کیا قرآن بدلا گیا ہے؟ قرآن عربی میں کیوں ہے؟ | انٹروگیشن 1# ۔
تاریخ اشاعت
اللہ نے ایک سے زیادہ مذہب کیوں بناۓ ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ ہر دور میں مختلف مذہب کو آنا چاہیے جبکہ پچھلے 1400 سالوں سے ایک ہی مذہب ہے کیا نیا مذہب نہیں آنا چاہیے؟ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ قرآن میں کوٸ تبدیلی نہیں کی گٸ ہے؟ قرآن عربی میں ہی کیوں اتارا گیا ، کسی دوسری زبان میں کیوں نہیں؟ ہمیں کیسے پتا چلے کہ خالق کاٸنات اس زمان و مکان (وقت اور مقام) کا پابند نہیں ہے؟ کیا آپ کے پاس اس کا کوٸ ثبوت ہے؟ اللہ نے ایک سے زیادہ مذہب کیوں بناۓ ہیں؟ نوع انسانی ہمیشہ سےاس طرح نہیں تھی۔ اور یہ سب یہ زیادہ قابل غور بات ہے۔ ہم مختلف ادوار زندگی سے گزرتے ہوۓ آج کے دور میں آئے ہیں۔ لہذا ، آپ ماضی سے آج کے معیار زندگی کا موازنہ نہیں کرسکتے ہیں۔ زرا سوچیں: آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں ، اگر جنگ کے بارے میں آیات اور شریعت آتی تو یہ بہت ہی غیر منطقی ہوتا کیونکہ اس دور میں کوئی جنگ نہیں ہوٸ تھی۔ نیز ، ہم تعلیم میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ پرائمری سے نیورسٹی تک سیکھنے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، بچہ بالغ ہوتا ہے ، اوریکسربدل جاتا ہے۔ اسی طرح، انسان بھی ابتدا سے اسی درجے پر نہیں رہا ہے ، موجودہ مقام تک آنے پر یہ بہت بدل چکا ہے۔ اورجب ہم انتہائی مناسب معیار پر پہنچے تب اس نے آخری شریعت بھیجی۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہر دور میں مختلف مذہب کو آنا چاہۓ جبکہ 1400 سالوں سے یہ ایک ہی مذہب ہے۔ کیا نیا مذہب نہیں آنا چاہیے؟ یہ سوال تھوڑا سا دل کولگتا ہے: اگر ایک شخص ہے جو کسی کتاب کو اعلیٰ سطح پر پڑھ رہا ہے جس پر عمل کرتےہوۓ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، اور آپ اس آدمی سے کہتے ہیں: "آپ نے کنڈرگارٹن میں تعلیم حاصل کی تھی ، پھر یونیورسٹی میں اس سے بھی بہتر اگرچہ آپ ابھی بہترین سے سیکھ رہے ہیں ، مگر آپ کوٸ دوسری کتاب تلاش کیوں نہیں کرتے؟ آپ کا سوال یہ کہنے کے مترادف ہے ، "کیا نئی کتاب نہیں آنی چاہیے ؟" یہ وہی توہے.
قرآن…
یعنی ، آنے والی آخری شریعت ، جوسب سے زیادہ سود مند اور تمام انسانیت کے لۓ مشعل راہ ہے۔ یہ اعلیٰ درس دیتا ہے۔ اس سے افضل کچھ ایسا نہیں ہے ، جسے تلاش کیا جاۓ۔ اگرانسان بہترین سے سیکھ رہا ہے، تو وہ محض بہتر کی تلاش میں کیوں رہے؟ روۓ زمین پراس جیسا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ ہم جامع اورکامل کتاب کی بات کر رہے ہیں۔ لہذا، یہ سوال انتہائی غیر ضروری ہے۔ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب وحی آئی تو کافروں اور مسلمانوں نے یہ آیات حفظ کر لیں ، اس کے کلام میں صرف ادبی انداز ہی نہیں بلکہ فصاحت بھی ہے۔ لہذا ، انہوں نے حفظ کرکے اسے دوسروں تک پہنچایا۔ نیز ، ہر چیزکاتبین وحی کے ذریعہ محفوظ کی گئی تھی۔ یہ سب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھا گیا تھا، اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اکٹھا کیا گیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ترتیب و تالیف پر کام کیا گیا ایک قرآن توپکاپی محل (میوزیم) میں ہے ، یہ بالکل اسی صورت میں ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر قرآن ایک جیسا ہے۔ اس سےثابت ہوتا ہے کہ اصل کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن عربی میں ہی کیوں اتارا گیا ، کسی دوسری زبان میں کیوں نہیں؟ میں یہ جاننے کا آرزومند ہوں کہ آخر یہ سوال ہی کیوں پوچھا جاتا ہے ...
کیونکہ اگر یہ ترکی زبان میں آتا تو ہم پوچھتے "یہ ترکی زبان میں کیوں آیا؟" اور اسی طرح.
ہم ان سوالات کو دہراتے رہتے۔ بہرحال کسی ایک زبان کا انتخاب تو کرنا ہی تھا۔ نیز ، اس سے قرآن کی درستگی پر کوٸ فرق نہیں پڑا ہے۔ ہم زبان کی وجہ سے قرآن کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ہاں مگرعربی ہی کیوں؟ یقینا ، اس کے پیچھے بہت سی حکمتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ادویات کی مانگ تھی۔ تب ایک معجزہ ہوا اور تمام طبی ماہرین نے کہا: "ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ تو کسی بھی شے سے زیادہ عظیمُ الشان ہے۔" اور یہ نبوت کا ثبوت تھا۔ جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، فصاحت و بلاغت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ شاعروں کا شہنشاہوں کی طرح احترام کرتے تھے۔ تب قرآن علمی اعتبار سے اتنی جدید صورت میں آیا کہ لوگوں کے لۓ اسے سمجھنا آسان ہوگیا: ”ہم علمیت میں کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوجاٸیں ، قرآن سے آگے ہر گزنہیں بڑھ سکتے ہیں۔“ اس کے علاوہ ، ایک چیلنج خود قرآن میں ہے۔ جس کا مفہوم ہے؛ "اگر تم کہتے ہو کہ: یہ کسی انسان نے لکھا ہے ..." ، "...تو پھراس جیسی ایک سورت لے آٶ"۔ وہ لوگ جو علم وادب میں بہت ترقی یافتہ تھے ، وہ بھی کچھ لکھنے کے بجائے آپس میں ہی لڑ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے لیے 350K تفسیریں لکھی گئی ہیں۔ کچھ لوگ قیاس کرتے ہیں کہ ایسا اس لۓ ہےکہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، قرآن کے معنی بہت وسیع اور ہرعمر کے لیے موزوں ہیں۔ اس کا متن اسقدر مکمل اور جامع ہے کہ ، اس کے لیے 350K تفسیریں لکھی گٸ ہیں۔ گویا کہ سمندر سے ہزاروں ایسک نکالے گۓہیں۔ یہ معدنیات کی حد یا پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔ بلکہ یہ قرآن کی جامعیت کو ظاہر کرتا ہے ، یہ ہی اس کی تفاسیرسے عیاں ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کتنے وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگ گیا۔ شاید ایک منٹ گزرگیا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا موضوع نہیں ہے جس پر مختصر بحث کی جائے ، مجھے امید ہے کہ میرا جواب ٹھیک ہے۔ ہمیں کیسے پتا چلے کہ خالق کل اس زمان و مکان (وقت اور مقام) کا پابند نہیں ہے؟ بغیر کسی مذہبی نقطہ نظر کے ، اگر ہم کائنات کو حقیقی نظر سے دیکھیں ، جو بھی کاٸنات کے ان تمام افعال کی تکمیل کرتا ہے ، وہ ضرور زمان و مکان سے ماورا ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ ، اگر کچھ بھی زمان و مکان میں محفوظ کیا جاتا ہے ، یہ مختلف جگہوں پر ایک ہی وقت میں کام نہیں کر سکتا ہے۔ مثلا ایک مچھلی ایک ہی وقت میں بحراوقیانوس اور بحر الکاہل میں تیر نہیں سکتی ہے۔ کیونکہ ، یہ زمان و مکان کی پابند ہے۔ یا پھر آپ یہاں بیٹھ کر بیک وقت کہیں اور موجود نہیں ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ؟ ہم زمان و مکان کے ساتھ محدود ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں ، اگر کوئی خدا ہے تو، وہ ابھی آپ کواور مجھے دونوں کو بیک وقت سنبھال رہا ہے ، کسی بچے کی پرورش کرنے ، مچھلی کو خوراک دینے اور سبزہ اگانے کے تمام تر اسباب بھی مہیا کرتا ہے ۔ اور یہ تمام کام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ بلاشبہ ، اگر وہ زمان ومکان کا پابند ہوتا ، تو وہ بیک وقت مختلف جگہوں پر کام نہیں کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک معبود ضرور ہے جیسا کہ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹ: (0:46) نوٹ: شریعت اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام احکامات ہیں بعض ادوار کی اپنی شریعت تھی۔ نوٹ: (3:09) یہ ایک ایسی کتاب کے لیے کافی منطقی تھا جو کہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی جیسی بھرپور ذخیرہ الفاظ والی زبان میں آئے۔
قرآن…
یعنی ، آنے والی آخری شریعت ، جوسب سے زیادہ سود مند اور تمام انسانیت کے لۓ مشعل راہ ہے۔ یہ اعلیٰ درس دیتا ہے۔ اس سے افضل کچھ ایسا نہیں ہے ، جسے تلاش کیا جاۓ۔ اگرانسان بہترین سے سیکھ رہا ہے، تو وہ محض بہتر کی تلاش میں کیوں رہے؟ روۓ زمین پراس جیسا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ ہم جامع اورکامل کتاب کی بات کر رہے ہیں۔ لہذا، یہ سوال انتہائی غیر ضروری ہے۔ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب وحی آئی تو کافروں اور مسلمانوں نے یہ آیات حفظ کر لیں ، اس کے کلام میں صرف ادبی انداز ہی نہیں بلکہ فصاحت بھی ہے۔ لہذا ، انہوں نے حفظ کرکے اسے دوسروں تک پہنچایا۔ نیز ، ہر چیزکاتبین وحی کے ذریعہ محفوظ کی گئی تھی۔ یہ سب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھا گیا تھا، اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اکٹھا کیا گیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ترتیب و تالیف پر کام کیا گیا ایک قرآن توپکاپی محل (میوزیم) میں ہے ، یہ بالکل اسی صورت میں ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر قرآن ایک جیسا ہے۔ اس سےثابت ہوتا ہے کہ اصل کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن عربی میں ہی کیوں اتارا گیا ، کسی دوسری زبان میں کیوں نہیں؟ میں یہ جاننے کا آرزومند ہوں کہ آخر یہ سوال ہی کیوں پوچھا جاتا ہے ...
کیونکہ اگر یہ ترکی زبان میں آتا تو ہم پوچھتے "یہ ترکی زبان میں کیوں آیا؟" اور اسی طرح.
ہم ان سوالات کو دہراتے رہتے۔ بہرحال کسی ایک زبان کا انتخاب تو کرنا ہی تھا۔ نیز ، اس سے قرآن کی درستگی پر کوٸ فرق نہیں پڑا ہے۔ ہم زبان کی وجہ سے قرآن کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ہاں مگرعربی ہی کیوں؟ یقینا ، اس کے پیچھے بہت سی حکمتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ادویات کی مانگ تھی۔ تب ایک معجزہ ہوا اور تمام طبی ماہرین نے کہا: "ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ تو کسی بھی شے سے زیادہ عظیمُ الشان ہے۔" اور یہ نبوت کا ثبوت تھا۔ جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، فصاحت و بلاغت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ شاعروں کا شہنشاہوں کی طرح احترام کرتے تھے۔ تب قرآن علمی اعتبار سے اتنی جدید صورت میں آیا کہ لوگوں کے لۓ اسے سمجھنا آسان ہوگیا: ”ہم علمیت میں کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوجاٸیں ، قرآن سے آگے ہر گزنہیں بڑھ سکتے ہیں۔“ اس کے علاوہ ، ایک چیلنج خود قرآن میں ہے۔ جس کا مفہوم ہے؛ "اگر تم کہتے ہو کہ: یہ کسی انسان نے لکھا ہے ..." ، "...تو پھراس جیسی ایک سورت لے آٶ"۔ وہ لوگ جو علم وادب میں بہت ترقی یافتہ تھے ، وہ بھی کچھ لکھنے کے بجائے آپس میں ہی لڑ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے لیے 350K تفسیریں لکھی گئی ہیں۔ کچھ لوگ قیاس کرتے ہیں کہ ایسا اس لۓ ہےکہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، قرآن کے معنی بہت وسیع اور ہرعمر کے لیے موزوں ہیں۔ اس کا متن اسقدر مکمل اور جامع ہے کہ ، اس کے لیے 350K تفسیریں لکھی گٸ ہیں۔ گویا کہ سمندر سے ہزاروں ایسک نکالے گۓہیں۔ یہ معدنیات کی حد یا پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔ بلکہ یہ قرآن کی جامعیت کو ظاہر کرتا ہے ، یہ ہی اس کی تفاسیرسے عیاں ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کتنے وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگ گیا۔ شاید ایک منٹ گزرگیا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا موضوع نہیں ہے جس پر مختصر بحث کی جائے ، مجھے امید ہے کہ میرا جواب ٹھیک ہے۔ ہمیں کیسے پتا چلے کہ خالق کل اس زمان و مکان (وقت اور مقام) کا پابند نہیں ہے؟ بغیر کسی مذہبی نقطہ نظر کے ، اگر ہم کائنات کو حقیقی نظر سے دیکھیں ، جو بھی کاٸنات کے ان تمام افعال کی تکمیل کرتا ہے ، وہ ضرور زمان و مکان سے ماورا ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ ، اگر کچھ بھی زمان و مکان میں محفوظ کیا جاتا ہے ، یہ مختلف جگہوں پر ایک ہی وقت میں کام نہیں کر سکتا ہے۔ مثلا ایک مچھلی ایک ہی وقت میں بحراوقیانوس اور بحر الکاہل میں تیر نہیں سکتی ہے۔ کیونکہ ، یہ زمان و مکان کی پابند ہے۔ یا پھر آپ یہاں بیٹھ کر بیک وقت کہیں اور موجود نہیں ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ؟ ہم زمان و مکان کے ساتھ محدود ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں ، اگر کوئی خدا ہے تو، وہ ابھی آپ کواور مجھے دونوں کو بیک وقت سنبھال رہا ہے ، کسی بچے کی پرورش کرنے ، مچھلی کو خوراک دینے اور سبزہ اگانے کے تمام تر اسباب بھی مہیا کرتا ہے ۔ اور یہ تمام کام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ بلاشبہ ، اگر وہ زمان ومکان کا پابند ہوتا ، تو وہ بیک وقت مختلف جگہوں پر کام نہیں کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک معبود ضرور ہے جیسا کہ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹ: (0:46) نوٹ: شریعت اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام احکامات ہیں بعض ادوار کی اپنی شریعت تھی۔ نوٹ: (3:09) یہ ایک ایسی کتاب کے لیے کافی منطقی تھا جو کہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی جیسی بھرپور ذخیرہ الفاظ والی زبان میں آئے۔