# Why Doesn't God Stop Rapes And Atrocities? Here's Answer!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/why-doesnt-god-stop-rapes-and-atrocities-heres-answer
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=nKXze9ac2DE
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

اس بار ، ہم واقعی مشکل سوالات سے نمٹ رہے ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟ جی ہاں میں تیا ہوں۔ بچوں کی عصمت دری، چھوٹے بچوں کے ساتھ بھیا نک ظلم ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟ کیا اگر اللہ چاہتا تو ان کاموں کو روک سکتا تھا؟ کیا عصمت دری کا شکار ہونے والے معصوم نہیں ہیں؟ لیکن اللہ کے پاس لا محدود طاقت ہے، اور ہمدردی بھی ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ تو پھر وہ کیوں اس طرح کے جرائم کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اُس کے اختیارات اور اس کی رحمت محدود ہیں؟ کراس ٹیب کے استفسار میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ پہلے بھی اس شو میں آ چکے ہیں۔ جی ہاں۔ پھر تو آپ قوانین سے واقف ہیں۔ اس شو میں ہم کچھ مشکل سوالات پوچھ رہے ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟ جی ہاں، میں تیار ہوں۔ آپ ان لوگوں کو کیسے جواب دیتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں ؛ کہ

دنیا میں نا انصافی، مظالم اور یہاں تک کے عصمت دری بہت زیادہ پھیل چکی ہے۔۔۔ اگر، جیسا کہ آپ کہتے ہیں، کسی خالق کا وجود ہوتا، تو وہ ان جرائم کو روکنے کے لیے ضرور مداخلت کرتا۔ پہلی بات یہ ہے کہ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں: کہ یہ خالق کے نہ ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ یہ ثابت نہیں کرتا کہ خدا کا وجود نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ معاملات خالق کی مرضی کے ہیں۔ میرا مطلب ہے ،" وہ ظلم و ستم کو کیوں نہیں روکتا؟" یا " وہ ظلم و ستم کیوں روکتا ہے؟" یہ سب خالق کی مرضی ہے۔ لہٰذا یہ خالق کی عدم موجودگی کو ثابت کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو ضرور قبول کرنا چاہیے۔ میں اس کا موازنہ کسی ایسے شخص سے کرتا ہوں جسے اپنے فون کی کوئی خصوصیت پسند نہ آئے اور وہ یہ کہتا رہے کہ "اس کو کسی نے نہیں بنایا۔ اس کو کسی نے نہیں بنایا۔"

اس مثال کو ہی لے لیں؛ کہ کوئی ایسا شخص جو کائنات کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ " کوئی خالق نہیں ہے"، تو وہ ایک غیر معقول قسم کا اندازہ لگا رہا ہے۔ تو پھر اللہ ان مسائل کا حل کیوں نہیں نکالتا؟ بات یہ ہے کہ، اس نے ان مسائل کا حل قرآن اور سنت کے ذریعے بتا دیا ہے۔ ہم تمام مسائل کا حل دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے ، آئیے اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں: کہ یہ لوگوں کی آزاد مرضی ہی ہے جو انہیں جرم کی طرف لے جاتی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ قرآن پہلے سے ہی سب افراد کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ صحیح اور غلط کے بارے میں اخلاقی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ بتاتا ہے کہ ایک شخص کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ جیسا کہ ایک اور مثال ہے کہ، جب ہم کسی کو بھوکا دیکھیں تو ہمیں زکوٰۃ کے قوانین کی

پابندی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل نہیں کرتا تو وہ مُجرم ہے۔ اللہ ہمیں پہلے سے ہی سارے قوانین، قرآن اور سنت کے ذریعے بتا چکا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مخلص شخص اس بات کا جائزہ لے ، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصول توڑنے والے ہی اصل مُجرم ہیں۔ لیکن آپ جس خالق کی بات کرتے ہیں کیا اس کے پاس لا محدود طاقت اور شفقت نہیں ہے؟ پھر وہ اس کی اجازت دینے کی بجائے مداخلت کیوں نہیں کرتا؟ کیا اس کی رحمت اور اس کے اختیارات محدود ہیں؟ یہاں اصل مسئلہ طاقت یا ہمدردی کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھی انسان کی عقل کا معاملہ ہے۔ اللہ تو ہر حال میں رحم کرتا ہے۔ کیونکہ، وہ اللہ ہی ہے جو ہم پر رحم کرتا ہے۔ اللہ وہ ہے جو ہمیں ماں جیسی شفقت دیتا ہے۔ اللہ ہمیں ان غضب ناک چیزوں کو ترس کی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت

دیتا ہے، جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہمدردی تو حاصل کر لیں اور ہمدردی کا جو ذریعہ ہے اس کو مسترد کر دیں۔ ہماری پیدائش کے وقت سے لے کر آج تک، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کے بہت سارے کاموں کے ذریعے ہمیں اپنا تعارف کرایا ہے۔ جیسا کہ مثال کے طور پر، جب ایک شخص دوسرے شخص کو پانی کا گلاس دیتا ہے، تو ہم ہمدردی کے عنصر کو دیکھ سکتے ہیں۔۔ تاہم، ہم اس کی رحمتوں اور ہمدردیوں کا ذریعہ کیوں نہیں دیکھ سکتے جو ہمیں اپنی پیاس کو کم کرنے کے لیے دریا اور بارش عطا ء کرتا ہے؟ تو ہم دنیا میں ہونے والے ان جرائم اور مظالم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ نے انسان اور اس کی آزاد مرضی کو بڑی حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ انسان کے شیطانی اعمال ہیں جس کی وجہ سے یہ اپنی

آزاد مرضی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ برائی نہیں ہے کہ برائی پیدا کی جائے بلکہ برائی یہ ہے کہ کسی کےساتھ برائی کی جائے۔ اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی آزاد مرضی کسی قسم کی برائی نہیں ہے۔ برائی یہ ہے کہ ہم برے کاموں کو انجام دینے کے لیے اپنی آزاد مرضی کو استعمال کریں ۔ آئیے ایک مثال کے طور پر آگ کو ہی دیکھ لیں کہ آگ کے بہت سے فائدے ہیں۔ ایک شخص آگ میں ہاتھ ڈالنے کا انتخاب کرتا ہے، تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ " آگ کا وجود ہی برائی ہے"۔ با لکل اسی طرح، آزاد مرضی کے بہت سے فائدے ہیں۔ خواہش کا وجود ہی انسان کو انسان بناتا ہے، اور اس کو صحیح اور غلط کی پہچان کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص گناہ کرنے کے لیے یا کسی کی عصمت دری کرنے کے لیے اپنی آزاد مرضی کو استعمال کرتا ہے، تو یہ اس کی اپنی

برائی اور گناہ ہو گا۔ ورنہ مرضی کا وجود اور انسان کے وجود کو برا نہیں کہا جا سکتا۔ اس میں بڑی حکمت ہے۔۔۔ جیسا کہ اللہ کے تخلیق کردہ انسان اور انسان کی آزاد مرضی کے بڑے فائدے ہیں۔ صرف چند اقلیتوں کی شرارت کی وجہ سے، ہم آزاد مرضی کو برائی نہیں کہہ سکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ برے ہیں ۔ مجھے آپ کا جواب بالکل سمجھ نہیں آیا۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں: چاقو بنانے کے اور اپنے پاس چاقو رکھنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ لیکن اگر ایک شخص کسی کو مارنے کے لیے چاقو کا استعمال کرتا ہے، تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ '' کچھ لوگ مارے گئے ہیں ۔۔۔ اور اس وجہ سے چاقو بنانا ایک برائی ہے اور جو شخص چاقو بناتا ہے وہ خوفناک انسان ہے۔'' تو اس مثال کی طرح، اللہ کے مخلوقات کو تخلیق کرنے کے عمل میں بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن

ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں برائی ہے جو ان تخلیقات کو گالی دیتے ہیں۔ اس لیے چیزوں کو پیدا کرنا اللہ کے لیے برائی نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے لیے برائی ہے کہ وہ ان چیزوں کے ساتھ زیادتی کرے۔ عصمت دری اورچھوٹےبچوں کے ساتھ شدید ظلم، پھر ان سب کا کیا ہو گا؟ جیسا کہ ہم نے ابھی مثالیں دی ہیں ، کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے انتخاب کاخود ذمہ دار ہے۔ مثال کے طور پر شہوت انگیز جذبات پیدا کرنا اللہ کے نزدیک برائی نہیں ہے۔ اس سے بہت سی اچھی چیزیں آتی ہیں۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں جیسا کہ لوگوں کا شادی کرنا، اور آپس میں خوشی کو یقینی بنانا، اور خاندانی تعلقات استوار کرنا۔۔۔ لیکن، یہ کسی بھی شخص کی مرضی ہے کہ وہ اس ہوس بھرے احساس کا غلط استعمال کرے اور عصمت دری کا انتخاب کرے، برائی کرنا

ہی انسان کو گنہگار بناتا ہے۔تو ہم اس مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟ ان احساسات کو پیدا کرنا اللہ کے لیے برائی نہیں ہے؛ اس کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن اسے برائی کے لیے استعمال کرنا ہی اس شخص کو اس کا ذمہ دار اور گنہگار بناتاہے۔ جی ہاں، آپ نے جو کہا وہ معنی خیز ہے۔ تو کیا عصمت دری کا شکار ہونے والے بے قصور نہیں ہیں؟ ہم فلم کے بیچ میں کرداروں کی پریشانیوں کے بارے میں سوچ کر کیوں پریشان ہوں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا انجام خوش کن ہو گا؟ ہم کیوں پریشان نہ ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم انجام کو جانتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر، ایک شخص کو ڈراؤنا خواب آتا ہے، جو کہ محسوس ہوتا کہ یہ کئی سالوں تک رہا۔ جب وہ اس خوب سے بیدار ہوتے ہیں، تو ایک کپ پانی اس شخص کی تمام پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے۔۔۔ صرف ایک گلاس پانی۔ حقیقی زندگی

میں بھی لوگ شدید پریشانیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب وہ ایک اچھا خواب دیکھتے ہیں، تو کوئی بھی شخص اپنی حقیقی زندگی کی پریشانیوں کو بھول سکتا ہے۔ وہ اللہ جو ایک سادہ خواب سے ہماری پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے، وہ کیسے اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتا کہ ہم جنت کے ابدی انعام کے لیے اس زندگی کی پریشانیوں کو بھول جائیں گے؟ جو شخص آخرت اور جنت کے بارے میں جانتا ہے، اس کو دنیاوی پریشانیاں بہت معمولی لگیں گی۔ ٹھیک ہے، میں سمجھتا ہوں، لیکن کیا اللہ اس بے حرمتی کو روک نہیں سکتا تھا؟ کیا اللہ عصمت دری کو روک نہیں سکتا ؟ یقیناً وہ اسے روک سکتا ہے۔ لیکن ہم نے کہا کہ اللہ کا فیصلہ مطلق ہے۔ اُس کے مطابق، وہ ہمیشہ سب سے اہم اور منطقی کام کرتا ہے۔ ورنہ اس طرح تو تمام عدالتیں اور مقدمات مکمل طورپر ختم ہو

جائیں گے۔ کیو نکہ جب بھی کوئی شخص برائی کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے روک دیا جائے گا۔ تصور کریں کہ کوئی کسی پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن چاقو اندر نہیں جاتا۔ ایک اور مثال یہ ہے ، کہ اگر کوئی شخص کسی کو مارنے کے لیے گولی چلائے اور گولی اپنے شکار سے منحرف ہو جائے۔ اگر معجزانہ طور پر تمام جرائم کو روک دیا جائے، تو آزمائش نام کی کوئی چیز نہیں رہے گی۔ اگر تما م جرائم کو روک دیا جائے تو نیک اور گنہگار روحیں سب ایک جیسی ہوں گی۔ مثال کے طور پر، ایک جنسی زیادتی کرنے والا شخص ہے ، اور دوسرا وہ شخص ہے جو بہت اچھے کام کرتا ہے۔ لیکن چونکہ قوتِ ارادی کو ناکارہ کر دیا گیا ہے، اس لیے دونوں اشخاص اعمال کے لحاظ سے ایک ہی سطح پر برابر ہو جائیں گے۔ نیک روح انسانوں میں اور بد روح انسانوں میں کوئی تمیز

نہیں کی جائے گی۔ ایک مثال کے طور پر، کیا آپ کسی جنسی زیادتی کرنے والے شخص کے برابر ہونا پسند کریں گے؟ انصاف کا نظام ہمیں ظالموں سے الگ کرتا ہے۔ اگر صحیح اور غلط کا یہ امتحان نہ ہوتا، تو سب لوگ برابر ہوتے۔ اس صورتِ حال میں یہ سراسر غیر دانشمندانہ معاملہ ہو گا۔ اور چونکہ اللہ منصفِ مطلق ہے اس لیے وہ مدا خلت نہیں کرے گا۔ میرا ایک آخری سوال ہے۔ کیا یہ دنیا درد کے بغیر ایک بہتر جگہ نہیں ہو گی؟ جیسا کہ آپ نے کہا، کہ ایک ایسی جگہ ہے جس کا نام جنت ہے۔ لیکن اگر ہم اس دنیا کو ہی جنت سمجھ لیتے ہیں، تو ''یہاں آفات کیوں آتی ہیں؟ کیا اس سے بہتر جگہ نہیں ہو سکتی تھی؟'' لیکن ہم نے جس جگہ کا تذکرہ کیا ہے وہ جنت ہے۔ دنیا جنت میں جانے کے لیے تربیت گاہ ہے۔ ان تربیت گاہوں میں، یقیناً امتحانات بھی ہوں گے۔ ان

امتحانات کے نتیجے میں، ہم روحانی طور پر ترقی کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس زمین کو ایسی جگہ کے طور پر دیکھنا چاہیے جہاں ہم اپنے آپ کو ترقی دے سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے، یہ سب کچھ معنی رکھتا ہے ، اگر جنت موجود ہے۔ کیا آپ مجھے جنت کا وجود ثابت کر سکتے ہیں؟ آئیےذرا اس کا تصور کریں کہ سینان معمار ایک نئی عمارت بنا رہا ہے؛ تقریباً دس منزلہ عمارت۔ لیکن اگر کوئی شخص آئے اور کہے: " کہ وہ اس عمارت کی چھت نہیں بنا رہا، اور وہ اس کو ایسے ہی چھوڑ کر وہاں سے جانے والا ہے"۔ تو کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ کیوں؟ کیونکہ، سب جانتے ہیں کہ سینان معمار کتنا عقلمند ہے۔ اس کے لیے اس عمارت کو بنا کر چھت کے بغیر چھوڑنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بالکل اس مثال کی طرح، کائنات میں اللہ کی حکمت کی لامتناہی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں اس کے پاس کسی

چیز کا ضیاع نہیں ہے۔ اس لیے یہ سوچنا فضول بات ہے کہ وہ اس دنیا کو آخرت کی چھت سے نہیں جوڑے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے سینان معمار کے متعلق کہا؛ اس کی ساری حکمت کو دیکھنے کے بعد ہم نے کہا، کہ " اتنا سمجھدار انسان ایسا نہیں کرے گا، اور چھت بنائے بغیر یہ کام نہیں چھوڑے گا۔" تو یہ نا ممکن ہے کہ اللہ اس دنیا کو بغیر چھت کے چھوڑ دے۔ یہ یقینی بات ہے کہ وہ اس دنیا کو آخرت سے جوڑے گا، اور یہ بھی یقینی ہے کہ وہاں ظالموں کو سزا دی جائے گی اور مظلوموں کو انعام دیا جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں، دنیا کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے"آخرت" ضرور آئے گی۔ میں بھی یہ شامل کرنا چاہتا ہوں۔ رکیں، رکیں ، آپ اپنی مرضی سے بات نہیں کر سکتے۔ آپ پہلے سے ہی سارے سوالات پوچھ چکے ہیں۔ آخر میں ، میرا یہ بتانا ضروری ہے: کہ میں نے

آپ کے تمام جوابات رسالہ نور تفسیر سے دیے ہیں۔ اگر آپ مزید جوابات بھی تلاش کر رہے ہیں تو اس رسالہ کو دیکھیں۔
