Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Kya Zindagi Ka Bojh Bardasht Se Bahar Hai? Toh Allah Ki Taraf Rujoo Karo

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

سب کچھ ختم ہو گیا۔ آپ نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ آپ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتے کیونکہ زندگی سے آپ کو درد ملے ہیں۔ آپ ذہنی طور پر پریشان ہیں اور آپ اذیت محسوس کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں، ’’میں خوش نہیں ہوں تو پھر زندہ کیوں رہوں؟‘‘ آپ زندگی کے خاتمے کے لیے کسی اونچی جگہ چڑھ جاتے ہیں۔ آپ خود کو وہاں سے زمین پر گراتے ہیں زندگی کی سب سے بڑی تکلیف سہتے ہیں۔ ایمبولینس کے سائرن بجنے لگتے ہیں۔ لوگ آتے، دوڑتے، چیختے اور چلّاتے ہیں، وہ پُکار رہے ہیں، ’’اِس نے اوپر سے چھلانگ لگا لی‘‘، اچانک آپ کی والدہ بالکنی میں آتی ہیں اور نیچے دیکھتی ہیں۔ آپ کہاں ہیں؟ اُنہیں نیچے آپ کا بے جان جسم نظر آتا ہے وہ روتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف دوڑتی ہیں۔ ’’نہیں یہ میرا بچہ نہیں۔ پلیز کہہ دو کہ یہ میرا بچہ نہیں۔ اِسے مرنے نہ دو۔‘‘ آپ نے اُنہیں زندگی کی سب سے بڑی تکلیف پہنچا دی ہے۔ ایسا درد جو وہ مرتے دم تک ہر دن جئیں گی۔ ہم آج خودکشی پر بات کریں گے۔ آخر کوئی خودکشی کیوں کرتا ہے؟ بعض دفعہ لگاتار مسائل آتے ہیں، رائٹ؟ ہم سبھی مشکلات سے گزرتے ہیں، رائٹ؟ مگر اِس دنیا میں ایسی مصیبتیں بھی آتی ہیں جو کسی شخص کو خودکشی پر مجبور کر دیتی ہیں۔ جیسے آپ کے دماغ میں کوئی جنگ شروع ہوگئی ہو۔ کچھ چیزیں مسلسل آپ کے ذہن میں چلتی رہتی ہیں۔ آپ کے دماغ میں شدید سوچیں آتی ہیں۔ آپ خود کو کنفیوز اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔ گویا آپ کے اندر ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ جو ایکٹیویٹیز پہلے آپ کو پسند تھیں وہ بھی بے معنی لگتی ہیں۔ آپ کی ذہنی صحت تباہ ہو جاتی ہے اور آپ کی نیند کا سکیڈول بگڑ جاتا ہے۔ آپ کھانے پینے سے بھی لطف اندوز نہیں ہوتے۔ اور پتہ ہے اس سے بھی برا کیا ہوتا ہے؟ کوئی آپ کی اِس کیفیت کو نہیں سمجھتا۔ آپ کو لگتا ہے کہ ایسا کوئی نہیں جو آپ کا مسئلہ حل کر سکے۔ آپ اپنی بوریت دور کرنے کے لیے ٹی وی شوز دیکھتے ہیں۔ آپ ایسے کام کرتے ہیں کہ اپنی اذیت کو بھلا سکیں۔ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ آپ جہاں بھی جائیں، آپ کا ذہن آپ کے ساتھ ہوتا ہے جو اندر ہی اندر آپ کو کھاتا رہتا ہے۔ جب آپ اپنا ذہن صحیح طریقے سے استعمال اور کنٹرول نہ کر سکیں، تو یہ آپ کو تباہی کے راستے پر لے جاتا ہے۔ میں نے اِس موضوع پر سائنسی، نفسیاتی اور اسلامی نقطۂ نظر سے کچھ ریسرچ کی ہے۔ جس سے بڑے حقیقی اور حیران کن نتائج ملے ہیں۔ مثلاً، کیا آپ جانتے ہیں کہ اِس دنیا میں ہر 40 سیکنڈز میں کوئی نہ کوئی خودکشی کرتا ہے؟ مطلب جب سے یہ ویڈیو شروع ہوئی ہے، کہیں نہ کہیں 2 یا 3 لوگ خودکشی کر چکے ہیں۔ خودکشی کرنے والا یہ شخص کبھی زندگی کے متعلق مثبت رویہ رکھتا تھا، مثبت سوچتا تھا، گویا اُسے زندگی میں کوئی مسائل نہ ہوں، وہ خوشی سے بھرپور تھا۔ مگر سہی جانے والی مصیبتوں نے اُسے ایک بالکل مختلف مقام پر لا کھڑا کیا، اور اُس نے سوچا کہ اب وہ مزید اِن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دراصل، خودکشی حل نہیں ہے۔ یہ ایک فرار ہے ،مسائل کا حل تو ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ اِس حوالے سے ایک دانا کا قول بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر آپ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، تو آپ کے لیے اپنا مسئلہ حل کرنے کا امکان لامحدود ہے۔‘‘ اللہ کی قدرت لامحدود ہے، تو اُس کے لیے آخر کیا مشکل ہو سکتا ہے؟ قرآن میں بھی ایک آیت ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے، ’’اللہ کسی بھی شخص کو اُس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا۔‘‘ تو پھر لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں؟ ایک بہت ہی عظیم اسلامی اسکالر، بدیع الزماں نُورسی، صبر کے حوالے سے ایک بھرپور مشاہدہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کہ اگر کوئی شخص اپنے صبر کی طاقت کو ماضی اور مستقبل میں تقسیم نہیں کرتا، بلکہ اِسے حال میں جمع رکھتا ہے، تو وہ ہر مصیبت برداشت کر سکتا ہے۔‘‘ جی ہاں، وہ شخص ہر مصیبت اور وہ تمام مسائل برداشت کر سکتا ہے، جو اُسے خودکشی پر اُبھارتے ہیں۔ مگر آپ ماضی کی باتوں پر بہت زیادہ سوچتے ہیں اور شکایتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’آخر ایسا کیوں ہوا تھا؟‘‘ آپ اپنا کچھ صبر ماضی کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، اور اِس کے ساتھ ساتھ آپ یہ سوچتے ہوئے اِسے مستقبل میں تقسیم کر دیتے ہیں کہ ’’آگے کیا ہوگا؟ چیزیں کس طرح ٹھیک ہوں گی؟‘‘ آپ اپنے صبر کی طاقت کو ماضی اور مستقبل میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ مرکز، جوکہ حال ہے، طاقت سے خالی ہو جاتا ہے۔ پھر شیطان آپ میں یہ خالی پن دیکھتا ہے اور فوراً آپ پر حملہ کر دیتا ہے۔ اور رہا سہا صبر چھین لیتا ہے اور آپ کہتے ہیں، ’’بس بہت ہو چکا۔ میں اب اور نہیں سہہ سکتا۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔‘‘ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اپنا صبر ماضی اور مستقبل میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ اِسی وقت شیطان اُس شخص پر حملہ کرتا ہے جو خودکشی کے قریب بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اچانک وہ آپ کے ذہن پر حملہ کرتا ہے۔ آپ کے دماغ میں منفی سوچیں گھومتی ہیں۔ جب آپ کالا چشمہ لگا لیتے ہیں، تو آپ کو ہر چیز کالی نظر آتی ہے، رائٹ؟ لہٰذا شیطان آپ کو کالا چشمہ پہنا دیتا ہے۔ ہر چیز منفی نظر آتی ہے اُن کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ وہ الٹی اور سیدھی طرف سے آپ پر حملہ کرتا ہے۔ اور آپ اِن سوچوں کو دبانا چاہتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔ درحقیقت لوگ اِسی لیے خودکشی کر جاتے ہیں کہ وہ اپنے دل اور ذہن کی اِس اذیت سے نکل سکیں۔ تو اگر اُن کی اذیت دور ہو جائے تو کیا وہ اپنی زندگی ختم کرنا چاہیں گے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ ہم خودکشی کی وجہ بننے والی چیزیں بتا چکے ہیں۔ مالی مسائل۔ کسی مصیبت میں پھنس جانا۔ فیملیز کے مسائل۔ نفسیاتی مسائل۔ ڈپریشن۔ تنہائی۔ رشتہ ختم ہونا۔ یکطرفہ محبت۔ یہ باتیں لوگوں کو خودکشی پر مجبور کرتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر، %90 خودکشیوں کی وجہ نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں، اور خودکشی کرنے والے %50 لوگ الکوحل یا ڈرگز کے عادی ہوتے ہیں۔ بڑی دلچسپ بات ہے، رائٹ؟ یہاں ایک بات لوگ ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔ یہ جسم آپ کے پاس ایک امانت ہے۔ ایک نظر خود پر ڈالیں۔ آپ کی یہ آنکھیں کہاں سے آئی ہیں؟ آپ نے اِنہیں کونسی مارکیٹ سے خریدا ہے؟ کچھ بھی آپ کا نہیں ہے۔ کیا آپ کو اِس کا احساس ہے؟ تو پھر کیا اُس شخص کو یہ کہنے کا حق ہے کہ ’’آخر ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟‘‘ اِسے اِس طرح سے سوچیں۔ کہ آپ نے ایک گھر خریدا اور اُسے اپنی مرضی سے سجایا۔ پھر آپ کے مہمان آئے اور اِس میں خامیاں نکالنے لگے۔ ’’آپ کی دیواریں اِس رنگ کی کیوں ہیں؟ یہ صوفہ سیٹ اِس رنگ کے ساتھ میچ نہیں کرتا۔ میں تو ایسا رنگ فوراً بدل ڈالوں۔‘‘ اگر وہ یہ کہیں تو آپ کا ری ایکشن کیا ہوگا؟ آپ کہیں گے، ’’دیکھیں، آپ اِس گھر کے مالک نہیں ہیں۔ آپ کو یہ فیصلے کرنے کا حق نہیں ہے۔‘‘ یہی کہیں گے ناں۔ اب ذرا ایک نظر خود پر بھی ڈالیں۔ ہم کس چیز کے مالک ہیں؟ کسی چیز کے نہیں۔ اور مالک اپنی پراپرٹی میں جو چاہے کرنے کے لیے آزاد ہے۔ وہ ہمیں بہتر بنانے کے لیے ہمیں آزمائش میں ڈالتا ہے۔ مثلاً، جب امتحانات شروع ہوتے ہیں، اور پیپرز بانٹ دیے جاتے ہیں، تو ٹیچر بعض دفعہ کسی بچے کی طرف بہت سنجیدہ انداز میں مڑتا ہے، رائٹ؟ خاص طور پر جب وہ رُولز کو فالو نہ کرے۔ جب آپ پیپر کو دیکھتے ہیں، تو آپ کو ٹیسٹ کے سوالات دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں صحیح اور غلط دونوں چوائسز ہوتی ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے، ’’یہ D، C، B جیسی غلط چوائسز کویسچن پیپر میں کیوں دی ہوئی ہیں؟ یہ یہاں کیوں لکھی ہیں؟ یہ تو غلط ہیں۔‘‘ یہ ایک ٹیسٹ ہے۔ اِسی طرح، اِس دنیا میں منفی چیزیں واقع ہوتی ہیں۔ آپ کو مسائل کا سامنا ہوگا۔ ایسے لمحات بھی آئیں گے جب آپ کہہ اٹھیں گے، ’’آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟‘‘ مگر فکر نہ کریں۔ آخرت میں، ہر چیز انصاف کے ساتھ واپس مل جائے گی۔ یہ نہ کہیں، ’’میری آنکھیں دیکھ کیوں نہیں سکتیں؟ میرے کان سُن نہیں سکتے؟‘‘ آخرت میں انصاف کے ساتھ ہر چیز واپس مل جائے گی۔ مثلاً، ایک بچہ ہے جو پیدائشی طور پر نابینا ہے۔ وہ اس دنیا میں آیا، اور اس نے زندگی گزاری۔ پھر اُسے موت آئی اور وہ چلا گیا۔ وہ تو کچھ بھی نہ دیکھ سکا۔ مگر اِس دنیا میں اپنی محرومی کے بدلے جب اُسے آخرت میں انعام و کرام سے نوازا جائے گا تو کیا وہ نہیں کہے گا، ’’میں اِس پر بالکل بھی افسردہ نہیں ہوں کہ دنیا میں میری آنکھیں نہیں تھیں؟‘‘ اگر آخرت کا کوئی وجود نہ ہوتا، تو پھرواقعی یہ بہت بڑی ناانصافی ہوتی۔ مگر ہمارے پاس آخرت ہے۔ آپ کی مصیبتوں کا بدلہ بھی وہاں انصاف سے دیا جائے گا۔ لہٰذا فکر نہ کریں، ایک دن آپ اپنی اِنہی مصیبتوں کو دیکھ کر مسکرائیں گے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے، رائٹ؟ اپنی زندگی کی سب سے بڑی مصیبت کو سوچیں۔ وہ آئی اور چلی گئی ہوگی۔ ہوسکتا ہے آپ اُسے سوچ کر نہ مسکرائیں، مگر آپ کو محسوس ہوگا کہ وہ اذیت اب ختم ہو چکی ہے۔ ایک ہفتے بعد، اذیت میں کچھ کمی آ جاتی ہے۔ پھر تین ہفتے گزرتے ہیں، اور اذیت مزید کم ہو جاتی ہے۔ پورے ایک سال بعد آپ کہتے ہیں، ’’کیا میں واقعی اُس واقعے پر اتنا زیادہ اپ سیٹ تھا؟‘‘ اور جب دس سال گزر جاتے ہیں، تو وہ آپ کو یاد تک نہیں رہتا۔ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 32 میں اللہ فرماتا ہے، ’’جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اُس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ہو۔‘‘ اِس آیت میں، جب زندگی لینے کی بات کی گئی، تو اِس سے مراد آپ دوسروں کی ہی زندگی کیوں لیتے ہیں؟ آپ جانتیں ہیں خودکشی کا سب سے بُرا پہلو کیا ہے؟ آپ کو توبہ کا موقع نہیں ملتا۔ فرض کریں آپ سے زِنا یا کوئی دوسرا گناہ ہو گیا۔ آپ اِس پر نادم ہو کر توبہ کر سکتے ہیں، اور اللہ آپ کو معاف کر سکتا ہے۔ مگر جب آپ خودکشی کرتے ہیں، تو آپ کو توبہ کا کوئی موقع اور وقت نہیں ملتا۔ آپ ڈائریکٹ اِتنے بڑے گناہ کے ساتھ، آخرت کے سفر پر جاتے ہیں۔ آپ کس مسئلے کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں؟ کہ اس سے وہ مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا، رائٹ؟ آپ کے مرنے کے بعد کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ درحقیقت، ایسا ہی چلتا رہے گا۔ بلکہ اور برے حالات پیدا ہوں گے۔ اور اگر اللہ نے آپ کو معاف نہ کیا ؟ کیا آپ کو جہنم سےخوف نہیں آتا؟ اب، اگر میں آپ کو کہوں، کہ میں ابھی آپ کو دس تھپّڑ ماروں گا، تو آپ باہر بھاگ جانا چاہیں گے، رائٹ؟ اور اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ اگر آپ باہر چلے گئے تو 100 لوگ اور آپ کو زوردار تھپّڑ ماریں گے۔ جہنم بھی اِسی طرح ہے۔ ذرا آپ جہنم کے بارے میں آیات تو پڑھیں۔ ہوسکتا ہے آپ سوچیں، ’’بس سب ختم کرو، میں خودکشی کر کے ہر پریشانی سے آزاد ہو جاؤں گا۔‘‘ لیکن نہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ زندگی ختم ہوتے ہی، اصل تکلیف شروع ہو جائے گی۔ ایک خوبصورت قول ہے۔ اگر دنیا عارضی ہے، تو آپ کی مشکلات کیسے ہمیشہ رہ سکتی ہیں؟ کیا واقعی ایسا نہیں ہے؟ دیکھیں، ایسی کئی آیات ہیں جو ہمیں راحت و سکون دیتی ہیں۔ سورۃ الانشراح کی آیت نمبر 5 اور 6 میں اللہ فرماتا ہے، ’’ ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے، (اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ سورۃ الزمر کی آیت نمبر 53 میں ۔ ’’اے میرے وہ بندو!

جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘ سورۃ الزمر کی آیت نمبر 36 میں ہے۔ ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟‘‘ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 216 ۔ ’’عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُرا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اِن آیات کے ذریعے ہمیں دی گئی اِن تمام خوشخبریوں کے بعد بھی، کوئی شخص کیسے امید کھو سکتا ہے؟ ایک قول ہے۔ جو لوگ زندگی میں خوبصورتی دیکھتے ہیں وہ خوبصورت سوچتے ہیں، اور جو لوگ خوبصورت سوچتے ہیں وہ زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے آپ کے مقابلے میں کم از کم 50 گنا زیادہ تکلیفیں اٹھائی ہیں، مگر وہ پھر بھی ہنسی خوشی جی رہے ہیں۔ کیسے؟ اپنے مائنڈ سیٹ کی وجہ سے۔ کیونکہ اپنی زندگیوں کے بارے میں اُن کا نقطۂ نظر اچھا ہے۔ پیغمبروں کی زندگیوں کو دیکھیں۔ اُنہوں نے کیسی زندگیاں گزاریں؟ کیا ایّوب (علیہ السلام) نے دنیا میں پریشانیوں اور مشکلات کے بغیر زندگی گزاری؟ اُن تکلیفوں کو سوچیں جن سے یونس (علیہ السلام) اورحضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گزرنا پڑا۔ ہمارے نبی محمد (ﷺ) کو برداشت کرنی پڑیں۔ اِن سب نے بہت زیادہ تکلیفیں برداشت کیں۔ مگر کیا اِنہوں نے کبھی خدا پر اعتراض کیا یا خودکشی کی؟ لہٰذا، یہ ایک وجہ ہے جس کے تحت لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ آپ منفی چیزوں پر توجہ رکھتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی کو نہیں سراہتے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور آپ خودکشی کر لینا چاہتے ہیں۔ بھائیو اور بہنو، یقین کریں، اِس کی وجہ صرف ہمارا مائنڈ سیٹ ہے۔ آپ کو ایک خبر ملتی ہے، ایک جملہ آپ کے کانوں میں جاتا ہے، یہ بری خبر آپ کی نفسیات کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور ہمیں یہاں یہ کرنا ہوتا ہے کہ اُس جملے کا آخر کتنا اثر لیا جائے اور اُس معاملے کو کیسے سنبھالا جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی یہ زندگی جس سے آپ خوش نہیں ہیں یہ لاکھوں لوگوں کا خواب ہے؟ وہ آپ جیسی زندگی گزارنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو مصیبت زدہ ہیں۔ درحقیقت، اُن میں سے کچھ تو آپ جیسی زندگی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ اُن کا تصوّر اِس سطح تک پہنچا ہی نہیں۔ اُنہوں نے کبھی اِس طرح کی زندگی نہیں دیکھی۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کا درد گہرا ہے، مگر آپ کو اپنے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا اور اِس آزمائش سے نکلنے کے لیے خود کو قائل کرنا ہوگا۔ آپ نے آخری مرتبہ کب اِس بات پر شکر ادا کیا تھا کہ آپ کے پاؤں ہیں اور آپ چل سکتے ہیں؟ کچھ لوگوں کو معذوریوں کے ساتھ آزمایا جاتا ہے، کسی کے ہاتھ نہیں ہوتے، کسی کی ٹانگیں نہیں ہوتیں، کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ ہاں، اُنہیں آزمایا جاتا ہے۔ اُن کے مسائل ہم سے 50 گنا زیادہ ہوتے ہیں، مگر وہ زندگی گزارنے اور خوش رہنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ آخرت میں، اُنہیں ہم سب سے زیادہ انعامات سے نوازا جائے گا۔ اِس دنیا میں، ہر قسم کی تکالیف آتی ہیں۔ اللہ نے آپ کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ اپنی موجودہ کیفیت کی وجہ سے یہ سب نعمتیں دیکھ نہیں پاتےہیں۔ اب اپنی آنکھیں بند کریں، اور تصوّر کریں کہ خودکشی پر غور کرنے والے کسی شخص کے ذہن میں کونسی باتیں ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اب، سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ آپ اور زندہ نہیں رہنا چاہتے کیونکہ تکلیفیں برداشت سے باہر ہیں۔ آپ کا ذہن مسلسل آپ کو پریشان رکھ رہا ہے۔ بے بسی محسوس کر رہے ہیں۔ آپ کہتے ہیں ’’میں اپنی زندگی سے خوش نہیں ہوں، پھر میں زندہ کیوں رہوں؟‘‘ اور پھر آپ سب سے اونچی منزل پر جاتے ہیں اور خود کو نیچے گرا دیتے ہیں۔ اب، آپ زمین سے ٹکراتے ہیں۔ اپنی زندگی کی سب سے بڑی تکلیف برداشت کر چکے ہیں۔ اب آپ کے لیے دو امکانات ہیں، اور اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ مر جائیں گے۔ تصور کریں کہ آپ معذور ہو گئے یا ہمیشہ کے لیے بستر پر آگئے۔ اب، اپنی باقی ساری زندگی، آپ چھوٹی چھوٹی نعمتوں سے خوش ہونے کی صلاحیت بھی کھو دیں گے، جیسے کہ آزادی اور اپنی مرضی سے نقل و حرکت کرنا۔ ویسے ایک ریسرچ بتاتی ہے کہ خودکشی کی کوششوں میں بچ جانے والے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے اِس عمل کے دوران یا اِس کے بعد فوری پچھتاوے کا اظہار کرتی ہے۔ تحقیقی جائزے بتاتے ہیں کہ خودکشی سے بچ جانے والے 90% افراد آئندہ اپنی زندگی میں کبھی بھی خودکشی نہیں کرتے۔ اُنہیں اِس پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ یا دوسرا امکان کیا ہے۔ فرض کریں کہ آپ مر جاتے ہیں۔ اِس وقت کیا ہو رہا ہوتا ہے؟ آپ کے آس پاس ایمبولینسز کی آوازیں ۔ لوگ آ رہے ہیں، دوڑ رہے ہیں، چیخ رہے ہیں۔ اور وہ چیخ و پکاررہے ہیں۔ مگر آپ کہاں ہیں؟ اچانک آپ کی والدہ بالکنی میں آتی ہیں۔ اور آپ کو تلاش کرتی ہیں مگر آپ نظر نہیں آتے۔ آپ کی والدہ نیچے دیکھتی ہیں، ایک مردہ جسم نظر آتا ہے، وہ دوڑ کر سیڑھیاں اترنے لگتی ہیں۔ روتی ہوئی ’’نہیں یہ میرا بچہ نہیں۔۔ پلیز مت کہو کہ یہ میرا بچہ ہے۔ اِسے مرنے مت دو۔‘‘ آپ نے اُنہیں زندگی بھر کا سب سے بڑا دُکھ دے دیا۔ وہ نیچے آتی ہیں، دیکھتی ہیں کہ یہ اُنہی کا بچہ ہے۔ اِس جیسی تکلیف اور اذیت کچھ ہو ہی نہیں سکتی۔ اُن کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ یہ خبر آپ کے والد تک پہنچتی ہے۔ وہ بھی غمگین ہو جاتے ہیں۔ اور آپ اپنے بہن بھائیوں کو بھی اس تکلیف سے گزارتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اپنے پیاروں کو اس قدر غمگین کرکے جانے کا تصوّر کر سکتے ہیں؟ مہینوں اور سالوں تک وہ آپ کی دی ہوئی تکلیف کے ساتھ جیتے رہیں گے۔ آپ کے مرنے کے کچھ ہفتے بعد، آپ کی والدہ آپ کے کمرے میں جاتی ہیں، آپ کی تصویر، آپ کے تکیے، آپ کے بستر کو دیکھتی ہیں۔ آپ سے وابستہ تمام یادوں کو۔ ایک ایسی عورت جس نے اپنی زندگی آپ پر نچھاور کر دی آپ اُس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔ تو پھر اِس مائنڈ سیٹ سے نکلنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے، خود کو کسی بامقصد کام میں مصروف کر لیں۔ جیسے کہ فوٹوگرافی کرنا دنیا میں نئی جگہہوں کو ایکسپلور۔ حلال اور جائز کاموں کے اندر رہتے ہوئے، کوئی بھی کام ہو سکتا ہے۔ اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کا سب سے بہترین طریقہ اپنے رب کے ساتھ جُڑ جانا ہے۔ اُس کے کلام اور قرآن کو سننا۔ خود کو مصروف رکھنے سے تنہائی سے بچنے میں مدد ملتی ہے اور آپ کا ذہن بری سوچوں سے ہٹ جاتا ہے۔ یہ سکون پانے اور اپنی زندگی میں مثبت انرجی لانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ شیطان آپ کے صبر کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ آپ کو مسلسل ماضی اور مستقبل کی طرف لے جا کر ایسا کرے گا۔ آپ کو اپنا ذہن حال کے لمحے میں رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کام میں مصروف ہونا ہوگا۔ اور ایسا کرنے سے ناممکن ترین مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ اللہ نے اِس کائنات کو عدم سے وجود دیا۔ کیا ایسا سوچنا غیر معقول نہیں کہ وہ یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتا؟ وہ کائنات کا خالق ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں۔ اِس مسئلے سے نکلنے کا راستہ موجود ہے۔ چاہے ابھی وہ آپ کو نظر نہ آ رہا ہو۔ چاہے اِس وقت سڑکوں پر دھند چھائی ہو، مگر یہ دھند صاف ہو جائے گی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ بہت سی خودکشیاں کسی ایک لمحے میں مغلوب کر دینے والی جذباتیت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ایسے لمحوں میں، شیطان آپ کی موجودہ کمزوری کا فائدہ اٹھاتا، مایوسی کو بڑھاتا، اور مسائل کو ناقابلِ حل دکھاتا ہے۔ مگر جذبات لہروں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ اُبھرتے ہیں اور پھر تھم جاتے ہیں۔ اِن الجھنوں سے ذرا سی دُوری اور ایک دن کا آرام کافی مدد دے سکتا ہے۔ اگلی صبح، اذیت سے معمولی آسودگی ملنے پر بھی ایک زیادہ صاف نقطۂ نظر سامنے آئے گا اور آگے بڑھنے کے لیے تازہ دم قوت محسوس ہوگی۔ کبھی نہ بھولیں۔ یہ دنیا غموں اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ وہ جہان نہیں جہاں آپ کو اپنی نیکیوں کا انعام ملے گا۔ یہی وہ دنیا ہے جس نے ہمارے پیارے نبی(ﷺ) کے مبارک دل کو تکلیف دی تھی۔ جب آپ نے اپنی زوجہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو کھو دیا تھا۔ یہ دنیا جہاں ہمارے پیارے نبی(ﷺ) کے مبارک آنسو اُس وقت زمین پر گرے تھے، جب آپ نے احد میں اپنے چچا حضرت حمزہ کو دیکھا تھا۔ جن کے پھیپھڑے جسم سے باہر پڑے تھے، اور اُن کی ناک اور کان کٹے ہوئے تھے۔ یقیناً یہ وہی دنیا ہے، جہاں اللہ کے رسول نے سب سے زیادہ تکلیفیں سہیں۔ پھر آپ کو تکلیف کیوں نہیں پہنچ سکتی؟ آپ کو کوئی غم کیوں نہیں آ سکتا؟ آپ کون ہیں کہ مصیبتوں سے بچے رہیں گے؟ ایسے حالات میں، ہمیں یہاں رہنا اور صبر سے کام لینا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الضحیٰ، آیت نمبر 3 میں کیا فرماتا ہے؟ ’’تمہارے پروردگار نے نہ تمہیں چھوڑا ہے، اور نہ ناراض ہوا ہے۔‘‘ کس قدرخوبصورت آیت ہے۔ تمہارا پروردگار تم سے ناراض نہیں ہوا۔ اُس نے آپ کو نہیں چھوڑا،میرے بھائیو اور بہنو۔ کیا اللہ نے مسلمانوں سے جنت کا وعدہ نہیں کیا؟ جب وہ دن آئے گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تمام تکلیفیں اور مسائل ختم ہو جائیں گے۔ جب تک ہم اللہ کے لیے جیتے رہیں گے، سب کچھ ٹھیک رہے گا۔ الحمدللہ۔ ایک دن ہم مر جائیں گے۔ درحقیقت، یہ بہت سکون آمیز جملہ ہے۔ لیکن اگر ایسا میں اپنی مرضی سے، خودکشی کرکے کروں تو پھر آخرت بہت ہی مشکل ہوگی۔ لیکن اگر میرا رب میری زندگی لیتا ہے اور میں نے اُس کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری ہے، تو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ وہ ہمیں جہنم میں نہیں بھیجنا چاہتا۔ ذرا تصور کریں کہ آپ جنت میں داخل ہو چکے ہیں۔ آپ کی تمام مشکلات غائب ہو چکی ہیں، کبھی واپس نہ آئیں گی۔ چاہے ساری دنیا آپ کی مخالف تھی، مگر اب اس کا آپ پر کوئی اثر باقی نہیں۔ آپ وہاں پیغمبروں کو دیکھتے ہیں۔ یونس (علیہ السلام)، محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام)، عیسیٰ (علیہ السلام)۔ آپ صحابہ سے ملتے ہیں۔ آپ اپنے پیاروں، اپنے دوستوں، اپنے رشتے داروں کے ساتھ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، آپ اپنے رب، اللہ سے ملاقات کرتے ہیں۔ جس نے آپ کو پیدا کیا، آپ کو نعمتیں دیں ہدایت کا راستہ دیا۔ اِس زندگی میں، شاید مشکلات سے بھرپور ہمارے 30 یا 40 سال باقی بچے ہوں، مگر یہ بھی گزر جائیں گے۔ ایک دن آئیگا ہر مشکل ختم ہو جائے گی۔ صبر کے بعد نجات ملتی ہے، اور یقین کے ساتھ ہمیشہ امید ہوتی ہے۔ زندگی گزرتا ہوا ایک سفر ہے، صبر اور ایمان و یقین کی ایک وقتی آزمائش ہے۔ اِس وقت آپ کو محسوس ہونے والا درد ہمیشہ نہیں رہے گا۔ یہ تو ایک پُل ہے جو آپ کو اللہ سے اور قریب کر رہا ہے۔ آپ کا ہر بہا ہوا آنسو، جدوجہد کا ہر لمحہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کو بُھولا نہیں ہے اور آپ تنہا نہیں ہیں۔ اِس دنیا کے طوفانوں سے آگے، لازوال امن اور سکون آپ کا منتظر ہے۔ ایسا گھر جہاں سارے غم مِٹ جائیں گے اور آپ کا دل اطمینان پا لے گا۔ بس تھوڑا سا اور انتظار۔ جنت یہاں کی ہر مصیبت سے زیادہ قیمتی ہے۔