# Islam Mukhalif Kitaab Likhtay Howay Wo Musalman Ho Gaya! - Joram Van Klaveren Ki Kahani

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/while-writing-anti-islam-book-he-became-muslim-the-story-of-joram-van-klaveren
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=yXCMU72z0Ms
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

آپ نے کیسے اور کیوں اسلام مخالف کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا؟+ آپ کی زندگی ایمان کے لحاظ سے کیسی تھی؟+ آپ کا ایمان کس پر تھا؟+ آپ کا سب سے بھاری اور افسوسناک اظہار کیا تھا جو آپ نے اسلام کے لیے استعمال کیا؟+ آپ کے قریبی لوگوں کا ردِّعمل کیا تھا؟+ جب آپ مسلمان ہوئے۔+ میں سوچتا تھا، اسلام جھوٹ ہے۔- اسلام ایک خطرہ ہے۔- مجھے 2000 سے زیادہ موت کی دھمکیاں ملیں- اور آخر کار میں نے اسلام مخالف کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔- خدا مجھے اشارہ دے تاکہ میں 100 فیصد جان لوں یہی درست راستہ ہے ۔- میں اس وجہ سے دو دن تک سو نہیں سکا۔- میں اسے تسلیم نہ کرسکا۔- یہ انتہائی عجیب تھا۔- السلام علیکم، بھائی جورام وان کلیویرن+ آپ کے آنے کا شکریہ+ اور آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔+ میں پہلے آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جورام کون

ہے؟+ وعلیکم السلام- مجھے بلانے کا بہت شکریہ۔- یہاں آنا میرے لیے بہت عزت کی بات ہے۔- جورام وان کلیویرن- 23 جنوری 1979 کو- ایمسٹرڈیم میں، ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہوا- جس میں باپ، ماں، بھائی- چھوٹی بہن اور ایک بلّی تھی۔- ایمسٹرڈیم میں- میں ایک پروٹسٹینٹ گھرانے میں پلا بڑھا۔- ،ہائی اسکول سے فراغت کے بعد- میں نے کمپیریٹیو ریلیجن پڑھا۔- میں چند سال ایک استاد رہا۔- ہالینڈ میں، اور خصوصاً میری زندگی میں- بہت سی چیزیں تھیں- جب میں ایک عمومی نظر ڈالتا ہوں- ،اور جب اسلام کی بات آئی- تو میں سیاسی طور پر فریڈم پارٹی کی طرف سے سرگرم ہوگیا۔- میں پارلیمنٹ کا ممبر بنا- اور بالآخر- ،میں نے ایک اسلام مخالف کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا- اس کا آغاز ایک اسلام مخالف کتاب سے ہوا، پھر یہ خدا- کی تلاش میں بدلی اور

اختتام میرے مسلمان ہونے پر ہوا۔- آپ کی زندگی ایمان کے لحاظ سے کیسی تھی؟+ آپ کا کس پر ایمان تھا؟+ ،مسلمان ہونے سے پہلے- میں اصلاحی چرچ سے ایک پروٹسٹینٹ عیسائی تھا۔- ہم بائبل پڑھتے تھے۔- ہم سب کے نام بائبل سے تھے۔- ہم سب کا بپتسمہ ہوا تھا، ہم چرچ جاتے تھے وغیرہ وغیرہ- یعنی ہم اس لحاظ سے کافی حد تک عیسائی تھے۔- ظاہر ہے کہ میرا خالقِ کائنات پر ایمان تھا۔- میرا جنّت، دوزخ پر ایمان تھا۔- میرا فرشتوں کی وحی پر ایمان تھا۔- اور ظاہر ہے اس چیز پر بھی- جو عیسائیوں کو مسلمانوں سے الگ کرتی ہے- یعنی میرا یہ ایمان تھا کہ- ،یسوع مسیح خدا کے بیٹے ہیں- ،اور زیادہ فلسفیانہ لحاظ سے- ،میرا ایمان تھا کہ وہ خود خدا ہیں- میرا دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان تھا- ،اور ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کی مصلوبیت پر بھی- اور

میرا کفارے پر ایمان تھا۔- ،لیکن ٹرینٹی ایک انتہائی پیچیدہ تصوّر ہے- ،خواہ آپ مانیں یا نہیں، یہ واقعی بہت پیچیدہ ہے- کیونکہ بائبل میں خدا کے بارے میں- کہا گیا ہے کہ خدا لافانی ہے، لیکن اگر آپ لافانی ہیں- ،لیکن پھر آپ مر بھی جاتے ہیں- ،تو آپ بیک وقت لافانی اور فانی نہیں ہوسکتے- یہی وہ چیز تھی کہ جب میں ذرا بڑا ہوا 16، 17 سال کا- تو میں نے اس پر اعتراضات شروع کیے،کہ یہ لاجکل بات نہیں ہے۔- میں نے کئی لوگوں، پادریوں، تبلیغیوں حتیٰ کہ ربیوں سے بات کی۔- لیکن ملنے والے جواب زیادہ تسلی بخش نہیں تھے۔- اس نے اسے میرے لیے پیچیدہ بنا دیا۔- اور میرے ذہن میں اس قسم کے کچھ شکوک رہ گئے تھے۔- لیکن میں نے کہا ٹھیک ہے اس کو چھوڑو- اور میں نے ایک جج کی طرح سوچا، بس یقین کر لیا۔- اور شاید میں اتنا ذہین نہیں کہ

ساری بات سمجھ سکوں۔- اس کے باوجود میں خدا پر ایمان رکھتا تھا۔- میرا پھر بھی ایمان تھا کہ مسیح علیہ السلام ایک بہت اہم شخص ہیں۔- میرا ایمان تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔- لیکن اس کی حقیقت کو میں نے اسی پر چھوڑ دیا۔- آپ نے کیسے اور کیوں اسلام مخالف کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا؟+ ہائی اسکول کے بعد، میں یونیورسٹی گیا- اور میں نے کمپریٹیو ریلیجن پڑھا۔- ،اور ایک قابلِ ذکر بات- میرے خیال میں یہ تھی کہ- ،میرا کالج کا پہلا دن 11 ستمبر، 2001 تھا- ،میرے ذہن میں پہلے ہی تھا کہ اچھا یہ مسلمان لوگ- وہ جنونی قسم کے ہیں اور یہ مذہب سچ نہیں ہے۔- پھر چند سال بعد، ہالینڈ میں ایک شخص- تھیو وان گوگ تھا۔- وہ ایک مشہور فلمساز تھا اور اسے سڑک پر مار دیا گیا۔- اسے گولی ماری گئی تھی- اور انہوں نے اُس کا گلا کاٹنے کی کوشش کی

تھی- اور اس کے پیٹ میں ایک چاقو گھونپا تھا جس پر- ایان ہرشی علی نامی ایک اور لڑکی کے لئے ایک لیٹر تھا- جس پر لکھا تھا اگلی باری تمہاری ہے۔- لہٰذا اس سے میرے اسلام مخالف احساسات میں- اس طرح اضافہ ہوا کہ میں نے سوچا- مجھے کچھ کرنے کے لیے سیاسی طور پر سرگرم ہونا چاہیے- اور اپنے ملک کو اس برائی یا نقصان سے بچانا چاہیے۔- آپ نے اسلام کی وجہ سے سیاست شروع کی؟+ ہاں اور اس کا تعلق اسلام سے ہی تھا۔- یہی وجہ تھی کہ میں ایک کتاب لکھنا چاہتا تھا- تاکہ لوگوں کو بتا سکوں کہ اسلام دنیا کے لیے خطرہ کیوں ہے۔- جب میں اپنی کتاب لکھ رہا تھا۔- جیسا کہ میں نے پہلے کہا، عیسائیت سے متعلق- سوالات، شکوک و شبہات دوبارہ ابھرے۔- ،اور ظاہر ہے یہ سچائی سے متعلق تھے- کیونکہ میں ایک ایمان والا عیسائی تھا- اور میرے عیسائیت کے

سوالات کو بالآخر- اسلامی انداز میں جواب ملا۔- ،کیونکہ ظاہر ہے جب میں نے کتاب لکھنی شروع کی- ،تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی سیاسی کتاب ہے- لیکن یہ سیاسی اتنی نہیں تھی۔- یہ ایک مذہبی کتاب تھی کیونکہ میں لوگوں کو بتانا چاہتا تھا- کہ اسلام ایک خطرناک مذہب کیوں ہے۔- اور میں نے اسے ایک عیسائی نقطۂ نظر سے لکھا تھا۔- ،لہٰذا آغاز میں- میں نے عیسائیت میں خدا کے تصوّر- اور اسلامی تصوّر کے درمیان موازنہ شروع کیا۔- لیکن چونکہ مجھے ٹرینٹی کے بارے میں یہ شکوک تھے- اور مجھے اسلام میں توحید یعنی خدا کا ایک ہونا نظر آیا- ہاں، یہ زیادہ معقول بات لگتی ہے۔- ،اور پھر میں نے سوچا، ٹھیک ہے- میں نے بائبل دوبارہ پڑھی- ،تاکہ اپنا ایمان تازہ کروں- کہ اسلام میں توحید کا تصوّر- عیسائی تصوّر کیوں نہیں ہے۔- لیکن

جب میں پرانا عہد نامہ پڑھ رہا تھا- اور میں نے دیکھا کہ پرانے عہد نامے میں- پیغمبر نے کہا تھا ایک خدا، ایک خدا، ایک خدا۔- ،اور پھر میں نے سوچا، ٹھیک ہے- میں نئے عہد نامے میں صرف یسوع مسیح کے- الفاظ دیکھوں گا۔- اور پھر مجھے نئے عہدنامے میں یہ کہانی ملی- ،ایک شخص مسیح علیہ السلام کے پاس آیا اور پوچھا- زندگی میں اہم ترین چیز کیا ہے؟- میں جنّت کیسے پا سکتا ہوں؟- انہوں نے جواب دیا، دو چیزیں ہیں- ،اے اسرائیل، تمہارا خدا ایک ہے- اپنے پڑوسی کے ساتھ ایسا سلوک کرو جو تم اپنے ساتھ چاہتے ہو۔- تو میں نے سوچا، اچھا، یسوع مسیح بھی یہی بات کر رہے ہیں۔- اے اسرائیل، تمہارا خدا ایک ہے۔- لہٰذا میں نے سوچا کہ خدا کا یہ مکمل مسلمان تصوّر- زیادہ معقول لگتا ہے۔- اور یہ وہی تصوّر ہے جو مجھے پرانے- اور نئے عہد نامے

میں ملا تھا۔- اور میں نے جانا کہ عیسائیت- ،بطور مذہب کچھ اور سکھاتی ہے- لیکن یہ خدا کا وہ تصوّر نہیں ہے جو مجھے بائبل میں ملا۔- ،چنانچہ کئی ہفتوں کے مطالعے- ہر قسم کی کتابیں پڑھنے پھر دوبارہ پڑھنے- ،کے بعد میں نے سوچا ٹھیک ہے- شاید خدا کی یکتائی ہی وہ چیز ہے جو حق ہے۔- تو اس طرح اس کا آغاز ہوا۔- اپنی تحقیق کے دوران آپ نے کونسے وسائل استعمال کیے؟+ ،چونکہ میں کافی حیران پریشان تھا- لہٰذا میں نے ان مذہبی معاملات پر- کئی اتھارٹیز کو خط لکھے۔- اور ایک تحریر میں نے- ،شیخ عبدالحکیم مراد کو لکھی تھی- جو کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔- ،یہ ظاہر ہے ایک لحاظ سے بڑی عجیب بات تھی- کیونکہ میں پہلے ایک سیاست دان تھا۔ پھر بھی- میں اسلام مخالف مقصد سے- اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھ رہا تھا۔- اور میں دوسرے ملک

کے مسلمان پروفیسر سے پوچھ رہا ہوں- کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں؟- لہٰذا میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔- میرے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔- لہٰذا سادہ الفاظ میں میں نے کہہ دیا کہ میں کیوں سوچتا ہوں- اسلام دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔- یہ عورت، عیسائیت، اور دوسری چیزوں کا مخالف کیوں ہے۔- اور شاید چھ ہفتوں بعد- انہوں نے مجھے ایک تفصیلی ای میل بھیجی- ،اور براہِ راست سمجھانا شروع کیا- میرے بہت سے سوالوں کے جواب دیے۔- لیکن مجھے یہ بھی کہا کہ آپ کو یہ آرٹیکل پڑھنا ہوگا- یہ کتاب، وہ کتاب پڑھنی ہوگی، اس شخص سے پوچھنا ہوگا۔- اُن کے سمجھانے کا انداز بہت تفصیلی تھا۔- لیکن بالآخر، تمام کتابیں اور مضامین پڑھ لینے کے بعد- میں نے پرانے عہدنامے کے پیغمبروں- اور محمد ﷺ کے درمیان- موازنہ کیا۔- اب

میرے پاس کوئی اعتراض نہ تھا کہ- وہ سب پیغمبر ہیں اور یہ نہیں ہیں۔- ،اور میں نے سوچا، اچھا- اگر میں انہی بنیادوں پر حضرت موسیٰ کو تسلیم کروں- ،لیکن پیغمبر ﷺ کو تسلیم نہ کروں- تو پھر یہ کچھ اور بات ہے۔- میں نے سوچا، میں انہیں پیغمبر کیوں نہیں سمجھتا؟- میں نے سوچا شاید اس لیے کہ اُن کی بہت سی بیویاں تھیں۔- لیکن پھر جب آپ حضرت سلیمان کو دیکھتے ہیں- یا آپ حضرت داؤد، ابراہیم علیھم السلام کو دیکھتے ہیں- پرانے عہدنامے میں کئی افراد کا ذکر ہے- جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔- حتیٰ کہ جب آپ غیر مذہبی کتابوں میں دیکھتے ہیں- تو ثقافتی طور پر یورپ، افریقہ، ایشیا، ہر جگہ- ایسے مرد ہیں جو کئی وجوہات کی بنا پر کئی بیویاں رکھتے ہیں۔- ،تو میں نے سوچا کہ اچھا- یہ بھی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔- تو ایک ایک کرکے یہ

تمام وجوہات یکجا ہوئیں۔- بالآخر میں نے سوچا کہ مجھے کہنا پڑے گا- یہ سب پیغبر نہیں ہیں- مگر میرا اس پر ایمان نہ تھا- ،کیونکہ میرے خیال میں جو کام انہوں نے کیے- جو باتیں انہوں نے کیں، جو معجزات دکھائے۔- وہ اپنی باتوں اور کاموں سے ثابت شدہ تھے۔- لہٰذا پھر تو وہ ہیں۔- ،اور پھر میں نے کہا- پھر مجھے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ محمد ﷺ- بھی پیغمبر ہیں۔- لیکن مجھے اس میں شبہ تھا۔- تو پہلے میں نے سوچا کہ تاریخ مجھے بتاتی ہے- کہ وہ سب سے برے شخص ہیں۔- ،پھر میں نے کہا کہ شاید وہ اتنے برے نہ ہوں- لیکن وہ پیغمبر بھی نہ ہوں۔- اور بالآخر مجھے یہ شبہ ہونے لگا کہ وہ پیغمبر ہی ہیں۔- ہاں، اسی بات نے مجھے- ایک بار پھر کئی کتابیں پڑھنے پر مجبور کیا۔- اور ایک بات جو میرے خیال میں عبدالحکیم مراد کے بارے میں بہت

دانشمندانہ تھی- ،وہ یہ تھی کہ انہوں نے کہا- تم اسلام مخالف دلائل پر جو کتابیں پڑھتے ہو- وہ غیر مسلموں نے لکھی ہیں۔- ،اگر تم عیسائیت کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہو- تو ملحدوں کی کتابیں نہ پڑھو۔- بلکہ عیسائیوں کی لکھی کتابیں پڑھنا شروع کرو۔- وہ اس پر کیوں ایمان رکھتے ہیں؟- ان کے دلائل کیا ہیں؟- لہٰذا اسلام کے حوالے سے بھی تمہیں یہی کرنا چاہیے۔- اسلامی اساتذہ، اسلامی علماء وغیرہ- کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنا شروع کرو۔- اور پھر ایک ہی موضوع پر مسلمان- اور غیر مسلم مصنفین کی کتابوں کا- موازنہ کرکے تم دیکھ سکتے ہو کہ- ،کہاں انہوں نے غلط موڑ لیا- کہاں الفاظ کا غلط انداز میں ترجمہ کیا- ،بعض مرتبہ، غیر دانستہ طور پر- ،وہ نہیں جانتے کہ کہاں چیزیں شامل ہوئیں- کہاں خارج ہوئیں، لہٰذا بالآخر آپ کو- ایک نیا

مذہب تشکیل پاتا ہوا نظر آتا ہے- صرف انہی تمام باتوں کی وجہ سے۔- اور میں نے یہی کیا- ،میں نے پیغمبر ﷺ کی زندگی پر بھی یہی کیا- میں نے مارٹن لنکز کی ایک کتاب پڑھی- The life of the Prophet جو محمد ﷺ کے ابتدائی ماخذ پر مبنی تھی۔- اور ظاہر ہے یہ ایک نومسلم نے لکھی تھی۔- ،اور اس کے دلائل دینے کا انداز- اس کے بتانے کا، لکھنے کا انداز مجھے بہت پسند آیا- کیونکہ یہ ثقافتی مماثلت تھی۔- مثلاً میں کسی مخصوص موضوع وغیرہ پر کیسے جاؤں؟- ،اور پہلی مرتبہ میں نے انہیں دیکھا- ،ایک جنگجو کے روپ میں نہیں- کیونکہ میرے ذہن میں ان کی یہی تصویر تھی۔- بلکہ میں نے انہیں ایک باپ کے روپ میں دیکھا- اور انہیں ایک دوست، ایک استاد اور دیگر کئی روپ میں دیکھا۔- ،اور ہاں تب- میں نے اُس شخص کو اپنے کردار میں دیکھا- اور میں نے

کہا میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ- وہ اچھے انسان نہیں ہیں۔- چنانچہ ان کے کردار نے مجھے مزید پڑھنے- اور مزید جاننے پر اکسایا- اپنی تحقیق کے دوران آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ حیران کیا؟+ ہندہ سے متعلق کہانی نے۔- کچھ ایسا تھا جیسے کوئی سوئچ ہو- جیسے مجھے بدلنا ہوگا۔- اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے سوچا- ،ہندہ، وہ ایک دشمن ابو سفیان کی بیوی تھی- اور ایک طرح سے اس نے نبی کے محبوب چچا حمزہ رضی اللہ عنہ- کو قتل کرنے کے لیے رقم دی تھی۔- اور میدانِ جنگ میں ایسا ہوا۔- وہ شہید ہو گئے ۔- حتیٰ کہ انہوں نے ان کی لاش کے کان، ناک کاٹ کر- ہر جگہ گھمایا اور لاش کی بے حرمتی کی۔- بلاشبہ پیغمبر ﷺ اس واقعے سے بہت غمگین تھے۔- اور پھر کئی سال بعد وہ طاقتور ہو گئے۔- وہ مکہ میں برسرِ اقتدار آ گئے۔

اور پھر وہاں ہندہ موجود تھی۔- اور میں یہ کتاب میں پڑھ رہا تھا۔- اور میں نے سوچا کہ- ،اچھا اب اسے مصلوب کیا جائے گا اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے یا کوئی اور سزا دی جائے گی۔- ،لیکن انہوں نے کہا ابھی میں اس کی شکل نہیں دیکھ سکتا- لیکن سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔- اور اگر تم یہیں مسلمانوں کے ساتھ- رہنا چاہتی ہو، تو ایسا ممکن ہے۔- اور اگر نہیں، تو جا سکتی ہو۔- لیکن اب خونریزی ختم ہو چکی ہے- اور میں نے سوچا کہ اسے معاف کر دیا گیا۔- ،اگر آپ اپنے رشتے دار کے قاتل کو معاف کر سکتے ہیں- ،خصوصاً اپنے محبوب چچا کے قاتل کو- جس نےلوگوں کے سامنے ان کے جسمانی اعضاء کی نمائش کی ہو- ،آپ کی اور آپ کے نظریے کی تحقیر کے لیے- تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا کردار بہت عظیم ہے۔- یہ بہت بڑی خوبی ہے۔- ایسی خوبی جو بہت نایاب ہے۔

اور انہوں نے یہی کیا۔- تو میں نے سوچا، ہاں، واقعی وہ بہت خاص انسان تھے۔- ،اور یہ جاننے کے بعد میں نے سوچا- میرے پاس ان کے پیغمبر ہونے کے دلائل ہیں۔- ان کا کردار اور دیگر لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک میرے سامنے ہے۔- میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ میرے خیال میں وہ پیغمبر ہیں۔- ،لیکن پھر میں نے سوچا، اوہ، یہ تو بہت خوفناک بات ہے- کیونکہ میں پہلے سے ہی خدا کی وحدانیت کو مانتا ہوں- اور اب میں مان رہا ہوں کہ وہ نبی ہیں۔- اگر میں آپ کو کہوں کہ خدا ایک ہی ہے- اور محمد ﷺ اس کے نبی ہیں، یہ تو تقریباً شہادت ہوگئی۔- پھر میں نے سوچا چلو کتابیں بند کرتا ہوں، اسے روکتا ہوں۔- یہ سب غلط سمت میں جا رہا ہے۔- اور یقیناً میں نے جو پڑھا یا دیکھا- اور جو کچھ تجربہ کیا- اس کے باعث میں اب

پہلے جیسا اسلام مخالف نہیں رہا تھا۔- ،میں آپ کو بتاؤں- کہ یہ سب ایک تصوّراتی کہانی کی طرح لگتا ہے- لیکن آخر میں واقعی ایسا ہوا۔- ،میز پر یہ ساری کتابیں پڑی تھیں- اور جب مجھے احساس ہوا کہ ہاں- یہ ایک طرح سے شہادت ہے تو میں نے کہا، اچھا- میں ساری کتابیں رکھ دیتا ہوں- اور میں نے کتابیں اونچی شیلف پر رکھ دیں۔- لیکن کتابیں اتنی زیادہ تھیں- کہ بہت سی شیلف سے نیچے گر گئیں۔- اور شیلف سے گرنے والی کتابوں میں قرآن بھی تھا۔- اور جب میں نے اسے اٹھایا- تو میرا ہاتھ سورۃ 22، آیت 46 پر تھا- جہاں لکھا تھا ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں‘‘۔- اور میں نے سوچا، میرا واقعی یہی مسئلہ ہے- کیونکہ آنکھیں اندھی نہیں تھیں- میں اپنے ہاتھ سے لکھا واقعی دیکھ سکتا تھا۔- کسی نے مجھے یہ کتاب لکھنے پر

مجبور نہیں کیا تھا۔- کسی نے نہیں کہا تھا کہ تمہیں یہ لکھنا ہے یا وہ لکھنا ہے۔- میں نے خود ہی لکھنا شروع کیا تھا- اور میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا- لیکن میں اب بھی یہ حقیقت تسلیم نہ کر سکا جو میں نے کہا تھا- کہ وہ پیغمبر ہیں۔ خدا ایک ہے۔ میں تسلیم نہیں کر سکا- تو میری آنکھیں نہیں- بلکہ میرا دل اندھا تھا۔- میں یہ حقیقت تسلیم نہ کر سکا۔ شاید اپنے نفس- یا انا کی وجہ سے، اسے قبول نہ کر سکا۔- اور میں نے کہا، اے خدا- مجھے پرواہ نہیں کہ یہ بائبل کا خدا ہے یا قرآن کا- مجھے اشارہ دے تاکہ 100 فیصد- درست راستہ جان لوں۔- پھر میں سونے چلا گیا۔- لیکن جب جاگا تو میں نے خود کو بہت محفوظ محسوس کیا- میں واقعی بہت محفوظ محسوس کر رہا تھا- میں نے کبھی کسی حوالے سے اتنا محفوظ محسوس نہیں کیا۔- میرا سارا

اضطراب اور شکوک و شبہات ختم ہو گئے تھے۔- سورج کے سامنے برف کی طرح۔- اور میں نے خود سے کہا، شاید میں مسلمان ہوگیا ہوں۔- پھر ظاہر ہے، مجھے دوسرے لوگوں کو بھی بتانا تھا۔- آپ کے اردگرد کے لوگوں کا کیا ردِّعمل تھا؟+ جب آپ مسلمان ہوئے؟+ السلام علیکم بھائیو اور بہنو۔+ ہم نے دیکھا کہ ہمارے % 80 ناظرین بشمول اس ویڈیو کے+ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہے۔+ جیسا کہ آپ جانتے ہیں+ ہم ایک غیر منافع بخش تنظیم ہیں+ اور ہم نے اپنی ویڈیوز پر ایڈز بند رکھی ہیں۔+ لہذا ہم صرف اس لیے یہ کہ رہے ہیں تاکہ سچائی کو پھیلآیا جائے۔+ یہ ایک چھوٹا سا عمل لگ سکتا ہے لیکن انشاء اللہ+ یہ بہت سے لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوگا۔+ آئیے اب سبسکرائب بٹن پر کلک کریں+ اور ایک ساتھ چلیں۔+ ابدیت کی طرف+ آپ کے اردگرد کے لوگوں

کا کیا ردِّعمل تھا+ جب آپ مسلمان ہوئے؟+ اکثر کا ردِّعمل منفی تھا۔- ،یقیناً، بہت سے لوگوں کے لیے- خصوصاً کچھ انکل اور آنٹیوں کے لیے یہ ایک صدمہ تھا۔- انھیں خبروں سے اس کا پتہ چلا۔- اور جب اپنی ماں کو بتایا تو وہ رونے لگیں۔- اور میری بیوی کافی کھلے ذہن کی تھی۔- ہاں، وہ اس بارے میں بہت مثبت تھی۔- اس نے کہا اچھا اگر- اسلام ہی آپ کا حقیقی ایمان ہے اور یہ آپ کے دل میں ہے۔- میں کون ہوں؟- اور میری پچھلی ملازمت کے کچھ ساتھی کافی جارحانہ تھے۔- مجھے 2000 سے زیادہ موت کی دھمکیاں ملیں- مجھے سپورٹ کرنے والوں کی طرف سے۔- جنہوں نے مجھے ووٹ دیا تھا۔- لوگوں نے انتہائی نفرت انگیز باتیں کیں۔- ،ہم تمہاری بیوی کا ریپ کر دیں گے، تمھیں گولیاں مار دیں گے- ہمیں تمہارے بچوں کا اسکول معلوم ہے، وغیرہ وغیرہ۔- ان میں سے

زیادہ تر، یقیناً، احمق ہیں- کیونکہ وہ کمپیوٹر پر فضول لکھنے والے پاگل لوگ ہیں۔- تو وہ کافی مشکل وقت تھا۔- اور مجھے اپنا کام پر بھی جانا تھا- اور یہ ایک عیسائی تنظیم تھی۔- اس کے لیڈر نے کہا- یہ ناقابلِ یقین ہے۔- اور اس نے کہا، ہاں، میں نے تبدیلی محسوس کی تھی- جب تم ریڈیو پر مخصوص موضوعات پر بولتے تھے۔- ،تو کچھ زیادہ ہی نرم مزاج ہوتے تھے- پہلے کی طرح سخت نہیں، تم مسلمان ہو رہے تھے۔- ،اور جب میں نے کہا ہاں، میں مسلمان ہو گیا تھا- تو اس نے کہا کہ میں اس وجہ سے دو دن تک سو نہیں سکا۔- میں اسے تسلیم نہ کر سکا۔ یہ انتہائی عجیب تھا۔- لیکن میرے لیے سب سے مشکل کام اپنے دادا کو بتانا تھا- کیونکہ میرے دادا مرنے والے تھے- ،ان کی عمر تقریباً 93، 94 سال تھی- اور وہ گھر میں بسترِ مرگ پر تھے۔- ،مجھے انہیں

بتانا تھا اور میری ماں نے مجھے کہا تھا- تمہیں بتانا ہوگا کہ تمہارے دادا ان کے والد تھے۔- تو میں نے کہا، اچھا تو پھر آپ کو میرے ساتھ آنا پڑے گا۔- وہ ایک ڈھال کی طرح تھے۔- اور میں نے صرف اتنا کہا دادا، میں مسلمان ہو گیا ہوں۔- اور پھر انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں- اور میں نے سوچا کہ ان کی سانس بند ہو گئی ہیں کیونکہ وہ بہت بوڑھے تھے۔- اور کچھ دیر کے لیے واقعی ان کی سانسیں رک گئیں۔- اور پھر وہ دوبارہ سانس لینے لگے۔- اور انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا- چلو کم از کم تم کیتھولک تو نہیں بنے۔- تو یہ بہت مزاحیہ بات تھی- اور آخری بات ریڈیو میں میرے پرانے باس نے کہا- اچھا، ہمیں کیا معلوم کہ- کل کو تم ہندو یا کچھ اور بن جاؤ۔- تو میں نے اسے کہا کہ میں نے کبھی مذہب منتخب نہیں کیا۔- ایسا ایک بار ہی ہوا

جب میں مسلمان ہوا تھا۔- اس سے پہلے میں نے اپنا مذہب منتخب نہیں کیا تھا۔- میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا۔- میری پرورش ایک عیسائی طریقے سے ہوئی۔- اور میں بہت مشکور ہوں۔- ان تمام اچھی چیزوں کے لیے جو اس سے مجھے ملیں۔- لیکن یہ میرا فیصلہ نہیں تھا۔- اور صرف ایک بار جب میں نے فیصلہ کیا- تو وہ میرا مسلمان ہونے کا فیصلہ تھا۔- اور یہ سب سے زیادہ- جیسے میں نے کہا- مجھے لگتا ہے یہ میرا سب سے اہم فیصلہ تھا- اور میرا سب سے عقل مندانہ فیصلہ تھا۔- میں نے کبھی ایک فیصلہ کرنے میں- سالہا سال نہیں لگائے، سوائے مسلمان ہونے کے۔- جب آپ نے اپنی پہلی نماز پڑھی تو کیسا لگا؟+ یقیناً یہ ایک خوبصورت لمحہ تھا- لیکن بہت عجیب بھی تھا- کیونکہ عیسائیت میں آپ کو اس طرح عبادت کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔- آپ ہاتھ جوڑ کر عبادت

کرتے ہیں- اور شاید گھٹنوں کے بل- اپنے باتھ وغیرہ کے سامنے بیٹھ کر۔- لیکن مجھے یہ بہت خوبصورت لگتا ہے- کہ آپ واقعی سجدہ کرتے ہیں- آپ واقعی اپنے رب کے آگے نہایت عاجزی سے جھکتے ہیں۔- تو میرے خیال میں یہ بہت عاجزانہ اور خوبصورت ادا ہے۔- اور ہاں، اس سے مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی۔- آپ کو تین سب سے بڑے کن چیلنجز کا سامنا ہوا+ جب آپ نے اسلام قبول کیا؟+ یقیناً مسلمان بننا ایک بہت بڑا چیلنج تھا- کیونکہ مجھے اپنے پورے خاندان کو بھی بتانا تھا- اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔- یہ سوچنا- کہ مسلمان بننا بہت مشکل ہوگا- کیونکہ خصوصاً ایک پروٹیسٹنٹ عیسائی کے طور پر- مذہبی لحاظ سے آپ کو بہت زیادہ چیزیں نہیں کرنی پڑتیں۔- ،لیکن بطور مسلمان عملی طور پر- دن میں پانچ وقت کی نماز ضروری ہے۔- کھانا ایک خاص طریقے سے کھانا

ضروری ہے۔- ایک خاص انداز سے سوچنا ضروری ہے۔- آپ کے لیے ہر لمحہ بہترین رہنا ضروری ہے- اپنے خالق سے تعلق کے باعث- اور اس حقیقت کی وجہ سے کہ- آپ کو دن میں پانچ وقت نماز ادا کرنی ہے۔- یہ ایک طرح سے خالق کی مستقل یاد دہانی ہے۔- تو یہ آپ کو ایک عیسائی کے مقابلے میں- اس حقیقت سے کہیں زیادہ آگاہ رکھتا ہے کہ آپ کا ایک رب ہے۔- یہ میرا تجربہ ہے۔- اور میں سوچتا، اوہ آج پانچ وقت کی نماز پڑھنا- میں نہیں کر سکتا، میں نہیں کر سکتا، مجھے کرنا ہے۔- تو اس چیز نے سوچ مشکل بنا دی۔- لیکن میرے مسلمان ہونے کے بعد، یہ بالکل مشکل نہیں تھا۔- کیا آپ اپنے بچوں کی پرورش بھی بطور مسلمان کر رہے ہیں؟+ آپ یقیناً کوشش کرتے ہیں- مجھے پتہ نہیں کہ آپ ایک مسلمان کی پرورش کیسے کرتے ہیں۔- میرے خیال میں یہ بہت مشکل کام ہے- خاص طور

پر اس دور میں۔- ظاہر ہے جب میں نے شادی کی تو میں مسلمان نہیں تھا۔- آپ نے ایک طرح سے عہد کیا- کہ آپ اپنے بچوں کی پرورش بطور عیسائی کریں گے۔- تو مسلمان ہونے کے بعد- ظاہر ہے میں اپنے بچوں کی پرورش بطور عیسائی نہیں کر رہا- اگر عیسائیت سے متعلق بچوں کا کوئی سوال ہوتا ہے- تو وہ میری بیوی سے پوچھتے ہیں، اور انہیں عیسائی جواب ملتا ہے- اور اگر وہ میرے پاس آتے ہیں تو انہیں اسلامی جوابات ملتے ہیں۔- لیکن اکثر وہ کہتی ہے کہ اپنے باپ سے پوچھو۔- میری بیوی سب کے لیے حلال کھانا پکاتی ہے۔- تو یہ بہت خوبصورت بات ہے۔- وہ کہتی ہے، میں پانچ کھانے نہیں بناؤں گی- تو سب ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں۔- آپ حلال کھانا چاہتے ہیں۔ تو سب حلال کھاتے ہیں۔- تو ایک طرح سے، یہ ایک قدرتی عمل کی طرح ہے۔- اسلام کے خلاف آپ کا+ شدید

ترین اور افسوسناک اظہارِ خیال کیا تھا؟+ میرے خیال میں اسلام ایک جھوٹ ہے۔- کیونکہ یہ بات میں اکثر کہتا تھا۔- اسلام جھوٹ ہے اور قرآن زہر ہے۔- لیکن جب میں کہتا تھا- کہ اسلام ایک جھوٹ ہے، تو اس سے میری مراد تھی سارا مذہب- اور اس سے منسلک ہر چیز۔- تو یہ ایک طرح سے جہالت کا اعلیٰ ترین درجہ تھا۔- ہاں، مجھے اس چیز کا افسوس ہے۔- کیونکہ یہ ایک چھتری کی طرح تھا- اور باقی سب کچھ اسلام ایک جھوٹ ہے- کے تصوّر کے تحت آتا تھا۔- کیونکہ یہی بنیادی سوچ تھی۔- اور یقیناً میں خود کو الزام دیتا ہوں- اور جانتا ہوں کہ ایسا کرنے والے- بہت سے لوگ عملی مسلمان نہیں ہیں۔- اور ایک طرح سے میں اس چیز کو سمجھتا ہوں، کیونکہ- ہر چیز جو سیاسی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے- کہی اور کی جاتی ہے، اسے بھی شمار کیا جاتا ہے۔- میں کبھی کبھی

اپنی پرانی پارٹی کے لوگوں- کے دلائل بھی سنتا ہوں جنہیں میں نے ناراض کیا۔- ہاں، یہ چیز مجھے پریشان کرتی ہے- اسلامک ایکسپیریئنس سینٹر (IXC) اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے- نامی ایک تنظیم قائم کی۔- اور ہم اسکولوں، پرائمری اور ہائی اسکولوں- کالجوں، یونیورسٹیوں- یہاں تک کہ حکومت کے دو محکموں- دیگر سماجی تنظیموں اور گرجا گھروں میں جاتے ہیں۔- اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے- پیغام پھیلانے اور اسلام کو اس کے حقیقی رنگ میں دکھانے کے لیے۔- کے ذریعے کرتے ہیں۔ (VR) اور ہم یہ عینک کے ساتھ ورچوئل رئیلٹی- تو یہ ایک بہت پُر لطف تجربہ بھی ہوتا ہے۔- اور اس طرح ہم ان چیزوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں- جو میں نے ماضی میں کہی اور کی ہیں۔- لو گوں کو اسلام کے بارے میں کیسے تحقیق کرنی چاہیے؟+ کیا آپ صرف گوگل سرچ کا

مشورہ دیتے ہیں؟+ نہیں، میں یقیناّ گوگل کا مشورہ نہیں دوں گا۔- میں کبھی اس کا مشورہ نہیں دوں گا۔- میں کہوں گا کہ کمپیوٹر بند کر دو۔- نہیں، میرے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ- لوگ کتابیں پڑھیں، اصلی صفحات والی کتابیں۔- میں مشورہ دوں گا- مارٹن لنکس کی کتاب- پڑھیں Muhammad: His Life Based on the Earliest Sources- جس کتاب کی میں نے پہلے بات کی تھی، یہ ایک سبز کتاب ہے۔- اور میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ- قرآن کا خود سے گہرا مطالعہ نہ کریں- کیونکہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ کتاب ہے۔- اور اگر آپ کے پاس ایسا کوئی نہیں- جو آپ کو سکھا سکے- خاص طور پر، زیادہ تر لوگ- جو اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے- روانی سے عربی یا کلاسیکی عربی بولنے والے نہیں ہوتے۔- تو آپ قرآن کی تفسیر- یا ترجمہ پڑھتے

ہیں، اور ظاہر ہے- زیادہ تر یہ مصدقہ نہیں ہوتا۔- اس لیے میں لوگوں کو صرف سیرت کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دوں گا۔- نبی کے کردار اور زندگی کا مطالعہ کریں- کیونکہ روایت بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔- ان کی زندگی قرآن تھی۔- وہ ایک طرح سے زندہ قرآن تھے- ان کی سنت کا مطالعہ کریں۔- اور میرے خیال میں یہ اسلام کو دریافت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔- اور آخر میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟+ میں مسلمان ہونے کے بعد پہلے سے زیادہ خوش و خرم ہوگیا ہوں- اس لیے میں سب کو مسلمان ہونے کی دعوت دینا چاہتا ہوں- کیونکہ یہ آپ کی روح- اور آپ کے دل کو خوشی اور سکون دیتا ہے۔- یہ سچ ہے۔ یہ آپ کے دل و جان سے ہم آہنگ ہے۔- کم از کم اسے اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔- سیرتِ نبوی کو پڑھنے کی کوشش کریں۔- سمجھنے کی کوشش کریں کہ مسلمان کس بات پر

ایمان رکھتے ہیں۔- ان کے رویّوں سے قطعِ نظر- کیونکہ مجھ سمیت بہت سے مسلمان ہیں- جو مسلمانوں کی طرح نہیں رہتے۔- میں ہمیشہ ایک مسلمان کی طرح نہیں رہتا۔- حالانکہ رہنا چاہیے مجھے بھی اور باقی سب کو بھی۔- لیکن آپ تمام مثالوں سے بڑی- نبیﷺ کی مثال کو دیکھیں۔- اور اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو شاید آپ کو رہنمائی مل جائے- یہ آپ کو سچ کی طرف لے جاتی ہے۔-
