Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Bachon Ko Zabardasti Namaz Par Majboor Mat Karo – Mohabbat Se Deen Sikhane Ka Raaz!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اپنے بچوں کو نمازی بنانے اور نماز کی عادت پختہ کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اس میں کونسے کام کرنے کے ہیں اور کن کاموں سے بچنا ضروری ہے؟ مجھے مشکل پیش آرہی ہے کہ میں اپنے بچے کو زندگی کا ایک مقصد کیسے دوں اور کیسے اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا کروں۔ میرے خیال میں، کہانیاں بہت اہم ہیں ۔ انبیاءِ کرامؑ کے تمام قصے صحابہ کے قصے، سیرت کے واقعات، اور اس جیسی چیزیں اگر ہمارے بچے یہ سب سنتے ہوئے بڑے ہوں تویہ چیزیں ان کے ذہنوں میں نقش ہو جائیں گی اور وہ انہیں اپنا رول ماڈل بنا لیں گے ہمیں اپنی بیٹیوں کو ”کیوں“ بھی سکھانا ہوگا۔ اگر ان کی اچھی سہیلیاں ہوں، جو حجاب پہنتی ہوں تو وہ بھی ان سے متاثر ہوں گی ہمیں اپنے بچوں کو اللہ جل شانہٗ کے بارے میں کیسے بتانا چاہیے ؟ یہ کام کرتے ہوئے کونسی عمومی غلطیاں

ہیں، جو کی جاتی ہیں؟ بہت اچھا سوال ہے۔ السلام علیکم، شیخہ فاطمہ برکۃ اللہ ہمارے تعلیمی تصور برائے اطفال میں خوش آمدید ہم نے آپ کے لیے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے چند سوالات تیار کیے ہیں ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانے اور نماز کی عادت پختہ کرنے کیلئے کیا کرنا چاہئے ؟ کونسے کام کرنے کے ہیں اور کن کاموں سے بچنا ضروری ہے؟ بسم اللہ ۔ والحمد للہ ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے موقع دینے کے لئے آپ کا شکریہ ۔ مجھے لگتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں آپ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط کریں ۔ یہ بہت اہم ہے ۔ کیونکہ یہ وہ تعلق ہے جو انہیں نماز پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ، آپ انہیں قصہ سنا سکتے ہیں کہ نماز کس طرح نازل ہوئی ۔ اگر آپ اپنے بچوں کو یہ قصہ سنائیں تو اس سے ان کو ایک وابستگی پیدا

ہوگی ۔ مثلاً یہ کہ ، "میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتی ہوں میں ان کی امت میں سے ہوں۔ کیونکہ بچے، کسی لیکچر کی بنسبت کہانیوں سے زیادہ سیکھتے ہیں ۔ تو ایک بار جب آپ یہ بنیاد قائم کر لیں گے پھر سات سال کی عمر میں آپ انہیں عمومی انداز میں بتانا شروع کر دیں چلو نماز پڑھنے چلتے ہیں۔ آو نماز پڑھیں۔ تو آپ ان کی تربیت اس طرح کریں کہ چلو ایک نماز پڑھتے ہیں۔ کیا آپ روزانہ ایک نماز پڑھ سکتے ہو ؟ دو نمازیں پڑھ سکتے ہو ؟ آپ انہیں انعامات دے کر بھی ترغیب دے سکتے ہیں پھر دس سال کی عمر میں آپ ان کو واضح طور پر نماز کا کہتے ہیں ۔ کچھ لوگ اس موقع پر ایک پارٹی کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ دس سال کے ہو گئے ہو اب نماز پڑھنا زیادہ ضروری ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "اگر وہ دس سال کی عمر میں نماز نہ

پڑھیں تو ان کو تنبیہ کریں ۔" تو اب آپ مزید سنجیدہ ہو جاتے ہیں ۔ تو، یہ بہت آہستہ آہستہ کرنے کا کام ہے ۔ اسلام راتوں رات چیزوں کو ٹھیک کرنے کی بات نہیں کرتا اگر آپ کم عمری میں ابتدائی سالوں میں، یہ کام شروع کر دیں تو آپ ان کے دل میں اللہ سے محبت پیدا کر دیتے ہیں پھر اس کے بعد، انہیں نماز کے لیے کہیں اور ظاہر ہے آپ بھی نماز پڑھ رہے ہیں آپ اس کام کو ان کیلئے آسان بنا دیتے ہیں آپ ان کو نماز کے ارکان وغیرہ سکھاتے ہیں اور پھر دس سال کی عمر میں وہ اس پر عمل کرنے لگتے ہیں۔ تو جب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچیں گے تو یہ ممکن ہے کہ نماز ان کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہوگی ۔ یاد رکھیں، جب آپ اپنے بچےکو نماز سکھاتے ہیں آپ انہیں ایسی چیز سکھا رہے ہیں جو انہیں فحشاء اور منکر سے بچائے گی ۔ قرآن پاک میں اللہ رب

فرماتے ہیں کہ نماز وہ چیز ہے جو آپ کی حفاظت کرتی ہے اوربہت سی بری چیزوں سے روکتی ہے۔ تو دوسرے لفظوں میں، نماز چھوڑنا دراصل اُن کے لیے خطرے کی نشانی ہے۔ والدین ہونے کے ناطے آپ کو اس طرح سوچنا ہوگا ۔ لیکن میرے خیال میں ایک اور عنصر جو اس میں بہت اہم ہے وہ اپنے بچوں کو مسلم ممالک میں لے کر جانا ہے جہاں اسلام مضبوط ہو جہاں اسلامی شناخت مضبوط ہو جہاں نماز کی قدر و منزلت پہچانی جاتی ہو ۔ جس قسم کا نفسیاتی اعتماد اور شناخت کا شعور بچوں کو اس ماحول میں ملتا ہے وہ ایسی چیز ہے جسے آپ کسی بھی قیمت پر خرید نہیں سکتے۔ کیا چیزوں سے منع کر دینا اور بچوں کو سزا دینا واقعی کوئی حل ہے ؟ یہ حل بچوں کے لیے بالکل بھی دلچسپ یا خوشگوار نہیں ہو سکتا ۔ تو، ”نہ“ کہنا بہت اہم ہے ۔ وہ بچہ جو کبھی "نہ" سننے کا عادی نہ

ہو وہ بڑا ہو کر پریشانی کا شکار ہوگا۔ شاید نرگسیت پسند یا طرح طرح کے مسائل کا شکار عین ممکن ہے کہ اس میں کچھ پرسنیلٹی ڈس آرڈر بھی آ جائے ۔ لیکن انہیں بہت سے اصول و ضوابط بتا دینا ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ اُن کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ خود سمجھ سکیں کیوں کوئی کام کر رہے ہیں۔ وہ سمجھ سکیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اُس کے پیچھے وجہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ کچھ اصول و ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے ۔ جیسے کہ ہم اپنے بچوں سےتوقع کرتے ہیں کہ ہمارے بچے دانت صاف کریں۔ حکومت کی طرف سے بھی کچھ قوانین ہوتے ہیں، مثلاً آپ کو سیٹ بیلٹ پہننا ضروری ہے ۔ تو آپ یہ قبول نہیں کر سکتے کہ آپ کا بچہ یوں کہے کہ "نہیں، میں سیٹ بیلٹ نہیں پہننا چاہتا ۔" آپ سیٹ بیلٹ پہناتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر اُسے

مجبور بھی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی انہیں خطرے سے بچانے کیلئے آپ کو ان پر دباؤ بھی ڈالنا پڑتا ہے ۔ تو بحیثیت والدین، ہمیں ہمیشہ کچھ کام کرنے پڑتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے ۔ اور جو حدود ہم اُن کے لیے مقرر کر رہے ہیں فی الحال وہ خود نہیں جانتے کہ اُن کے لیے کیا بہتر ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں ۔ لہٰذا، بات صرف خوشی یا مزے کی نہیں ہے بلکہ ایک صحتمند انسان کے طور پر پرورش کرنے کی ہے۔ آپ کو محبت اور خوشی کے ساتھ اصول اور ضابطوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تو، بیلنس رکھنا ضروری ہے ۔ اسلامی تعلیم کس عمر میں شروع ہونی چاہیے اور اس کیلئے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ؟ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے

حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قرآن کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ Towards Eternity کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اسلامی تعلیم کس عمر میں شروع ہونی چاہیے اور اس کیلئے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ؟ بہت اچھا سوال ہے۔ میری رائے میں، بچپن سے ہی بلکہ جب آپ بچوں کے بارے میں سوچنا شروع کریں اس وقت سے میں تو کہوں گی کہ جب آپ شادی کر رہے ہوں، اس وقت سے ۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ لوگ اس بارے میں سوچتے ہوں کیونکہ آپ ہمیشہ کے لئے ایک جوڑا ہی نہیں رہیں گے آپ کے بچے بھی ہوں گے ۔ حضرت علی(کرم اللہ وجھہ)سے منسوب ایک قول ہے "سات سال ان کے ساتھ کھیلیں اور سات سال ان کو ادب سکھائیں اور ان کی تربیت کریں پھر

سات سال ان کے دوست اور رفیق بن جائیں" میرا ماننا ہے کہ، سات سال کی عمر تک بچے کھیل کے ذریعے سیکھتے ہیں وہ محبت سے، پیار کے ذریعے سیکھتے ہیں اور جن چیزوں کو آپ پسند کرتے ہیں، جو محبت آپ انہیں دکھاتے ہیں اور وہ مثبت تعلقات جو آپ انہیں دیتے ہیں، وہ ان پر اثر انداز ہوتے ہیں میرے خیال میں یہی وہ مرحلہ ہے جب آپ چاہتے ہیں کہ ان کو مخلوق سے، دنیا سے جوڑا جائے ۔ انہیں دنیا کی خوبصورتی دکھائی جائے اور بتایا جائے کہ اللہ نے اسے کیسے بنایا ہے انہیں اسکرینوں سے دور رکھیں ۔ اس مرحلے پر انہیں اسکرینوں سے ہرگز متعارف نہ کروائیں کیونکہ اس سے وہ فطرت اور مخلوق سے جُڑنے کے بجائے ان سے دور ہو جائیں گے۔ اور میری رائے میں، وہ فطرت اور مخلوق سے جتنا قریب ہوں گے ان کے لئے خدا کے ساتھ تعلق رکھنا اتنا ہی آسان ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو اللہ جل شانہٗ کے بارے میں کیسے بتانا چاہیے ؟ یہ کام کرتے ہوئے کونسی عمومی غلطیاں ہیں، جو کی جاتی ہیں؟ تو جو کام آپ کو نہیں کرنا، وہ یہ ہے کہ آپ ان کو عقائد کی ایک لسٹ تھما دیں یہ ایک بچے کو اللہ کے بارے میں سکھانے کا طریقہ نہیں ہے۔ ان کے اندر پہلے ہی ایک طبعی فطرت موجود ہوتی ہے، جو اللہ کی طرف انہیں مائل کرتی ہے آپ کو کرنا صرف یہ ہے کہ اس فطرت کی تربیت کرکے اسے سامنے لے آئیں اور اس فطرت کو نکھارنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے، ان کو مخلوق سے جوڑا جائے ۔ انہیں فطرت کے مناظر سے جتنا ممکن ہو آشنا کریں اور انہیں دکھائیں کہ یہ سب اللہ نے پیدا کیا ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہمیں محبت، امید اور خوف کے درمیان توازن رکھنا ہے۔ اور ان تینوں سے مل کر توازن قائم ہوتا ہے ۔ کیونکہ آپ اللہ سے محبت

کرتے ہیں لیکن آپ کبھی بھی کامل نہیں ہوتے ۔ آپ کو کبھی ایسا نہیں لگتا کہ، اب آپ جو مرضی کریں آپ کو نجات مل ہی جائے گی لہذا آپ کے پاس لامتناہی امید نہیں ہوتی ۔ اور آپ کے اندر ایک خوف بھی موجود ہوتا ہے۔ جیسے آپ کو اپنے والد کا خوف ہوتا ہے ایسے ہی اللہ کی عظمت کا خوف ہوتا ہے۔ تو یہ تینوں عناصر بچے کے لئے نہایت اہم ہیں ۔ آپ انہیں اس حقیقت سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ اللہ سزا بھی دیتا ہے لیکن کوشش کریں کہ ان کا اللہ کے ساتھ ذاتی تعلق محبت کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہیں خوشخبریاں دیں اچھی اچھی باتیں بتائیں۔ رائٹ؟ ایک سوال کیا جاتا ہے مجھے مشکل پیش آرہی ہے کہ میں اپنے بچوں کو زندگی کا ایک مقصد کیسے دوں اور کیسے اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا کروں۔ میں کیسے اسے ایک بامقصد اور ذمہ دار بچہ بناؤں؟ میرے خیال میں، اس

کی ابتداء اس وقت سے ہوتی ہے جب آپ انہیں کہانیاں سناتے ہیں ۔ میرے خیال میں، کہانیاں بہت اہم ہیں ۔ انبیاءِ کرامؑ کے تمام قصے صحابہ کے قصے، سیرت کے واقعات، اور اس جیسی چیزیں اگر ہمارے بچے یہ سب سن کر بڑے ہوں تو یہ چیزیں ان کے ذہنوں میں نقش ہو جائیں گی اور وہ انہیں اپنا رول ماڈل بنا لیں گے اور پھر آپ کو بچے کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے اور بچے کو موقع دیں کہ وہ اپنے خیالات اور مستقبل کے منصوبوں کو آپ کے سامنے بیان کرے میرے پاس کچھ راہنما نکات اور کچھ سوالات ہوتے ہیں، جو میں اپنے نوعمر بچوں سے پوچھتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ بیٹھ کر ان سب کے تحریری جوابات لکھیں ۔ مثال کے طور پر، ایسی باتیں جیسے آپ کے پاس کون سے اسکلز ہیں؟ آپ کو کس چیز کا شوق ہے؟ تین یا چار ایسی چیزیں جن کا آپ کو شوق ہو یا جنہیں

کرنے میں آپ خوشی محسوس کرتے ہوں پانچ سال کے بعد، آپ خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟ تو نوجوانوں کے لیے یہ واقعی بہت ضروری ہے کہ ان کے پاس ایک واضح وژن ہو۔ اور پھر آپ ان کی مدد کر سکتے ہیں یہ سمجھنے میں کہ اس وژن تک کیسے پہنچا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے خوبصورتی کے تصور پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ جیسا کہ آپ نے ابھی ذکر کیا جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ ہماری بیٹیوں کو یہ مشکل لگے کہ وہ اپنی خوبصورتی کو حجاب سے چھپائیں۔ تو ایسے مشکل حالات میں ہم ان کے لیے حجاب پہننے کے اس عمل کو کس طرح آسان بنا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں ماں کا حجاب کے بارے میں رویہ اور دیگر قریبی خواتین رشتہ داروں کا حجاب سے متعلق طرزِ عمل اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، دوستوں کا طرزِ عمل بھی ۔ ایک بار پھر، یہ واقعی بہت ضروری ہے ۔ میں

اس کی اہمیت پر جتنا زور دوں، کم ہے اگر ان کی اچھی سہیلیاں ہوں، جو حجاب پہنتی ہوں تو وہ بھی ان سے متاثر ہوں گی اگر ان کے گرد خاص طور پر بڑی عمر کی لڑکیاں ہوں,ان کی کزنز لڑکیاں عموماً دوسری بڑی لڑکیوں کی طرف دیکھتی ہیں کہ کیا وہ حجاب پہن رہی ہیں پھر ہمیں یہ بھی کرنا ہوگا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو "کیوں" یعنی وجہ بھی سمجھائیں۔ دیکھیں، کبھی ہم صرف اُنہیں احکام بتا دیتے ہیں لیکن ہم ان کی ذہن سازی نہیں کرتے یعنی ہم ان کو دل سے اس عمل پر آمادہ نہیں کرتے۔ اور میرے خیال میں، ان کی ذہن سازی کا آغاز کم عمری سے ہی کرنا ضروری ہے ۔ آپ حجاب کے بارے میں مثبت بات کرتے ہیں ۔ آپ بعض اوقات انہیں حجاب پہناتے ہیں، یعنی پریکٹس کرواتے ہیں سات سال کی عمر کے بعد جب وہ آمادہ ہوں ۔ کوئی لازمی نہیں ۔ بس انہیں حجاب پہننے

کیلئے ذہنی طور پر تیار کریں کہ یہ ایک اچھی اور آسان چیز ہے ۔ تقریباً دس سال کی عمر سے لڑکیاں بعض اوقات لڑکوں سے پہلے کم عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ وہ حجاب کوزیادہ پہننے اور جب وہ بلوغت کو پہنچیں، تب تک وہ سمجھ جائیں کہ اسے پہننا ضروری ہے ۔ اور میری رائے میں، ہمیں چاہئے کہ ہم اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ان کو سمجھائیں دیکھیں، اللہ ہی نے ہم عورتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب ہم عوامی مقامات پر جائیں تو اس طرح کا لباس پہن کر جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرنا چاہتا ہے کیونکہ ہم بہت قیمتی ہیں ۔ اور ہمیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے کس طرح برائیاں معاشرے میں پھیل رہی ہیں اور کیسے لڑکیوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جب وہ ”وجہ“ جانتی ہوں تو اس سے انہیں حجاب

پر عمل کرنے اور اس پر قائم رہنے میں مضبوطی حاصل ہوتی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ خود کو اہم اور قیمتی محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہم کیا کریں کہ ہمارے بچے اپنی قدر باہر تلاش نہ کریں؟ جی ہاں، اسی لئے میں کہتی ہوں، خدا کیلئے بچوں کو فون سے متعارف کروانے میں جتنی دیر کر سکیں اتنا ہی اچھا ہے ۔ اور پھر ایسا وقت نکالیں جب فون کے بغیر آپ قدرتی ماحول میں وقت گزار رہے ہوں۔ دیکھیں، ان کیلئے دلچسپ چیزوں کی منصوبہ بندی کریں، جن میں وہ مشغول رہیں ۔ اچانک انہیں حقیقی دنیا کا پتہ چل جائے گا ۔ کیونکہ یہی مسئلہ ہے، ہے نا ؟ وہ ورچوئل ورلڈ میں زندگی گزار رہے ہیں حقیقی دنیا میں نہیں ۔ مثال کے طور پر، ان چھٹیوں میں ہم بیرون ملک نہیں جا رہے تھے اپنے کچھ بچوں کے ساتھ

میں نے اپنے ایک بچے سے کہا ہم یہاں لندن میں کیا کر سکتے ہیں ؟ تو ہم نے ایک منصوبہ بنایا ۔ ہم بیٹھ گئے ۔ ہمارے پاس ایک ڈائری ہے ہم نے منصوبہ بنایا کہ ہم لندن میں مختلف جگہوں کا وزٹ کرنے جا رہے ہیں، رائٹ؟ یہاں تک کہ آپ کے اپنے شہر میں بھی ممکن ہے کہ ان کے دیکھنے کیلئے بہت سی دلچسپ چیزیں ہوں ۔ آپ ان چیزوں کو اپنی ڈائری میں درج کریں، اور ان کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نکالیں ۔ اس کے علاوہ، میرے خیال میں اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ وہ اچھی دوستیاں قائم کریں۔ کیونکہ ظاہر ہے ایک خاص عمر میں پہنچ کر ہمارے بچوں کے ہم عمر بچے ان پر ہم سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ان دوستیوں کا اُن پر ہم سے زیادہ اثر ہوتا ہے تو والدین کے طور پر آپ جو بہترین کام کر سکتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کم عمری ہی سے

اپنے بچوں کی اچھے دوستوں کے انتخاب میں رہنمائی کریں۔ دوستوں کے یہ گروپ اسکول سے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اسکول سے باہر کے لوگ ہوں تو آپ کو چاہیے کہ آپ لوگوں کو اپنے گھر پر بلائیں یا اپنے بچوں کو مسلم کلبوں میں شامل کروائیں۔ تو، مومن بچے — ظاہر ہے ہم اچھے مسلمان بچوں کی بات کر رہے ہیں جو آپ کے بچوں کے ہم عمر ہوں ۔ کیونکہ بعد میں، جب آپ کے بچے آپ کے ساتھ اپنے خیالات اور نظریات کھل کر شیئر نہیں کریں گے ۔ تو ان کے یہ دوست ان کو سیدھے راستے پر قائم رہنے میں مدد کریں گے ۔ بطور ایک اسکالر، کیا آپ ایسی قرآنی آیات کی نشاندہی کر سکتی ہیں جن میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہدایات اور تعلیمات موجود ہوں ؟ کیا آپ ہمیں کچھ مثالیں دے سکتی ہیں ؟ قرآن پاک میں ہمارے لئے سیکھنے کی مختلف

چیزیں ہیں ۔ ان میں سے ایک دعا ہے جو والدین کو بچوں کے لیے کرنی چاہئے ۔ قرآن پاک میں بہت سے انبیاءِ کرامؑ کی اپنی اولاد کیلئے دعائیں مذکور ہیں ۔ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ۔ وہ بہت آگے کی سوچ رکھتے تھے ۔ "مجھے اور میرے بچوں کو نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرما اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھُلاؤ اور زمین پر اِتراتے ہوئے مت چلو تو یہاں، اس آیتِ کریمہ میں آپ اپنے بچے کو سکھا رہے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہونا چاہئے لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہئے ؟ یہ عاجزی کا تعلق ہونا چاہئے۔ دوسروں کے ساتھ تکبر سے پیش مت آؤ دوسروں کو حقیر نہ سمجھو ۔ اور زمین پر ایسے مت چلو گویا کہ آپ اس کے مالک ہو ۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے، اور گھمنڈ کرنے

والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اس کے بعد فرمایا اپنی چال میں اعتدال رکھو ۔ مزید فرمایا "اور اپنی آواز کو پست رکھو ۔" چلّاؤ مت ۔ کتنی خوبصورتی سے قرآن ان ضروری آداب کو سکھلا رہا ہے ۔ آپ کا تعلق اللہ کے ساتھ آپ کا تعلق اپنے والدین کے ساتھ اور پھر آپ کا تعلق دنیا اور معاشرے کے ساتھ۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ایک بدتمیزشخص بنیں ۔ آخر میں، بچوں کی تربیت کے حوالے سے وہ کون سی تین چیزیں ہیں، جو آپ کے خیال میں اگر تمام والدین ان چیزوں پر توجہ دیں تو ایک مثالی مسلمان نسل پروان چڑھے گی ؟ سبحان اللہ ۔ بہت گہرا سوال ہے ۔ تو، میں کہوں گی، بلاشبہ، دعا ۔ یہاں میں، ایک لمحے کے لئے صرف دعا پر زور دینا چاہوں گی ۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں، ہم ہر وقت اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ ہم یہ کنٹرول نہیں کر سکتے کہ ان کے

سامنے کیا حالات آتے ہیں یہ واقعی اللہ ہی کی طرف سے ہے کہ وہ کسی بات کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ لہٰذا ہمیں اللہ سے یہ خوبصورت دعا مانگنی ہوگی ہمیں ہمارے شریکِ حیات کی طرف سے ، اولاد کی طرف سے، یا ہونے والی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے ۔ اس دعا کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ ”آنکھوں کی ٹھنڈک“ سے کیا مراد ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اپنے شریک حیات اور بچوں کو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دیکھیں تو جو خوشی آپ محسوس کرتے ہیں ۔ حقیقت میں اس سے یہی خوشی مراد ہے ۔ وہ خوشی جو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب آپ اپنے بچوں اور شریکِ حیات کو اللہ کے فرمانبردار، عبادت گزار، اور اس کے راستے میں سرگرم دیکھتے ہیں۔ اور پرہیزگاروں کے پیشوا بن کر حاصل ہوتی ہے لہٰذا، ہمیشہ

ٹرینڈز پر چلنا ضروری نہیں ہوتا میرے خیال میں، یہ اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ تو، دعا بہت ضروری ہے ۔ میرے نزدیک، دوسری چیزیں جو اہم ہیں، بلاشبہ ان میں سے ایک جتنا ممکن ہو، خاندان کے درمیان تعلق کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ خاندان کو مضبوط رکھنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں ۔ خاندان کو توڑنے کے بجائے مسائل کا حل تلاش کریں ۔ کیونکہ، والد اور والدہ دونوں کی سرپرستی بچے کی پرورش کیلئے نہایت ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ، میں پھر کہوں گی، دوستیاں ۔ میں اس پر جتنا بھی زور دوں کم ہوگا۔ سب سے بڑھ کر جو کام کرنے کی ہم کوشش کریں گے وہ ان کے لئے دوستوں کا انتخاب ہے ۔ اور تربیت کرنے والوں کا انتخاب لہٰذا تمام اساتذہ مسلمان ہونے چاہئیں۔ میرے خیال میں یہ دو عناصر بہت اہم ہیں ۔ آپ کے بچوں کے

دوستوں کا حلقہ اور مسلمان بچوں کے گروپ تک رسائی جن کے ساتھ مل جل کر یہ پرورش پائیں ۔ تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی مدد سے یہ ان شاء اللہ تعالیٰ سیدھے راستے پر رہیں گے ۔ ایک اور بات جو میں کرنا چاہوں گی وہ یہ ہے کہ میں والدین کو ترغیب دینا چاہوں گی کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ایک وژن پر کام کریں اور اسے لکھیں ۔ بالکل جیسا کہ میں نے پہلے کہا فیملی کو اپنا بہترین پروجیکٹ بنائیں ۔ کوئی بھی شخص جو کمپنی چلاتا ہے، جانتا ہے کہ اس کے پاس ایک وژن ہونا ضروری ہے ۔ ان کے پاس مشن سٹیٹمنٹ ہونا ضروری ہے ۔ میں آپ کو ترغیب دوں گی کہ آپ بطور ایک جوڑا مل کر اپنے خاندان کے لیے ایک وژن تحریر کریں ۔ اپنے خاندان کے لئے ایک مشن اسٹیٹمنٹ یا وژن تحریر کریں ۔ جتنا ممکن ہو، تمام اہم معاملات پر آپس میں اتفاق رکھیں اور خاندان کو

اپنا بہترین پروجیکٹ سمجھیں۔