Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

ملحد خاندان میں پیدا ہوئے اور اسلام قبول کر لیا دلچسپ کہانی

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

آپ نے پہلی مرتبہ اسلام کے بارے میں کہاں سے سنا؟ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے کیسا محسوس کیا؟ اسلام کے بارے میں آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ سب سے مشکل کردار میرے والد تھے کیونکہ میرے والد ، ملحد کے نقطہ نظر سے انتہا پسند تھے چنانچہ میں نے اپنے والد کو یہ بتانے کے لیے ایک سال کا انتظار کیا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں اوروہ میری بے عزتی کر رہے تھے، اور چیخ رہےتھے کہ "تم مسلمانوں کی وجہ سے یہاں جنگ لگی ہوئی ہے" ان کے خیا ل میں، اگر آپ بائبل کی پیروی کریں گے، تو آپ دہشت گردانہ حملے نہیں کریں گے، اور آپ یہ پاگل پن کے کام نہیں کریں گے جو آپ ابھی کر رہے ہیں۔ میرا نام سٹیجن ہے۔ میں کے شہر برسلز سے آیا ہوں، اور میں ترکی میں رہائش پذیر ہوں اور میں اریسموس ایکسچینج کا طالب علم ہوں کیونکہ میں

قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میری عمر 23 سال ہے اور الحمدللہ مجھے اسلام قبول کیے ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں۔ آپ نے کیسا محسوس کیا جب آپ نے اسلام قبول کیا؟ سبحان اللہ جب آپ سوال کرتے ہیں ، تو مجھے اس کے بارے میں دوبارہ سے سوچنا ہو گا۔ آپ جانتے ہیں کہ جب صبح ہوتی ہے، تو باہر سردی ہوتی ہے اور پھر بھی وہاں کچھ دھوپ نکلی ہوتی ہے اور آپ اپنی جِلد کو دھوپ میں رکھتے ہیں، لیکن سردی موجود ہے۔ لیکن پھر بھی آپ سورج کی گرمی کو محسوس کر سکتے ہیں، ٹھیک ہے؟ کیونکہ ہر چیز ٹھنڈی ہے۔ چونکہ سورج ایک خاص چیز کی طرح ہے اس لیے آپ اپنی جِلد پر گرمی محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا ہی تھا، جب میں نے اتنی محنت کی تو میرا دل کیسا تھا؟ اور میں مزاق نہیں کر رہا۔ یہ میرا حقیقی احساس ہے۔ وللہ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، میں ان

احساسات کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ احساس خالص ترین احساسات میں سے ایک ہے جو آپ نے کبھی محسوس کیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کے ساتھ کچھ ہوتا ہے جب آپ یہ جملے کہہ رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے کیسا محسوس کیا جب آپ نے پہلی مرتبہ نماز ادا کی؟ پہلی مرتبہ جب میں نے نماز ادا کی۔ میں واقعی نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا تھا کیونکہ میرے پاس علم نہیں تھا کہ یہ اتنی ضروری کیوں ہے، اور مجھے اپنی نمازیں کیوں ادا کرنی چاہئیں۔ میرا مطلب ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اللہ (عزوجل) موجود ہیں اور اللہ (عزوجل) ہی واحد ذات ہے جس کی ہمیں عبادت کرنی چاہیے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ نماز کی کیا اہمیت ہے۔ اس لیے جب میں پہلی بار نماز پڑھ رہا تھا، تو یہ یوگا کرنے کی طرح تھا۔ آپ نے دیکھا، میں خود کو زیادہ آرام دہ محسوس

کر رہا تھا۔ لیکن بیشک ، وقت کے ساتھ ساتھ جب مجھے پتا چلا کہ کیوں اور کیسے سب کچھ لگایا گیا تھا، تو یہ اور زیادہ ہو گیا آپ جانتے ہیں، جو کچھ آپ کو نظر آتا ہے کیونکہ، آپ جانتے ہیں یہ صرف آپ کو آرام ہی نہیں دے گی، بلکہ یہ ایک قسم کا امن بھی فراہم کرتی ہے جو کہ آپ کسی اور چیز میں تلاش نہیں کر سکتے۔ آپ دیکھتے ہیں، بعض اوقات اور خاص طور پر ترکی میں میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں، میں سگریٹ پیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ کیوں پیتا ہوں۔ بھائی ، بھائی یہ مجھے بہت زیادہ سکون دیتی ہے۔ اور میرے اپنے خیال کے مطابق بھائی، اگرآپ نماز ادا کریں گے تو یہ ہزاروں سگریٹ سے بہتر ہے جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ یہ نہیں جانتے لیکن الحمدللہ میں جانتا ہوں۔ آپ نے پہلی مرتبہ اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟ اس کا واقعی

آسان جواب ہے۔ میں جوان تھا اور 11/9 کا واقعہ ہواتھا دو ٹاورز، القائدہ اور اسامہ بن لادن۔ یہ پہلے دو الفاظ تھے جن کو میں نے اسلام کے ساتھ منسلک کیا تھا: لہٰذا یہ بالکل ایک دروازے کی طرح تھا جس کے ذریعےاسلام ہماری زندگی میں اور پوری بیلجیم سوسائٹی کے اندر داخل ہوا۔ آپ نے اسلام کا انتخاب کیوں کیا اور کسی اور مذہب کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ آپ جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ میں نے اسلام کا انتخاب کیا کیونکہ اسلام کی طرف راغب ہونا، یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہدایت ہے۔ لیکن الحمدللہ، یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ میں اسلام میں داخل ہو گیا۔ اور خاص طور پر میری کہانی تھوڑی سی منفرد ہے کیونکہ میں کسی چیز پر یقین نہیں کرتا تھا۔ میں مکمل طور پر ملحد تھا۔ لیکن کس وجہ سے اسلام میرے لیے ایک سچا مذہب ہے کیونکہ،یقیناً

، ہمارے پاس کچھ ہے جسے اللہ کی وحدانیت یعنی"توحید" کہا جاتا ہے۔ اور اسلام کے بارے میں تصور بہت واضح ہے۔ اس لیے اسلام میرے لیے سب سے زیادہ خالص مذہب ہے، کیونکہ یہ اس ذریعے کے بالکل قریب ہے جہاں سے یہ آیا ہے۔ آپ کے ارد گرد کے لوگوں نے آپ کے مسلمان ہونے کے بعد کیسا ردِ عمل دیا؟ آپ کے خاندان کا ردِعمل کیسا تھا؟ تھوڑا سا مضحکہ خیز تھا، کیونکہ میری ماں، بلاشبہ، ایک رحمت ہے، ماں کی اپنے بچوں کے لیے رحمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ وہ پہلی فرد تھیں جن کو میں یہ سب بتانا چاہتا تھا۔حتیٰ کہ ایک دن کے بعد ہی میں نے ان کو براہِ راست بغیر کسی شک و شبہ کے سب کچھ بتا دیا۔ میں نے کہا ،ماں، مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے ، کیا غلط ہوا ہے؟ میں نے کہا ، میں مسلمان ہوں۔ اور یہ سن کر ان کو

اچھا لگا کیونکہ میں اپنی ماں کو جانتا ہوں۔ وہ واقعی ایک کھُلے ذہن کی عورت ہیں۔ وہ مختلف پسِ منظرکے لوگوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ وہ بیرونِ ملک میں بھی مطالعہ کرنے لگی تھیں۔ اس لیے میں جانتا ہوں کہ وہ دنیا بھر کے لحاظ سے وسیع نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ اور انہوں نے بہت نرمی سے کہا، جیسا کہ، ٹھیک ہے، آپ جانتے ہو کہ میں اسلام پر یقین نہیں رکھتی۔ میں اسے قبول نہیں کرتی۔ لیکن تم ہمیشہ میرے بیٹے رہو گے اور تمہارا عقیدہ کچھ بھی ہو میں تم سےہمیشہ پیار کرتی رہوں گی۔ چنانچہ 50 فیصد امتحان پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا۔ لیکن سب سے مشکل کردار میرے والد تھے، کیونکہ میرے والد ملحد کے نقطہ نظر سے شدت پسند تھے۔ صرف اسلام کے خلاف ہی نہیں، بلکہ عام طور پر تمام مذاہب کے خلاف تھے۔ وہ واقعی اس کو پسند نہیں کرتے۔ اس لیے میں نے

اپنے والد کو یہ بتانے کے لیے ایک سال کا انتظار کیا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں کیونکہ میں اپنے آپ کو جانتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب میں نے مذہب تبدیل کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ سیریا میں آئی ایس آئی ایس کی بغاوت اور مسائل تھے۔ تو میں جانتا تھا کہ وہ خوفزدہ ہونے والے تھے۔ تو ہمیں یہ سب ان کو بتانے کے لیے ایک سال لگا، اور اس وقت دن کے دو بجے تھے اور ہم چھٹیوں پر فرانس جا رہے تھے۔ اور مجھے یاد ہے کہ وہ لمحہ بہت اچھا تھا کیونکہ میں اپنے والد کے ساتھ آگے والی سیٹ پر تھا، میری ماں اور میری بہن پچھلی سیٹ پر تھیں۔ اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔ تو انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا کہ آپ کو کیا پریشانی ہے؟ کیا آپ ہم جنس پرست ہیں یا کچھ اور ہیں؟ میں نے کہا ، نہیں، میں ہم جنس پرست نہیں ہوں۔ ٹھیک

ہے، یہ مسئلہ نہیں ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو پھر کیا پریشانی ہے۔ تو میں نے کہا،" ڈیڈی آپ جانتے ہیں کہ آپ کو میرے کمرے میں ایک قرآن ملا اور نماز پڑھنے کے لیے میرے کمرے میں ایک قالین بھی ملا۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ چیزیں میرے دوستوں کی ہیں، لیکن اصل میں ان چیزوں کا تعلق مجھ سے ہے۔ تو انہوں نے دوبارہ مجھے دیکھا اور کہا، کیا تم مسلمان ہو؟ اور میں ان سے کہتے ہوئے بہت ڈر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ حیرت زدہ ہونے والے تھے اور ناراض بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن اسی وقت ، میرا ایمان میرے دل میں بہت بڑھ گیا اور میرا اسلام پر یقین اور پختہ ہو گیا اور میں نے کہا، کہ آپ جانتے ہیں، کہ میرے ساتھ کیا کچھ ہوگا، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ اللہ عزوجل کا منصوبہ میرے خوابوں سے بہتر ہے۔ لیکن اللہ عزوجل فرماتے

ہیں اگر تم مجھ پر بھروسہ کرو اور مجھ سے ڈرتے رہو، تو میں تمہیں ایسا راستہ دکھاؤں گا جو تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو یہاں تک کہ اگر آپ مجھے گھر سے باہر بھی نکال دیں گے اور یا پھر خاندان سے نکال دیں گے۔ میں جانتا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہونے جا رہا تھا۔ تو میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ دس سیکنڈ کے لیے، انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا۔ دس سیکنڈ کے بعد۔ وہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے، اور چیخنا اور بے عزتی کرنا شروع کر دی۔ یہ تم نے کیا کیا؟ تم مسلمان کیسے ہو سکتے ہو؟ ہم بیلجیم کے لوگ ہیں، اور فلیمش لوگ ہیں۔ ہم مسلمان نہیں ہیں۔ تم عرب کے نہیں ہو سکتے۔ آپ نے دیکھا کہ انہوں نے عرب اور مسلمانوں کو ضم کر دیا۔ اور یہ مضحکہ خیز تھا کیونکہ انہوں نے زیادہ وقت کے لیے

مجھ سے بات نہیں کی۔ اور پھر میری ماں، انہوں نے واقعی خوبصورت بات کی۔ انہوں نے میرے والد سے کہا، دیکھیں، آپ ایک ملحد ہیں۔ اور ملحد لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن اگر میرے بیٹے نے مذہب بدل لیا ہے، تو آپ اس سے مزید کوئی بات نہیں کرتے۔ اس لیے میں آپ سے اس وقت تک بات نہیں کروں گی جب تک آپ ہمارے بیٹے سے دوبارہ باتیں شروع نہیں کریں گے۔ پانچ منٹ کے بعد وہ میری ماں سے دوبارہ مخاطب ہوئے تو یقیناً دوستو وہ ردِ عمل سب سے اہم ردِ عمل کی طرح تھا۔ میرا مطلب ہے کہ کچھ لوگوں نے مجھ سے دوری اختیار کر لی۔ بعد میں، وہ قریب ہو گئے کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ میرے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور نہ ہی میں پاگل پن کے کام اور دھماکے کر رہا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں بھلائی کی خاطر

بدل گیا ہوں۔ چنانچہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں سب سے پہلا دن تھوڑا بہت عجیب تھا ۔ انہوں نے دیکھنے کے لیے دوری اختیار کر لی تھی۔ لیکن الحمدللہ اب سب کچھ اچھا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حقیقت میں، حتیٰ کہ وہ اب اس کی تعریف کرتے ہیں۔ تو جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ آپ کو نماز پڑھنی پڑتی ہے اور روزہ رکھنا پڑتا ہے اور حج پر بھی جانا ہوتا ہے۔ تو کیا ان میں سے کوئی بھی چیز آپ کو مشکل دکھائی دیتی ہے؟ جی ہاں، شروع میں ایسا ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک نئے مسلمان کے طور پر یہ مشکل دکھائی دیتی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ مذہب تبدیل کرنے والے بہت سے بھائی اور بہنیں اس مسئلہ کا سامنا کریں گے، آپ بالکل اکیلے ہوتے ہیں لیکن مختلف لوگ اسلام کے بارے میں آپ کی رہنمائی کریں گے۔ وہ کہیں گے،

کہ میں آپ کو ایک کتاب دیتا ہوں، یہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ اگر آپ کچھ جانتے ہیں، تو آپ یوٹیوب ویڈیو بنا سکتے ہیں، لیکن ایک دفعہ جب آپ مسلمان ہو جاتے ہیں، تو بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ، ٹھیک ہے، الحمدللہ وہ مسلمان ہے اور ہم میں سے ایک ہے۔ یہ رک جاتا ہے۔ لیکن یہ سب سے اہم نکتہ ہے، کیونکہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں، کہ سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے؟ یہ علم ہے اگر آپ کے پاس علم نہیں ہے تو اس کے بغیر آپ اللہ عزوجل کی عبادت نہیں کر سکتے۔ اس لیے اگر آپ کے پاس کوئی شخص نہیں ہے جو آپ کو علم دے، تو آپ کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں۔ یا تو آپ کے ارد گرد کے لوگ بہت اچھے ہوں۔ اور یا پھر اللہ عزوجل کی ہدایت ہو تو پھر آپ اچھی سمت میں جائیں گے جبکہ زیادہ تر لوگ برائی کی طرف جانے کی وجہ سے یا

زیادہ مشق نہ کرنے کی وجہ سے بری سمت میں چلے جائیں گے۔ اور وہ اس جگہ پر واپس چلے جائیں گے جہاں وہ پہلے استعمال کیے جاتے تھے۔ تو الحمدللہ میرے پاس یہ سب کچھ موجود تھا، شروعات میں میں بہت زیادہ مشق نہیں کر رہا تھا لیکن الحمدللہ میرے ارد گرد اچھا ماحول تھا اور شروع میں مشق کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ میں ہمیشہ اپنے طور پر سوچتا تھا اور لوگوں کو پہچانتا تھا اور انشااللہ میں بعد میں یہ سب کام کروں گا۔ ایک ہفتے کے اندر ایک ہفتے کے اندر میں یہ سب کروں گا اور میں دعا کروں گا ایک ہفتے کے اندر میں شراب پینا چھوڑ دوں گا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کہ شیطان کی چال ہے کہ ہم خود سے گناہ نہ کریں، بلکہ شیطان کی چال یہ ہے کہ ہم وقت کو ضائع کرتے رہیں، کیونکہ وقت ضائع کرنے کی وجہ سے ہم ان چیزوں کو کھو دیں گے، جبکہ عصر

کے وقت کے بارے میں ایک صورت بھی ہے۔ آپ دیکھئے لہٰذا میں نے پانچ وقت کی نماز پڑھنا شروع کر دی، مثال کے طور پر، حقیقی معنوں میں ایک چیلنج کے طور پر پڑھنی شروع کر دی۔ میں نے ایک ہفتے میں ایک وقت کی نماز پڑھنا شروع کی، دوسرے ہفتےمیں دو وقت کی ،تیسرے ہفتے میں تین وقت کی اور پھر چوتھے ہفتے کے بعد ۔۔۔ میں ایک دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھ رہا تھا، یہ میری روح کے لیے آکسیجن کی طرح تھی۔ میں اب سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں نماز کے بغیر کیسے رہوں گا۔ یہ نا ممکن ہے۔ اور بالکل اسی طرح رمضان بھی ہے۔ جب میں نے پہلی بار روزے رکھے، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں خود سے یہ سوچ رہا تھا، کہ یہ مسلمان پاگل ہیں۔ وہ یہ کیسے کرتے ہیں؟ ایک دن بعد ہی میں یہ شکایت کر رہا تھا کہ، میری چائے کہاں ہے؟ میرے بیلجیم فرائز کہاں ہیں؟ لیکن

الحمدللہ، اگر آپ واقعی اس کے تصور کو سمجھتے ہیں اور آپ کی نیت بہت اچھی ہے، تو سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ کیا آپ اپنی پرانی زندگی کے مقابلے میں زیادہ پُر امن ہیں اور کیوں ہیں؟ اوہ، یقینی طور پر ایسا ہی ہے۔ میں واقعی زیادہ پُر امن ہو گیا ہوں کیونکہ اسلام میں ہمارے پاس وہ چیز ہے جسے ہم مقدر کہتے ہیں۔ یہ تقدیر کی طرح ہے۔ اور اللہ عزوجل قرآن کی سورہ البقرہ میں فرماتے ہیں، یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی چیز سے پیار ہو اور وہ چیز آپ کے لیے بری ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی چیز سے نفرت ہو اور وہ چیز آپ کے لیے اچھی ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اس لیے ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا منصوبہ ہمارے خوابوں سے بہت بہتر ہے۔ اور ہمیں

یہ سب کچھ قبول کرنا ہو گا کہ سب کچھ اس کی منظوری سےہوتا ہے۔ ہم ہمیشہ الحمدللہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ہمیں اپنے مقدر کو قبول کرنا چاہیے، چاہے وہ بُرا ہی کیوں نہ ہو، الحمدللہ۔ حتیٰ کہ کوئی مر بھی جائے، ٹھیک ہے، آپ جانتے ہیں، کہ میں اداس ہو جاؤں گا۔ میرا دل ٹوٹ جائے گا۔ لیکن الحمدللہ آخر میں کوئی مَر جاتا ہے۔ اور کوئی پیدا ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں ، کہ یہ زندگی کا طریقہ کار ہے اور ہر چیز کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ میں سیکھتا ہوں کہ اپنی زندگی کی اچھی اور بری چیزوں کو کیسے قبول کرتا ہوں اور میں ان میں سے کیسے گزرتا ہوں۔ اس کے علاوہ آپ کا نقطہ نظر بھی ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ آپ بہت سی چیزوں کو بہت عزت دیتے ہیں۔ یقین کریں کہ یہ واقعی بہت مختلف ہے۔ آپ مسلمان

ہونے سے پہلے اسلام کے بارے میں کیسےخیالات رکھتے تھے؟ ایسا نہیں تھا کہ میں نسل پرستی کی حد تک اسلام کے خلاف تھا۔ جیسا کہ اب مغرب میں ہو رہا ہے اور ایسا بھی نہیں تھا کہ میں اسلام کے بارے میں برا خیال رکھتا تھا۔ میرے لیے اسلام واقعی ایک عجیب چیز تھی۔ جیسا کہ، اگر میں آپ سے کہوں، ہندومت، یہ ایسا ہی ہے ، ٹھیک ہے، آپ جانتے ہیں کہ ہندو مت کیا ہے، لیکن آپ کو اس کے بارے میں کوئی واضح تصور نہیں ہو گا۔ اس لیے اسلام کے اندر یہ بہت زیادہ دلچسپ نہیں تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی، مجھے بھی اس کی اتنی پرواہ نہیں تھی۔ یہ کوئی ایسی چیز تھی جس سے میں بہت دور تھا۔ تو میں کبھی یہ نہیں سوچوں گا، آپ جانتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے عام طور پر آپ کا مذہب ہے، میں نےیہ کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ میں ایمان لے آؤں گا کیونکہ میں

واقعی ملحد تھا۔ لیکن کیا آپ کو کوئی تعصب تھا؟ میرا مطلب ہے، کہ یقیناً، آپ میڈیا کو دیکھتے ہیں اور اسلام کا شمار دنیا کے بہترین مذہبی نظریات میں نہیں ہوتاہے۔ اگر ہم ایمانداری سے بات کریں ، تو ہم روزانہ اس طرح کی چیزوں کے متعلق جیسا کہ القاعدہ، اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ تو میرے پاس اسلام کے بارے جو تھوڑا سا مواد تھا وہ برا ہی تھا، لیکن اسی وقت ، یہ بھی اس کو متاثر کرے گا۔ میرے خیال میں اس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ یہ براہِ راست اسلام کے متعلق نہیں تھا، کیونکہ بیلجیم میں، ہم مسلمانوں کو خاص طور پر سماجی انڈر کلاس لوگوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ہمیں صرف مقصد بننا ہوتا ہے، اور مسلمانوں کی ساکھ تو ویسے بھی بری ہے۔ میرا مطلب ہے کہ مسلمان ہی زیادہ تر مجرمانہ

معاملات میں ملوث ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان کو معاشرے کی طرف سے واقعی بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یورپ میں زیادہ تر لوگ اسلام سے دور رہتے ہیں کیونکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے اور وہ اسلامک کلچر کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔ آپ ایک عیسائی کے طور پر برقرار کیوں نہیں رہے اور آپ نے کچھ تحقیق کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ تو جب میں 14 سے 15 سال کا تھا، اصل میں چھوٹی عمر سے ہی مجھے اقتباس میں واقعی دلچسپی تھی، مگر ایمان میں دلچسپی نہیں تھی، لیکن اس سوال میں تھی کہ ہم کیوں زندہ رہتے ہیں؟ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ اور جب میں 14، 15 سال کا تھا، چونکہ میں ہائی سکول میں لاطینی پڑھ رہا تھا، اس لیے میں نے امینویل اور کرکی گارڈ جیسے بڑے یورپین لوگوں کے متعلق فلاسفی کی کتابوں کو پڑھنا

شروع کیا اور انہوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔بھی لہٰذا میں واقعی ایک قائل ملحد کی طرح تھا، یقیناً، اس لیے بھی کہ میرے والدین نے مجھے ایک ملحد کے طور پر تعلیم دی تھی۔ میرا مطلب ہے، کہ یہ میرے لیے ایسا ہی تھا، کہ یہاں کوئی بھی عقیدہ یا مذہب بُرا نہیں تھا۔ اس طرح کے دلائل آپ ترکی میں بھی دیکھتے ہیں، بعض اوقات آپ سنتے ہیں کہ ایمان لانے کی وجہ سے آپ کو برا مانا جاتا ہے، کیونکہ ایمان رکھنے والے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، ہم غریب ہیں، خواہ کوئی بھی ہو۔ اور میں نے خود سے یہ سوچا، کہ اگر مجھے سچائی پسند ہے، اگر میں واقعی الحاد کے ساتھ درست ہوں، تو میں دنیا کے کسی بھی دوسرے شخص کو ملحد بننے پر راضی کر سکتا ہوں۔ میں اپنے اسکول میں گیا اور اپنے سکول کے اسلامی استاد کے پاس گیا، اورمیں نے اسے بتایا کہ میں کیا

کرنا چاہتا ہوں۔ میں ان کی اسلامی کلاسوں میں شامل ہونا چاہتا تھا، لیکن ظاہر ہے، اسلام کی پیروی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ لوگوں سے اسلام کے بارے میں بحث کرنا چاہتا تھا۔ اور یہ مضحکہ خیز تھا کیونکہ دو ہفتوں کے بعد، انہوں نے مجھے کلاس سے باہر پھینک دیا۔ آپ دیکھئے۔ تو وہ میرے پاس آیا اور کہا، جیسا کہ، آپ جانتے ہیں، میں واقعی آپ کو پسند کرتا ہوں آپ ایک اچھے لڑکے ہو، لیکن اب آپ میری کلاسوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ تو میں نے ایک طرح سے سوچا ، کہ کیا ہو ہے۔ دراصل، لڑکیوں کے والدین میں سے ایک نے ان کو بلایا اور انہوں نے استاد سے کہا، کہ میں اپنی لڑکی کو اسلامی کلاسوں میں بھیجتا ہوں تاکہ وہ اسلام کے بارے میں مزید علم حاصل کرے اور وہ تقریباً ایک کافر کی طرح ہو رہی ہے، کیونکہ لڑکی کو ہماری اس گفتگو کے بارے

میں 00:12:28,380 --> 00:12:29,915 بہت سے شبہات تھے جو گفتگو ہم کر چکے تھے۔ اور میں نے اپنے آپ کو تھوڑا سا مغرور محسوس کیا۔ میرے اندر کِبر (انا) تھا، جب آپ بہت فخر محسوس کرتے ہیں، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سب سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ لہٰذا یہ ایک خطرناک چیز ہے، کیونکہ جب آپ کے اندر انا ہوتی ہے تو آپ لوگوں کے لیے اور اپنی غلطیوں کے لیے بالکل اندھوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اور اس کے دو ہفتے کے بعد، میں نے اپنے کراس بینڈ کو موڑ دیا اور میں بہت افسردہ تھا۔ اور جب آپ کو صدمہ یا ڈپریشن کی طرح کا کچھ ہوتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے، پھرآپ ان سب سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کا دل ٹوٹ چکا ہے۔ آپ اب مزید کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ آپ صرف اپنے کمرے میں بیٹھنا چاہتے ہیں۔ اور

چاہتے ہیں کہ کوئی بھی پاس نہ آئے، آپ جانتے ہیں، کوئی بھی آپ کو تنگ نہ کرے، حتیٰ کہ آپ کی ماں بھی، اگر یہ آپ خودہو۔ اگر وہ آتی ہے اور کچھ پوچھتی ہے تو میں کچھ وقت کے لیے دور چلا گیا۔ اور میں بولیویا چلا گیا، جو کہ جنوبی امریکہ میں واقع ایک ملک ہے۔ اور بولیویا جنوبی امریکہ کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ اور میں یتیم بچوں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ میں نے ایک انسانی فلاح و بہبود کا کام کیا۔ جب میں بولیویا میں تھا۔ یہ ان یتیم بچوں کی وجہ سے بہت خوبصورت تھا، وہ شاید پانچ، یا چھ سال کے تھے، اور وہ ہمارے مقابلے میں زیادہ خوش تھے جب ہم ان دنوں میں اکٹھے رہا کرتے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں شکایت کرتا تھا، کہ میرا وائی فائی کہاں ہے؟ بجلی کہاں ہے؟ میرا آئی پیڈ کیوں نہیں کام کرتا۔ اور وہ لڑکے، وہ چھوٹے کاغذ

کے ساتھ کھیل رہے تھے اور وہ بہت خوش تھے۔ اور یہ بات نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ لوگ ایمان لے آتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن ان لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن بھی تھے۔ ان کے پاس ریپرز بھی ہیں، مشہور فٹ بال کے کھلاڑی بھی ہیں اور بڑی کاریں اور خوبصورت خواتین بھی ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہوا؟ اور میں نے یہ بات ان یتیم بچوں میں سے ایک سے پوچھی۔ اور اس نے مجھے بتایا، آپ جانتے ہیں، کہ جواب بہت آسان تھا۔ اس نے کہا کہ خدا نے میرے والد کو دور کر دیا۔ اس نے میری ماں کو بھی مجھ سے دور کر دیا تا کہ میں صرف خدا کے ساتھ رہ سکوں۔ اور میں اس کا یہ جواب سن کر بہت حیران ہوا، آپ جانتے ہیں، اور خاص طور ہر ایک یتیم بچہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زندگی کی ایک چیز جس نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر

کیا وہ ایک یتیم بچہ ہے، کیونکہ ہمارے نبی ( ﷺ) بھی یتیم تھے۔ اور میں نے سوچنا شروع کر دیا، کیونکہ بیلجیم میں، مذہب کو ہمیشہ برا سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ یہودی چور ہیں۔ اور عیسائی زانی ہیں۔ اور میں نے خود سے سوچا، کہ نہیں، جنوبی امریکہ میں تودین کی وجہ سے مذہب ایک واقعی خوبصورت چیز ہے۔ تمام لوگ مذہب کی وجہ سے اکٹھے ہیں۔ ایک قسم کے معنی میں وہ اب بھی جی سکتے ہیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ چنانچہ میں نے بائبل پڑھنا شروع کر دی، اور مجھے لگتا ہے کہ چھ ماہ کے لیے میں کیتھولک مذہب کے لیے وقف ہو گیا تھا۔ تو میں نے چرچ میں بھی جانا شروع کر دیا۔ اور کرسمس پر، ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ یسوع مسیح کی پیدائش ہے۔ تو آپ آدھی رات کو جاتے ہیں اور پادری کہتا ہے، کہ عیسائیوں، آپ کو خداوند کی طرف سے حفاظت

میں آنا پڑے گا۔ ہم نے خدا کے بیٹے یسوع مسیح کو روح القدس کے ساتھ خدا کے حکم پر خدا کے پاس بھیجا ہے۔ تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ خدا کون ہے، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ توحید ہمارے مذہب کی بنیاد ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارا خالق کون ہے۔ تو ان تینوں کا اور میرے خالق کا تصور کریں۔ میں صلیب کی عبادت کیوں کروں؟ میں ماریہ سے دعا کیوں مانگوں؟ میں دعا کیوں کروں؟ حتیٰ کہ دو چیزیں ہیں جو میں نہیں جانتا۔ تو میں نے یہ سوال کیا اور انہوں نے کہا ، کہ جیسے، یہ صرف آپ کے دیکھنے کے لیے ہے، ویسے خدا دل میں موجود ہے۔ اور یہ واقعی افسوس کی بات ہے کیونکہ کوئی مذہب بھی دل میں نہیں ہے۔ بلکہ آپ کے اعمال کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمیں قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمان کیوں ہیں؟ ہم کچھ بھی کیوں کرتے ہیں؟ جیسا کہ

آپ نے کہا ہم مسیحی کیوں نہیں ہوں گے؟ کیونکہ پادری، خاص طور پر جو اس نے کہا، ایسا لگتا تھا کہ مسیحیت کے لیے تمام محبت میرے دل سے اڑ گئی ہے۔ اور، آپ کو پتا ہے، کہ میں نے دوبارہ ملحد ہونا شروع کر دیا، شراب پینا اور بری زندگی گزارنا شروع کر دی۔ اور پھر رمضان آ گیا اور وہاں میرے ساتھ میرے اسکول میں ایک اور لڑکا تھا۔ چنانچہ جب میں نے اس سے یہ سوالات پوچھے، تو وہ واقعی حیران ہو گیا۔ اس نے مجھے ایک کہانی کے انداز میں سب کچھ بتانا شروع کر دیا۔ قرآن میں سے اور حدیث میں سے سب کچھ بتایا اور اس نے ہمیشہ ہر بات کے ذرائع بھی بتائے۔ اور اس نے مجھے تین بار مدعو کیا اور، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں نےتھوڑا سا ترکی کے افسانوں کی طرح کہا کہ میں آؤں گا، انشااللہ میں آؤں گا، میں آؤں گا۔ لیکن دن کے اختتام پر میں

نہیں آیا۔ اور پھر تیسری بار اس نے کہا، کہ دیکھو، میں واقعی آپ کی شخصیت کی تعریف کرتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ تمام مذاہب کو ایک موقع دیتے ہیں اور اسلام کو نہیں دیتے اور اس سے مجھے تکلیف ہوئی ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ میں نے اسے کہا کہ میں اسے ایک موقع دوں گا۔ میں مسجد جاتا ہوں، کچھ تصویریں کھینچتا ہوں، اور پھر میں مسلمانوں سے کہہ سکتا ہوں کہ ، میں اسلام کے بارے میں تحقیق کر چکا ہوں۔ دیکھیں میں مسجد میں تھا یا کہیں بھی تھا، اور وہ مجھے اکیلا چھوڑ دیں گے۔ لیکن یقیناً آپ منصوبہ بنا سکتے ہیں اللہ عزوجل بہترین منصوبہ بناتا ہے اور وہ بہترین منصوبہ ساز ہے۔ چنانچہ اس دن ، میں غیرمتوقع طور پر مسجد چلا گیا۔ اور یہ مضحکہ خیز تھا کیونکہ میں نے جو پہلا شخص دیکھا اس نے لمبی داڑھی رکھی ہوئی تھی، اور عربی جیسے

لباس میں تھا۔ اور آپ کو پتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جبکو ان آپ ٹیلیویژن دیکھتے پر ہیں، تو آپ براہِ راست داعش کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ یا پھر کسی بری تنظیم کا خیال آتا ہے۔ تو میں اپنے آپ میں یہ سوچ رہا تھا کہ ، ٹھیک ہے، یا تو مجھے باہر جانا پڑے گا یا مجھے مار دیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ دوستانہ طریقے سے کہیں اسلام و علیکم میرے بھائی ۔ کیا آپ چائے پینا پسند کریں گے۔ آپ جانتے ہیں۔ میں صرف مسجد کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اندر آئیں، اندر آئیں۔ چلیں بھئی، اندر آئیں، اس نے کہا۔ اور میں مسجد میں بیٹھا کچھ تصویریں کھینچ رہا تھا۔ اور تصویریں کھینچنے کے بعد، آپ کو پتا ہے، اس لمحے اور بھی بہت کچھ ہوا، اور پھر میں جانے لگا تو سب لوگ اندر آ گئے۔ تو اگر بہت سے لوگ عمارت میں آ جائیں، تو آپ باہر نہیں

جا سکتے۔ یہ بہت بے عزتی ہو گی۔ اور ظاہر ہے، چونکہ میرے پہلے ہی سنہری بال ہیں، اس لیے میں اور بھی مشکوک ہوں۔ اور ہر مسجد میں ایک کتابوں کا سٹور ہوتا ہے۔ اور اپنے دائیں طرف ، میں نے قرآن مجید دیکھا، لیکن میں نے پہلے کبھی قرآن مجید اپنے ہاتھوں میں نہیں پکڑا تھا۔ چنانچہ جب میں نے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا، سورہ الفاتحہ کو پڑھا، تو میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں ایک بچے کی طرح رو رہا تھا۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ اور چونکہ یہ عمل جو میں نے الحاد سے عیسائیت اور عیسائیت سے اسلام تک کیا تھا، میں جانتا تھا کہ اسلام ایک مختلف دین ہے۔ یہ ہی سچا مذہب ہے۔ اور اس طرح میں مسلمان ہو گیا۔ الحمدللہ۔ تو جیسا کہ آپ نےکہا کہ عیسائیت میں کوئی منطقی جواب نہیں ہے۔ تو آپ نے اسلام سے کس قسم کے جوابات

منطقی حاصل کیے؟ بلا شبہ، عیسائیت میں، اسلام اور عیسائیت کے درمیان بہت ساری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ میں اسلامک تعلیمات کے لیے اردن میں تھا، اور میں بڑے شیخ کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا، اور جب میں ان کی لائبریری میں گیا، تو میں نے توحید اور عقیدہ کے متعلق کتابیں دیکھیں، اور پھر میں نے بائبل کو دیکھا۔ تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ایک بڑے اسلامی سکالر کی لائبریری میں بائبل کیوں ہونی چاہیے؟ کتابوں کے درمیان، اور وہ بھی اسلامی کتابوں کے درمیان، آپ دیکھیں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ چنانچہ میں شیخ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا، کہ آپ کی لائبریری میں بائبل کیوں ہے؟ تو انہوں نے مجھ سے کہا، کہ دہشت گردوں کے حملوں کے بعد، اردن میں ایک شامی آدمی تھا، وہ ایک عیسائی تھا، اور وہ میرے گھر

آیا۔ وہ دوڑ رہا تھا۔ وہ میرا ہمسایہ تھا، اوروہ مجھے لعن طعن کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم مسلمانوں کی وجہ سے یہاں جنگ ہو رہی ہے۔ اور اگر آپ مسلمان یہاں نہیں ہوں گے، تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اور انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم رجوع کیوں کر رہے ہو؟ تم ایسا کیوں کہتے ہوں؟ اس نے کہا، کہ اگر آپ بائبل کی پیروی کریں گے، تو آپ دہشت گردانہ حملے نہیں کریں گے، آپ یہ پاگل پن کے کام نہیں گے جیسے کام آپ اب کر رہے ہیں۔ شیخ نے کہا، سب سے پہلے پُر سکون ہو جاؤ۔ نہیں میں پُر سکون نہیں ہو سکتا۔ حتیٰ کہ میں آپ کے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملاتا۔ میں اندر نہیں آ رہا۔ شیخ نے کہا پُر سکون ہو جاؤ، چلو اندر چلتے ہیں۔ کافی دیر گزرنے کے بعد۔ وہ آدمی اندر آیا اور وہ چائے پی رہے تھے۔ تو شیخ نے کہا کہ چلو ایک سودا کرتے ہیں۔ میں

آپ کی بائبل پڑھوں گا اور آپ قرآن مجید پڑھو گے۔ آپ کے قرآن پڑھنے کے بعد اور میرے پاس واپس آنے کے بعد، میں بائبل پڑھنا شروع کر دوں گا اور پھر ہم اسکے بارے میں بحث کر سکتے ہیں اور اس بحث کے متعلق مباحثہ کر سکتے ہیں۔ تو اس نے کہا، ٹھیک ہے، وہ مان گیا۔ چار دن گزرنے کے بعد، وہ شخص شیخ کے پاس واپس چلا گیا اور اس نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ تو شیخ صاحب حیران ہوئے اور کہا، کہ یہ شخص چار دن بعد ہی میرا دروازہ کیوں کھٹکھٹا رہا ہے؟ اگر اس نے اتنی جلدی قرآن پڑھ لیا ہے تو یہ ناممکن بات ہے۔ میرا مطلب ہے، کہ یہ ممکن تو ہے، لیکن اگر آپ چار دن میں قرآن مجید پڑھ لیں تو یہ بڑی حیرت کی بات ہو گی۔ اور وہ شخص جو شیخ کے ساتھ تھا کہتا ہے، آپ کو پتا ہے، کہ اسلام کے بارے میں یہ باتیں کہہ کر آپ کی توہین کرنے سے مجھے

بہت برا محسوس ہوا، کیونکہ جب میں قرآن پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ شروع میں ہی، سورہ آلِ عمران کے آغاز میں، اور سورہ مریم میں، مجھے پتا چلا کہ آپ لوگ ہم سے زیادہ عیسیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ، حضرت زکریا اور حضرت مریم کے بارے میں اتنی زیادہ باتیں کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پوری کہانی قرآن مجید کے اندر اور بھی بہتر طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ اور آخر کار اس شخص نے اسلام بھی قبول کر لیا۔ تو شیخ نے کہا کہ میں نے بائبل کو ہاتھ تک نہیں لگایا، آپ نے دیکھا کہ وہ شخص خود میرے پاس آیا۔ یہ تقریباً اس کا مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تلاش کے لیے بغیر کچھ کیے میرے پاس آیا، آپ نے کہا سبحان اللہ۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں جو خدا کی طرف سے یسوع کو بھیجا گیا تھا، لیکن ہم پہلی بائبل پر یقین رکھتے

ہیں آپ دیکھتے ہیں، ہم ان بائبلوں پر یقین نہیں رکھتے جو اب بنائی گئی ہیں، کیونکہ بائبل کے کلام کے الفاظ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور آپ یہ واضح طور پر بائبل میں دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب میں بائبل پڑھ رہا تھا، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بائبل میں خدا کو تقریباً ایک انسان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ جانتے ہیں، کہ بائبل کے اندر، آپ کئی بار پڑھیں گے کہ خدا کو بنایا گیا تھا اور خدا سو رہا تھا یا خدا آرام کر رہا تھا۔ اور ہمارے ہاں یہ تصور اسلام میں نہیں ہے، کیونکہ ہمارے لیے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا لفظ خود قادر مطلق، العزیز،اور سب سے زیادہ طاقتور کے معنی رکھتا ہے۔ لہٰذا ہم نہیں جانتے۔ حتیٰ کہ ہم اس کا موازنہ اس دنیا کی کسی بھی چیز سے نہیں کر سکتے۔ یہ پہلی منطقی بات ہے، کیونکہ اگر ہم کسی ایسی چیز

کی پرستش کریں گے جو ہمارے جیسی ہے، تو اس چیز میں اتنی زیادہ طاقت نہیں ہو گی اس کے پاس اتنی ہی طاقت ہو گی جتنی طاقت ہمارے پاس ہے۔ پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی غالب ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی عبادت کرنی چاہیے۔ وہ ہر چیز کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اور دوسری منطقی چیزیں صرف قواعد، اخلاق ( اخلاقیات) ہیں جو ،مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے اندر موجود ہونا ضروری ہیں۔ یہ بہت مضحکہ خیز لگتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ جب یورپین ممالک کے لوگ ترکی میں آتے ہیں، مثال کے طور پر، اور وہ کہتے ہیں، کہ آپ چوری نہیں کر سکتے، آپ شراب نہیں پی سکتے، کیونکہ پہلے سے ہی ہم مسلمان ان چیزوں کے بارے میں چودہ سو سال پہلے سے جانتے ہیں۔ اور سبحان اللہ، دیکھیں کہ کس طرح وقت بدل گیا ہے کہ اب ہمیں ان لوگوں سے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے جو مسلمان نہیں

ہیں لیکن انہوں نے ہمارے اسلامک قوانین کو اپنایا ہواہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن کے متعلق ہمیں سوچنا چاہیے۔ آپ کو اسلام کے بارے میں کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ سب سے پہلے، میں کہنا چاہوں گا کہ اسلام میں بھائی چارہ ہے، اسلام کی طرح کا کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے جس میں بھائی چارہ ہو اور آپ اس بھائی چارے کو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی محسوس کر سکتے ہیں اور چیزوں کو سن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک چھوٹی سی چیز ہے "اسلام و علیکم" آپ کسی بھی شخص پر برکتوں کا نزول چاہتے ہیں۔ اور یہ ایک عام بات ہے کہ اگر آپ ایشیا یا افریقہ میں جاتے ہیں، تو ہر شخص، یعنی ہر مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو اسلام و علیکم کے ذریعے پہچان لے گا۔ لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے درمیان اس طرح کی رحمت موجود ہے۔ جب آپ کوئی برا کام کرتے

ہیں اور میں جانتا ہوں کہ آپ ایک اچھے بھائی ہیں، تو میں آپ کو زیادہ آسانی سے معاف کر سکوں گا۔ لیکن یہ ناممکن ہو گا اگر ہماری کمیونٹی کے باہر کا کوئی شخص ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرے، ہمارے ساتھ مزاق کرنے کی کوشش کرے، یا ہمارے ساتھ برا کرنے کی کوشش کرے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس طرح بہت زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر 2019 میں بہت زیادہ ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا میں ہر شخص مسلمانوں پر حملہ کر رہا ہے۔ ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں، جو آسٹریلیا میں ہم نے کھویا وہ آپ جانتے ہیں۔ ایک حجاب کرنے والی خاتون پر حملہ کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ کبھی کبھی ترکی میں بھی حجاب کے ساتھ جانے والوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی بھی، ہم یہ رحم کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قصور وار ہے، تو پھر بھی ہم دوبارہ اسے اپنی کمیونٹی میں لے جاتے

ہیں اور ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ اور یہ بہت خوبصورت ہے۔ آپ عیسائیوں اور ملحدوں سے کیا کہنا چاہیں گے جو آپ کو ابھی دیکھ رہے ہیں؟ سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا، کہ دوسرے مذاہب کے بارے میں تلاش کرنے سے نہ ڈریں اور سوالات پوچھنے سے نہ گھبرائیں۔ بہت زیادہ فخر محسوس نہ کریں۔ تلاش اور دوسری چیزیں نہ کریں کیونکہ ان کا وجود نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ اسے نہیں جانتے، تو پہلے بھی، یہ حقیقت سے بہت دور تھا اور میں بھی اتنی چیزیں نہیں جانتا تھا۔ لیکن یہ خاص طور پر بری بات ہے اگر آپ ان کے بارے میں جاننا نہیں چاہتے ہیں۔ اور خاص طور پر اس سوشل میڈیا کی دنیا میں، عام طور پر لوگوں اور مذاہب کے بارے میں معلومات رکھنا بہت آسان ہے۔ آپ اپنا سمارٹ فون کھولتے ہیں اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب ممالک اور ترکی میں کیا

ہو رہا ہے، اور آپ اپنے آئی فون پر پانچ منٹ میں بہترین اسکالرز کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پہلے ہمارے پاس نہیں تھیں۔ اس لیے اب اسلام کے بارے میں کچھ تلاش کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے اور خاص طور پر ہمیشہ میڈیا پر یقین نہ کریں، کیونکہ میں پہلے بھی میڈیا کو دیکھ رہا تھا۔ اور اگر میں میڈیا کی پیروی کرتا، تو میرے خیال میں میں یہاں ترکی میں نہ ہوتا، شاید مسلمان کے طور پر نہ ہوتا، بلکہ ایک انسان کے طور پر ہوتا۔ میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے تقسیم کر رہا ہے۔ یہاں ایک دوسرے کی طرف ایک بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اور ہم عیسائیوں، مسلمانوں ، یہودیوں، اور ہم جو کچھ بھی آتے ہیں، آپ جہاں کہیں بھی ہو گے، آپ وہی واپس جاؤ گے۔ آپ دیکھیں کہ، ہم ایسے ہوا کرتے تھے، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اسلام سے نہ ڈریں

اور اس کے متعلق تلاش جاری رکھیں، کیونکہ یہ آپ کی زندگی کو بہت اچھے راستے میں بدل دے گا۔ یہ بہت حیران کن تھا۔ میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوں۔