Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Hawa Mein Posheeda Allah Ke Hairatangez Mojzat – Atheism Ka Khatma!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

کبھی کبھی گہرے ترین راز ہماری آنکھوں کے سامنے چُھپے ہوتے ہیں۔ اور کیونکہ ہم اُنہیں ہر وقت دیکھتے ہیں،اِس لیے ہم غور ہی نہیں کرتے۔ ہم سانس لیتے ہیں، پھر گفتگو کی صورت میں اِس سانس کو باہر نکالتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ یہ سب کتنا سادہ لگتا ہے۔ لیکن کیا واقعی اِس ہوا کے اندر کوئی چھپا ہوا راز ہو سکتا ہے؟ ہوا کے مالیکیولز آپ کی آواز کو ہزاروں میل دور کیسے لے جاتے ہیں؟ کیا یہ کوئی عام سی بات ہے کہ میری آواز اِس وقت آپ تک پہنچ رہی ہے؟ کیا ہوا کا ایک مالیکیول واقعی ایک وقت میں سینکڑوں کام سنبھال سکتا ہے، اُنہیں آپس میں مکس کیے بغیر؟ اُسی ایک لمحے میں یہ لاتعداد آوازیں، گفتگو، سگنلز، فون کالز، ویڈیو کالز، تصاویر، بُو، حرارت اور بہت کچھ اپنے ساتھ لیے پھر رہا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے تیار ہو جائیں کہ اللہ کس طرح ہر لمحے اِس کائنات کے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اِس ویڈیو کے اختتام تک، آپ تخلیق کے حیرت انگیز ترین عجائبات میں سے ایک کو دریافت کر چکے ہوں گے آپ کے اِرد گرد موجود اُن ہوا کے مالیکیولز کے ذریعے، جو آپ کو نظر نہیں آتے۔ آج ہم اپنی سوچ کو ذرا اور وسعت دیں گے۔ آئیں یہ تصور کرتے ہیں کہ آپ ایک بہت بڑے کمرے میں موجود ہیں اور آپ کی جان پہچان والا ہر شخص آپ کے ساتھ وہاں موجود ہے۔ اب وہ تمام لوگ ایک ساتھ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے،آپ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گا۔ شاید چند الفاظ ہی سمجھ آئیں۔ لیکن اُس کمرے میں کچھ ایسا ہے جو اُن تمام آوازوں میں وہ فرق کر سکتی ہے جو آپ کا دماغ کبھی نہیں کر سکتا،اور وہ ہے: ہوا۔ یہ تمام آوازیں ایک ہی وقت میں ہوا کے ایک جیسے مالیکیولز کے ذریعے سفر کرتی ہیں۔ مگر پھر بھی کوئی لفظ دوسرے لفظ کے ساتھ مکس نہیں ہوتا۔ ایک آواز کی وجہ سے دوسری آواز کے پہنچنے میں دیر نہیں ہوتی۔ اور اتنی ساری آوازیں ایک دوسرے کےاوپر سے گزرنے کے باوجود، اپنا راستہ نہیں بدلتیں۔ ہر آواز الگ رہتی ہے اور ٹھیک وہاں پہنچتی ہے جہاں اُسے پہنچنا چاہیے۔ آواز کے سفر کا طریقہ شاید ویسا نہیں ہے جیسا آپ سمجھتے ہیں۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہمارے منہ سے نکلنے والی ہوا باہر کی ہوا میں مل جاتی ہے۔ لیکن یہ کسی تیر کی طرح سیدھی آگے نہیں جاتی۔ بلکہ، ہوا کے مالیکیولز آواز کو ایک سے دوسرے مالیکیول تک پہنچاتے ہیں۔ جیسے قطار میں کھڑے لوگ ایک دوسرے کو اینٹیں پکڑاتے ہیں۔ ہوا کے ذرات چاہے کھرب ہا کھرب کیوں نہ ہوں، ہر ایک ذرہ اپنی ڈیوٹی پر کھڑا ہے۔ ہر ذرہ آواز کو صحیح طریقے سے لیتا ہے اور صحیح طریقے سے آگے بڑھا دیتا ہے۔ یا اتنے سارے لوگوں کے ساتھ ایک دوسرے کے کان میں بات پہنچانے والا گیم کھیلیں،یہ ناممکن ہوگا۔ فوراً ہی سب کچھ گڑ بڑ ہو جائے گا۔ مگر یہ مالیکیولز صرف آواز ہی نہیں پہنچاتے۔ جب آپ دوسرے شہر سے اپنی والدہ کو فون کرتے ہیں، تو وہ سگنلز بھی اُسی ہوا کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ جب آپ کسی دوست کو ویڈیو کال کرتے ہیں، تو آپ کی تصویر بھی اُنہی مالیکیولز کے ذریعے پہنچتی ہے۔ وائی فائی، ریڈیو سگنلز، بلوٹوتھ، وہ تصاویر اور ویڈیوز جو آپ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں، گیگا بائٹس کی فائلیں، سب اُنہی ہوا کے مالیکیولز سے گزرتی ہیں۔ نہ آپس میں ملتی ہیں، اور نہ ورک لوڈ کی وجہ سے دیر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ گرمی اور بُو بھی، کیا وہ بھی اِس میں شامل ہیں؟ بالکل ہیں۔ اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود، یہی ہوا وہی ہوا رہتی ہےجس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ یہ پودوں کی افزائش میں مدد کے لیے پولن لیے ہوتی ہے مگر یہ سب کام ایک ساتھ کرنا کیسے ممکن ہے؟ جیسا کہ ہم نے کہا، یہ سب محض کام ہیں لہٰذا، ہوا خود سے اِنہیں نہیں کر سکتی۔ یہ کسی طاقت کے بل بوتے پر ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ مثلاً، کیا کوئی عام آدمی کسی ڈسٹرکٹ میں جا کر زبردستی 300 لوگوں کو تھانے روانہ کرسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ لیکن اگر وہ شخص اعلیٰ درجے کا سرکاری افسر ہو، تو یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔ ایسا اُس کی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ اُس کے پیچھے موجود حکومتی اختیار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، اگر پسِ پردہ ہر لمحہ کوئی خدائی طاقت اِن کاموں کو نہ چلا رہی ہو، تو اِن میں سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا۔ ایٹمز کی یہ پُر اسرار دنیا ابھی ہمیں بے شمار پیغامات دینا چاہتی ہے۔ اور ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اب آئیے، اپنی نگاہیں نیچے جھکاتے ہیں،اپنے قدموں کے نیچے، مٹی کی طرف۔ تصور کریں، ہم مٹی کا ایک ہی حصہ لیتے ہیں اور وہاں یکے بعد دیگرے، سینکڑوں بیج بوتے ہیں۔ اور ہر بار جب ہم نیا بیج بوتے ہیں، ہم اُسی ایک مٹی سے مختلف معجزات اُگتے ہوئےدیکھتے ہیں۔ گلاب، لیموں، سیب، نارنگیاں، وغیرہ وغیرہ۔ ہم ہر بیج کو یوں سمجھ سکتے ہیں جیسے کوئی کوڈ، سافٹ ویئر، یا پروگرام ہو۔ کیا واقعی اِس ذرا سی مٹی میں اتنا علم چھپا ہوا ہے؟ گویا اُس کے پاس سینکڑوں مختلف ریسیپیز ہوں اور وہ سب کو بالکل صحیح طرح عمل میں لاتی ہو۔ کیا اُس نے ایسی کوئی تربیت حاصل کی ہے؟ پانی اور دھوپ کا بھی یہی معاملہ ہے۔ بے شمار امکانات میں سے، وہ ہر بار ہر پودا بالکل درست اور مکمل انداز میں پیدا کرتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گلاب کی ٹہنی پر ٹماٹر اُگ آیا ہو۔ اور نہ ہی کبھی ٹیولِپ کے لیے درکار اجزاء غلطی سے ٹماٹر میں ڈال دیے گئے ہوں۔ لہٰذا اگر ہم دعویٰ کریں کہ اصل سبب مٹی ہی ہے، تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہر پودے کے لیے نظر نہ آنے والے کمپیوٹرز، لیبارٹریاں، مشینیں موجود ہیں۔ گویا جیسے کہ ہر پودے کے لیے ایک الگ فیکٹری ہو۔ مگر حقیقت میں، مٹی میں نہ تواتنا علم ہے کہ یہ سب سنبھال سکے، اور نہ ہی اتنا شعور کہ اِن تمام امکانات میں فرق کر سکے۔ اس میں وہ طاقت نہیں ہے۔ اور حقیقت میں، بنیادی ترین سطح پر،اِس میں زندگی بھی نہیں ہے۔ فزکس کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اگر کوئی نتیجہ ہے، تو اُس کے پیچھے اُسے پیدا کرنے والی طاقت لازماً موجود ہوگی۔ ایک مشین کا تصور کریں۔ آپ اُس میں لکڑی کا ایک ٹکڑا ڈالتے ہیں،اور نتیجے میں ایک خوب صورت سجاوٹی چیز نکلتی ہے۔ یہ بات منطقی ہے، یہ سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اگر آپ لکڑی کا ایک ٹکڑا ڈالیں اور نتیجے میں ٹماٹر نکل آئے، تو یہ بات واضح طور پر غیر منطقی ہوگی۔ یہی منطق یا لاجک مٹی سے پھل نکلنے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اندر کیا جاتا ہے؟کچھ بے ذائقہ، جیسے مٹی، بلکہ کڑوی۔ نہ اس میں خوشبو ہے، نہ رنگ، نہ شعور، نہ زندگی، اور نہ ہی چیزوں میں فرق کرنے کی صلاحیت۔ ہم بیج کو دیکھیں، تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں پانی یا دھوپ میں بھی ایسی کوئی چیز نہیں ملتی۔ لیکن آخر میں نکلتا کیا ہے؟ رنگوں سے بھرا، خوشبودار، ایک لذیذ شاہکار۔ اور یہ آخری پروڈکٹ ہرگز اُس خام مواد سے تیار نہیں ہو سکتی جو اندر ڈالا گیا تھا۔ یہ گویا کسی چیز کو تقریباً اُس کی مخالف چیز سے پیدا کرنا ہوا۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سب کچھ کسی خالق کے بغیر خود بخود ہو رہا ہے، تو پھر ہمیں درج ذیل باتوں کو ماننا پڑے گا۔ یہ بالکل بدیع الزمان کی مشہورفارمیسی والی مثال کی طرح ہے۔ ایک فارمیسی کا تصور کریں،جہاں الماریوں میں بوتلیں بھری ہوں۔ اور ہر بوتل میں الگ الگ کیمیائی مادہ موجود ہو۔ اب ہمیں کینسر کی ایک دوا تیار کرنی ہے۔ لیکن کھڑکی کھلی رہ جاتی ہے اور ایک ہوا کا جھونکا اندر آتا ہے۔ وہ ہوا کچھ بوتلوں کوالماری سے گرا دیتی ہے۔ اور کسی طرح،بالکل درست ملی گرام مقدار میں، وہی مادّے جو درکار تھے، آپس میں مل جاتے ہیں۔ اور جو چیز آخر میں تیار ہوتی ہے، وہ بالکل ہماری مطلوبہ دوا ہوتی ہے۔ اِس مثال سے وہ یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں: مٹی میں بوئے گئے ہر بیج کے اُگنے کے لیےکچھ مخصوص عناصر ضروری ہوتے ہیں۔ اور ہر عنصر بالکل درست مقدار میں استعمال ہونا چاہیے۔ نہ زیادہ، نہ کم۔ مگر ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اِن ایٹمز میں نہ شعور ہے، نہ ارادہ۔ مزید یہ کہ، اِن میں زندگی بھی نہیں۔ تو پھر یہ زندگی آخر کہاں سے آئی؟ کیا آپ واقعی کسی اور کو وہ چیز دے سکتے ہیں جو آپ کے پاس خود موجود نہ ہو؟ یہ بات بالکل واضح ہے۔ ایٹم دراصل صرف ظاہری اسباب ہیں۔ اِنہیں چلانے اور راہ دکھانے والا، اور اصل طاقت میں رکھنے والا کوئی اور ہے۔ یا چلیں کوئی مختلف مثال سوچتے ہیں۔ کوئی ہلکی پھلکی مزاحیہ سی۔ تصور کریں، ایک بچہ منہ میں رسّی لیے ہوئے ہے۔ اور وہ رسی ایک ہوائی جہاز سے بندھی ہوئی ہے۔ جیسے ہی بچہ آگے رینگتا ہے، جہاز بھی اُس کے ساتھ حرکت کرنے لگتا ہے۔ اگر آپ یہ منظر دیکھ کر کہیں، ’’واہ!

اِس بچے کو تو دیکھو، یہ اپنے منہ سے ہوائی جہاز کھینچ رہا ہے؟‘‘ یقیناً کوئی بھی اِسے ممکن نہیں سمجھے گا۔ فوراً ہی ہمارا ذہن اِس کے پیچھے کسی اور وجہ کو تلاش کرے گا۔ ہم کہیں گے، ’’ظاہر ہے کوئی پائلٹ ہے۔ جو اُسے حرکت دے رہا ہے۔‘‘ عقل اور لاجک اِس کے پیچھے کسی خدائی طاقت کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہی اصول درکار ہوتا ہے۔ ورنہ، ہم کسی فریب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں؟ ایٹم جہاں بھی جاتے ہیں، اور جو کام بھی اُنہیں دیا جاتا ہے، وہ اُسے بہت پرفیکٹ انداز میں انجام دیتے ہیں۔ ایک بچے کی نشوونما کے دوران، یہی ایٹم اُس کے دانت کی بیرونی تہہ تک پہنچتے ہیں، اور وہاں اینامل بناتے ہیں، جو قدرت کے سخت ترین مادّوں میں سے ایک ہے۔ دماغ میں، یہی ایٹم ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرتے ہیں۔ وہ پل بھر میں، اربوں نیورونز میں دوڑنے والے سگنلز منتقل کرتے ہیں۔ اور وہ خیالات، خواب، یادداشت، میتھیمیٹکس، یہاں تک کہ محبت تک کو اٹھائے پھرتے ہیں۔ صرف ایٹمز کے ایک ڈھیر سے،ہم کائنات کے ایک انتہائی پیچیدہ اور گہرے عمل کو چلانے کی طاقت دیکھتے ہیں۔ اب ذرا اپنے نظامِ ہضم کے بیکٹیریا میں موجود ایٹمز کے متعلق سوچیں۔ سادہ سے فُضلے جیسی نظر آنے والی خوراک سے، وہ ایک ایسا حیرت انگیز نظام قائم کرتے ہیں جو وٹامنز پیدا کرتا ہے، آپ کے مدافعتی نظام کو سہارا دیتا ہے، اور حفاظت کرتا ہے۔ گویا کوڑے دان کے اندر چُھپا ہوا دواخانہ موجود ہو۔ ایسے نظام کا تصوّر کون کر سکتا ہے؟ جب یہی ایٹم دل کے اندر کام کرتے ہیں،تو ایک دھڑکن بھی ضائع کیے بغیر، رکے بغیر، ہر منٹ میں کئی لیٹر خون پمپ کرتے ہیں۔ وہ دل کے تمام افعال بغیر کسی نقص کے انجام دیتے ہیں۔ پھیپھڑوں میں، وہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ بہترین طریقے سے کرتے ہیں۔ آپ کی آنکھوں میں وہ دیکھنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ پودوں میں وہ فوٹوسنتھیسِس انجام دیتے ہیں۔ لیکن سب سے آخرمیں، جب ہم ایٹم پر نظر ڈالتے ہیں، تو صورتحال وہی کی وہی رہتی ہے۔ بے جان، بغیر علم کے،بغیر شعورکے، اوربے ارادہ۔ اور وہ اِن میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ اِس کے صرف دو ہی جواب ہیں۔ یا تو ہم یہ مان لیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور ایٹم یہ تمام کام صرف اِس لیے کامیابی سے کرتے ہیں کہ وہ اُس کے حکم، اُس کی مرضی، اُس کے علم اور اُس کی قدرت سے چلتے ہیں۔ یا پھر ہم ہر ایٹم کو اپنی جگہ ایک خدا مان لیں۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر نظام کو مکمل طور پر جانتے ہیں، اور جہاں کہیں بھی جائیں اپنے قوانین پر چلتے ہیں۔ لا محدود امکانات میں سے وہ ہر بار سب سے بہترین انتخاب کرتے ہیں۔ مٹی میں ہوتے ہیں تو سادہ ترین مادّوں میں سے شاہکار تخلیق کر دیتے ہیں۔ ہوا کے مالیکیولز کی صورت میں ہوں تو کبھی ایک کام کو دوسرے میں نہیں الجھاتے، کبھی دیر نہیں کرتے، اور بے شمار دوسرے معجزوں میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جسے اسلام کلمہ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کے ذریعے حل کرتا ہے۔ سب سے پہلے آتا ہے ’’لا اِلٰہَ ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’کوئی خدا نہیں‘‘۔ یہ الفاظ تمام مخلوقات کو خدا کادرجہ دینے کی نفی کرتے ہیں اور بے شمار خداؤں کے تصوّر کو ختم کرتے ہیں۔ یہ ہمیں اُن کی بے بسی اور بے اختیاری کی حقیقت یاد دلاتے ہیں۔ آپ کسی ایٹم کو کبھی خدا قرار نہیں دے سکتے۔ پھر آتا ہے ’’اِلَّا اللّٰہ‘‘، (سوائے اللہ کے)۔ یعنی کوئی خدا نہیں اللہ کے سِوا ۔ مختصر یہ کہ، جو خدا کا انکار کرتا ہے اُسے لازماً بے شمار خداؤں کو ماننا پڑتا ہے۔ اور اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے، تب بھی ایٹمز کو اِس پورے نظام کوصحیح طریقے سے چلانے کے لیے ناممکن ہوگا۔ کیونکہ ایک واحد اتھارٹی کے بغیر نظم قائم نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا، جو ایٹم کا مالک ہے، وہی اُسے بھیجے جانے والی ہر جگہ کا بھی مالک ہوگا۔ تبھی وہ اُس نظام کے اندر بے شمار دوسرے ایٹمز کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت کر سکتا ہے۔ اگر ہم فوجی دستوں کو مکمل ترتیب کے ساتھ مارچ کرتے دیکھیں، تو ہم کیا کہیں گے؟ یقیناً کوئی کمانڈر ہے جو احکامات دے رہا ہے، اِسی لیے وہ ترتیب سے چل رہے ہیں۔ لیکن اگر سپاہیوں کے اوپرکوئی ایک کمانڈر موجود نہ ہو، تو پھر ہر سپاہی کو بیک وقت کمانڈر بھی ہونا پڑے گا اور حکم ماننے والا بھی۔ کیا اِس صورت میں کوئی ترتیب باقی رہ سکتی ہے؟ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔ تب تو ایک دوسرے کی مدد کے بجائے،وہ ایک دوسرے کا راستہ روکنے لگیں گے۔ اِسی لیے، تمام ایٹمز کاایک ہی طاقت کے ماتحت ہونا، نہ صرف ایک دوسرے کے نظم کو بگاڑتا نہیں، بلکہ درحقیقت ایک دوسرے کا سہارا بنتا ہے۔ اور اِنہی وجوہات کی بنا پر،اسلام خاص طور پر توحید (اللہ کی یکتائی)، اللہ کے ایک ہونے پر زور دیتا ہے۔ توحید کے اِس پاکیزہ اور واحد تصور کے ساتھ اسلام تمام دوسرے مذاہب سے الگ نظر آتا ہے۔ پوری تاریخ میں، کچھ لوگوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے سوچا تھا، سائنس کی ترقی اور ہمارے علم کی گہرائی کے ساتھ ساتھ، خدا کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ ہر چیز کی وضاحت مادّے کے عمل سے کر دی جائے گی۔ لیکن جیسے جیسے اُن کا علم گہرا ہوا، معاملات اُن کی توقع کے مطابق نہ رہے۔ بلکہ، اُن کے سامنے اور بھی حیرت انگیز راز آشکار ہوتے گئے۔ اور ہم یہ دیکھنے لگے کہ اللہ کا وجود لازم، ناگزیر اور ناقابلِ انکار ہے۔ اُس کے انکار کے لیےایک ایٹم جتنی جگہ بھی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک ایٹم، ہر لمحہ،ہمیں اُس کی خبر دے رہا ہے۔ اُس کے وجود اور اُس کے ایک ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کی ہر سانس بھی آپ کو اُس کی یاد دلاتی ہے یعنی کے “ہو”۔ تو اب کیوں نہ آپ خود بھی آزما کر دیکھیں؟ ایک گہرا سانس لیجیے اور کہیے، لا اِلٰہَ اِلَّا ھُو کوئی اور خدا نہیں، اللہ کے سوا ۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں؟ ایٹم جہاں بھی جاتے ہیں، اور جو کام بھی اُنہیں دیا جاتا ہے، وہ اُسے بہت پرفیکٹ انداز میں انجام دیتے ہیں۔ ایک بچے کی نشوونما کے دوران، یہی ایٹم اُس کے دانت کی بیرونی تہہ تک پہنچتے ہیں، اور وہاں اینامل بناتے ہیں، جو قدرت کے سخت ترین مادّوں میں سے ایک ہے۔ دماغ میں، یہی ایٹم ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرتے ہیں۔ وہ پل بھر میں، اربوں نیورونز میں دوڑنے والے سگنلز منتقل کرتے ہیں۔ اور وہ خیالات، خواب، یادداشت، میتھیمیٹکس، یہاں تک کہ محبت تک کو اٹھائے پھرتے ہیں۔ صرف ایٹمز کے ایک ڈھیر سے،ہم کائنات کے ایک انتہائی پیچیدہ اور گہرے عمل کو چلانے کی طاقت دیکھتے ہیں۔