٹس کو جواب دیتا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اس امت پر واجب بدعات میں سے ایک یہ ہے کہ اور پھر ابنِ حجر نے بعد میں ان کی پیروی کی، فرماتے ہیں کہ وہ ہے فلسفیوں کو جواب دینے کے قابل بننا، ایتھیسٹس کو جواب دینے کے قابل بننا اور، بےعقیدہ لوگوں کو جواب دینے کے قابل بننا۔‘‘ اب اگر کوئی شخص فلسفی ہے،تو آپ اُسے صرف یہ کہہ کر قائل نہیں کر سکتے کہ خدا موجود ہے کیونکہ قرآن میں یہی لکھا ہے، مگر وہ تو قرآن کو مانتا ہی نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کو اُس کے نظریات کا رداُسی کی بنیاد پر کرنا ہوگا جسے وہ خود بھی مانتا ہو۔ پھر آپ کو اپنے عقائد بھی اُسی بنیاد پر پیش کرنے ہوں گے جنہیں وہ سمجھ سکے، یعنی عقلی بنیاد پراس کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔ تو یہ بالکل عام تصور ہے کلام کا۔ اور جیسا کہ کلام کے شرعی حکم کے متعلق امام نووی نے فرمایا، اگر مقصد یہی ہو، تو یہ تمام علماء پراجتماعی فرض ہے۔ میری رائے میں آج کے ہر مسلمان کو جس اہم ترین پہلی چیز کی تحقیق کرنی چاہیے، وہ اُس کا عقیدہ ہے، اس کا مطلب اُس کا ایمان، اللہ پر اور اُس کے رسول پر، اور بطور نُصُوص قرآن پر اور حدیث پر، اور فطرت پرستی اور سائنسی مادیت اور ارتقاء اور سیکولر اخلاقیات کے خلاف اُس کا ردعمل، یہ چیزیں آج تقریباً فرضِ عین (لازمی ذمہ داری) کے درجے میں ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے آپ کے آباؤ اجداد پر تلوار اور تیر کا استعمال اور گھڑ سواری اور ایک طرف منگولوں تو دوسری طرف صلیبیوں سے جہاد فرضِ عین تھا۔ چونکہ میں نے ارتغرل کا پہلا سیزن دیکھا ہے، اس لیے میں بخوبی اُن حالات کو جانتا ہوں۔ ہاں، بالکل تو کیا ایسے لڑکے کے لیے یہ فرضِ عین نہیں؟ بالکل...

فرضِ عین تھا، یعنی ایک مسلمان کے لیےاُسے انجام دینا لازمی تھا، کیونکہ اُس زمانے میں کسی منگول یا صلیبی کا سامنا ہونے کے امکانات شاید 85 فیصد تھے۔ ایسے میں تلوار پکڑنا، تیر چلانا، ڈھال تھامنا، گھڑ سواری کرنا، اِن سب کے بغیر کوئی شخص کیسے اپنے بیٹے کی پرورش کر سکتا تھا؟ مگر آج کے دور میں غالباً ہمیں ایسی جسمانی لڑائی کا سامنا نہیں ہوگا۔ عقل اور موبائل فون رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ تصور بالکل ناممکن ہے کہ وہ فکری حملوں اور نظریاتی گمراہیوں سے محفوظ رہے گا، کیونکہ آج ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں۔ اور خیالات کی دنیا ہمارے موبائل فونز کے ذریعے براہِ راست ہم تک پہنچ رہی ہے۔ لہٰذا مجھے لگتا ہے کہ تقریباً یہ ہر شخص پر فرضِ عین ہو چکا ہے کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی بنیاد کو گہرائی سے سمجھے اور تحقیق کرے۔ اب میں کچھ سوالات کروں گا جو فقہی مذاہب سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر ہیں۔ تو جب ہم تصوّف پر نظر ڈالتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ پوری تاریخ میں یہ راستہ لا تعداد لوگوں نے اپنایا، اور بہت سے لوگ اِس راستے کے ذریعے اپنی آخرت کو سنوارنے میں کامیاب ہوئے۔ تو پھر اِس پر اتنا اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ اعتراض صرف تبھی کیا جا سکتا ہے جب وہ کچھ ایسا کر رہے ہوں جو غلط ہے۔ اور ہم نے فقہ پر بات کرتے ہوئے یہ بھی دیکھا کہ بعض اوقات مفتی سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، یہاں تک کہ ایسا ناکام مفتی بھی ہو سکتا ہے جس کے سارے کے سارے فتوے غلط ثابت ہوئے ہوں۔ لیکن اِس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ فقہ کو ہی ختم کر دیا جائے۔ اور اِسی طرح دل کی صفائی بھی ہمارے دین میں ایک انتہائی بنیادی ضرورت ہے، پھر چاہے وہ کوئی بھی شخص کیوں نہ ہو۔ رائٹ؟ اور یہی معاملہ عقائد کا بھی ہے۔ تو، آپ کو یاد ہے، کلامی مکاتبِ فکر کا مقصد کیا ہے؟ اِن کا مقصد یہ ہے کہ قرآن و سنت اوراہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے کا دفاع عقلی ثبوتوں کے ذریعے کیا جائے تاکہ عقیدہ بیان بھی کیا جائے اور ثابت بھی۔ لہٰذا، اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر متکلِّم، یا علمِ کلام کا ماہر ہمیشہ درست ہو۔ وہ غلطی کر سکتا ہے۔ اِسی طرح، دوسری جانب، حنبلی مکتب کو فالو کرنے والے اثر کے پیروکاروں میں بھی مجھے یقین ہے ایسے افراد تھے جیسا کہ ابن الجوزی نے فرمایا کہ جنہوں نے غلطیاں کیں، اِسی طرح تیسرا شعبہ، جنہیں ہم جانتے ہیں کہ اسلام، ایمان، احسان۔ مطلب اصول یعنی فقہ، اور عقیدہ اور اب یہ احسان جوکہ تصوف کہلاتا ہے۔ لہٰذا، تصوف یا تزکیۃ النفس (روح کو پاک کرنے کا عمل) دین کا ایک تسلیم شدہ شعبہ ہے۔ کوئی بھی دو مسلمان یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دین کا حصہ نہیں ہے۔ پرانے وقتوں میں،اِسے کہا جاتا تھا الرقاق۔ ٹھیک؟ ، یعنی دلوں کو نرم کرنا۔ بعد میں اِسے مختلف موضوعات اور، مختلف ناموں سے پکارا گیا، یہاں تک کہ اِسے تصوف کہا گیا، یعنی صوف (اُون) پہننے والا، کیونکہ وہ اِسے کوئی ناقابلِ تصدیق نام نہیں دینا چاہتے تھے، جیسے کہ...

جو شخص تزکیۃ النفس یا اپنے دل کی صفائی میں لگا رہتا ہے آپ اُسے کیا کہیں گے؟ کیا آپ اُسے پاکیزا کہہ سکتے ہیں؟ رائٹ؟ آپ ایسا نہیں کہہ سکتے کیونکہ نہ آپ اِس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ نہ وہ خود کی تعریف کر سکتا ہے۔ اگر آپ قرآن کے قاری ہیں اور مختلف قرأتیں جانتے ہیں، تو آپ سب کے سامنے اِسے پڑھ کراپنی مہارت کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔ اگر آپ محدث، یعنی حدیث کے عالم ہیں، تو حدیث پڑھ سکتے ہیں جس سے ہم جان لیں گے کہ آپ حدیث کے عالم ہیں۔ مگر آپ بالکل بھی دن رات اللہ کی عبادت کرکے خود کو پاکباز نہیں کہلوا سکتے۔ یہ قطعی، بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ کیوکہ اِسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خود کی تعریف کرنا ہوگا۔ چنانچہ، انہیں صرف صوفی یعنی اُون پہننے والے لوگ کہا جانے لگا۔ یہیں سے صوفی کا لفظ وجود میں آیا۔ صوفی وہ شخص ہے جو کہ تزکیتہِ نفس کے راستے پر چل رہا ہو اور وہ صرف اِس پر اور عبادت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہو دنیا سے کنارہ کش ہو اور تمام خوبصورت کام انجام دے جو انسان کو اللہ سے قریب کرتے ہیں، ایسے شخص کا عقیدہ بالکل صحیح ہونا چاہیے عبادت، فقہ، شریعت بھی بالکل درست ہو۔ اگر وہ اِن حدود سے تجاوز کرے، تو وہ قابلِ مذمت ہے۔ اور اگر اِن پر قائم رہے، تو قابلِ تحسین۔ بدعت کا تصور حقیقت میں کیا ہے؟ کیا اسلام میں بعد میں داخل ہونے والی ہر چیز بدعت اور ناجائز ہے؟ شافعی مسلک کے عز بن عبدالسلام اور مالکی مسلک کے القرافی کے نزدیک بدعات کا تعلق افعال سے اوراور انہیں پانچ اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہے بدعت فعل کی صفت ہے، مگر اِس کے شرعی درجے کا تعین شریعت یعنی اسلامی قانون کے معیار پر ہوگا۔ اور یہ پانچ اقسام ہیں، فرض، مستحب، مباح، مکروہ، اور حرام۔ اور یہ ضروری بدعات کہلاتی ہیں۔ آپ اسے ایسی بدعت کہہ سکتے ہیں جو لازمی ہوں۔ مثلاً راویوں کا تنقیدی جائزہ، حدیث کے راویوں کا۔ ہم نے کبھی صحابہ کرامؑ کو یہ کہتے نہیں سنا ’’چلو اِس شخص کا تجزیہ کریں۔ اب آپ بتائیں، کیا یہ ثقہ (قابلِ اعتبار) ہے؟ کیا یہ منکر (ناقابلِ قبول) ہے؟ کیا یہ متروک (ناقابلِ اعتبار) ہے؟ اور پھر اُسے درجہ دے دیں کہ یہ راوی قابلِ قبول نہیں ہے، یا یہ راوی بہت معتبر ہے۔ رائٹ؟ یہ تمام علوم اور درجہ بندی، اور علوم کی ترتیب، اِن سب کو بھی ایسی بدعات سمجھا جا سکتا ہے جو کہ ضروری ہیں اور جن کا ظہور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں نہیں ہوا تھا۔ اِسی طرح با جماعت نمازِ تراویح (رمضان کی خصوصی نماز) اور قرآن کو کتابی صورت میں جمع کرنا، یہ سب اُسی دور کی بدعات ہیں۔جی بالکل یہ سب اُسی دور کی بدعات ہیں جوکہ یقیناً نبیِ پاک ﷺ کے زمانے میں موجود نہیں تھیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ،اِن کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے، فرض کریں کہ ہم مان لیتے ہیں کہ کوئی خاص عمل جیسے کہ اجتماعی ذکر (اللہ کی یاد)ایک بدعت ہے۔ اوکے، تو کیا یہ بدعت ایسی ہے جو مجھے اسلام سے خارج کر دے؟ بدعات کو شرعی اقسام میں تقسیم کرنا بے حد لازمی ہے۔ ہم کسے اجتماعی ذکر کہہ رہے ہیں؟اس کی تعریف کیا ہے؟ کسی بھی قسم کا اجتماع مسلمانوں کا جس میں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ذکر کریں، تو یہ عمل صحابہ نے بھی کیا، اور خود نبیِ پاکﷺ صحابہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ لہٰذا اصل میں صرف یہ سوال قابلِ بحث ہے کہ وہ کونسا انداز ہے جس کے تحت یہ اجتماعات کیے جا سکتے ہیں اور کیا ساتھ مل کر تسبیح (اللہ کی تعریف بیان کرنا) یعنی سب کا ساتھ مل کر بلند آواز سے تسبیح، اذکار (ذکر کی جمع) پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ یہ واحد سوال ہے۔ تو بلند آواز سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلند آواز سے اذکار کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن سب کا ایک ساتھ، ایک ہی آواز میں پڑھنا، اِس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ مثلاً، حنبلی مسلک میں،البہوتی کہتے ہیں قرآن کو بلند آواز سے آواز ملا کر پڑھنا جائز ہے۔ یعنی حنبلی مسلک اِسے خود جائز کہتا ہے۔ بلکہ چاروں مسالک اِس پر متفق ہیں کہ یہ جائز ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ چاروں فقہی مذاہب میں، ایسا اجتماعی ذکر کرنا بالکل جائز ہے جس میں ہم ساتھ مل کر بلند آواز سے قرآن پڑھیں اور ذکر کریں۔ ہر سال جب رمضان قریب آتا ہے، یعنی جب تین مہینے قریب آتے ہیں، تین مقدس مہینے، تو کچھ خاص راتیں زیرِ بحث آتی ہیں، لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں، جیسے کہ رغائب، معراج، برأت، مولِد۔ تو کیا یہ بھی بدعت ہیں اور کیا حضور ﷺ کی سنت میں ان کی کوئی بنیاد ہے؟ اوکے، یہ ایک اچھا سوال ہے۔ تویہ خاص راتیں، جن میں سے کچھ تو روایات اوراحادیثِ نبوی (اقوالِ نبی ﷺ) سے آئی ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ ضعیف حدیث ہو، مگر بہرحال، کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ان راتوں کا اہتمام کرنا فرض یا واجب ہے۔ اور ضعیف حدیث کو عام نیک اعمال کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ضعیف حدیث کسی چیز کو فرض یا حرام قرار دینے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ ہاں، لیکن اِن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ابتدائی فقہاء، اور میں یہاں امام مالک کی ایک مثال دوں گا، اُنہوں نے یہ پسند نہیں کیا کہ اِن خاص راتوں کو کھلے عام اور عوامی طور پر بڑے اجتماعات میں منایا جائے، تاکہ لوگ اِنہیں فرض یا واجب نہ سمجھ سکیں۔ لہٰذا اُنہوں نے اِن مواقع پر عوامی اجتماعات کو ناپسند قرار دیا۔ نہ کہ ان کی اصل حیثیت کی وجہ سے ، بلکہ اِس وجہ سے کہ لوگ اسے فرض یا واجب نہ سمجھ لیں۔ امام مالک نے شوال کے چھ روزوں کے متعلق بھی یہی بات کہی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ انہیں واجب سمجھیں۔ پھر بعد میں فقہاء کا اِس میں اختلاف ہوا۔ کیونکہ اُنہوں نے ایک اور بڑا مسئلہ دیکھا۔ وہ یہ کہ لوگ اِسے اب فرض یا واجب تو نہیں سمجھیں گے۔ لوگ اب بڑی حد تک جانتے ہیں کہ کیا فرض اور واجب ہے اور کیا نہیں۔ لیکن ایک عمومی غفلت پھیل چکی تھی۔ امت پر غفلت اور لاپرواہی چھا گئی تھی۔ تو اُنہوں نے اللہ کے اِس فرمان کو بنیاد بنایا، ’’وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى‘‘ ’’ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ پر۔‘‘ لہٰذا اگر ہمیں کوئی ایسا عمل ملتا ہے جو چاہے ضعیف حدیث ہی کیوں نہ ہو یا کسی عام اصول پر مبنی ہو جیسے کہ ربیع الاول میں نبیِ پاکﷺ کا تذکرہ کرنا، جوکہ دراصل میلاد ہی ہے، تو وہ اِسے اِس اصول کے تحت شمار کرتے ہیں، ’’وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى‘‘، ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ پر۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ امت غفلت میں ہے بلکہ شدید غفلت میں۔ لہٰذا اگر کسی چیز کی بنیاد موجود ہو، تو لوگوں کو اِس پر جمع کرنا اچھی بات ہے۔ اور یہ بات تو اِس لیے زیادہ اہم ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ تو اب فرض بھی ادا نہیں کرتے، چاہے وہ جانتے ہوں کہ یہ فرض ہے۔ میرے خیال میں، یہ شیطان کی طرف سے تحریش (فساد پیدا کرنے کی کوشش) ہے اختلاف بھڑکانے کی ایک چال ہے جو شیطان امت کے درمیان لاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اِن مسائل پراختلافات اُمت کو نقصان پہنچاتے ہیں؟ میں دراصل بڑا منظرنامہ نظرانداز کرنا پسند نہیں کرتا، ہماری امت اِس وقت حالتِ جنگ میں ہے۔ اور میں جو ایک کام امت کے لیے کر سکتا ہوں وہ یہ دکھانا ہے کہ کچھ چیزیں ابلیس (شیطان) کی چالیں ہیں جو لوگوں کو مناظروں اور بحث مباحثہ کی دلدل میں گھسیٹ رہی ہیں۔ اگر اللہ نے کسی چیز کو وسیع رکھا ہے، توآپ اسے اپنی رائے کی حد میں قید نہیں کرسکتے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں نمازی اور دین پر عمل کرنے والے مسلمانوں کے درمیان ابلیس کی تحریش واقع ہوتی ہے۔ اب یہاں، ایک گروہ کہتا ہے،’’یہی ہونا چاہیے،‘‘ دوسرا گروہ کہتا ہے،’’نہیں، بلکہ یوں ہونا چاہیے۔‘‘ اور یہی چیز انتشار کو جنم دیتی ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق نہیں کہ انتشارعین اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب مسلمان حالتِ جنگ میں ہوں۔ رائٹ؟ جب مسلمانوں پر جنگ مسلط کی جاتی ہے، تو کئی طرح کے اندرونی اختلافات ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ امت کی طاقت پہلے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہے۔ یہ سب ابلیس کے حربے ہیں۔ آپ کو دراصل جنگ سے دُور، بہت دُور رکھنے کے لیے ایک پُر فریب چال ہے۔ وہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ آپ اصل معرکے میں ہرگز قدم نہ رکھیں۔ اور آخر میں، اگر آپ کو پوری نوجوان مسلم امت سے بات کرنے کا موقع ملے تو آپ چند لمحوں میں اُنہیں کیا کہنا چاہیں گے؟ میں بس یہی کہوں گا کہ اگر ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف لوٹ آئیں، تو اللہ تعالیٰ بھی ہمیں سنبھال لے گا۔ ’’إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ‘‘ اللہ کو غلبہ دو، اللہ ہمیں غلبہ دے گا۔ یہ اِسی زندگی میں ممکن ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اچھا، جو کچھ تاریخ میں اللہ نے تخلیق کیا وہ کیسے ممکن ہوا؟ داؤد علیہ السلام نے جالوت کو کیسے شکست دی؟ عربوں نے بیک وقت بازنطینیوں اور فارسیوں کو کیسے شکست دے دی؟ مطلب، صرف تاریخ میں ہی نہیں ہے، بلکہ وہ تو پہلی بات یہ کرتے ہیں کہ، فوجیں کیوں ہارتی ہیں؟ کیونکہ اُنہیں دو محاذوں پر جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ تو پھر صحابہ کی، عربوں کی اُس فوج کے بارے میں کیا کہیں گے جن کے پاس کچھ نہ تھا، جو خودارادوں سے دو محاذوں پر جنگ کے لیے نکلے اور دونوں جنگیں جیت لیں۔ یہ واقعہ حضرت عمر رَضِيَ ٱللَّٰهُ عَنْهُ کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ جب وہ 10 سال کے تھے، اگر اُس وقت کسی نے اُن سے کہا ہوتا کہ تم اِن دونوں فوجوں کو شکست دو گے، اور سربراہ ہوگے، تو یہ ایک مزاحیہ اور ہنسی کی بات لگتی، ہے نا؟ مگر ایسا ہوا۔ اور یہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، اگر ہم’’إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ‘‘ پر عمل کریں۔ اگر ہم ایک امت کے طور پر اِس پر عمل کریں، تو ہم نہیں جانتے کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ بہت سی عظیم چیزیں واقع ہوں گی۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگرچہ افق پر اندھیرے چھائے ہوئے ہیں، مگر اِس زندگی میں بہت سی عظیم تبدیلیاں سامنے آئیں گی۔ ڈاکٹر شدی المصری، آپ کا بہت شکریہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ گفتگو کرنا ہمارے لیے ایک اعزاز تھا۔ مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔ جزاک اللہ خیرا، شیخ اور ان شاء اللہ (اللہ نے چاہا تو) ہم مستقبل کے پروجیکٹس میں بھی آپ کے ساتھ ملاقات کے خواہاں ہیں۔ اللہ آپ کے کاموں میں برکت دے اور آپ کو بہترین اجر عطا کرے۔ جزاک اللہ خیراً آپ کے چینل پر بہت عمدہ کام ہو رہا ہے۔ آپ 3 ملین سبسکرائبرز کے قریب ہیں، جو ایک زبردست کامیابی ہے۔ الحمدللہ ۔اللہ آپ کو کامیاب کرے۔
