Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Humne 10 Naye Musalmano Se Pucha: Kyun Islam?

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

پیسہ اور عورتیں اور شراب طاقت بس ایسا لگتا تھا جیسے میں فٹبال ٹیم کا حصہ تھا میں سپر اسٹار تھا۔ اخبار میں میری تصاویر شائع ہوتیں۔ کیونکہ میں لوگوں کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ اسلام ایک خطرناک مذہب کیوں ہے اور آخر میں میں نے لکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ آج کل ہر کوئی پریشان ہے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں میں نے اُن کے کردار کو دیکھا میں نے دیکھا وہ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے وہ اپنے دشمنوں سے کیسے پیش آتے میں نے سوچا، ٹھیک ہے، اب کتابیں بند کرو اور رک جاؤ۔ یہ سب غلط سمت کو جا رہا ہے اسلام قبول کرنے سے مجھے صرف حتمی مقصد ہی نہیں ملا بلکہ مجھے لگا نہیں کہ میں بدل رہا ہوں مجھے لگا میں ڈھل رہا ہوں یوں محسوس ہوا جیسے یہ ایک تسلسل تھا تو آپ کے، ٹین ایج کے سال کیسے گزرے؟ میرے لیے ٹین ایج کے سال

کافی کافی مشکل تھے، کیونکہ بچپن سے میں سمجھتا تھا کہ کچھ چیزیں مجھے خوشی دیں گی باہر گھومنا، پارٹی کرنا اور شراب نوشی، لڑکیاں۔ جب میں 18 سال کا ہوا تو میں پوری طرح سے اپنی زندگی میں پیسے ، عورتیں ، شراب اور طاقت ان سب کے پیچھے برباد ہو چکا تھا میں خود کو خدا جیسا سمجھتا تھا اورمیں سوچتا تھا کہ میں اور لوگوں سے بہتر ہوں۔ سچ کہوں تو مجھے لگتا تھا کہ میں ناقابل شکست ہوں مجھے لگتا تھا جیسے میری کوئی اہمیت ہے اور وہ احساس بالکل غلط تھا مجھے خود سے نفرت ہوگئی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ چیزیں مجھے خوشی دیں گی کیونکہ میں خوش نہیں رہ سکتا تھا دنیا کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کر پاتی تھی۔ میرے پاس چاہے ساری دنیا کا پیسہ ہو۔ میرے اردگرد دس عورتیں ہوں۔ میرے پیچھے پیسوں کا ڈھیر ہو۔ میں خوش نہیں تھا۔ کچھ بھی

مجھے خوشی نہیں دیتا تھا۔ کچھ بھی مجھے خوش نہیں کر پاتا چاہے میں کچھ بھی کر لوں۔ جیسے جیسے میری عمر بڑھی معیار بھی بلند ہوتا گیا اور میں مزید حاصل کرتا گیا۔ اور جتنا زیادہ ملا اتنا ہی میں خوش نہ ہو سکا۔ تو، پتہ ہے، یہ مزید بدتر ہوگیا کیونکہ مجھے لگا اگر یہ مجھے خوشی نہیں دے سکتا تو کچھ بھی مجھے خوشی نہیں دے سکتا۔ میں بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ میں برباد ہو چکا تھا میں بے راہ تھا، کوئی رہنمائی نہیں تھا میں رات کو بے تحاشا شراب نوشی کرتا۔ جب میں مایوس اور تنہا تھا کوئی میرے ساتھ نہیں تھا اور کوئی بھی بطور دوست میرے ساتھ نہیں تھا پتہ ہے وہ بس یہ چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ رہوں۔ ہم سب ساتھ زندگی برباد کریں۔ اور جنہیں میں دوست سمجھتا تھا وہ کبھی دوست تھے ہی نہیں اب جا کے سمجھ آیا۔ اسلام سے پہلے آپ کی

زندگی کا مقصد کیا تھا اور اسلام کے بعد کیا ہو گیا؟ YOLO میں کہتے ہیں UK میرا عقیدہ یہ تھا، جیسے ہم یعنی "You Only Live Once" زندگی ایک بار ملتی ہے تو پھر زندگی جی بھر کے جیو۔ لیکن اس طرزِ زندگی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا اور جب مقصد نہ ہو تو انسان ایک وجودی بحران کا شکار ہو جاتا ہے جہاں لگتا ہے کہ جینے کی کوئی وجہ ہی باقی نہیں رہی اور میں اپنی زندگی میں کئی بار اس مقام پر پہنچی ہوں جہاں یہ محسوس ہوتا تھا کہ جب روشنی مدھم ہو جائے جب پارٹی ختم ہو جائے تو زندگی کا مطلب کیا بچتا ہے؟ تو اسلام نے مجھے نہ صرف آخرت میں جنت میں دائمی خوشی حاصل کرنے کا مقصد دیا بلکہ ساتھ ہی اللہ نے مجھے ایسی نعمتیں دیں جو میں اس دنیا میں استعمال کرسکتی ہوں جیسے میری آواز اور لوگوں کے ساتھ میری بات

چیت بھی ایک نعمت ہے۔ تو مجھے لگتا ہے کہ اسلام قبول کرنے سے مجھے صرف حتمی مقصد ہی نہیں ملا، بلکہ زندگی کا اصل مقصد بھی مل گیا۔ ایسا اور کیا ہوا جس نے آپ کو اسلام کی جانب مزید مائل کیاَ؟ مجھے قرآن سننا یاد ہے جب پہلی بار سنا اور وہ بہت ہی پراثر تھا اتنی کشش محسوس ہوئی، کہ بس مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ کہہ کیا رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ٹھیک۔ اس وقت میں عربی نہیں سمجھتا تھا مگر اس کی تلاوت نے مجھے چھو لیا۔ اور جب میں نے اسلام کو سمجھا تو مجھے یہ کچھ نیا نہیں لگا۔ یہ کچھ آفاقی سا لگا۔ یوں لگا جیسے یہ ایک تسلسل ہے۔ ایسا نہیں لگا کہ میں بدل رہا ہوں جیسے میں خود کو ڈھال رہا ہوں تمام انبیاء کو جاننا عہدِ قدیم کو جاننا عہدِ جدید کو جاننا۔ مجھے لگا کہ اسلام بس آخری پیغام ہے۔ اور پھر آخرکار یہ سمجھ

آیا کہ اسلام وہی پیغام ہے جو ہمیشہ سے چلتا آیا ہے۔ یہ قابل فہم ہے۔ ایسے جیسے "لا إله إلا الله، موسیٰ رسول الله " "عیسیٰ رسول الله" "نوح رسول الله، ابراہیم۔۔۔" اور اب ہے "لا إله إلا الله، محمد رسول الله" یہ ایک ہی پیغام ہے بس ایک چیز مستقل ہے "لا إله إلا الله" اور باقی بدلتا رہتا ہے۔ یعنی انبیاء بدلتے رہے یہ بالکل کامل تھا۔ آپ کئی بار عمرہ کرنے جا چکے ہیں لیکن جب آپ نے پہلی بار عمرہ کیا تو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا، اور کیوں؟ جب میں مسجد الحرام گیا اتنے سارے لوگ ایک جگہ پر، ہر نسل کے ہر رنگ کے، بلکہ ہرایک ملک کے۔ میں سمجھ گیا کہ یہی اصل جواب ہے یہ لوگ یہاں آئے تھے حج کرنے، اللہ کے لیے۔ یہ ویٹیکن جیسا نہیں ہے لوگ وہاں پوپ کو دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں یا۔۔۔ لیکن یہاں اللہ کے لیے تھے۔ یہ سچے

ایمان والے لوگ ہیں۔ اور پھر یہاں علاج تھا نسلی تعصب کا جواب تھا۔ یہ عالمی امن کا پیغام ہے۔ اور یہی لمحہ میرے لیے فیصلہ کن تھا۔ اسلام دراصل ہر بیماری کا علاج ہے ہر مسئلے کا حل ہے۔ یہ زندگی کا رہنما ہے۔ زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ تحقیق کے دوران آپ کو سب سے زیادہ کون سی بات نے حیران کیا؟ ہندہ کی کہانی ایسا لگا جیسے اندر کچھ بدل گیا ہو جیسے کوئی سوئچ آن ہو گیا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ ہندہ جو دشمنوں میں سے ایک کی بیوی تھی یعنی ابو سفیان کی اُس نے حضرت حمزہؓ کو شہید کروانے کے لیے پیسے دیے تھے جو نبی ﷺ کے سب سے محبوب چچا تھے۔ اور پھر یہی میدان جنگ میں بھی ہوا۔ حضرت حمزہؓ شہید ہو گئے دشمنوں نے ان کے کان کاٹ دئیے اور ناک کاٹ دی اور دلخراش سلوک کیا۔ تو نبی ﷺ بہت رنجیدہ ہوئے یقیناً

جو کچھ ہوا تھا اس پر اور پھر کئی برسوں بعد آپ ﷺ کو غلبہ حاصل ہوا۔ اور آپ مکہ میں فاتح بن کر آئے اور پھر ہندہ سامنے آئی اور میں کتاب پڑھ رہا تھا تو میں نے سوچا، اب اس کو تو سولی چڑھایا جائے گا یا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا یا کچھ اس جیسا ہوگا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ابھی اس کی طرف نہیں دیکھ سکتا لیکن سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔ اور اگر تم رکنا چاہتی ہو اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہو تو رہ سکتی ہو۔ اگر تم ایسا نہ چاہو، تو جا سکتی ہو لیکن اب خون بہانے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ اور میں نے سوچا کہ اسے معاف کر دیا گیا؟ اور اگر آپ کسی ایسے شخص کو معاف کر سکتے ہیں جس نے آپ کے کسی عزیز خاص طور پر آپ کے محبوب چچا کو قتل کیا ہو لوگوں کو دکھایا ہو تاکہ وہ آپ کو رسوا کر سکے۔ اور پھر بھی آپ اس پر قائم ہیں

تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا کردار بے مثال ہے۔ بے حد عظیم ہے۔ ایسا عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اور نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تو میں نے سوچا کہ واقعی یہ غیر معمولی شخصیت ہیں اور جب میں نے یہ سوچا تو پھر میرے پاس دلائل بھی تھے کہ وہ نبی ہیں۔ اور میں ان کا کردار دیکھتا ہوں وہ کیسے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتے۔ میں نے دیکھا وہ دشمنوں سے کیسے پیش آئے۔ تو یقین ہوگیا کہ آپﷺ نبی ہیں۔ لیکن پھر میں نے سوچا یہ تو حیران کن ہے کیونکہ میں تو پہلے ہی اللہ کی وحدانیت کو مان چکا ہوں اور اب میں کہہ رہا ہوں کہ محمد ﷺ نبی ہیں اور اگر میں کہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں تو یہ تو تقریباً شہادت ہی ہے۔ تو میں نے سوچا اچھا چلو اب کتابیں بند کرو۔ بس روک جاؤ یہ معاملہ خطرناک سمت میں جا رہا ہے۔ ہم ایک فلاحی

تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے، آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے ، حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے۔ حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے اعمال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجر عظیم پاسکتے ہیں، ان شاء اللہ ۔ کو عطیہ دیں Towards Eternity اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں نبی کریم ﷺ کی وہ کون سی صفت ہے جس نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟ نبی کریم ﷺ ہمیشہ لوگوں کے مزاج کے مطابق ان سے گفتگو فرمایا کرتے۔ یہ اُن کی ایک حیرت انگیز صفت تھی۔ اُن کا رویہ ہر ایک سے ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کے مطابق بدلتا تھا۔ میرا مطلب ہے، وہ ہمیشہ انصاف کرتے۔ لیکن اگر کوئی بچہ ان کے پاس آتا تو وہ ویسے ہی ہوجاتے۔ اگر کوئی صحرائی،

بدُو ان کے پاس آتا تو وہ اس کے مطابق بات کرتے۔ اگر کوئی تعلیم یافتہ شخص آتا تو وہ اس کا انداز اپناتے۔ وہ ہر ایک کے مطابق ڈھل جاتے اگر عورت بات کرتی تو نرمی اختیار کرتے۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی سطح پر آ کر اُن سے بات کرتے تھے۔ حتٰی کہ گفتگو کا انداز بدل جاتا حتیٰ کہ برتاؤ بھی مختلف ہو جاتا۔ اکثر ایسا بھی ہوتا لوگ ایک ہی سوال پوچھتے لیکن آپ ﷺ ان کا پس منظر جانتے ہوئے انہیں ایسے جواب دیتے جو وہ واقعی سمجھ سکیں اور وہ جواب ان سے جُڑ جاتا اور ان کی زندگی بدلنے میں ان کی مدد کرتا۔ یہ بات مجھے بہت خاص لگی آپ کو نبی کریم ﷺ کی کون سی بات سب سے زیادہ متاثر کُن لگی؟ یہ کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے فکری کی اجازت نہیں تھی۔ آپﷺ کو آرام کا کوئی موقع نہیں دیا گیا اگر آپ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں

خصوصاً وہ 13 سال اور وہ تمام جنگیں جن کی آپ ﷺ نے نگرانی فرمائی یا وہ غزوات جن میں آپﷺ شریک ہوئے اور وہ معاہدات جو آپ ﷺ نے لکھوائے جن کا حکم آپ ﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعے وحی کے طور پر دیا گیا۔ اگر آپﷺ کی حیات طیبہ پر نظر ڈالیں جائے تو وہ مسلسل مصروف عمل رہی۔ اور یہ ناقابلِ یقین ہے ایسی مصروف زندگی مسلسل ایک انسان کی ہو سکتی ہے جس کا کام تھا پیغام پہنچانا لوگوں کو نظم میں رکھنا، قاضی بننا ثالثی کرنا لوگوں کو متاثر کرنا، انہیں تعلیم دینا سپاہی بننا اور سپہ سالار بھی ریاست کا سربراہ، شوہر اور دوست بھی۔ آخر وہ یہ سب کچھ کیسے کرتے تھے؟ یہ سب وحی کی بدولت تھا۔ کیونکہ یہ سب فرمان الہٰی تھا۔ اور ظاہر ہے کہ میں اب اسلام مخالف نہیں رہا تھا کیونکہ جو میں نے پڑھا جو میں نےدیکھا، اور جو خود محسوس کیا میں

جو بتانے جا رہا ہوں وہ کسی کہانی جیسا لگ سکتا ہے مگر ایسا واقعی ہوا۔ آخر میں میز پر کئی کتابیں رکھی تھیں اور مجھے ایک ایسا احساس ہوا ہاں اچھا، یہ تو ایک طرح سے شہادت ہے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے میں نے ساری کتابیں بند کی اور اُنہیں اونچی الماری پر رکھ دیا لیکن کتابیں اتنی زیادہ تھیں کہ کئی کتابیں نیچے گر گئیں۔ اور ان میں سے ایک کتاب جو نیچی گری وہ قرآن تھا۔ اور جب میں نے اُسے اٹھایا تو میرا ہاتھ سورۃ نمبر 22 کے صفحے پر تھا آیت نمبر 46۔ اور اُس میں لکھا تھا "آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔" اور میں نے دل میں سوچا یہی تو میری اصل پریشانی ہے۔ کیوں کہ مسئلہ آنکھوں کا نہیں تھا۔ میں واقعی دیکھ سکتا تھا جو کچھ خود ہی لکھا تھا۔ مجھے یہ کتاب لکھنے پر کسی نے مجبور

نہیں کیا۔ کسی نے نہیں کہا کہ تم یہ لکھو یا وہ لکھو۔ میں نے خود ہی لکھنا شروع کیا اور یہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں لیکن میں پھر بھی اس حقیقت کو قبول نہیں کر رہا تھا کہ وہ واقعی نبی ہیں۔ ایک ہی خدا ہے، میں بس مان نہیں رہا تھا۔ یعنی میری آنکھیں نہیں تھیں جو اندھی ہوئی تھیں ہاں مگر میرا دل اندھا ہوا تھا۔ میں قبول نہیں کر پایا۔ میرے خیال سے میرا نفس، یا شاید اسے میری انا کہے لیں میں اسے تسلیم نہیں کر پایا۔ اور میں نے کہا، خدایا مجھے فرق نہیں پڑتا کہ بائبل کا خدا ہے یا پھر قرآن کا، مجھے کوئی نشانی دکھا تاکہ میں 100 فیصد یقین کرلوں کہ یہی صحیح راستہ ہے۔ اور پھر میں سو گیا۔ لیکن جب صبح آنکھ کھلی تو دل کے اندر بڑا سکون تھا۔ تو میں بہت محفوظ محسوس کر رہا تھا اتنا پُرسکون میں کبھی بھی کسی بات کے

لیے نہیں رہا۔ ساری بے چینی سارے شک و شبہات ختم ہو گئے۔ جیسے دھوپ میں برف پگھل جائے۔ اور میں نے دل میں سوچا لگتا ہے کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ اور ظاہر ہے، مجھے یہ بات دوسروں کو بھی جا کر بتانی تھی اسلام کی طرف آپ کے سفر کے آخری مراحل کیا تھے؟ یعنی، ایک دن میں اٹھا اور میں اندر سے بالکل ٹوٹا ہوا تھا۔ اور دل میں آیا اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ تم جانتے ہو، جانتے ہو کہ یہی سچ ہے۔ میں یونیورسٹی گیا وہاں اپنے دوست کمال سے ملا اور میں نے کہا میں چاہتا ہوں تم آج رات میرے گھر آؤ۔ میں نے کہا، مجھے تمہاری مدد چاہیے۔ تو اُس نے پوچھا، خیریت ہے؟ میں بولا، بس تم لازمی آجانا۔ تو اس نے کہا مسئلہ نہیں، میں آجاؤں گا۔ اس دن امتحان تھا میں کچھ دوستوں کے ساتھ اپنے گھر کی اوپری منزل پر پڑھائی کر رہا تھا۔ اور

کمال نے نیچے سے آواز دی میں آگیا۔ میں نے کہا اچھا، میں نیچے آرہا ہوں۔ تو میں نیچے آیا۔ رات کا وقت تھا اور میں نے بس اُسے دیکھا۔ اُس نے پوچھا، کیا مسئلہ ہے بھائی؟ سب خیریت ہے؟ میں نے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ اور وہ بولا اوہ، مجھے اندازہ تھا۔ وہ بولا میں جانتا تھا۔ میں نے کہا، کیا مطلب؟ کہنے لگا، وہ لمبی تراویح یاد ہے؟ اور پھر ہم نے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ وہ بولا میں نے سجدے میں دعا کی یا اللہ اس لڑکے کو تیری تلاش ہے۔ اسے اسلام کی جانب رہنمائی دے۔ یہ اسلام قبول کرلے۔ پھر انہوں نے کہا، میرے پیچھے دہراؤ۔ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ کیا کہنا ہے۔ جب میں نے شہادت پڑھی محض وہ الفاظ ادا کرتے ہی میرے دل سے جیسے ایک بوجھ سا اُتر گیا ہو۔ اس رات جو سکون کی نیند آئی، وہ الگ ہی تھی۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام

غیر مسلموں سے مخاطب ہونے کا موقع ملے اور صرف ایک منٹ کا وقت ہو تو آپ ان سے کیا کہنا چاہیں گی؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اوہ، تم جو اس وقت گھر پر بیٹھے ہو۔ ایسا وقت آتا ہے جب تم نہیں جانتے تم کیوں زندہ ہو۔ اداس لمحات بھی آتے ہیں اور مایوسی و غم کے بھی اور جو کچھ بھی خوشی دیتا تھا وہ بے معنی لگتا ہے۔ تمہیں درد ہوتا ہے اور شاید کبھی کبھی تم نہیں جانتے کہ تم آخر زندہ کیوں ہو تم چاہتے ہو کسی سے مدد مانگو مگر سمجھ نہیں آتا کہ کیسے مانگو۔ اور سب کچھ اجنبی اور غیر حقیقی سا لگنے لگتا ہے۔ اللہ ایک ہے۔ جب تمہیں ایسا لگے تو کسی گلاب کو دیکھو۔ باغ میں کِھلا گلاب دیکھو اور سوچو یہ ہمارے لیے خوشبو بناتا ہے۔ جب تم ایسا محسوس کرو شہد کی مکھیاں دیکھو اور سوچو کہ شہد کا ذائقہ کتنا مزے دار ہے۔ اور اس میں شفا بھی

ہے۔ گلا خراب ہو تو ہم اسے کھاتے ہیں بس ذرا سوچو کہ قدرت ہمارے لیے کس طرح موجود ہے اور یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہوکر درختوں کی جڑوں تک جاتا ہے اور پھر وہ درخت ایک پتّا یا پھول اگاتا ہے اور وہ پھول ایک پھل بن جاتا ہے جسے ہم توڑ کر کھا سکتے ہیں۔ اور اُس میں ہمارے لیے بھلائی ہے اور اپنے رب کی محبت بھری اور مہربان موجودگی کو دل سے محسوس کرو نیت خالص رکھو۔ یہ شاید تمہارے سارے کاموں میں سب سے مشکل چیز ہے۔ ہر حدیث کی کتاب اس حدیث سے شروع ہوتی ہے۔ "إنما الأعمال بالنيات" اعمال کا دورمدار نیتوں پر ہے کیونکہ یہ نیت، خلوص، اور اخلاص کی بات ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں "ما وجدت شيئًا أشدّ عليّ من نيّتي" میں نے نیت سے زیادہ کوئی چیز مشکل نہیں پائی۔ اخلاص۔ اگر تم مخلص

ہو اگر تم واقعی اللہ کو چاہتے ہو، تمہیں اللہ چاہیے تو تم اسے پا لو گے۔ ضرور پا لو گے۔ تو اگر تم مخلص ہو، زندگی میں جو بھی کام کرو میرا خیال ہے کہ آخرکار نتیجہ ہمیشہ اچھا اور مثبت ہی نکلے گا۔ میں اُنہیں یہ کہوں گی اس روزمرہ کی بھاگ دوڑ کے پیچھے کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ یہی سب کچھ نہیں ہے۔ اور اگر تمہیں لگے یہی سب کچھ ہے پھر تو یہ یقیناً سب سے افسوسناک نتیجہ ہے کہ جس تک کوئی پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ زندگی رولر کوسٹر کی طرح ہے۔ آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے مشقتوں سے بھرپور ہے مشکلات سے بھری ہوئی ہے یہ ناانصافیوں اور غموں سے بھری ہوئی ہے۔ تو اگر بس یہی زندگی ہے تو پھر ہمیں تخلیق کیوں کیا گیا؟ میں چاہوں گی کہ لوگ اِس پر غور کریں۔ میں اُن سے کہوں گی کہ وہ زندگی کے سفر پر غور کریں ایک پھول کو دیکھیں کیسے

وہ پھول ایک بیج سے اگتا ہے اور خوبصورتی سے کھلتا ہے اور پھر مرجھا جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے۔ میں ان سے کہوں گی کہ بس سمندر کے کنارے کھڑے ہو جائیں اور اس کی گہرائیوں میں بھی جھانکیں جہاں اندھیروں میں بھی زندگی موجود ہے۔ ایک پتا لیں اُس کے نازک نقش و نگار ی کو غور سے دیکھیں اور خود سے پوچھیں کہ یہ سب آیا کہاں سے؟ یہ سب کس نے بنایا؟ اس پتے کا کیا مقصد ہے؟ اس پھول کا کیا مقصد ہے؟ اس سمندر کا کیا مقصد ہے؟ اور پھر یہ سوچیں کہ میں بھی اسی رب کی بنائی ہوئی مخلوق ہوں۔ تو اگر پتے کا کوئی مقصد ہے اور پھول کا بھی کوئی مقصد ہے تو میرا مقصد کیا ہے؟ بس میں اُن سے یہی پوچھوں گی۔ میں بحیثیت انسان یہ کہوں گا سوچتے کیسے ہیں ہمیں یہ سیکھنا ہوگا۔ یعنی ہم زندگی میں اتنے الجھ گئے ہیں کہ سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

یعنی ہم جی کس لیے رہے ہیں؟ اور کیوں جی رہے ہیں؟ کبھی کبھی زندگی کو روک کر تھوڑا سا سوچنا چاہیے۔ صرف اس بنیاد پر نہ چلیں کہ آپ کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ ایسا ہے کیونکہ میں انگلینڈ میں پیدا ہوا چرچ آف انگلینڈ میں تو میں لازماً عیسائی بنوں گا۔ یعنی اگر میں اسرائیل میں پیدا ہوتا تو میں پھر یہودی ہوتا۔ تو یہ ایسے نہیں ہے سچ کیا ہے، یہ مجھے وراثت کیا ملی اس بارے میں ہے۔ میرا نہیں خیال کہ مذہب وراثت میں ہونا چاہیے۔ ہمیں حق سچ کی تلاش خود کرنی چاہیے۔ اور ہمیں تحقیق کرنی چاہیے۔ میرا پیغام یہ ہوگا میڈیا کی باتوں پر دھیان نہ دیں ان سیاستدانوں کو نہ سنیں جو اسلام مخالف باتیں کرتے ہیں۔ اپنی تحقیق خود کریں۔ آپ اپنے علم و معلومات کے ہمیشہ خود ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر آپ کو کچھ سمجھ نہ آئے تو تحقیق کریں اور

یہ بہت ہی آسان ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سارا مواد ہے۔ آپ اسلام کے بارے میں بہت پڑھ سکتے ہیں مسجد جائیں امام سے بات کریں مسلمانوں کے پاس جائیں اس مذہب کے بارے میں بات کریں اور صرف اندھی تقلید ہرگز نہ کریں اس کی جو میڈیا اور سیاستدان آپ کو بتاتے ہیں۔ اپنی تحقیق خود کریں اور پھر آپ کو پتا چلے گا ان شاء اللہ کہ اسلام ہی حل ہے اور اسلام ہی حق ہے۔ میں دنیا کے تمام غیر مسلموں سے کہنا چاہوں گا کہ آپ مسلمان پیدا ہوتے ہیں۔ آپ یہ جان کر پیدا ہوتے ہیں کہ ایک اعلیٰ ہستی موجود ہے۔ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہے جب آخرکار آپ اُس حالت میں لوٹ آتے ہو جس میں آپ اپنی زندگی کے پہلے دن تھے جب آپ نے دنیا میں سانس لیا جب آپ مسلمان تھے۔ اسی سوچ کی طرف لوٹنا بہتر ہے کیونکہ وہ آپ کی اصل فطرت ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ

ابدی زندگی ہے۔ اور اللہ ایک ہے اور یہی تعلیمات معاشرہ اور لوگ اُس فطری راستے سے بھٹکاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ دیکھیں اسلام کسی قسم کا ایبسٹریکٹ نہیں ہے الگ تھلگ یا محض ایک ثقافتی نظریہ نہیں ہے بلکہ اسلام تو تمام انسانیت کے لیے ایک عالمگیر پیغام ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے بس یہی ایمان کافی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے آخری نبی ہیں بس آپ کو اسی پر ایمان لانا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں بہت زیادہ خوش رہنے لگا اس لیے میں سب کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ وہ مسلمان ہوجائیں کیونکہ یہ انسان کی روح کو سکون دیتا ہے اور دل کو اطمینان دیتا ہے۔ یہی سچ ہے۔ یہ دل اور روح دونوں سے ہم آہنگ ہے۔ کم از کم ایک بار اسلام کے زاویے سے اسے دیکھنے کی کوشش تو کریں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش

کریں۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ مسلمان کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے عمل پر نہ جائیں کیونکہ مسلمان ایسے بھی ہیں جو خود بھی اسلامی طرزِ زندگی پر نہیں چلتے میں بھی ان میں شامل ہوں میں ہمیشہ بطور مسلمان زندگی نہیں گزارتا جو گزارنی چاہیے۔ ہم سب کو۔ لیکن آپ کو اُس ہستی کو دیکھنا چاہیے جو سب کے لیے نمونہ ہے۔ اور وہ ہیں نبی اکرم ﷺ۔ اگر آپ ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو شاید آپ کو وہ ہدایت مل جائے جو آپ کو حق کی طرف لے جائے۔