Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Why Did Prophet Muhammad (pbuh) Marry Several Times?

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اسلام میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا تصور موجود ہے۔ ہر مرد کو چار عورتوں سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی نے کئی شادیاں کیں کیونکہ وہ ایک شہوت پرست آدمی تھے۔ آپ اس کے متعلق کیا کہیں گے؟ یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے شادی کی جب وہ صرف سات سال کی تھیں۔ تو ملحدیں ایسے مضحکہ خیز دعوے کیوں کرتے ہیں؟ آج ہم آپ سے کچھ ایسے سوالات پوچھنے جا رہے ہیں جو بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیتے ہیں۔ آپ کے پاس ہر سوال کا جواب دینے کے لیے ساٹھ سیکنڈ ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟ جی میں تیار ہوں۔ اسلام میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا تصور موجود ہے۔ ہر مرد کو چار عورتوں سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ اسلام سے پہلے، چار سے زیادہ شادیاں کرنے کا رواج تھا۔ اسلام نے اسے چار شادیوں تک محدود کر دیا۔ اگرچہ تعداد کم کر کے چار کر دی گئی تھی لیکن صرف ایک شادی کی تجویز دی گئی ہے۔ لہٰذا، چار بیویوں کی اجازت ہے، لیکن یہ لازم نہیں ہے۔ لیکن صرف ایک ہی شادی کو تجویز کیا گیا ہے۔ میں اس مسئلے کے پیچھے موجود حکمت کے بارے میں زیادہ متجسس ہوں۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں اس طرح سے سوچیں، کہ اس وقت دنیا میں مرد اور خواتین کی آبادی ایک دوسرے کے تقریباً برابر ہے۔ لیکن یہ پوری تاریخ کے اوراک میں مختلف ہوتی تھی۔ اور بہت سارے خِطوں میں تعداد مختلف ہو تی تھی۔ لہٰذا، جب ایک عورت کہتی ہے کہ وہ ایک مرد سے شادی کرنے جا رہی ہے۔۔۔ تو اس وقت اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہوتی ہیں۔ لیکن دوسری جنگِ عظیم جیسی بڑی جنگوں میں، اور ہمارے نبی ﷺ کے دور میں بھی جوایسی بہت سی جنگیں ہوئیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنگوں میں بہت سے مرد مرتے ہیں لیکن بہت سی عورتیں زندہ رہتی ہیں۔ اگر ہم اس تناظر میں غور کریں تو، عورت مرد سے شادی نہیں کر سکتی۔ البتہ اگر کوئی مرد دو یا تین عورتوں کو اپنی حفاظت میں لے لے تو ہر عورت کا ایک شوہر ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں کیا ہوا؟ اسلام نے اس کی اجازت دے دی۔ لیکن جب آپ اسلامی معاشرے کو دیکھیں تو عام حالات میں ۔۔ شاید پچانوے فیصد معاشرہ ایک شادی کو تر جیح دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، بیشک، دنیا میں مرد اور خواتین کی آبادی تعداد میں ایک دوسرے کے قریب ہے لیکن دنیا کے تمام حصوں میں ایسا نہیں ہے۔ کچھ خطوں میں مَردوں کی تعداد محدود ہے، اور عورتیں زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ایسے حالات میں، ایسی جگہوں پر اور یا جنگ کے اوقات میں، لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اس اجازت کو استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو آج کل کے دور میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے رواج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ موجودہ دور میں، غیر مسلم معاشرے میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ستاون فیصد شادی شدہ مرد اپنےرشتے کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں۔ تو کثرتِ ازدواج کا رواج پہلے سے ہی موجود ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میرے کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اسلام نے اس کو محدود کر دیا ہے۔ لیکن ناجائز تعلقات رکھنے والے مرد کے لیے چار تعداد کی حد مقرر نہیں ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ستاون فیصد لوگ ایسے ہیں۔ یہ ایک بہت خطرناک تعداد ہے۔ میں اس میں یہ بھی شامل کرنا چاہوں گا کہ: ایسا نہیں ہےکہ،" میں نے بہت سی شادیاں کی ہیں، یا میری بہت سی بیویاں ہیں اور میں نے بہت سے گرم دن گزارے ہیں۔ ان سب چیزوں کو منظم کرنا ایک پیچیدہ چیز ہے۔ آپ کو ان سب کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ کثرتِ ازواج کا ہونا اچھا اور آرام دہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے بر عکس ، کیونکہ آپ کو بہت منصفانہ ہونا پڑتا ہے اس لیے اس کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہے۔ براہِ کرم یہ نہ بھولیں کہ اسلام نے ایک سے زیادہ شادی کی اجازت تو دی ہے، لیکن صرف ایک ہی شادی کی تجویز دی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی نے کئی شادیاں کیں کیونکہ وہ ایک شہوت پرست انسان تھے۔ آپ ان لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟ میرا مطلب ہے کہ یہ بہت غیر متعلقہ بات ہے۔۔۔ اب، ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے نبیﷺ کس عمر میں بلوغت میں داخل ہوئے۔ فرض کرتے ہیں کہ تیرہ سال کی عمر میں ہوئے۔ یہ عام طور پر معمول سے تھوڑا پہلے ہو جاتا ہے، کیونکہ جزیرہ نما عرب ایک گرم علاقہ ہے۔ تیرہ سال کی عمر سے لے کر پچیس سال کی عمر تک، ہمارے نبی ﷺ نے شادی نہیں کی۔ تو کُل کتنے سال ہوئے؟ بارہ سال۔ اگر وہ ایسے شخص تھے جن کو ہوس اور جنسیت کا مسئلہ تھا تو کیا وہ اس عمر تک اکیلے رہ سکتے تھے اور پچیس سال کی عمر میں چالیس سال کی عورت سے شادی کر سکتے تھے؟ حضرت خدیجہؑ سے؟ آپ جانتے ہیں کہ حضرت خدیجہؑ ایک بیوہ عورت تھیں۔ کیا یہ بات منطقی لگتی ہے؟ کہ ایک ہوس پرست شخص، جو جنسیت میں مبتلا ہے وہ کسی ایسی عورت سے شادی کر رہا ہے جو بیوہ ہے اور چالیس سال کی ہے۔ ٹھیک ہے۔ آپ نے جو کہا وہ معنی خیز ہے، لیکن ان کی دوسری شادیوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس وقت ان کی شادی صرف حضرت خدیجہؑ سے ہی تھی اور انہوں نے باقی متعدد شادیاں اپنی زندگی کے آخری دس سالوں میں کیں۔ یعنی حضرت خدیجہؑ کی وفات کے چند سال بعد آپ کی کثرتِ ازواج والی زندگی شروع ہوئی۔ اور ان شادیوں کے پیچھے بہت سی حکمت پوشیدہ ہے۔ اور سوائے ایک عورت کے، باقی تمام عورتیں بیوہ تھیں جن سے ہمارے نبی نے شادی کی۔۔ اور کچھ عورتوں کے بچے بھی تھے۔ اور جہاں تک ان کی عمر کا تعلق ہے، ایک کی عمر پچاس سال، ایک کی تریپن سال اور ایک کی پچپن سال تھی۔ مثال کے طور پر، ہماری امی جان اُمِ سلمہ کی عمر پینسٹھ سال تھی اور ان کے چار بچے تھے۔ ہمارے نبیﷺ نے ان سے شادی کی۔ تو آپ دیکھیں کہ اگر وہ شہوت پرست انسان تھے، تو پھر کیا ہونا چاہیے تھا ؟ تو پھر ہمارے نبی ﷺ نے تمام شادیاں جوان عورتوں سے کی ہوتیں۔ تو انہوں نے اتنی زیادہ شادیاں کیوں کیں؟ اتنی زیادہ بیویوں کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں بہت ساری خوبیاں ہیں۔ سب سے پہلے، یہ ایک حکمتِ عملی ہے، اور یہ سیاسی نقطہ نظر بھی ہے۔ آپ نے فلموں یا تاریخ کی کتابوں میں سنا ہو گا۔ تو پھر کیا ہوتا ہے؟ ایک بادشاہ دوسری برادری کی بیٹی کو لے جاتا ہے۔ اور پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر ان کے درمیان صلح ہو جاتی ہے اور وہ آپس میں جنگ نہیں کرتے۔ ہمارے نبیؐ نے بھی دوسرے قبیلوں اور برادریوں کی عورتوں سے شادی کی تا کہ امن قائم ہو سکے۔ یہاں ایک دوسری حکمت بھی ہے، جو کہ " ازواکِ طاہرات" سکول ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے نبیؐ کے پاس مکتبِ صفہ ( مردوں کے لیے پہلی اسلامی درسگاہ) بھی تھی، جہاں مردوں میں سے سائنس کے طلباء تھے۔ اور ازواکِ طاہرات بابرکت گھر میں ان کی بیویوں پر مشتمل تھا۔ گھر کے باہر تو اصحابِ صفہ نے علم پہنچا دیا تھا، لیکن گھر کے اندر علم کون پہنچائے گا؟ خاص طور پر ،جب کوئی علم خصوصاً خواتین کے بارے میں ہوتا تھا۔ ٹھیک ہے؟ حتیٰ کہ بدیعُ الزمان سیّد نرسی کہتے ہیں کہ تقریباً نصف کے قریب مذہبی قوانین "ازواکِ طاہرات" سے آتے ہیں۔ یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ؛ وہ گھر ایک سکول بن گیا۔ لہٰذا ، ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا کہ غیر مسلم تصور کرتے ہیں، وہ ساری شادیاں جنسی تناظر میں کی گئی شادیاں نہیں ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ، کوئی بھی شخص کسی بادشاہ کی شادی کو منطقی سمجھ سکتا ہے۔ اور وہ کبھی نہیں پوچھے گا، کہ "اس بادشاہ نے اس عورت سے شادی کیوں کی؟" لیکن ہمارے نبیؐ کی غیر سیاسی اور حکمت سے بھرپور شادی اسے پریشان کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے شادی کی جب وہ صرف سات سال کی تھیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟ یہ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ کہ نبی ؐنے سات سال کی بچی سے شادی کی اور ہمارے نبی ؐ کی عمر بھی کافی زیادہ تھی۔ اور حضرت عائشہ کی عمر کتنی تھی؟ احادیث سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ہمارے نبیﷺ کافی بوڑھے ہو چکے تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پچپن سال کے تھے تو احادیث کے مطابق حضرت عائشہ کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ اور عائشہ سے ہی شادی کیوں کی؟ کیونکہ عائشہ ناقابلِ یقین حد تک ذہین تھیں اور ان کی یاداشت بہت اچھی تھی۔ اب ہمیں اپنے نبیؐ کی سیرت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ معلومات کیسے حاصل کریں گے؟ کیا گھر کے اندر موجود کوئی بوڑھا شخص اس کو بہتر طور پر بتا سکتا ہے؟ ذرا یاداشت اور ذہانت کے لحاظ سے سوچیں۔ اور مشاہدہ کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے بھی سوچیں۔ یا پھر ایک نوجوان شخص اس کو بہتر طور پر بتائے گا؟ حضرت عائشہ کی ایک ڈیوٹی تھی۔ اور وہ ان پانچ راویوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے سب سے زیادہ اسلامی معلومات فراہم کیں۔ اس سے ہمیں ان کے بارے میں سنجیدہ معلومات ملتی ہیں کہ وہ گھر کے اندر کیا کرتی تھیں۔ لیکن ملحدین ایسے مضحکہ خیز دعوے کیوں کرتے ہیں؟ اس سے ملتے جلتے ان کے بہت سے مضحکہ خیز دعوے ہیں۔ کیوں؟ یہ ان لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں جو یہ سب نہیں جانتے۔ یا وہ لوگ جو جواب تلاش نہیں کر سکتے۔ جب لوگوں کے پاس اسلامی علوم کے بارے میں کوئی علم نہ ہو، تووہ بہتان لگاتے ہیں اور اپنے پاس سے چیزیں بناتے ہیں تاکہ وہ ان لوگوں کو دھوکہ دے سکیں جو اصل حقائق کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ شخص جس کو آپ ملحد کہتے ہیں، وہ تو یہ بھی نہیں مانتا کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ کائنات خود بخود حادثاتی طور پر بن گئی۔ کیا ایسے معاملات میں گمراہ ہونا معمول کی بات نہیں ہے؟ جو انسان اس کائنات کے مالک کو بھی تلاش نہ کر سکا۔ وہ نبیؐ پر بہتان لگا کر، یہ کوشش کر رہا ہے کہ باقی لوگ بھی اسی کی طرح سوچیں۔ اس بارے میں سوچیں!

کہ ہمارے نبیؐ کے پاس پچیس سال کی عمر تک بھی جسمانی گرمی اور شہوت موجود تھی۔ لیکن اس بارہ سال کے عرصے میں انہوں نے شادی نہیں کی۔ پھر جب وہ پچیس سال کے ہوئے تو انہوں نے ایک چالیس سالہ خاتون سے شادی کی جو کہ ایک بیوہ عورت تھی۔ اور ہمارے نبی کو صرف اس لیے کثرتِ ازواج کے معاملے سے ملایا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دس سالوں میں، سیاسی طور پر اور حکمتِ عملی کے طور پر متعددشادیاں کیں۔ بلکہ انہوں نے مردوں کی کم آبادی کی وجہ سے بھی یہ شادیاں کیں۔ اور جبکہ ہمارے پاس " ازواکِ طاہرات" سکول جیسی وجوہات موجود ہیں، جب کوئی آتا ہے اور کہتا ہے: کہ" انہوں نے یہ شادیاں کیوں کیں؟ کیا یہ ہوس کے لیے تھیں؟" وہ ہمارے نبیؐ کے بارے میں تاریخی حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔ " شادی۔۔۔ جی ہاں، انہوں نے شادیاں کیں، انہوں نے حضرت عائشہ سے بھی شادی کی۔۔۔" یہ بات تو ان لوگوں نے قبول کر لی۔ لیکن وہ ہمارے نبیؐ کے بارے میں دیگر حقائق کو نہیں مانتے۔ کون سے حقائق؟ ہمارے نبیؐ اس وقت تک نماز پڑھتے رہتے تھے جب تک ان کے پاؤں زخمی نہ ہو جائیں۔ وہ لوگ اتنی سی معلومات بھی نہیں جانتے۔ وہ لوگ ان کی زندگی، نیکی اور اعتبار کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، وہ بہت عقیدت مند اور عبادت گُزار تھے۔ وہ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے کیا مناسب ہے اور وہ اس طرح کے دعوے کرتے ہیں کہ : " کیا وہ ہوس پرست نہیں تھے؟" جب آپ ہمارے نبیؐ کا عمومی تقویٰ اور اخلاقیات کو دیکھتے ہیں، تو ان کی نو سالہ لڑکی سے شادی، سات سال کی لڑکی سے شادی یا ہوس کی خاطر شادی، اور ہر وقت ہوس پرستی کی وجہ سے شادی کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کیا کسی آدمی کا یہ نمونہ ہمارے نبیؐ کی عقیدت سے میل کھاتا ہے؟ اور آپ جانتے ہیں ، میں نے ایک بار ایک ملحد سے کچھ ایسا ہی کہا تھا۔ میرا جواب دینے کا وقت ختم ہو رہا ہے، میں جانتا ہوں۔ میں معافی چاہتا ہوں، لیکن۔۔۔ میں نےایک ملحد سے کچھ کہا؛ جب اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ میں نے کہا،"میں آپ سے کچھ پوچھنے جا رہا ہوں"۔ کہ " جتنا آپ ان ملحد سے متعلقہ ویب سائٹس کو تلاش کرتے ہیں، کیا آپ نے ایسی ویب سائٹس پر بھی کوئی تحقیق کی ہے جس میں ان سوالات کے جوابات ہوں؟" کیا آپ مجھے ایمانداری سے بتا سکتے ہیں؟ اس نے کہا" میں نے تحقیق نہیں کی"۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میرا کیا مطلب ہے؟ دوسرے لفظوں میں، اس نے ایک ایسا عقیدہ تلاش کیا جس کے ساتھ وہ آسانی سے گناہ کر سکتا تھا؛ یعنی "الحاد۔ بس ٹھیک ہے، خدا ہمیں نہیں دیکھتا، کوئی فرشتے نہیں ہیں، کوئی گناہ نہیں ہے، ٹھیک ہے، یہ سب معلومات درست ہیں وغیرہ۔۔۔" شاید کچھ لوگ ان کا جواب دے سکتے ہیں؟ " نہیں، میں اس موضوع کی طرف نہیں جاؤں گا۔ میں جو چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں ، اور میں کچھ اور نہیں سیکھنا چاہتا۔ اگر کسی میں یہ ذہنیت ہے تو وہ سچ تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن انشااللہ ہم یہ دعویٰ کریں گے کہ: اسلام کے بارے میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں۔ ہم اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کرتے، لیکن قرآن پر ضرور بھروسہ کرتے ہیں۔