"Main Churchon Mein Gaati Thi… Phir Islam Mila" – NYC Ki Christian Singer Ka Safar-e-Hidayat
تاریخ اشاعت
نیو یارک سٹی میں بطور پروفیشنل سنگر کے کیریئر میں ، جہاں ایک بہت بڑا آرکسٹرا ہوگا،شاید 100 افراد اور چار سولوایسٹ کا ایک کورس ہو۔ تو میں بھی اس کا حصہ بنوں گی۔ اور ہم نے بات چیت کی ، انہوں نے کہا ، " میں ایک مسلمان ہوں۔ اور میں نے کہا،"میں بہت شرمندہ ہوں کہ میں آپ کے مذہب کے متعلق کچھ نہیں جانتی۔ آپ بتائیں۔ اور اس نے اسلام کی توحید کی وضاحت کرنا شروع کردی۔ اور میں حیران تھی۔ واقعی حیران کہ کیا یہ اسلام ہے؟ اور میں نے جمعرات کی رات ریہرسل کے بعد فیصلہ کیا کہ میں یہ نہیں کرسکتی۔ لگتا ہے میں مسلمان ہوں۔ ایک عورت نے مجھ سے کہا، "اوہ،آپ مسلمان بننے جارہی ہیں؟ آپ کو اپنےجسم پہ شرم آتی ہے۔ آپ اسے ڈھانپنا چاہتی ہیں؟ اور پھر لوگ کہہ رہے تھے کہ ، "اوہ،وہ آپ کو پکڑ کرمصر میں غلاموں کی مارکیٹ میں ڈال دے گا۔ اوہ۔۔۔ یہ 1989 ہے، گائیز۔ کس دنیا میں ہو؟ میں کافی شاپ گئی اور اپنے دوست سے کہا، "بس، اب میں یہ کرنے کو تیار ہوں۔" اس نے کہا۔"کیا؟" میں نے کہا ، "وہی جو ایک مسلمان بننے کے لیے کرنا پڑتا ہے۔.
" وہ ہنس پڑا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا،"یہ اچھا تھا" میں نے کہا،"نہیں ، نہیں،میں سیریس ہوں۔" میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ٹاپ پہ جاکر اور لوگوں کو چیخ چیخ بتانا چاہتی تھی کہ قرآن پکڑیں اور اسے پڑھیں۔ آپ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ السلام علیکم نور سعدے بہن۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ گفتگو کا آغاز اس سوال سے کرتے ہیں کہ نور سعدے کون ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں گی؟ وعلیکم السلام ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ میرا نام نور سعدے ہے۔ میں یونائیٹڈ سٹیٹس کے ایک چھوٹے سے مڈ ویسٹرن قصبے میں بڑی ہوئی۔ پھر نیویارک سٹیٹ میں ایک پروفیشنل سنگر کا کیریئر اپنایا۔ میں نے کلاسیکی میوزک، اوپیرا اور کنسرٹ میوزک گایا۔ اس وقت آپ کا عقیدہ کیا تھا؟ پہلے میرا عقیدہ ، ایسا نہیں تھا کہ ہم باعمل عیسائی نہ تھے ، ہم عیسائی تھے۔ میں عیسائی ہی پلی بڑھی ، لیکن ہم چرچ زیادہ نہیں جاتے تھے۔ شاید یہ بھی ایک نعمت تھی، کیونکہ میں ٹرینیٹی اور اس کی رسومات وغیرہ سے زیادہ واقف نہیں ہو سکی۔ لیکن ہمارے گھر میں خدا کا بہت ذکر ہوتا تھا ، اور میں نے تو میوزک میں بھی خدا کو محسوس کیا۔ خاص طور پر کلاسیکل میوزک، جس کا تاثر بہت روحانی تھا۔ میری والدہ بہت مذہبی تھیں۔ اور شاید میرے والد کو ڈک بلائنڈز میں مذہب نظر آیا جب وہ ہنٹنگ اور فشنگ کر رہے تھے۔ لیکن ہم زیادہ چرچ نہیں جاتے تھے۔ کچھ عیسائی دوستوں نے مجھ سے کہا تم تو زیادہ مذہبی عیسائی نہیں تھی۔ میں نے کہا،"کیوں؟ کیونکہ میں چرچ نہیں جاتی؟ مجھے لگتا ہے کہ میں یسوع (ع) کی سنت کو فالو کرتی ہوں۔ لیکن بہت سے لوگ مجھ سے کہتے، آپ اتنی باعمل نہیں تھیں۔ شاید ایسا ہی تھا۔ آپ نے اپنے سنگنگ کیریئر کا آغاز نیو یارک سٹی سے کیا۔ یہ کیسے ہوا؟ ویل، یہ معمول کے مطابق ہی ہوا۔ جیسے آپ بہت سی ریجنل سنگنگ کرتے ہیں۔ آپ کہیں کچھ بھی گا لیتے ہیں، جس کے آپ کو پیسے ملتے ہیں، تاکہ پروفیشنلی گانے کے لیے آپ کی پریکٹس ہوتی رہے۔ زیادہ تر سنگرز تو چرچ کے کوائر میں شامل ہوجاتے تھے۔ جہاں وہ کوارٹیٹ وائس کا حصہ ہوتے۔ تاکہ چرچ یا سائنا گوگ کے کوائر سیکشن کو بہتر بنایا جاسکے۔ میری جاب بھی اچھی تھی، وہ نیو یارک سٹی میں نیو یارک فیل ہارمونک کا ایک پیڈ پروفیشنل کوائر تھا۔ اور ہم ایک طرح سے نیو یارک شہر کے ٹاپ 100 ینگ سنگرز میں سے ایک تھے۔ اور ہم نے سارے گریٹ کنڈکٹرز،گریٹ آرکسٹراز، اور گریٹ سولوایسٹس کے ساتھ گایا۔ تو آپ کا اسلام کا سفر کیسے شروع ہوا؟ ویل،جب میں نیو یارک سٹی میں گاتی تھی، مجھے کافی بہت پسند تھی،اور میں نئی کافی شاپس تلاش کر رہی تھی۔ اور ایک میرے پڑوس میں کھلی تو میں وہاں چلی گئی۔ جسے ایک مصری چلا رہا تھا، اور میں تو ہمیشہ سے دوسری قوم کے لوگوں میں متجسس تھی۔ تو میں نے کہا، "مجھے مصر کے بارے میں بتائیں۔ مجھے فرعون اور اہرام کے بارے میں بتائیں۔" تو یوں ہماری گفتگو ہوئی۔اس نے کہا "دراصل میں ایک مسلمان ہوں۔"میں نے کہا، " میں شرمندہ ہوں کہ آپ کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ آپ بتائیں۔ " میں اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ افسوس!پتہ نہیں کیوں،لیکن میں نہیں جانتی تھی۔پھر اس نے اسلام کی توحید کی وضاحت کرنا شروع کردی، اور مختلف نبی جنہیں میں بطور عیسائی جانتی تھی وہ قرآن مجید میں بھی تھے۔ اور میں واقعی شاکڈ تھی۔ مطلب، یہ کیا؟ ہا۔یہ جوڈو-کرسچین ہے۔ بس۔ اور کچھ بھی نہیں۔ میں کیسے نہ جان پائی کہ ایک اور توحیدی مذہب بھی ہے، دنیا میں ایک مطلب توحیدی مذہب میں یہ کیسے نہیں جان پائی۔ میں 30 کی دہائی میں تھی۔ میں نے بہت سفر کیا، میں نے ہر جگہ گایا۔ میں نے تھوڑا بہت پڑھا،مطلب میں نے اسے کیسے مس کردیا؟ اس نے کہا ، "پتہ نہیں میں نے ایک احمقانہ سوال کیا کہ کیا آپ کی طرح اور بھی بہت سے ہیں؟ ہاہاہاہاہاہا پھر مجھے پتہ چلا کہ ڈیڑھ ارب ہیں۔ لیکن اس نے صرف میرے شوق کی وجہ سے بتانا شروع کیا۔ میں نے اصرار کیا تو اس نے مجھے بتانا شروع کیا، اور قرآن مجید اور انبیاء کے جانشینی کے بارے میں سمجھانا شروع کیا۔ پھر اس نے کچھ ایسا کہا جو میرے دل میں سما گیا ایسا پہلے کسی نے نہیں کہا تھا۔ مطلب دینِ اسلام کے تین اہم پہلو ہیں۔ جیسے یہ یہودیت اور عیسائیت کی پچھلی آسمانی کتابوں، کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ تصحیح کے لئے آیا کہ لوگوں نے غلطی سے اپنے نظریات اور انا کی وجہ سے جو بھی بدلا۔ اور یہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنکلوژن لایا، کہ یہ سب الہامات ایک ہیں۔ لیکن یہ آخری نبی ہیں جنہیں ہمارے پاس ہر چیز کنکلوڈ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ ایسا تھا جیسے سب سمجھ میں آجائے اور پہیلی کے سارے ٹکڑے مل جائیں ۔ اس کی کافی سینس بنتی تھی۔ ہرلحاظ سے، مذہب سے ہٹ کر۔ ہسٹری سے ہٹ کر۔ واقعی کافی سینس بنتی تھی۔ یہودیوں اور عیسائیوں سے سنا کہ "ہم خدا کی شکل میں بنے ہیں۔" جبکہ اسلام کے مطابق ہم اللہ کی طرح نہیں ہیں ، نہیں بلکل بھی نہیں۔ تو یہ آپ کو مطمئن کرتا ہے، میرے خیال میں،بطور انسان، مثال کے طور پر زندگی میں ایک مقصد ہے۔ وہ یہ کہ خدا کی پیروی کا صرف ایک ہی بہت خوبصورت طریقہ ہے جو ان سب لوگوں کو شامل کرتا ہے۔ اس طرح میں بار بار کافی پینے اور معلومات لینے جاتی رہی۔ اور جتنا میں سیکھتی گئی اتنا ہی مجھے یہ "حق" لگا، جسے ہم سچائی کہتے ہیں۔یہ بہت واضح تھا۔ مجھے ہسٹری اور مذہب سے ہٹ کر یہ سب سمجھ میں آرہا تھا، کہ خدا کا ایک ہی یونیک میسج ہے۔ کہ خدا اکیلا اور ایک ہی وجود ہے،ہر چیز جاننے والا،دیکھنے والا،اور سننے والا۔ جس نے ہم سب کو پیدا کیا۔ اور یہ کہ اس نے بنی نوع انسان کو ایک پیغام بھیجا۔ لیکن لوگ خود تھوڑے سے متنازعہ اور بحث کرنے والے ہو گئے ۔ اور سوچا کہ ان کے پاس ایک بہتر طریقہ ہے تو انہوں نے چیزیں تبدیل کردیں۔ لیکن وہ اپنی بےبہا رحمت سے، لوگوں کے اس مخصوص گروہ کو وہی اصل پیغام یاد دلانے کے لیے ایک اور نبی بھیج دیتا۔ اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی گیا حضرت نوح سے موسیٰ،پھر عیسیٰ اور پھر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک۔ اور اس کی سینس بنتی ہے۔ پوری ورلڈ ہسٹری کی سینس بنتی ہے۔ اس سے سمجھ آیا کہ بہت سارے مذاہب کیوں بن گئے، لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا صحیح ہے،کیا غلط ہے، کیوں عیسائیت ہم میں سے بہت سوں کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کر پائی، مثال کے طور پر،تین خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ یسوع خدا کیسے ہوسکتے ہیں روح القدس کیسے خدا ہے وغیرہ؟ اور جب آپ برسوں عیسائیوں سے بات کریں گے تو بھی معلوم نہیں ہو گا۔ میں ایک موقع پر کیتھولک آدمی سے شادی کرنےکا سوچ رہی تھی اور انہوں نے کہا، " پہلے کیتھولک مذہب کا مطالعہ کرو۔ اور جب میں نےحضرت مریم کو پوجنے اور مجسمے اور اس طرح کے سوالات پوچھے،تو کہنے لگے ، "ھھ؟ آوٹ، آوٹ، نکلو، چلی جاؤ یہاں سے۔ یا تو مانو یا چھوڑ دو۔" تو میں نے کہا، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ جب میرے ذہن میں سوال آتا ہے تو کوئی مجھے جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن میں جب بھی اس مصری سے سوال کرتی تو وہ کہتا "ہاں،قرآن کی ایک آیت اس بارے میں ہے۔ جو اس مسئلے کا ایسا حل دیتی کہ سب سمجھ آجاتا۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اس طرح تھوڑا بہت مطالعے سے اور کافی پینے اور گفتگو کے لئے بار بار جاکر اوربہت سے سوالات پوچھ کرمیں نے غور کیا۔ میں ایک یونٹیرین چرچ میں تھی، جہاں تمام عقائد قبول کیے جاتے تھے۔ تو ہم جو چاہے گا سکتے تھے۔ مذہبی ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب کرسمس کی چھٹیاں آرہی تھیں، تو یونٹیرین تھوڑا عجیب سا ہو گیا۔ کہنےلگے،"مجلس شکایت کر رہی ہے، کہ ہم خدا کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے ہیں۔" اور یہ کرسمس کا وقت ہے۔ تو ہم خدا کے بارے میں جو بھی گا رہے تھے، اس میں لفظ 'خدا' کو 'محبت' میں تبدیل کر دیں۔ محبت نے یہ کیا ، محبت نے ایسا کیا۔ کیا؟ یہ کیا بکواس ہے؟ پھر میں نے جمعرات کی رات ریہرسل کے بعد فیصلہ کیا،کہ میں یہ مزید نہیں کرسکتی۔ مجھے لگتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ میرے خیال سے مجھے اپنی شہادت دے کر یہ سب چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ نان سینس ہے۔ لہذا میں سنڈے سروس کے لئے گئی اور گایا، میں نے اپنا کام کیا،اور کہا،"ویل گائز، میرے خیال سے مجھے یہ چھوڑنا ہوگا، کیونکہ میں شہادت لے کر ایک مسلمان بننے جارہی ہوں۔ اور آپ جس بارے میں بات کر رہے ہیں "وہ سب نان سینس ہے۔" بس پھر میں کافی شاپ گئی اور اپنے دوست سے کہا، "اوکے،میں یہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔" تو اس نے کہا،"کیا؟ میں نے کہا،"وہی جو ایک مسلمان بننے کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ وہ ہنس پڑا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا، "یہ اچھا تھا۔" میں نے کہا ، "نہیں،نہیں،میں سیریس ہوں۔ مجھے بتائیں کیا کہنا ہے۔ اور میں نے وہ ساری عربی کہنے کی کوشش کی جو بہت مشکل سے میری زبان پر چڑھ رہی تھی، اور۔۔اور بس ہو گیا،وہ بھی ایک کافی شاپ میں۔ جی ہاں 90 کی دہائی میں نیو یارک شہر کے براڈ-وے پر۔ میں نے مسجد یا کہیں اور شہادت نہیں دی۔ کیونکہ جہاں تک میں سمجھی ہوں،میں نے اپنی شہادت کو اللہ اور اپنے درمیان لیا ہے۔ تو ، ہاں۔ الحمداللہ آپ کو کیسا لگا؟ میرے خیال میں، میں اس سارے پروسس میں، بہت پرجوش تھی۔ میں کچھ بہت حیرت انگیز سیکھ رہی تھی اور میں نے ہر ایک کو اس بارے میں بتایا۔ اور وہ سب مجھے دیکھ رہے تھے جیسے میرے دو سر ہوں۔ سیریسلی۔ ایک عورت نے مجھ سے کہا ، "اوہ ، کیا آپ مسلمان ہو رہی ہیں؟ آپ کو اپنے جسم پر شرم آتی ہے۔ آپ اسے ڈھانپنا چاہتی ہیں؟ میں نے کہا ، "نہیں ، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو کیسےسمجھاؤں؟ کیونکہ میں خود ابھی نیو مسلم ہوں تو آپ کو کیا سمجھاؤں۔ بس مجھے اتنا پتہ ہے کہ میں صحیح ہوں اور آپ کی بات غلط ہے، اور پھر لوگ کہہ رہے تھے ، "اوہ ، وہ آپ کو پکڑ کر مصر میں غلاموں کی مارکیٹ میں ڈال دے گا۔ اہ ۔۔۔۔۔ یہ 1989 ہے گا ئیز ، کس دنیا میں ہو؟ تو آپ سمجھے کہ میں کتنی پرجوش تھی۔ اچھا تو کیاآپ مجھے یہ بتائیں گی۔ جب آپ مسلمان ہو گئیں تو آپ کیا کرنا چاہتی تھیں؟ میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ٹاپ پر جاکر اور لوگوں کو چیخ چیخ کر بتانا چاہتی تھی ، "کہ قرآن پکڑیں اور اسے پڑھیں۔ آپ لوگ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ آپ کو دنیا کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو جائے گا اگر آپ صرف یہ کتاب پڑھ لیں سیریسلی" اور آپ کی فیملی اور قریبی حلقے نے کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا ۔ قریبی دوست ، گلوکار؟ بقول ان کے"اہ، یہ تو پاگل ہے۔" لہذا میں نے سب پر اپنے دروازے بند کر دیے اور گھر بیٹھ گئی۔ اور انگریزی میں قرآن کو بہت زیادہ پڑھنے لگ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں صحیح کر رہی ہوں، لیکن میرے پاس الفاظ نہیں تھے یا ان کو وضاحت دینے کے لئے سیاق و سباق کی سمجھ نہیں تھی۔ میں صرف اتنا جانتی تھی کہ یہ ٹھیک ہے۔ میرے دل کی آواز تھی کہ میں جو کر رہی ہوں ، جس پر مجھے یقین ہے وہ صحیح ہے۔ شروع میں،میں نے موڈیسٹ ڈریسنگ اپنائی ،لیکن یہ سفر تھا۔ جو قدم بہ قدم طے ہوا۔ میں خوبصورت کنسرٹ گاؤن میں اسٹیج پر ہو تی۔ کھلےبال اورمیک اپ کے ساتھ جس کا آپ تصور کرسکتے ہیں۔ مجھے یہ سب چھوڑنے میں کافی وقت لگا، آہستہ آہستہ،تاکہ میں محتاج نہ ہو جاؤں،بغیر آمدنی کے۔ اور پھر حیران پریشان پھروں۔ لیکن ہاں،میری فیملی کی کہانی اور تھی۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ میرے خیال میں میری ماں،میرے والد تو سالوں پہلے گزر گئے تھے۔ میری ماں کو مذہب تبدیل کرنے پر اتنا اعتراض نہیں تھا ، بس ان کو یہ ڈر تھا کہ لوگ کیا کہیں گے جب میں ایسی ڈریسنگ کروں گی؟ جیسے کہ ، "یہ اب کر کیا رہی ہے؟ یہ مسلمان ہوگئی؟ یہ تو پردہ بھی کرنے لگی...اوہ یار!
اور ظاہر ہے،ان کے دوستوں نے بھی خوب تنقید کی،جو مجھے بھی نہیں پتہ۔ لیکن وہ آکر ماں سے شکایت کرتے۔ میرے بھائی نے میری ماں سے تلخی سے شکایت کی۔ ہاں یہ آسان نہیں تھا اور مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سےبیشترکو اس کا سامنا کرنا پڑا۔ اور مجھےلگتا ہےکہ یہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے امتحان ہے۔ جیسے ، آپ اس کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟ یہاں سے آپ کی زندگی بہت مشکل ہو گی، رائٹ؟ تو پھر کیا آپ نے اپنا میوزک کیریئر چھوڑ دیا؟ میں نے آہستہ آہستہ چھوڑا، میں اپنے کچھ کنڈکٹرز کے پاس گئی اور ان سے کہا کہ "مجھے آپ کو چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے چرچ اور سائنا گوگ کی نوکری، اس طرح کی چیزیں چھوڑ دیں۔ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنانا چاہتی تھی اور میں نے یہی کیا۔ میں اس کا نمائندہ بنناچاہتی تھی، میں ہر ایک کو بتانا چاہتی تھی کہ میں مسلمان ہوں۔ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ اپنا لباس، اپنی گفتگو میں اسلام کی بات کرنا چاہتی تھی۔ نام تبدیل کرنا چاہتی تھی تاکہ لوگ مجھ سے اسلام کی بات کریں۔ رد عمل کیا تھا؟ اہ۔۔ مختلف رد عمل تھے۔ میرے عیسائی دوست بہت ناراض ہوئے، اور جس لمحے میں نے ان کے سامنے بے وقوفانہ طور پرسورہ اخلاص پڑھنے کی کوشش کی۔ قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۚ اوہ،میرے دوست بہت ناراض ہوگئے۔ کیا؟ یہ سب کیا ہے؟ خدا تین ہیں ، یسوع یہ ہے ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا یہ طریقہ درست نہیں تھا کیونکہ وہ بہت ہی مذہبی عیسائی تھے، اور مجھے صرف اس خاص سورت کے بل پر یہ نہیں کرنا تھا بلکہ بہتر معلومات کی ضرورت تھی۔ پہلی بار تھا اس لیے پتہ نہیں تھا۔ کہ دعویٰ کا کام کیسے کرنا ہے۔ ایسے نہیں کہ کود گئے اور بات کرنا شروع کردی۔ آپ ایسے شخص سے کیا کہیں گی جو کہے گا ، "آپ نے یسوع کی ٹیم اور عیسائیت کو کیوں چھوڑا؟" میرے خیال میں اس کا آسان جواب یہ ہے۔ کہ ہم نے انہیں نہیں چھوڑا، بالکل بھی نہیں چھوڑا۔ بلکہ ہمیں اب عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت اور بہتر سمجھ آگئی ہے۔ وہ یہ کہ،یسوع خدا کے بندے تھے، جیسا کہ ابراہیم تھے ، جیسا کہ موسیٰ تھے۔ یسوع،نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور تمام نبی خدا کے بندے تھے۔ وہ سب خدا کے تابع تھے۔ بائبل میں ہر جگہ عیسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، "باپ نے مجھے یہ معجزے دیے" لیکن کبھی نہیں کہا کہ، "میں خدا ہوں، میری عبادت کرو۔" ایسی کوئی آیت نہیں، لیکن بہت سے عیسائی کہیں گے، "میں بائبل میں ڈھونڈ کر ثابت کروں گا!" انہوں نے کبھی نہیں کہا، "میں خدا ہوں، میری عبادت کرو۔ اگر یہی عیسائیت کا بنیادی عقیدہ تھا، تو پھر انہوں نے انجیل میں بار بار اسے کیوں نہیں دہرایا؟ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے۔ قرآن مجید میں بار بار،یہ بات سب سے زیادہ دہرائی گئی ہے۔ کہ اللہ ایک ہے۔ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ یہ شہادت ہے جو ہم اپنی نمازوں میں صبح،دوپہر اور رات کہتے ہیں۔ اور اذان میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ دینِ اسلام ہے۔ یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ اگر یہ بات کہی ہی نہیں گئی، تو پھر یہ عقیدہ کیسے بن گیا؟ سب گھما پھرا کر کہا جاتا ہے، "اوہ،یہ اشاروں میں ہے۔ آپ ایک عیسائی سے کیا کہیں گے جو کہتا ہے" جب میں دعا ، کرتا ہوں تو مجھے روحانیت اور خدا کے ساتھ تعلق محسوس ہوتا ہے۔" پچھلے دنوں کسی نے اس بارے میں آن لائن ایک عمدہ کمنٹ کیا ، جسے میں نے لائک کیا،جو سچ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودی اپنے مذہب سے انتہائی انٹیلکچوئل انداز میں مربوط تھے۔ عیسائی اپنے مذہب سے بہت جذباتی طور پر جڑے رہے۔ اسلام میں دونوں ہیں۔ اسلام عقل کو اپیل کرتا ہے اور جذباتی طور پر آپ کو اپیل کرتا ہے۔ یہ دماغ سے بات کرتا ہے۔ کیا تم نہیں سنتے؟نہیں دیکھتے؟ غور نہیں کرتے،غور کرو،سوچو؟ اقرا۔ پڑھیں،سیکھیں،مطالعہ کریں۔ یہ عقل کو اپیل کرتا ہے، لیکن یہ آپ کو جذباتی طور پر بھی اپیل کرتا ہے۔ اور یہ متوازن ہے۔ ہم متوازن امت ہونے کی بات کرتے ہیں ، ایک متوازن قوم۔ مجھے جو اسلام کے بارے میں پسند ہے، یہ کسی ایک رخ پر زور نہیں دیتا۔ یہ بہت متوازن ہے۔ کیا سائنا گوگ یا چرچ کے ساتھیوں کے ساتھ سنگنگ میں آپ کو کوئی دلچسپ تجربات ہوئے؟ سائناگوگ میں بہت گایا، میوزک کی ایک بڑی ڈیل،خاص طور پر ان کے مقدس دنوں میں۔ اور ایک چیز جو مجھے دلچسپ معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ ہم غیر یہودیوں کو کبھی بھی ان کا وعظ یا خطبہ سننے کی اجازت نہیں ملی اور مجھے نہیں لگا کہ یہ صحیح ہے۔ عیسائی چرچ میں کبھی کسی کو یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ نکل جاؤ، جیسے کہ تمہیں عیسائیوں کی باتیں سننے کا حق نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی مجھے یہ بات حیران ، کرتی تھی،ایسا کیا کہہ رہے ہیں جسے ہم نہیں سن سکتے؟ آئی مین، وہاں پہ باہر کیوں نکالتے اور کہتے ہیں کہ، بریک ہے، جا کر کافی اور ڈونٹس لو؟" اور میں نے کہا،"میں سننا چاہتی ہوں۔" انہوں نے کہا،" آپ نہیں سن سکتے۔ جاؤ،بریک لو۔" تو میں نے سوچا کہ یہ بہت عجیب ہے۔ اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اور ظاہر ہے،اب جب میں نے دیکھا کہ اسرائیل اور فلسطین میں کیا ہو رہا ہے ، آپ چیزوں کو ایک ساتھ رکھنا شروع کردیتے ہیں۔ سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟ اوہ،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار، یہ لوگ جن کے بارے میں،میں قرآن مجید میں پڑھا، اس طرح کا انداز ، اس طرح کے آداب، یہ مہربان ہونا،فراخ دلی سے، لوگوں کو معاف کرنا،رحمدلی۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں جن پر میں واقعتا ایک فرد کی حیثیت سے یقین کرتی ہوں۔ گوسپ نہ کرنا،بہتان نہ لگانا۔ اگرکوئی آپ کے خلاف بات کرتا ہے۔ توآپ بس انہیں معاف کردیں۔ اس قسم کی چیز۔ اور مجھے واقعی اس کردار سے محبت ہے۔ میں نے سوچا،یہی لوگ ہیں جنہیں میں زندگی بھر تلاش کرتی رہی۔ اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک دن دیکھ سکیں، تو وہ کون سا ہوگا؟ اہ۔۔۔بہت سارے ہیں۔ مجھے اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ میں نے اس سے پہلے کہا کہ مجھے یہ کہانی پسند ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرا کر ، اپنی عزیز اہلیہ کے پاس گئے ، یہ عمل ایک خوبصورت چیز ہے۔ آپ اپنی اہلیہ کی طرف گئے۔ "مجھے ڈھانپیں۔مجھے ڈھانپیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔" اور وہ جیسے ایک خوبصورت سپورٹ تھیں، اور میں وہ کمرہ دیکھ سکتی ہوں۔ میں موم بتیوں یا لائٹس کی چمک اور ہر چیزکو دیکھ سکتی ہوں۔ اور آپ ایک کمبل میں ہیں، اور وہ آپ کو ناقابل یقین الفاظ سے تسلی دے رہی ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو قبول کرتے ہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے، لیکن وہ مسلمان بننے کے لئے یہ قدم اٹھانے میں ہچکچاتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ عیسائیت کے عقائد کے نظام میں خامیاں ہیں۔ تو آپ کے حساب سے اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے خیال سے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کی طرح ہے۔ اپنی فیملی کے پاس واپس جانا مشکل نہیں، اگر وہ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے، اور وہ اس کے بہت مخالف ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے ، میڈیا،فلمیں اور سب کچھ اسے ایک بہت لمبے عرصے سے پورٹریٹ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر،ہالی ووڈ کی پوری زندگی۔ تو یہ آسان نہیں ہے۔ میں نے اکثر کہا ہے کہ اگر کوئی امریکی نظام ، اور یسوع اور عیسائیت میں پوری طرح ڈوبا ہو اور پھر اسلام کی حقیقت جان لے، تو شاید اس کی پوری دنیا اُلٹ جائے ذرا سوچیں، کوئی جو سچ کے اتنا قریب ہو پھر یہ احساس ہو کہ، "میں پوری زندگی غلط عقیدے پر تھا۔ جس کی میں عبادت کرتا رہا، وہ درست نہیں تھا۔" ایسے شخص کے لیے یہ ماننا آسان نہیں ہوگا!
میرے خیال میں سب سے اہم ہے کہ وہ اپنی زبان میں قرآن پڑھے، اور اپنے دل کو مضبوط بنانے کے لئے اللہ سے دعا کرے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی رہنمائی کرے۔ نیز ، مجھے لگتا ہے کہ صرف صحابہ کی کہانیوں کے بارے میں پڑھنا کہ ان پر کیا بیتی ، میرے خیال میں واقعی ہیلپ فل ہے۔ جیسے بہت دفعہ، کمیونیٹیز، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا،یونو، شادی کرلی، حجاب پہن لیا، یہ کیا،دن میں پانچ بار نماز،رمضان میں روزہ رکھا۔ بوم ، بوم ،بوم جبکہ ابتدائی مسلمانوں میں سب کچھ رفتہ رفتہ ہوا۔ تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھی نرمی برتنی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ اسے آہستہ آہستہ اپنائیں۔ اپنی نمازیں پڑھنے کی کوشش کریں، جو کرنا ہے اسے کرنے کی کوشش کریں۔ اسلام کے اہم ستون۔ اپنے عقیدے کے نظام کو اندر سے درست رکھیں۔ قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں۔جتنا ہو سکے اسے پڑھیں۔ قرآن،یقینا،آپ کو طاقت عطا کرے گا۔ یہ شفا ہے،یہ ہیلنگ ہے،یہ فرقان ہے، یہ معیار ہے،یہ گائڈینس ہے۔ مطلب،صحیح اور غلط معلوم کرنے کا حق اور باطل میں فرق کا کوئی اور طریقہ ہے؟ صرف قرآن ان چیزوں کو بہت واضح کرتا ہے۔ بلکہ صحابہ کی تاریخ کو بھی دیکھیں۔ ، وہ آسان وقت سے نہیں گزرے۔ بالکل بھی نہیں۔ آپ جس چیز سے گزر رہے ہیں؟ وہ بھی اس سے گزرے۔ اور وہ اپنے وقت کے بہترین لوگ بن گئے۔ ہر اس شخص کے لئے جو اسلام پر غور کررہا ہے،خاص طور پر مغرب میں رہنے والے، کبھی کبھی انہیں خوف ہوتا ہے،جیسے، اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے اپنا نام تبدیل کرنا ہے۔ مجھے اپنا پورا کلچر چھوڑنا ہے۔ مجھے کچھ مختلف بننا ہوگا، کیا واقعی یہ ایک جائز تشویش ہے؟ نہیں،میرا نہیں خیال۔مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ہر ایک کا اپنا ذاتی سفر ہوتا ہے، اپنی زندگی میں بہت سے نومسلموں کو جاننے کےبعدمیری یہی رائے ہے۔ یہاں تک کہ سیرتِ نبوی ﷺ میں بھی دیکھیں ، تو لوگ آہستہ آہستہ دین میں بہتر ہوئے۔ یہاں تک کہ الکحل سے چھٹکارا حاصل کرنے میں بھی تھوڑا وقت لگا،ہے ناں؟ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ لوگوں نے اچانک حجاب نہیں لیا۔ لوگوں میں آداب اور تمام چیزیں ایک دم نہیں آئیں جو بعد میں مدینہ میں آئیں۔ مکہ میں کتنے سال وہ صرف بنیادی سورتیں سمجھتے رہےکہ اللہ کون ہے اور اسی قسم کی چیزیں۔ میں کچھ پیدائشی مسلموں کو بھی کنورٹ کی طرح سمجھتی ہوں کیونکہ وہ اپنے گردونواح کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنے آبائی ممالک چھوڑ دیتے ہیں اور جب وہ امریکہ آتے ہیں،ان کے پاس اللہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور وہ اللہ سے رجوع کرتے ہیں۔ وہ واقعی سنجیدہ مسلمان بن جاتے ہیں، گویا وہ شہادت کو حقیقی ، طریقے سے جان لیتے ہیں۔ شاید ایسے لوگ ہیں جو سوچ رہے ہیں ، خواتین یہ سوچ رہی ہیں کہ میں حجاب پہننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اور اس طرح میرے لئے مسلمان بننے میں رکاوٹ ہے۔ تو آپ ایسے شخص سے کیا کہیں گی؟ یہ آسان نہیں ہے۔ یہ واقعی آسان نہیں ہے۔ میرے خیال میں، خود کو کور کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہ آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کے لیے بہت مشکل پیدا کردیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہےکہ آپ کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایسی چیز ہےجس کا اللہ تعالیٰ سوال کرتا ہے اور یہ آپ کی زندگی کے لیے مفید ہوگا۔ زیادہ تر خواتین یہی کہتی ہیں کہ وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔جب وہ یہ حجاب پہنتی ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں معاشرے، خاص طور پر مردوں کی طرف سے، کیسا دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ جو میں نے نیویارک میں بہت محسوس کیا،یہ بہت پریشان کن تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کو کال کرسکتی ہوں اور آپ پر آوازے کس سکتی ہوں اور بغیر کسی دعوت کے آپ کو اپروچ کرسکتی ہوں۔ میں نے حجاب پہنا اور یہ سب ختم ہو گیا۔ اچھا۔ الحمداللہ۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے براہ راست بات کرنے کا ، موقع ملے تو آپ صرف چند لمحوں میں ان سے کیا کہنا چاہیں گی؟ میرے خیال میں،جیسا کہ میں نے کہا، میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی چھت پہ جا کر ، کہنا چاہتی ہوں بس قرآن اٹھا کر اسے پڑھیں۔ یہ آپ کو کھائے گا نہیں ۔ یہ آپ کو بھٹکائے گا نہیں ۔ بہت ساری کہانیاں ہیں،حیرت انگیز کہانیاں جب لوگوں کو لگا کہ قرآن انہیں بلا رہا ہے اور وہ ایسے ہی تھے گریز کرنے والے میرے بہت سے ، دوست کہتےتھے کہ " میں اس کتاب کو نہیں پڑھوں گا۔ چلو پڑھتا ہوں تاکہ مسلمانوں کو غلط ثابت کر سکوں۔" مگر جب آخرکار اسے اٹھاتے ہیں تو وہ ڈر جاتے ہیں،وہ حقیقت میں اسے لینے سے ڈرتے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ کچھ دوسرے مذاہب آپ کو سکھاتے ہیں،جیسے ، "اوہ،مسجد مت جانا ، چرچ مت جانا۔ کسی اور کی مذہبی جگہ میں داخل مت ہونا۔ یہ نقصان نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ مسلمان نہیں بھی بنتے ۔ پھر بھی قرآن مجید میں اتنی حیرت انگیز رہنمائی ہے۔ جب میں امریکیوں کو سنتی ہوں تو مجھے ہمیشہ بہت دکھ ہوتا ہے ، وہ ہر وقت بائبل یا تورات کا حوالہ دیتے ہیں۔ بائبل ، بائبل ، بائبل۔ مطلب،کیا ہم قرآن کو مینشن کرسکتے ہیں؟ آپ جو بات کر رہے ہیں اس بارے میں ایک حیرت انگیز،خوبصورت آیت ہے جو بہت زیادہ سینس بناتی ہے۔ بس دنیا کو اسلام سے منور کریں۔ یہ کسی کو تکلیف پہنچانے والا نہیں ہے۔ ہم کسی پر قابو پانے نہیں آ رہے۔ یہ ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اسلام کو جاننے میں بے شمار فائدے ہیں۔ بہت سے فائدے۔ بہن نور سعدے ، اپنی کہانی شئیر کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ اور اللہ آپ کو جزا دے۔ امین، انشاءاللہ اللہ آپ کو جنت عطا فرمائے، ان شاء اللہ۔ امین۔امین۔امین۔ جزاک اللہ خیر۔ جزاک اللہ خیر۔ اور مجھے اپنی کہانی سنانے کی اجازت دینے کے لئے آپ کا شکریہ اور ان شاء اللہ ، یہ لوگوں کے لیے روشنی کا باعث ہو گی۔ جزاک اللہ خیرا۔
" وہ ہنس پڑا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا،"یہ اچھا تھا" میں نے کہا،"نہیں ، نہیں،میں سیریس ہوں۔" میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ٹاپ پہ جاکر اور لوگوں کو چیخ چیخ بتانا چاہتی تھی کہ قرآن پکڑیں اور اسے پڑھیں۔ آپ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ السلام علیکم نور سعدے بہن۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ہمیں آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ گفتگو کا آغاز اس سوال سے کرتے ہیں کہ نور سعدے کون ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں گی؟ وعلیکم السلام ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ میرا نام نور سعدے ہے۔ میں یونائیٹڈ سٹیٹس کے ایک چھوٹے سے مڈ ویسٹرن قصبے میں بڑی ہوئی۔ پھر نیویارک سٹیٹ میں ایک پروفیشنل سنگر کا کیریئر اپنایا۔ میں نے کلاسیکی میوزک، اوپیرا اور کنسرٹ میوزک گایا۔ اس وقت آپ کا عقیدہ کیا تھا؟ پہلے میرا عقیدہ ، ایسا نہیں تھا کہ ہم باعمل عیسائی نہ تھے ، ہم عیسائی تھے۔ میں عیسائی ہی پلی بڑھی ، لیکن ہم چرچ زیادہ نہیں جاتے تھے۔ شاید یہ بھی ایک نعمت تھی، کیونکہ میں ٹرینیٹی اور اس کی رسومات وغیرہ سے زیادہ واقف نہیں ہو سکی۔ لیکن ہمارے گھر میں خدا کا بہت ذکر ہوتا تھا ، اور میں نے تو میوزک میں بھی خدا کو محسوس کیا۔ خاص طور پر کلاسیکل میوزک، جس کا تاثر بہت روحانی تھا۔ میری والدہ بہت مذہبی تھیں۔ اور شاید میرے والد کو ڈک بلائنڈز میں مذہب نظر آیا جب وہ ہنٹنگ اور فشنگ کر رہے تھے۔ لیکن ہم زیادہ چرچ نہیں جاتے تھے۔ کچھ عیسائی دوستوں نے مجھ سے کہا تم تو زیادہ مذہبی عیسائی نہیں تھی۔ میں نے کہا،"کیوں؟ کیونکہ میں چرچ نہیں جاتی؟ مجھے لگتا ہے کہ میں یسوع (ع) کی سنت کو فالو کرتی ہوں۔ لیکن بہت سے لوگ مجھ سے کہتے، آپ اتنی باعمل نہیں تھیں۔ شاید ایسا ہی تھا۔ آپ نے اپنے سنگنگ کیریئر کا آغاز نیو یارک سٹی سے کیا۔ یہ کیسے ہوا؟ ویل، یہ معمول کے مطابق ہی ہوا۔ جیسے آپ بہت سی ریجنل سنگنگ کرتے ہیں۔ آپ کہیں کچھ بھی گا لیتے ہیں، جس کے آپ کو پیسے ملتے ہیں، تاکہ پروفیشنلی گانے کے لیے آپ کی پریکٹس ہوتی رہے۔ زیادہ تر سنگرز تو چرچ کے کوائر میں شامل ہوجاتے تھے۔ جہاں وہ کوارٹیٹ وائس کا حصہ ہوتے۔ تاکہ چرچ یا سائنا گوگ کے کوائر سیکشن کو بہتر بنایا جاسکے۔ میری جاب بھی اچھی تھی، وہ نیو یارک سٹی میں نیو یارک فیل ہارمونک کا ایک پیڈ پروفیشنل کوائر تھا۔ اور ہم ایک طرح سے نیو یارک شہر کے ٹاپ 100 ینگ سنگرز میں سے ایک تھے۔ اور ہم نے سارے گریٹ کنڈکٹرز،گریٹ آرکسٹراز، اور گریٹ سولوایسٹس کے ساتھ گایا۔ تو آپ کا اسلام کا سفر کیسے شروع ہوا؟ ویل،جب میں نیو یارک سٹی میں گاتی تھی، مجھے کافی بہت پسند تھی،اور میں نئی کافی شاپس تلاش کر رہی تھی۔ اور ایک میرے پڑوس میں کھلی تو میں وہاں چلی گئی۔ جسے ایک مصری چلا رہا تھا، اور میں تو ہمیشہ سے دوسری قوم کے لوگوں میں متجسس تھی۔ تو میں نے کہا، "مجھے مصر کے بارے میں بتائیں۔ مجھے فرعون اور اہرام کے بارے میں بتائیں۔" تو یوں ہماری گفتگو ہوئی۔اس نے کہا "دراصل میں ایک مسلمان ہوں۔"میں نے کہا، " میں شرمندہ ہوں کہ آپ کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ آپ بتائیں۔ " میں اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ افسوس!پتہ نہیں کیوں،لیکن میں نہیں جانتی تھی۔پھر اس نے اسلام کی توحید کی وضاحت کرنا شروع کردی، اور مختلف نبی جنہیں میں بطور عیسائی جانتی تھی وہ قرآن مجید میں بھی تھے۔ اور میں واقعی شاکڈ تھی۔ مطلب، یہ کیا؟ ہا۔یہ جوڈو-کرسچین ہے۔ بس۔ اور کچھ بھی نہیں۔ میں کیسے نہ جان پائی کہ ایک اور توحیدی مذہب بھی ہے، دنیا میں ایک مطلب توحیدی مذہب میں یہ کیسے نہیں جان پائی۔ میں 30 کی دہائی میں تھی۔ میں نے بہت سفر کیا، میں نے ہر جگہ گایا۔ میں نے تھوڑا بہت پڑھا،مطلب میں نے اسے کیسے مس کردیا؟ اس نے کہا ، "پتہ نہیں میں نے ایک احمقانہ سوال کیا کہ کیا آپ کی طرح اور بھی بہت سے ہیں؟ ہاہاہاہاہاہا پھر مجھے پتہ چلا کہ ڈیڑھ ارب ہیں۔ لیکن اس نے صرف میرے شوق کی وجہ سے بتانا شروع کیا۔ میں نے اصرار کیا تو اس نے مجھے بتانا شروع کیا، اور قرآن مجید اور انبیاء کے جانشینی کے بارے میں سمجھانا شروع کیا۔ پھر اس نے کچھ ایسا کہا جو میرے دل میں سما گیا ایسا پہلے کسی نے نہیں کہا تھا۔ مطلب دینِ اسلام کے تین اہم پہلو ہیں۔ جیسے یہ یہودیت اور عیسائیت کی پچھلی آسمانی کتابوں، کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ تصحیح کے لئے آیا کہ لوگوں نے غلطی سے اپنے نظریات اور انا کی وجہ سے جو بھی بدلا۔ اور یہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنکلوژن لایا، کہ یہ سب الہامات ایک ہیں۔ لیکن یہ آخری نبی ہیں جنہیں ہمارے پاس ہر چیز کنکلوڈ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ ایسا تھا جیسے سب سمجھ میں آجائے اور پہیلی کے سارے ٹکڑے مل جائیں ۔ اس کی کافی سینس بنتی تھی۔ ہرلحاظ سے، مذہب سے ہٹ کر۔ ہسٹری سے ہٹ کر۔ واقعی کافی سینس بنتی تھی۔ یہودیوں اور عیسائیوں سے سنا کہ "ہم خدا کی شکل میں بنے ہیں۔" جبکہ اسلام کے مطابق ہم اللہ کی طرح نہیں ہیں ، نہیں بلکل بھی نہیں۔ تو یہ آپ کو مطمئن کرتا ہے، میرے خیال میں،بطور انسان، مثال کے طور پر زندگی میں ایک مقصد ہے۔ وہ یہ کہ خدا کی پیروی کا صرف ایک ہی بہت خوبصورت طریقہ ہے جو ان سب لوگوں کو شامل کرتا ہے۔ اس طرح میں بار بار کافی پینے اور معلومات لینے جاتی رہی۔ اور جتنا میں سیکھتی گئی اتنا ہی مجھے یہ "حق" لگا، جسے ہم سچائی کہتے ہیں۔یہ بہت واضح تھا۔ مجھے ہسٹری اور مذہب سے ہٹ کر یہ سب سمجھ میں آرہا تھا، کہ خدا کا ایک ہی یونیک میسج ہے۔ کہ خدا اکیلا اور ایک ہی وجود ہے،ہر چیز جاننے والا،دیکھنے والا،اور سننے والا۔ جس نے ہم سب کو پیدا کیا۔ اور یہ کہ اس نے بنی نوع انسان کو ایک پیغام بھیجا۔ لیکن لوگ خود تھوڑے سے متنازعہ اور بحث کرنے والے ہو گئے ۔ اور سوچا کہ ان کے پاس ایک بہتر طریقہ ہے تو انہوں نے چیزیں تبدیل کردیں۔ لیکن وہ اپنی بےبہا رحمت سے، لوگوں کے اس مخصوص گروہ کو وہی اصل پیغام یاد دلانے کے لیے ایک اور نبی بھیج دیتا۔ اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی گیا حضرت نوح سے موسیٰ،پھر عیسیٰ اور پھر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک۔ اور اس کی سینس بنتی ہے۔ پوری ورلڈ ہسٹری کی سینس بنتی ہے۔ اس سے سمجھ آیا کہ بہت سارے مذاہب کیوں بن گئے، لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا صحیح ہے،کیا غلط ہے، کیوں عیسائیت ہم میں سے بہت سوں کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کر پائی، مثال کے طور پر،تین خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ یسوع خدا کیسے ہوسکتے ہیں روح القدس کیسے خدا ہے وغیرہ؟ اور جب آپ برسوں عیسائیوں سے بات کریں گے تو بھی معلوم نہیں ہو گا۔ میں ایک موقع پر کیتھولک آدمی سے شادی کرنےکا سوچ رہی تھی اور انہوں نے کہا، " پہلے کیتھولک مذہب کا مطالعہ کرو۔ اور جب میں نےحضرت مریم کو پوجنے اور مجسمے اور اس طرح کے سوالات پوچھے،تو کہنے لگے ، "ھھ؟ آوٹ، آوٹ، نکلو، چلی جاؤ یہاں سے۔ یا تو مانو یا چھوڑ دو۔" تو میں نے کہا، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ جب میرے ذہن میں سوال آتا ہے تو کوئی مجھے جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن میں جب بھی اس مصری سے سوال کرتی تو وہ کہتا "ہاں،قرآن کی ایک آیت اس بارے میں ہے۔ جو اس مسئلے کا ایسا حل دیتی کہ سب سمجھ آجاتا۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اس طرح تھوڑا بہت مطالعے سے اور کافی پینے اور گفتگو کے لئے بار بار جاکر اوربہت سے سوالات پوچھ کرمیں نے غور کیا۔ میں ایک یونٹیرین چرچ میں تھی، جہاں تمام عقائد قبول کیے جاتے تھے۔ تو ہم جو چاہے گا سکتے تھے۔ مذہبی ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب کرسمس کی چھٹیاں آرہی تھیں، تو یونٹیرین تھوڑا عجیب سا ہو گیا۔ کہنےلگے،"مجلس شکایت کر رہی ہے، کہ ہم خدا کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے ہیں۔" اور یہ کرسمس کا وقت ہے۔ تو ہم خدا کے بارے میں جو بھی گا رہے تھے، اس میں لفظ 'خدا' کو 'محبت' میں تبدیل کر دیں۔ محبت نے یہ کیا ، محبت نے ایسا کیا۔ کیا؟ یہ کیا بکواس ہے؟ پھر میں نے جمعرات کی رات ریہرسل کے بعد فیصلہ کیا،کہ میں یہ مزید نہیں کرسکتی۔ مجھے لگتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ میرے خیال سے مجھے اپنی شہادت دے کر یہ سب چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ نان سینس ہے۔ لہذا میں سنڈے سروس کے لئے گئی اور گایا، میں نے اپنا کام کیا،اور کہا،"ویل گائز، میرے خیال سے مجھے یہ چھوڑنا ہوگا، کیونکہ میں شہادت لے کر ایک مسلمان بننے جارہی ہوں۔ اور آپ جس بارے میں بات کر رہے ہیں "وہ سب نان سینس ہے۔" بس پھر میں کافی شاپ گئی اور اپنے دوست سے کہا، "اوکے،میں یہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔" تو اس نے کہا،"کیا؟ میں نے کہا،"وہی جو ایک مسلمان بننے کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ وہ ہنس پڑا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا، "یہ اچھا تھا۔" میں نے کہا ، "نہیں،نہیں،میں سیریس ہوں۔ مجھے بتائیں کیا کہنا ہے۔ اور میں نے وہ ساری عربی کہنے کی کوشش کی جو بہت مشکل سے میری زبان پر چڑھ رہی تھی، اور۔۔اور بس ہو گیا،وہ بھی ایک کافی شاپ میں۔ جی ہاں 90 کی دہائی میں نیو یارک شہر کے براڈ-وے پر۔ میں نے مسجد یا کہیں اور شہادت نہیں دی۔ کیونکہ جہاں تک میں سمجھی ہوں،میں نے اپنی شہادت کو اللہ اور اپنے درمیان لیا ہے۔ تو ، ہاں۔ الحمداللہ آپ کو کیسا لگا؟ میرے خیال میں، میں اس سارے پروسس میں، بہت پرجوش تھی۔ میں کچھ بہت حیرت انگیز سیکھ رہی تھی اور میں نے ہر ایک کو اس بارے میں بتایا۔ اور وہ سب مجھے دیکھ رہے تھے جیسے میرے دو سر ہوں۔ سیریسلی۔ ایک عورت نے مجھ سے کہا ، "اوہ ، کیا آپ مسلمان ہو رہی ہیں؟ آپ کو اپنے جسم پر شرم آتی ہے۔ آپ اسے ڈھانپنا چاہتی ہیں؟ میں نے کہا ، "نہیں ، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو کیسےسمجھاؤں؟ کیونکہ میں خود ابھی نیو مسلم ہوں تو آپ کو کیا سمجھاؤں۔ بس مجھے اتنا پتہ ہے کہ میں صحیح ہوں اور آپ کی بات غلط ہے، اور پھر لوگ کہہ رہے تھے ، "اوہ ، وہ آپ کو پکڑ کر مصر میں غلاموں کی مارکیٹ میں ڈال دے گا۔ اہ ۔۔۔۔۔ یہ 1989 ہے گا ئیز ، کس دنیا میں ہو؟ تو آپ سمجھے کہ میں کتنی پرجوش تھی۔ اچھا تو کیاآپ مجھے یہ بتائیں گی۔ جب آپ مسلمان ہو گئیں تو آپ کیا کرنا چاہتی تھیں؟ میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ٹاپ پر جاکر اور لوگوں کو چیخ چیخ کر بتانا چاہتی تھی ، "کہ قرآن پکڑیں اور اسے پڑھیں۔ آپ لوگ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ آپ کو دنیا کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو جائے گا اگر آپ صرف یہ کتاب پڑھ لیں سیریسلی" اور آپ کی فیملی اور قریبی حلقے نے کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا ۔ قریبی دوست ، گلوکار؟ بقول ان کے"اہ، یہ تو پاگل ہے۔" لہذا میں نے سب پر اپنے دروازے بند کر دیے اور گھر بیٹھ گئی۔ اور انگریزی میں قرآن کو بہت زیادہ پڑھنے لگ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں صحیح کر رہی ہوں، لیکن میرے پاس الفاظ نہیں تھے یا ان کو وضاحت دینے کے لئے سیاق و سباق کی سمجھ نہیں تھی۔ میں صرف اتنا جانتی تھی کہ یہ ٹھیک ہے۔ میرے دل کی آواز تھی کہ میں جو کر رہی ہوں ، جس پر مجھے یقین ہے وہ صحیح ہے۔ شروع میں،میں نے موڈیسٹ ڈریسنگ اپنائی ،لیکن یہ سفر تھا۔ جو قدم بہ قدم طے ہوا۔ میں خوبصورت کنسرٹ گاؤن میں اسٹیج پر ہو تی۔ کھلےبال اورمیک اپ کے ساتھ جس کا آپ تصور کرسکتے ہیں۔ مجھے یہ سب چھوڑنے میں کافی وقت لگا، آہستہ آہستہ،تاکہ میں محتاج نہ ہو جاؤں،بغیر آمدنی کے۔ اور پھر حیران پریشان پھروں۔ لیکن ہاں،میری فیملی کی کہانی اور تھی۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ میرے خیال میں میری ماں،میرے والد تو سالوں پہلے گزر گئے تھے۔ میری ماں کو مذہب تبدیل کرنے پر اتنا اعتراض نہیں تھا ، بس ان کو یہ ڈر تھا کہ لوگ کیا کہیں گے جب میں ایسی ڈریسنگ کروں گی؟ جیسے کہ ، "یہ اب کر کیا رہی ہے؟ یہ مسلمان ہوگئی؟ یہ تو پردہ بھی کرنے لگی...اوہ یار!
اور ظاہر ہے،ان کے دوستوں نے بھی خوب تنقید کی،جو مجھے بھی نہیں پتہ۔ لیکن وہ آکر ماں سے شکایت کرتے۔ میرے بھائی نے میری ماں سے تلخی سے شکایت کی۔ ہاں یہ آسان نہیں تھا اور مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سےبیشترکو اس کا سامنا کرنا پڑا۔ اور مجھےلگتا ہےکہ یہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے امتحان ہے۔ جیسے ، آپ اس کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟ یہاں سے آپ کی زندگی بہت مشکل ہو گی، رائٹ؟ تو پھر کیا آپ نے اپنا میوزک کیریئر چھوڑ دیا؟ میں نے آہستہ آہستہ چھوڑا، میں اپنے کچھ کنڈکٹرز کے پاس گئی اور ان سے کہا کہ "مجھے آپ کو چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے چرچ اور سائنا گوگ کی نوکری، اس طرح کی چیزیں چھوڑ دیں۔ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنانا چاہتی تھی اور میں نے یہی کیا۔ میں اس کا نمائندہ بنناچاہتی تھی، میں ہر ایک کو بتانا چاہتی تھی کہ میں مسلمان ہوں۔ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ اپنا لباس، اپنی گفتگو میں اسلام کی بات کرنا چاہتی تھی۔ نام تبدیل کرنا چاہتی تھی تاکہ لوگ مجھ سے اسلام کی بات کریں۔ رد عمل کیا تھا؟ اہ۔۔ مختلف رد عمل تھے۔ میرے عیسائی دوست بہت ناراض ہوئے، اور جس لمحے میں نے ان کے سامنے بے وقوفانہ طور پرسورہ اخلاص پڑھنے کی کوشش کی۔ قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۚ اوہ،میرے دوست بہت ناراض ہوگئے۔ کیا؟ یہ سب کیا ہے؟ خدا تین ہیں ، یسوع یہ ہے ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا یہ طریقہ درست نہیں تھا کیونکہ وہ بہت ہی مذہبی عیسائی تھے، اور مجھے صرف اس خاص سورت کے بل پر یہ نہیں کرنا تھا بلکہ بہتر معلومات کی ضرورت تھی۔ پہلی بار تھا اس لیے پتہ نہیں تھا۔ کہ دعویٰ کا کام کیسے کرنا ہے۔ ایسے نہیں کہ کود گئے اور بات کرنا شروع کردی۔ آپ ایسے شخص سے کیا کہیں گی جو کہے گا ، "آپ نے یسوع کی ٹیم اور عیسائیت کو کیوں چھوڑا؟" میرے خیال میں اس کا آسان جواب یہ ہے۔ کہ ہم نے انہیں نہیں چھوڑا، بالکل بھی نہیں چھوڑا۔ بلکہ ہمیں اب عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت اور بہتر سمجھ آگئی ہے۔ وہ یہ کہ،یسوع خدا کے بندے تھے، جیسا کہ ابراہیم تھے ، جیسا کہ موسیٰ تھے۔ یسوع،نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور تمام نبی خدا کے بندے تھے۔ وہ سب خدا کے تابع تھے۔ بائبل میں ہر جگہ عیسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، "باپ نے مجھے یہ معجزے دیے" لیکن کبھی نہیں کہا کہ، "میں خدا ہوں، میری عبادت کرو۔" ایسی کوئی آیت نہیں، لیکن بہت سے عیسائی کہیں گے، "میں بائبل میں ڈھونڈ کر ثابت کروں گا!" انہوں نے کبھی نہیں کہا، "میں خدا ہوں، میری عبادت کرو۔ اگر یہی عیسائیت کا بنیادی عقیدہ تھا، تو پھر انہوں نے انجیل میں بار بار اسے کیوں نہیں دہرایا؟ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے۔ قرآن مجید میں بار بار،یہ بات سب سے زیادہ دہرائی گئی ہے۔ کہ اللہ ایک ہے۔ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ یہ شہادت ہے جو ہم اپنی نمازوں میں صبح،دوپہر اور رات کہتے ہیں۔ اور اذان میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ دینِ اسلام ہے۔ یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ اگر یہ بات کہی ہی نہیں گئی، تو پھر یہ عقیدہ کیسے بن گیا؟ سب گھما پھرا کر کہا جاتا ہے، "اوہ،یہ اشاروں میں ہے۔ آپ ایک عیسائی سے کیا کہیں گے جو کہتا ہے" جب میں دعا ، کرتا ہوں تو مجھے روحانیت اور خدا کے ساتھ تعلق محسوس ہوتا ہے۔" پچھلے دنوں کسی نے اس بارے میں آن لائن ایک عمدہ کمنٹ کیا ، جسے میں نے لائک کیا،جو سچ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودی اپنے مذہب سے انتہائی انٹیلکچوئل انداز میں مربوط تھے۔ عیسائی اپنے مذہب سے بہت جذباتی طور پر جڑے رہے۔ اسلام میں دونوں ہیں۔ اسلام عقل کو اپیل کرتا ہے اور جذباتی طور پر آپ کو اپیل کرتا ہے۔ یہ دماغ سے بات کرتا ہے۔ کیا تم نہیں سنتے؟نہیں دیکھتے؟ غور نہیں کرتے،غور کرو،سوچو؟ اقرا۔ پڑھیں،سیکھیں،مطالعہ کریں۔ یہ عقل کو اپیل کرتا ہے، لیکن یہ آپ کو جذباتی طور پر بھی اپیل کرتا ہے۔ اور یہ متوازن ہے۔ ہم متوازن امت ہونے کی بات کرتے ہیں ، ایک متوازن قوم۔ مجھے جو اسلام کے بارے میں پسند ہے، یہ کسی ایک رخ پر زور نہیں دیتا۔ یہ بہت متوازن ہے۔ کیا سائنا گوگ یا چرچ کے ساتھیوں کے ساتھ سنگنگ میں آپ کو کوئی دلچسپ تجربات ہوئے؟ سائناگوگ میں بہت گایا، میوزک کی ایک بڑی ڈیل،خاص طور پر ان کے مقدس دنوں میں۔ اور ایک چیز جو مجھے دلچسپ معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ ہم غیر یہودیوں کو کبھی بھی ان کا وعظ یا خطبہ سننے کی اجازت نہیں ملی اور مجھے نہیں لگا کہ یہ صحیح ہے۔ عیسائی چرچ میں کبھی کسی کو یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ نکل جاؤ، جیسے کہ تمہیں عیسائیوں کی باتیں سننے کا حق نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی مجھے یہ بات حیران ، کرتی تھی،ایسا کیا کہہ رہے ہیں جسے ہم نہیں سن سکتے؟ آئی مین، وہاں پہ باہر کیوں نکالتے اور کہتے ہیں کہ، بریک ہے، جا کر کافی اور ڈونٹس لو؟" اور میں نے کہا،"میں سننا چاہتی ہوں۔" انہوں نے کہا،" آپ نہیں سن سکتے۔ جاؤ،بریک لو۔" تو میں نے سوچا کہ یہ بہت عجیب ہے۔ اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اور ظاہر ہے،اب جب میں نے دیکھا کہ اسرائیل اور فلسطین میں کیا ہو رہا ہے ، آپ چیزوں کو ایک ساتھ رکھنا شروع کردیتے ہیں۔ سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟ اوہ،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار، یہ لوگ جن کے بارے میں،میں قرآن مجید میں پڑھا، اس طرح کا انداز ، اس طرح کے آداب، یہ مہربان ہونا،فراخ دلی سے، لوگوں کو معاف کرنا،رحمدلی۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں جن پر میں واقعتا ایک فرد کی حیثیت سے یقین کرتی ہوں۔ گوسپ نہ کرنا،بہتان نہ لگانا۔ اگرکوئی آپ کے خلاف بات کرتا ہے۔ توآپ بس انہیں معاف کردیں۔ اس قسم کی چیز۔ اور مجھے واقعی اس کردار سے محبت ہے۔ میں نے سوچا،یہی لوگ ہیں جنہیں میں زندگی بھر تلاش کرتی رہی۔ اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک دن دیکھ سکیں، تو وہ کون سا ہوگا؟ اہ۔۔۔بہت سارے ہیں۔ مجھے اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ میں نے اس سے پہلے کہا کہ مجھے یہ کہانی پسند ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرا کر ، اپنی عزیز اہلیہ کے پاس گئے ، یہ عمل ایک خوبصورت چیز ہے۔ آپ اپنی اہلیہ کی طرف گئے۔ "مجھے ڈھانپیں۔مجھے ڈھانپیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔" اور وہ جیسے ایک خوبصورت سپورٹ تھیں، اور میں وہ کمرہ دیکھ سکتی ہوں۔ میں موم بتیوں یا لائٹس کی چمک اور ہر چیزکو دیکھ سکتی ہوں۔ اور آپ ایک کمبل میں ہیں، اور وہ آپ کو ناقابل یقین الفاظ سے تسلی دے رہی ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو قبول کرتے ہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے، لیکن وہ مسلمان بننے کے لئے یہ قدم اٹھانے میں ہچکچاتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ عیسائیت کے عقائد کے نظام میں خامیاں ہیں۔ تو آپ کے حساب سے اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے خیال سے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کی طرح ہے۔ اپنی فیملی کے پاس واپس جانا مشکل نہیں، اگر وہ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے، اور وہ اس کے بہت مخالف ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے ، میڈیا،فلمیں اور سب کچھ اسے ایک بہت لمبے عرصے سے پورٹریٹ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر،ہالی ووڈ کی پوری زندگی۔ تو یہ آسان نہیں ہے۔ میں نے اکثر کہا ہے کہ اگر کوئی امریکی نظام ، اور یسوع اور عیسائیت میں پوری طرح ڈوبا ہو اور پھر اسلام کی حقیقت جان لے، تو شاید اس کی پوری دنیا اُلٹ جائے ذرا سوچیں، کوئی جو سچ کے اتنا قریب ہو پھر یہ احساس ہو کہ، "میں پوری زندگی غلط عقیدے پر تھا۔ جس کی میں عبادت کرتا رہا، وہ درست نہیں تھا۔" ایسے شخص کے لیے یہ ماننا آسان نہیں ہوگا!
میرے خیال میں سب سے اہم ہے کہ وہ اپنی زبان میں قرآن پڑھے، اور اپنے دل کو مضبوط بنانے کے لئے اللہ سے دعا کرے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی رہنمائی کرے۔ نیز ، مجھے لگتا ہے کہ صرف صحابہ کی کہانیوں کے بارے میں پڑھنا کہ ان پر کیا بیتی ، میرے خیال میں واقعی ہیلپ فل ہے۔ جیسے بہت دفعہ، کمیونیٹیز، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا،یونو، شادی کرلی، حجاب پہن لیا، یہ کیا،دن میں پانچ بار نماز،رمضان میں روزہ رکھا۔ بوم ، بوم ،بوم جبکہ ابتدائی مسلمانوں میں سب کچھ رفتہ رفتہ ہوا۔ تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھی نرمی برتنی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ اسے آہستہ آہستہ اپنائیں۔ اپنی نمازیں پڑھنے کی کوشش کریں، جو کرنا ہے اسے کرنے کی کوشش کریں۔ اسلام کے اہم ستون۔ اپنے عقیدے کے نظام کو اندر سے درست رکھیں۔ قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں۔جتنا ہو سکے اسے پڑھیں۔ قرآن،یقینا،آپ کو طاقت عطا کرے گا۔ یہ شفا ہے،یہ ہیلنگ ہے،یہ فرقان ہے، یہ معیار ہے،یہ گائڈینس ہے۔ مطلب،صحیح اور غلط معلوم کرنے کا حق اور باطل میں فرق کا کوئی اور طریقہ ہے؟ صرف قرآن ان چیزوں کو بہت واضح کرتا ہے۔ بلکہ صحابہ کی تاریخ کو بھی دیکھیں۔ ، وہ آسان وقت سے نہیں گزرے۔ بالکل بھی نہیں۔ آپ جس چیز سے گزر رہے ہیں؟ وہ بھی اس سے گزرے۔ اور وہ اپنے وقت کے بہترین لوگ بن گئے۔ ہر اس شخص کے لئے جو اسلام پر غور کررہا ہے،خاص طور پر مغرب میں رہنے والے، کبھی کبھی انہیں خوف ہوتا ہے،جیسے، اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے اپنا نام تبدیل کرنا ہے۔ مجھے اپنا پورا کلچر چھوڑنا ہے۔ مجھے کچھ مختلف بننا ہوگا، کیا واقعی یہ ایک جائز تشویش ہے؟ نہیں،میرا نہیں خیال۔مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ہر ایک کا اپنا ذاتی سفر ہوتا ہے، اپنی زندگی میں بہت سے نومسلموں کو جاننے کےبعدمیری یہی رائے ہے۔ یہاں تک کہ سیرتِ نبوی ﷺ میں بھی دیکھیں ، تو لوگ آہستہ آہستہ دین میں بہتر ہوئے۔ یہاں تک کہ الکحل سے چھٹکارا حاصل کرنے میں بھی تھوڑا وقت لگا،ہے ناں؟ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ لوگوں نے اچانک حجاب نہیں لیا۔ لوگوں میں آداب اور تمام چیزیں ایک دم نہیں آئیں جو بعد میں مدینہ میں آئیں۔ مکہ میں کتنے سال وہ صرف بنیادی سورتیں سمجھتے رہےکہ اللہ کون ہے اور اسی قسم کی چیزیں۔ میں کچھ پیدائشی مسلموں کو بھی کنورٹ کی طرح سمجھتی ہوں کیونکہ وہ اپنے گردونواح کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنے آبائی ممالک چھوڑ دیتے ہیں اور جب وہ امریکہ آتے ہیں،ان کے پاس اللہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور وہ اللہ سے رجوع کرتے ہیں۔ وہ واقعی سنجیدہ مسلمان بن جاتے ہیں، گویا وہ شہادت کو حقیقی ، طریقے سے جان لیتے ہیں۔ شاید ایسے لوگ ہیں جو سوچ رہے ہیں ، خواتین یہ سوچ رہی ہیں کہ میں حجاب پہننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اور اس طرح میرے لئے مسلمان بننے میں رکاوٹ ہے۔ تو آپ ایسے شخص سے کیا کہیں گی؟ یہ آسان نہیں ہے۔ یہ واقعی آسان نہیں ہے۔ میرے خیال میں، خود کو کور کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہ آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کے لیے بہت مشکل پیدا کردیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہےکہ آپ کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایسی چیز ہےجس کا اللہ تعالیٰ سوال کرتا ہے اور یہ آپ کی زندگی کے لیے مفید ہوگا۔ زیادہ تر خواتین یہی کہتی ہیں کہ وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔جب وہ یہ حجاب پہنتی ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں معاشرے، خاص طور پر مردوں کی طرف سے، کیسا دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ جو میں نے نیویارک میں بہت محسوس کیا،یہ بہت پریشان کن تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کو کال کرسکتی ہوں اور آپ پر آوازے کس سکتی ہوں اور بغیر کسی دعوت کے آپ کو اپروچ کرسکتی ہوں۔ میں نے حجاب پہنا اور یہ سب ختم ہو گیا۔ اچھا۔ الحمداللہ۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے براہ راست بات کرنے کا ، موقع ملے تو آپ صرف چند لمحوں میں ان سے کیا کہنا چاہیں گی؟ میرے خیال میں،جیسا کہ میں نے کہا، میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی چھت پہ جا کر ، کہنا چاہتی ہوں بس قرآن اٹھا کر اسے پڑھیں۔ یہ آپ کو کھائے گا نہیں ۔ یہ آپ کو بھٹکائے گا نہیں ۔ بہت ساری کہانیاں ہیں،حیرت انگیز کہانیاں جب لوگوں کو لگا کہ قرآن انہیں بلا رہا ہے اور وہ ایسے ہی تھے گریز کرنے والے میرے بہت سے ، دوست کہتےتھے کہ " میں اس کتاب کو نہیں پڑھوں گا۔ چلو پڑھتا ہوں تاکہ مسلمانوں کو غلط ثابت کر سکوں۔" مگر جب آخرکار اسے اٹھاتے ہیں تو وہ ڈر جاتے ہیں،وہ حقیقت میں اسے لینے سے ڈرتے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ کچھ دوسرے مذاہب آپ کو سکھاتے ہیں،جیسے ، "اوہ،مسجد مت جانا ، چرچ مت جانا۔ کسی اور کی مذہبی جگہ میں داخل مت ہونا۔ یہ نقصان نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ مسلمان نہیں بھی بنتے ۔ پھر بھی قرآن مجید میں اتنی حیرت انگیز رہنمائی ہے۔ جب میں امریکیوں کو سنتی ہوں تو مجھے ہمیشہ بہت دکھ ہوتا ہے ، وہ ہر وقت بائبل یا تورات کا حوالہ دیتے ہیں۔ بائبل ، بائبل ، بائبل۔ مطلب،کیا ہم قرآن کو مینشن کرسکتے ہیں؟ آپ جو بات کر رہے ہیں اس بارے میں ایک حیرت انگیز،خوبصورت آیت ہے جو بہت زیادہ سینس بناتی ہے۔ بس دنیا کو اسلام سے منور کریں۔ یہ کسی کو تکلیف پہنچانے والا نہیں ہے۔ ہم کسی پر قابو پانے نہیں آ رہے۔ یہ ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اسلام کو جاننے میں بے شمار فائدے ہیں۔ بہت سے فائدے۔ بہن نور سعدے ، اپنی کہانی شئیر کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ اور اللہ آپ کو جزا دے۔ امین، انشاءاللہ اللہ آپ کو جنت عطا فرمائے، ان شاء اللہ۔ امین۔امین۔امین۔ جزاک اللہ خیر۔ جزاک اللہ خیر۔ اور مجھے اپنی کہانی سنانے کی اجازت دینے کے لئے آپ کا شکریہ اور ان شاء اللہ ، یہ لوگوں کے لیے روشنی کا باعث ہو گی۔ جزاک اللہ خیرا۔