Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Kya Jannat Mein Hamesha Rehna Boring Ho Sakta Hai? – Jannat Ka Azeem Tareen Lutf!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اگر آپ جنت میں داخل ہوجائیں تو سب سے پہلا کام جو آپ کرنا چاہیں گے وہ کیا ہوگا؟ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک بار تو اس بارے میں سوچتا ہی ہے۔ ہے نا؟ ہر شخص اپنے ذہن کے مطابق مختلف چیزوں کے بارے میں سوچتا ہے ۔ اپنے پیاروں سے ملاقات جو اس دنیا سے جا چکے ہیں اپنی والدہ اپنے والد اور بہن بھائی ان کے ساتھ وقت گزارنا ان کو گلے لگانا اور یہ کہنا کہ مجھے آپ کی بہت یاد آتی تھی ۔ میں ہمیشہ آپ کے لئے دعائیں کرتا تھا ۔ کیا آپ ان لمحات کو محسوس کر سکتے ہیں ؟ پھر انہیں بتانا کہ آپ پر کیا حالات گزرے ۔ ان سے باتیں کرنا، اور ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ مل کر رہنا ۔ کیا یہ زبردست بات نہیں ہے ؟ کچھ بھائیوں سے ہم سوال کرتے ہیں کہ وہ جنت میں جانے کے بعد سب سے پہلا کام کیا کرنا چاہیں گے تو ہمیں ایسے جوابات بھی ملتے ہیں مثلاً اُڑنا چاہیں گے یا کسی تاریخی جنگ میں جانا چاہیں گے ۔ یا کسی تاریخی شخصیت سے ملاقات کرنا ان لمحات کو گزارنے کا تجربہ کرنا اہراموں کو تعمیر ہوتے دیکھنا پہلے انسان اور نبی حضرت آدم علیہ السلام کی تنہائی کا مشاہدہ کرنا۔ حضرت نوحؑ کے طوفان کا مشاہدہ کرنا حضرت ابراہیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے کے منظر کو دیکھنا حضرت موسیٰؑ کا فرعون کے ساتھ مقابلہ دیکھنا جنگِ بدر کا مشاہدہ کرنا اور ان جیسے تمام تاریخی واقعات کا چشم دید گواہ بننا ۔ اگر ہم جنت میں داخل ہوگئے، تو وہاں ہمارے دیکھنے کے لئے بہت سی چیزیں ہیں ۔ وہ تمام چیزیں جن کی ہم خواہش رکھتے ہیں ہمارے سارے خواب پورے ہو جائیں گے ان شاء اللہ ۔ آج ہم بات کریں گے جنت کے بارے میں میرے پاس نبی کریم ﷺ کی کچھ حیرت انگیز احادیث ہیں ۔ ہم کچھ ایسے سوالات کے جوابات بھی دیں گے جن کے بارے میں لوگوں کو اکثر تجسس رہتا ہے ۔ میں آپ سے بالکل بنیادی سوال پوچھتا ہوں کیا ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں ؟ ہم سب چاہتے ہیں، ہے نا ؟ جنت کا منظر کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ بعض اوقات جب آپ اس کے بارے میں سنتے ہیں تو آپ کو یہ کچھ افسانوی باتیں لگتی ہیں ۔ مطلب، جنت میں اڑنا آپ کسی چیز کی خواہش کرتے ہیں اور وہ فوراً وہاں آ جاتی ہے ۔ ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر موجود ہونا ۔ بھائی اگر جنت بہت افسانوی نہ لگتی اور ایک انتہائی عام سی چیز لگتی تو یہ اتنی پرکشش نہ ہوتی ۔ ایک حدیث قدسی میں ارشاد ہے "اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا: میں نے اپنے پرہیزگار بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں، جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھی کسی کان نے ان کے بارے میں نہیں سنا اور کسی انسان کے دل و دماغ میں کبھی ان کا خیال بھی نہیں گزرا(صحیح بخاری، بدء الخلق 8) جو لوگ جنت کو ناقابلِ یقین سمجھتے ہیں انہیں اپنی تخلیق پر نظر ڈالنی چاہیے ۔ کیا یہ بڑی بات نہیں کہ اس نے تمہیں بغیر کسی چیز کے پیدا کر دیا ؟ ہمارا رب ہمیں ایک ایسی جگہ کی دعوت دے رہا ہے جہاں ناممکن، ممکن ہو جائے گا ۔ ہم ایک ایسی جگہ کی طرف جا رہے ہیں جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ کوئی پریشانی نہ کوئی افسوس ۔ نہ کسی قسم کی بری گفتگو ہوگی نہ دھوکہ نہ غیبت ۔ آپ کو ایسا کوئی خدشہ نہیں ہوگا کہ میں نے ایسا کیا تو لوگ مجھ پر تنقید کریں گے لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے آپ کو ایسی کوئی فکر نہیں ہوگی ۔ جس چیز کی آپ خواہش کریں گے وہ آپ کے سامنے آن موجود ہوگی ۔ ایسا کوئی احساسِ محرومی نہیں ہوگا کہ جب جی چاہے تب اپنے پیاروں کے ساتھ مل کر کوئی کام نہیں کر سکتے ۔ آپ سب اکٹھے ہی ہوں گے وہ واقعی امن سے بھرپور جگہ ہوگی ۔ وہ ہمارا اصل گھر ہے ۔ اور ان شاءاللہ اگر ہم امتحان پاس کرلیں تو وہ ہمارا انتظار کر رہا ہے ۔ جنت کی ایک اور تشریح علامہ بدیع الزمان سعید نورسیؒ نے اپنی تفسیر میں بیان کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں '' زمین پر ایک ہزار سال کی خوشگوار زندگی جنت کے ایک گھنٹے کے برابر بھی نہیں ہے ۔ جنت کے ایک ہزار سال اللہ کے دیدار کے ایک گھنٹے کے برابر نہیں ہیں ۔ اس زندگی کے بارے میں مت سوچیں جو آپ اس وقت گزار رہے ہیں ۔ ایک ایسی زندگی کا تصور کریں شروع سے آخر تک خوشیوں سے بھرپور ہو جس زندگی میں ہزارہا سال میں ایک بھی پریشانی نہ آئے ۔ تو یہ کس کے برابر نہیں ؟ جنت کے ایک گھنٹے کے برابر۔۔۔ ہم ایک ایسی زندگی کی بات کر رہے ہیں جو نعمتوں سے بھرپور ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اور جنت کی ایک ہزار سال کی زندگی دیدارِ باری تعالیٰ کے ایک گھنٹے کے برابر بھی نہیں ہے ۔ علامہ نورسیؒ اس کی وضاحت کے لئے ایک حدیث بھی نقل کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے "اور اللہ کے دیدار کی لذت جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ کا دیدار کرنے والے جنت کی سب نعمتوں کو بھول جائیں گے ۔ اور اللہ کے دیدار کے بعد ان لوگوں کے چہروں کی خوبصورتی میں اتنا زیادہ اضافہ ہو جائے گا کہ جب وہ واپس لوٹیں گے ان کے محلات میں موجود، ان کے گھر والے انہیں بمشکل ہی پہچان پائیں گے ۔ وہ بھی بہت غور کرنے کے بعد ۔ تو ہم اللہ جلّ شانہ کے حسن کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟ اس کو یوں سمجھیں رات کا وقت ہو، اور پورا چاند نکلا ہوا ہو ۔ اور اس کی روشنی کا عکس سمندر پر پڑ رہا ہو اس وقت چاند کی روشنی کہاں سے آ رہی ہے ؟ یہ سورج سے آرہی ہے، ہے نا ؟ چاند کی اپنی روشنی نہیں ہوتی ۔ بالکل اسی طرح ۔ کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جب ہم زمین پر زندگی سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ آپ بہت خوش محسوس کرتے ہیں ۔ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں آپ اپنے گھر والوں سے گلے ملتے ہیں تو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دنیا کی تمام خوبصورتی کا مطلب کیا ہے ؟ یہ سب کے سب سایہ ہیں اللہ کی خوبصورتی کے سائے کا جو بہت سے پردوں میں پوشیدہ ہے ۔ اب یہاں میرے ہاتھوں میں ایک آئینہ ہے ۔ جو سورج کی روشنی منعکس کر رہا ہے ۔ آئینے میں سورج سے مجھے محبت ہے بالکل اسی طرح ہم ان پردوں سے محبت کرتے ہیں جو اللہ کی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں ۔ پھر ایک دن وہ آئینہ جس سے آپ کو محبت ہے، ٹوٹ جاتا ہے مثال کے طور پر زندگی میں آپ کو کچھ مشکلات پیش آتی ہیں ۔ آپ سر اٹھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ خوبصورت روشنی آئینے کی اپنی نہیں تھی بلکہ وہ تو سورج سے آ رہی تھی بالکل اسی طرح جب ہم درمیان میں حجابات ہٹاتے ہیں تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ وہ تمام خوبصورتی جو ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں اللہ کی طرف سے ہے یقیناً، جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا ہم جنت میں ہمیشہ رہ کر کبھی بور نہیں ہو جائیں گے؟ سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ تھکیں گے نہیں اور نہ ہی وہ اسےکبھی چھوڑنا چاہیں گے اللہ جلّ شانہ جس نے بوریت کا تصور پیدا کیا ہے وہ لامحالہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ آپ بور نہ ہوں ۔ مثال کے طور پر آپ نے اپنی پیدائش سے لیکر اب تک اس دنیا میں، کتنی قسم کے کھانوں کا مزہ چکھا ہے ؟ ہم دنیا میں ذائقوں کی ایک بہت محدود سی مقدار کا مزہ چکھتے ہیں اور ان میں سے ہی کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں حیران کر دیتے ہیں دنیا میں سینکڑوں قسم کے کھانے ایسے ہیں جو صرف زیتون کے تیل سے بنائے جاتے ہیں ۔ ٹماٹر ایک ذائقہ ہے ۔ انڈے کا ایک الگ ذائقہ ہے ۔ مرچ کا اپنا ذائقہ ہے ۔ اور جب ان سب کو آپس میں ملا دیا جائے تو آپ کو ایک اور الگ ذائقہ ملتا ہے ۔ آئیے غور کریں ۔ ہم نے جو زندگی گزاری ہے وہ ایسے ہے گویا سمندر کے مقابلے میں ایک گلاس پانی اور ہم اس سے خوش ہیں ۔ تو پورے سمندر کا کیا عالم ہوگا ؟ اس وقت تک شاید ہم نے دنیا کے کھانوں کا ایک فیصد ہی چکھا ہوگا ۔ جب ہم جنت کے ذائقوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لاکھوں میں سے ایک ہی چکھ پاتے ہیں ۔ اب یہ سوچیں کہ اللہ جلّ شانہ کے علم اور قدرت میں کیا کچھ ہو سکتا ہے جو اس نے اس دنیا میں نہیں بھیجا ہوگا جو وہ جنت ہی کیلئے پیدا کرے گا پھر، صرف کھانوں میں سے ہم نے لاکھوں میں سے ایک چیز چکھی ہے سورۃ الزخرف میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جس کی کوئی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی ۔ اور آپ ہمیشہ کے لئے وہاں رہیں گے ۔ جنت میں ۔۔۔ اپنے پسندیدہ پھل کا تصور کریں ۔ آپ اسے کھاتے ہیں اور ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اور اگلی بار جب آپ اسے کھائیں گے تو وہ پہلے سے زیادہ لذیذ ہو گا ۔ لہٰذا وہاں یکسانیت یا بوریت جیسی کوئی چیز نہیں اور ہمیشہ کیلئے خوشیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا جنت کے آٹھ درجے ہیں ۔ ہر ایک کا اسٹیٹس مختلف ہے ۔ لیکن کیا ہم اپنے پیاروں سے جدا ہو جائیں گے اگر ہمارے درجات مختلف ہوئے ؟ آٹھویں درجے کا کوئی شخص پہلے درجے کے کسی شخص سے کیسے ملے گا یہ بھی بڑے تجسس کی بات ہے علامہ بدیع الزمانؒ اپنی تفسیر '' رسائلِ نور'' میں اسے بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں جب وہ جنت کو بیان کرتے ہیں تو حدیث نبوی (ﷺ) سے آغاز کرتے ہیں ہمارے نبی کریم (ﷺ) فرماتے ہیں: "انسان جنت میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوگا ۔" مثال کے طور پر کہ میری ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت بہت اعلیٰ ہے لیکن آپ کی یہ صلاحیت کم ہے میری بینائی اچھی ہے اور میں بہت دور دیکھ سکتا ہوں ۔ آپ کی بینائی بھی اچھی ہے لیکن آپکی بینائی میرے جتنی اچھی نہیں ہے ۔ ہم ایک جگہ پر، ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں جہاں کا نظارہ بہت خوبصورت ہے اور ہم ایک ہی کھانا کھا رہے ہیں کون زیادہ لطف اندوز ہوگا ؟ میں ہوں گا ۔ کیوں ؟ کیونکہ میری دیکھنے کی صلاحیت اور ذائقے کی پہچان زیادہ ہے ۔ اسی طرح، جنت میں اگر ہم ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے ہیں اپنے دوست کے ساتھ، ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں جو لطف ملے گا وہ مختلف ہوگا اور کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی کہ ہمارے درمیان کوئی فرق ہے سب مطمئن ہوں گے۔ اپنے ذاتی تجربے کے اعتبار سے ۔ جنت کے بارے میں سب سے دلچسپ بات کیا ہے ؟ جنت میں، آپ کو ایک نئی چیز کا تجربہ ہوگا ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر موجود ہونا ۔ سبحان اللہ!

ذرا تصور کریں۔۔۔ اس وقت آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مدینہ کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں ۔ اور اسی وقت آپ اپنے پسندیدہ کھانے سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں اور اسی وقت آپ مریخ پر جا رہے ہیں ۔ ایک ایسی زندگی کا تصور کریں جہاں تمام خوشیاں اور ان تمام چیزون کا تجربہ ساتھ ساتھ ہوگا ۔ آپ بیک وقت کئی مختلف مقامات پر ہیں اور آپ ان سب خوشیوں کو ایک ساتھ محسوس کر رہے ہیں ۔ اللہ اکبر!

خوشیاں ہر لمحے بڑھتی رہیں گی ۔ جب میں اسے بیان کرتا ہوں تو ممکن ہے کچھ دوست سوال کریں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ برادر جب آپ اپنی ماں کے پیٹ میں تھے ۔ اگر اس وقت کوئی شخص آپ کے سامنے باہر کی دنیا کا منظر بیان کرتا تو کیا آپ کیلئے ماں کے پیٹ میں اس سب کو سمجھنا ممکن تھا ؟ وہ آپ کو بتاتے کہ دنیا میں ”قوسِ قزح“ نامی ایک چیز ہوتی ہے ۔ لیکن آپ صرف تاریکی اور اندھیرے کو جانتے تھے اس کے علاوہ آپ اور کچھ نہیں جانتے تھے ۔ بالکل ۔ آپ یہ سب سمجھ نہ پاتے ۔ لہٰذا یہ بہت عام سی بات ہے کہ آپ کو یہ سب ایکدم سمجھ نہیں آئے گا ۔ ہم ایک مختلف جہان کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ ایک مشہور کہاوت ہے جو کہتی ہے کہ یہ پیمانہ اتنا وزن برداشت نہیں کر سکتا ۔ ایک ترازو کا تصور کریں جس کی صلاحیت 100 کلوگرام تک وزن کی ہے ۔ اگر آپ اس پر دو ٹن وزن ڈال دیں تو کیا ہوگا پھر؟ وہ برداشت کر ے گا ؟ نہیں، وہ برداشت نہیں کرسکے گا ۔ اسی طرح، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمارے لئے ایسا کچھ تیار رکھا ہے ایسی خوبصورتی جو ہمارے ذہن برداشت نہیں کر سکتے کیا یہ دلچسپ بات نہیں ہوگی کہ آپ کسی ایسی خوبصورتی میں داخل ہوں جس کا پہلے سے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ؟ اس حدیث قدسی کو یاد رکھیں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں، جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے دل و دماغ میں کبھی ان کا خیال بھی نہیں گزرا ہوگا۔ سورہ القاف میں اللہ کا ارشاد ہے وہاں جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ہمارے پاس ان کیلئے اور بھی بہت کچھ ہے۔ دیکھتے ہیں، کہ وہاں ہم کیا کچھ دیکھیں گے، ان شاء اللہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہم ایک خاص دریا میں غسل کریں گے ۔ اس دریا کا پانی، انسان کے جسم سے ہر قسم کی نجاست کو دور کر دے گا۔۔۔ اس کے بعد جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور آپ کو آپ کے اعمال کے مطابق کسی ایک دروازے سے بلایا جائے گا ۔ مثلاََ اگر آپ نمازوں کی خوب حفاظت کرتے تھے تو آپ کو ”نماز کے دروازے“ سے بلایا جائے گا ۔ اگر آپ صدقہ کثرت سے کرتے تھے تو آپ کو ”صدقہ کے دروازے“ سے بلایا جائے گا ۔ اگر آپ روزوں کا زیادہ اہتمام کرتے تھے تو آپ کو ”باب الریّان“ سے بلایا جائے گا ۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تمام دروازوں کے اوپر کیا لکھا ہوا ہوگا ؟ ان پر لکھا ہوگا "لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ" کیا آپ نے کبھی ”حوضِ کوثر“ کے بارے میں سنا ہے ؟ وہ کیا ہے؟ یہ ایک پانی کا حوض ہے جہاں ہمارے پیارے نبی(ﷺ) اپنی امت سے ملاقات کریں گے اور آپ (ﷺ) انہیں ایک مشروب پیش کریں گے ۔ کوثر کا پانی اس قدرلذیذ ہے کہ ایک بار جب کوئی شخص اسے پینا شروع کر دے تو پھر وہ اس سے اپنا سر نہ اٹھائے اگر اللہ کی رحمت نہ ہو یہ اللہ کی رحمت ہی ہے جو آپ کو روکتی ہے ۔ یہ حدیث بہت زبردست ہے ۔ ہمارے نبی (ﷺ) نے 1400 سال پہلے اپنے صحابہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کا تذکرہ کیا ہے نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کاش!

میں اپنے بھائیوں کو حوض پر آتے دیکھتا اور ان کا استقبال شربت کے پیالوں سے کرتا کاش!

میں انہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے اپنے کوثر سے سیراب کرتا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجماعین نے سوال کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی کریم (ﷺ) نے جواب دیا تم میرے ساتھی، میرے دوست ہو ۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے باوجودیکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا ۔ بے شک میں نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ میری آنکھیں ٹھنڈی کرے تمہاری ملاقات سے اور ان لوگوں کی ملاقات سے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے ۔ تو ہمارے پیارے نبی (ﷺ) کے دل میں آپ سے ملاقات کی خواہش ہے وہ آپ سے ملاقات چاہتے ہیں آپ کو حوضِ کوثر کا پانی پلانا چاہتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ۔ ان روایات کو پڑھتے ہوئے ایک انسان کیا محسوس کرتا ہے ؟ وہ کچھ شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اپنے ماضی کے بارے میں سوچتا ہے جو غلطیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ان کاموں کے بارے میں سوچتا ہے جو اس نے اس حقیر دنیا کی خاطر کیے محض تھوڑی سی خوشی کے لئے ۔ ایک طرف دیکھا جائے تو کامل جنت ہے ۔ جس کی خوبصورتی ہمارے تصور سے باہر ہے ۔ لیکن یہاں شاید ایک فون کے لئے شاید تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے ۔ آپ ایسی زندگی گزار رہے ہیں گویا آپ اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتے اور آپ کو اپنے دل میں اس پر کوئی پچھتاوا بھی محسوس نہیں ہوتا ۔ اگر ہم تھوڑی سی تنخواہ کی خاطر گھنٹوں کام کر سکتے ہیں لیکن اپنے رب کو ایک گھنٹہ بھی نہیں دے سکتے اپنی نمازوں کے لیے وقت نہیں نکال سکتے ۔ تو ہمیں رک جانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ جنت، دنیا کی طرح کوئی عارضی، معمولی سی تنخواہ کی آفر نہیں دیتی تھوڑے سے دنیوی فائدے کے لیے ایسے جیسے کسی بچے کو ٹافی دے دی جائے ۔ شیطان آپ کو ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتا ہے گویا آپ کا کوئی دین ہی نہیں نبی کریم (ﷺ) کے اس ارشاد کو سننے کے بعد آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ توبہ، ٹھیک ہے ؟ توبہ کر لیں ۔ میرے نبیؐ کے دل میں میرے لیے ایسی محبت ہے جب قیامت کے دن ہر شخص ایک دوسرے سے دور بھاگ رہا ہوگا نفسا نفسی کا عالم ہوگا ہر شخص”نفسی، نفسی“ کہہ رہا ہوگا ایک ہی ذات ہو گی ہمارے نبی کریم (ﷺ) کی ہستی ہوگی جو کہیں گے "میری امت!، میری امت!" اور وہ بے پناہ محبت اور شفقت کے ساتھ دوڑ کر تمہاری مدد کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس دنیا میں نبی کریم (ﷺ) پر مشرکین کی جانب سے جانوروں کی اوجھڑی آپ پر ڈالی گئی آپ (ﷺ) نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں اس مقصد کو چھوڑتا ہوں ۔ آپ (ﷺ) نے جدوجہد جاری رکھی ۔ آپ کوشش کرتے رہے تاکہ یہ سچائی آج آپ تک پہنچ سکے ۔ آپ (ﷺ) نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا شدید تکلیفیں برداشت کیں متعدد بار آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی اس مقصد کی خاطر، آپ (ﷺ) نے پورے جزیرہ نما عرب کا مقابلہ کیا، تاکہ یہ آپ تک پہنچ سکے ۔ لیکن آپ اس طرح بے فکری سے جی رہے ہیں گویا یہ سب، حقیقت ہی نہیں ہے ۔ میں کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر آپ بے عیب ہیں براہ کرم کوئی غلطی نہ کریں ۔ لیکن ہم سب میں غلطیاں ہیں ۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں ۔ ہم گناہ کر بیٹھتے ہیں ۔۔۔ جس طرح یہ گفتگو ختم ہو جائے گی ۔ اسی طرح آپ کی زندگی بھی ختم ہو جائے گی اور آپ قبر میں ہوں گے ۔ ایک بیج زمین میں جاتا ہے اور ایک مکمل نئی زندگی شروع کرتا ہے ہے نا ؟ درحقیقت، بیج کی موت ایک نئی زندگی کا آغاز ہے ۔ جب آپ زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں آپ کی بھی ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے کیا آپ حقیقی سوال جاننا چاہتے ہیں ؟ آپ وہاں کس جانب ہوں گے ؟ ذرا تصور کریں اپنے بارے میں آپ نے حرام کو چھوڑ دیا ۔ آپ نے اپنی زندگی حلال طریقے سے گزاری اور پھر آپ، اپنی زندگی کے 40، 50، 60 سال گزار کر فوت ہوجاتے ہیں ان شاء اللہ آپ اس جگہ جائیں گے جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ۔ ذرا غور کریں کیا آپ حضرت یوسف علیہ السلام سے ملنا نہیں چاہیں گے کیا آپ متجسس نہیں ہیں ؟ کیا ایسی جگہ جہاں آپ حضرت آدم، حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (ﷺ) کے ساتھ ہوں علیہم الصلاۃ والسلام یا اپنے دادا، دادی اپنے والد، والدہ اور اپنے پیاروں کے ساتھ ہوں اور آپ کو ایک آواز سنائی دے ۔ ”میری جنت میں داخل ہو جاؤ“ آپ مڑ کر دیکھتے ہیں ۔ اب کوئی تکلیف باقی نہیں رہی ۔ سب ختم ہوچکی، نہ کوئی درد ہوگا نہ کوئی غم، نہ کوئی تناؤ ہوگا نہ کوئی بے چینی ہوگی ۔ کیا جنت میں ایسے لوگ ہوں گے جو آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتے ہوں ؟ بالکل بھی نہیں ہوں گے۔ آپ کے تمام خوف پیچھے رہ گئے ۔ آپ کے سامنے ایک جنت ہے جہاں ہم ہمیشہ رہیں گے۔ ہمارے پیارے نبی (ﷺ) حوضِ کوثر کے سامنے آپ کا استقبال کرتے ہیں تو براہ کرم آئیے ہم اپنی زندگیوں کے بارے میں فیصلے کریں ۔ اٹھیے اور اپنی آنکھیں کھولیے ۔ آئیے حلال کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزاریں ۔ تقویٰ کے دائرے میں، سنت کے دائرے میں ۔ اور جب ہماری زندگی ختم ہو گی ۔ تو آئیے ہم اپنے پیارے نبی (ﷺ) سے ملاقات کریں ان سے گلے ملیں، اور کہیں یا رسول اللہ میں نے اس دن تک پہنچنے کے لئے بہت جدوجہد کی ہے ۔ میں بہت بار گرا ہوں ۔ میں اٹھ گیا ہوں میں نے نماز پڑھنا شروع کر دی ہے ۔ لوگوں نے میرا مذاق اڑایا کیونکہ میں نے حرام چیزوں سے انکار کر دیا تھا آپ کے راستے پر چلنے کی وجہ سے انہوں نے میرا مذاق اڑایا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری ۔ میں نے ہمیشہ اس دن پر نظر رکھی جس دن آپ مجھے گلے لگائیں گے اور مجھے ہمیشہ اس دن کا انتظار رہا جب آپ مجھے اپنا بھائی کہیں گے یا اپنی بہن کہیں گے سبحان اللہ!

اگر ہم یہ کر سکیں، تو بھائیو ہم وہاں ہمیشہ رہیں گے کبھی وہاں سے نہیں نکلیں گے ان حرام چیزوں کے بارے میں سوچیں جن کو آپ اپنی زندگی سے نکالنے پر آمادہ نہیں ہیں کیا آپ کو ان سے ایسی خوشی مل رہی ہے جو نبی کریم (ﷺ) کے گلے لگنے سے بڑھ کر ہو ؟ اگر آپ کا جواب ”ہاں“ ہے تو ٹھیک ہے پھر اپنی زندگی اسی طرح گزارتے رہیں ۔