Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Nooh (A.S) Ka Waqia – Qur’an Vs Bible! Hairatangez Farq Jo Aap Ne Shayd Kabhi Na Sune Hon

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

سیاہ بادل آسمان پر چھا رہے تھے ، لوگ مایوسی سےچیختے چلاتے ہوۓ پناہ کی تلاش میں تھے۔ لیکن جو پناہ گاہیں انہیں ملیں وہ انہیں آنے والی تباہی سے بچانے کے قابل نہ تھیں۔ افق پر ، ایک زبردست سمندری طوفان اندھیرے کو چیرتے ہوۓ قریب آرہا تھا۔ سیلابی بارش میں ہر چیز زیر آب آ گئی، یہاں تک کہ درخت اور پہاڑ بھی اس قدرتی تباہی کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکے اور پانی کے نیچے غائب ہوگئے۔ لیکن اس ساری افراتفری کے بیچ میں ، ایک جہاز پانی پر تیر رہا تھا ،اور اس تباہی سے بالکل متاثر نہیں ہوا ۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے کوئی نادیدہ ہاتھ احتیاط سے اس کی حفاظت کر رہا تھا اور کشتی میں موجود افراد کی حفاظت کو یقینی بنا رہا تھا۔ یہ نہ تو اتفاق تھا اور نہ ہی موقع۔ وہ عظیم طاقت جو اس سیلاب کو زمین پر لائی ، اس نے اپنے نبی کو اس کشتی کی تعمیر کا حکم دیا تھا، اور اب مسافروں سمیت اس کی حفاظت کر رہی تھی۔ یہ کشتی زندہ بچ جانے والوں کی امید اور ایک نئی ابتداء کی خوشخبری تھی۔ یہ نوح علیہ السلام کی کشتی تھی۔ یہ شاید انسانی تاریخ کا ایک مشہور ترین قصہ ہے، جو کئی موویز کا موضوع بھی رہا۔ آپ کو لگتا ہو گا کہ پوری دنیا آپ ہی کی طرح اس قصے سے واقف ہے۔ تاہم ،عیسائیت اور اسلامی روایات کے مابین کئی اہم اختلافات ہیں۔ آج ، ہم اس قصے پر قرآن اور بائبل کے نکتہ نظر سے بات کریں گے، اور دونوں میں موجود اشتراکیت اور اختلافات کا موازنہ کریں گے۔ نبی نوح علیہ السلام نے کس طرح کی جدوجہد کا سامنا کیا؟ اتنے طاقتور سیلاب آنے کی کیا وجہ تھی؟ چیزیں اس مقام تک کیسے پہنچیں؟ کشتی پر موجود لوگ اس بڑی تباہی سے کیسے بچے؟ اور جب یہ سب ختم ہوا تو کیا ہوا؟ اگر آپ تیار ہیں تو ، شروع کریں۔ نوح (علیہ السلام) ،جہاں پیدا ہوۓ اس خطے کو میسوپوٹیمیا کہا جاتا ہے۔ وہ ایک قابل احترام،معروف اورنیک شخص تھے جو کئی سالوں سے اپنی قوم میں رہ رہے تھے۔ لیکن جس معاشرے میں وہ رہتے تھے ،ان سے بہت مختلف تھا۔ یہ ایک ایسی قوم تھی جہاں طاقتور کمزوروں پر ظلم کرتے، جہاں لوگ بد ترین بے حیائی میں مبتلا تھے، جہاں برائی اور تکبر کو ان کے دلوں پر غلبہ حاصل تھا۔ وہ ماضی کے مرے ہوۓ دانشوروں کے مجسمے عقیدت کے تحت بناتے۔ پھر یہ عقیدت عبادت میں بدل گئی۔ ، اور آخر کار یہ وہ قوم تھی جہاں نوح (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ وہ دن رات اپنی قوم کو ان کے برے اعمال سے خبردار کرنے اور ان حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ بائبل میں اس مشہور کشتی کی تعمیر کی طرف لے جانے والے پروسس کا ذکر نہیں ہے۔ اس حصے کی تفصیلات عام طور پر قرآن مجید میں ملتی ہیں۔ سورت الاعراف کی 59 ویں آیت میں اللہ نے فرمایا کہ ، نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ تاکہ وہ انہیں اس گمراہی اور بدعنوانی سے نکال سکیں۔ دوسری طرف ، ان کی قوم کا ردعمل تکبر بھرا ہوتا اور کبھی تو وہ کانوں کو بند کر کے گزر جاتے۔ انہوں نے اپنے نبی پر گمراہی کا الزام لگایا اور انہیں توہین آمیز الفاظ کے ساتھ دھمکانے کی کوشش کی۔ اور اپنے جھوٹے عقائد پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا ، ہم اپنے دیوتاؤں کو ، ود،سُواعا،یاغوث،یعوق اور نسر کو کبھی نہیں چھوڑیں گے انہوں نے نوح علیہ السلام کی دعوت کو یہ سوچ کر جھٹلایا کہ وہ ایسا صرف اپنے ذاتی فائدے کے لئے کر رہے ہیں۔ لیکن نوح علیہ السلام کا جواب بالکل واضح تھا۔ " اور اس کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے۔ " لیکن پھر بھی وہ نوح علیہ السلام کو مسلسل نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ ان کا اور ان پر یقین کرنے والے لوگوں کا مذاق اڑ رہے تھے۔ کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں ، جس کی پیروی انتہائی حقیر لوگ کر رہے ہیں؟" اپنی قوم کی سرکشی کے باوجود، وہ ان کے لیے فکر مند تھے، اور انہیں متوقع عذاب سے بچانا چاہتے تھے۔ تاہم صرف مٹھی بھر لوگ نوح علیہ السلام پر ایمان لاۓ ، جبکہ باقی لوگ سرکش رہے اور دن بدن ان کے ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا گیا۔ صورتحال ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھی۔ برسوں بعد ، انہیں احساس ہوا کہ ان کی کوششوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ قوم بت پرستی سے باز نہ آۓ گی۔ آخری حربے کے طور پر ، انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور یہ دعا کی۔ "انہوں نے کہا،اے میرے رب، بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ پھر میرے اور ان کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دے، اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو بچا لے۔" نوح علیہ السلام ، جنہوں نے سالوں تک اپنی قوم کے لیے جدوجہد کی، جنہوں نے آخری لمحے تک ہار نہیں مانی، جنہوں نے سارے مظالم اور اذیتیں برداشت کیں، اب وہ اپنے اور اپنی قوم کے درمیان رب کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو خدا کا فیصلہ کیا ہوگا؟ ہم اس سب پہ بات کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس حصے کو بائبل میں کیسے بیان کیا گیا ہے۔ "نوح علیہ السلام اپنے وقت کے لوگوں میں ایک نیک اور بے عیب آدمی تھے ، اور وہ خدا کے فرماں بردار تھے ان کے تین بیٹے تھے ، سام ، حام ، اور یافث " اب زمین خداوند کی نظر میں کرپٹ اور تشدد سے بھری ہوئی تھی۔ خداوند نے دیکھا کہ زمین کتنی کرپٹ ہوگئی ہے ، زمین پر موجود تمام لوگوں کے طور طریقے کرپٹ ہو گۓ تھے۔ "خداوند نے دیکھا کہ انسانی نسل زمین پر کتنی بڑی برائی بن چکی تھی ، اور یہ کہ ہر انسانی دل کے خیالات کا روجھان برائی کی طرف ہے۔ خداوند نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے زمین پر انسان کو پیدا کیا ، اور اس کا دل گہری پریشانی میں تھا۔ " بائبل کے مطابق،واقعات کی کڑی یہ ہے جو خداوند کے افسوس کا سبب بنی، جب کچھ مخلوقات نے جنہیں'سن آف گاڈ 'بھی کہتے ہیں انسانی عورتوں سے شادی کرنا چاہی۔ "جب زمین پر انسان کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں تو، خدا کے بیٹوں کو انسانوں کی بیٹیاں خوبصورت لگیں،اس لئے ان لوگوں نے لڑکیوں کو چُنا اور ان سے شادی کر لی۔ " اور ان شادیوں کے ساتھ ، برائی زمین پر کئی گنا بڑھ گئی اور انسان ظالم ہوتا گیا۔ خداوند نے کہا ، “میں نے جن تمام انسانوں کو اس کرہٴ ارض پر پیدا کیا ہے اُن سب کو مٹا دوں گا، ہر ایک انسان ، ہر ایک حیوان، اور زمین پر رینگنے وا لے ہر ایک جانور کو ختم کر دوں گا۔ اس لئے کہ ان سب کو پیدا کر کے مجھے افسوس ہوا۔ قرآن مجید میں،خدا کے افسوس کا کوئی ذکر نہیں۔ اور حقیقت میں،ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ افسوس کمزوری کا نتیجہ ہے جیسے غلطیاں کرنا اور واقعات کا اندازہ لگانے کے قابل نہ ہونا ۔ اور چونکہ اسلامی تصور میں خدا پرفیکٹ ہے، اس طرح کی ناقص خصوصیات کو اس سے کبھی منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ آخر ، ایک طویل انتظار کے بعد ، خدا کا حکم آ چکا ہے۔ تو وہ حکم کیا تھا؟ خدا نے نوح علیہ السلام سے فرمایا "آپ کی قوم سے کوئی بھی ایمان نہیں لاۓ گا سوائے ان کےجو پہلے ہی لا چکے ہیں۔ تو غم نہ کرو کہ وہ کیا کر رہے ہیں،اور میرے حکم کے تحت ایک جہاز تعمیر کریں ۔ اور مجھے ان لوگوں کے بارے میں مخاطب نہ کریں جو غلط راہ پر ہیں۔ بے شک ، انہیں غرق ہونا ہے۔ " تاہم بائبل میں،خدا نے اس طرح سے نوح علیہ السلام کو حکم دیا۔ "لہذا اپنے لیے صنوبر کی لکڑی کی کشتی بنائیں۔ اس میں کمرے بنائیں اور اسے اندر اور باہر قیر سے کوٹ کریں۔ اس طرح آپ اسے بنائیں گے۔ کشتی 300 فٹ لمبی، 50 فٹ چوڑی ، اور 30 فٹ اونچی ہونی چاہیے۔ اور جہاز کے بارے میں مزید تفصیلات دینے کے بعد ، بائبل کے مطابق ، خدا نے کہا ، آسمانوں کے نیجے تمام حیات کو، ہر مخلوق کو جس میں سانس ہے تباہ کرنے کے لئے زمین پر، سیلاب کا پانی بھیج رہا ہوں۔ زمین پر سب کچھ ہلاک ہوجائے گا۔ لیکن میں آپ کے ساتھ اپنا عہد قائم رکھوں گا،اور آپ کشتی میں داخل ہوں گے ، اپنی بیوی، بیٹوں بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ ۔ " کریسچین روایت کے مطابق،انسانوں میں صرف نوح علیہ السلام کی فیملی کشتی پر سوار ہوئی۔ لیکن اسلامی روایات میں،اگرچہ ان کی تعداد بہت کم تھی ، لیکن کشتی پر تمام مومنین سوار ہوں گے۔ لیکن نوح علیہ السلام کی ساری فیملی کو کشتی پر آنے کی اجازت نہیں ملے گی، جو نوح علیہ السلام کی زندگی کے سب سے بڑے غم کا سبب بنے گا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے موصول ہونے والے حکم کے تحت کشتی کی تعمیر شروع کردی۔ جب بت پرستوں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کشتی بنا ، رہے ہیں تو انہوں نے مذاق اڑایا۔ وہ کہہ رہے تھے جیسے ، "کیا آپ نبی سے بڑھئی بن گۓ؟ " "آپ خشک زمین کے بیچ میں ایک کشتی بنا رہے ہیں۔ " "آپ اسے کیسے چلائیں گے؟ واقعی ، جہاں نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے وہاں کوئی سمندر نہیں تھا۔ تو جہاز کیسے حرکت میں آنے والا تھا؟ نوح علیہ السلام نے ان پر بالکل بھی توجہ نہیں دی،اور خدا نےجو کرنے کا حکم دیا تھا اس پر مرکوز رہے ۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا آقا لامحدود طاقتور ہے ، وہ سب پر قادر ہے۔ اور یہ کہ وہ کبھی اپنے وعدے سے نہیں پھرے گا۔ تو انہوں نے تعمیر جاری رکھی۔ "یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا تنور اُبلنے لگا تو ہم نے فرمایا: ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا اور جن پر ( عذاب کی ) بات پہلے طے ہوچکی ہے ان کے سوا اپنے گھروالوں کو اور اہلِ ایمان کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے تھے۔ یہ جہاز جہاں اترنے جارہا تھا وہاں زندگی کو برقرار رکھنےکے لئے ، انہیں اس پر ہر جاندار کا ایک جوڑا لینے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح کا حکم بائبل میں بھی ہے، ۔ لیکن ایک دلچسپ فرق کے ساتھ۔ اس حکم کو دو الگ الگ حصوں میں بیان کیا گیا ہے ، لیکن مخلوق کے جوڑے کی تعداد ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس کے علاوہ زمین پر رہنے والے ہر ایک جاندار کا ایک نر اور ایک مادہ کشتی میں ساتھ لینا۔اور اپنے ساتھ ان کی بھی جانوں کی حفاظت کرنا۔تاہم ساتویں باب میں، حکم اس طرح دیا گیا ہے۔ تاہم ساتویں باب میں، حکم اس طرح دیا گیا ہے۔ ہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات سات نر و مادہ کے جوڑے جبکہ ناپاک جانوروں میں سے نر و مادہ کا صرف ایک ایک جوڑا ساتھ لے جانا۔ اِسی طرح ہر قسم کے پَر رکھنے والوں میں سے سات سات نر و مادہ کے جوڑے بھی ساتھ لے جانا تاکہ اُن کی نسلیں بچی رہیں۔ پہلے باب میں ، مخلوق کا ایک جوڑا۔ دوسرے باب میں ، مخلوق کے سات جوڑے۔ نوح علیہ السلام نے بالکل وہی کیا جو اس کے رب نے حکم دیا تھا۔ اور اب وقت آگیا تھا۔ سیلاب کے آنے کا اشارہ دینے کے لئے ۔خدا نے پانی کو زمین سے ابال نکالا اس وقت ، نوح علیہ السلام بائبل کے مطابق 600 سال کے تھے۔ لیکن قرآن کے مطابق وہ 950 سالوں تک اپنی قوم کے درمیان رہے ۔ بائبل کہتی ہے کہ یہ اس سال کے دوسرے مہینے کا 17 واں دن تھا ۔ نوح علیہ السلام کے ساتھ،مومنین اور جانوروں کےجوڑے کشتی میں سوار ہوئے۔ پھر آسمان میں سیاہ بادل چھانے لگے، اور حیرت انگیز طور پر تیز بارش لاۓ۔ جیسے جیسے پانی بڑھنا شروع ہوا، وہ جہاز جو زمین پر کھڑا تھا آہستہ آہستہ اٹھنے لگا۔ نوح علیہ السلام کی قوم ، جس نے ان کو جھٹلا دیا تھا اور پورے مشن کے دوران ان کے لیے مشکلات کھڑی کیں ، اب ان لوگوں کو اپنے کیے کا خو فناک انجام نظر آنے لگا۔ وہ فرار ہونے کے لئے پناہ تلاش کرنے لگے ، لیکن یہ سب بیکار تھا۔ آسمان گویا پھٹ گیا تھا ، پانی بہت زیادہ بہہ رہا تھا اور چشموں کی صورت زمین سے پھوٹ رہا تھا۔ خدا یہ سیلاب ایک ایسی قوم پر بھیج رہا تھا جس نے برسوں اپنے نبی پر ظلم کیا تھا۔ ایک ایسی قوم جس نے لمبے عرصے تک نبی کے انکار کی ذہنیت کو تبدیل نہیں کیا۔ یہ قصہ آئندہ نسلوں کے لیے عبرت کی مثال بنے گا۔ بائبل کے مطابق ، نوح علیہ السلام کے سارے بیٹے جہاز پر تھے۔ لیکن قرآن کے مطابق ان کا ایک بیٹا کشتی پر سوار نہیں ہوا ، کیونکہ وہ نوح علیہ السلام پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ قرآن مجید میں،اس کا ذکر نام سے نہیں ہے،بلکہ اس گفتگو کے تحت ہے جو نوح علیہ السلام اور اس کے درمیان ہوئی۔ "اور وہ کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان لے کر چل رہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا ، جو ان سے الگ تھا۔ اے میرے پیارے بیٹے!

تو ہمارے ساتھ سوار ہوجا، اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔۔ بیٹے نے کہا: میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ (نوح نے) فرمایا: آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ، مگر (وہی بچے گا) جس پر وہ رحم فرمادے۔ اور ان کے درمیان میں لہرحائل ہوگئی تو وہ بھی غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔ " اس صورتحال میں باپ کا تصور کریں۔ اور وہ صرف یہ نہیں کہتا ، "میرے بیٹے۔" وہ کہتا ہے ، "میرے پیارے بیٹے۔" وہ اس کی طرف ہمدردی اور اضافی محبت ظاہر کرتا ہے ۔ اب تک جتنی مشکلات سے گزرے ہیں ان میں سب سے بڑھ کر اپنے بیٹے کا یہ طرز عمل اور اس کا غرق ہونا تھا۔ ذرا سوچیں کہ یہ نوح علیہ السلام کے لئے کتنا پریشان کن ہوگا۔ جیسا کہ آسمانوں میں طوفان بڑھتا جا رہا تھا، اللہ کے فضل سے کشتی اس میں موجود لوگوں کی حفاظت کے لیے پہاڑ جیسی لہروں کا مقابلہ کرنے کے قابل تھی۔ مومنوں سے بھری اس کشتی کے رہنما کی حیثیت سے نوح علیہ السلام طوفانوں کے باوجود اپنا فرض نہیں بھولے۔ سیلاب کئی دن تک جاری رہا۔ جہاز کے ڈولتے عرشے پر مومنین کا گزرتا ہر دن ان کا صبر آزما رہا تھا۔ اگرچہ وہ اس طویل انتظار کے دوران جسمانی اور روحانی طور پر تھک گئے تھے لیکن ان کے ایمان کی طاقت نے ان کو ثابت قدم رکھا۔ آخر کار،آسمان روشن ہوا اور سیلاب کا زبردست زور ماند پڑ گیا۔ اللہ نے کشتی کو حفاظت سے ایک پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ۔ قرآن مجید میں ، اس لمحے کو ایسے بیان کیا گیا ہے، " اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین!

اپنا پانی نگل جا ، اور اے آسمان!

تھم جا۔ ' اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوگیا، اور وہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی۔ اور فرما دیا گیا: ظالموں کے لئے دوری ہے۔" اور بائبل اس بارے میں کیا کہتی ہے، "اور زمین سے پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ 150 دن کے بعد، پانی کم ہو گیا اور ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کو کشتی آرارات کے پہاڑوں پر ٹھہری۔" لیکن کیا یہ سیلاب پوری زمین پر آیا، یا اس نے صرف ایک مخصوص علاقے کو متاثر کیا؟ جہاں بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اس نے پوری زمین کا احاطہ کیا، وہاں قرآن نے اسے مبہم چھوڑ دیا۔ اسکالرز کی قرآن کی تفسیروں میں، کسی نے اسے زمین پر ایک عام سیلاب بتایا، اور کچھ نے کہا ہے کہ یہ ایک مخصوص علاقے میں آیا۔ لیکن جب اس ذات کی بات کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور اس کے سب سے بڑے معجزوں میں سے ایک ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنا علاقہ متاثر ہوا۔ کیونکہ خدا کے لئے،جو لامحدود طاقت رکھتا ہے،دونوں صورتیں آسان ہیں۔ ہمیں جس چیز پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے وہ قصے میں دیئے گئے پیغامات ہیں۔ بائبل میں کشتی کے پہاڑ پر رکنے کے بعد کے واقعات اس طرح بیان ہوۓ ہیں۔ "اُس وقت نوح نے رب کے لئے قربان گاہ بنائی۔ اُس نے تمام پھرنے اور اُڑنے والے پاک جانوروں میں سے کچھ چن کر اُنہیں ذبح کیا اور قربان گاہ پر پوری طرح جلا دیا۔ یہ قربانیاں دیکھ کر رب خوش ہوا اور اپنے دل میں کہا، ”اب سے مَیں کبھی زمین پر انسان کی وجہ سے لعنت نہیں بھیجوں گا، کیونکہ اُس کا دل بچپن ہی سے بُرائی کی طرف مائل ہے۔ اب سے مَیں کبھی اِس طرح جان رکھنے والی ۔مخلوقات کو رُوئے زمین پر سے نہیں مٹاؤں گا کیا آپ کو جینیسز کی کتاب کا چھٹا باب یاد ہے، جس میں خدا نے انسانوں کی تخلیق کے بعد افسوس کا اظہار کیا تھا، اور اسی وجہ سے ان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور یہاں آٹھویں باب میں ، ایسا لگتا ہے جیسے خدا نے سیلاب لانے کا فیصلہ غصے کے لمحات میں کیا۔ جب یہ سب ختم ہو گیا، تو وہ ایک اچھی بو سے پرسکون ہو گیا اور اسے احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا تھا۔ افسوس کرنا ، بے حد غصے میں کام کرنا ، غلطیاں کرنا۔ ایسی چیزیں خدا کے بارے میں کیسے سوچی جاسکتی ہیں؟ بائبل کی ایک اور حیرت انگیز داستان نویں باب میں ہے ، جس میں کہا گیا نوح کسان تھا۔ شروع میں اُس نے انگور کا باغ لگایا۔ انگور سے شراب بنا کر اُس نے اِتنی پی لی کہ وہ نشے میں دُھت اپنے خیمے میں بے لباس پڑا رہا۔ کنعان کے باپ،حام نے اپنے والد کو بے لباس دیکھا تو باہر آکر اپنے دو بھائیوں کو بتایا۔ یہ سن کر سام اور یافث نے اپنے کندھوں پر کپڑا رکھا۔ پھر وہ اُلٹے چلتے ہوئے داخل ہوئے اور کپڑا اپنے باپ پر ڈال دیا۔ اُن کے منہ دوسری طرف مُڑے رہے تاکہ باپ کی برہنگی نظر نہ آئے۔ " اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب نوح کے بیٹوں میں سے ایک ، حام اپنے بھائیوں کو والد کی صورتحال کے بارے میں کچھ کرنے کو کہتا ہے ، تو وہ جا کر اپنے باپ کو کپڑے سے ڈھانپ دیتے ہیں۔ لیکن پھر کچھ بہت حیران کن ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں۔ جب نوح ہوش میں آیا تو اُس کو پتا چلا کہ سب سے چھوٹے بیٹے نے کیا کِیا ہے۔ اُس نے کہا، ”کنعان پر لعنت!

وہ اپنے بھائیوں کا ذلیل ترین غلام ہو گا۔ " اس نے یہ بھی کہا ، تعریف اس رب کی جو سام کا خدا ہے۔ کنعان سام کا غلام ہو۔ خدا یافث کی سرزمین کو وسعت عطا فرمائے ۔ یافث سام کے خیموں میں رہے۔ اور کنعان اُس کا غلام ہو۔ " سب سے پہلے،میں چاہتا ہوں کہ آپ دیکھیں کہ شراب پینا اور خدا کے نبی کا نشے میں پڑنے کے بعد برہنہ ہونے جیسی باتوں کا قبول کرنا کتنا نامناسب ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ، اس حوالہ میں،یہ بظاہر حام ہے جس نے اپنے بھائیوں کو بتانے کی نام نہاد غلطی کی جو درحقیقت غلطی نہیں ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں اس کے باپ کی شرمناک حالت پر پردہ پڑ گیا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ لعنت حام پر نہیں کی گئی ، بلکہ اس کے بیٹے کنعان پر کی گئی،جس کا واقعے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس کی کوئی سینس ہی نہیں بنتی کہ ایک نبی جسے انصاف کا رول ماڈل سمجھا جاتا ہے وہ ایسا کام کرے گا۔ یا یہ کہ خدا اس فعل کو ایک الہامی کتاب میں اچھی مثال کے طور پردکھانا چاہے گا ۔ لیکن اس کا بدترین حصہ اس لعنت سے متعلق وہ واقعات ہیں جن کا ہم قرون وسطی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان الفاظ پر دھیان دیں، ، "کنعان پر لعنت ہو۔" "کنعان سام کا غلام بنے۔" "کنعان یافث کا غلام بن جائے۔" 15 ویں صدی کے بعد سے ، ایک عقیدہ پھیل گیا کہ کالی جلد ہونے کا سبب یہ لعنت ہے۔ یہاں تک کہ بائبل کا یہ باب سیاہ فام افریقیوں کی غلامی کا جواز پیش کرنے کے لئے بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اس پر یقین کرنا بہت مشکل لگتا ہے، ہے ، لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ پرتگالی مورخ ، گومس اینیس ڈی ازورارا نے لکھا ہے کہ انھوں نے جو غلام افریقیوں کو دیکھا تھا وہ لعنت کی وجہ سے بہت بری حالت میں تھے جو عظیم سیلاب کے بعد ، ، نوح نے حام پر بھیجی تھی۔۔۔ کہ اس نسل کو دنیا کی دوسری تمام نسلوں کا تابع ہونا چاہئے۔ " یہاں تک کہ ان چیزوں کا صرف پڑھنا ہی بہت تکلیف دہ ہے۔ یا الیگزینڈر کریمل ، جو افریقی امریکی پادری اور ایک علمی شخص تھا جس نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی 1862 میں لکھا ، "تقریبا پوری کریسچین ورلڈ کی ایک یونیورسل راۓ ہے کہ سیاہ فام نسل کی تکلیفیں اور غلامی نوح کی لعنت کا نتیجہ تھیں۔ ظاہر ہے ، بائبل کے متن میں یہ ذکر براہ راست نہیں کیا گیا ہے کہ سیاہ جلد کا رنگ اس لعنت کی وجہ سے ہے ۔ اور آج کے عیسائی پادریوں کا استدلال ہے کہ یہ ایک مکمل غلط تشریح ہے ، اور ہم یقینی طور پر پیروکاروں کی غلطیوں کی بنا پر مذہب کو جج نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ مذہبی متن میں دراصل کیا شامل ہے۔ یہاں ہم ایک عظیم نبی کی بات کر رہے ہیں، نوح علیہ السلام، جنہوں نے اپنی قوم کے لئے اتنے خلوص اورسنجیدگی سے جدوجہد کی ۔ لیکن بائبل میں ان کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہے وہ چیز ہے جس کی توقع ان سےکبھی نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف ، اسلام کسی نبی کے ، بارے میں اس طرح کی داستان یا بیان قبول نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اسلام قبول کرسکتا ہے کہ خدا اس طرح کی وحی انسانیت کو بھیجے گا۔ ایک انکشاف جس میں تضادات اور نامناسب صفات شامل ہیں۔ کشتی پر لانے والے جانوروں کےجوڑےکی تعداد یاد کریں۔ پیدائش کی کتاب میں دو مختلف نمبرزدیئے گئے تھے۔ یہ ایک تضاد ہے۔ خدا غلطیاں کیسے کرسکتا ہے جب وحی بھیج رہا ہو؟ یا خدا کے بارے میں بائبل ورژن میں کہی گئی کہانی کے کچھ بیانات، یعنی خدا کو افسوس کرتا ہوا دکھایا گیا ہے کہ وہ چیزوں کی پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں ہے، یا وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتا،اور پرسکون ہونے کے بعد ،اپنے کیے پر افسوس کرتا ہے۔ یہ وضاحتیں خدا کے لئے درست یا مناسب کبھی نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ وہ تمام خامیوں سے پاک ہے۔ لیکن جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قصہ ایک مثالی انداز میں بتایا جاتا ہے۔ کسی بھی تضادات یا نامناسب صفات سے پاک ۔ اس نے اللہ کو ایک بہترین انداز میں بیان کیا اس طرح سے جیسے اس کی شان کا تقاضا ہے۔ ان تمام موازنوں کی روشنی میں ، توکیا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا؟ کہ قرآن کو بھیج کر ، خدا نے پچھلے صحیفوں کے غلط بیانیہ کو ختم کیا ہے جیسے ہم نے اس کہانی میں دیکھا اور انہیں انتہائی درست طریقے سے بتایا ہے؟ یا ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں قرآن بھیج کر خدا نے صدیوں سے بائبل میں گھل مل جانے والے، جھوٹے عقائد کو صاف کیا ہے؟ اسی طرح قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی جھوٹے عقائد جو عیسائیت سے متعارف ہوئے تھے، انہیں درست کیا اور اعلان کیا کہ وہ دیوتا نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے ذریعے بھیجے گئے عظیم نبیوں میں سے ایک ہیں۔ ہم سب ایک خاص سمت میں سفر کر رہے ہیں اس بے حد عظیم جہاز پر جسے زمین کہا جاتا ہے ، اور یہ وسیع خلا ہمارا سمندر ہے۔ پوری تاریخ میں ، نوح جیسے ہزاروں نبیوں نے اس جہاز پر لوگوں کی کپتانی کی ہے ، اور عیسیٰ علیہ السلام بھی ان کپتانوں میں سے ایک ہیں۔ ان سب نے لوگوں کو سچائی کی طرف بلانے کی کوشش کی۔ لیکن جب وہ خالص ایمان کرپٹ ہو گیا جس کے لیے یسوع اصل میں بھیجے گئے تھے تو ، یہ جہاز اپنے آخری کپتان کےحوالے کردیا گیا۔ ان تمام موازنوں کی روشنی میں ، کیا آپ بھی نہیں یہ سوچتے کہ یہ فائنل کیپٹن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ، اور قرآن مجید سمت بتانے والا آلہ ہے؟