Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

"Bible Mukammal Parhne Ke Baad Maine Islam Qubool Kar Liya!" – Ex-Christian Ka Safar-e-Islam

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

جب میرا پہلی بار گینگ سے تعارف ہوا تو اُس وقت میں ساتویں گریڈ میں تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میرے والد نے مجھ سے کہا، پتہ ہے کیا کہا؟ ’’پتہ ہے کیا کہا؟ تم اب میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘ میرے والد گاڑی میں بٹھا کر مجھے گھر کے قریب ایک پارک میں لےائے۔ اُنہوں نے کار پارک کی اور کہا، ’’اتر جاؤ۔‘‘ میں کار سے اترا اور وہ چلے گئے۔ تو یہ سارے واقعات ہوئے، اِن لمحات میں، میں خدا سے کہتا، ’’اے خدا میری مدد کر۔‘‘ اے خدا مجھے اِس حالت سے نکال دے میں خود کو بدل لوں گا۔ اوراُس موقع پر، مجھ میں ایک اعتراض پیدا ہوا۔ کیا Jesus خدا ہیں؟ مگر، Jesus تووفات پا چکے ہیں۔ تو اُس نے ہمیں قرآن دیا۔ ہم نے قرآن لیا۔ ہم لوگ میرے گھر پر آئے اور اِس پر بات کرنا شروع کی۔ اب اصل روشنی آ چکی ہے۔ میں نے کہا ’’مجھے اُسے خدا کہنے میں زیادہ سکون ملتا ہے جسے Jesus نے خدا کہا تھا۔‘‘ میری والدہ مجھ سے لڑِیں، ہماری لڑائی ہوئی۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا، ’’بیٹا، میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’اوہ، اب کیا؟۔‘‘ کہنے لگیں، ’’میں تمہارے ہر کام کو دیکھ رہی ہوں، تمہارا ایمان حیرت انگیز ہے اور اِس نے تمہاری زندگی کو جس طرح بدلا ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے۔‘‘ ’’اور میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔‘‘ السلام علیکم، امام Wesley LeBron ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ Towards Eternity کے انٹرویو میں خوش آمدید۔ امام Wesley LeBron کون ہیں، کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتے ہیں؟ وعلیکم السلام۔ مجھے بلانے پر جزاک اللہ۔ الحمدللہ، میں آپ کا بھائی امام Wesley LeBron ہوں۔ نسلی طور پر پورٹو ریکن ہوں۔ میرا تعلق پورٹو ریکو کے آئی لینڈ سے ہے۔ میں نیو جرسی کی ریاست میں Passaic نامی شہر میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ میرا تعلق ایک عیسائی فیملی سے تھا۔ میری پرورش زیادہ تر اِس عقیدے کے ساتھ ہوئی کہ Jesus علیہ السلام خدا ہیں، خدا کے بیٹے ہیں۔ تقریباً میرے مڈل اسکول میں پہنچنے تک، جہاں میں مذہب سے بالکل ہی بیزار ہو گیا اور بطور نوجوان جیسے ایک آوارگی کی زندگی میں کھو گیا۔ پارٹیاں، شراب نوشی، سگریٹ نوشی۔ اور پھر تقریباً 20 سال کی عمر میں اسلام سے میرا تعارف ہوا۔ ماشاءاللہ عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا کس پر ایمان تھا؟ عقیدے کے لحاظ سے،بطور پورٹو ریکن، عیسائیت ہمارے ایمان کی بنیاد تھی، یعنی یہ ایمان کہ Jesus خدا ہیں، اور یہ عقیدہ کہ اُنہی کی عبادت کرنی چاہیے، اور اُنہی سے مدد مانگنی چاہیے۔ تو ظاہر ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے شخص کے طور پر میرے اندر اپنے بچپن میں اِس عقیدے پر کوئی اعتراض پیدا نہ ہوا۔ مجھ میں اِس عقیدے پر اعتراض اپنی ٹِین ایج میں پہنچ کر پیدا ہوا۔ جب میں کوئی کام شروع کرتا یا کسی مشکل میں پھنس جاتا، تو اُس وقت مذہب فوراً سامنے آ جاتا تھا۔ جب آپ مشکل میں پھنستے ہیں۔ زندگی میں کچھ برا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ’’اوہ خدا میری مدد کر، مجھے بچا۔‘‘ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کس سے مدد مانگوں۔ میں Jesus سے مدد مانگوں؟ یا خدا سے؟ اور اُس موقع پر میرے اندر ایک سوال نے جنم لیا، کیا Jesus خدا ہیں؟ Jesus تو وفات پا چکے ہیں۔ اگر وفات پاگئے، تو یعنی وہ انسان تھے۔ کیا وہ خدا ہو سکتے ہیں؟ کیا خدا مر سکتا ہے؟ یہ سب چیزیں ایک ساتھ کیسے ہو سکتی ہیں؟ اور پھر میں نے، مذہب سے خود کو دور کرنے کو ترجیح دی۔ لہٰذا میں نے کبھی کوئی تحقیقات وغیرہ نہیں کیں اور اپنی زندگی جیتا رہا، صرف حال کے متعلق، اپنے مزوں، اپنی تفریح اور اِسی انداز سے زندگی گزارنے کے بارے میں سوچتا رہا۔ جب آپ گینگ لائف میں شامل ہوئے تو اُس وقت آپ کی کیا عمر تھی؟ جب میرا پہلی بار گینگ سے تعارف ہوا تو اُس وقت میں ساتویں گریڈ میں تھا۔ میرے کزنز وغیرہ سب بڑے تھے۔ میں ہمیشہ بڑے لڑکوں کے ساتھ رہتا تھا، میں خاندان میں سب سے چھوٹا کزن تھا۔ مجھے پہلا تجربہ تب ہوا جب میں ساتویں گریڈ میں تھا۔ جب میرا کزن Fourth Street Posse نامی تنظیم کا حصہ تھا، اور اُس نے مجھ سے اِس میں شامل ہونے کے لیے رائے پوچھی، میں نے کہا، ہاں، ضرور، کیوں نہیں؟ مگر الحمدللہ، اللہ نے میری حفاظت کی۔ میں وہاں زیادہ شدِت سے نہیں جُڑ سکا، جس کی وجہ میری رہائشی جگہ تھی۔ میرا گینگ لائف سے دوبارہ تعارف میرے اسلام قبول کرنے سے بالکل پہلے تقریباً 19، 20 سال کی عمر میں ہوا۔ اورتب میں آخرکار میں Zulu Nation میں شامل ہوگیا تھا۔ Zulu Nation کے دو دھڑے تھے۔ اِس کے دو رُخ تھے۔ اِس کا ایک رُخ تو وہ تھا جس کو سب جانتے ہیں جیسے کہ ہِپ ہاپ اور میوزک۔ ایک لڑکا مہینے میں ایک بار نیویارک سٹی میں Harlem میں میٹنگز رکھتا تھا، اُس کی میرے ہی گھر میں لے پالک بچے کے طور پر پرورش ہوئی تھی۔ اُس نے میرا تعارف اُن سے کرایا۔ اور پھر اسطرح سے میری گینگ لائف شروع ہوئی۔ کیونکہ وہ لڑکا Edgar، جو میرے گھر میں رہتا تھا، وہ بھی اِس زندگی کا حصہ تھا۔ اور پھر وہ ایک دن مجھے Jersey لے گیا، جہاں ہم رہتے تھے، اور پھر ہم نے نیو جرسی میں اُس گینگ کا ایک نیا دھڑا قائم کرنا شروع کیا۔ تو آپ مجھے اُس لے پالک بھائی کے بارے میں بتا رہے تھے۔ جی کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ دونوں ایک ہی گھر میں کیسے رہے؟ اور کیا وہ بلیک تھا؟ وہ لے پالک بچہ تھا۔ میرے والد، میری والدہ لے پالک بچوں کی پرورش کیا کرتے تھے۔ میری والدہ، میری پھوپھی اور میری دادی۔ اور Edgar بھی پورٹو ریکن نسل سے تھا میری طرح۔ ہم باہر گھومتے میں اُسے باہر لے جایا کرتا تھا۔ چلو۔ باہر گھومنے چلتے ہیں چلو مزے کرتے ہیں۔ اور پھر بنیادی طور پر، وہ ایک.

اور اُس وقت بھی، میں جیسے کسی چیز کی تلاش شروع کر چکا تھا۔ کیونکہ دو مرتبہ میری کار کا حادثہ ہو چکا تھا۔ نشے میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے مرتے مرتے بچا تھا۔ کلب میں میرے جھگڑے ہوئے۔ میرے سر پر، اِس طرف ایک بوتل ماری گئی، ابھی تک زخم کا نشان ہے۔ اِس طرف کافی کا کپ مارا گیا، زخم آیا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر یہ ذرا سا بھی زیادہ گہرا ہوتا تو یہ زندہ نہ بچتا۔ تو مجھ میں یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ زندگی میں میرا مقصد کیا ہے؟ میں کِس طرف جا رہا ہوں؟ میں زندگی میں کیا کروں گا؟ میں اِس طرح کیسے جیتا رہوں گا؟ آپ سمجھ رہے ہیں ؟ یا پھر مجھے وہ سب کرتے رہنا چاہیے جو میرا دل چاہے، اور دنیا میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے؟ پھر اُس دوران Edgar نے مجھے کہا، "چلو میں تمھیں Zulu Nation سے ملواؤں۔" اُن کی میٹنگز ہوتی ہیں، یہ ایک گینگ ہے مگر ساتھ ساتھ وہ ہِپ ہاپ سے بھی کنیکٹِڈ ہے۔ تو اِس سے میری دلچسپی بڑھی اور میں نے کہا، ’’اوکے، چلو چل کے اِسے آزماتا ہوں۔‘‘ تو پارٹیز، شراب نوشی، سگریٹ نوشی، یہ ساری چیزیں میری زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔ میں ہر ممکن حد تک اپنے والد سے چُھپتا تھا۔ مگر میرے والد بھی جانتے تھے کہ میں اِن چیزوں میں involve ہوچکاہوں۔ اِس کے بعد، سبحان اللہ، شراب نوشی، ڈپریشن اور زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے میں شراب کا تقریباً عادی بن گیا تھا۔ تو آپ کے ڈپریشن، آپ کے مُوڈ کی سب سے بڑی وجہ کیا تھی؟ کیا آپ اُن بچوں کے حوالے سے فکرمند تھے جن کی ذمہ داری آپ پر تھی، یا آپ کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہونا اِس کی وجہ تھا؟ تو اِس کی سب سے بڑی وجہ مجھے یہ معلوم نہ ہونا تھا کہ میری زندگی کہاں جا رہی ہے؟ بنیادی طور پر ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ میرے پاس ضرورت کی ہر چیز تھی، مگر پھر بھی جیسے کسی چیز کی کمی تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میرے والد نے مجھ سے کہا، پتہ ہے کیا کہا؟ ’’تم اب میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘ میری عمر تقریباً 18، 19 سال تھی، تب انہوں نے کہا، ’’تم اب میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘ میں اپنی والدہ کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ میرے والد مجھے گھر سے نکال رہے تھے۔ میرے خاندان کا کوئی اور فرد نہ تھا جس سے میں جا کر کہتا، ’’ میں آپ گھر آ کر رہ سکتا ہوں؟‘‘ میرے والد گاڑی میں بٹھا کر مجھے گھر کے قریب ایک پارک میں لےآئے۔ اُنہوں نے کار پارک کی اور کہا، ’’تم حد سے گزر چکے ہو، بیٹا۔‘‘ ’’تم نے اپنی زندگی میں بہت ساری چیزیں بہت تیزی سے کر لی ہیں۔ تم نے بہت زیادہ غلط فیصلے کر لیے ہیں۔ اور تمہارے بھائی اور بہن بھی ہیں جو تم سے چھوٹے ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ اُن پر تمہارے برے اثرات پڑیں۔‘‘ کہنے لگے، ’’مجھے تم سے محبت ہے، مگر میں شاید تمہیں کھو چکا ہوں۔ میں تمہارے لیے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ $100 رکھو۔‘‘ تب ان پیسوں میں ایک کمرہ مل جاتا تھا، ایک کمرہ کرائے پر $100ہفتہ یا $50 ہفتہ پے۔ کہنے لگے ’’ $50 ہفتہ پر ایک کمرہ مل سکتا ہے۔ تم وہاں رہو، اور اگر میں تمہاری مدد کر سکا، تو ضرور کروں گا۔ تم جاب کر سکتے ہو۔ مگر اِس وقت میں تمہارے لیے یہی کر سکتا ہوں۔‘‘ پھر اُنہوں نے کہا، ’’اتر جاؤ۔‘‘ میں کار سے اترا اور وہ چلے گئے۔ میں اُس دن پارک میں بیٹھا روتا رہا، سوچ رہا تھا کہ اپنی زندگی میں کیا کروں گا؟ میں اُن لمحات سے گزر رہا تھا اور اس مقام تک پہنچ چکا تھا جب کچھ سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ میں کہاں جاؤں؟ کیا کروں؟ مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ اپنی زندگی کے اِس موقع پر، آپ نے اِس گینگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا؟ کیا معاملہ ہوا تھا؟ تو جب میں Zulu Nation میں شامل ہوا، تو اُس کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میں Edgar کے ذریعے وہاں ایک بھائی سے ملا جس کا نام عبدالعزیز تھا۔ Edgar اور اُس میں رابطہ تھا۔وہ گینگ لیڈر تھا۔ Edgar اُس کے ماتحت، اُس کا سپاہی تھا۔ اُن دونوں نے ملاقات کی۔ ایک دوسرے سے گلے ملے۔ میں نے کئی سالوں سے تمہیں نہیں دیکھا؟ تم اتنا عرصہ کہاں رہے؟ کیسے ہو؟ یہ اور اِس طرح کی باتیں ہوئیں۔ اور اُس دن عبدالعزیز نے وہاں موجود لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی تھی۔ عبدالعزیز نے کہا، ’’سنو، تم لوگ مجھے Bronx لے جا سکتے ہو؟ مجھے گھر لے چلو۔ میں آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ Edgar نے مجھے دیکھا اور کہا، ’’کیا ہم اِنہیں لے جا سکتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں میں ڈرائیوکر لوں گا۔‘‘ ہم اُسے Bronx لے آئے۔ اُس نے ہم سے توحید پر بات کرنی شروع کی۔ اور میں سوچنے لگا کہ، ’’یہ توحید کیا ہے؟ خدا کا ایک ہونا۔ کیا مطلب، ایک خدا؟ اِس کے کیا معانی ہے؟ مطلب آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا۔ Jesus خدا کے بیٹے نہیں ہیں۔ Jesus خدا کے پیغمبر ہیں، جنہیں انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اور ہم مسلمانوں کا یہی ایمان ہے۔ تب اُنہوں نے ہمیں قرآن دیا، اور مجھے اپنی زندگی کی پہلی کتاب مِلی، کتاب التوحید جسے ڈاکٹر بلال فلپس نے لکھا تھا۔ توحید کی کتاب، خدا کی یکتائی کی کتاب۔ تو میں اور Edgar اور ہمارا ایک اور دوست ٹونی، ہم تینوں ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے تھے۔ ہم نے قرآن لیا۔ ہم لوگ میرے گھر پر آئے اور ہم نے قرآن پڑھا۔ اور ہم نے اُس پر بات کرنا شروع کی۔ اچھا، یہ کس بارے میں ہے؟ اور یہ کیا بات ہے؟ اور اِس بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نے اُس پر بحث کرنا شروع کی۔ اور پھر اُس موقع پر، ہم نے دوسرے مذاہب پر غور کرنا شروع کیا اور میں چونکہ زیادہ شکی مزاج تھا، رائٹ؟ تو میں نے کہا، ’’ٹھہرو، مجھے نہیں پتہ۔‘‘ میرا دوست ٹونی، جیل میں رہ چکا تھا۔ وہ جیل میں مسلمانوں سے مل چکا تھا۔ اُسے محمد (ﷺ) کے بارے میں پتا تھا۔ کہنے لگا، ’’صحیح اسلام وہ ہے جو عرب کے محمد (ﷺ) لے کرائے۔‘‘ میں نے کہا، ’’تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ ’’یہاں محمد عربی بھی ہیں، محمد علیجاہ بھی ہیں، محمد حبشی بھی ہے۔‘‘ تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کون صحیح ہے؟ ’’اس نے کہا، میں کہا رہا ہوں نا کہ وہ عرب والے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’نہیں، نہیں، نہیں، ہمیں پڑھنا ہوگا۔‘‘ ہم نے اِس بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ ہم نے ایک کتاب پڑھنی شروع کی جس کا نام تھا "From N*gg*rs to Gods"، سبحان اللہ۔ اور زیادہ تر وقت، میں نے بائبل کو پڑھنے میں ہی لگایا۔ میں نے کہا، ’’میں ایک عیسائی پیدا ہوا ہوں۔ میں کوئی بھی چیز اُس وقت تک قبول نہیں کر سکتا جب تک کہ میں عیسائیت کو کم از کم آزما نہ لوں۔‘‘ میں نے بائبل کو شروع سے آخر تک پڑھا۔ اور جب میں بائبل پڑھ رہا تھا تو میں حیران رہ گیا کہ ہر وہ چیز جو بائبل میں لکھی تھی، قرآن میں بھی وہی بات لکھی تھی۔ میں سوچنے لگا، سبحان اللہ۔ اہ،اہ۔۔ اِس میں نہیں لکھا Jesus خدا ہیں، نہ یہ لکھا ہے کہ Jesus خدا کے بیٹے ہیں۔ ہم پوری زندگی یہ سب کیوں کرتے رہے ہیں؟ آخر کیوں؟ اور میں اپنی فیملی کے پاس جا کر کہتا، "یہ دیکھیں!

یہاں۔ ایسا کیوں ہے؟ " میری دادی، جو سب سے زیادہ مذہبی تھیں۔ میں کہتا، ’’دادی، مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائیں۔‘‘ اور وہ پڑھتیں اور مجھے کہتیں، ’’نہیں، نہیں، نہیں۔ تم مجھے بہکانے کی کوشش کر رہے ہو۔‘‘ ’’میں اِس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ رائٹ؟ اُنہیں مجھ سے بات کرتے ہوئے خوف آنے لگاتھا۔ میں کہتا ’’میں آپ کو بہکانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’میں سچ جاننا چاہتا ہوں۔ اور اگر آپ کو سچ پتہ ہے، تو مجھے بتائیں۔‘‘ مگر یہ بات عقل میں نہیں آتی۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اور بائبل کو مکمل طور پر پڑھنے اور بائبل کے ساتھ ساتھ قرآن کا مطالعہ کرنے کے سفر میں، میں اُس موقع پر پہنچا جب Jesus کو صلیب پر باندھا گیا تھا۔ جہاں وہ کہتے ہیں، ’’میرے خدا، میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں میں ہونے والے مناظرے دیکھے ہیں۔ اہ۔۔ پاسٹر کہتا ہے، ’’Jesus خدا کے بیٹے ہیں اور Jesus خدا ہیں۔‘‘ میں آخر تک انتظار کرتا رہتا۔ پھر میں پاسٹر کے پاس جاتا اور کہتا، ’’سنیں، میرے پاس آپ کے لیے ایک سوال ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’مجھے ایک مسئلہ ہے میرا ایمان لڑکھڑا رہا ہے۔‘‘ مجھے ایک مسئلہ ہے۔ میں بائبل پڑھتا ہوں۔ بائبل میں خدا کہتا ہے کہ Jesus نے صلیب پر کہا تھا، ’’میرے خدا، میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ میں نے کہا، ’’میرا مسئلہ یہ ہے، Jesus کس کو پکار رہے تھے؟‘‘ وہ کہہ رہے تھے، ’’میرے خدا، میرے خدا۔‘‘ اُنہوں نے یہ نہیں کہا، ’’میں خود، میں خود۔‘‘ وہ اپنے آپ سے بات نہیں کر رہے تھے۔ وہ کسی اور سے بات کر رہے تھے۔ یہ ظاہر سی بات ہے۔ رائٹ؟ وہ کس سے بات کر رہے تھے اُنہیں اپنا مقصد معلوم کیوں نہیں تھا؟ آپ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے سُولی چڑھ گئے۔ مگر وہ کہتے ہیں، ’’تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ وہ کس سے بات کر رہے تھے؟ تو وہ اِس طرح میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھتا ہے۔ اور کہتا ہے، ’’بیٹا، تمہیں بس ایمان رکھنا ہے۔‘‘ تو میں نے کہا، ’’کم آن مین، آخر کیسے؟‘‘ آپ مجھے اندھا رکھنا چاہتے ہیں؟‘‘ خدا نے مجھے دماغ دیا ہے۔ میں بے وقوف نہیں ہوں۔ الحمدللہ، میں نے ہائی اسکول سے گریجویٹ نہیں لیا میں نے GED نہیں کیا۔ مگر میں احمق نہیں ہوں، رائٹ؟ سبحان اللہ۔ میں نے کہا ’’مجھے اُسے خدا کہنے میں زیادہ سکون ملتا ہے جسے Jesus نے خدا کہا تھا۔‘‘ میں نے کہا، ’’وہ واحد مذہب جو مجھے ملا جو اصل پیدا کرنے والے کی طرف بلاتا ہے وہ اسلام ہے۔ ہر وہ چیز جو پیدا کی گئی ہے وہ اُسی کی عبادت کر رہی ہے۔ میں نے کہا، ’’تو میں مسلمان ہونے جا رہا ہوں۔‘‘ اور اُس موقع پر، اُنہی دنوں عبدالعزیز سے ملنے گئے، اور وہ کہنے لگا، ’’آپ لوگ مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ تو میرے دوست کہنے لگے، ہاں!

میں نے کہا، ارے ،ارے،رکو، رکو ٹھہرو ٹھہرو۔ ہم یہ کام ایک ساتھ کریں گے۔ ہر شک دور کر لو۔ تمہیں کوئی شک؟ تمہیں کوئی شک تو نہیں۔ رائٹ۔ میں نے اُسے کہا، ’’میں ایک شرط پر مسلمان ہوں گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں بھی ایک انسان ہوں۔ مجھے یہ نہ کہنا کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، کب کرنا ہے۔‘‘ اگر ہم اِس پر متفق ہیں، تو میں اسلام قبول کرلوں گا۔ میں ابھی تک محمد (ﷺ) کے بارے میں نہیں جانتا، مجھے نہیں معلوم وہ کون ہیں۔ مگر میں قبول کروں گا۔ میں بعد میں اُن کے بارے میں جانوں گا۔ کیونکہ میں مانتا ہوں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ لہٰذا اگر یہ خدا کی کتاب ہے، تو محمد (ﷺ) کا وجود بھی ضروری ہے، رائٹ۔ تو عبدالعزیز نے کہا، ’’نو پرابلم۔‘‘ مجھے کلمہ پڑھا دیا، الحمدللہ۔ اُس نے ہمیں کلمہ پڑھا دیا۔ اور یہ اسلام کی طرف آنے کا شروعاتی سفر تھا۔ الحمدللہ۔ تو میں اِس بات کو اہم سمجھتا ہوں کہ مجھے مسلم کمیونٹی میں رہنے کا وہ حیرت انگیز لمحہ نہیں ملا، الحمدللہ۔ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اِس سے مجھے وہاں پہنچنے میں مدد ملی جہاں آج میں ہوں۔ الحمدللہ۔ تو میرے خیال میں مجھے اُس تجربے کا حاصل ہونا ایک بہترین تجربہ تھا۔ الحمداللہ۔ آپ نے شروع کے مراحل میں اِس سفر پر اکیلے جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ پوری طرح تو نہیں، مگر میرے پاس کوئی چوائس نہیں تھی، میں مسلمانوں کو نہیں جانتا تھا۔ اور وہ واحد مسلمان جسے میں جانتا تھا وہ عبدالعزیز تھا۔ اور عبدالعزیز سے بات کرنے کے لیے ہم اکثر اُس کے پاس جاتے رہتے تھے۔ مگر پھر اُس نے ہمیں کہا، ’’واپس نیویارک نہ آنا،‘‘ کیونکہ میرا خیال ہے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ تب تک ہماری رہنمائی کے لیے پرفیکٹ نہیں تھا۔ اور وہ ہم سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ہم سے اِس طرح نہیں ملنا چاہتا تھا کہ ہم اُسے پوری طرح ہدایت یافتہ زندگی پر نہ دیکھیں۔ کیونکہ وہ نئے اسلام قبول کرنے والوں کے لیے بری مثال نہیں بننا چاہتا تھا۔ لہٰذا اُس نے ہم سے کہا، ’’جاؤ مسلمانوں کو ڈھونڈو۔‘‘ اور اُس نے ہمیں آتے رہنے اور اسلام کے بارے سیکھتے رہنے کی اجازت بھی دی ماشاء اللہ۔ مگر میں فوراً ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر مجھے اچھا مسلمان بننا ہے تو مجھے اِس دین کو پڑھنا ہوگا۔ کیونکہ دین کو سمجھنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے، رائٹ؟ سوائے اِس کے کہ کوشش کی جائے اور قربانی دی جائے۔ مجھے تجسس ہے کہ آپ نے اسلام قبول کرتے ہوئے وہ ڈسکلیمر کیوں دیا تھا؟ کہ آپ تین کاموں سے مجھ سے نہیں کہیں گے۔ وہ بات کہنے کی وجہ کیا تھی؟ میں خود کو جانتا تھا، مجھے پتہ تھا کہ اگر وہ مجھ سے کہیں گے ’’اب تم گرل فرینڈ نہیں رکھ سکتے۔‘‘ تو میں کہتا، ’’ٹھیک ہے، پھر میں مسلمان نہیں ہونا چاہتا۔‘‘ گرل فرینڈ تو میں رکھوں گا۔ رائٹ ’’تمہیں شراب چھوڑنی ہوگی۔‘‘ میں تب تک شراب نوشی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ’’تم اسموک نہیں کر سکتے۔‘‘ آخر کیوں؟ یہ سب باتیں مجھے معقول نہیں لگتیں۔ لہٰذا، میں نے یہ ڈسکلیمر دے کر اُسے بتا دیا کہ دیکھیں، اگر آپ مجھے اصولوں اور ضابطوں میں جکڑیں گے، تو میں مسلمان ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ رائٹ؟ میں ایک آوارہ زندگی گزار کر آ رہا ہوں۔ اور میری زندگی میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ الحمدللہ، میں اپنی زندگی میں اللہ کو قبول کر رہا ہوں۔ فی الحال مجھے اِس سے آگے کچھ نہ کہیں۔ مجھے اِس کی ضرورت ہے، مگر اِس کے علاوہ دوسری چیزیں، یہ اصول اور ضابطے، اِنہیں اِنہیں فی الحال میں اپنی زندگی میں نہیں چاہتا ہوں۔ اور میرے خیال میں عبدالعزیز، خود بھی reverted مسلمان تھا، وہ یہ بات سمجھتا تھا۔ وہ اُس موقع پر میری ضرورت کو سمجھا۔ اور اُس نے مجھے بہتر ہونے کا موقع دیا۔ اور مجھے یاد ہے کہ میں وہاں بیٹھے ابراہیمؑ کی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا، جہاں وہ اپنی قوم سے کہہ رہے تھے، ’’سورج میرا رب ہے، چاند میرا رب ہے، ستارہ میرا رب ہے۔ میرا رب تو اِن سب کا خالق ہے۔‘‘ اور میں وہاں بیٹھا اِس بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا، ’’اور کتنے مواقع...‘‘ میں خود سے بات کر رہا تھا۔ ’’آخراللہ تمہیں اور کتنے مواقع دے گا؟‘‘ تم مرنے والے تھے، تم جیل پہنچنے والے تھے، تمہارے بچے ہیں۔ تم اپنی زندگی میں اتنی سب چیزوں سے گزر کر پھر وہی سب کام کر رہے ہو۔ تم اِس وقت یہاں بیٹھے سموک کر رہے ہو اور شراب پی رہے ہو۔ ’’لا الٰہ الّا اللہ محمد الرسول اللہ‘‘ کہنے کے بعد بھی۔ یہ سب کب ختم ہوگا؟ میں نے اپنے دوستوں کو دیکھا اور کہا، ’’تم لوگوں کو جانا ہوگا۔‘‘ اُنہوں نے کہا،’’کیا؟ کوئی بات نہیں۔ تمہیں نشہ زیادہ چڑھ گیا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’نہیں۔ اب اصل روشنی آ چکی ہے۔ مجھے اپنی زندگی سے تم سب کو نکالنا ہوگا۔ کیونکہ اگر میں تمہیں اپنی زندگی میں رکھوں گا، میں خود کو بدل نہیں سکوں گا۔ چلے جاؤ!‘‘ اور اُس کے بعد، مجھے اپنے دوستوں سے چھٹکارا مل گیا۔ اور نہ صرف دوستوں سے بلکہ اپنی فیملی سے بھی۔ کیوں؟ کیونکہ میرے کچھ کزنز، جن کے ساتھ رہ کر مجھے معلوم تھا کہ میں سموکنگ، ڈرینکینگ، پارٹیز، یہ سب بدکاریاں نہیں چھوڑوں گا۔ اور میں مسجد چلا گیا اور مسجد ہی میرا گھر بن گئی۔ میں کام سے واپس آتا مسجد چلا جاتا۔ مسجد کے دروازے بند ہونے تک وہیں رہتا جب مجھے نکلنے کا کہتے تب میں گھر جاتا۔ میں روزانہ یہی کرتا رہا، شاید ایک یا دو سال تک۔ یہاں تک کہ میری بیوی، جس سے تب میری شادی ہو چکی تھی، اور اب بھی ہے، ماشاء اللہ، 25، 26 تو سال ہوگئے ۔ کہنے لگی، ’’اب مجھے احساس ہوا کہ میں اتنی تنہا کیوں تھی۔ کیونکہ تم ہر وقت مسجد میں ہوتے تھے اور میں گھر پر۔‘‘ کہنے لگی، ’’میں سمجھ سکتی ہوں کہ تمہیں اِس کی ضرورت تھی۔ یہی وہ واحد چیز ہے جس نے تمہیں بدلنے میں مدد دی ہے۔‘‘ تو میں یہی کہتا ہوں، نہ صرف یہ کہ اسلام نے میری زندگی بچائی، بلکہ مسجد نے بھی میری زندگی بچائی۔ کیونکہ اگر میرے پاس جانے کے لیے یہ جگہ نہ ہوتی، تو شاید میں اس طرح کا مسلمان نہ ہوتا جیسا کہ آج ہوں۔ کیا آپ کے بعد آپ کی زوجہ بھی مسلمان ہوگئی تھیں؟ جب میں نے 1998 میں اسلام قبول کیا تھا تو ماشاء اللہ میری بیوی اس کے 3 یا 4 مہینے بعد ہی مسلمان ہوگئی تھی۔ آپ کی فیملی نے کس طرح کا ردعمل دیا تھا؟ آپ کے والد، والدہ، بھائی نے؟ میرے والد خوش تھے۔ میرے والد نے کہا ’’اب میں رات میں سو سکتا ہوں۔‘‘ ’’اب میں رات کو بے فکر ہو کر سو سکتا ہوں۔ کیونکہ پہلے، جب میرا بیٹا گھر سے باہر جاتا تھا تو میں سو نہیں پاتا تھا کیونکہ میں نہیں جانتا تھا وہ واپس آئے گا یا نہیں۔‘‘ تو جب میں مسلمان ہوا تو میرے والد نے کہا، ’’اگر اِس سے تمہیں ایک اچھا انسان بننے میں مدد ملے گی، تو میں اِس کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ والدہ کا رویہ مختلف تھا۔ میری والدہ مجھ سے لڑِیں، ہماری لڑائی ہوئی۔ اُس وقت میں ایک طرح سے اُن کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔ اُس وقت میں بہت مختصر عرصے کے لیے اُن کے ساتھ رہنے کے لیے واپس آیا تھا۔ اہ۔۔ اور اُنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ اور پھر میں کچھ عرصے کے لیے اپنے والد کے گھر چلا گیا، الحمدللہ۔ مگر سبحان اللہ، اِس کے 20 سال کے بعد، جبکہ میں اتنے زیادہ کاموں میں شامل رہا، نومسلموں کے ساتھ کام کیا، دعوۃ کا کام کیا، پوری دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیم کے ساتھ گیا، لوگوں کی مدد کی۔ تو پانچ سال پہلے میری والدہ نے یہ سب دیکھ کر مجھ سے کہا، ’’بیٹا، میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’اوہ، اب کیا۔ کیا ہونے والا ہے؟‘‘ کہنے لگیں، ’’میں تمہارے ہر کام کو دیکھ رہی ہوں، اور تمہارا ایمان حیرت انگیز ہے اور اِس نے تمہاری زندگی کو جس طرح سے بدلا ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے۔‘‘ کہنے لگیں، ’’ا میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔‘‘ سبحان اللہ۔ وہ مسلمان ہوگئیں۔ لحمدللہ۔ اور میں اُنہیں کلمہ نہیں پڑھا سکا کیونکہ میں بہت زیادہ ایموشنل تھا۔ کیونکہ میرے اپنی والدہ کے ساتھ اتنے سال تک تعلقات خراب رہے تھے۔ اور اب اللہ مجھے یہ تحفہ دے رہا تھا کہ میری ماں کو میرے سامنے مسلمان کر رہا تھا۔ یہ میری زندگی میں اللہ کا دیا ہوا سب سے بہترین گفٹ تھا۔ تو کیا ہم کسی کے مسلمان ہونے پر اُس کی ہر چیز تبدیل ہونے کی توقع کر سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ کلمہ پڑھتے ہی کسی شخص کے تبدیل ہونے کی توقع نہیں کر سکتے۔ بہت دفعہ، مجھے اِس سب سے کافی مسائل کا سامنا ہوا، خاص طور پر پیدائشی مسلمانوں کی طرف سے، کہ وہ فوراً کسی شخص کی پوری زندگی بدل جانے کی توقع کرتے ہیں۔ میں آپ کو ایک بڑی مثال دوں گا۔ ابھی حال ہی میں، ایک اسپینش خاتون جو انگلش نہیں بولتیں، اُنہوں نے میرے ایک اچھے دوست کے سامنے اسلام قبول کیا۔ وہ مسجد جاتی ہیں اور مسجد والے ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ شادی شدہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ہاں شادی شدہ ہوں۔ میری شادی کو 36 سال ہوگئے۔ میرے بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں۔ ماشاء اللہ۔‘‘ مسجد والے اُن سے کہتے ہیں آپ کو اپنے شوہر سے خلع لینی ہوگی۔ اور اگر آپ خلع نہیں لیتیں تو آپ کو اسلام چھوڑنا پڑے گا۔ اُنہوں نے مجھے کال کی۔ فکرمند تھیں، کہنے لگیں، ’’میرا خیال ہے، میں مزید مسلمان نہیں رہ سکتی۔‘‘ میں نے اُنہیں بلایا اور کہا، ’’سنیں، میں آپ کو شوہر سے خلع لینے کو نہیں کہتا۔ ان شاء اللہ، میں آپ سے صرف یہ امید کرتا ہوں کہ آپ بس اپنے آپ پر توجہ دیں۔ قرآن سے اپنا تعلق جوڑیں۔ نماز سیکھیں۔ وضو کرنا سیکھیں، اپنی توجہ اِن کاموں پر، نماز پر، اور اللہ تعالیٰ کو جاننے پر رکھیں اور اپنے شوہر کے لیے ایک اچھی مثال بنیں۔‘‘ اور اسی حوالے سے، میرے بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا، ہمارے گروپس میں ایسی خواتین ہیں کہ جن کے شوہر اب میرے دوست ہیں۔ اور اُن کے شوہروں نے ایک سال، پانچ سال، دس سال بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ رائٹ۔ ہم فوراً تبدیلی کی توقع نہیں کر سکتے۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو 23 سالوں میں نازل کیا، کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ دلوں کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) کی روایت ہےفرمایا کہ اگر شراب کے بارے میں پہلے ہی قانون آ جاتا لوگ اِس کے بعد بھی پیتے ۔ کوئی بھی تبدیل نہ ہوتا، رائٹ؟ لیکن شراب کو تین مرحلوں میں حرام قرار دیا گیا۔ اور جب اِسے مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا تو تب دل ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ روایات ہے کہ مدینے کی گلی میں شراب بہنے لگی۔ لوگوں نے اِسے اپنے منہ سے اُگل دیا، رائٹ؟ تو ظاہر ہے ہم راتوں رات لوگوں کے بدلنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ مجھے خود کو بدلنا شروع کرنے میں کئی مہینے لگے۔ الحمدللہ۔ دوسری چیزوں کو بدلنے میں سال لگ جائیں گے، ان شاء اللہ و تعالی۔ کیا آپ ہمیں اُس لمحے کے بارے میں بتا سکتے ہیں جب آپ نے خود کو اللہ کے بہت قریب محسوس کیا؟ یاکوئی خاص کنکشن ہوا وہ لمحہ جب میں نے اللہ تعالیٰ کے قریب خود کو محسوس کیا وہ تھا جب میں پہلی مرتبہ ملک سے باہر گیا تھا۔ جب مجھے مدینہ یونیورسٹی میں قبول کیا گیا تھا۔ اور میں مسجدِ نبوی (ﷺ) میں داخل ہوا تھا۔ اور جب آپ پہلی مرتبہ وہ اذان سنیں جو کئی سالوں سے ٹیپس اور کیسیٹوں پر سنتے آ رہے ہوں۔ اور سبحان اللہ، اپنے ارد گرد اُس مسجد کی خوبصورتی میں کھو جائیں، اور سوچنے لگیں کہ، سبحان اللہ، یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارے پیارے پیغمبر (ﷺ) پر وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ اور پھر اِس کے بعد وہاں سے کعبہ کی طرف جانا...

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب میں پہلی مرتبہ کعبہ گیا، مجھے ایسے لگا جیسے میں سراب کو دیکھ رہا ہوں، کہ جیسے یہ ابھی غائب ہو جائے گا۔ یہ یہاں نہیں رہے گا۔ کیا میں واقعی اِس کے سامنے موجود ہوں؟ سبحان اللہ۔ اور پھر خود بخود آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل کر بہنے لگتے ہیں۔ آپ رونے لگتے ہیں اور انتہائی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ اور میں جب بھی وہاں جاتا ہوں تو میرے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ میرا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک انتہائی خاص لمحہ ہوتا ہے۔ جب میں وہاں، اُس وقت، اُس لمحے میں ہوتا ہوں، تو جان لیتا ہوں کہ یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔ آخر میں، اگر آپ کو دنیا بھر کے غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، خاص طور پر Latinos سے، تو آپ اُن چند لمحوں میں اُن سے کیا کہیں گے؟ ایک بات جو میں اُن سے کہنا چاہوں گا۔ اور جو بہترین نصیحت میں اُنہیں کر سکتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اُس زبان میں قرآن کو پڑھیں جو زبان آپ اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ اور اسے کھلے ذہن، کھلے دل، اورکھلی روح، کے ساتھ پڑھیں اور جو بھی پڑھیں اُسے قبول کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ نمبر ایک، آپ کتاب کو بند نہیں کر پائیں گے۔ نمبر دو، اگر آپ بند کر بھی دیں، تو آپ کو دوبارہ اِسے کھولنے اور پڑھی ہوئی باتوں کو دوبارہ پڑھنے کی چاہت ہوگی۔ اور نمبر تین، یہ آپ پر ایسے اثر کرے گی جس کا آپ نے پہلے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ اور پھر شاید کسی دن ہم آپ کو برابر میں نماز پڑھتا دیکھیں گے۔ امام Wasley LeBron، آپ کے خوبصورت اور خُلوص بھرے جوابات کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے ۔امین امین۔ آپ کی حفاظت فرمائے۔ اور اللہ ہم سب کو جنت میں اکٹھا فرمائے، آمین۔ یا رب العالمین۔ جزاک اللہ خیر۔