# Islam Ne Zakat Ko Farz Kyun Qaraar Diya Aur Riba Ke Khilaf Jung Ka Elan Kyun Kiya!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/why-islam-made-zakat-obligatory-declared-war-on-riba
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=hLSUwWWkE68
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

آپ نے سب سے زیادہ وقت بغیر کھانے کے کتنا گزارا ہے؟ دس گھنٹے؟ چوبیس گھنٹے؟ یہ واقعی ایک بہت بڑی آزمائش ہے ،سال 2021 میں دنیا بھر میں وہ افراد جو مسلسل بھوک کا شکار ہیں ان کی تعداد 82 کروڑ80 لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ ،یہ سب دیکھنے کے بعد ہزاروں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سوال کا جواب کیا ہے؟ غریب مزید غریب تر کیوں ہو رہے ہیں؟ اور امیر مزید امیر تر کیوں؟ دنیا کے 42 امیر ترین افراد۔ 2017 کی آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ان 42 افراد کی مجموعی دولت دنیا کی نصف آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ ،اگلے سال دنیا کی نصف دولت محض 26 امیر ترین افراد کی ،دولت کے برابر تھی یعنی پچھلے سال سے بھی کم۔ اقوامِ متحدہ کی ،ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 71 فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں آمدنی میں عدم مساوات دن بدن بڑھ رہی ہے۔

،اور ہاں اس میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو کہ ترقی یافتہ شمار کیے جاتے ہیں۔ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ،مایوس اور بے بس ہوچکا ہے جیسے کسی بھی لمحےپھٹنے والا لاوا۔ لیکن اگر میں آپ سے کہوں کہ صدیوں پہلے اسلام نے وہ حل پیش کیا تھا جسے آج ہم شدت سے تلاش کر رہے ہیں؟ ایسا حل جو صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو کچھ شہروں میں بلکل غربت نہ رہے۔ اور پھر صدقات دوسرے شہروں میں بھیجنے پڑیں جو کہ میلوں دور ہوں۔ کیا یہ واقعی میں ممکن ہے؟ اگر آپ ایک جامع مواد کے لیے تیار ہیں جس کی تیاری میں کئی ہفتے لگے ہیں جس میں ماہرین اور محققین کے تبصرے اور آراء شامل ہیں، تو چلیئے شروع کرتے ہیں۔ ،ذرا تصور کریں ایک ایسا ملک جہاں سرکاری اعلانات ہوتے ہوں کہ کون لوگ ہیں جن پر قرض ہے؟ ضرورت مند کہاں ہیں؟ ،یتیم، مساکین، غریب جو شادی

کے خواہشمند ہیں، یا مظلوم ہیں ،یا جن کے حقوق اور ضروریات ہیں آئیں اور اپنے حقوق حاصل کریں؟ ریاستی اہلکار گلیوں میں گھوم رہے ہیں تاکہ ضرورت مند خاندانوں کو تلاش کر سکیں۔ یہ کوئی خواب نہیں ہے۔ یہ کوئی کہانی نہیں ہے۔ ایسا دور حقیقت میں موجود تھا۔ ،ہم ساتویں صدی کے ابتدائی دور کی بات کر رہے ہیں یعنی جب زکوٰۃ کا نظام نافذ ہوا اس سے تقریباََ سو سال بعد۔ اس وقت اسلامی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمان جاری کیا اور اس کا اعلان کروایا۔ ایسا منظر آج کے دور سے کتنا مختلف لگتا ہے تو آخر یہ زکٰوۃ جس کی ہم ،بات کر کرہے ہیں آج کے دور میں کس حد تک قابل عمل ہے؟ ہم یہ تفصیل میں جانے گے لیکن سب سے پہلے ہمیں آج کے اپنے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ ہم ایک بند گلی میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے۔ دو

جملے ایسے ہیں جو پوری دنیا میں ہماری زندگیوں کو بربادکر رہے ہیں۔ پہلا ہے "تم کماؤ، میں کھاؤں" جو کہ بنیادی طور پر سودی نظام ہے۔ یہ نظام بے شمار تباہیوں کاسبب بنا ہے چلیں اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ،فرض کریں، آپ ایک گھر یا گاڑی خریدنا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں آپ بمشکل گزر بسر کر رہے ہیں۔ ،پھر ایک مسکراتا ہوا چہرہ آپ کے سامنے آتا ہے بینک کا نمائندہ آپ سے کہتا ہے میں آپ کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔ ،میں وہ رقم دے سکتا ہوں جتنی آپ کو قسطوں پر چاہیے مگرآپ کو واپس کرنا ہوگی اتنے ہی زیادہ سود کے ساتھ۔ ،اور پھر جب آپ کو کوئی راستہ نظر نہیں آتا آپ معاہدے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ اب آپ کو کئی سال کام کرنا ہوگا تاکہ یہ قرض اتار سکیں جس پر بھاری سود چڑھ چکا ہے۔ یہ صرف سود کی ادائیگی ہوگی۔

یعنی آپ کو مزید کچھ ماہ کام کرنا ہوگا۔ شاید آپ کو مزید ذرائع آمدن ڈھونڈیں پڑیں گے اور زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ ممکن ہے کہ آپ کی بیوی کو بھی کام کرنا پڑے۔ شاید آپ کو وہ وقت قربان کرنا پڑے جو آپ اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکتے تھے۔ اور اگر اس دوران کچھ غلط ہو جائے اور آپ قسطیں وقت پر نہ ادا کر سکو تو آپ کا قرض مزید بڑھ جائے گا۔ اس کا مطلب مزید دباؤ مزید محنت۔ اور جانتے ہیں آپ کے اس طویل اور تکلیف دہ عمل سے گزرنے سے ٹھیک پہلے کیا ہوا تھا؟ مسکراتا ہوا بینک جس سے آپ نے قرض لیا ہے جو امیر شخص کے ساتھ سودے بازی کر رہا تھا۔ اس کی رقم سود کمانے کے لیے لگا دی گئی ہے اور اب وہ بغیر کچھ کیے بڑھتی ہی جائے گی۔ محض ایک ماہ میں، بغیر کوئی محنت کیے۔ وہ آدمی اس قرض پر سود کمائے گا جو آپ جیسے کچھ خاندانوں نے کئی

ماہ یا پھر شاید سال بھر کی کڑی محنت کے بعد چکایا تھا۔ ،اور آخر میں آپ کو لگے گا کہ آپ نے دراصل اسی شخص کے پیسے کی قیمت چکائی اور ہر لمحے اسے مزید امیر بنا رہے تھے۔ ایسی صورتحال میں آپ کیسا محسوس کرو گے؟ شایدسدید غصہ اور بے بسی ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں 1 فیصد لوگوں کی دولت باقی 99 فیصد لوگوں کی دولت کے برابر ہے۔ تو یہ واضح ہے کہ ،کچھ نہ کچھ غلط ہو رہا ہے اور لوگوں نے اس 1 فیصد کے خلاف کم و بیش غصہ جمع کر لیا ہے۔ اور وقت کے ساتھ ان دو گروہوں کے درمیان مادی اور جذباتی خلا پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ ،ٹھیک اسی موقع پر آپ کو وہ دوسرا جملہ سننے کو ملتا ہے جو سماجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ،جب تک میرا پیٹ بھرا ہے" "مجھے کیا، باقی چاہے بھوکے مر جائیں۔ پھر اسلام آتا ہے اور سود کو حرام قرار دیتا

ہے اور اس کی جگہ ایک بہترین نظام، زکوٰۃ کو لے کر آتا ہے اور اسے فرض قرار دے کر لوگوں کے درمیان موجود بڑے مالی خلا کو ختم کر دیتا ہے۔ لیکن زکوٰۃ کا نظام کیا ہے؟ آئیے، میں آپ کو ایک ایک کر کے سمجھاتا ہوں۔ سب سے پہلے، ایک تصور ہے جسے "نصاب کی حد " کہا جاتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ ذرا اپنے تمام جمع شدہ مال اور کاروباری سامان کے بارے میں سوچیں۔ اب اس رقم میں سے اپنے قرضے نکال دیں۔ ،اس کے بعد ،اگر آپ کی جمع پونجی "نصاب کی مقدار" سے زیادہ ہے جو کہ کم از کم 80 گرام سونے کی قیمت کے برابر مقامی کرنسی میں ہوگی اور اگر آپ کا مال ،ایک سال تک اس حد سے نیچے نہیں گیا تو آپ پر "زکوٰۃ دینا" لازم ہو چکا ہے۔ ،لیکن اگر آپ اس حد سے نیچے ہیں تو آپ "زکوٰۃ وصول کرنے" کے حق دار ہیں۔ تو کیا زکوٰۃ کی رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ

دینا مشکل ہو جاتا ہے؟ آپ کے لیے ہرگز نہیں۔ ہم صرف آپ کی یہاں جمع پونجی کے چالیسویں ، یعنی ڈھائی فیصد حصے کی بات کر رہے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ کے پاس 1لاکھ ڈالرز ہیں اور وہ ایک سال سے محفوظ پڑے ہیں تو اس میں سے 2,500 ڈالر دینا ،آپ کے لیے کچھ بھی نہیں خاص طور پر جب آپ جانتے ہیں کہ جسے دے رہے ہیں وہ ضرورت مند ہے۔ اس سے آپ کو روحانی تسکین بھی ملے گی۔ ،اور سب سے بڑھ کر آپ اس ضرورت مند کی خوشی دیکھیں گے۔ ،تو یہ آپ کے مال میں زیادہ کمی نہیں کرے گی لیکن کسی ضرورت مند کے لیے یہ بہت بڑا سہارا بنے گی۔ زکوٰۃ بھی ایک ایسا ہی ذریعہ ہے۔ ،یہ کوئی ٹیکس نہیں لیکن یہ دولت پر لگنے والے ٹیکس جیسا ہے۔ آج مغربی دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو کہ دولت پر ایک جامع ٹیکس کا نظام رکھتا ہو۔ زیادہ تر ٹیکس آمدنی پر ہوتا ہے

،یا پھر اشیاء و خدمات پر جیسے صارفین کے ٹیکس، وی اے ٹی یا سیلز ٹیکس۔ جبکہ زکوٰۃ اس دولت پر واجب ہوتی ہے جو کہ خرچ نہ کی گئی ہو۔ یوں کہہ لی جیئے کہ ایک سال تک بچی ہوئی دولت جو نصاب سے زائد ہو۔ اور وہ دولت جو روزمرہ اخراجات میں استعمال نہ ہوئی ہو۔ تو آپ کی وہ دولت ،جو آپ کے گھر ،خاندان یا وہ ،جو بیٹے کی تعلیم وہ جو بیٹی کی شادی ،یا دیگر ضروریات میں خرچ ہو چکی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ یہ زکوٰۃ کے دائرے میں نہیں آئے گا۔ لیکن زکوٰۃ تو ظاہر ہے اس مال پر ہوتی ہےجو خرچ نا کیا گیا ہو تو بس یوں کہہ لیجیے کہ یہ درحقیقت ایک پوشیدہ دولت ٹیکس ہے۔ زکوٰۃ میں ایک حیرت انگیز خوب صورتی بھی ہے۔ اسلامی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ ،جو لوگ زکوٰۃ وصول کرتے تھے کچھ عرصے بعد وہ خود زکوٰۃ دینے کے قابل ہوگئے۔ آپ آن

لائن دیکھیں کہ 80 گرام سونے کی قیمت آپ کی کرنسی میں کتنی ہے۔ ایک خاص وقت کے بعد کئی خاندانوں کی آمدنی اس سطح پر پہنچ گئی کہ ان کے پاس اتنا سونا بطور بچت موجود تھا۔ اس نظام کی برکت سے کئی غریب لوگ مزید غریب ہونے کے بجائے مالی طور پر مستحکم ہو گئے۔ اسلامی تعلیمات میں اس حوالے سے کافی شواہد ملتے ہیں۔ ،اسلامی ریاست میں زکوٰۃ ایک علاقے سے جمع کی جاتی تھی اور وہیں تقسیم کی جاتی تھی۔ لیکن باوجود اس کے کہ ان کے پاس دینے کو رقم تھی کوئی ضرورت مند باقی نہیں بچاتھا۔ لہٰذا باقی ماندہ زکوٰۃ دیگر علاقاوں میں بھیجی گئی یعنی کئی کلومیٹر دور شہروں میں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں؟ اسلام کی تاریخ میں یہ سب کوئی خواب نہیں تھا۔ مجھے نام لینے کی ضرورت نہیں بس لوگ سمجھ سکتے ہیں انہوں نے دنیا کے ایک امیر ترین شخص کی کل

دولت کا حساب لگایا۔ ،یہ خبر دو یا تین سال پرانی ہے اور انھوں نے کہا صرف اس شخص کی دولت کا 2 فیصد یعنی 6 ارب ڈالرز دنیا سے بھوک ختم کرنے کیلئے کافی ہیں ،وہ تقریباً ایک ارب لوگ یاد ہیں جو مستقل بھوک کا شکار ہیں جن کا ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا؟ ایسا منظر پھر کبھی نہ ہوتا۔ اور یہ 2 فیصد آپ کو جانا پہچانا لگ رہا ہے؟ یہ زکوٰۃ کی شرح سے تھوڑا کم ہے جو کہ ڈھائی فیصد ہے۔ اور اگر ہم یہ سوچیں کہ ،زکوٰۃ ہر سال دی جاتی ہے تو اس کے نتائج یقیناََ ناقابلِ تصور ہوں گے۔ اب آئیے اسے ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں ایسی مالی خوشحالی حاصل ہو جائے تو کیا وہاں جرائم کی شرح میں بھی کمی نظر نہ آئے؟ کیونکہ چوری جیسے بہت سے جرائم کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں غربت موجود ہوتی ہے۔ ظاہر ہے، یہ ہمیشہ وجہ

نہیں ہوتی اور یہ ان مجرموں کا جواز بھی نہیں جو جرم کرتے ہیں لیکن ہم اس کے اثر کو کیسے نظرانداز کریں؟ ذرا تصور کریں، ایک مجرم ہے اور اس کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو آپ اسے وہ سزا دیں ،جو آپ کے خیال میں اسے ملنی چاہیے جو کہ ایک منطقی عمل ہوگا یا کسی طرح ہم وقت میں پیچھے جا کر وہ وجہ ختم کر دیں جس نے اسے یہ جرم کرنے پر مجبور کیا۔ آپ کون سا راستہ چنیں گے؟ اگر یہ ممکن ہو تو کیا جرم ہونے سے پہلے ہی اسے روکنا بہتر نہ ہوگا؟ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، زکوٰۃ بہت سے جرائم کے پیچھے موجود مالی مشکلات سے بھی نمورد ازما ہوتی ہے اور بالواسطہ طور پر انصاف اور معاشرتی تحفظ میں مدد دیتی ہے یہ وہ کثیرالجہتی امن اور خوشحالی ہے جو زکوٰۃ فراہم کرتی ہے۔ 2008 کے معاشی بحران کے دوران کیا

ہوا؟ اوباما نے کیا کیا؟ وہ کانگریس گئے 600 یا 700 ارب ڈالر کے قریب حاصل کیے۔ اور وہ سارے ڈالر اوبامہ نے غریب ترین لوگوں کے اکاؤنٹس میں جمع کر وادیے۔ اور انھوں نے یہ نہیں کہا کہ " دیکھیے ،یہی ہمارے پاس موجود کُل رقم ہے لہٰذا احتیاط سے خرچیں۔" !نہیں، وہ بولے، "پلیز اسے لیں اور خرچ کریں اور اسی طرح معیشت چلنے لگے گی اگر آپ 100 ڈالرز کسی امیر آدمی کی جیب میں ڈال دیں۔ تو ہو سکتا ہےایک سال بعد بھی وہ وہیں پڑے ہوں۔ اور شایدوہ انہیں بھول چکا ہو۔ نہ اس نے انہیں خرچ کیا۔ نہ ان سے کسی کو فائدہ ہوا۔ لیکن وہی ڈالرز اگر آپ کسی غریب شخص کو دیںش تو 15 منٹ کے اندر !وہ ختم ہو چکے ہوں گے کیونکہ اسے ضرورت ہے۔ وہ کھانے پینے کا سامان لے گا۔ ،کپڑے، جوتے خریدے گا اپنے بچوں کے لیے ضروری چیزیں اور سامان لے گا۔ تو اس

کا مطلب یہ ہوا یہ پیسہ معیشت میں شامل ہو گیا۔ ،یعنی جتنا زیادہ پیسہ معیشت میں آئے گا اشیاء کی طلب اتنی ہی زیادہ بڑھ جائے گی۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ اور پیداوار بڑھانے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ برطانیہ کے ایک صحافی نے کہا تھا کہ دولت اس قدر دور ہو چکی ہے کہ آپ کو اس کا وجود تک محسوس نہیں ہوتا۔ آپ کو اس کی ایک جھلک تبھی ملتی ہے جب آپ ایک لائف اسٹائل میگزین کھولتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ارب پتی لوگ جزیرے اور کشتیاں خرید رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ وہ کیسے جیتے ہیں۔ تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دولت کس دور ہو چکی ہے اسلام کے مطابق، اگر کوئی شخص محتاج ہو اور اپنی حالت بدلنے کے قابل نہ ہو تو اسے دراصل مالدار کے مال میں حق حاصل ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں، یعنی

اگر تم امیر ہو تو وہ ضرورت مند جنہیں تم جانتے بھی نہیں تمہارے مال میں حق رکھتے ہیں۔ یہ بات عجیب لگتی ہے، ہے نا؟ قرآن میں سورہ الذاریات کی آیت نمبر 19 میں :اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور ان کے مالوں میں" سوال کرنے والے اور "محتاج کا حق ہوتا ہے۔ چلیں اب اس آیت کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ ایک ایسے علاقے کا تصور کریں جہاں بھوک اور غربت عام ہو اور وہاں 25 ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں کئی دنوں سے کھانے کو کچھ نہ ملا ہو۔ وہ کمزوری اور زرد چہرے کے ساتھ بےحال ہو ں اور ان کی بھوک ان کی حالت سے صاف ظاہر ہو۔ تھوڑی دیر بعد ایک عظیم الشان دسترخوان بچھایا جاتا ہے جس میں طرح طرح کے پکوان ہوں بالآخر، آپ بہترین لباس میں جا کر اس میز پر بیٹھ جاتے ہو۔ میز اتنی بڑی اور کھانے سے لبریز ہے کہ اس سے ہزار لوگ بھی سیر ہوکر

کھاسکتے ہیں۔ لیکن آپ نہ کسی کو بلاتے ہو نہ ان 25 بھوکے لوگوں پر دھیان دیتے ہو جو مدد کے طلبگار ہیں۔ جب وہ آپ کو مزے سے کھاتا دیکھتے ہیں تو ان کی بھوک اور زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔ کھانے کے بعد آپ اپنے ملازمین کو حکم دیتے ہو کہ بچا ہوا کھانا جو 999 لوگوں کے لیے کافی ہو اسے سمیٹ کر لے جائیں۔ ذرا سوچیئے یہ منظر کس قدر تکلیف دہ ہوگا، صیح کہہ رہا ہوں نا؟ کیا آپ کے آس پاس موجود 25 بھوکے لوگوں کی بھوک اور تنگ دستی آپ کے کھانے اور دولت میں مٹی کی طرح ظاہر نہ ہوگی؟ ایسی دولت بظاہر پاکیزہ لگتی ہے لیکن درحقیقت ناپاک ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی مقام پر "زکوٰۃ" کا صیح مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اس لفظ کے کئی معانی ہیں جو بار بار قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔ "ان میں سے ایک ہے "پاک کرنا یعنی "صاف کرنا"۔ کہنے کا مطلب یہ یہ ایک

ایسا فرض ہے جو مال کو پاک کر دیتا ہے جب اسے دیا جاتا ہے، ناپاک چھوڑ دیتاہے جب اسے نہیں دیا جاتا۔ دنیا میں غربت کی وجہ سے پیدا ہونے والی تمام مشکلات ،بھوک، تکالیف، محرومیاں، جرائم روحانی مسائل، آنسو، اور بہت کچھ۔۔۔ یہ سب ان لوگوں کے مال پر نجاست کی طرح جم جاتے ہیں جو ان مصائب کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو گویا وہ کہہ رہا ہوتا ہے میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں" "اور کم از کم اپنی حد تک اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔ حقیقت میں وہ ان 25 بھوکے افراد کو اپنے دسترخوان پر بلا رہا ہوتا ہے جو ہزار لوگوں کے کھانے کے لیے کافی ہے۔ یعنی وہ ان 2.5 فیصد کی مدد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ آزمائش کی دنیا ہے۔ ،جس طرح جسم انسان کے پاس ایک امانت ہے باپ کے پاس اس کا خاندان ماں کے پاس اس کا بچہ اوراسی طرح

غریبوں کو مالداروں کے سپرد کیا گیا ہے۔ سورۃ الماعون میں اللہ ایسے لوگوں کے جرائم پر تنقید کرتے ہیں اور انہیں بے نقاب کرتا ہے جو اس امانت کو پورا نہیں کرتے۔ دوسری اور تیسری آیات میں اللہ فرماتا ہے یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ ہم جس نظام میں پلے بڑھے ہیں اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جو چیز ایک ذریعہ تھی" "وہی ہمارا مقصد بن گئی۔ اس سے میرا مطلب کیا ہے؟ وہ پرتعیش زندگیاں جنہیں ہم بچپن سے دیکھتے آئے ہیں ہمیں مسلسل مزید کی خواہش کرنے پر اکساتی ہیں۔ ہماری سوچ اور دنیا کو دیکھنے کا انداز اسی بنیاد پر پروان چڑھا ہے کہ ہر وقت بس زیادہ کمانے پر نظر رہے۔ پھر کاروباری زندگی میں قدم رکھا اور سوچا جتنا زیادہ کمائیں گے، اتنا ہی اپنے خوابوں کے

قریب ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں۔ لوگوں کا دولت کمانا کوئی بری بات نہیں ہے اور اسلام بھی ہمیں اس سے نہیں روکتا بس شرط یہ ہے کہ حلال طریقے سے کمایا جائے۔ مگر جس نظام کا ہمیں سامنا ہے اس نے ہم میں سے کئی لوگوں کو بے حد لالچی بنا دیا ہے۔ پیسہ عام طور پر ایک ذریعہ ہے جسے ہم چیزیں خریدنے یا کسی مقصد پر خرچ کرتے ہیں، ہے نا؟ مگر کچھ لوگوں کے لیے پیسہ کمانا ہی سب کچھ بن گیا ہے ان کی زندگی کا واحد مقصد یہی ہے۔ یہ مقصد انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ 30-40 سال گزرنے کے باوجود مزید جمع کرتے رہیں۔ اور پھر ایک دن وہ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ساری زندگی دولت جمع کرنے میں گزار دی اتنی دولت کہ اگر چاہیں بھی تو ختم نہ کر سکیں۔ وہ دولت جس کا وجود وہ خود بھی بھول چکے ہوتے ہیں۔ اور ان کے آس پاس کے

لوگ یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے بعد یہ دولت کس کے ہاتھ میں آئے گی اور دوسری طرف یہی دنیا بالکل الگ نظر آتی ہے۔ اسی شہر میں، جہاں وہ امیر ترین شخص رہتا ہے ایک ماں بھی رہتی ہے جس کا شوہر دنیا سے جا چکا ہے اور اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی وہ پریشان ہے اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرے؟ ان کا خرچہ کیسے چلائے؟ مشکل حالات میں ہے سہارے کی محتاج ہے۔ ایک باپ بھی ہے جس کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے وہ دیوالیہ ہو گیا ہے۔ مایوسی اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگا ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ،کچھ لوگ دھوکہ کھا چکے ہیں لوٹ لیے گئے، ان سے چوری کی گئی اور وہ بے حد مایوس کن حالات میں ہیں۔ کیا آپ نے ایسے لوگوں کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے بوڑھے والدین کا خیال رکھتے ہیں؟ ان کے

مستقل اخراجات ہوتے ہیں جیسے دوائیوں کا بندوبست۔ یہ سب کچھ صرف فلموں میں نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ زلزلوں میں اپنے گھر کھو بیٹھے۔ کچھ کے گھر آگ یا سیلاب کی وجہ سے برباد ہوگئے۔ افریقہ میں بھوکے لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف :ہمارے پاس یہ اعداد و شمار ہیں دنیا کے سب سے امیر ترین ایک فیصد افراد کی دولت باقی 99فیصد آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ان لوگوں کی مشکلات جو بھوک اور تنگدستی میں جی رہے ہیں، ان دولت مندوں کے مال کو داغدار اور ناپاک کر دیتی ہیں جو بس دولت جمع کرتے ہیں اور دوسروں کی پرواہ نہیں کرتے آپ کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ یہ غریب لوگ مجھ پر حق رکھتے ہیں۔ اگر میرے پاس زیادہ ہوتا، تو میں انہیں زیادہ دیتا۔ تو وہ ناکام نہیں ہیں۔ اور بعض اوقات نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم غریبوں اور کمزوروں کی اس طرح عزت افزائی فرماتے کہ اگر وہ تھوڑی سی خیرات بھی دیتے تو آپ ﷺ اسے عام فرما دیتے۔ وہ چند کھجوریں، جو دولت مندوں کی بڑی بڑی رقوم پر بھاری تھیں۔ اور آپ ﷺ فرماتے، "یہی برکت ہے۔ "یہیں سے برکت آتی ہے۔ تو یہ ایک حصہ ہے یہ نبی کریم ﷺ کی سنت کا حصہ ہے کہ غریبوں سے محبت کی جائے۔ میں نے ایک سرخی پڑھی جو ایک مشہور مباحثہ فورم ویب سائٹ پر تھی۔ :اس میں ایک نہایت دلچسپ سوال پوچھا گیا تھا اگر دنیا کے" 1فیصد امیر ترین لوگوں کی دولت کو ایک بار کے لیے دوبارہ باقی 99 فیصد لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس سے کیا ہوگا؟ چلیے باہر نکلتے ہیں اور لوگوں کو یہ خیال بتاتے ہیں :اور ان سے کہتے ہیں یہ بٹن تمہارے سامنے ہے۔" اگر تم اسے دبا دو "تو دولت کی یہ تقسیم ہو جائے گی۔ اگر ہم سارا

دن گھومتے رہیں تو شاید ہی کوئی ملے گا ،جو یہ بٹن نہ دبائے ظاہر ہے، سوائے اس 1 فیصد امیروں میں سے کسی کے۔ بلکہ کچھ لوگ تو بٹن دبانے میں سوال مکمل ہونے کا بھی انتظار نہ کریں۔ اور آپ کیا کرو گے؟ وہ کھانے کی میز کی مثال یاد ہے جو میں نے پہلے دی تھی؟ اگر میں ان لوگوں کو مدعو نہ کروں ،تو وہ مجھ سے دوری محسوس کریں گے اوربجا طور پر۔ وہ مجھ سے ناراضگی کا اظہار بھی کریں گے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ میری ان کے لیے بے حسی مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہیں نظر انداز کرنا میرے لیے معمول بن سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ مجھے اخلاقی زوال کی طرف لے جا سکتا ہے اور نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ جو متحد ہونا چاہیے دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ چلو، تاریخ کے دو مناظر پر غور کرتے ہیں۔ پہلا منظر فرانسیسی انقلاب یا روسی کمیونسٹ انقلاب کا ہے

جسے آپ نے تاریخ میں پڑھا ہوگا۔ یہ انقلابات بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لے کر آئے مگر ساتھ ہی وہ بڑے المیے بھی ثابت ہوئے جس کے نتیجے میں بے شمار لوگ مارے گئے۔ دوسری طرف، دوسرا منظر اس ریاستی فرمان کا ہے جس کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا تھا۔ جب اسلامی ریاست نے گلیوں میں اعلان کروایا تھا کیونکہ دیکھ بھال کے لیے کوئی ضرورت مند باقی نہیں رہا تھا۔ ان دونوں واقعات کی بنیاد امیر اور غریب کے تعلق پر ہے۔ مگر پہلے معاملے میں ،نفرت اور انتقام تھا جبکہ دوسرے میں محبت ہمدردی اور باہمی عزت۔ ایسی صورتحال میں کون جھٹلا سکتا ہے کہ زکوٰۃ کا نظام ہماری سب سے بڑی ضرورتوں میں سے ایک ہے؟ اس موقع پر، آپ سوچ سکتے ہو کہ اگر اسلام میں ایسا نظام تھا اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور اس کے نفاذ سے خوشحالی بھی آئی تو پھر کسی اور

ریاست نے ایسا نظام کیوں نہیں اپنایا؟ یعنی، کیا ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا؟ کوئی ایسا نظام یا ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے جو کارآمد ہو اور وقت کے ساتھ دیگر ریاستیں بھی اسے اپنانا شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن مجھے نہیں معلوم، یہ اسلام سے تعصب کی وجہ سے تھا یا دولت کی محبت میں۔ اسے نافذ نہیں کیا گیا بلکہ سودی نظام عام ہوتا چلا گیا۔ اگر زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا کی جائے !جیسی کہ ادا کرنی چاہیے۔ زکوٰۃ سب سے پہلے، یہ ہماری دولت کے ،بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیتی ہے جو دولت ہمارے پاس ہے۔ تو یعنی زکوٰۃ کے ایسے فائدے بھی ہیں جو فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ لمحہ جب کوئی مسلمان ہوتا ہے یا ایک نیک مسلمان ہونے کے ناطے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ زکوٰۃ فرض ہے۔ اور جب وہ زکوٰۃ دیتا ہے تو اس کے مال و دولت کے بارے میں سوچنے کا

انداز بدل جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ زکوٰۃ صحیح طریقے سے نہیں دی گئی۔ ایسے میں زکوٰۃ کی بھی زکوٰۃ دینے کی پڑتی ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ کا مطلب ہے کہ میں نے اپنے مال میں غریبوں کا حق ادا کر دیا۔ مگر پھر یہ دل کو مزید سخاوت کی طرف مائل کرتی ہے کیونکہ اب میں دیکھ سکتا ہوں کہ شاید میرے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہے اور کسی کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ تو اچانک سے تمہارا لوگوں سے تعلق ایسا ہو جاتا ہے کہ یہ دولت جو میرے پاس ہے یہ محض ایک امانت ہے۔ یہ ایک ذمہ داری ہے جو اللہ نے مجھے سونپی ہے۔ اور سب سے بہترین کام جو مجھے سب سے زیادہ خوشی دے گا کہ میں اسے ان لوگوں پر خرچ کروں جو اس کے حقدار ہیں۔ ،ذرا تصور کریں کہ کوئی شخص دنیا میں آتا ہے صدیوں پہلے ایسے معاشرے میں ،جو تہذیب و تمدن سے دور تھا عرب

کے اس دورِ جاہلیت میں۔ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ اور نہ ہی کوئی دنیاوی تعلیم حاصل کرتا تھا۔ اور وہی شخص ایک کتاب لے کر آتا ہے جسے قرآن کہا جاتا ہے جس میں زکوٰۃ کا تصور ہے اور سود کی ممانعت۔ جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں یہ تو اس کتاب کے صرف دو اصول ہیں لیکن یہ ایسے اصول ہیں جو انسانیت کے بے شمار مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ ،یہ غربت کا خاتمہ کرتے ہیں معاشرے سے نفرت اور تکبر کو مٹاتے ہیں بھائی چارہ قائم کرتے ہیں۔ لوگوں کو صدقہ و خیرات کی طرف راغب کرتے ہیں اور معیشت کو زندہ کرتے ہیں۔ جب ہم ان تمام کوششوں پر نظر ڈالتے ہیں جو صدیوں سے اس شعبے کے ماہرین کرتے آ رہے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ کبھی بھی ایسا نظام پیش نہیں کر سکے جو اس ان پڑھ شخص کے لائے ہوئے نظام کے قریب بھی پہنچ سکے۔ چلیے ہم آج

کے کامیاب ترین 100 ماہرین معاشیات کو اکٹھا کر لیں اور انہیں برسوں کام کرنے دیں۔ کیا وہ ایسا نظام بنا سکتے ہیں جو اس کے قریب بھی ہو؟ اور کیا وہ لوگوں کو اس پر اس قدر مؤثر طریقے سے عمل کروا سکتے ہیں کہ وہ صدیوں تک قائم رہے؟ مجھے ایسانہیں لگتا۔ یہ سب واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا نظام نہیں ہو سکتا بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ کی وحی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ وقت گزرتا جا رہا ہے۔ صدیاں بیت رہی ہیں مگر اسلام دن بدن اور زیادہ تازہ ہو رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے اصولوں کی قدر و قیمت اور زیادہ واضح ہو رہی ہے۔ ہر روز یہ مزید واضح طور پر دکھاتا ہے کہ یہ کیسے انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور اسی وجہ سے یہ صرف اسی ذات کی طرف سے ہوسکتا ہے جو تمام انسانوں اور پورے کائنات کی خالق ہے۔

اور اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے چاہیں تو نظرانداز کر دیں، یا قبول کر لیں۔
