# Islam Aur Christianity – Khawateen Ke Huqooq, Hijab Aur Polygamy Ka Chonka Dene Wala Farq

- Language: ur
- Published: 2026-08-26
- Canonical: https://blog.towardseternity.com/ur/blog/women-rights-islam-vs-christianity-freedom-hijab-polygamy-at-drsabeelahmed
- Source video: https://www.youtube.com/watch?v=hWagR0fCuw4
- Channel: Towards Eternity

This is the cleaned transcript of the source video. The speech is unaltered.

---

مسیحی خواتین اکثر اسلام کے بارے میں سوالات کرتی رہتی ہیں کہ مسلمان خواتین اسکارف کیوں پہنتی ہیں ؟ کیا یہ پابندی نہیں ہے؟ دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی جو چل رہی ہے اس کی بنیاد ایک حجاب پہننے والی مسلمان عورت نے رکھی تھی ۔ نبی پاک کے آنے سے پہلے ۔ انہیں ذاتی ملکیت سمجھا جاتا تھا ۔ اور وراثت کی طرح تقسیم کیا جاتا تھا بدقسمتی سے، لوگ اسلام کو رسم و رواج سے جانچتے ہیں یعنی جو کچھ وہ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں ۔ لیکن اسلام کو اس کی رہنمائی، حقوق اور اختیارات کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے جو اسلام نے خواتین کو دیے ہیں۔ عہدنامہ قدیم کے مطابق، تقریباً ہر نبی کی بہت سی شادیاں تھیں لاتعداد شادیوں کا رواج ۔ بغیر کسی پابندی، بغیر ذمہ داری کے ۔ اسلام نے شادیوں کی تعداد کو محدود کیا ۔ اس ملک میں تقریباً 18,000 کے قریب غیر مسلم خواتین نے جب اسلام میں خواتین کو ملنے والے حقوق دیکھے تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ السلام علیکم ڈاکٹر سبیل احمد ۔ Towards Eternity میں ایک بار پھر خوش آمدید پہلےہم نے ذکر کیا تھا کہ بہت سے غیر مسلم اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں آج ہم نے کچھ سوالات جمع کیے ہیں جو مسلسل سوشل میڈیا پر آتے رہتے ہیں ۔ پوری تاریخ میں، خواتین کو غیر منصفانہ سلوک کا سامنا رہا ہے ۔ اور مختلف معاشروں میں انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا رہا ہے۔ بہت سے مسیحی لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام میں بھی یہ کچھ مختلف نہیں ہے تو بتائیے کہ اسلام میں عورت کا مقام کیا ہے ؟ عموماً لوگ، جب اسلام میں خواتین کے بارے میں سوچتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ اسلام میں خواتین کو دبایا جاتا ہے ان پر ظلم کیا جاتا ہے کوئی حقوق نہ ہی کوئی آزادی ۔ جبکہ حقیقت بالکل مختلف ہے ۔ بدقسمتی سے، لوگ اسلام کو رسم و رواج سے جانچتے ہیں یعنی جو کچھ وہ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں ۔ لیکن اسلام کو جانچا چاہیے اس کی رہنمائی سے، اس کے حقوق اور اختیارات سے جو اسلام نے خواتین کو دیے ہیں۔ قرآن پاک میں جو اللہ کا کلام ہے نبی پاک کی سیرتِ طیبہ کے ذریعے بتائے گئے ہیں ہمیں۔ آپ کو اندازہ تب ہوگا جب آپ نبی پاک کے آنے سے پہلے عورتوں کی حالت پر نظر دوڑائیں گے تمام خواتین محکوم تھیں ۔ انہیں ذاتی ملکیت سمجھا جاتا تھا، اور وراثت کی طرح تقسیم کیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا اور جب اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کے ذریعے ہدایت فرمائی تب خواتین کو بااختیار بنایا گیا ۔ اجر و ثواب میں عورتوں کو برابری دی گئی اور انہیں بہت سی آزادیاں دی گئیں ۔ کیا ان میں سے کچھ کا ذکر کر سکتے ہیں؟ ایک مختصر لسٹ ۔ ان میں سب سے پہلے تعلیم کا حق ۔ سن 1844ء تک اس ملک امریکہ میں خواتین کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں ۔ یونیورسٹی جاکر گریجویشن کر سکیں۔ اسلام نے خواتین کو یہ حق ساتویں صدی کے اندر ہی دے دیا تھا ۔ نہ صرف انہیں اسلام نے یہ حق دیا بلکہ اسلام نے اسے لازمی قرار دیا مرد اور عورت دونوں کیلئے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں ۔ نہ صرف بااختیار۔۔۔ بلکہ مسلمان خواتین اس حق کے حاصل ہونے سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مکمل طور پر آزاد تھیں۔ دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی جو مسلسل چل رہی ہے جملے پر غور کریں "دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی، جو مسلسل چل رہی ہے اس کی بنیاد ایک مسلمان خاتون نے رکھی تھی جو حجاب پہنتی تھیں ۔ ان کا نام تھا فاطمہ الفہری ۔ جو سن 859ء میں، ملک مراکش کے شہر فاس میں قائم کی گئی تھی ۔ یہ کون کہہ رہا ہے ؟ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز اوردا یونیسکو ۔ دوسرا حق جو اسلام نے خواتین کو دیا انہیں حق حاصل ہے وراثت کا ۔ اگر آپ اولڈ ٹیسٹمنٹ پر نظر ڈالیں اگر کسی باپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہو تو بیٹی کو کوئی وراثت نہیں ملتی ہے۔ چھوٹا سا بھی حصہ نہیں ملتا، کیونکہ بیٹا موجود ہے ۔ بیٹے کو ساری وراثت ملتی ہے ۔ لیکن اگر صرف بیٹیاں ہوں تو انہیں کچھ وراثت مل جاتی ہے ۔ لیکن اسلام نے خواتین کو وراثت کا حق عطا کیا ۔ بیوی کے طور پر، ماں کے طور پر بیٹی اور بہن کے طور پر رائٹ؟ تو خواتین کو وراثت کا حق دیا گیا ہے ۔ جہاں تک جائیداد کی ملکیت کی بات ہے اس ملک میں انہیں اٹھارویں صدی کےدرمیان تک یہ حق حاصل نہیں تھا ۔ اس ملک میں، سفید فام خواتین کو سیاہ فام نہیں، چائینیز نہیں، انڈین نہیں ۔ سفید فام شادی شدہ خواتین اس ملک میں، ریاست الینوائے میں انہیں حق نہیں تھا کہ وہ جائیداد کی مالک بن سکیں ۔ سن 1870....1861ء میں یہاں اس سٹیٹ میں، شکاگو میں جبکہ اسلام نے انہیں ساتویں صدی میں یہ حق دے دیا تھا؟ غور کریں، ساتویں صدی کا موازنہ تیرہ صدیوں کے بعد کے حالات سے کیا گیا ہے ۔ دو مزید اہم حقوق جو اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں ان میں سے ایک طلاق(خلاہ) لینے کا حق ہے ۔ اولڈ ٹیسٹمنٹ کے مطابق عورت کو یہ حق حاصل نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ کیتھولک میں بھی عورت کو یہ حق حاصل نہیں تھا ۔ لیکن اسلام نے دیا۔ ہر شادی در حقیقت ایک مثالی شادی ثابت نہیں ہوتی، ہمیشہ تناؤ بھی ہو سکتا ہے ۔ رائٹ؟ کچھ لوگ شادی کے ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں، جس سے وہ نکلنا چاہتے ہیں اسلام ایک عملی دین ہے ۔ تو اسلام نے خواتین کو حق دیا خلاہ حاصل کرنے کا۔ دوسرے مذاہب نے نہیں لیکن اسلام نے خواتین کو یہ حق دیا ہے ۔ اور آپ یہ جانتے ہیں کہ اس کی گھر کے اندر کی ذمہ داریاں ہیں، کہ وہ بچوں کی اور گھر کی دیکھ بھال کرے ۔ لیکن مالی ذمہ داری اس پر بلکل زیرو ہے ۔ وہ بل گیٹس بن سکتی ہے ۔ وہ خواتین کی جیف بیزوس بن سکتی ہے ۔ یہاں تک کہ ارب پتی بن سکتی ہے، یعنی امیر ترین انسان بن سکتی ہے ۔ مگر پھر بھی وہ ایک پیسہ خرچ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے، اپنے گھر اپنے خاندان پر وہ اگر کرنا چاہے تو کر سکتی ہے لیکن یہ اس کی ذمہ داری نہیں ۔ مالی اعتبار سے گھر کی ساری ذمہ داری سو فیصد خاوند کی ہی ہے ۔ تو یہ وہ سارے حقوق ہیں جو اسلام نے خواتین کو دیے ہیں۔ تومیری ایک نصیحت یہ ہے ۔ اپنے غیر مسلم بھائی اور بہنوں کوکہ اسلام کو بلکل مت جانچیں،ثقافتی طرز عمل یعنی سوشل میڈیا کی بنیاد پر بلکہ اسلام کو قرآن پاک پڑھ کر جانچیں اور پیارے نبی پاک ﷺ کی حیرت انگیز سیرت پر غور کریں ۔ حیرت انگیز، انتہائی حیرت انگیز حقیقت ۔ اسلام کے بارے میں لوگوں میں پائے جانے والی غلط فہمیوں میں سے ایک خواتین کے حوالے سے ہے ۔ تاہم، جب ہمارے تمام غیر مسلم بھائی اوربہنیں اسلام پر غور کرتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام نے مسلمان عورت کو جو اختیارات اور احترام عطا کیا ہے تو وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں ۔ تو تقریباً 18,000 کے قریب غیر مسلم خواتین جب وہ اسلام میں عورتوں کے حقوق دیکھتی ہیں تو وہ دائراہ اسلام میں داخل ہوجاتی ہیں ۔ جبکہ برطانیہ میں تقریباً 5000 سالانہ۔ اسلامی قانون میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں آدھی وراثت ملتی ہے ۔ ٹھیک ہے، کچھ لوگ وراثت کے قوانین کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ ایک بھائی کو بہن کے مقابلے میں وراثت کا دوگنا حصہ ملتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد، جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے جیسے ہی اس کی شادی ہوتی ہے وہ تمام مالی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے خاندان کی 100 فیصد مالی ذمہ داری وہ اٹھاتا ہے جبکہ، خاتون پر کوئی مالی ذمہ داری نہیں ہے۔ بیوی پر کوئی مالی ذمہ داری نہیں ہے ۔ تو اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد کو وراثت میں زیادہ مال ملے کیونکہ اسےاپنی فیملی کے تمام اخراجات اٹھانے ہیں ۔ جبکہ کسی بھی خاتون کو خاندان کے اخراجات نہیں اٹھانے اسی لئے خاتون کو وراثت میں اتنا حصہ ملنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تو یہی وجہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے ۔ چنانچہ، اگر آپ اسے عیسایت اوراسلامی نقطہ نظرسے دیکھیں تو، یہ بہت زیادہ منصفانہ تقسیم ہے ۔ یہ زیادہ قابلِ فہم ہے اور اس میں ایک خاندان کے عملی پہلوؤں کا لحاظ رکھا گیا ہے مسیحی خواتین اکثر اسلام کے بارے میں سوالات کرتی رہتی ہیں کہ مسلمان خواتین اسکارف کیوں پہنتی ہیں ؟ کیا یہ پابندی نہیں ؟ کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟ دیکھیے، جب میں گیا تھا کولمبس تو وہاں ایک اوپن ہاؤس رکھا گیا تھا اور اس میں ایک عیسائی خاتون کی طرف سے ایک سوال آیا تھا ۔ انہوں نے کہا، " خواتین کو کیوں مجبورکیا جاتا ہے حجاب پہننے پر؟" اچھا، آپ جانتے ہیں، اس وقت ایران میں حجاب کا تنازعہ جاری تھا ۔ میں نے ان سے کہا کے اہ.......

"ہم سب کپڑے پہنتے ہیں ۔ ہم کپڑے کیوں پہنتے ہیں ؟" میں نے بتایا، اور وہ بھی جانتی تھیں ۔ "شائستہ اور مہذب نظر آنے کے لئے ۔" "تو، حجاب پہننا بھی شائستگی اور تہذیب کی خاطر ہے، ٹھیک ہے ؟" تو کیونکہ میں اسے عقلی طور پر جواب دینا چاہتا تھا تو میں نے ان سے کہااس مسیحی خاتون سے کیا یہ بات درست ہے کہ، کوئی بھی کسی بھی طرح کے کپڑے پہن سکتا ہے؟ ہمارے لڑکے،ہماری لڑکیاں بزرگ، کوئی بھی ۔ یا اس میں معاشرتی سطح پر وہ کسی قسم کا کوئی اخلاقی ضابطہ ہے؟ تو انہوں نے کہا اخلاقی ضابطوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ورنہ تو لوگ بے لباس، یا خواتین بغیر قمیص کے باہر نکلیں گی تو کچھ نہ کچھ اخلاقی ضابطہ ہونا ضروری ہے۔ تو، کون یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ اخلاقی ضابطہ کیا ہونا چاہئے ؟ کیا یہ فیصلہ ثقافت کرے گی ؟ اس کا تو کوئی مطلب نہیں نکلے گا کیونکہ ایک شخص کچھ کہے گا اور دوسرا کچھ اور کہے گا یہ تو ہر ایک کی ذاتی سوچ پر ہوگا تو اخلاقیات کے ضابطے اور تمام قوانین اس ذات کی طرف سے آنے چاہئیں جو ہمارا خالق ہے، اور ہمیں جانتا ہے جو ہم سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے اور سوسائٹی کے لئے کیا چیز فائدہ مند ہے وہی ہے جس نےاسلام میں اخلاقی ضابطے مقرر کئے ہیں تو، خلاصہ یہ ہے خواتین یہ بااخلاق حجاب اس لئے پہنتی ہیں کیونکہ وہ اپنے خالق کی بات مان رہی ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔ قرآن پاک میں حکم موجود ہے دو مقامات پر۔ سورۃ نمبر 24، آیت نمبر 31 اور سورۃ نمبر 33 آیت نمبر 59 دونوں میں ۔ تو میں ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں ان لوگوں کے لئے جو اسکول کالج سے ہیں اسکولوں اور کالجوں میں ایک ڈریس کوڈ ہوتا ہے ۔ آپ کو ایک مقرر حد تک شارٹس پہننے پڑتے ہیں ۔ آپ اس سے چھوٹے شارٹس نہیں پہن سکتے۔ اور آپ سر پر نہیں پہن سکتے ہوڈی، یا اس طرح کی کوئی بھی چیز نہیں پہن سکتے دیکھیں اسکول اور کالجیز میں بھی قوانین ہیں اگر آپ ہسپتال میں کام کرتے ہیں تو وہاں بھی قوانین ہیں کہ آپ کو ایک مخصوص لباس پہننا ضروری ہوتا ہے ۔ اگر آپ کسی ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں ؟ بغیر شرٹ اور بغیر جوتے کے آپ کو کوئی سروس نہیں دے سکتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں حیا کے کچھ قوانین عطا کیے ہیں ۔ پھر میں اپنے مسیحی، یہودی اور دیگر دوستوں سے کہتا ہوں کہ حیا کے قوانین نہ صرف خواتین کے لیے ہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہیں ۔ اسلام میں حیا کا تعلق صرف پہنی جانے والی چیزوں سے ہی نہیں ہے بلکہ آنکھوں کی بھی حیا ہے ۔ میں کسی عورت کی طرف شہوت بھری نظروں سے نہیں دیکھ سکتا ۔ اور حیا کے قوانین صرف اسلام میں ہی نہیں ہیں ۔ اگر آپ یہودیت پر نظر ڈالیں ایک یہودی عورت جو شادی شدہ ہے وہ اپنے بال نہیں دکھا سکتی ۔ ایک عیسائی خاتون، خاص طور پر جب وہ چرچ جا رہی ہوتی ہے وہ اپنے بال نہیں دکھا سکتی ۔ یعنی، حجاب کا تصور موجود ہے عہدنامہ قدیم اور جدید دونوں میں۔ "تو کرنتھیوں کی پہلی بک میں، باب نمبر 11 آیت 5 اور 6 میں لکھا ہے کہ عیسائی عورت کو حجاب پہننا ہے اور وہ اپنے بال نہیں دکھا سکتی۔" اگر وہ اپنے بال دکھاتی ہے تو یہ باعثِ شرم ہے ۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بال مونڈ دیں ؟ حضرت یسوعؑ کی والدہ،حضرت مریمؑ، جو پاکیزگی کی علامت ہیں، وہ حجاب پہنتی تھیں ۔ لہذا مسلمان خواتین جب حجاب پہنتی ہیں وہ حضرت یسوعؑ کی والدہ حضرت مریمؑ، کو اپنا رول ماڈل بنا رہی ہوتی ہیں ۔ ایک مرتبہ میں لیکچر دے رہا تھا ۔ کچھ مسیحی خواتین امیش کلیسیا سے آئیں ۔ جب وہ آئیں لیکچر کے بعد ۔ میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے بالوں کو ڈھانپے ہوئے تھی ۔ تو میں نے ان سے یہ سوال کیا ۔ میری پیاری بہنو، آپ سب نے مسلمان خواتین کی طرح حجاب پہنا ہوا ہے ۔ "مجھے اس کی وجہ بتائیے ۔" تو انہوں نے کہا، ہم بائبل پر عمل کر رہے ہیں ۔ بائبل ہمیں حکم دیتی ہے کہ حجاب پہنیں یا اپنے بالوں کو ڈھانپیں ۔ تو حجاب جو ہے تمام ثقافتوں میں موجود ہے یہاں تک کہ سیکولر دنیا میں بھی ۔ بالکل اسی وجہ سے ۔ انہیں جانچا اور سراہا جاتا ہے ان کی حیا اور پاکیزگی کی وجہ سے اور ان نعمتوں کی بنیاد پر جو اللہ رب العزت نے انہیں عطا کی ہیں ۔ اسلام میں، اگر مرد چاہے تو وہ چار خواتین سے شادیاں کرسکتا ہے آج کل کے دور میں یہ عمل کتنا درست اور مناسب ہے؟ آخر ایسا قانون کیوں ہے ؟ یہ واقعی اہم سوال ہے ۔ اہ...

انسانوں پر قرآن کی ہدایت نازل ہونے سے پہلے یعنی ساتویں صدی میں، ہر ایک کلچر، ہر ایک مذہب،اس وقت سے پہلے، کثرت ازدواج کا تصور موجود تھا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج ۔ لاتعداد شادیوں کا رواج ۔ بغیر کسی پابندی، بغیر کسی ذمہ داری کے ۔ اسلام نے شادیوں کی تعداد کو محدود کیا ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے سورۃ نمبر چار، آیت نمبر تین "شادی زیادہ سے زیادہ چار کرو۔ لیکن اگر تم انصاف نہیں کر سکتے تو ایک شادی کرو۔ تو اسلام نے کیا کہا، اللہ رب العزت نے کیا کہا؟ قرآن کی کیا ہدایت تھیں سب سے پہلے، اس نے شادیوں کی تعداد کو محدود کردیا۔ لاتعداد سے ہٹا کر چار کر دیا زیادہ سے زیادہ نمبر ایک۔ دوسرا، اسلام نے کیا کیا اس نے کئی ذمہ داریاں سونپ دیں ایک شوہر کو۔ اگر تم شادی کرنا چاہتے ہوایک یا ایک سے زیادہ تو سو فیصد تمہیں اپنی بیویوں کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ مالی ذمہ داری،رائٹ؟ ہر طرح سے۔ رہائش، لباس اور کھانا سب کو مساوی اور برابر طور پر دینا ہوگا اگر تم زیادہ شادیاں کرنا چاہتے ہو ۔ تو، کثرتِ ازدواج کی حد بندی اور شوہر کو بیوی کی تمام ذمہ داریاں دے دینا اور حقوق مقرر کرنا خواتین کے۔ یہ کوئی فرض نہیں ہے اور اس کی ترغیب نہیں دی گئی ۔ بلکہ مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی گئی ہے ۔ مثلاً افغانستان میں رائٹ؟ بہت سے مرد جنگ کے دوران مارے گئے اب وہاں خواتین کی کثرت ہے ۔ وہ اپنی زندگی ویسے بھی گزار سکتی ہیں لیکن، پھر وہ محروم رہیں گی اپنے بچوں سے خاندانی تعلقات سے اور وہ اپنے شوہر کی مدد سے محروم رہیں گی ۔ تو وہ ان سب چیزوں سے محروم رہیں گی ۔ لیکن اسلام چاہتا ہے کہ ہر ایک کا کوئی گھر ہو، اور وہ محفوظ رہے ۔ نہ صرف یہ، بلکہ اگر آپ عہد نامہ قدیم پر نظر دوڑائیں ۔ عہد نامہ قدیم میں۔۔۔ عہدنامہ قدیم کے مطابق، تقریباً ہر نبی کی بہت سی شادیاں تھیں چاہے وہ حضرت موسیٰؑ ہوں حضرت ابراہیمؑ ہوں یا حضرت داؤدؑ ہوں،سب کی دو تین بیویاں تھیں عہد نامہ قدیم کے مطابق خدا کثرت ازدواج سے منع نہیں کرتا ہے ۔ خدا کثرت ازدواج کو محدود نہیں کرتا ۔ خدا کثرت ازدواج کی مذمت نہیں کرتا ۔ تو اگر کوئی یہودی یا عیسائی مجھ سے کہتا ہے کہ کثرت ازدواج غلط ہے، تو اسلام نے اس کی اجازت کیسے دی ؟ تو میں کہوں گا کہ اگر یہ غلط ہے تو، عہدنامہ قدیم میں اس کی ممانعت کہاں ہے؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں کثرت ازدواج پر کوئی پابندی نہیں تھی ۔ انہوں نے اسے محدود نہیں کیا ۔ وہ اپنے زمانے کےکلچر کے مطابق ہی عمل کر رہے تھے ۔ جب آپ امریکی ثقافت پر نظر ڈالتے ہیں ایک سروے کے مطابق جو شکاگو ٹریبیون کی طرف سے جاری کیا گیا ۔ ایک عام مرد اس ملک میں کم از کم سات اضافی گرل فرینڈز یا شادی سے پہلے یا بعد کے ناجائز تعلقات رکھتا ہے ۔ دراصل، جب میں انڈیا سے موازنہ کرتا ہوں تو انڈیا، مسلمان مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دیتا ہے تو، وہاں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے ان ہندوؤں کے مقابلے میں جوایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں ۔ تو اگرچہ اس کی اجازت ہے پھر بھی یہ بہت کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی مرد شادی کرتا ہے اسے سو فیصدذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہے ۔ ورنہ، اس کے نتائج قیامت کے دن بھگتنے پڑیں گے ۔
