Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Taqdeer (Qadar) Ki Mukammal Tashreeh - Ab Koi Confusion Nahi!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اگر میری تقدیر میں یہاں کار سے ٹکرانا لکھا ہے، تو کیا وہ کار لازمی مجھ سے ٹکرائے گی، چاہے میں کچھ بھی کرلوں؟ اگر میں ایک قدم پیچھے ہٹ جاؤں تو...

ہماری زندگیوں میں ہونے والی ہر چیز پوری تفصیلات کے ساتھ ہماری تقدیر میں لکھی ہوئی ہے۔ تو پھر اِس دنیا میں ہمارا کیا کردار رہ گیا؟ کیا ہم صرف کٹھ پُتلیاں ہیں جو پہلے سے لکھے ہوئے پر چل رہی ہیں؟ مثلاً، کیا آپ کی تقدیر میں لکھا تھا کہ آپ اِس وقت یہ ویڈیو دیکھیں گے؟ یا چلیں اِس سوال کو ذرا اور مشکل بناتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا جہنم میں جانا تقدیر میں لکھا ہے، تو پھر اُس شخص کی کیا غلطی ہے؟ تقدیر پر ایمان ایک ایسا تصوّر ہے جس پر کئی صدیوں سے بحث ہوتی رہی ہے۔ اور شاید یہ سمجھ میں آنے والے مشکل ترین ٹوپکس میں سے ایک ہے۔ اِس مسئلے پر بہت سی غلط فہمیاں اور اختلافات پائے جاتے رہے ہیں، جو بڑے تنازعات کا سبب بنے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، دونوں طرح کے لوگ انتہا پر چلے گئے اور اعتدال کا راستہ کھو بیٹھے۔ مگر پھر مگر پھر، اعتدال کا راستہ کیسا ہونا چاہیے؟ تقدیر پر ایمان کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کیا آپ کا عقیدہ صحیح ہے؟ Do you have the correct belief?

یا کچھ ایسی خامیاں ہیں جن کا آپ کو احساس نہ ہوا ہو؟ اگر آپ اِن تمام سوالات کے جوابات پانا چاہتے ہیں، تو یہ ویڈیو آخر تک پورے دھیان سے ضرور دیکھیں۔ چلیں شروع کرتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان اِس بات پر ایمان ہے کہ کائنات کی شروعات سے، اللہ کو سب کچھ معلوم ہے کہ کائنات میں کیا کچھ ہونے والا ہے، اور اُن چیزوں کو اللہ نے اُن کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پوری تفصیل سے لکھ لیا ہے۔ مگر کسی چیز کے واقع ہونے سے پہلے اُسے مکمل طور پر جانا اور لکھا کیسے جا سکتا ہے؟ ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اِس کا تعلق کیونکہ اِس کا تعلق وقت کی قید سے آزاد ہونے سے ہے۔ چونکہ ہم وقت کے اندر رہ رہے ہیں، لہٰذا وقت سے آزاد ہونا، ہماری سمجھ میں آنا انتہائی مشکل ہے۔ اب، آئیے پہلے ’’وقت‘‘ کے تصوّر کو آسان انداز میں سمجھتے ہیں۔ وقت کا تصوّر یہ ہے کہ اللہ کے لامحدود علم سے چیزیں تخلیق پاتی ہیں، جو اِس کائنات میں موجود ہوتی ہیں، اور پھر موت اور فنا کے ذریعے اِس جگہ سے چلی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وقت وہ ترتیب ہے جس میں چیزیں تخلیق پاتی ہیں۔ اللہ نے کل کا دن مختلف بنایا تھا، آج کا دن مختلف، اور کل کا ایک مختلف دن بنائے گا۔ گویا وقت ایک رسّی ہے اور ہونے والے تمام واقعات اِس رسّی پر ایک کے بعد ایک ترتیب سے لگے ہوتے ہیں۔ مگر یہ ترتیب صرف ہم پر لاگو ہوتی ہے۔ مثلاً، فرض کریں کہ آپ کو ایک دس لائنوں کی نظم زبانی یاد ہے۔ یہ 10 لائنیں ایک ہی وقت میں آپ کے ذہن میں موجود ہوتی ہیں۔ مگر جب آپ اِسے کاغذ پر لکھنا شروع کرتے ہیں، تو آپ اِسے ایک خاص ترتیب میں لکھتے ہیں۔ آپ پہلی لائن سے شروع کرتے ہیں، پھر دوسری لائن، پھر تیسری اور اِسی ترتیب سے لکھتے ہیں۔ اگرچہ کاغذ پر، آپ یہ لائنیں ایک خاص ترتیب میں لکھتے ہیں، مگر آپ کے ذہن میں یہ لائنیں ایک ہی وقت میں موجود ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح، ہر وہ چیز جو کائنات میں واقع ہوئی ہے یا واقع ہوگی، وہ پہلے سے اللہ کے علم میں موجود ہے۔ مگر جب وہ اُنہیں وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک خاص ترتیب میں اُنہیں تخلیق کرتا ہے۔ اور اِسی ترتیب کو ہم وقت کہتے ہیں اِسے اور آسان طریقے سے سمجھتے ہیں۔ اللہ وقت کے تصوّر کا خالق ہے، رائٹ؟ اور اصولی طور پر، کائنات میں تخلیق کردہ اُس کی ہر چیز وقت کی قید میں ہے۔ تو، کیا یہ اصول اللہ پر بھی لاگو ہوتا ہے اُس پر کہ جس نے خود وقت کو تخلیق کیا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ چونکہ اللہ وقت کا خالق ہے، لہٰذا قدرتی طور پر وہ وقت کی قید سے آزاد ہونا چاہیے۔ اور اگر اللہ وقت کی قید سے آزاد ہے، تو کیا مستقبل کی باتیں جاننا اُس کے لیے نارمل بات نہیں ہے؟ اب ہم یہ پوائنٹ ایک بہت ہی طاقتور مثال سے واضح کریں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِسے پوری توجہ دیں۔ تصوّر کریں کہ ہمارے ہاتھوں میں کیمرہ ہے۔ پھر ہم ٹیبل پر ایک لائن بناتے ہیں۔ سمجھ لیں کہ الٹی جانب کا حصّہ ماضی ہے، درمیانی حصّہ حال ہے اور سیدھی جانب مستقبل ہے۔ اگر میں کیمرہ درمیان میں اور ٹیبل کی طرف رکھوں، تو کیمرہ صرف حال کی تصویر لے گا۔ جتنا اوپر اٹھاتے جائیں گے، اتنا ہی ماضی اور مستقبل کی تصویر بھی لیتا جائے گا۔ اور جب کیمرہ بالکل اوپر لے جاتے ہیں، تو یہ ایک ساتھ اِن تمام وقتوں کا اِحاطہ کرتا اور تصویر لیتا ہے۔ پھر اِس کیمرے میں سب کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، ہم کائنات میں ایک مخصوص وقت میں جی رہے ہیں۔ ہماری ایک زندگی ہے جو ہم ماضی، حال اور مستقبل میں جیتے ہیں۔ جس طرح کیمرہ اوپر سے پورے ٹیبل کی تصویر لے سکتا ہے، اِسی طرح اللہ، جو وقت کی قید سے آزاد ہے، اپنے لامحدود علم سے ماضی، حال اور مستقبل تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ لہٰذا، لافانی ہونے کا مطلب ہے ایک ساتھ تمام وقتوں کا احاطہ کرنا۔ اِس کا مطلب صرف وقت کے بالکل آغاز میں یا ہر چیز کے شروع میں موجودگی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ سوچنا بالکل ٹھیک اور معقول ہے کہ اللہ تمام زمانوں اور واقعات کو جان سکتا ہے اور اُس نے اِن سب کو ہماری تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ اِس موقع پر، ہمارے سامنے ایک بڑا مشہور سوال آتا ہے۔ اگر خدا وقت کی قید آزاد ہے، اور وہ ہر چیز ہونے سے پہلے ہی اُسے جانتا ہے اور لکھ رکھا ہے، تو اِس پوری صورتحال میں ہماری آزاد مرضی کہاں ہے؟ دوسرے الفاظ میں، ہم بس کٹھ پُتلیاں ہیں۔ تقدیر اور آزاد مرضی کا ہونا شروع میں ایک دوسرے کا اُلٹ لگتا ہے۔ لیکن اگر کوئی اِن دو تصوّرات کے درمیان تعلق کا پتہ نہ بھی لگا سکے، تب بھی ہم اپنی آزاد مرضی کی موجودگی سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ مثلاً، 2012 میں Pew ریسرچ سینٹر کے ایک تحقیقی جائزے میں، دنیا بھر کے مسلمانوں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں اور کیا وہ سمجھتے کہ اُن کے پاس آزاد مرضی ہے۔ اگرچہ 70 سے 90 فیصد مسلمانوں کا ایمان تھا کہ تقدیر اللہ کی طرف سے پہلے سے لکھی ہوئی ہے، مگر وہ انفرادی ذمہ داری اور آزاد مرضی پر بھی یقین رکھتے تھے۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہماری تقدیر میں پہلے سے لکھی ہوئی چیز ہمیں وہ چیز کرنے پر مجبور نہ کرے؟ کسی چیز کے جاننے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو وہ چیز کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سب سے عمومی غلطی ہم یہ کرتے ہیں کہ اِن دو تصوّرات کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ علم ایک چیز ہے اور طاقت دوسری چیز۔ جاننا ایک چیز ہے، اور کسی کو مجبور کرنا دوسری چیز۔ سورج کے مختلف رنگوں کا تصوّر کریں۔ پیلا ایک رنگ ہے اور لال دوسرا رنگ۔ اِسی طرح، اللہ کے بھی مختلف نام اور صِفات ہیں۔ اُس کا ایک نام العلیم ہے، سب جاننے والا اور دوسرا نام القادر ہے، پوری قدرت والا۔ لہٰذا اُس کا جاننا اور اور اُس کا اپنی قدرت سے کوئی کام لینا دو مختلف صِفات ہیں۔ لہٰذا اِس حقیقت کا مطلب کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے یہ نہیں کہ ہماری کوئی آزاد مرضی نہیں یا ہم سب کچھ مجبوراً کرتے ہیں۔ لوجِک کی سائنس میں ایک بڑا مشہور اصول ہے۔ علم وہی ہوتا ہے جو معلوم ہو۔ کسی چیز کو جاننے کی بنیاد حقیقی دنیا میں اُس چیز کی موجودگی پر منحصر ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، دوسرے الفاظ میں، علم کسی چیز کی حقیقت کو تخلیق یا تبدیل نہیں کرتا۔ بلکہ، اس چیز کے وجود پر منحصر ہوتا ہے اور اُسی کے مطابق تبدیل ہوتا ہے۔ ایک بہت اچھی مثال ہے جو اِسے زیادہ بہتر طور پر سمجھاتی ہے۔ فرض کریں آپ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہیں اور آپ ٹرینوں کو ایک دوسرے کی طرف آتا دیکھتے ہیں۔ ٹرین میں سوار لوگوں پر افسوس کرتے ہوئے، آپ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھتے ہیں کہ یہ ٹرینیں 8 سیکنڈز میں ٹکرا جائیں گی۔ اور وہ واقعی 8 سیکنڈز میں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں۔ اب، اِس صورتحال میں، آپ کچھ اِس طرح کہہ سکتے ہیں، ’’ٹرینیں اِس لیے ٹکرائیں کیونکہ آپ پہلے ہی کاغذ پر یہ لکھ چکے تھے۔ لہٰذا، الزام آپ پر ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ نہیں۔ ٹرینیں اِس لیے نہیں ٹکرائیں کہ آپ نے کاغذ پر یہ لکھ دیا تھا۔ آپ جانتے تھے کہ ٹرینیں ٹکرانے والی ہیں، اِس لیے آپ نے لکھا۔ جب ہم بھی اپنے محدود علم کے باوجود یہ جان سکتے ہیں کہ ٹرینیں ٹکرانے والی ہیں، تو اللہ تو اپنے لامحدود علم کے ساتھ یقیناً یہ جانتا ہوگا کہ ہم اپنی زندگیوں میں کیا کریں گے۔ مگر جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، اللہ کا واقعات کا علم رکھنا ہماری آزاد مرضی کو دباتا یا ختم نہیں کرتا، بلکہ اُن واقعات کی حقیقت of those events as they are.

کی ترجمانی کرتا ہے۔ سورج نکلنے کا وقت کیلنڈر پر لکھا ہوتا ہے، رائٹ؟ مگر کیا وہ لکھنا سورج کو اُس مخصوص وقت پہ نکلنے پر مجبور کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ یہ وقت تو حقیقی زندگی میں سورج کی نقل و حرکت کی بنیاد پر لکھا گیا ہوتا ہے۔ اِسی طرح اِسی طرح، اللہ کا یہ جاننا کہ ہم کیا کریں گے ہمیں وہ چیزیں کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ وہ چیزیں ہماری تقدیر میں اِس لیے لکھی ہوتی ہیں کیونکہ ہم دراصل اُن کو کرنے والے ہوتے ہیں۔ علم حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، Knowledge doesn’t change reality, یہ تو بس اِس کی ترجمانی کرتا ہے۔ اِس موقع پر، ہمیں یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ تقدیر کا تصوّر بنیادی طور پر دو حصّوں میں تقسیم ہے۔ ایک ہے، غیر ارادی تقدیر، قدر اضطراری، اور دوسری ہے ارادی تقدیر، قدر اختیاری۔ غیر ارادی تقدیر، وہ تقدیر ہے جس کا فیصلہ صرف اللہ کرتا ہے، یہ ہمارے فیصلے یا کنٹرول سے باہر ہوتی ہے۔ ہمارا اِس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ دوسری طرف، ارادی تقدیر، اُن کاموں کا نام ہے جو ہم اپنی مرضی سے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور ہم اِسی کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا اللہ کا کچھ چیزوں میں اپنی مرضی ہم پر لاگو کرنا ہمیں تمام چیزوں کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔ وہ ہمیں اُن کاموں کا ذمہ دار ٹھہرائے گا جن کا فیصلہ ہم اپنی آزاد مرضی سے کر سکتے ہیں۔ مثلاً، ایک لفٹ کے بارے میں سوچیں۔ لفٹ میں جانے والا شخص اِس کے مکانیکال سسٹم یا پورے یونٹ کے سیٹ اَپ کی تفصیلات بالکل نہیں جانتا۔ نہ ہی وہ اُن پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اِس لفٹ کا اندرونی ڈیزائن اور عام میکینیکل سسٹم اُس شخص کے اختیار سے مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے۔ مگر اِس چیز کا انتخاب اُس شخص پر ہوتا ہے کہ وہ لفٹ کونسے فلور پر جائے گی۔ یہ اُس کی مرضی ہے کہ وہ اوپر 7th فلور پر جائے یا نیچے 7th فلور پر یہاں اُس کی مرضی چلتی ہے۔ اِس زندگی میں، ہماری صورتحال اِسی مثال کی طرح ہے۔ کچھ چیزوں میں ہماری مرضی چلتی ہے اور کچھ میں نہیں۔ ہم کچھ فیصلوں کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ کچھ کے لیے نہیں۔ مثلاً، یہ ہمارا انتخاب نہیں ہوتا کہ ہم مرد پیدا ہوں گے یا عورت، ہماری جسمانی خصوصیات کیا ہوں گی، ہمارے والدین کون ہوں گے، یا ہم کِس ملک میں پیدا ہوں گے۔ اِس لیے ہم پر اِن چیزوں کی ذمہ داری نہیں آتی۔ بالکل لفٹ میں موجود سسٹم کی طرح۔ لہٰذا، یہ غیر ارادی تقدیر ہے۔ مگر ہم اپنی مرضی سے جن کاموں کا انتخاب کرتے ہیں، اُن کی ذمہ داری ہم پر آتی ہے۔ ہم اچھے کام کر سکتے ہیں اور برے بھی۔ لہٰذا، جس طرح ہم لفٹ میں یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ کونسے فلور پر جائیں گے، اِسی طرح ہم اِس دنیا میں اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتے ہیں۔ اور یہی ارادی تقدیر ہے۔ ویسے کیا آپ کو معلوم تھا کہ آپ اپنے آس پاس تقدیر کا وجود آسانی سے دیکھ سکتے ہیں؟ یعنی، تقدیر کا وجود اتنا واضح ہے کہ یہ دراصل پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور ہماری آنکھیں اِسے دیکھتی ہیں۔ مگر کیسے؟ ہم اپنے آس پاس ہر چیز میں تقدیر کا ثبوت دیکھتے ہیں۔ تقدیر کا بنیادی مطلب ہے علم اور پلاننگ۔ اور جب ہم کائنات کے ہر ذرّے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چیز علم اور پلاننگ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اُس سیب کے درخت کا تصوّر کریں جو کبھی راستے سے گزرتے ہوئے آپ نے دیکھا ہو۔ کیا اُس درخت کی تخلیق کے سارے مرحلے شروع سے ہی اُس کے بیج میں لکھے ہوئے نہیں تھے؟ ہاں۔ یہ پپروگرامنگ اُس میں موجود تھی۔ بیج میں ایک پلان، ایک ڈرافٹ موجود تھا۔ یا ایک پیارے سے سفید خرگوش یا بلّی کے بچے، یا پھر ایک پیدا ہونے والے بچّے کا تصوّر کریں جو اپنی گہری نیلی آنکھیں جھپکاتا ہے۔ اِن سب کے لیے، جو اِن مخلوقات کی معلومات کو پہلے سے ہی ہمیں فراہم کر دیتا ہے۔ یہ ہمیں پیدا ہونے والے بچے کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں بتاتا ہے، بلکہ اُن بیماریوں کے بارے میں بھی جو مستقبل میں اُسے ہونے والی ہوتی ہیں۔ لہٰذا، DNA تقدیر کی کتاب کا ایک چھوٹا سا ورژن ہے۔ ہماری پلکوں کی مخصوص لمبائی، ہمارے بالوں کے بڑھنے کی مختلف ترتیب، ہماری انگلیوں کی لمبائی کا مختلف ہونا ایک مخصوص پیمائش اور لاجک کے تحت ہے۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ ہر چیز کے لیے دراصل ایک پلان، ایک پروگرام اور ایک تقدیر ہے۔ اِس پر غور کریں۔ اگر وہ چیز بہت منظّم اور نَپے تُلے انداز میں کام کرتی ہے، تو کیا یہ نہیں سمجھاتی کہ اِس کے پیچھے ایک پلاننگ ہے؟ کسی بے ترتیب، یا خود سے ہو جانے والی چیز میں پلان شدہ کام کی صلاحیت نہیں ہو سکتی۔ دوسرے الفاظ میں، جب ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں، تو ایٹمز سے ستاروں تک ہر چیز کا ایک مخصوص قانون کے مطابق چلنا، سورج اور چاند کی نقل و حرکت کا ایک خاص ترتیب پر عمل کرنا، ہر جاندار کے پلانز اور پروگرامز کا پہلے سے ہی اُن کے بیجوں، اُن کے DNA میں لکھا ہونا ہمیں تقدیر کی ظاہری حقیقت دکھاتا ہے اور کائنات میں اِس کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ "Deja vu" نامی تصوّر کو بھی تقدیر کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ’’ٹھہرو!

میں اِس لمحے سے پہلے بھی گزر چکا ہوں۔‘‘ کیا ہم کبھی کبھار ایسا نہیں کہتے، مجھے یقین ہے آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا۔ ہم دراصل محسوس ایسا کرتے ہیں، کیونکہ روحوں کے عالم میں، اللہ نے ہمیں وہ مخصوص واقعہ یعنی تقدیر لکھی تختی پر دِکھایا تھا۔ اِس تختی پر، وقت کی تخلیق سے لے کر خاتمے تک تمام واقعات، کاموں، اور نتائج کی معلومات ہیں۔ چنانچہ جب وہ واقعہ اصل میں رونما ہوتا ہے، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اِس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ ورنہ ہم کسی چیز کے اِس موجودہ تجربے کو بھلا کسی اور طرح کیسے جان سکتے تھے؟ اِس کا مطلب ہے کہ ہماری روح کو وہ لمحہ ہماری تقدیر کی کتاب سے دِکھایا گیا تھا۔ اور اِسی طرح کے تجربے کو "Deja Vu" کا بالکل صحیح نام دیا گیا ہے جس کا فرنچ میں مطلب ہے ’’پہلے سے دیکھا ہوا‘‘۔ لہٰذا، یہ سوچنا بالکل معقول ہے کہ ہماری تمام جسمانی اور روحانی حالتیں اور ہماری زندگی کے سارے تجربات پہلے سے کہیں لکھے ہوئے ہیں۔ یا، اگر ہم قرآن کو بھی دیکھیں، تو ہمیں تقدیر کے وجود کے کئی ثبوت مل سکتے ہیں۔ مثلاً، سورۃ المسد نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ ابو لھب اور اُس کی بیوی کفر پر مریں گے جو کہ ایک بہت بڑا پیغمبرانہ معجزہ ہے۔ اللہ نے سورۃ الروم میں بھی بتا دیا تھا کہ مستقبل میں رومی فارسیوں کو شکست دے دیں گے، جو اُس وقت ناممکن لگتا تھا۔ غیب کی یہ خبر بھی ایک پیغمبرانہ معجزہ ہے۔ اور ظاہر ہے یہ پیشگوئی سچ بھی ثابت ہوئی۔ لہٰذا، قرآن میں اِس طرح کی آیات کا موجود ہونا جو آئندہ کے واقعات کی بالکل صحیح خبریں دیتی ہیں اِس بات کا بہت بڑا ثبوت ہیں کہ اللہ مستقبل کو بھی جانتا ہے۔ تقدیر کے تصوّر میں مختلف قسم کے احکام ہیں۔ ایک مشروط حکم ہے، قضائے معلق۔ جسے لچکدار حکم بھی کہتے ہیں۔ اور دوسرا ہے حتمی حکم، قضائے مُبرَم، یعنی غیر لچکدار تقدیر۔ پہلی والی، قابلِ تبدیلی ہے، اور دوسری ناقابلِ تبدیل۔ مثلاً، فرض کریں مصیبت میں مبتلا ہونے کا حکم دیا۔ مگر اُس نے اِس مصیبت کو اِس بات سے جوڑ دیا کہ یہ دعا مانگتا ہے یا نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، اللہ نے طے کیا کہ اگر وہ شخص دعا مانگے گا تو مصیبت اُس سے اُٹھا لی جائے گی۔ لیکن اگر وہ نہیں مانگے گا، تو چونکہ اِس واقعے کے ہونے کے لیے یہاں ایک شرط موجود ہے، لہٰذا اسے ایک شخص اور مصیبت کے درمیان صدقے کے ڈھال بننے سے متعلق حدیث اِس کی بہترین مثال ہے۔ مشروط حکم میں، اِس قسم کی صورتحال کا فیصلہ یوں ہوتا ہے اگر وہ صدقہ کرے گا، تو مصیبت دُور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ نہیں کرے گا، تو مصیبت آئے گی۔ مگر یہ بات کہ وہ شخص صدقہ کرے گا یا نہیں، پہلے سے لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ جبکہ مشروط حکم لوحِ محو و اِثبات یعنی تحذیف و تصدیق کی تختی میں لکھا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، لوحِ محفوظ پتھر پر لکیر کی طرح ناقابلِ تبدیل ہوتا ہے۔ مگر لوحِ محو و اِثبات ایک بورڈ کی طرح ہے جسے مٹا کر اِس پر دوبارہ لکھا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ، اللہ ہر چیز کی آخری حالت کو جانتا ہے۔ مگر ہم نہیں جانتے۔ لہٰذا، ہمارا کام ہمیشہ اپنی پوری کوشش کرنا اور دعا مانگنا ہے۔ تقدیر پر ایمان کا ایک سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ دل میں سکون اور بھروسے کا ایک گہرا احساس پیدا کرتا ہے۔ وہ شخص اپنی زندگی اعتماد اور خوشی سے جیتا ہے۔ جب اُس پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو وہ پینِک نہیں ہوتا، بلکہ پُرسکون رہتا ہے جوکہ تقدیر پر ایمان سے اُسے نصیب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یقینی طور پر یہ جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے لامحدود علم اور قدرت کے تحت اپنی بہترین پلاننگ کی حامل ہے۔ ذرا سوچیں۔ آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہو، اگر آپ کو معلوم ہو کہ سب کنٹرول میں ہے، تو کیا اِس سے آپ میں اعتماد اور اطمینان کا ایک بھرپور احساس پیدا نہیں ہوگا؟ تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے، آپ کہیں گے، ’’اِس دنیا میں کچھ بھی بے ترتیبی یا بغیر مقصد کے نہیں ہوتا۔ ہر چیز کے پیچھے ایک معانی اور ذہانت ہوتی ہے۔‘‘ بغیر مقصد کے نہیں ہوتا۔ ہر چیز کے پیچھے ایک معانی اور ذہانت ہوتی ہے۔‘‘ اور یہ عقیدہ آپ میں یہ گہرا احساس دیتا ہے کہ ہر لمحہ، ہر سیکنڈ، اللہ آپ کا خیال رکھ رہا ہے۔ تقدیر پر ایمان رکھنے والا شخص سوچتا ہے کہ وہ مسلسل اللہ کی حفاظت میں ہے۔ وہ مستقبل کے بارے میں اپنے سارے خدشات اور ماضی سے متعلق سارے پچھتاوے ایک طرف کر دیتا ہے۔ ہر صورتحال میں، وہ کہتا ہے، ’’میرے لیے میرا رب کافی ہے!

کیونکہ، ہر چیز اُسی کے حکم سے ہوتی ہے،‘‘ اور وہ اطمینان بھرے اِس ذہن کے ساتھ اپنی زندگی جیتا رہتا ہے۔ تقدیر پر ایمان انسان کو غرور اور تکبر سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے تمام اچھے اعمال اور کامیابیاں اُس کی اپنی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے اُسے عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ لہٰذا وہ تکبر نہیں کرتا بلکہ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ، اُسے اپنے برے اعمال کی ذمہ داری خود پر عائد ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہتا، مجھے یہ برا عمل کرنا ہی تھا، کیونکہ یہ پہلے سے لکھا ہوا تھا کیونکہ یہ پہلے سے لکھا ہوا تھا‘‘ بلکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس آزاد مرضی ہے اور وہ اپنی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ ایک اور اہم پوائنٹ یہ ہے کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو تقدیر کا یہ تصوّر اِس انداز سے سمجھاتا ہے تقدیر کا یہ تصوّر اِس انداز سے سمجھاتا ہے this concept of destiny in a way that جو دماغ اور دل دونوں کو بھاتا ہے۔ تقدیر کی یہ گہری اور مکمل سمجھ بُوجھ ایک اور ثبوت ہے کہ اسلام ہی سچّا مذہب ہے۔ اُسی سوال کی طرف واپس پلٹتے ہیں جو ہم نے شروع میں پوچھا تھا۔ کیا اِس ویڈیو کو دیکھنا آپ کی تقدیر میں لکھا تھا؟ جی ہاں۔ مگر اِس پر کلک کرنے کا فیصلہ آپ کا تھا۔ ایک دن، جب آپ زندگی کے اِس سفر کی فنش لائن پر پہنچیں گے، تو آپ کا جنّت میں یا پھر جہنم میں جانا پہلے سے ہی آپ کی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ مگر جو چیز آپ کو وہاں لے جائے گی وہ آپ کی مرضی سے کیے گئے فیصلے ہوں گے۔