Duniya Ka Khatma | AI Se Banai Gayi Qayamat Ka Din Series - Ep. 2
تاریخ اشاعت
اور اب صور پھونکا جا چکا ہے.
وقت آ گیا ہے اور اختتام شروع ہو گیا ہے۔ یہ دنیا اور پوری کائنات کے مرنے کا وقت ہے۔ زمین اور آسمان اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ سب کچھ ٹوٹ رہا ہے ایک ایک کر کے ۔ لوگ الجھن میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے۔ وہ صدمے اور بے بسی کے عالم میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ کسی بھی زلزلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پہاڑ ہل رہے ہیں۔ سمندر بپھر رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک زمین کی ہر فالٹ لائن ٹوٹ رہی ہے، اور ہر چہرے پر، ایک گہرے اور بڑھتے ہوئے خوف کا سایہ ہے۔ آسمان سے ایک ایک کر کے ستارے گر رہے ہیں۔ لوگ چیختے ہوئے ہر طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن اب فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ اب امتحان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اور وہ ایک ایک کر کے زمین پر گر کر مر رہے ہیں۔ اور اب ہم قرآن کی آیات پڑھ کر بیان کریں گے کہ اس دن لمحہ بہ لمحہ کیا ہو گا۔ دنیا کا خاتمہ صور نامی ٹرمپٹ پھونکنے سے شروع ہوگا۔ اور فرشتے اسرافیل علیہ السلام کے صور پھونکنے کے بعد ایسے تباہ کن واقعات سامنے آئیں گے کہ نہ زمین نہ ستارے اور نہ ہی کہکشاں باقی رہیں گی۔ قرآن اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: "پھر جب صور پہلی بار پھونکا جائے گا، اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی ضرب سے ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے تو پھر اس دن عظیم واقعہ رونما ہو گا۔ اس دن آسمان کمزور ہو کر پھٹ جائے گا۔" اس دن کی دہشت کو کئی دوسری آیات میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ "اس دن زمین اور پہاڑ زور زور سے ہلیں گے اور پہاڑ سکڑ کر ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔" "اس دن ہم آسمانوں کو ایک کاغذ کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جیسے ہم نے پہلی بار تخلیق کیا تھااسی طرح ہم اس کا خاتمہ کریں گے۔ اور ہم یہ وعدہ پُورا کریں گے۔ بے شک،ہم یقیناّ یہ سب کچھ کریں گے۔" "تو اگر تم کفر کرتے ہو تو تم اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کے بال سفید کر دے گا؟ جس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اس کا وعدہ ضرور پورا ہو گا۔" یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ وہ دن دوسرے دنوں کے برعکس ہو گا اور یہ کہ وہ اس کائنات کے لیے موت کا دن ہو گا جسے ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ جس طرح ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے اس کائنات نامی وسیع تخلیق کی موت کا دن بھی مقرر ہے۔ ایک اور آیت میں، وہ واقعات جو ہمیں بتائیں گے کہ یہ آخری دن ہے اس طرح بیان کیے گئے ہیں : "جب سورج لپیٹ دیا جائے گااور جب ستارے گر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ جب حاملہ اونٹوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور جب جنگلی درندے اکٹھے ہوں گے۔ جب سمندر ابلیں گے۔" تو نہ آسمان اپنی جگہ رہے گا نہ زمین اپنی جگہ رہے گی۔ آپ جس طرف بھی مڑیں گے آپ کو ایک خوفناک منظر نظر آئے گا۔ شدید زلزلے زمین کو ہلائیں گے جس سے آتش فشاں پھٹ جائیں گے۔ میگما بڑے شگافوں سے باہر نکل کر سمندروں کے پانیوں کو اُبال دے گا۔ جب زمین ناقابل یقین طاقت سے ہلے گی اور پہاڑ بکھر جائیں گے، تو سمندر ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے اور تمام سمندر ایک وسیع، لامتناہی سمندر بن جائیں گے۔ تو ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے اس خوفناک دن کے آنے میں ؟ دس سال، 100 سال یا اس سے بھی زیادہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ اس دن کے آنے سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ جن میں سے کچھ معمولی ہیں اور کچھ بڑی۔ پہلے ہم معمولی نشانیوں کی بات کرتے ہیں۔ پھر بڑی نشانیوں کی طرف بڑھیں گے۔ اور آخر میں آپ خود فیصلہ کریں گے کہ وہ وقت قریب ہے یا ابھی بہت دُور ہے۔ پہلی چھوٹی نشانی ہمارے نبی ﷺ کا اس دنیا میں تشریف لانا ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے آخری رسول ہیں اس لیے بہت سے ذرائع اسے چھوٹی نشانیوں کےآغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، اس دنیا نامی اسکول کے آخری استاد تشریف لائے اور چلے گئے۔تو کیا گریجویشن واقعی بہت دُور ہو سکتی ہے؟ دوسری نشانی یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگیوں میں قرآن کو اہمیت دینا چھوڑ دیں گے۔ اور جب آج ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو ہم واضح طور پر ہر جگہ ایسا ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دنیاوی زندگی میں اتنے مگن ہیں کہ وہ قرآن کا ایک صفحہ کھولنا بھی بھول جاتے ہیں۔ میں اپنے کام اور زندگی میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے اسے پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ میں نے آخری بار قرآن تب پڑھا تھا جب میں بچپن میں قرآن پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ اور شاید آپ بھی ان میں سے ہیں۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ نماز چھوڑ دی جائے گی۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں اپنے ارد گرد اسکول یا کام کی جگہ کو دیکھ لیں دوستو، میں مسجد جا رہا ہوں کوئی اور میرے ساتھ نماز کے لیے آئے گا؟ جوں جوں قیامت کا دن قریب آئے گا نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی اور ایک نشانی یہ ہے کہ مساجد کو حد سے زیادہ سجایا جائے گا لیکن عبادت کو نظرانداز کیا جائے گا۔ ایک اور نشانی المحمہ الکبریٰ، جنگ عظیم ہے۔ یہ جنگ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں کہ اس سے کون سی جنگ مراد ہے اور کیا یہ پہلے ہی ہو چکی ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے جو بڑی جنگیں دیکھی ہیں، یعنی پہلی اور دوسری جنگ عظیم،ان کو بھی قیمات کی نشانیوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب آئیے جلدی سے دیگر چھوٹی نشانیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ دنیا کے خاتمے کے قریب اللہ اور ایمان کے ستونوں پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ لوگ اس کی قدر نہیں کریں گے، جو انھیں سونپا گیا ہے۔ سود عام ہو جائے گا۔ تجارت میں ایمانداری ختم ہو جائے گی۔ لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ وہ اپنا پیسہ حلال (جائز) ذرائع سے کماتے ہیں یا حرام (ناجائز) سے۔ زنا اور شراب نوشی جیسے کبیرہ گناہ بہت زیادہ پھیل جائیں گے۔ مختلف ناموں کی متعدد اقسام کے الکوحل والے مشروبات کی بہتات ہو گی۔ اور ان میں سے بعض کو حلال (جائز) بھی سمجھا جائے گا۔ بے حیائی اور نامناسب لباس عام ہو جائے گا۔ لوگوں میں بے حیائی بڑھنے لگے گی۔ لوگ مزید کنجوس اور لالچی ہو جائیں گے۔ خاندانی بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ بُوڑھے لوگ چھوٹوں پر رحم نہیں کریں گے۔ اور جوان بڑوں کا احترام نہیں کریں گے۔ لوگوں کی دلچسپی شادی میں ختم ہو جائے گی اور ناجائز اولاد میں اضافہ ہو جائے گا۔ جہاد اور تبلیغ (دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا) جیسی سرگرمیاں ترک کر دی جائیں گی۔ صرف غیر مذہبی علم ہی سیکھا جائے گا۔ فطرت کا توازن بگڑ جائے گا۔ پوری دنیا میں سیلاب، زلزلے اورآگ جیسی آفات میں اضافہ ہو جائے گا۔ قدرتی وسائل ختم ہو جائیں گے۔ قتل و غارت بڑھے گی۔ اونچی عمارتیں بنائی جائیں گی۔ تقدیر اور روزِ قیامت کا انکار کیا جائے گا۔ لہٰذا جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں روزِ قیامت کی تقریباً تمام چھوٹی نشانیاں پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہیں۔ یہ نشانیاں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ انسانیت اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آئیے اب بڑی نشانیوں کی طرف بڑھتے ہیں جو دنیا کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بڑی نشانیوں میں سے ایک دبہ الارض کا آنا ہے۔ بھاگو، کیا ہو رہا ہے؟ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ دبہ الارض ایک مخلوق کا نام ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گی۔ اس لفظ کا لغوی معنی زمین پر چلنے والا جاندار ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ زمین سے ایک قسم کا حیوان نکلے گا۔ اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: "اور جب ان کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا، تو ہم زمین سے ایک مخلوق لائیں گے جو انھیں بتائے گی کہ لوگ ہماری آیات پر صدقِ دل سے یقین نہیں کرتے تھے۔ عظیم اسلامی اسکالر بدیع الزماں سعید نورسی فرماتے ہیں کہ دبہ الارض اکیلی مخلوق نہیں ہو گی، بلکہ یہ ایک نوع، ایک قسم کی مخلوق ہو گی۔ گزشتہ صدی میں، نئی بیماریاں اور وائرس پہلے سے کہیں زیادہ کثرت سے نمودار ہوئے ہیں۔ یہ درختوں کو کھانے والے کیڑوں کی طرح انسانی جسم میں سر سے پاؤں تک پھیل جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسانیت کا ایمان کتنا کمزور ہو گیا ہے، اور لوگ اللہ سے کتنی دُور ہو گئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان پر ایک کے بعد ایک آفت آ رہی ہے۔ آیت کے الفاظ کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں: "وہ وحی پر پختہ یقین نہیں رکھتے۔" بے شک اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ صرف اور صرف ایک تشریح ہے۔ ایک اور بڑی نشانی یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے۔ یہ انسانی گروہ لوگوں کو بہت نقصان پہنچائیں گے۔ اور زمین پر فساد پھیلائیں گے۔ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی رکاوٹ کی وجہ سے یہ فاسد قومیں لوگوں پر حملہ کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ لیکن قیامت کے قریب، وہ دوبارہ ابھریں گی اور ایک بار پھر انسانیت پر حملہ کریں گی۔ شمال میں ایک پہاڑی علاقے میں اپنی فوجی مہم کے دوران، ذوالقرنین کی ملاقات لوگوں کے ایک گروہ سے ہوئی جو یاجوج و ماجوج کے نام سے مشہور فاسد اور جارح قبائل کے بارے میں شکایت کر رہے تھے۔ "اے ذوالقرنین، یاجوج و ماجوج اس سرزمین کو برباد کر رہے ہیں۔ اگر ہم آپ کو معاوضہ دیں تو کیا آپ ہمارے اور ان کے درمیان رکاوٹ تعمیر کر دیں گے؟" ان کے کہنے پر ذوالقرنین نےاس علاقے میں ایک رکاوٹ تعمیر کر دی۔ اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد، یاجوج و ماجوج نہ اس کے اوپر سے گزر سکتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔ ذوالقرنین نے کہا کہ یہ رکاوٹ تب ہی ٹوٹے گی، جب اللہ کا مقرر کردہ وقت آئے گا۔ اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ بعض آراء کے مطابق یہ گروہ منچورین اور منگول ہیں۔ صدیوں بعد، قیامت کے قریب ان کی اولادیں ایک بار پھر اپنے آباء و اجداد کی طرح مظالم سے انسانیت کو نقصان پہنچائیں گی۔ بے شک، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک اور نشانی دجال کا آنا ہے۔ روایات میں دجال کی آمد کو دنیا کے خوفناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ حدیثِ نبوری میں دجال کو جھوٹا، دھوکے باز، اور جھوٹا لیڈر کہا گیا ہے جو برائی کو اچھائی اور سچ کو جھوٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیس ہوں گے۔ ان میں قیامت کے قریب والے دو دجالوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ایک بڑا دجال ہے۔ اور دوسرا دجال وہ ہے، جو مسلمانوں میں سے نکلے گا، یعنی سفیانی۔ روایات کے مطابق سفیانی منافقانہ طریقے سے کفر اور حرام پھیلا کر اسلام کو خراب کرنے اور لوگوں کی ابدی زندگی برباد کرنے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف بڑا دجال اپنے پھیلائے ہوئے نظریات کے ذریعے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو کفر کی طرف لے جائے گا۔ ایک اور نشانی امام مہدی کا ظہور ہے۔ جو ہمارے نبی ﷺ کی نسل سے ہوں گے۔ امام مہدی کو اللہ نے ہدایت یافتہ انسان کہا ہے جو لوگوں کو اپنے خالق کی طرف واپس لے جائیں گے۔ وہ کفر میں ڈوبے ہوئے لوگوں اور اپنے ایمان کے بارے میں شک اور الجھن میں مبتلا لوگوں کو نجات دیں گے۔ وہ لوگوں کو اندھیروں سے اور دجال اور سفیانی کے خطرے سے بچائیں گے۔ اہم ترین نشانیوں میں سے ایک آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے، جنھیں جیسز بھی کہا جاتا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئیں گے اور اسلام کے احکام کو نافذ کریں گے۔ پچھلی زندگی میں جب وہ نبی تھے تو یہودیوں نے ان کے لیے جال بچھا کر انھیں مصلوب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ ایسا کر سکیں، اللہ نے انھیں آسمان پر اٹھا لیا۔ امام مہدی کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک عادل حکمران کے طور پر آسمان سے نازل ہوں گے۔ آخر میں وہ دجال کے خاتمے کے لیے امام مہدی کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور خود دجال کو ہلاک کریں گے۔ ایک اور نشانی دخان (یعنی دھواں) ہے۔ دخان کا اصل مطلب دھواں ہے۔ بعض اقوال کے مطابق جب قیامت کا دن قریب آئے گا۔ تو دھواں آسمان سے اتر کر پوری دنیا کو ڈھانپ لے گا۔ یہ سلسلہ 40 دن تک جاری رہے گا۔ ایک اور بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو جو لوگ اسے دیکھیں گے وہ واضح طور پر سمجھ جائیں گے کہ دنیا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ لیکن تب تک توبہ اور امتحان کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ لہذا ،اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ قیامت کی سب سے واضح نشانی ہے۔ ان تمام نشانیوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اب قیامت کا دن بہت قریب ہے۔ لیکن ایک ایسی چیز ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہر انسان کی قیامت اس کی اپنی موت ہے۔ لہٰذا ہمیں جس چیز پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے اپنی قیامت کی تیاری۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ابھی سبق حاصل کریں اور آج ہی عمل کریں۔ جیسا کہ ہمارے خالق نے اس آیت میں فرمایا ہے "کیا وہ صرف قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئے اور انہیں حیران کر دے؟ حالانکہ اس کی کچھ نشانیاں آچکی ہیں۔ لیکن ایک بار جب یہ ان پر آ جائے گی تو پھر آگاہی کا کیا فائدہ؟" اگر یہ ویڈیو آپ تک پہنچی ہے تو مان لیں کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ اللہ اسے آپ کے سامنے لایا ہے اوراسے آخر تک دیکھنے میں آپ کی رہنمائی کی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بدلیں۔ تو کیا آپ بدلے میں اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھائیں گے؟ یہ وقت ہے کہ آپ اپنی زندگی کے لیے فیصلہ کریں۔ اگر آپ نماز نہیں پڑھتے تو اسی وقت نماز شروع کر دیں۔ ہماری مکمل طور پر مفت اور اشتہارات کے بغیر صلوٰۃ ایپ کے ساتھ آپ پانچوں نمازوں کواپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنے اسلامی علم کو وسیع کرنا چاہتے ہیں، تو ہم نے اس چینل پر آپ کے لیے بہت سی ویڈیوز تیار کی ہیں۔ آپ انہیں منظم انداز میں دیکھنے کے لیے ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو عربی میں قرآن پڑھنا نہیں آتا تو ہم نے Lamelif Quran کے نام سے ایک ایپ تیار کی ہے، جس سے آپ جلدی ،آسانی سے اور مفت قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی کو مزید گہرائی سے جاننا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری قرآنی تفسیر پڑھنے والی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اپنے لیےایک ہدف مقرر کر لیں گے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، تو سب کچھ بدلنا شروع ہو جائے گا۔ آگے قیامت ہی ہے۔ وہ دن قریب ہے جب منہ بند ہوں گے اور ہاتھ بولیں گے اور پاؤں گواہی دیں گے۔ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہے گا۔ قیامت کے دن ساری انسانیت اٹھائی جائے گی اور وہ سخت مشکلات کے دور میں قدم رکھے گی۔ تو اس طویل دن ایسا کیا ہے جو ہمارا انتظار کر رہا ہے؟ ہماری اگلی قسط میں دیکھیے،قیامت کا دن۔ تو پارٹ تھری میں ملتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ وڈیو دیکھ رہیں ہیں تو آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternityایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کے مدد سے ہی یہ ویڈیوز بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں توہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نا جانے دیں۔
وقت آ گیا ہے اور اختتام شروع ہو گیا ہے۔ یہ دنیا اور پوری کائنات کے مرنے کا وقت ہے۔ زمین اور آسمان اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ سب کچھ ٹوٹ رہا ہے ایک ایک کر کے ۔ لوگ الجھن میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے۔ وہ صدمے اور بے بسی کے عالم میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ کسی بھی زلزلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پہاڑ ہل رہے ہیں۔ سمندر بپھر رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک زمین کی ہر فالٹ لائن ٹوٹ رہی ہے، اور ہر چہرے پر، ایک گہرے اور بڑھتے ہوئے خوف کا سایہ ہے۔ آسمان سے ایک ایک کر کے ستارے گر رہے ہیں۔ لوگ چیختے ہوئے ہر طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن اب فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ اب امتحان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اور وہ ایک ایک کر کے زمین پر گر کر مر رہے ہیں۔ اور اب ہم قرآن کی آیات پڑھ کر بیان کریں گے کہ اس دن لمحہ بہ لمحہ کیا ہو گا۔ دنیا کا خاتمہ صور نامی ٹرمپٹ پھونکنے سے شروع ہوگا۔ اور فرشتے اسرافیل علیہ السلام کے صور پھونکنے کے بعد ایسے تباہ کن واقعات سامنے آئیں گے کہ نہ زمین نہ ستارے اور نہ ہی کہکشاں باقی رہیں گی۔ قرآن اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: "پھر جب صور پہلی بار پھونکا جائے گا، اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی ضرب سے ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے تو پھر اس دن عظیم واقعہ رونما ہو گا۔ اس دن آسمان کمزور ہو کر پھٹ جائے گا۔" اس دن کی دہشت کو کئی دوسری آیات میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ "اس دن زمین اور پہاڑ زور زور سے ہلیں گے اور پہاڑ سکڑ کر ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔" "اس دن ہم آسمانوں کو ایک کاغذ کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جیسے ہم نے پہلی بار تخلیق کیا تھااسی طرح ہم اس کا خاتمہ کریں گے۔ اور ہم یہ وعدہ پُورا کریں گے۔ بے شک،ہم یقیناّ یہ سب کچھ کریں گے۔" "تو اگر تم کفر کرتے ہو تو تم اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کے بال سفید کر دے گا؟ جس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اس کا وعدہ ضرور پورا ہو گا۔" یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ وہ دن دوسرے دنوں کے برعکس ہو گا اور یہ کہ وہ اس کائنات کے لیے موت کا دن ہو گا جسے ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ جس طرح ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے اس کائنات نامی وسیع تخلیق کی موت کا دن بھی مقرر ہے۔ ایک اور آیت میں، وہ واقعات جو ہمیں بتائیں گے کہ یہ آخری دن ہے اس طرح بیان کیے گئے ہیں : "جب سورج لپیٹ دیا جائے گااور جب ستارے گر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ جب حاملہ اونٹوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور جب جنگلی درندے اکٹھے ہوں گے۔ جب سمندر ابلیں گے۔" تو نہ آسمان اپنی جگہ رہے گا نہ زمین اپنی جگہ رہے گی۔ آپ جس طرف بھی مڑیں گے آپ کو ایک خوفناک منظر نظر آئے گا۔ شدید زلزلے زمین کو ہلائیں گے جس سے آتش فشاں پھٹ جائیں گے۔ میگما بڑے شگافوں سے باہر نکل کر سمندروں کے پانیوں کو اُبال دے گا۔ جب زمین ناقابل یقین طاقت سے ہلے گی اور پہاڑ بکھر جائیں گے، تو سمندر ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے اور تمام سمندر ایک وسیع، لامتناہی سمندر بن جائیں گے۔ تو ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے اس خوفناک دن کے آنے میں ؟ دس سال، 100 سال یا اس سے بھی زیادہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ اس دن کے آنے سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ جن میں سے کچھ معمولی ہیں اور کچھ بڑی۔ پہلے ہم معمولی نشانیوں کی بات کرتے ہیں۔ پھر بڑی نشانیوں کی طرف بڑھیں گے۔ اور آخر میں آپ خود فیصلہ کریں گے کہ وہ وقت قریب ہے یا ابھی بہت دُور ہے۔ پہلی چھوٹی نشانی ہمارے نبی ﷺ کا اس دنیا میں تشریف لانا ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے آخری رسول ہیں اس لیے بہت سے ذرائع اسے چھوٹی نشانیوں کےآغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، اس دنیا نامی اسکول کے آخری استاد تشریف لائے اور چلے گئے۔تو کیا گریجویشن واقعی بہت دُور ہو سکتی ہے؟ دوسری نشانی یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگیوں میں قرآن کو اہمیت دینا چھوڑ دیں گے۔ اور جب آج ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو ہم واضح طور پر ہر جگہ ایسا ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دنیاوی زندگی میں اتنے مگن ہیں کہ وہ قرآن کا ایک صفحہ کھولنا بھی بھول جاتے ہیں۔ میں اپنے کام اور زندگی میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے اسے پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ میں نے آخری بار قرآن تب پڑھا تھا جب میں بچپن میں قرآن پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ اور شاید آپ بھی ان میں سے ہیں۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ نماز چھوڑ دی جائے گی۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں اپنے ارد گرد اسکول یا کام کی جگہ کو دیکھ لیں دوستو، میں مسجد جا رہا ہوں کوئی اور میرے ساتھ نماز کے لیے آئے گا؟ جوں جوں قیامت کا دن قریب آئے گا نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی اور ایک نشانی یہ ہے کہ مساجد کو حد سے زیادہ سجایا جائے گا لیکن عبادت کو نظرانداز کیا جائے گا۔ ایک اور نشانی المحمہ الکبریٰ، جنگ عظیم ہے۔ یہ جنگ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں کہ اس سے کون سی جنگ مراد ہے اور کیا یہ پہلے ہی ہو چکی ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے جو بڑی جنگیں دیکھی ہیں، یعنی پہلی اور دوسری جنگ عظیم،ان کو بھی قیمات کی نشانیوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب آئیے جلدی سے دیگر چھوٹی نشانیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ دنیا کے خاتمے کے قریب اللہ اور ایمان کے ستونوں پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ لوگ اس کی قدر نہیں کریں گے، جو انھیں سونپا گیا ہے۔ سود عام ہو جائے گا۔ تجارت میں ایمانداری ختم ہو جائے گی۔ لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ وہ اپنا پیسہ حلال (جائز) ذرائع سے کماتے ہیں یا حرام (ناجائز) سے۔ زنا اور شراب نوشی جیسے کبیرہ گناہ بہت زیادہ پھیل جائیں گے۔ مختلف ناموں کی متعدد اقسام کے الکوحل والے مشروبات کی بہتات ہو گی۔ اور ان میں سے بعض کو حلال (جائز) بھی سمجھا جائے گا۔ بے حیائی اور نامناسب لباس عام ہو جائے گا۔ لوگوں میں بے حیائی بڑھنے لگے گی۔ لوگ مزید کنجوس اور لالچی ہو جائیں گے۔ خاندانی بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ بُوڑھے لوگ چھوٹوں پر رحم نہیں کریں گے۔ اور جوان بڑوں کا احترام نہیں کریں گے۔ لوگوں کی دلچسپی شادی میں ختم ہو جائے گی اور ناجائز اولاد میں اضافہ ہو جائے گا۔ جہاد اور تبلیغ (دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا) جیسی سرگرمیاں ترک کر دی جائیں گی۔ صرف غیر مذہبی علم ہی سیکھا جائے گا۔ فطرت کا توازن بگڑ جائے گا۔ پوری دنیا میں سیلاب، زلزلے اورآگ جیسی آفات میں اضافہ ہو جائے گا۔ قدرتی وسائل ختم ہو جائیں گے۔ قتل و غارت بڑھے گی۔ اونچی عمارتیں بنائی جائیں گی۔ تقدیر اور روزِ قیامت کا انکار کیا جائے گا۔ لہٰذا جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں روزِ قیامت کی تقریباً تمام چھوٹی نشانیاں پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہیں۔ یہ نشانیاں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ انسانیت اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آئیے اب بڑی نشانیوں کی طرف بڑھتے ہیں جو دنیا کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بڑی نشانیوں میں سے ایک دبہ الارض کا آنا ہے۔ بھاگو، کیا ہو رہا ہے؟ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ دبہ الارض ایک مخلوق کا نام ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گی۔ اس لفظ کا لغوی معنی زمین پر چلنے والا جاندار ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ زمین سے ایک قسم کا حیوان نکلے گا۔ اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: "اور جب ان کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا، تو ہم زمین سے ایک مخلوق لائیں گے جو انھیں بتائے گی کہ لوگ ہماری آیات پر صدقِ دل سے یقین نہیں کرتے تھے۔ عظیم اسلامی اسکالر بدیع الزماں سعید نورسی فرماتے ہیں کہ دبہ الارض اکیلی مخلوق نہیں ہو گی، بلکہ یہ ایک نوع، ایک قسم کی مخلوق ہو گی۔ گزشتہ صدی میں، نئی بیماریاں اور وائرس پہلے سے کہیں زیادہ کثرت سے نمودار ہوئے ہیں۔ یہ درختوں کو کھانے والے کیڑوں کی طرح انسانی جسم میں سر سے پاؤں تک پھیل جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسانیت کا ایمان کتنا کمزور ہو گیا ہے، اور لوگ اللہ سے کتنی دُور ہو گئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان پر ایک کے بعد ایک آفت آ رہی ہے۔ آیت کے الفاظ کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں: "وہ وحی پر پختہ یقین نہیں رکھتے۔" بے شک اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ صرف اور صرف ایک تشریح ہے۔ ایک اور بڑی نشانی یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے۔ یہ انسانی گروہ لوگوں کو بہت نقصان پہنچائیں گے۔ اور زمین پر فساد پھیلائیں گے۔ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی رکاوٹ کی وجہ سے یہ فاسد قومیں لوگوں پر حملہ کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ لیکن قیامت کے قریب، وہ دوبارہ ابھریں گی اور ایک بار پھر انسانیت پر حملہ کریں گی۔ شمال میں ایک پہاڑی علاقے میں اپنی فوجی مہم کے دوران، ذوالقرنین کی ملاقات لوگوں کے ایک گروہ سے ہوئی جو یاجوج و ماجوج کے نام سے مشہور فاسد اور جارح قبائل کے بارے میں شکایت کر رہے تھے۔ "اے ذوالقرنین، یاجوج و ماجوج اس سرزمین کو برباد کر رہے ہیں۔ اگر ہم آپ کو معاوضہ دیں تو کیا آپ ہمارے اور ان کے درمیان رکاوٹ تعمیر کر دیں گے؟" ان کے کہنے پر ذوالقرنین نےاس علاقے میں ایک رکاوٹ تعمیر کر دی۔ اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد، یاجوج و ماجوج نہ اس کے اوپر سے گزر سکتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔ ذوالقرنین نے کہا کہ یہ رکاوٹ تب ہی ٹوٹے گی، جب اللہ کا مقرر کردہ وقت آئے گا۔ اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ بعض آراء کے مطابق یہ گروہ منچورین اور منگول ہیں۔ صدیوں بعد، قیامت کے قریب ان کی اولادیں ایک بار پھر اپنے آباء و اجداد کی طرح مظالم سے انسانیت کو نقصان پہنچائیں گی۔ بے شک، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک اور نشانی دجال کا آنا ہے۔ روایات میں دجال کی آمد کو دنیا کے خوفناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ حدیثِ نبوری میں دجال کو جھوٹا، دھوکے باز، اور جھوٹا لیڈر کہا گیا ہے جو برائی کو اچھائی اور سچ کو جھوٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیس ہوں گے۔ ان میں قیامت کے قریب والے دو دجالوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ایک بڑا دجال ہے۔ اور دوسرا دجال وہ ہے، جو مسلمانوں میں سے نکلے گا، یعنی سفیانی۔ روایات کے مطابق سفیانی منافقانہ طریقے سے کفر اور حرام پھیلا کر اسلام کو خراب کرنے اور لوگوں کی ابدی زندگی برباد کرنے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف بڑا دجال اپنے پھیلائے ہوئے نظریات کے ذریعے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو کفر کی طرف لے جائے گا۔ ایک اور نشانی امام مہدی کا ظہور ہے۔ جو ہمارے نبی ﷺ کی نسل سے ہوں گے۔ امام مہدی کو اللہ نے ہدایت یافتہ انسان کہا ہے جو لوگوں کو اپنے خالق کی طرف واپس لے جائیں گے۔ وہ کفر میں ڈوبے ہوئے لوگوں اور اپنے ایمان کے بارے میں شک اور الجھن میں مبتلا لوگوں کو نجات دیں گے۔ وہ لوگوں کو اندھیروں سے اور دجال اور سفیانی کے خطرے سے بچائیں گے۔ اہم ترین نشانیوں میں سے ایک آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے، جنھیں جیسز بھی کہا جاتا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئیں گے اور اسلام کے احکام کو نافذ کریں گے۔ پچھلی زندگی میں جب وہ نبی تھے تو یہودیوں نے ان کے لیے جال بچھا کر انھیں مصلوب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ ایسا کر سکیں، اللہ نے انھیں آسمان پر اٹھا لیا۔ امام مہدی کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک عادل حکمران کے طور پر آسمان سے نازل ہوں گے۔ آخر میں وہ دجال کے خاتمے کے لیے امام مہدی کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور خود دجال کو ہلاک کریں گے۔ ایک اور نشانی دخان (یعنی دھواں) ہے۔ دخان کا اصل مطلب دھواں ہے۔ بعض اقوال کے مطابق جب قیامت کا دن قریب آئے گا۔ تو دھواں آسمان سے اتر کر پوری دنیا کو ڈھانپ لے گا۔ یہ سلسلہ 40 دن تک جاری رہے گا۔ ایک اور بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو جو لوگ اسے دیکھیں گے وہ واضح طور پر سمجھ جائیں گے کہ دنیا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ لیکن تب تک توبہ اور امتحان کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ لہذا ،اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ قیامت کی سب سے واضح نشانی ہے۔ ان تمام نشانیوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اب قیامت کا دن بہت قریب ہے۔ لیکن ایک ایسی چیز ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہر انسان کی قیامت اس کی اپنی موت ہے۔ لہٰذا ہمیں جس چیز پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے اپنی قیامت کی تیاری۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ابھی سبق حاصل کریں اور آج ہی عمل کریں۔ جیسا کہ ہمارے خالق نے اس آیت میں فرمایا ہے "کیا وہ صرف قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئے اور انہیں حیران کر دے؟ حالانکہ اس کی کچھ نشانیاں آچکی ہیں۔ لیکن ایک بار جب یہ ان پر آ جائے گی تو پھر آگاہی کا کیا فائدہ؟" اگر یہ ویڈیو آپ تک پہنچی ہے تو مان لیں کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ اللہ اسے آپ کے سامنے لایا ہے اوراسے آخر تک دیکھنے میں آپ کی رہنمائی کی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بدلیں۔ تو کیا آپ بدلے میں اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھائیں گے؟ یہ وقت ہے کہ آپ اپنی زندگی کے لیے فیصلہ کریں۔ اگر آپ نماز نہیں پڑھتے تو اسی وقت نماز شروع کر دیں۔ ہماری مکمل طور پر مفت اور اشتہارات کے بغیر صلوٰۃ ایپ کے ساتھ آپ پانچوں نمازوں کواپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنے اسلامی علم کو وسیع کرنا چاہتے ہیں، تو ہم نے اس چینل پر آپ کے لیے بہت سی ویڈیوز تیار کی ہیں۔ آپ انہیں منظم انداز میں دیکھنے کے لیے ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو عربی میں قرآن پڑھنا نہیں آتا تو ہم نے Lamelif Quran کے نام سے ایک ایپ تیار کی ہے، جس سے آپ جلدی ،آسانی سے اور مفت قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی کو مزید گہرائی سے جاننا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری قرآنی تفسیر پڑھنے والی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اپنے لیےایک ہدف مقرر کر لیں گے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، تو سب کچھ بدلنا شروع ہو جائے گا۔ آگے قیامت ہی ہے۔ وہ دن قریب ہے جب منہ بند ہوں گے اور ہاتھ بولیں گے اور پاؤں گواہی دیں گے۔ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہے گا۔ قیامت کے دن ساری انسانیت اٹھائی جائے گی اور وہ سخت مشکلات کے دور میں قدم رکھے گی۔ تو اس طویل دن ایسا کیا ہے جو ہمارا انتظار کر رہا ہے؟ ہماری اگلی قسط میں دیکھیے،قیامت کا دن۔ تو پارٹ تھری میں ملتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ وڈیو دیکھ رہیں ہیں تو آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternityایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کے مدد سے ہی یہ ویڈیوز بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں توہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نا جانے دیں۔