Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Atheist Surgeon Ne Islam Qabool Kar Liya "Main Ne Allah Se Apni Beti Ko Bachane Ki Dua Ki"

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میں بطور ایتھیسٹ بڑا ہوا۔ میں نے ایک اکیڈمک میڈیکل اسکول میں تعلیم پائی۔ میں کامیاب تھا، روپیہ پیسہ بھی تھا، اپنی زندگی میں بہت خوش تھا، میری ایک بیٹی تھی جو پیدائشی طور پر دل کی ایک خرابی کا شکار تھی۔ اُس کے جسم کا نچلا حصہ مر رہا تھا کیونکہ...

اُسے آکسیجن نہیں مل رہی تھی۔ اُنہوں نے مجھے کمرے سے باہر بھیج دیا۔ میں سیدھا اسپتال کے پریئر رُوم کی طرف چلا گیا۔ میں نے کہا، ’’اے خدا، اگر تو موجود ہے، تو مجھے مدد چاہیے۔ اگر تو نے میری بچی کو بچا لیا تو میں پیروی کروں گا۔‘‘ میں نے سارے مذاہب دیکھنے شروع کیے۔ تاؤازم، بدھ ازم، ہندو ازم۔ میرا بھائی، اس نے مجھے قرآن کا تفصیلی ترجمہ بھیجا۔ جب میں نے انہیں پڑھا، تو میرے سامنے سب واضح ہوگیا۔ جب میں مسلمان ہوا تو میری بیوی نے، جو 14 سال سے میری بیوی تھی، مجھ سے طلاق لے لی۔ میرے والدین نے مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ میرے گھر سے نکل جاؤ اور دوبارہ واپس مت آنا!

ایک رات، میں نے یہ خواب دیکھا جس میں نبی پاک ﷺ موجود تھے، اور میں اُن کی خدمت میں حاضر تھا اُنہوں نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا، ’’پہاڑوں کی طرف چلے جاؤ۔‘‘ پہاڑوں کی طرف چلے جاؤ۔ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو)، ڈاکٹر لارنس براؤن۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بے حد شکریہ۔ آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر لارنس براؤن کون ہیں؟ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟ تو میں ایک آئی اسپیشلسٹ، اور ایک مصنف ہوں، فی الحال میں سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں اور رہ رہا ہوں۔ میں ایک ایسی فیملی میں پیدا ہواجو کویکر تھی، مگر مذہب پر عمل پیرا نہیں تھی۔ تو کویکر دراصل عیسائیت کے ایک پروٹیسٹنٹ فرقے کا نام ہے۔ مجھے مسلمان ہوئے تقریباً 30 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ جس کے بعد میں سعودی عرب چلا گیا، اور تب سے میں سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں اور وہیں مکین ہوں۔ ایمان کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ یعنی آپ کا کس پر ایمان تھا؟ میں بطور ایتھیسٹ بڑا ہوا۔ کیونکہ میں یونائیٹڈ اسٹیٹس میں پلا بڑھا تھا۔ میری پیدائش اور پرورش سان فرانسسکو کی ہے۔ میرے اکیڈمک ہائی اسکول، کالج، میڈیکل اسکول، انٹرن شپ اور رہائشی جگہ پر، اوراس طرح کے تمام تعلیمی اداروں میں، زیادہ تر پروفیسر، میرے کولیگز، تمام کے تمام لوگ ایتھیسٹس تھے، اور اِسے ذہین اور پڑھے لکھے لوگوں کا عقیدہ سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ایسا فکری طبقہ عموماً خدا کے وجود کو اپنے عقلی دلائل سے رد کرتا ہے۔ تو میرا بھی یہی عقیدہ تھا...

یہاں تک کہ مجھے ایک روحانی شعور ملا۔ پلیز ہمیں اُس بارے میں کچھ بتائیں۔ اپنے عقائد کے بارے میں کس چیزنے آپ کو سوچنے پر مجبور کیا؟ اِسے واضح الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں ایک consultant ophthalmologist بن گیا تھا۔ اِس تعلیم اور ٹریننگ کے بہت لمبے عرصے کے بعد میں کامیاب تھا، روپیہ پیسہ بھی تھا، یوں سمجھیں کہ میں جو چیز چاہتا خرید لیتا تھا۔ اور میں اپنی زندگی میں بہت خوش تھا، تب میں نے ارد گرد دیکھا اور محسوس کرنا شروع کیا کہ مزید بھی کچھ ہونا چاہیے۔ مگر مجھے اصل جھٹکا تب لگا جب میری بیٹی کی پیدائش ایک بیماری کے ساتھ ہوئی، وہ بیماری، دل کی بیماری تھی، بلکہ وہ دل نہیں دل سے نکلنے والی ایک بڑی رگ کا مسئلہ تھا۔ aorta پیدائشی طور پر اُس کی aorta رگ تنگ تھی۔ اور پیدائش کے وقت۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے جسم کا نچلا حصہ نیلا مائل تھا، بلکہ گہری نیلاہٹ کا حامل رنگ تھا، میرے پہنے ہوئے surgical scrubs سے بھی زیادہ، اوکے؟ تو یوں لگتا تھا جیسے اُس کا جسم...

مر رہا تھا کیونکہ اُسے آکسیجن نہیں مل رہی تھی۔ اور ظاہر ہے، ایک ڈاکٹر کے طور پر یہ دیکھنا میرے لیے بہت خوفناک تھا۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ، اُس وقت میں ایک ایتھیسٹ تھا، اگرچہ مجھے خالق کی موجودگی کا احساس ہونا شروع ہو گیا تھا اور وہ...

وہ احساس صرف خالق ہی دے سکتا ہے۔ اپنی پوری زندگی، میں نے حالات پر ہمیشہ اپنا اختیار قائم رکھا تھا۔ میں نے زندگی میں کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی کہ جب مجھے لگا ہو کہ حالات میرے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ یہ میری زندگی میں پہلی بار تھا کہ مجھے اپنی بے بسی کا احساس ہو رہا تھا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ پہلے کبھی پیسوں کی ضرورت ہوتی، تو میں زیادہ محنت کر لیتا تھا۔ کچھ اور چاہیے ہوتا، تو کچھ اور کر لیتا۔ میری زندگی پر میرا ہمیشہ کنٹرول رہا۔ اور اب مجھے ایک ایسے مسئلے کا سامنا تھا کہ جب میں بچی کو اِس حالت میں دیکھتا، تو مجھے احساس ہوتا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی اِس بچی کو بچا سکتا ہے تو وہ میرا خالق ہے۔ اُنہوں نے مجھے کمرے سے باہر بھیج دیا۔ میں NICU سے باہر نکل آیا اور میرے دل میں ایک احساس پیدا ہو رہا تھا۔ میں سیدھا اسپتال کے پریئر رُوم کی طرف چلا گیا۔ میں پریئر روم میں داخل ہوا اور...

میں نے بس ایک بہت سادہ سی دعا مانگی۔ کیا آپ نے کبھی کسی بے یقین انسان کی دعا سنی ہے؟ اوکے، ایک بے یقین انسان کی دعا بس یہ ہوتی ہے کہ، ’’اے خدا، اگر تو موجود ہے، تو مجھے، میری روح کو بچا لے...

اگر روح واقعی ہوتی ہے؟‘‘ رائٹ؟ اور درحقیقت، بہت سے بے یقینی، بہت سے ایتھیسٹس، اِسی طرح دعا کرتے ہیں۔ اور میں اُس وقت بے یقین لوگوں کی دعا سے واقف نہیں تھا، مگر میں نے یہی دعا کی تھی۔ بلکہ میری کی گئی دعا تو دراصل سورۃ الفاتحہ سے قریب تر تھی (جو قرآن کا پہلا چیپٹر ہے)۔ اِس لحاظ سے کہ میں نے اپنے خالق کو پہچانا تھا۔ میں نے کہا، ’’اے خدا، اگر تو موجود ہے، تو مجھے مدد چاہیے۔‘‘ میں نے بس اپنے خالق سے مانگا، اُس سے براہِ راست بات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر تو نے میری بچی کو بچا لیا اور اُس مذہب کی طرف میری رہنمائی کی جو تجھے سب سے زیادہ پسند ہے، چاہے مجھے پسند نہ بھی ہو، مگر تجھے سب سے زیادہ پسند ہو، تو میں اُس پر عمل کروں گا۔‘‘ پھر میں پریئر روم سے باہر نکلا اور واپس آئی سی یو میں گیا۔ میں شاید 10 یا 15 منٹ کے لیے باہر گیا تھا تاکہ ڈاکٹرز اپنے معائنے اور تشخیص کا عمل مکمل کرلیں۔ اور ظاہر ہے، جب آپ نوزائیدہ بچوں کے آئی سی یو میں جاتے ہیں، تو اِس کے لیے ایک پورا عمل ہے۔ آپ کو ہاتھ دھونے ہوتے ہیں، آپ کو گاؤن، دستانے، ماسک، ٹوپی، یہ سب چیزیں پہننی ہوتی ہیں۔ تو جب میں یہ سب کر رہا تھا، تو میں کھڑکی سے اندر دیکھ رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ ڈاکٹرز کمرے کے انتہائی کونے میں میری بیٹی کے ارد گرد جمع تھے۔ اور وہ نظر اٹھا کر میری طرف دیکھ رہے تھے، اور میں اُن کے چہروں سے اندازہ لگا سکتا تھا...

میں... اُن کے چہرے کے تاثرات سے محسوس کر سکتا تھا کہ کوئی تبدیلی آئی ہے۔ تو جب میں کمرے میں داخل ہوا، اور... یہ،۔ ۔ ۔ ۔ ...

اِس بات کو شاید 35، 36 سال ہوگئے مگر آج بھی میں یہ کہانی جذباتی ہوئے بغیر نہیں سنا سکتا۔ تو جب میں ڈاکٹرز کے پاس پہنچا، تو بچوں کے دل اور سینے کے سرجن نے میری طرف دیکھا اور کہا، ’’یہ ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ اور میں نے محسوس کیا وہ سب اِس وضاحت کو مان رہے تھے، مگر میرے دل میں یہ احساس تھا کہ یہ اُس وقت میرے ساتھ نہیں تھے جب چند منٹ پہلے میں اپنے خالق سے اِس بچی کو بچانے کی دعا کر رہا تھا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایمان میرے دل میں داخل ہوا۔ میری بیٹی، میری بیٹی Hayna، وہ بالکل نارمل ہو گئی۔ اُسے نہ کسی دوا کی ضرورت پڑی، نہ سرجری کی، اُسے کسی قسم کے طبی علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ بالکل نارمل ہوگئی۔ آپ اِسے معجزہ کہہ سکتے ہیں یا ڈاکٹر کی وضاحت قبول کر سکتے ہیں، مگر میرے لیے، یہ اپنے خالق سے کیا ہوا ایک وعدہ تھا۔ میں نے اُس سے کہا تھا، یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ میری بچی کو بچا لے اور مجھے اُس مذہب کی طرف رہنمائی دے جو اُسے سب سے زیادہ پسند ہو، تو میں اُس پر عمل کروں گا۔ میں ذرا اپنے جذبات پر قابو پا لوں تبھی بات جاری رکھ سکوں گا اچھا اِس کے بعد میرے لیے تقریباً چار یا پانچ سال کا ایک دور آیا جو میرے لیے شدید نفسیاتی دباؤ کا باعث بنا کیونکہ میں یہ وعدہ کر چکا تھا کہ اگر خدا نے مجھے اُس مذہب کی طرف رہنمائی دی، جو اُسے سب سے زیادہ پسند ہو، مگر وہ مذہب مجھے ملا ہی نہیں۔ مطلب، میں نے...

میں نے سارے مذاہب دیکھنے شروع کیے: تاؤازم، بدھ ازم، ہندو ازم۔ اور آخر میں، ظاہر ہے میں نے وہی کیا، جو ویسٹ کے زیادہ تر لوگ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بائبل لی، اور اولڈ ٹیسٹامنٹ کو پڑھنا شروع کر دیا۔ جب میں نے اولڈ ٹیسٹامنٹ کو پڑھنا شروع کیا، تو مجھے ایک کنکشن سا محسوس ہوا۔ میں نے سوچا، ’’اوکے، میں تو اولڈ ٹیسٹامنٹ کی بتائی ہوئی بہت سی باتوں کو مانتا ہوں۔‘‘ وہاں میں نے اپنے خالق کے بارے میں بہت کچھ پایا جس پر میں ایمان لا سکتا تھا۔ مگر اِس کے ساتھ ساتھ، اولڈ ٹیسٹامنٹ تین پیغمبروں کے آنے کی پیشگوئی بھی کرتا ہے۔ مگر پھر میرے ذہن میں یہ سوال باقی رہا کہ تیسرا پیغمبر کہاں ہے؟ بائبل میں Paracletos کے لفظ پر بہت بحث کی جاتی ہے۔ Paracletos کا ترجمہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ احمد ہو سکتا ہے، جوکہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک نام ہے۔ Paracletos کا ذکر بائبل میں صرف پانچ بار آیا ہے۔ ایک بار اِس جگہ، اور دوسری جگہ، عیسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا ہے Paracletos تو اب ہم جانتے ہیں کہ Parakletosکیا ہے۔ ایک تو عیسیٰ علیہ السلام تھے، اور وہ اپنے بعد کسی دوسرے کے آنے کی بات کر رہے تھے یعنی اُن کے بعد اور بھی ہیں۔ اب، اگر یہ پیغمبروں کے سلسلے کے ایک آخری پیغمبر کے آنے کی طرف اشارہ نہیں کرتا، تو اور بھلا اِس کا کیا مطلب ہو سکتا تھا۔ اور جب میں نے یہ دیکھا تو اس سے میرے دل میں یقین بالکل پکا ہو گیا کہ ایک آخری پیغمبر ہیں جنہیں تلاش کرنا ضروری ہے۔ اور میرے دل میں ہمیشہ یہی احساس رہتا تھا۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ ’’اوکے، ان چیزوں میں کوئی تعلق ضرور ہے، صرف ایک خدا پر ایمان، پیغمبروں کے سلسلے پر ایمان، وحی کے سلسلے پر، فرشتوں پر، روزِ قیامت پر ایمان، تمام چیزوں کا اللہ کے اختیار میں ہونے پر ایمان۔‘‘ میں یہ سب باتیں سمجھ گیا۔ مگر پھر یہ دوسری بات، یہ تصور کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں، نہیں، میں...

میں یہ بات قبول نہیں کرتا۔ ٹرینیٹی، ایک میں تین، تین میں ایک، برابر حیثیت، یکجا ذات، دونوں لا فانی۔ نہیں، میں... میں نہیں مان سکتا...

میں یہ قبول نہیں کر سکتا۔ اور میں پادریوں سے، مذہبی رہنماؤں سے، منسٹرز وغیرہ سے سوالات پوچھتا تھا۔ میں اُن سے ہمیشہ یہ سوال کرتا، ’’آپ کو اِن باتوں کا ثبوت کہاں سے ملا؟ عیسیٰ علیہ السلام نے کہاں کہا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں؟‘‘ اور وہ مجھے کچھ حوالے دکھاتے تو میں کہتا، ’’نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔‘‘ بائبل میں، عیسیٰ علیہ السلام نے خود کو 88 بار آدم کا بیٹا کہا ہے۔ بائبل میں ایک حوالہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں اُنہوں نے خود کو خدا کا بیٹا کہا ہو۔ تو آپ لوگ اُن کے متعلق دوسروں کی کہی باتوں پر کیوں عمل کرتے ہو؟ آپ اُس پر عمل کیوں نہیں کرتے جو اُنہوں نے خود اپنے بارے میں کہا ہے؟ اُنہوں نے خود کو آدم کا بیٹا کہا ہے۔ تو آپ یہ استعاراتی اصطلاح کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ بائبل میں تو تمام ایمان والوں کو خدا کے بچے کہا گیا ہے۔ تو آپ یہ استعاراتی اصطلاح کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ آپ عیسیٰ علیہ السلام کے ہو بہو الفاظ کیوں استعمال نہیں کرتے؟ اور میں اپنے خالق سے بس یہی کہتا کہ، ’’میں تلاش کر رہا ہوں، مگر مجھے نہیں مل رہا۔‘‘ اور پھر کیا ہوا کہ...

میرا بھائی... وہ مجھ سے 21 مہینے بڑا ہے اور، الحمدللہ ، وہ مسلمان ہو گیا۔ میرے بھائی اور مجھ میں کبھی گہرا قریبی تعلق نہیں رہا۔ ہم اِس طرح نہیں تھے، ہم ایسے تھے۔ ہم...

ہم کہتے ہیں کہ میرے قبولِ اسلام کے بعد سے لے کر ہم ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم اسلام لانے سے پہلے کبھی بھائیوں کی طرح نہیں رہے صرف اسلام لانے کے بعد ہی ہم حقیقی بھائی بنے۔ اور اُس وقت مجھے پتہ بھی نہ تھا کہ کیوں۔ مجھے بس یہ ایک عجیب بات لگتی تھی۔ مگر تقریباً ایک سال بعد، اُس نے مجھے قرآن اور سیرت کی ایک کتاب کا ترجمہ بھیجا، جوکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی پر مشتمل ایک کتاب تھی، خصوصاً مارٹن لِنگز کی نبی پاک ﷺ کی زندگی پر لکھی گئی کتاب جو سب سے پرانے سورسز پر مبنی ہے۔ جب میں نے انہیں پڑھا، تو سب کچھ مجھ پر کھل گیا۔ جیسے آپ کے پاس کوئی جیگساو پزل ہو اور اُس کے کچھ حصے غائب ہوں، اور آپ کو وہ حصے مل جائیں اور پزل مکمل ہو جائے، اور سامنے مکمل تصویر آ جائے۔ اپنی زندگی میں پہلی بار، مجھے لگا کہ اب گُتھی سلجھ چکی ہے۔ یہی آخری پیغمبر ہیں، اور یہی آخری وحی ہے، اور یہی پچھلے پیغمبروں کے سلسلے سے مطابقت رکھتی ہے، یہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کی پیشگوئیوں سے بھی مطابقت رکھتی ہے جو آخری پیغمبر کی خوبیوں کے بارے میں تھیں۔ تب میں مسلمان ہو گیا۔ میرے خیال میں ایمان کی راہ،، دل سے بھی اتنی ہی وابستہ ہے جتنی کہ عقل سے۔ یہ یاد رکہیں کہ اللہ جسے چاہے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ ہدایت کیسے دیتا ہے؟ یعنی وہ دل کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور وحی کے ذریعے بھی۔ اور وحی تو ظاہر ہے ایک عقلی اور فکری عمل ہے، وحی کو پڑھنا اور اُن ثبوتوں کو سمجھنا جو اُس وحی اور مذہب کو ثابت کرتے ہیں۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ وہ احساس کیسا تھا؟ میرے خیال میں بنیادی احساس سکون کا تھا۔ یونئو، میں اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے حیران ہوتا ہوں کہ کتنے ہی لوگوں نے محسوس کیا تھا کہ میں کہیں زیادہ مطمئن اور پُرسکون ہو گیا تھا۔ دوسرے جذبات بھی تھے، مگر مجھے بس وضو کرنا یاد ہے اور بس احساس ہونا کہ سبحان اللہ ، یہ تو سکون دینے والا عمل ہے۔ یہ آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ اپنی مصروفیت کو چھوڑ کر اور وقت نکال کر وضو کریں اور یہ سوچیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں اور اِسے نماز سے پہلے اپنی پاکی سے منسوب کریں۔ اور یہ پورا عمل نہایت سکون بخش ہے۔ آپ نے جب اسلام قبولِ کیا تو آپ کی فیملی کا کیا ری ایکشن تھا؟ آپ کے ساتھ جب میں مسلمان ہوا تو میری بیوی نے، جو 14 سال سے میری بیوی تھی۔ مجھ سے طلاق لے لی۔ تو میں نے اپنی بیوی کو کھو دیا، میں نے اپنے بچے بھی کھو دیے کیونکہ عدالت نے اُسے بچے دے دیے صرف اس لیے کہ میں مسلمان تھا۔ اُنہوں نے بچے اُسے دے دیے۔ عدالت نے بچوں کا حق اُسے دے دیا۔ یہ میرے ساتھ واضح طور پر متعصب عمل تھا،کیونکہ، مثلاً، جب...

میری سابقہ بیوی نے، خلع لینے کے لیے عدالت کا رخ کیا تو جج نے طلاق کی کارروائی کا آغاز کیا، مگر ساتھ ہی مجھ پر ایک پابندی کا حکم لگا دیا، کہا کہ میں گھر کے 100 فٹ کے اندر اندر تک نہیں جا سکتا، اپنے گھر کے 100 فٹ، اپنی بیوی کے 100 فٹ، اپنے بچوں کے 100 فٹ سے قریب وغیرہ وغیرہ۔ یہ حکم دینے سے پہلے اُس نے میری بیوی سے پوچھا، ’’کیا آپ کو اِس شخص سے کوئی خطرہ ہے؟‘‘ تو اُس نے کہا، ’’نہیں۔‘‘ پھر اُس نے پوچھا، ’’کیا اِس نے کبھی تمہیں مارا ہے؟‘‘ تو اُس نے کہا، ’’نہیں۔‘‘ پھر اُس نے پوچھا، ’’کیا یہ تمہیں برا بھلا کہتا ہے؟‘‘ اُس نے کہا، ’’نہیں۔‘‘ مطلب، آپ آج بھی میری سابقہ بیوی سے پوچھ لیں تو وہ اِس حقیقت کی تصدیق کرے گی۔ پھر جج نے پوچھا کہ ’’تو پھر تم کیوں طلاق لینا چاہتی ہو؟‘‘ تو اُس نے کہا، ’’میں بس الگ ہونا چاہتی ہوں۔ ہم دونوں کے راستے الگ الگ ہیں۔ یہ اب مسلمان ہو چکا ہے، میں عیسائی ہوں،‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور جج نے کہا، جج نے یہ پابندی مجھ پر اِسی لیے لگائی کیونکہ میں مسلمان تھا۔ یہ میرا اپنا اندازہ ہے، جو میں اُس بات چیت کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں جو میری سابقہ بیوی اور جج کے درمیان ہوئی تھی، اور جیسے مجھے بتایا گیا۔اس لیے یہ میرا اندازہ ہے۔ تو اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں ایک ایسے وقت سے گزرا جب میں اپنے بچوں کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ آپ اِس بات سے اندازہ لگائیں کہ یہ عمل کتنا توہین آمیز تھا، عدالت نے یہ شرط لگائی کہ اپنے بچوں سے ملنے کے لیے میرے ساتھ ایک باڈی گارڈ رکھنا ہوگا۔ مجھے ایک باڈی گارڈ ساتھ رکھنا پڑتا تھا جو بچوں کی حفاظت کر سکے، وہ بھی مجھ سے۔ ان معاملات میں وہ باپ کو اتنی ذلت سے دوچار کرتے ہیں۔ اور ایسا یہ جاننے کے باوجود کیا گیا کہ میں نے کبھی کوئی زبانی بدکلامی، کوئی جسمانی بدسلوکی ، کبھی خوفزدہ کرنے والا رویہ، کچھ نہیں کیا۔ میری بیوی بس یہ سب شرائط مان گئی۔ آپ اُس سے اس کی وجوہات پوچھ سکتے ہیں، مگر یہ عمل واقعی اتنا ذلت آمیز تھا۔ تو، بہرحال، اِس سے بڑھ کر میں اور کیا کھوتا؟ مطلب، گھر، بیوی، بچے، کار، جائیداد، مطلب صرف گھر میں ہی، میں نے ڈھائی لاکھ ڈالرز کے آرٹ ورک، صرف آرٹ ورک ہی دیواروں پر لگا رکھے تھے۔ میرا وہ سب کچھ کھو گیا۔ طلاق کے بعد میرے پاس جو باقی بچا وہ میری SUV اور 5,000 ڈالرز تھے، اور بس۔ اِس کے علاوہ، میں نے اپنے بہت سے دوست کھو دیے۔ میری والدہ اور والد نے مجھ سے منہ موڑ لیا۔ اُنہوں نے مجھے ایک خط بھیجا لکھا تھا، ’’ہمارے پاس مت آنا، کال مت کرنا۔ ہم تم سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتے۔ ہم تمہیں جائیداد سے عاق کرتے ہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ اور یوں سب ختم ہو گیا۔ اب، اِس کہانی کی اچھی بات یہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے بعد، ہماری بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ جیسے جیسے وہ بوڑھے ہوتے گئے، ہمارے تعلقات میں اتنی بہتری آ گئی کہ دونوں نے اپنی اپنی وفات سے پہلے انفرادی طور پر کلمہ پڑھ لیا۔ میرے والدین وفات پا چکے ہیں۔ دونوں نے انفرادی طور پر کلمہ پڑھا، اور مجھے امید ہے اللہ نے اُن کا ایمان قبول کر لیا ہے۔ ٹھیک ہے اور ہم نے سنا ہے کہ آپ مدینہ منورہ میں، رہتے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ رسول اکرمﷺ کی کس بات نے آپ کو زیادہ متاثر کیا؟ علیہ الصلوٰۃ و والسلام میرے خیال میں یہ اُن کی شخصیت کی مضبوطی اور اُن کے پیغام کی سچائی کی ایک نہایت اہم گواہی ہے۔ جو لوگ نبی کریم ﷺ کی یہ کہہ کر توہین کرتے ہیں کہ معاذ اللّٰہ وہ صرف دولت یا عورتوں کے خواہشمند تھے یا کمانڈر یا بادشاہ بننا چاہتے تھے یا کچھ اور یہ وہ بات ہے جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے کیونکہ اگر وہ اسلام چھوڑنے پر راضی ہو جاتے، تو قریش تو انہیں اپنا سب سے دولت مند شخص اور اپنا بادشاہ بنانے کی پیشکش کر رہے تھے۔اور وہ اسلام کی کسی پابندی کے بغیر جتنی چاہتے بیویاں رکھ سکتے تھے۔ وہ دنیا کی خوبصورت ترین عورتوں کا سب سے بڑا حرم رکھ سکتے تھے، اور اِس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ اگر وہ اسلام کی دعوت دینا چھوڑ دیتے تو جو چاہتے پا سکتے تھے، اور جاری رکھتے تو کچھ نہ پاتے۔ آگے کا راستہ مشکلات اور آزمائش کا راستہ تھا، مگر اُنہوں نے خود کو اِسی راستے پر ثابت قدم رکھا۔ تو، یہ ایک ایسے شخص کی مثال ہے جو وحی کی سچائی اور اپنے خالق کی اطاعت و بندگی کے لیے خود کو وقف کر دیتا ہے۔ میرے لیے تو یہ بات کمال سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جو کوئی انسان کبھی حاصل نہیں کر پائے گا۔ کیا آپ نے کبھی حضورﷺ کو اپنے خواب میں دیکھا؟ اوکے، آپ نے مجھ سے بہت مشکل سوال کر ڈالا۔ ہاں، آہ، میں نے دیکھا ہے الحمدللہ ایک رات، میں نے خواب دیکھا جس میں نبی پاک ﷺ موجود تھے، میں اُن کی خدمت میں حاضر تھا اور ہم ایک پرانے طرز کے قصبے میں تھے، جیسے آپ امریکن کاؤ بوائے مووی میں دیکھتے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا، ’’پہاڑوں کی طرف چلے جاؤ۔‘‘ میں نے پہاڑوں کی جانب دیکھا تو وہ مجھے انوکھے لگے۔ میں نے ایسے پہاڑ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ آپ نے فرمایا، ’’پہاڑوں میں رہنے والوں کے پاس چلے جاؤ کیونکہ پہاڑوں میں جہاد جاری ہے۔‘‘ ہم سب سمجھتے ہیں کہ جہاد کا مطلب صرف دشمنوں سے لڑائی نہیں ہوتا ہے، اس سے مراد جدوجہد یا ذاتی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ مجھے اُن سے یہ کہنا یاد ہے، ’’ٹھیک ہے، مگر ہمارا زمانہ آپ کے زمانے سے مختلف ہے۔ اگر میرے زمانے میں مجھے کچھ ہو گیا تو میری بیوی اور بچی کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ تو نبی ﷺ نے فرمایا، ’’میں تمہاری بیوی اور بچی کا خیال رکھوں گا۔‘‘ پھر جیسے مووی کا سین بدل جاتا ہے۔ ہم اچانک پاس والی لکڑی کی عمارت کے اندر موجود تھے۔ وہ ایک جنرل اسٹور جیسا تھا۔ کاؤنٹر پر کینڈیز سے بھرے ہوئے شیشے کے بڑے بڑے برتن رکھے تھے۔ اور اُنہوں نے ایک بڑا شیشے کا برتن اٹھا لیا، وہ تقریباً اِس سائز کا تھا، کینڈیز سے بھرا ہوا، اِس طرح کی گول کینڈیز سے بھرا ہوا، اور اُنہوں نے اُسے میرے سیدھے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اور پھر اُنہوں نے گول گَم بالز سے بھرا ہواایک بڑے شیشے کا برتن اٹھا لیا، اور اُسے میرے دوسرے بازو میں دیتے ہوئے فرمایا، ’’یہ پہاڑ والوں کے پاس لے جاؤ۔‘‘ یہ خواب تھا۔جسے شاید میں نے 1999 میں دیکھا تھا۔ لہٰذا، میں نے مدینہ آنے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے سعودی عرب سے جاب کی آفر ہوئی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا اور دو سال کے کنٹریکٹ پر سعودی عرب آ گیا۔ تمام کام بخیر و خوبی مکمل ہوئے۔ اس بات کو 26 سال ہو گئے۔ میں آج بھی مدینہ میں ہوں الحمدللہ ۔ مگر خواب کے بارے میں اہم بات یہ ہے۔ ایک دن میں اپنی بالکنی میں کھڑا تھا اور احد پہاڑ کو دیکھ رہا تھا میں اسے پہلے بھی کئی بار دیکھ چکا تھا، مگر پتہ نہیں کیوں دن کا وہ وقت، سورج کی پوزیشن، پہاڑ پر روشنی کا پڑنا، ہر چیز بالکل پرفیکٹ تھی، اور پہلی بار مجھے احساس ہوا، سبحان اللہ یہ تو وہی پہاڑ ہے جو میں نے خواب میں دیکھا تھا، یعنی کہ پہاڑ والے لوگ یہی ہیں، مدینہ کے رہنے والے۔ یعنی یہی میرا جہاد یا میری جدوجہد ہے۔ اب، یہ تعلق یہیں ختم نہیں ہوتا کیونکہ میرا دل اِس خطّے سے جڑا ہوا ہے، میری بیٹی کی عمر 27 سال ہے۔ ایک وقت ایسا آیا تھا جب اُسے کالج جانا پڑا۔ لہٰذا میں...

میں اپنی جاب چھوڑنے کے لیے تیار تھا تاکہ اپنی فیملی کے ساتھ واپس ویسٹ میں جا سکوں اور میری بیٹی مغربی تعلیم حاصل کر سکے۔ مگر میری بیوی نے مجھے میرا خواب یاد دلایا کہ میری اصل جگہ یہی ہے۔ اور وہ خود میری بیٹی کے ساتھ امریکہ چلی گئی۔ اچھا، میری بیوی فلسطینی ہے۔ وہ میری بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے امریکہ جا رہی تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں ہی امریکی طور طریقوں کی عادی ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، ماحول کو سمجھنا، اور معاشرتی اتار چڑھاؤ کو سیکھ رہی تھیں، میری بیٹی کالج کی تعلیم پا رہی تھی اور میری بیوی اُس کی تعلیم اور دوسرے معاملات کو سنبھالنے میں مدد دے رہی تھی۔ اور ایک دن جب وہ امریکہ میں تھی، تو ایک چیز جو اُسے بہت مشکل لگتی تھی وہ تھا میری بیٹی کے ساتھ روزانہ Uber میں کالج جانا اور پھر Uber میں واپس آنا۔ اور پھر دن کے اختتام پر،Uber اُسے پِک کرتی اور انہیں واپس لے آتی۔ Ubers کے ذریعے ہونے والے سفر ہمیشہ اُسے فکر میں مبتلا رکھتے تھے۔ ایک عورت کا کسی اجنبی آدمی کے ساتھ کار میں اکیلے ہونا اور اسی طرح کی فکر۔ پھر ایک دن اُسے ایک خواب آیا جس میں اُس نے دیکھا کہ وہ Uber کار میں بیٹھنے کے لیے Uber کار کی طرف جا رہی ہے، تو ڈرائیور کار سے اترا اور اُس نے میری بیوی کے لیے دروازہ کھولا۔ اور وہ ڈرائیور...

سوری۔ وہ ڈرائیور جس نے اُس کے لیے دروازہ کھولا تھا وہ محمد ﷺ تھے۔ تو پھر دن ڈھلے، یا شاید فوراً ہی، مجھے یاد نہیں آ رہا، مگر میری بیوی نے مجھے فون کیا اور کہنے لگی، “آپ کا خواب پورا ہو گیا ہے۔” میں نے کہا ، “کیا مطلب؟” کہنے لگی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی بیوی اور بیٹی کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ یہ خواب ہی تھا جس نے اُسے حوصلہ دیا کہ وہ سارے خوف دور کرکے اپنے کام کرتی رہی۔ الحمدللہ واؤ، کتنی خوبصورت کہانی ہے۔ دو الگ الگ خواب اور ایک خواب کی تکمیل، دوسرے خواب میں ہونا، بہت اثر انگیز واقعہ ہے۔ میں آپ سے ایک اضافی سوال کرنا چاہتا ہوں۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ میں بھی ایک ڈاکٹر ہوں، مگر میں جنرل پریکٹیشنر ہوں۔ انسانی جسم میں سب سے حیرت انگیز چیز کونسی ہے، آپ کی فیلڈ کے لحاظ سے، جو آپ کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ یہ خدا کا شاہکار ہے، دوسرے شاہکاروں کی طرح؟ یعنی انسانی جسم میں سب سے زیادہ کونسی چیز آپ کو حیران کرتی ہے، خصوصاً آنکھ میں؟ مسلمان ہونے سے پہلے،ایک چیز جس نے مجھے روحانی تلاش کی طرف مائل کیا وہ یہ تھی کہ میں ایسے کچھ لوگوں سے ملا جنہیں موت کے قریب کا تجربہ ہوا تھا۔ موت کے قریب جانے والے کسی شخص کے تجربے میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جسم سے نکل جاتا ہےاور اپنے جسم کو اوپر سے دیکھتا ہے، اور پھر جیسے ہی اوپر اٹھتا ہے تو اوپر سے پورا منظر دیکھتا ہے، انتہائی بیدار ذہن کے ساتھ، لوگوں کی باتوں کو سن سکتا ہے، اور دیکھ سکتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اُس سے کافی فاصلے پر ہوں، جیسے کہ ایک عورت جسے موت کے قریب کا ایک تجربہ پیش آیا تھا، وہ پیدل چل رہی تھی کہ ایک کار نے اُسے ٹکر مار دی، اور اُسے اتنی زوردار ٹکر لگی کہ اُس کا سینہ پھٹ گیا، جس میں سے دل اور پھیپھڑے نظر آ رہے تھے۔ پیرامیڈِکس نے موقع پر ہی اُسے مُردہ قرار دے دیا تھا، مگر وہ بچ گئی۔ اُس نے بتایا کہ وہ بادلوں کی اونچائی تک اوپر چلی گئی تھی، مگر اُس وقت اتنی دور ہونے کے باوجود وہ ہر چیز کو تفصیل سے دیکھ سکتی تھی، ہر بات سن سکتی تھی کہ کیا کہا جا رہا ہے، اور اُس کے جسم کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، وہ کئی بلاکس دور کے لوگوں کو بھی دیکھ سکتی تھی جنہوں نے ایکسیڈنٹ دیکھا تھااور اُن کی باتیں سن سکتی تھی۔ اہ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے، میرے پاس اس کی کوئی سائنسی وضاحت نہیں، مگر میری اس پہلو میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اُس وقت، لندن میں ایک ایسوسی ایشن تھی جس نے 2,000 کے قریب ایسے موت کا سامنا کرنے والے اور جسم سے باہر نکلنے کے تجربات جمع کیے تھے۔ تو اِنہی باتوں میں سے ایک چیز جس نے مجھے روحانی تلاش پر لگایا، یہ شعور تھا کہ ہمارے جسموں میں محض مادی وجود سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔ اور وہ صرف روح ہو سکتی ہے۔ اب،مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگ اِسے مانیں گے، اور کچھ نہیں۔ مگر شاید...

میں یہی کہوں گا، سب سے پہلے تو آپ کے سوال کا جواب دے دوں ہمارے جسموں میں سب سے معجزاتی، حیرت انگیز، خوبصورت چیز ہماری روح ہے، ہماری soul ہے۔ یا مجھے دوسرا نام دینے دیں، زندگی۔ یہ نہ صرف ہم میں موجود سب سے خوبصورت چیز اور ہمیں زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے، بلکہ دراصل، یہ ایتھی ازم کی نفی بھی کرتی ہے۔ کیونکہ ایتھی ازم بِگ بینگ اور قدرتی انتخاب کے تحت ارتقاء کے عمل کے ذریعے یہ وضاحت کرتا ہے کہ اور یہ بھی وہ جزوی بیان کر سکتے ہیں، مکمل طور پر نہیں، میں پھر کبھی اس پر بات کر سکتا ہوں- وہ جزوی وضاحت کرتے ہیں کہ ہم کیسے وجود میں آئے۔ مگر ایک بات جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے کہ زندگی کہاں سے آئی، رائٹ؟ مطلب، کسی چیز کا وجود، وہ ابتدائی خلیہ یا ابتدائی جاندار کیسے بنا جس سے ہر چیز ارتقاء پذیر ہوئی، اگر آپ...

اگر آپ کا اِس تصور پر ایمان ہے، تو اسے کس نے زندگی دی؟ اللہ ہمیں زندگی کے ذریعے چیلنج کرتا ہے۔ وہ نہ ماننے والوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہتا ہے،’’ایک مُردہ جسم کو لو، رائٹ؟ اور اُسے دوبارہ زندہ کر دو۔اس میں روح دوبارہ ڈال دو۔ اسے روح لوٹا کر زندہ کر دو۔‘‘ اور انسانوں نے کوشش بھی کی ہے۔انہوں نے فرینکنسٹائن قسم کے تجربات کیے۔ مُردہ جانوروں کو لے کر فرینکنسٹائن کے تحت ان کے اعضاء جوڑنے کی کوشش کی، مگر وہ اُنہیں زندہ نہ کر سکے۔ میں نے سنا ہے کہ روس میں- پتہ نہیں یہ سچ ہے یا نہیں- مگر میں نے سنا ہے کہ اُنہوں نے یہی کام انسانوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ آپ مردے کو زندہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا وہی بات کہ زندگی کہاں سے شروع ہوئی؟