Main Jesus Se Dua Karta Raha, Lekin Jawab Islam Ne Diya – Aik Christian Ne Islam Qabool Kiya
تاریخ اشاعت
میں خدا کو ہمیشہ مانتا تھا.
میں بائبل کو شروع سے آخر تک جانتا تھا۔ لوگ مجھ سے سوالات کر سکتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت میں گویا بائبل کا حافظ تھا۔ اچانک مجھے کافی فاصلے سے ایک آواز آئی ’’دھماکے‘‘ کی گولی مجھ سے صرف ایک انچ کی دُوری پر لگی تھی، جو میرے بالکل پیچھے دیوار میں لگی۔ اُس لمحے نے میری غفلت دُور کر دی۔ میں اِسے یعنی زندگی کو کس طرف لے جانا چاہتا ہوں؟ اَیسے جیسے میں صحیح راستے پر نہیں ہوں۔ تو میں یہ ساری چیزیں جانتا تھا مگر کچھ چیزیں پھر بھی میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ اگر ہمیں جیسس کی عبادت کرنی چاہیے، تو وہ کِس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ پکارتے ہیں، ’’تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ وہ ’تُو‘ کون ہے؟ کس سے بات کر رہے تھے؟ وہ اور پھر بعد میں، مجھے مالکولم ایکس کے بارے میں معلوم ہوا۔ ایک خدا، جو کائنات کا خالق ہے۔ ایک خدا پر ایمان، صرف ایک خدا پر صرف ایک خدا۔ میں نے جب آہستہ آہستہ اسلام کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا شروع کیا، تو السلام علیکم، برادر ملون فیلکس ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ، ملون فیلکس کون ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتے ہیں؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں پورٹو ریکو میں پیدا ہوا تھا، مگر میرا بچپن نیویارک میں گزرا۔ میں نے 15 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اسلام سے پہلے، میری پرورش ایک کیتھولک کے طور پر ہوئی تو ہم ہر اتوار کو چرچ جاتے تھے۔ میری پرورش کا بڑا حصہ اِسی انداز سے گزرا۔ میں نے بپتسمہ لیا، اور ہولی کمیونین حاصل کی یعنی اپنے مذہب سے میرا کافی گہرا تعلق رہا۔ میں چرچ کے ساتھ مل کر سماجی کام بھی کر رہا تھا۔ مگر اُس زمانے میں کچھ باتیں ایسی تھی جو میری سمجھ کے بِلکُل خلاف تھیں۔ عیسائیت میں کونسی بات آپ کو سمجھ نہ آ سکی تھی؟ کیا عقیدے کے حوالے سے آپ کو اعتراضات تھے؟ جب میں کیتھولک تھا تو Trinity کا عقیدہ بار بار میرے سامنے دہرایا جاتا تھا۔ مگر ایک بات مجھے کھٹکتی رہی، جیسا کہ میں نے بتایا، میں بائبل بہت پڑھتا تھا۔ اور اِس کی تعلیمات اچھی طرح جانتا تھا۔ تو جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس احکام پیش کیے تو اُن میں ایک واضح حکم تھا کہ “صرف ایک خدا اور اپنے رب پر ایمان لاؤ۔” ٹرینیٹی کا نظریہ مجھے کبھی بھی سمجھ نہیں آ سکا۔ یہ میری عقل سے باہر تھا۔ اگر ہمیں جیسس کی عبادت کرنی چاہیے، تو وہ کِس کی عبادت کرتے تھے؟ بطور کیتھولکس ہمیں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایک چور تھا۔ بادشاہی میں آؤ اور بخشے جاؤ"، اور وہ اُسے معاف کر دیتے ہیں۔” مگر جس وقت وہ خود صلیب پر تھے، تو وہ پکارتے ہیں، ’’ تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ ” وہ ’ تُو ‘ کون ہے؟ وہ کس سے بات کر رہے تھے؟ وہ اُسے کیوں پکار رہے تھے؟ اُنہیں اکثر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دِکھایا جاتا ہے، جیسے وہ خدا سے بات کر رہے ہوں۔ اور میں یہ سوچتا تھا کہ اگر یہی خدا ہیں جن کی ہمیں عبادت کرنی ہے، تو پھر وہ اپنی زندگی میں مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی اور کی طرف اس طرح سے توجہ کرکے دعا کیوں مانگتے تھے؟ تو بس اس لیے 3 میں 1 کا یہ عقیدہ میری سمجھ میں کبھی نہ آ سکا۔ اچھا، میں اِس کے بارے میں سوالات پوچھتا تھا، مگر زیادہ تر جواب یہی ہوتا کہ ’’یہ گستاخی ہے۔ تمہیں اس طرح کے یہ سوالات بالکل بھی نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ تمہارا ایمان ہے۔ اور اس ایمان پر تمہیں جمے رہنا ہے- اسی طرح مگر مجھے اِس جواب نے مطمئن نہیں کیا۔ میں ہر چیز کا عقلی پہلو دیکھتا تھا۔ تو مجھے، عقلی لحاظ سے وہ جوابات نہیں مل رہے تھے جن کی مجھے ضرورت تھی۔ میں اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا۔ میں روحانی سچائی کی تلاش میں تھا کہ حیح راستہ کونسا ہے۔ میرے لیے اِسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ اپنے بچپن، یعنی تقریباً 11 سال کی عمر میں، میں شامل ہو گیا تھا۔ اسٹریٹ گینگ میں ایک دن میں ویسے ہی بیٹھا ہوا تھا اور ڈومینوز کا گیم کھیل رہا تھا۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب میرے اندر کچھ تھوڑا ٹھہراؤ آنے لگا تھا۔ میں تب بھی مذہب سے جُڑا ہوا تھا، مگر اِتنا نہیں جتنا کہ پہلے تھا۔ تو میں وہاں ٹیبل پر بیٹھا ڈومینوز کھیل رہا تھا، اچانک مجھے کافی فاصلے سے ایکآواز آئی۔ ’’دھماکے‘‘ کی جیسے ہی مجھے اس ’’دھماکے‘‘ کی آواز آئی، میں اٹھا اور بھاگ کر گھر میں چلا گیا۔ پھر جب میں باہر آیا اور وہ جگہ دیکھی جہاں میں بیٹھ کر ڈومینوز کھیل رہا تھا، میں نے دیکھا کہ گولی مجھ سے صرف ایک انچ کی دُوری پر لگی تھی۔ گولی میرے پیچھے دیوار میں لگی، بالکل وہاں جہاں میں بیٹھا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوسری گولی کہاں لگی مگر وہ پہلی گولی میرے سر پر تقریباً ایک سیدھا فائر تھا۔ اِس واقعے کے بعد جب میں نے حالات پر غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اب بھی اِسی ماحول میں پھنسا ہوا ہوں۔ حالات آسان ہوں یا مشکل، میں تو اِسی ماحول میں پھنسا ہوا ہوں۔ اور جب میں اِسی کا حصہ ہوں، تو لازمی ہے کہمیں ہمیشہ نشانے پر رہوں گا۔ میں نے سوچا کہ کیا میں اِسی راہ پر چلتا رہنا چاہتا ہوں۔ اُس وقت میرے بچے بھی تھے، لہٰذا اُس لمحے نے میری غفلت دُور کر دی۔ پھر میں نے دوبارہ روحانی تلاش شروع کر دی۔ میں سوچتا کہ میں اِسے یعنی زندگی کو کس طرف اور کِس سمت لے جانا چاہتا ہوں؟ اب اِس کے بعد مزید کیا تلاش باقی رہ جاتی ہے؟ ویسے بھی، یہ خود ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔ کلمہ پڑھ لینا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، مگر جب آپ کی زندگی کا بڑا حصہ گینگ بینگِنگ میں گزرا ہو، آپ اُن سرگرمیوں کا حصہ رہے ہو اور پھر خود کو اُن سے الگ کرلیں، تو یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ آپ نے پہلی مرتبہ اسلام کے متعلق کب سُنا، اور اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ میں نے جب پہلی بار اسلام کے بارے میں سُنا، دراصل میرا ایک اور گہرا دوست تھا جس سے میرا رابطہ کچھ ختم ہو گیا تھا۔ میں اُسے پِری کِنڈرگارٹن سے جانتا تھا، یوں کھلے کہ پانچ سال کی عمر ہوگی،شاید تب سے جانتا تھا۔ پھر آخرکار میں بعد میں اُس سے ہائی اسکول کے سالوں میں مِلا اور وہ کہنے لگا، "ہیے ملون!
کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسا لو گے تم خود کو۔" ’’یہ راستہ تمہارے لیے نہیں ہے، مگر میرے پاس تمہارے لیے ایک تحفہ ہے۔‘‘ اور تب اُس نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ ایک پِرنٹِڈ کتاب ہے، جب میں نے اُس کتاب پر نظر ڈالی تو اُس میں one-twenties، سپریم میتھیمیٹکس درج تھے۔ میں اُسے دیکھ کر سوچنے لگا، یہ سب کیا ہے؟ تو وہ میرے لیے اسلام کا پہلا تعارف تھا۔ مگر وہ صحیح تعارف نہیں تھا۔ میں صحیح راستے پر تھا، مگر غلط ٹرین میں سوار تھا۔ اور پھر بعد میں، مجھے Malcolm X کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے بولا- ایک منٹ Malcolm نیشن آف اسلام کا بھی حصہ تھے۔ اِسی طرح Clarence 13X بھی۔ اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ تو میں نے Malcolm کے بارے میں تلاش شروع کر دی۔ تو میں نے Malcolm کے بارے میں جاننے کے لیے، میں خود نیشن آف اسلام گیا۔ میں وہاں گیا اور وہاں پر نیو ٹیمپل نمبر 7 میں گیا۔ میں نے وہاں اُن کے ایک شخص سے بات کرکے اُن کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ مگر میں وہاں چند دن ہی ٹِک سکا کیونکہ یہ سب کچھ میری سمجھ سے باہر تھا۔ کیونکہ Five Percenters عبادت نہیں کرتے، نہ وہ نماز پڑھتے ہیں،نہ کچھ اور اُن کا یہ عقیدہ ہے، استغفراللہ، کہ اللہ خود اُن کے اندر ہے، اُن میں سے یہ ایک میں۔ نیشن آف اسلام ان کا بھی کہہ لیں کہ یہی عقیدہ ہے، مگر بس نماز شامل کر لیتے ہیں۔ تو میں سوچتا تھا، تم لوگ کس سے دعا مانگ رہے ہو؟ اپنی دعائیں خود سے ہی مانگ رہے ہو؟ یہ بات میرے لیے غیر عقلی تھی۔ یعنی پھر وہی لاجِک آڑے آگئی جو مجھے کیتھولک عقائد میں محسوس ہوتا تھا۔ میری عقل اِسے قبول نہیں کر رہی تھی۔ تو میں نے سوچا، اوکے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ Malcolm مسلمان بن گئے ہیں۔ سُنی مسلم ، لہٰذا میں نے اپنی تاریخی کی کلاسز کے ذریعے گہرائی سے جائزہ لینا شروع کیا، اور مسلمانوں اور اُن سے متعلق چیزوں پر کتابیں جمع کرنی شروع کیں۔ تب میں نے جانا کہ مسلمان ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں، صرف ایک خدا پر۔ تو میں سوچنے لگا، یہی تو وہ بات ہے جس کی تلاش تھی ۔ اور یہ بات عقل میں بھی آ رہی یہی عقیدہ حضرت موسیٰ کے دیے ہوئے احکامات میں تھا۔ لہٰذا یہ عقیدہ میری عقل پر بالکل پورا اترا۔ Towards Eternity میں ہمیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا مقصد اسلام کا پیغام پوری دنیا میں دس زبانوں میں دنیابھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے، آپ لوگوں کو اسلام داخل ہونے، حرام کام چھوڑنے، نماز شروع کرنے، حجاب پہننے، قرآن کی تلاوت سیکھنے جیسے اعمال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور اِن تمام نیک اعمال کے بدلے اجر عظیم پا سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ Towards Eternity کو عطیہ دیں اور اِس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ میں نے جب آہستہ آہستہ اسلام کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا شروع کیا، تو پتہ چلا میں تو پہلے ہی مسلمان تھا مگر مجھے اِس کا علم نہ تھا۔ میرے کچھ مسلمان بھائی جو گلیوں میں مِسواک بیچا کرتے تھے۔ میں 13 سال کی عمر سے اُن سے مِسواک لے کر استعمال کر رہا تھا۔ مگر اسلام قبول کرنے سے پہلے مجھے اِس کا احساس بھی نہ تھا۔ میں ہر روز مِسواک استعمال کر رہا تھا۔ مجھے بچپن سے ہی سکھایا گیا تھا کہ کھانا سیدھے ہاتھ سے اور استنجا اُلٹے ہاتھ سے۔ میں نے سوچا، یہ باتیں تو جانی پہچانی لگ رہی ہیں، ہیں ناں؟ جو کیتھولک اِزم میں جو بہت سی چیزیں سیکھی تھیں دیکھا تو وہ اسلام میں بھی تھیں۔ اس وقت تو میں نے سوچا کہ کافی چیزیں ایک دوسرے سے مِلتی جُلتی ہیں۔ چیزیں اب سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ عقل اب انہیں قبول کر رہی تھی۔ یہاں ایک جمع ایک برابر دو تھا۔ اتنا کچھ دیکھ کر، لہٰذا عقلی طور پر میں مطمئن تھا۔ تو میں نے Malcolm کے بارے میں مزید پڑھنا شروع کیا۔ ایک مرتبہ میں نے Malcolm کے متعلق پڑھا کہ وہ حج پر گئے۔ میں نے سوچا کہ میں اپنا حج تو ادا نہیں کر سکتا مگر یہ سوچا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں کلمہ پڑھ لوں۔ تو میں نے تھوڑی بہت ریسرچ شروع کر دی کہ میں یہ کام کہاں کروں؟ پھر مجھے پتہ چلا کہ پرانا ٹیمپل نمبر 7 اب باقاعدہ ایک سُنی مسجد میں بدل چکا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا جب نیشن آف اسلام کے لیڈر عالیجا محمد کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا لیڈر بنا۔ اُس کے بیٹے نے پچھلے نظریات سے ہٹ کر بہت سوں کو سُنی مسلم بنا دیا۔ یوں ٹیمپل نمبر 7، Malcolm Shabazz Masjid بن گیا، جو آج بھی موجود ہے۔ تو میں نے سوچا، کیوں نہ وہاں اسلام قبول کیا جائے جہاں برادر Malcolm تبلیغ کیا کرتے تھے؟ چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو شاید مغرب، عشاء کا وقت تھا۔ میں اندر داخل ہوا اور سوچنے لگا کہ مجھے امام کو تلاش کرنا چاہیے۔ مگر میں امام کو کیسے پہچانوں گا؟ تو اندر جا کر میں نے پوچھا، ’’امام کون ہے؟‘‘ لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کیا۔ میں اُن کے پاس گیا اور کہا، ’’میں کلمہ پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ امام نے پلٹ کر پوچھا، ’’تم یہاں کلمہ پڑھنے آئے ہو۔ پکی بات ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں میں کلمہ پڑھنے آیا ہوں۔‘‘ ’’میں یہاں آ چکا ہوں اور میں کلمہ پڑھنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ کہنے لگے، ’’ماشاء اللہ۔‘‘ وہ بہت خوش ہوئے۔ اُنہوں نے پوچھا، ’’تم اِس کا مقصد جانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں‘‘۔ پھر ہم ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ ہم نے بات کرنا شروع کی اور پانچ ارکان پر بات کی۔ الحمدللہ میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ اور یہ میری زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بوجھ، کوئی وزن میرے کندھوں سے اتر گیا ہو۔ میں بہت خوش اور پُرجوش تھا۔ الحمدللہ۔ آپ کو اسلام قبول کرنے پر کس بات نے قائل کیا تھا؟ صرف توحید آپ کے لیے کافی تھی، یا دوسری چیزیں بھی تھیں؟ جیسے میں نے کہا، یہ عقل پر پورا اترتا تھا۔ میں خدا کو ہمیشہ سے مانتا تھا، مگر یوں لگتا تھا جیسے میں صحیح راستے پر نہیں ہوں۔ میں نے بتایا ناں کہ، میں بائبل کو شروع سے آخر تک جانتا تھا۔ میں ہر چیز پڑھتا تھا۔ یوں کہہ لیجیے کہ جیسے اولڈ ٹیسٹامنٹ سے لے کر نیو ٹیسٹامنٹ تک لوگ مجھ سے سوالات کر سکتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت میں گویا بائبل کا حافظ تھا۔ تو میں یہ ساری چیزیں جانتا تھا مگر کچھ چیزیں پھر بھی میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ تو پھر بعد میں جیسا کہ میں نے کہا، میں نے جا کر اسلام کے متعلق پڑھنا شروع کیا۔ تو آپ یقین کریں سچی بات تو یہ ہے کہ شروع میں اسلام میں ڈھلنا بہت زیادہ مشکل تھا۔ کیونکہ میں پورٹو ریکن ہوں، لہٰذا ہماری زیادہ تر کلچرل ڈشز میں خنزیر کا گوشت ہوتا ہے۔ پورک تو میں نے سوچا، واؤ، اب یہ کھانے کو نہیں ملے گا۔ میں ویسے زیادہ شراب نوشی نہیں کرتا تھا۔ مگر سردیوں میں ہماری ایک کلچرل ڈرِنک ہوتی تھی۔ وہ بھی ختم ہو گئی۔ میں نے سوچا، واؤ، خیر۔ تو یہ کلچرل تبدیلی تھی جسے میں نے اپنانا تھا۔ ایک نومسلم کے طور پر، مسلمان کمیونٹی میں ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل کام تھا۔ کیونکہ، آپ نے کلمہ پڑھ لیا، ماشاء اللہ۔ تو اب، اس کے بعد کیا ہوگا؟ اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مسلمان گھر میں پیدا ہونے کے ناطے، آپ کو یہ چیزیں خود ملی ہوئی ہوتی ہیں، یہ قدرتی طور پر آپ کے پاس ہوتی ہیں۔ آپ پیغمبروں کے قصے اور دوسری تعلیمات سنتے رہتے ہیں۔ مجھے تو نماز سکھانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ کسی نے مجھے قرآن پڑھنا اور تلاوت کرنا نہیں سکھایا۔ میں سب کچھ خود کر رہا تھا، اور علم کی پیاس بھی تھی۔ علم کی تلاش میں رہتا۔ مگر ایک شخص جو میری زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی لے کر آئے، الحمدللہ وہ شیخ یوسف ایسٹس تھے۔ میں ہمیشہ سے ایک سیاسی کارکن رہا ہوں۔ یہاں تک کہ، آج بھی میں ایک سیاسی کارکن ہوں۔ ایک مرتبہ ہم پولیس کی درندگی پر احتجاج کر رہے تھے۔ مجھے جگہ تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں، مگر میں مظاہرین کے ساتھ چل رہا تھا، اور اِسی چلنے کے دوران مجھے اللہ کی طرف سے ایک اور نشانی ملی۔ واللہ، وہ ایک اور نشانی تھی۔ جب میں اُس احتجاج میں چل رہا تھا، تو کسی نے مجھے ایک DVD دی، جس پر لکھا تھا "Islam Tomorrow"۔ میں نے اُسے دیکھا اور سوچنے لگا...
اور اِس پورے وقت میں، میں نماز یا کسی بھی عبادت کا طریقہ نہیں جانتا تھا۔ تو میں گھر گیا اور جیسے ہی میں نے DVD پلیئر میں وہ DVD لگائی، میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سب سے پہلی بات یہی تھی، ’’نماز ایسے پڑھو جیسے تم مجھے پڑھتا دیکھتے ہو۔‘‘ تو میں نے DVD دیکھتے ہوئے نماز سیکھی۔ میں نے کچھ تھوڑے بہت قصے جاننا شروع کیے۔ وہ ایک CD بھی تھی، جسے آپ DVD پلیئر سے نکال کر پرانے وقتوں کے بوم باکس میں لگاتے، جو سی ڈیز چلاتا تھا، تو اُس پر تلاوت چلتی تھی۔ لہٰذا میں قرآن بھی سنا کرتا تھا۔ کیا آپ اپنے ایمان کے اگلے مرحلے کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ اچھا، میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں مسجد جانے اور مسلم کمیونٹی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ میرے لیے آسان نہیں تھا، شاید میری شخصیت، بات چیت کے الگ انداز کی وجہ سے یہ سب ایسے ہی چل رہا تھا تو اُسی دوران میں Imam Wesley سے ملا۔ میں Imam Wesley کے پاس پہنچا۔ میں نے اُن سے کہا، ’’ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میرے لیے کمیونٹی کا حصہ بننا اتنا مشکل کیوں ہورہا ہے؟‘‘ اُنہوں نے مجھ سے معذرت کی، اور کہا، ’’میں جانتا ہوں‘‘۔ میں Imam Wesley سے ملنے کے بعد اُنہی کے ساتھ رہا۔ اپنی پوری کہانی اُن سے شیئر کی، کہاں سے آیا ہوں ، کون ہوں میں ۔ وہ اُستاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھے رہنمائی دی۔ میرے گھر میں اپنی لائبریریاں وغیرہ ہیں جہاں میں کچھ نہ کچھ پڑھتا ہوں۔ ایک دفعہ، یقین کریں کہ، ایسا ہوا کہ پڑھتے ہوئے مجھے ایک حدیث ملی، جو 99 قتل کرنے والے شخص کے بارے میں تھی۔ وہ حدیث مجھے آج بھی بہت متاثر کرتی ہے۔ یہ ہمیشہ میرے دل کو چھوتی ہے چونکہ میں اسے محسوس کر سکتا ہوں میں بھی کبھی اس طرح کے لوگوں کے ساتھ رہا ہوں چور، قاتل، اور ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ۔ اور یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کتنی بڑی ہے اُس شخص نے 99 قتل کیے تھے اور توبہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ توبہ کی تلاش میں نکلا اور راستے میں مر گیا۔ اب فرشتے آپس میں بحث کرنے لگے، کہ یہ جہنم میں جائے گا، یا جنت میں جائے گا۔ پھر اللہ نے پوچھا، وہ کِس بستی کے قریب ہے؟ توبہ والی بستی کے قریب، یا اِس کے گناہوں والی بستی کے قریب؟‘‘ پھر اللہ نے زمین کو سکیڑ کر اُسے توبہ والی بستی کے قریب کر دیا اور جنت میں داخل کیا۔ میں یہ روایت ہمیشہ ایسے لوگوں کو سناتا ہوں جو کہیں نہ کہیں میرے جیسا ماضی رکھتے ہیں۔ جب وہ اِسے سنتے ہیں، تو اُن کی غفلت دور ہوتی ہے، اور اُن کے دل روشن ہوتے ہیں، الحمدللہ۔ اسلام آپ کی زندگی میں سب سے بڑی کونسی تبدیلی لے کر آیا؟ آپ اسلام سے پہلے کے ملون اور اسلام کے بعد کے ملون میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر میں اب بھی کام کر رہا ہوں۔ ایک تو واقعی صبر ہے، مجھ میں کافی زیادہ ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ کیونکہ میں جیسی زندگی گزار رہا تھا، اُس میں ہمیشہ غصے میں رہتا تھا۔ میں زیادہ تر وقت اَپ سیٹ رہتا تھا کیونکہ یہ غصہ آپ کی گینگسٹر شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ جیسے میں نے کہا، جب آپ ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں، تو آپ کمزور نہیں بن سکتے۔ آپ کو لڑنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ چاہے جیت ہو یا ہار، تو ان سب چیزوں سے ا میری زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا۔ اگر کوئی مجھے غلط انداز سے دیکھتا بھی تو میں سیدھا جا کر، بغیر کچھ پوچھے اُس کے منہ پر مُکّا مار دیتا۔ میں بغیر سوچے سمجھے تشدد کیا کرتا تھا۔ تشدد میری فطرت بن گیا تھا اور مجھے اُس پر کوئی افسوس بھی نہیں تھا۔ ایک دفعہ میں ٹرین میں تھا، ایک آدمی غصے سے لوگوں کو گھور رہا تھا۔ شاید وہ اَپ سیٹ تھا یا پتہ نہیں کیا۔ میں نے اُسے دیکھا کہ وہ ٹرین سے اترتے ہوئے لوگوں کو کوس رہا تھا۔ وہ لوگوں کو للکار رہا تھا۔ اگر لڑنا ہے، تو آؤ مجھ سے لڑو۔‘‘ اگر یہ میرے ماضی کا دور ہوتا، تو میں یہ سنتے ہی اُسے کہتا، اوہ، تم لڑنا چاہتے ہو؟ پھر میں اپنی جیکٹ اتارتا اور اُس پر جھپٹ پڑتا۔ ٹھیک ہے لڑنا چاہتے ہو نا؟ تو لڑو۔ مزہ چکھو۔ مگر میں نے اُسے دیکھا اور کہا، ’’بھائی، خدا تمہیں سلامت رکھے۔‘‘ اُس نے مجھے دیکھا اور میں اُسے دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بھی جواب میں مسکرایا اور پھر اُس کا رویہ پوری طرح بدل گیا۔ جب وہ اتر رہا تھا تو میں اُسے دیکھ کر مسکرایا، وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ اُس کا پورا رویہ، سب کو گالیاں دینا، لڑائی پر آمادہ ہونا، سب کچھ بدل گیا۔ وہ کھل کر بات کرنے لگا کہکس مسلے میں ہے۔ کہنے لگا، ’’میں بہت مشکل میں ہوں،‘‘ جو بھی اُس کے ساتھ مسئلہ تھا، بتایا۔ اس وقت میرے پاس کیش نہیں تھے، میں نے اس سے کہا، ’’تمہارے پاس کیش ایپ وغیرہ ہے؟‘‘ اُس نے مجھے اپنا انسٹاگرام دیا، میں نے کیش ایپ سے کچھ بھیج دیا، اور اُسے کہا، ’’یہ لو، یہ رکھ لو کچھ کھا پی لو، یا جیسے تم چاہو، خرچ کرو، مگر حالات کو خود پر حاوی نہ ہونے دو۔‘‘ وہ بولا، شکریہ۔ مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ، اِس کے بعد، میرے ساتھ اُس کا برتاؤ اچھا ہوگیا۔ اور پھر اِس کے بعد وہ دوسری بوگی میں چڑھا، اور وہاں موجود باقی لوگوں کے ساتھ اُس کا رویہ ویسا ہی رہا۔ مگر میرے ساتھ وہ پُرسکون ہوگیا، اُس کا رویہ بدل گیا، تو تصور کریں اگر اگلی بوگی میں بھی اُسے کوئی مسکرا کر دیکھ لیتا۔ وہ جیسے ہی وہاں جاتا، وہاں بھی کوئی اسے دیکھ کر مسکرا دیتا۔ تو اُس کا رویہ مسلسل بدلتا جاتا، اور ایسے ہی اُس کا دل نرم ہوتا جاتا، یہ وہ چیز ہے جسے ہمیں اپنے اندر ٹٹولنا چاہیے۔ ہر کوئی ہمارے جیسے حالات سے نہیں گزر رہا ہوتا۔ کسی کے لیے زندگی بہت کٹھن ہو سکتی ہے۔ ایسے میں صرف ایک مسکراہٹ دلوں کو تازگی دے دیتی ہے۔ یہ بالکل عمر بن خطاب اور اُس چور کے واقعے کی طرح ہے۔ وہ چور کا پیچھا کرتے ہوئے اُس کے پیچے دوڑنے لگے۔ عمر بن خطاب، اسلام قبول کرنے سے پہلے، شاید اُسے مارتے یا کوئی سزا دیتے۔ مگر یہاں اُنہوں نے کیا کیا؟ وہ اُس کے پیچھے دوڑے، صرف یہ بتانے کے لیے کہ ’’اللہ کی خاطر میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ فکر نہ کرو، رکھ لو۔‘‘ یہ بات میرے دل کو چھو گئی تھی۔ اور اکثر میں بھی یہ سوچتا ہوں، جب کوئی مجھے عجیب نظر سے دیکھ رہا ہو، تو میں نرمی سے پیش آتا ہوں، محبت، مسکراہٹ، اور صدقے سے۔ شاید وہ آپ کو اِس انداز سے دیکھ رہے ہوں، مگر وہ آپ کے بارے میں نہ سوچ رہے ہوں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ دوسرے کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے، آپ سمجھ رہے ہیں ناں؟ بطور مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے بلکہ آس پاس کے سب لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی دعوت ہے۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو آپ اُنہیں چند سیکنڈز میں کیا کہنا چاہیں گے؟ میں اُن سے یہی کہوں گا کہ ہر شخص اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ بات جانتا اور محسوس کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ ہم مسلمانوں کے پاس ایک چیز ہے جسے فطرت کہتے ہیں، جو ہر انسان کی قدرتی کیفیت ہوتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اسلام آپ کے لیے صحیح ہے، تو پھر آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ اپنے دل میں جھانکیں۔ میں ہر کسی سے ایک بات ضرور کہتا ہوں، اسلام میں جو سب سے خوبصورت بات مجھے لگتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو ارادے اور اپنی نیت پر بھی اجر ملتا ہے۔ کتنی خوبصورت بات ہے۔ یہ نیت، یہ ارادہ آپ کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ اب آپ پر ہے کہ آپ اِسے باہر نکالیں اور عمل میں لائیں۔ ہم میں سے کچھ ڈرتے رہتے ہیں۔ ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہم پر دہشتگرد کا لیبل لگ جائے گا۔ ہم پر یہ لیبل لگ جائے گا، ہم پر وہ لیبل لگ جائے گا۔ اِس سوچ کو بدلنا ہمارا کام ہے۔ اسے ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔ یہ ہمارے ذمے ہے کہ ہم تبدیلی لے کر آئیں۔ وہ سبھی کے سبھی غیر مسلم، جو سمجھتے ہیں کہ وہ اِسلام کے دہانے پر کھڑے ہیں، اگر آپ کو محسوس ہو کہ اسلام کی طرف سے بلاوا آ رہا ہے، تو انتظار نہ کریں۔ کیونکہ میں نے Mufti Menk سے ایک چیز سیکھی ہے۔ ایک بھائی تھا جو جمعہ کے دن کلمہ پڑھنا چاہتا تھا مگر وہ جمعرات کو مر گیا۔ تو مت کرو انتظار ۔ کلمہ پڑھ لیں۔ برادر Mervin Felix، آپ کے پُرخلوص جوابات کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے، اللہ آپ کو خوب اجر دے، اور اللہ ایمان کی سلامتی کے ساتھ آپ کو دنیا سے لے جائے اور جنت عطا فرمائے اور جنت میں ہم سب کو اکٹھا فرمائے، ان شاء اللہ۔ ان شاء اللہ،آمین جزاک اللہ خیر۔ شکریہ۔ جزاک اللہ خیر۔
میں بائبل کو شروع سے آخر تک جانتا تھا۔ لوگ مجھ سے سوالات کر سکتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت میں گویا بائبل کا حافظ تھا۔ اچانک مجھے کافی فاصلے سے ایک آواز آئی ’’دھماکے‘‘ کی گولی مجھ سے صرف ایک انچ کی دُوری پر لگی تھی، جو میرے بالکل پیچھے دیوار میں لگی۔ اُس لمحے نے میری غفلت دُور کر دی۔ میں اِسے یعنی زندگی کو کس طرف لے جانا چاہتا ہوں؟ اَیسے جیسے میں صحیح راستے پر نہیں ہوں۔ تو میں یہ ساری چیزیں جانتا تھا مگر کچھ چیزیں پھر بھی میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ اگر ہمیں جیسس کی عبادت کرنی چاہیے، تو وہ کِس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ پکارتے ہیں، ’’تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ وہ ’تُو‘ کون ہے؟ کس سے بات کر رہے تھے؟ وہ اور پھر بعد میں، مجھے مالکولم ایکس کے بارے میں معلوم ہوا۔ ایک خدا، جو کائنات کا خالق ہے۔ ایک خدا پر ایمان، صرف ایک خدا پر صرف ایک خدا۔ میں نے جب آہستہ آہستہ اسلام کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا شروع کیا، تو السلام علیکم، برادر ملون فیلکس ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ، ملون فیلکس کون ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتے ہیں؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں پورٹو ریکو میں پیدا ہوا تھا، مگر میرا بچپن نیویارک میں گزرا۔ میں نے 15 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اسلام سے پہلے، میری پرورش ایک کیتھولک کے طور پر ہوئی تو ہم ہر اتوار کو چرچ جاتے تھے۔ میری پرورش کا بڑا حصہ اِسی انداز سے گزرا۔ میں نے بپتسمہ لیا، اور ہولی کمیونین حاصل کی یعنی اپنے مذہب سے میرا کافی گہرا تعلق رہا۔ میں چرچ کے ساتھ مل کر سماجی کام بھی کر رہا تھا۔ مگر اُس زمانے میں کچھ باتیں ایسی تھی جو میری سمجھ کے بِلکُل خلاف تھیں۔ عیسائیت میں کونسی بات آپ کو سمجھ نہ آ سکی تھی؟ کیا عقیدے کے حوالے سے آپ کو اعتراضات تھے؟ جب میں کیتھولک تھا تو Trinity کا عقیدہ بار بار میرے سامنے دہرایا جاتا تھا۔ مگر ایک بات مجھے کھٹکتی رہی، جیسا کہ میں نے بتایا، میں بائبل بہت پڑھتا تھا۔ اور اِس کی تعلیمات اچھی طرح جانتا تھا۔ تو جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس احکام پیش کیے تو اُن میں ایک واضح حکم تھا کہ “صرف ایک خدا اور اپنے رب پر ایمان لاؤ۔” ٹرینیٹی کا نظریہ مجھے کبھی بھی سمجھ نہیں آ سکا۔ یہ میری عقل سے باہر تھا۔ اگر ہمیں جیسس کی عبادت کرنی چاہیے، تو وہ کِس کی عبادت کرتے تھے؟ بطور کیتھولکس ہمیں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایک چور تھا۔ بادشاہی میں آؤ اور بخشے جاؤ"، اور وہ اُسے معاف کر دیتے ہیں۔” مگر جس وقت وہ خود صلیب پر تھے، تو وہ پکارتے ہیں، ’’ تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ ” وہ ’ تُو ‘ کون ہے؟ وہ کس سے بات کر رہے تھے؟ وہ اُسے کیوں پکار رہے تھے؟ اُنہیں اکثر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دِکھایا جاتا ہے، جیسے وہ خدا سے بات کر رہے ہوں۔ اور میں یہ سوچتا تھا کہ اگر یہی خدا ہیں جن کی ہمیں عبادت کرنی ہے، تو پھر وہ اپنی زندگی میں مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی اور کی طرف اس طرح سے توجہ کرکے دعا کیوں مانگتے تھے؟ تو بس اس لیے 3 میں 1 کا یہ عقیدہ میری سمجھ میں کبھی نہ آ سکا۔ اچھا، میں اِس کے بارے میں سوالات پوچھتا تھا، مگر زیادہ تر جواب یہی ہوتا کہ ’’یہ گستاخی ہے۔ تمہیں اس طرح کے یہ سوالات بالکل بھی نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ تمہارا ایمان ہے۔ اور اس ایمان پر تمہیں جمے رہنا ہے- اسی طرح مگر مجھے اِس جواب نے مطمئن نہیں کیا۔ میں ہر چیز کا عقلی پہلو دیکھتا تھا۔ تو مجھے، عقلی لحاظ سے وہ جوابات نہیں مل رہے تھے جن کی مجھے ضرورت تھی۔ میں اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا۔ میں روحانی سچائی کی تلاش میں تھا کہ حیح راستہ کونسا ہے۔ میرے لیے اِسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ اپنے بچپن، یعنی تقریباً 11 سال کی عمر میں، میں شامل ہو گیا تھا۔ اسٹریٹ گینگ میں ایک دن میں ویسے ہی بیٹھا ہوا تھا اور ڈومینوز کا گیم کھیل رہا تھا۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب میرے اندر کچھ تھوڑا ٹھہراؤ آنے لگا تھا۔ میں تب بھی مذہب سے جُڑا ہوا تھا، مگر اِتنا نہیں جتنا کہ پہلے تھا۔ تو میں وہاں ٹیبل پر بیٹھا ڈومینوز کھیل رہا تھا، اچانک مجھے کافی فاصلے سے ایکآواز آئی۔ ’’دھماکے‘‘ کی جیسے ہی مجھے اس ’’دھماکے‘‘ کی آواز آئی، میں اٹھا اور بھاگ کر گھر میں چلا گیا۔ پھر جب میں باہر آیا اور وہ جگہ دیکھی جہاں میں بیٹھ کر ڈومینوز کھیل رہا تھا، میں نے دیکھا کہ گولی مجھ سے صرف ایک انچ کی دُوری پر لگی تھی۔ گولی میرے پیچھے دیوار میں لگی، بالکل وہاں جہاں میں بیٹھا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوسری گولی کہاں لگی مگر وہ پہلی گولی میرے سر پر تقریباً ایک سیدھا فائر تھا۔ اِس واقعے کے بعد جب میں نے حالات پر غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اب بھی اِسی ماحول میں پھنسا ہوا ہوں۔ حالات آسان ہوں یا مشکل، میں تو اِسی ماحول میں پھنسا ہوا ہوں۔ اور جب میں اِسی کا حصہ ہوں، تو لازمی ہے کہمیں ہمیشہ نشانے پر رہوں گا۔ میں نے سوچا کہ کیا میں اِسی راہ پر چلتا رہنا چاہتا ہوں۔ اُس وقت میرے بچے بھی تھے، لہٰذا اُس لمحے نے میری غفلت دُور کر دی۔ پھر میں نے دوبارہ روحانی تلاش شروع کر دی۔ میں سوچتا کہ میں اِسے یعنی زندگی کو کس طرف اور کِس سمت لے جانا چاہتا ہوں؟ اب اِس کے بعد مزید کیا تلاش باقی رہ جاتی ہے؟ ویسے بھی، یہ خود ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔ کلمہ پڑھ لینا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، مگر جب آپ کی زندگی کا بڑا حصہ گینگ بینگِنگ میں گزرا ہو، آپ اُن سرگرمیوں کا حصہ رہے ہو اور پھر خود کو اُن سے الگ کرلیں، تو یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ آپ نے پہلی مرتبہ اسلام کے متعلق کب سُنا، اور اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ میں نے جب پہلی بار اسلام کے بارے میں سُنا، دراصل میرا ایک اور گہرا دوست تھا جس سے میرا رابطہ کچھ ختم ہو گیا تھا۔ میں اُسے پِری کِنڈرگارٹن سے جانتا تھا، یوں کھلے کہ پانچ سال کی عمر ہوگی،شاید تب سے جانتا تھا۔ پھر آخرکار میں بعد میں اُس سے ہائی اسکول کے سالوں میں مِلا اور وہ کہنے لگا، "ہیے ملون!
کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسا لو گے تم خود کو۔" ’’یہ راستہ تمہارے لیے نہیں ہے، مگر میرے پاس تمہارے لیے ایک تحفہ ہے۔‘‘ اور تب اُس نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ ایک پِرنٹِڈ کتاب ہے، جب میں نے اُس کتاب پر نظر ڈالی تو اُس میں one-twenties، سپریم میتھیمیٹکس درج تھے۔ میں اُسے دیکھ کر سوچنے لگا، یہ سب کیا ہے؟ تو وہ میرے لیے اسلام کا پہلا تعارف تھا۔ مگر وہ صحیح تعارف نہیں تھا۔ میں صحیح راستے پر تھا، مگر غلط ٹرین میں سوار تھا۔ اور پھر بعد میں، مجھے Malcolm X کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے بولا- ایک منٹ Malcolm نیشن آف اسلام کا بھی حصہ تھے۔ اِسی طرح Clarence 13X بھی۔ اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ تو میں نے Malcolm کے بارے میں تلاش شروع کر دی۔ تو میں نے Malcolm کے بارے میں جاننے کے لیے، میں خود نیشن آف اسلام گیا۔ میں وہاں گیا اور وہاں پر نیو ٹیمپل نمبر 7 میں گیا۔ میں نے وہاں اُن کے ایک شخص سے بات کرکے اُن کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ مگر میں وہاں چند دن ہی ٹِک سکا کیونکہ یہ سب کچھ میری سمجھ سے باہر تھا۔ کیونکہ Five Percenters عبادت نہیں کرتے، نہ وہ نماز پڑھتے ہیں،نہ کچھ اور اُن کا یہ عقیدہ ہے، استغفراللہ، کہ اللہ خود اُن کے اندر ہے، اُن میں سے یہ ایک میں۔ نیشن آف اسلام ان کا بھی کہہ لیں کہ یہی عقیدہ ہے، مگر بس نماز شامل کر لیتے ہیں۔ تو میں سوچتا تھا، تم لوگ کس سے دعا مانگ رہے ہو؟ اپنی دعائیں خود سے ہی مانگ رہے ہو؟ یہ بات میرے لیے غیر عقلی تھی۔ یعنی پھر وہی لاجِک آڑے آگئی جو مجھے کیتھولک عقائد میں محسوس ہوتا تھا۔ میری عقل اِسے قبول نہیں کر رہی تھی۔ تو میں نے سوچا، اوکے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ Malcolm مسلمان بن گئے ہیں۔ سُنی مسلم ، لہٰذا میں نے اپنی تاریخی کی کلاسز کے ذریعے گہرائی سے جائزہ لینا شروع کیا، اور مسلمانوں اور اُن سے متعلق چیزوں پر کتابیں جمع کرنی شروع کیں۔ تب میں نے جانا کہ مسلمان ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں، صرف ایک خدا پر۔ تو میں سوچنے لگا، یہی تو وہ بات ہے جس کی تلاش تھی ۔ اور یہ بات عقل میں بھی آ رہی یہی عقیدہ حضرت موسیٰ کے دیے ہوئے احکامات میں تھا۔ لہٰذا یہ عقیدہ میری عقل پر بالکل پورا اترا۔ Towards Eternity میں ہمیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا مقصد اسلام کا پیغام پوری دنیا میں دس زبانوں میں دنیابھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے، آپ لوگوں کو اسلام داخل ہونے، حرام کام چھوڑنے، نماز شروع کرنے، حجاب پہننے، قرآن کی تلاوت سیکھنے جیسے اعمال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور اِن تمام نیک اعمال کے بدلے اجر عظیم پا سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ Towards Eternity کو عطیہ دیں اور اِس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ میں نے جب آہستہ آہستہ اسلام کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا شروع کیا، تو پتہ چلا میں تو پہلے ہی مسلمان تھا مگر مجھے اِس کا علم نہ تھا۔ میرے کچھ مسلمان بھائی جو گلیوں میں مِسواک بیچا کرتے تھے۔ میں 13 سال کی عمر سے اُن سے مِسواک لے کر استعمال کر رہا تھا۔ مگر اسلام قبول کرنے سے پہلے مجھے اِس کا احساس بھی نہ تھا۔ میں ہر روز مِسواک استعمال کر رہا تھا۔ مجھے بچپن سے ہی سکھایا گیا تھا کہ کھانا سیدھے ہاتھ سے اور استنجا اُلٹے ہاتھ سے۔ میں نے سوچا، یہ باتیں تو جانی پہچانی لگ رہی ہیں، ہیں ناں؟ جو کیتھولک اِزم میں جو بہت سی چیزیں سیکھی تھیں دیکھا تو وہ اسلام میں بھی تھیں۔ اس وقت تو میں نے سوچا کہ کافی چیزیں ایک دوسرے سے مِلتی جُلتی ہیں۔ چیزیں اب سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ عقل اب انہیں قبول کر رہی تھی۔ یہاں ایک جمع ایک برابر دو تھا۔ اتنا کچھ دیکھ کر، لہٰذا عقلی طور پر میں مطمئن تھا۔ تو میں نے Malcolm کے بارے میں مزید پڑھنا شروع کیا۔ ایک مرتبہ میں نے Malcolm کے متعلق پڑھا کہ وہ حج پر گئے۔ میں نے سوچا کہ میں اپنا حج تو ادا نہیں کر سکتا مگر یہ سوچا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں کلمہ پڑھ لوں۔ تو میں نے تھوڑی بہت ریسرچ شروع کر دی کہ میں یہ کام کہاں کروں؟ پھر مجھے پتہ چلا کہ پرانا ٹیمپل نمبر 7 اب باقاعدہ ایک سُنی مسجد میں بدل چکا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا جب نیشن آف اسلام کے لیڈر عالیجا محمد کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا لیڈر بنا۔ اُس کے بیٹے نے پچھلے نظریات سے ہٹ کر بہت سوں کو سُنی مسلم بنا دیا۔ یوں ٹیمپل نمبر 7، Malcolm Shabazz Masjid بن گیا، جو آج بھی موجود ہے۔ تو میں نے سوچا، کیوں نہ وہاں اسلام قبول کیا جائے جہاں برادر Malcolm تبلیغ کیا کرتے تھے؟ چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو شاید مغرب، عشاء کا وقت تھا۔ میں اندر داخل ہوا اور سوچنے لگا کہ مجھے امام کو تلاش کرنا چاہیے۔ مگر میں امام کو کیسے پہچانوں گا؟ تو اندر جا کر میں نے پوچھا، ’’امام کون ہے؟‘‘ لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کیا۔ میں اُن کے پاس گیا اور کہا، ’’میں کلمہ پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ امام نے پلٹ کر پوچھا، ’’تم یہاں کلمہ پڑھنے آئے ہو۔ پکی بات ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں میں کلمہ پڑھنے آیا ہوں۔‘‘ ’’میں یہاں آ چکا ہوں اور میں کلمہ پڑھنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ کہنے لگے، ’’ماشاء اللہ۔‘‘ وہ بہت خوش ہوئے۔ اُنہوں نے پوچھا، ’’تم اِس کا مقصد جانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں‘‘۔ پھر ہم ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ ہم نے بات کرنا شروع کی اور پانچ ارکان پر بات کی۔ الحمدللہ میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ اور یہ میری زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بوجھ، کوئی وزن میرے کندھوں سے اتر گیا ہو۔ میں بہت خوش اور پُرجوش تھا۔ الحمدللہ۔ آپ کو اسلام قبول کرنے پر کس بات نے قائل کیا تھا؟ صرف توحید آپ کے لیے کافی تھی، یا دوسری چیزیں بھی تھیں؟ جیسے میں نے کہا، یہ عقل پر پورا اترتا تھا۔ میں خدا کو ہمیشہ سے مانتا تھا، مگر یوں لگتا تھا جیسے میں صحیح راستے پر نہیں ہوں۔ میں نے بتایا ناں کہ، میں بائبل کو شروع سے آخر تک جانتا تھا۔ میں ہر چیز پڑھتا تھا۔ یوں کہہ لیجیے کہ جیسے اولڈ ٹیسٹامنٹ سے لے کر نیو ٹیسٹامنٹ تک لوگ مجھ سے سوالات کر سکتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت میں گویا بائبل کا حافظ تھا۔ تو میں یہ ساری چیزیں جانتا تھا مگر کچھ چیزیں پھر بھی میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ تو پھر بعد میں جیسا کہ میں نے کہا، میں نے جا کر اسلام کے متعلق پڑھنا شروع کیا۔ تو آپ یقین کریں سچی بات تو یہ ہے کہ شروع میں اسلام میں ڈھلنا بہت زیادہ مشکل تھا۔ کیونکہ میں پورٹو ریکن ہوں، لہٰذا ہماری زیادہ تر کلچرل ڈشز میں خنزیر کا گوشت ہوتا ہے۔ پورک تو میں نے سوچا، واؤ، اب یہ کھانے کو نہیں ملے گا۔ میں ویسے زیادہ شراب نوشی نہیں کرتا تھا۔ مگر سردیوں میں ہماری ایک کلچرل ڈرِنک ہوتی تھی۔ وہ بھی ختم ہو گئی۔ میں نے سوچا، واؤ، خیر۔ تو یہ کلچرل تبدیلی تھی جسے میں نے اپنانا تھا۔ ایک نومسلم کے طور پر، مسلمان کمیونٹی میں ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل کام تھا۔ کیونکہ، آپ نے کلمہ پڑھ لیا، ماشاء اللہ۔ تو اب، اس کے بعد کیا ہوگا؟ اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مسلمان گھر میں پیدا ہونے کے ناطے، آپ کو یہ چیزیں خود ملی ہوئی ہوتی ہیں، یہ قدرتی طور پر آپ کے پاس ہوتی ہیں۔ آپ پیغمبروں کے قصے اور دوسری تعلیمات سنتے رہتے ہیں۔ مجھے تو نماز سکھانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ کسی نے مجھے قرآن پڑھنا اور تلاوت کرنا نہیں سکھایا۔ میں سب کچھ خود کر رہا تھا، اور علم کی پیاس بھی تھی۔ علم کی تلاش میں رہتا۔ مگر ایک شخص جو میری زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی لے کر آئے، الحمدللہ وہ شیخ یوسف ایسٹس تھے۔ میں ہمیشہ سے ایک سیاسی کارکن رہا ہوں۔ یہاں تک کہ، آج بھی میں ایک سیاسی کارکن ہوں۔ ایک مرتبہ ہم پولیس کی درندگی پر احتجاج کر رہے تھے۔ مجھے جگہ تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں، مگر میں مظاہرین کے ساتھ چل رہا تھا، اور اِسی چلنے کے دوران مجھے اللہ کی طرف سے ایک اور نشانی ملی۔ واللہ، وہ ایک اور نشانی تھی۔ جب میں اُس احتجاج میں چل رہا تھا، تو کسی نے مجھے ایک DVD دی، جس پر لکھا تھا "Islam Tomorrow"۔ میں نے اُسے دیکھا اور سوچنے لگا...
اور اِس پورے وقت میں، میں نماز یا کسی بھی عبادت کا طریقہ نہیں جانتا تھا۔ تو میں گھر گیا اور جیسے ہی میں نے DVD پلیئر میں وہ DVD لگائی، میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سب سے پہلی بات یہی تھی، ’’نماز ایسے پڑھو جیسے تم مجھے پڑھتا دیکھتے ہو۔‘‘ تو میں نے DVD دیکھتے ہوئے نماز سیکھی۔ میں نے کچھ تھوڑے بہت قصے جاننا شروع کیے۔ وہ ایک CD بھی تھی، جسے آپ DVD پلیئر سے نکال کر پرانے وقتوں کے بوم باکس میں لگاتے، جو سی ڈیز چلاتا تھا، تو اُس پر تلاوت چلتی تھی۔ لہٰذا میں قرآن بھی سنا کرتا تھا۔ کیا آپ اپنے ایمان کے اگلے مرحلے کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ اچھا، میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں مسجد جانے اور مسلم کمیونٹی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ میرے لیے آسان نہیں تھا، شاید میری شخصیت، بات چیت کے الگ انداز کی وجہ سے یہ سب ایسے ہی چل رہا تھا تو اُسی دوران میں Imam Wesley سے ملا۔ میں Imam Wesley کے پاس پہنچا۔ میں نے اُن سے کہا، ’’ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میرے لیے کمیونٹی کا حصہ بننا اتنا مشکل کیوں ہورہا ہے؟‘‘ اُنہوں نے مجھ سے معذرت کی، اور کہا، ’’میں جانتا ہوں‘‘۔ میں Imam Wesley سے ملنے کے بعد اُنہی کے ساتھ رہا۔ اپنی پوری کہانی اُن سے شیئر کی، کہاں سے آیا ہوں ، کون ہوں میں ۔ وہ اُستاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھے رہنمائی دی۔ میرے گھر میں اپنی لائبریریاں وغیرہ ہیں جہاں میں کچھ نہ کچھ پڑھتا ہوں۔ ایک دفعہ، یقین کریں کہ، ایسا ہوا کہ پڑھتے ہوئے مجھے ایک حدیث ملی، جو 99 قتل کرنے والے شخص کے بارے میں تھی۔ وہ حدیث مجھے آج بھی بہت متاثر کرتی ہے۔ یہ ہمیشہ میرے دل کو چھوتی ہے چونکہ میں اسے محسوس کر سکتا ہوں میں بھی کبھی اس طرح کے لوگوں کے ساتھ رہا ہوں چور، قاتل، اور ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ۔ اور یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کتنی بڑی ہے اُس شخص نے 99 قتل کیے تھے اور توبہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ توبہ کی تلاش میں نکلا اور راستے میں مر گیا۔ اب فرشتے آپس میں بحث کرنے لگے، کہ یہ جہنم میں جائے گا، یا جنت میں جائے گا۔ پھر اللہ نے پوچھا، وہ کِس بستی کے قریب ہے؟ توبہ والی بستی کے قریب، یا اِس کے گناہوں والی بستی کے قریب؟‘‘ پھر اللہ نے زمین کو سکیڑ کر اُسے توبہ والی بستی کے قریب کر دیا اور جنت میں داخل کیا۔ میں یہ روایت ہمیشہ ایسے لوگوں کو سناتا ہوں جو کہیں نہ کہیں میرے جیسا ماضی رکھتے ہیں۔ جب وہ اِسے سنتے ہیں، تو اُن کی غفلت دور ہوتی ہے، اور اُن کے دل روشن ہوتے ہیں، الحمدللہ۔ اسلام آپ کی زندگی میں سب سے بڑی کونسی تبدیلی لے کر آیا؟ آپ اسلام سے پہلے کے ملون اور اسلام کے بعد کے ملون میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر میں اب بھی کام کر رہا ہوں۔ ایک تو واقعی صبر ہے، مجھ میں کافی زیادہ ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ کیونکہ میں جیسی زندگی گزار رہا تھا، اُس میں ہمیشہ غصے میں رہتا تھا۔ میں زیادہ تر وقت اَپ سیٹ رہتا تھا کیونکہ یہ غصہ آپ کی گینگسٹر شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ جیسے میں نے کہا، جب آپ ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں، تو آپ کمزور نہیں بن سکتے۔ آپ کو لڑنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ چاہے جیت ہو یا ہار، تو ان سب چیزوں سے ا میری زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا۔ اگر کوئی مجھے غلط انداز سے دیکھتا بھی تو میں سیدھا جا کر، بغیر کچھ پوچھے اُس کے منہ پر مُکّا مار دیتا۔ میں بغیر سوچے سمجھے تشدد کیا کرتا تھا۔ تشدد میری فطرت بن گیا تھا اور مجھے اُس پر کوئی افسوس بھی نہیں تھا۔ ایک دفعہ میں ٹرین میں تھا، ایک آدمی غصے سے لوگوں کو گھور رہا تھا۔ شاید وہ اَپ سیٹ تھا یا پتہ نہیں کیا۔ میں نے اُسے دیکھا کہ وہ ٹرین سے اترتے ہوئے لوگوں کو کوس رہا تھا۔ وہ لوگوں کو للکار رہا تھا۔ اگر لڑنا ہے، تو آؤ مجھ سے لڑو۔‘‘ اگر یہ میرے ماضی کا دور ہوتا، تو میں یہ سنتے ہی اُسے کہتا، اوہ، تم لڑنا چاہتے ہو؟ پھر میں اپنی جیکٹ اتارتا اور اُس پر جھپٹ پڑتا۔ ٹھیک ہے لڑنا چاہتے ہو نا؟ تو لڑو۔ مزہ چکھو۔ مگر میں نے اُسے دیکھا اور کہا، ’’بھائی، خدا تمہیں سلامت رکھے۔‘‘ اُس نے مجھے دیکھا اور میں اُسے دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بھی جواب میں مسکرایا اور پھر اُس کا رویہ پوری طرح بدل گیا۔ جب وہ اتر رہا تھا تو میں اُسے دیکھ کر مسکرایا، وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ اُس کا پورا رویہ، سب کو گالیاں دینا، لڑائی پر آمادہ ہونا، سب کچھ بدل گیا۔ وہ کھل کر بات کرنے لگا کہکس مسلے میں ہے۔ کہنے لگا، ’’میں بہت مشکل میں ہوں،‘‘ جو بھی اُس کے ساتھ مسئلہ تھا، بتایا۔ اس وقت میرے پاس کیش نہیں تھے، میں نے اس سے کہا، ’’تمہارے پاس کیش ایپ وغیرہ ہے؟‘‘ اُس نے مجھے اپنا انسٹاگرام دیا، میں نے کیش ایپ سے کچھ بھیج دیا، اور اُسے کہا، ’’یہ لو، یہ رکھ لو کچھ کھا پی لو، یا جیسے تم چاہو، خرچ کرو، مگر حالات کو خود پر حاوی نہ ہونے دو۔‘‘ وہ بولا، شکریہ۔ مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ، اِس کے بعد، میرے ساتھ اُس کا برتاؤ اچھا ہوگیا۔ اور پھر اِس کے بعد وہ دوسری بوگی میں چڑھا، اور وہاں موجود باقی لوگوں کے ساتھ اُس کا رویہ ویسا ہی رہا۔ مگر میرے ساتھ وہ پُرسکون ہوگیا، اُس کا رویہ بدل گیا، تو تصور کریں اگر اگلی بوگی میں بھی اُسے کوئی مسکرا کر دیکھ لیتا۔ وہ جیسے ہی وہاں جاتا، وہاں بھی کوئی اسے دیکھ کر مسکرا دیتا۔ تو اُس کا رویہ مسلسل بدلتا جاتا، اور ایسے ہی اُس کا دل نرم ہوتا جاتا، یہ وہ چیز ہے جسے ہمیں اپنے اندر ٹٹولنا چاہیے۔ ہر کوئی ہمارے جیسے حالات سے نہیں گزر رہا ہوتا۔ کسی کے لیے زندگی بہت کٹھن ہو سکتی ہے۔ ایسے میں صرف ایک مسکراہٹ دلوں کو تازگی دے دیتی ہے۔ یہ بالکل عمر بن خطاب اور اُس چور کے واقعے کی طرح ہے۔ وہ چور کا پیچھا کرتے ہوئے اُس کے پیچے دوڑنے لگے۔ عمر بن خطاب، اسلام قبول کرنے سے پہلے، شاید اُسے مارتے یا کوئی سزا دیتے۔ مگر یہاں اُنہوں نے کیا کیا؟ وہ اُس کے پیچھے دوڑے، صرف یہ بتانے کے لیے کہ ’’اللہ کی خاطر میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ فکر نہ کرو، رکھ لو۔‘‘ یہ بات میرے دل کو چھو گئی تھی۔ اور اکثر میں بھی یہ سوچتا ہوں، جب کوئی مجھے عجیب نظر سے دیکھ رہا ہو، تو میں نرمی سے پیش آتا ہوں، محبت، مسکراہٹ، اور صدقے سے۔ شاید وہ آپ کو اِس انداز سے دیکھ رہے ہوں، مگر وہ آپ کے بارے میں نہ سوچ رہے ہوں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ دوسرے کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے، آپ سمجھ رہے ہیں ناں؟ بطور مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے بلکہ آس پاس کے سب لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی دعوت ہے۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو آپ اُنہیں چند سیکنڈز میں کیا کہنا چاہیں گے؟ میں اُن سے یہی کہوں گا کہ ہر شخص اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ بات جانتا اور محسوس کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ ہم مسلمانوں کے پاس ایک چیز ہے جسے فطرت کہتے ہیں، جو ہر انسان کی قدرتی کیفیت ہوتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اسلام آپ کے لیے صحیح ہے، تو پھر آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ اپنے دل میں جھانکیں۔ میں ہر کسی سے ایک بات ضرور کہتا ہوں، اسلام میں جو سب سے خوبصورت بات مجھے لگتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو ارادے اور اپنی نیت پر بھی اجر ملتا ہے۔ کتنی خوبصورت بات ہے۔ یہ نیت، یہ ارادہ آپ کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ اب آپ پر ہے کہ آپ اِسے باہر نکالیں اور عمل میں لائیں۔ ہم میں سے کچھ ڈرتے رہتے ہیں۔ ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہم پر دہشتگرد کا لیبل لگ جائے گا۔ ہم پر یہ لیبل لگ جائے گا، ہم پر وہ لیبل لگ جائے گا۔ اِس سوچ کو بدلنا ہمارا کام ہے۔ اسے ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔ یہ ہمارے ذمے ہے کہ ہم تبدیلی لے کر آئیں۔ وہ سبھی کے سبھی غیر مسلم، جو سمجھتے ہیں کہ وہ اِسلام کے دہانے پر کھڑے ہیں، اگر آپ کو محسوس ہو کہ اسلام کی طرف سے بلاوا آ رہا ہے، تو انتظار نہ کریں۔ کیونکہ میں نے Mufti Menk سے ایک چیز سیکھی ہے۔ ایک بھائی تھا جو جمعہ کے دن کلمہ پڑھنا چاہتا تھا مگر وہ جمعرات کو مر گیا۔ تو مت کرو انتظار ۔ کلمہ پڑھ لیں۔ برادر Mervin Felix، آپ کے پُرخلوص جوابات کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے، اللہ آپ کو خوب اجر دے، اور اللہ ایمان کی سلامتی کے ساتھ آپ کو دنیا سے لے جائے اور جنت عطا فرمائے اور جنت میں ہم سب کو اکٹھا فرمائے، ان شاء اللہ۔ ان شاء اللہ،آمین جزاک اللہ خیر۔ شکریہ۔ جزاک اللہ خیر۔