# Buddhism Se Muslim Samurai Tak Ka Safar - Mujhe Laga Deen Sirf Aik Business Hai!

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/why-japanese-buddhist-became-a-muslim-samurai
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=wKJbjzSYRPs
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

تو میں ایک سامورائی نسل سے ہوں۔ میرا تعلق ایک بدھ پرست خاندان سے ہے۔ میرے لیے، مذہب ایک کاروبار کی طرح ہے۔ وہ صرف ماننے والوں کی تعداد بڑھاتے ہیں تاکہ یہ لوگ ماننے والوں سے پیسہ حاصل کر سکیں۔ میں نے بنگلہ دیش میں ایک مختلف قسم کا انسان پایا۔ صرف اس لیے کسی کی تعلیم یا صحت محفوظ ہے کیونکہ وہ جاپان میں پیدا ہوا ہے۔ اور کچھ لوگ صرف بنگلہ دیش میں پیدا ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ غریب ہیں۔ مجھے وہاں کوئی انصاف محسوس نہیں ہوتا۔ تو مجھے جاپانی زبان میں قرآن شریف ملا۔ اور میں نے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ جس میں مجھے آخرت کے بہت ہی منفرد تصورات ملے، جو کہ موت کے بعد کی زندگی ہے۔ اور توحید - اللہ یا خالق کی وحدانیت کے تصورات ۔ تب مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ مجھے خود مسلمان ہونا پڑے گا۔ السلام و علیکم، ڈاکٹر کیوچیرو سوگیموتو۔ Towards Eternity کی دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔ و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ یہ میرے لیے باعث مسرت ہے۔ تو میں اس سوال سے شروع کروں گا کہ کیوچیرو سوگیموتو کون ہیں؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں؟ میرا نام کیوچیرو سوگیموتو ہے۔ سوگیموتو دراصل میرا خاندانی نام ہے۔ تو یہ سوگیموتو نام قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ تو، سوگیموتو قبیلہ ایک در اصل ایک اصلی سامورائی قبیلہ ہے۔ تو اسطرح میں ایک سامورائی نسل سے ہوں۔ اور میں گیفو پریفیکچر کے سیکئی شہر میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اور یہ یہ جاپان کا بالکل درمیانی حصہ ہے۔ اور،اور بعد میں جب میں یونیورسٹی کا طالب علم بنا، میں نے مطالعہ کیا،آا، cultural anthropology کا تاکہ مختلف ثقافتوں پر تحقیق کروں اور مجھے 19 سال کی عمر میں اسلام ملا۔ اور میں نے 20 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اور پھر میں ایک امام کے طور پر، یا چیبا اسلامک کلچرل سینٹر میں چیئرپرسن کے طور پر خدمت کر رہا ہوں۔ یہ ٹوکیو کے بالکل قریب ہے۔ مسلمان بننے سے پہلے آپ کا عقیدہ کیا تھا؟ دراصل، میں کسی خاص مذہب پر یقین نہیں کرتا تھا۔ کسی پر بھی نہیں تو بس میرانام ہی شاید بُدھ پرست تھا کیونکہ میرا خاندان ایک بُدھ پرست خاندان ہے۔ لیکن درحقیقت، کوئی مذہب نہیں تھا۔ بس ثقافتی طور پر،بالکل عام جاپانیوں کی طرح، جو آباؤ اجداد کا احترام کرتے ہیں۔ میں کسی اور مذہب پر یقین نہیں کرتا تھا، کیونکہ ، مذہب میرے لیےایک کاروبار کی طرح ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ صرف ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ ماننے والوں سے پیسہ حاصل کر سکیں۔ اور پھر، وہ خود بہت امیر ہو جاتے ہیں۔ اور اسلئے یہ ایک طرح کا کاروبار ہے۔ یہ میرا پہلے کا تاثر تھا۔ زیادہ تر جاپانی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ زندگی کا اختتام ہے۔ اور آگے مزید کچھ نہیں ہے یہ ویسے بھی ایک قیاس ہے۔ اسلام کے بارے میں کیسے سنا آپ نے پہلی بار ؟ ہاں، جب میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو میری ملاقات بنگلہ دیش کے ایک طالب علم سے ہوئی تھی۔ تووہ میری زندگی میں پہلا مسلمان تھا۔ تو وہ بول سکتا تھا، اہ، بہت کم جاپانی، اتنی کہ وہ آسانی سےبات چیت کر سکے، رایٹ؟۔ تو میں نے اس سے دوستی کر لی کیونکہ میں انگریزی کی مشق کرنا چاہتا تھا۔ تو کبھی کبھی ہم ساتھ وقت گزارتے تھے۔ جب ہم ملتے تھے تو ہم سب کھانا کھاتے تھے زندگی کے بارے میں ہماری بات چیت اچھی ہوتی تھی۔ اور اس نے مجھے گرمی کی چھٹیوں میں د عوت دی کہ میں اس کے گھر یعنی بنگلہ دیش اوُ۔ تو مجھے مختلف ثقافتوں میں دلچسپی تھی۔ تو اسلئے میں بنگلہ دیش چلا گیا جوکہ میری زندگی کا پہلا اوورسیز وز ٹ تھا۔ وہ ایک مسلم ملک تھا۔ اور مجھے وہاں ایک بڑا ثقافتی فرق ملا۔ کیونکہ بنگلہ دیش ایک بہت غریب ملک ہے۔ اسلئے مجھے بہت فرق دیکھائی دیا۔ راستے میں وہاں ،بہت سے ، اسٹریٹ چلڈرن تھے، یعنی سڑکوں پر سونے والے بچے ، جنھے دیکھ کر میں بہت حیران ہوا، یہ کیا ہے؟ کیونکہ جاپان میں اس طرح کے لوگ بالکل نہیں ہوتے۔ جب میں پہنچا اپنے دوست کے گھر تو، اس کا تمام خاندان، والدین اور بھائی بہنوں نے میرا استقبال کیا۔ اوروہ لوگ بہت مہمان نواز تھے، دوستانہ رویہ تھا۔ تو یہ ایک اور ثقافتی جھٹکا تھا کیونکہ وہ خاندان کا احترام اور قدر کرتے ہیں۔ ان کا مشترکہ خاندانی نظام ہے، وہ اسے اب بھی اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور پھر، میں نے زیادہ مضافاتی علاقوں، گاؤں کا دورہ کیا۔ وہ بہت جوشیلے تھے، مطلب، وہ بہت ہی زیادہ زندہ دل ہیں۔ اور آپ کو جاپان میں ایسا دیکھنے کو بالکل نہیں ملے گا۔ کیونکہ جیسے ہر چیز کنٹرول میں ہے، اور پھر شہر کی زندگی ہے۔ تو جب آپ لوگوں کی آنکھیں دیکھتے ہیں، جیسے جاپان میں بہت سے لوگوں کی آنکھیں مردہ ہیں۔ کیونکہ ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ تو وہ کام کے لیے زندہ ہیں یا زندہ رہنے کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں کچھ نہیں پتہ پھر، میں نے بنگلہ دیش میں بہت سارے مختلف اقسام کے لوگ دیکھے۔ اگرچہ وہ لوگ غریب تھے معاشی طور پر، تاہم، میں ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں۔ ایک طرح کا نور ظہور، رائٹ؟ اگر ان لوگوں کو دیکھا جائے تو وہ سب کسان ہیں، اور انہوں نے اپنی زندگی میں بطور پہلا غیر ملکی مجھے دیکھا، لیکن انہوں نے مجھے دعوت دی چائے پینے کیلئے ، وہ چائے کو چاہے کہتے ہیں جیسے دودھ والی چائے، اور پیٹھا، پیٹھا ایک میٹھی ڈش ہے۔ تو مطلب، آؤ، آؤ، اور اسےبس کھاؤ۔ تو میں بس حیران رہ گیا۔ ایسا جاپان میں کبھی نہیں ہوا۔ جیسے پہلی بار آپ کسی غیر ملکی کو دیکھیں اور اچانک آپ اسے اپنے گھر دعوت دے دیں، ہاہاہا ایساکبھی نہیں ہوا۔ لیکن میں نے بنگلہ دیش میں یہ تجربہ کیا۔ تو،آخر ایسا کیوں ؟ تو یہ اسلام کے بارے میں سوچنے کا آغاز تھا، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ بنیادی طور پر سب مسلمان ہیں۔ تو اسی لئے شاید ہو سکتا ہے کہ ان کا رویہ، ان کا طرز عمل اسلام کے اصولوں پر مبنی ہو۔ تو پھر جاپان واپس آنے کے بعد، میں نے اسلام کے مطابق کتابیں تلاش کرناشروع کر دی، کیونکہ اس وقت ابھی 1996 تھا، تب انٹرنیٹ نہیں تھا۔ تو میں صرف لائبریری سے معلومات حاصل کر سکتا تھا۔ یہ پھر بُک سٹال سے تو مجھے جاپانی زبان میں قرآن پاک ملا۔ یہ اسلام کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ تھا۔ تو مجھے وہ ملا اور میں نے جاپانی ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے آخرت کے بہت ہی منفرد تصورات ملے، جو کہ موت کے بعد کی زندگی ہے۔ اور توحید - اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔ تو وہ تصورات میرے لیے بالکل نئے تھے۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ کیونکہ جیسے لوگ جاپان میں بہت مصروف ہیں۔ ان کے پاس موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچنے کا وقت کیسے ہو سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ایک سیکنڈ بھی، وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں کبھی نہیں سوچتے، اور وہ نہیں سوچتے خدا کے تصور کے بارے میں بھی۔ جیسے جاپان میں بہت مشہور ہے، جیسے کہ ایک بت پرست معاشرہ، یعنی شرک۔ اور جاپان میں خدا کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ کوئی آپ کو نہیں سکھاتا کہ خدا کون ہے۔ اور پھر مجھےمیں نے دیکھا، کہ قرآن میں خدا کی وضاحت موجود ہے۔ واضح طور پر بیان ہے۔ مثالاََ سورہ اخلاص، أعوذ بالله من الشيطن الرجيم، قل هو اللہ احد - کہو کہ وہ اللہ ہے، ایک اور اکیلا، ٹھیک؟ یہ بہت آسان ہے۔ لیکن میرے لیے ایک طرح کا سرپرائز تھا۔ اوہ، یہاں خدا کی وضاحت ہے۔ تو پھر، قرآن کے دیگر حصوں کو پڑھنے میں بہت دلچسپی پیدا ہوئی، کہ وہاں دراصل کیا لکھا ہے۔ کیونکہ یہ تقریباً 600 صفحات پر مشتمل ہے۔ تو میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ خالق، اللہ، دراصل ہمیں کیا بتا رہا ہے۔ تو میں نے اسے ذاتی طور پر پڑھا، جیسے کہ خالق، اللہ، مجھے ذاتی طور پر بتا رہا ہو۔ یہ 7ویں صدی کی کتاب نہیں ہے، بلکہ میرے لیے موجودہ زندگی کا سبق ہے۔ میں متجسس تھا کہ، شاید اس کتاب سے کچھ سیکھ سکوں۔ توچنانچہ آخرکار، میں آخرت کے بارے میں بنیادی تصور سے واقعی متفق ہو گیا۔ اور اللہ کی وحدانیت سے بھی۔ اب میں آخرت سے کیوں متفق ہوا، جیسا کہ میں نے وضاحت کی، مجھے بنگلہ دیش میں ایک بڑا کلچر شاک لگا کیونکہ وہاں غربت ہے، ٹھیک ہے؟ تو میں اُس وقت سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ غریب کیوں ہیں؟ کیونکہ صرف اس لیے کہ وہ غریب ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ لہٰذا وہ غریب ہیں۔ میرا مطلب ہے، کسی شخص کی صحت اور تعلیم صرف اس لیے محفوظ ہے کہ وہ جاپان میں پیدا ہوا۔ اور کچھ لوگ صرف بنگلہ دیش میں پیدا ہونے کی وجہ سے بہت غریب ہیں۔ میرا مطلب ہے، یہ فیصلہ کرنے کا حق کس کے پاس ہے؟ یعنی، ہمیں یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ ہم کہاں پیدا ہوں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری زندگی شروع سے ہی غیر مساوی ہے۔ آپ اسے مسترد نہیں کر سکتے۔ تولہذا، بالکل شروعات سے، ہماری زندگی میں ایک بڑا فرق، ایک عدم مساوات ہے۔ اور جسے آپ ہماری زندگی کے اس مختصر عرصے میں واقعی درست نہیں کر سکتے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ، مجھے کوئی انصاف نظر نہیں آتا، کیونکہ شروع سے ہی کوئی چیز پہلے ہی طے شدہ ہے۔ تاہم، جب میں نے قرآن پڑھا تو مجھے آخرت کا تصور ملا۔ پھر یہ بات سمجھ میں آئی کیونکہ زندگی میں ہمیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ صرف ایک آزمائش ہے۔ چاہے آپ کو زیادہ دیا گیا ہو یا کم، اس کا حتمی نتیجے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو لہٰذا، فرض کریں کہ کوئی بنگلہ دیش میں پیدا ہوتا ہے اور ان کے حالات مشکل ہوتے ہیں، تاہم، اگر وہ اس زندگی میں اچھے کام کر رہے ہیں، تو ان کی زندگی آخرت میں محفوظ ہو جائے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہ سکتے ہیں۔ اور پھر ہم اس زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ شاید 100 سال کی ہے۔ لیکن ابدی زندگی لامحدود ہے، ٹھیک ہے؟ جب ہم لامتناہیت کے مقابلے میں 100 سال کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ کچھ بھی نہیں، جانتے ہیں ایک سیکنڈ سے بھی کم۔ تو اسی لیے آخرت کے اس انصاف نے مجھے اس زندگی میں ایک معنی دیا۔ اسلام قبول کرنے کے فیصلے میں فیصلہ کن وجہ کیا تھی؟ یہ کسی چیز نے مجبور کیا کہ مجھے مسلمان ہو جانا چاہیے؟ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہیں ہیں تو آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternity ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کی مدد سے ویڈیوزبنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لیناچاہتے ہیں، تو ہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اسلام قبول کرنے کے فیصلے میں فیصلہ کن وجہ کیا تھی؟ یا کسی چیز نے مجبور کیا کہ مجھے مسلمان ہو جانا چاہیے؟ آپ کو کس چیز نے سوچنے پر مجبور کیا کہ مجھے مسلمان ہو جانا چاہیے؟ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، آہ، یہ دو تصورات، آخرت کا تصور اور توحیدیہی دونوں واقعی میرے لیے معقول تھے۔ چناچہ مجھے قرآن کی تمام آیات کو چیک کرنا تھا، کہ اس 600 صفحات کی لمبی کتاب میں دراصل کیا لکھا ہے۔ تو میں نے احتیاط سے دیکھا کہ آیا کوئی خطرناک تعلیمات ہیں یا کوئی عجیب تعلیمات ہیں یا نہیں ہیں۔ چناچہ جتنا میں نے پڑھا، اتنا ہی مجھے احساس ہوا، اوہ، یہ میرے لیے ایک بہت ہی قدرتی چیز ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز ہے، جسے ہمیں ماننا یا فالو کرنا چاہیے۔ تو آخرکار، مجھے لگا کہ یہ قرآن انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے، یعنی یہ کسی خالق، یا اللہ کی طرف سے آیا ہوا لگتا ہے۔ لہٰذا میں زیادہ مضبوطی سے مانتا ہوں کہ یہ قرآن زندگی بدلنے والی کتاب ہے۔ اور پھر میں اسے فالو کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرے مطابق اسلام صرف کتاب، قرآن پڑھنا نہیں ہے۔ یہ زیادہ عملی یا مذہبی تجربے کی چیز ہے۔ تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ مسلمان اصل میں کیسا محسوس کرتے ہیں یا اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام پر کیسے عمل کرتے ہیں۔ اور میں اُس قسم کا اندرونی علم کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟ کیسے، مطلب؟ صرف ایک ہی راستہ ہے کہ پہلے مجھے خود مسلمان بننا ہوگا۔ مجھے بذاتِ خود اسلام کا تجربہ کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، ایک تیسرے شخص کی طرح جیسے ایک محقق، آپ غیر جانبداری کی خاطر فاصلہ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف تحقیق، تحقیق، لیکن آپ حقیقت میں نہیں سمجھ سکتے کہ اسلام کے اندرونی پہلو کیا ہیں۔ ایک محقق کبھی بھی یہ علم حاصل نہیں کر پائے گا۔ جو علم میں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید تجسس کی بنا پر، میں مسلمان بننا چاہتا ہوں۔ یہ جاننے کے لیے کہ اسلام اصل میں کیا ہے۔ تو اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو کن بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ ہاں، تو سب سے پہلے حلال کھانا۔ ہاں۔ یہ تقریباً 28 سال پہلے کی بات ہے۔ اب الحمد للہ، ہمارے پاس حلال کے بہت سے آپشنز ہیں۔ لیکن اس وقت تقریباً مسلمانوں کو بھی، حلال کھانے تک اتنی زیادہ رسائی نہیں تھی۔ تو یہ سب سے پہلا چیلنج تھا۔ دوسرا تھا عبادت گاہ، نماز کی جگہ۔ اس وقت مجھے یاد ہے کہ پورے جاپان میں صرف سات مساجد ہی تھیں۔ آج ہمارے پاس 151، بلکہ151 سے زیادہ مساجد ہیں۔ تو کیسے، کہاں، نماز کیسے ادا کی جائے یہ ایک اور چیلنج تھا۔ اور ایک اور چیلنج تعصب ہے، جو جاپانی غیر مسلموں میں اسلام کے خلاف ہے۔ تو یقیناً لوگوں کو اسلام کی تقریباً کوئی سمجھ نہیں ہے۔ کہ اسلام ہے کیا جیسے پچھلے 20 سالوں سے، میں نے اپنے والدین کو اسلام سمجھانے کی کوشش کی۔ حالانکہ، میرے خیال میں زیادہ تر معاملات میں اس 11 ستمبر کی وجہ سے، اسلام کا ایک منفی تاثر، یونئو، دہشت گردی۔ تو وہ اسلام کے بارے میں نہیں سننا چاہتے تھے۔ بلکہ ان کو منفی تصور ملا تھا۔ لیکن میں سمجھانا چاہتا ہوں۔ جب بھی ہم ملتے، تو میں اسلام کا تعارف کروانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ واقعی اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ لیکن میں نے جاری رکھا۔ میں نے اصرار نہیں کیا، لیکن میں نے جاری رکھا کہ اسلام کتنا خوبصورت اور کتنا منطقی ہے۔ تاہم، وہ ناپسند کرنے لگے۔ تو، ایک دن، جیسے جب وہ میرے آبائی شہر، گیفو سے چیبا آئے، میرے والد نے کہا،او پھر سے، مطلب، میرا بیٹا اسلام کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ اور پھر صرف چند منٹ ،صرف اور صرف چند منٹ کے لیے رکے،اور پھر چلے گئے۔ کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں سننا نہیں چاہتے تھے۔ تو ہمارا تعلق خراب ہو گیا۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ ہم اسے کیسے معمول پر لا سکتے ہیں۔ تو میں نے ایک مختلف طریقے سے سوچنا شروع کیا جیسے مجھے انہیں خوش کرنے کے لیے کچھ تحائفے بھیجنے ہوں گے۔ اپنے والد کو کافی دینا، انہیں کافی پسند ہے، اور پھر کچھ خشک میوے، کچھ سنیکس، کیونکہ وہ انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ تو میں بھیجتا رہا۔ اور پھر، ہاں، وہ خوش ہو گئے۔ اور پھر ہمیں دوبارہ اپنے آبائی شہر آنے کی اجازت دی۔ تو ہم چیبا سے اپنے آبائی شہر گئے۔ پھر، میرے والدین نے ، مجھے بتایا کہ دراصل انہیں گھر کے بارے میں ایک تشویش ہے۔ اس پرانے گھر کی دیکھ بھال کون کرے گا، جو میرے دادا سے وراثت میں ملا تھا۔ تو عام طور پر جاپان میں، پہلے بیٹے کو اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ تو یہ میرے لیے تھا۔ تو میں نے کہا، فکر مت کریں، میں اس گھر کی دیکھ بھال کرلوں گا۔ تو میں نے یہ تشویش دور کر دی۔ پھر اگلی تشویش ان کی صحت کے بارے میں فکرمندی تھی۔ کیونکہ وہ اس وقت پہلے ہی 75 سال کے تھے۔ تو اگر، جیسے ہم ہسپتال میں داخل ہو جائیں یا جیسے فالج زدہ ہو جائیں، یہ عام حالت نہیں ہے، کیا کریں گے؟ تو میں نے کہا، فکر مت کرو۔ ہم آپ کی دیکھ بھال کریں گے۔ پھر ہم نے ان کی ایک اور تشویش دور کر دی۔ پھر میرے والد نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ پوچھا، تم نے داڑھی کیوں رکھی ہے؟ یہ داڑھی ۔ تو، وہ ایک بہت دلچسپ سوال تھا۔ یہ اسلام سے متعلق ہے۔ اور یہ وہ سوال تھا جس کا میں شاید انتظار کر رہا تھا، جس کا مطلب ہے کہ میں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا، بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے تھا، آپ کے سوال کو سمجھنے یا آپ کے سوال کا بہتر جواب دینے کے لیے، مجھے اسلام کی بنیادی باتیں سمجھانی ہوں گی.

اور آپ کو وہ سننی ہوں گے۔ تو کیا آپ کے پاس 10 منٹ ہیں؟ تو میرے والد نے کہا، ٹھیک ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اب میرے پاس اسلام کے بارے میں بات کرنے کا وقت ہے، صرف 10 منٹ کے لیے ہی سہی، الحمد للہ۔ پہلے وہ چند منٹ بھی ناپسند کرتے تھے، وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب میرے پاس 10 منٹ ہیں، الحمد للہ۔ مجھے وہ بات کرنی ہے جو مجھے کرنی تھی۔ تو ہمارے پاس GORAP طریقہ ہے، آپ جانتے ہیں نا۔ خدا کا وجود، خدا کی وحدانیت، وحی، اور نبوت کے بارے میں۔ یہ یہ بہت ضروری حصہ ہے تو میں پہلے ہی تربیت یافتہ تھا ،سو میں بولتا ہوں جیپنیز زبان میں آسان جیپنیز زبان میں۔ پھر، وہ سن رہے تھے، میری والدہ بھی سن رہی تھیں۔ تو پھر، اس کے بعد، میرے والد نے آخر کار مجھ سے پوچھا، تم کیا چاہتے ہو؟ آخر میں، بس انہوں نے کہا، تم کیا چاہتے ہو؟ تو اس وقت میری اہلیہ میرے بالکل ساتھ بیٹھی سن رہی تھیں۔ انہوں نے محسوس کیا، کہ کچھ اثر ہوا ہے، تو انہوں نے کہا، میں چاہتی ہوں کہ آپ سب جنت میں ہمارے ساتھ داخل ہوں۔ یہ کہا یہ میری اہلیہ نے کہا۔ تو پھر کیسے،کیسے ، رائٹ؟ تو اسی لیے پھر میں نے کہا، کیا آپ شہادت پڑھ سکتے ہیں؟ وہ کیونکہ وہ GORAP سب شہادت کے بارے میں ہے، اس میں وضاحت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ یہ وہ پیغام ہے۔ تو میں پہلے ہی سمجھا چکا تھا، اور پھر وہ کسی طرح سمجھ گئے۔ تو صرف ایک ہی چیز باقی تھی وہ تھی اس کا اقرار کرنا یا گواہی دینا۔ تو میری چاہت کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات کی گواہی دیں تو یہ کچھ میں چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات کی گواہی دیں جو میں نے ابھی سمجھایا ہے۔ تو میرے والد، اور والدہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر، ٹھیک ہے۔ واہ۔ تو، ٹھیک ہے، ہم فیصلہ کر سکتے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں۔ وہ واقعی سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ تھا۔ پھر میری اہلیہ اور میں نے خود فوراً سجدہ شکر ادا کیا واقعی؟ ہاں۔ یہ واقعی ایک غیر متوقع نتیجہ تھا۔ لیکن سبحان اللہ، جی، تو یہ ہوا تھا،۔ نبی پاکﷺ کی وہ کون سی ادا تھی جس نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟ ہاں، صلی اللہ علیہ وسلم۔تو میرے لیے، سب سے پہلے اور سب سے اہم، وہ قرآن کے پیغمبر ہیں۔ تو یہ میری نظر میں ہی بہت زیادہ اہم ہے کیونکہ میں قرآن سے متاثر تھا۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ وہ اس پیغام، قرآن کو کیسے پہنچا سکتے تھے، میرا مطلب ہے، بغیر کسی تبدیلی کے، مطلب، پچھلے، چودہ سو سالوں سے، ٹھیک؟ تو یہ ایک معجزاتی چیز ہے۔ اور پھر ان کی عظیم شخصیت۔ جتنا میں انہیں جانتا جاتا ہوں، اتنا ہی میں واقعی تعریف اور احترام کرتا ہوں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ اس وقت، ساتویں صدی میں، اُس دور میں کوئی نام نہاد تہذیب یا مادی مدد نہیں تھی، کوئی سپورٹ نہیں تھا دعوت دینے کے لیے؟ اس دور میں کوئی کاریں اور پھر کوئی ٹرینیں نہیں، رائٹ کوئی آئی پیڈ یا کمپیوٹر نہیں تھا،رائٹ؟ لیکن صرف 23 سال میں، صرف 23 سال میں اس ویران زمین میں، وہ کیسے لمبے فاصلوں تک سفر کر سکتے تھے، حتیٰ کہ صرف مکہ سے مدینہ تک، اور پھر تقریباً ہر روز دعوت دیتے تھے۔ اور پھر آخر میں، فتح مکہ، مکہ کو کھول دیا۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد آپ خود میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ ہاں فرق، صرف ایک لفظ میں، وہ دل یا دماغ کا سکون ہے۔ اللہ جو پلان بناتا ہے، وہ سب اچھا ہے۔ لیکن ہمیں آخری نتیجہ معلوم نہیں ہے کیونکہ وہ پوری تصویر دیکھ رہا ہے، لیکن ہم انسان صرف پکسل دیکھ سکتے ہیں۔ تو پکسل کے نقطہ نظر سے، ہو سکتا ہے کچھ برا ہوتا ہو، لیکن دراصل جب ہم 10 سال، 15 سال بعد، اس واقعے، حادثے کو مڑ کر دیکھتے ہیں، تو اس کا اصل مطلب سمجھ آتا ہے کہ یہ کیوں ہوا۔ چلیں فرض کرتے ہیں کہ آج کی یہ زندگی آئی ٹی اور پھر تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرے کی وجہ سے ہے۔ ہر چیز فوراً بدلتی ہے، تیزی سے بدلتی ہے۔ اور پھر مالی طور پر بھی، ہمارے کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، وہ بدلتا رہتا ہے۔ ہماری صحت بھی COVID-19 کے دوران، لوگ اچانک بیمار ہوئے اور مر گئے۔ اور ہمارے انسانی تعلقات بھی، بہت سے لوگوں کے مختلف خیالات ہیں، اور شکایات اور پھر مختلف احساسات، مختلف آراء ہیں، یہ اب بھی غیر مستحکم ہے۔ لہذا اگر ہم ان چیزوں پر فوکس کریں کہ کیا ہو رہا ہے، تو ہمارا دل غیر مستحکم جائے گا۔ تاہم، مسلمان،ہم ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں، ہم دن میں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ ہم ہمارے مالک کے ہمارے خالق، اللہ کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، جو مکمل طور پر مستحکم ہے۔ اسی لیے ہم دل کا استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔ تو یہ ایک طرح کا عملی فائدہ ہے یا میں کہہ سکتا ہوں کہ اندرونی مذہبی تجربہ ہے۔ میں مستحکم ہو سکتا ہوں، خاص طور پر اللہ کی تقدیر پر یقین رکھنے سے، مطلب، اللہ کی تقدیر، اللہ کا قبل از وقت طے کرنا۔ تو یہ واقعی ایک آرام دہ عنصر ہے کیونکہ ہماری زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، مطلب اچھے اور برے۔ انسانی نقطہ نظر سے، شاید برے، لیکن اللہ کے نقطہ نظر سے، ہر چیز دراصل اچھی ہے، کیونکہ وہ خیر کا سرچشمہ ہے۔ تو ہم اللہ سے کسی بری چیز کی توقع کیسے کر رہے ہیں؟ نہیں۔ یہ دراصل حقیقی تصدیق یا یقین ہے۔ تو آخرکار جو کچھ ہمیں ملتا ہے درحقیقت وہ دل کا استحکام ہے۔ دیکھیں؟ جو کچھ بھی ہوتا ہے، اچھا یا برا، کہیں الحمد للہ۔ تو یہ واقعی کچھ ایسی چیز ہے جو میں نے سیکھی اور پھر میں نے ایک فرق محسوس کیا اسلام قبول کرنے سے پہلے اور بعد میں۔
