Ashab-e-Kahf ki kahani – woh 300 saal tak kaise sote rahe? | AI Se Banayi Gayi
تاریخ اشاعت
آپ ایک تاریک غار میں موجود ہیں۔ آپ صرف کچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنی آنکھیں بند کرتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس سے آپ بے خبر ہیں۔ یہ نیند آپ کے تصوّر سے کہیں زیادہ طویل ہونے والی ہے۔ پورے 309 سال تک۔ آج ہم اصحابِ کہف کی پُراسرار کہانی پر گفتگو کریں گے۔ "کوئی جگہ بغیر تلاش کے نہ چھوڑی جائے!
ہر پتھر کے نیچے دیکھو!" یہ کوئی پریوں کی کہانی یا افسانہ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جس کا ذکر خود قرآنِ مجید میں موجود ہے۔ " اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو یقیناً خوف کے مارے بھاگ جاتے اور ان کا رعب تم پر طاری ہو جاتا۔" تو آخر یہ نوجوان کون تھے؟ ایسا کیا ہوا کہ وہ 300 سال سے بھی زیادہ عرصے تک سوتے رہے؟ "مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کسی اور کی عبادت کرتے ہو۔ آخر یہ خدا کون ہے؟!" اور وہ کون سا اہم پیغام تھا کہ قرآنِ مجید نے اسے بیان فرمایا؟ "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔" آئیے قرآنِ مجید اور تاریخی روایات کی روشنی میں اس حیرت انگیز داستان پر مل کر نظر ڈالتے ہیں۔ "اور آپ انہیں جاگتا ہوا خیال کریں گے حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہوں گے، اور ہم انہیں دائیں بائیں (کروٹ) پھیرتے ہیں، اور ان کا کتا غار کے منہ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے، اگر آپ انہیں جھانک کر دیکھیں تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں اور آپ پر ان کا رعب چھا جائے۔" جی ہاں، یہ شاید تاریخ کے سب سے پُراسرار واقعات میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ لوگ آخر تھے کون؟ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ہم نبیِ پاک ﷺ کو ان کا اصل قصہ سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی" یہ اسلام سے پہلے کا زمانہ تھا۔ ابھی آخری نبی حضرت محمد ﷺ مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ اور عیسائیت بھی ابھی مکمل طور پر تحریف کا شکار نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت رومی سلطنت شرک پر مبنی عقائد رکھتی تھی۔ اور صرف یہی نہیں، بلکہ جو لوگ ان کے عقائد کو قبول نہ کرتے اور اللہ پر ایمان رکھتے انہیں سخت ترین سزائیں دی جاتیں۔ ان سزاؤں میں سولی چڑھانا بھی شامل تھا۔ اور بعض اوقات لوگوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سچے پیروکار موجود تھے۔ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اللہ تعالیٰ کے معجزوں پر ایمان رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر عام لوگ تھے، غریب، کمزور اور بے سہارا۔ تاہم تمام اہلِ ایمان غریب نہیں تھے۔ بعض خوشحال بھی تھے۔ اور بعض کے پاس اقتدار اور اثر و رسوخ بھی تھا۔ اور انہی میں سے چند افراد اسی داستان کے مرکزی کردار ہیں۔ یہ چند نوجوان رومی سلطنت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ لیکن اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ اور جوں جوں وہ اہلِ ایمان پر ہونے والے ظلم و ستم کو دیکھتے، ان کے دل مزید رنجیدہ ہوتے جاتے۔ انہوں نے اس صورتحال سے نکلنے کی تلاش شروع کر دی۔ کوڑے کا ہر وار گویا ان کے اپنے جسم پر پڑتا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔ لیکن وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟ ان کے پاس کیا اختیار تھا؟ وہ بے بسی سے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آخرکار وہ اتنے طاقتور نہیں تھے کہ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ اور اگر وہ بات کرتے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ لیکن ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ یہ نوجوان ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے۔ وہ مختلف دنوں اور مختلف مقامات پر ایمان لائے تھے۔ اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ دوسرے بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوتا، وہ رومیوں کی بت پرستانہ رسومات سے دُور رہتے۔ اور ان تقریبات میں شرکت سے گریز کرتے۔ اور جلد ہی انہیں پتہ چلنے والا تھا کہ وہ سب ایک ہی رب پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کا بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار اب پوشیدہ نہیں رہ سکتا تھا۔ "میرے آقا!
میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں تقریب چھوڑتے دیکھا ہے۔ یہ ہمارے معبودوں کی مقدس رسومات میں تقریباً حصّہ ہی نہیں لیتے۔" "یہ ہمارے معبودوں کی کھلی توہین ہے!
انہیں فوراً میرے سامنے پیش کیا جائے!" سرد سنگِ مرمر سے بنے عظیم الشان دربار میں، وہ نوجوان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے اجنبی، مگر دلوں میں جلنے والی ایک ہی پوشیدہ شمع نے انہیں آپس میں جوڑ رکھا تھا۔ "مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کسی اور کی عبادت کرتے ہو۔ آخر وہ خدا کون ہے؟!" کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پہلی مرتبہ، جب ان کی نظریں ایک دوسرے سے ملیں، تو انہوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے ہی دل کے راز کا عکس دیکھا۔ محافظ ایک اشارے کے منتظر تھے۔ اور بادشاہ توقع کر رہا تھا کہ وہ خوف سے کانپ اٹھیں گے یا رحم کی بھیک مانگیں گے۔ لیکن یہ اہلِ ایمان نوجوان اب خوف سے آزاد ہو چکے تھے۔ رومی سلطنت کی طاقت ان کے دلوں میں موجود حق کی روشنی کے سامنے کمزور پڑگئی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حق کو بلند آواز میں بیان کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک نوجوان کے دل میں ایسی جرأت پیدا فرمائی کہ وہ بادشاہ کے سامنے ڈٹ کر بول اٹھا: "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم واقعی ایک بہت بڑا جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔" یہ الفاظ سنتے ہی پورا دربار ساکت رہ گیا۔ کوئی شخص بادشاہ کے سامنے ایسی بات کہنے کی جرأت کیسے کر سکتا تھا؟ مگر اس ایک نوجوان کی جرأت نے باقی سب کے دلوں میں بھی حوصلہ بھر دیا۔ اچانک سب آگے بڑھے اور برسوں سے اپنے دلوں میں چھپایا ہوا ایمان برملا ظاہر کرنے لگے۔ "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم واقعی ایک بہت بڑا جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔" "یہ ہماری قوم ہے جس نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ آخر وہ اپنے معبودوں کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے؟ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟" بادشاہ کو چند نوجوانوں کے ہاتھوں شدید ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب اس نے انہیں غور سے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ بااثر اور معزز خاندانوں کے نوجوان تھے۔ اگر وہ اسی وقت انہیں قتل کر دیتا تو عوام انہیں ہیرو سمجھنے لگتے۔ اور ان کے خاندان بھی تخت کے خلاف کھڑے ہو سکتے تھے۔ اسی لیے اس نے ایک مختلف طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی آواز نرم پڑ گئی۔ اس نے انہیں ان کی بلند حیثیت یاد دلائی۔ ان کی دولت یاد دلائی۔ اور اس روشن مستقبل کی یاد دہانی کروائی جسے وہ کھونے جا رہے تھے۔ " اس غلطی کو جوانی کی نادانی سمجھ کر معاف کرتا ہوں۔ تمہیں ایک دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر تم اپنی غلطی کا احساس کر لو اور روم کی قدیم روایات کی طرف واپس آ جاؤ تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ اب تم جا سکتے ہو۔" نوجوان خاموشی سے دربار سے باہر نکل آئے۔ اب وہ کیا کریں گے؟ محل کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے ان کے ذہنوں میں دولت یا منصب کا خیال تک نہیں تھا۔ انہیں کسی طویل مشورے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے شہر سے فرار ہونے کا یہی واحد موقع ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنے عقیدے سے دستبردار نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن بادشاہ کے سپاہی ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے فوراً کوئی محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنا شروع کر دی۔ وہ دائیں دیکھتے، بائیں دیکھتے، مگر جہاں بھی نظر اٹھاتے ایسے لوگ دکھائی دیتے جو انہیں پہچان کر گرفتار کروا سکتے تھے۔ بالآخر وہ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ آ ملا، جس کا نام قطمیر تھا۔ وہ انہیں چھوڑنے پر آمادہ ہی نہ تھا۔ بس مسلسل ان کے پیچھے چلتا رہا۔ آخرکار انہوں نے ایک غار میں پناہ لی، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کوہِ پیون تھی۔ اگرچہ بعض مؤرخین اسے کوہِ انشیالس قرار دیتے ہیں۔ اور وہاں، اس سنسان غار میں، اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے، انہوں نے یہ دعا کی: "اے ہمارے رب!
اپنے خاص فضل سے ہم پر رحمت نازل فرما، اور ہمارے ہر معاملے میں ہدایت اور آسانی عطافرما۔" ادھر بادشاہ پہلے ہی ان کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر تلاش کا حکم دے چکا تھا۔ "فوراً مکمل تلاشی کا آغاز کرو۔ ان نوجوانوں کو بلا تاخیر ڈھونڈ نکالا جائے۔" سپاہیوں نے اونچی جگہوں پر بھی اور نشیبی علاقوں میں بھی تلاش شروع کر دی۔ لیکن ان کا رب، اللہ تعالیٰ، ان کا محافظ تھا۔ اس نے انہیں ان کے دشمنوں کی پہنچ سے دُور رکھا۔ "کوئی جگہ بغیر تلاش کے نہ چھوڑی جائے!
ہر پتھر کے نیچے دیکھو!" اس غار میں، اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں پر معجزاتی طور پر 300 سال سے زائد عرصے تک نیند طاری کر دی۔ سورۂ کہف میں اللہ تعالیٰ ان کے غار کے اندر کے حالات یوں بیان فرماتا ہے: "اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کے غار سے دائیں جانب جھک جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں جانب کترا کر گزر جاتا، جبکہ وہ غار کے کشادہ حصّے میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔" اور 309 سال گزر گئے۔ پُورے 309 سال بعد، اصحابِ کہف، غار والے لوگ، بیدار ہو گئے۔ لیکن انہیں اندازہ نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو چکا ہے۔ وہ حیران رہ گئے کہ وہ کتنے عرصے سے سوئے ہوئے ہیں۔ "ہم کتنی دیر سے سوئے ہوئے ہیں؟ شاید ایک دن، یا پھر ایک دن کا کچھ حصّہ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔" لیکن حقیقت میں صدیاں گزر چکی تھیں۔ اتنی طویل نیند کے بعد انہیں شدید بھوک محسوس ہونے لگی۔ " کسی ایک کو کھانے کے انتظام کے لیے شہر بھیجتے ہیں۔" "میں شہر جاتا ہوں۔" "احتیاط سے جانا۔ کوئی بھی تمہیں نہ پہچان پائے۔" "خاموشی سے جانا۔ سپاہی تمہیں گرفتار کر سکتے ہیں۔" "میں محتاط رہوں گا۔" مگر راستے میں اسے عجیب و غریب چیزیں نظر آنے لگیں۔ شہر بالکل بدل چکا تھا۔ پرانے مندروں کی جگہ چرچ لے چکے تھے۔ بت کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آخر یہ سب کیا ہو گیا تھا؟ لوگوں کے درمیان سے گزرتے، اسے احساس ہوا کہ لوگ ایک ہی خالق کا ذکر کر رہے تھے۔ ادھر وہ تاریخی لمحہ، جب انہوں نے بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کی جرأت کی تھی، صدیوں بعد اہلِ ایمان کے لیے ہدایت اور حوصلے کا سرچشمہ بنا ہوا تھا۔ نوجوان شہر کے اندر مزید آگے بڑھا۔ وہ حیران تھا۔ لیکن بھوک اپنی جگہ موجود تھی۔ چنانچہ وہ روٹی خریدنے کے لیے دکان میں داخل ہوا۔ "صبح بخیر" اس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے چند روٹیاں خریدیں۔ پھر اس نے قیمت ادا کرنے کے لیے ایک چاندی کا سکہ نکالا۔ بیکر نے سکے کو گھور کر دیکھا۔ "یہ سکہ۔۔۔" وہ الجھن کا شکار تھا۔ "یہ تمہیں کہاں سے ملا؟" اس نے سوچا شاید اس نوجوان کو کوئی خزانہ ملا ہے۔ کیونکہ یہ سکہ سینکڑوں سال پرانا تھا۔ دکاندار نے فوراً حکام کو اطلاع دے دی۔ " اسے مشرقی دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ اس کا کوئی برا ارادہ نہیں۔" -"کس طرف گیا وہ ؟" -"بازار کی طرف۔" نوجوان کو پوچھ گچھ کے لیے محل لے جایا گیا۔ اور وہاں جا کر پہلی مرتبہ اس پر حقیقت آشکار ہوئی۔ وہ صرف ایک دن نہیں سوئے تھے۔ وہ صدیوں تک سوئے رہے تھے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر تھا۔ وہ جب چاہے جس طرح چاہے اپنے بندے کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ وہ چاہے تو کسی کو سینکڑوں سال تک سلائے رکھے، اور پھر دوبارہ بیدار کر دے۔ اسی طرح جیسے اس نے ان نوجوانوں کے ساتھ کیا۔ اور اگر اللہ چاہے تو جو لوگ قبر میں جائیں اور موت کی نیند میں ڈوب جائیں، انہیں بھی دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اللہ اسی حقیقت کو ایک آیت میں یوں بیان فرماتا ہے: "وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جو تم کرتے ہو وہ سب جانتا ہے۔ پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ مدّت پوری ہو جائے۔ پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔" اور ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ موت کے بعد دوبارہ زندگی ملنے کی مثال یوں بیان فرماتا ہے، جس طرح زمین سے ایک پودا اگ آتا ہے، "اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے ایک خاص طرح سے اگایا۔ اور پھر وہ تمہیں اسی میں واپس لے جائے گا اور پھر اسی سے نکالے گا۔" شہر کے لوگوں پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے ان نوجوانوں کی حالت دیکھی تو بالآخر ان پر واضح ہو گیا۔ انہوں نے سوچا: جس اللہ نے ان نوجوانوں کو اتنے طویل عرصے تک سُلائے رکھا اور پھر دوبارہ بیدار کر دیا، وہ یقیناً ہمیں بھی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ جب اصحابِ کہف 300 سال بعد بیدار ہوئے، تو اُس دور کے لوگوں کو آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات تھے۔ وہ بار بار بحث کرتے تھے کہ آخر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہے؟ "شاید قیامت کا دن محض ایک کہانی ہے۔" "نہیں، ہمارے رب نے اس کا وعدہ فرمایا ہے۔" درحقیقت اس زمانے کا حکمران لوگوں کو توحید کی دعوت دیتا تھا۔ وہ انہیں اللہ کی وحدانیت سمجھاتا اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے کی حقیقت بیان کرتا تھا۔ لیکن اب بھی کچھ لوگ یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے لیے موت کے بعد کی زندگی کا تصوّر مشکل تھا۔ یہ بات اسے بے حد غمگین کر دیتی تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا۔ "اے میرے رب!
ان لوگوں کو اس حقیقت کی کوئی نشانی دکھا دے جس کا یہ انکار کرتے ہیں۔" اور پھر آخرکار جب اس نے اصحابِ کہف میں سے ایک نوجوان کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا، تو اس نے فوراً اپنے اردگرد موجود لوگوں کو اطلاع دی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ کیونکہ وہ نشانی جس کا وہ برسوں سے منتظر تھا، بالآخر ظاہر ہو چکی تھی۔ "کیا اب بھی تم لوگوں کو شک ہے کہ اللہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے؟" اس لمحے کے بعد، ہزاروں لوگ غار کی طرف دوڑ پڑے۔ تاکہ اپنی آنکھوں سے اصحابِ کہف کو دیکھ سکیں۔ "یقین نہیں آتا کہ یہ لوگ 300 سال تک سوتے رہے ہیں!" اور اس معجزے کے ذریعے لوگوں کا ایمان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت پر بھی کہ وہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو نوجوان واپس غار میں گیا۔ پھر وہ سب اکٹھے سجدے میں گر پڑے۔ لیکن اس مرتبہ وہ قیامت کے دن تک موت کی حالت میں چلے گئے۔ اور یوں اپنا عظیم مشن مکمل کرنے کے بعد اصحابِ کہف کی اس دنیا کی آزمائش اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ وہ چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنے رب پر سچا ایمان رکھا۔ آج جب ہم اپنی زندگیوں کی مشکلات پر نظر ڈالتے ہیں، جب ہم دنیا میں پھیلی ہوئی ناانصافی دیکھتے ہیں، تو اکثر دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے: "آخر حالات کب بہتر ہوں گے؟ ہمیں سکون کب نصیب ہوگا؟" لیکن کیا اصحابِ کہف کا قصّہ اس بات کی سب سے بڑی مثال نہیں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے؟ کیا وہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت نہیں کہ انتہائی بے بسی کے عالم میں بھی اللہ آسانی کے دروازے کھول سکتا ہے؟ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب ہم خود کو تنہا اور بے یار و مددگار پاتے ہیں، تو ہمارا سب سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ اور ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر مشکل کا اصل حل اپنے رب پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور کیا رسول اللہ ﷺ بھی اسی حقیقت کی ایک عظیم مثال نہیں؟ ابتدا میں آپ ﷺ بھی تنہا تھے۔ آپ کے ساتھ صرف چند لوگ تھے۔ لیکن کیا آپ کا پیغام آخرکار دنیا کے اربوں انسانوں تک نہیں پہنچا؟ نبیِ پاکﷺ نے اپنے رب پر بھروسہ کیا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور پھر اندھیروں نے روشنی میں بدلنا شروع کر دیا۔ آئیے آخر میں قرآن کی ایک آیت پر غور کرتے ہیں: " اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔" کیا آپ کو روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے؟ یا شاید آپ عربی میں قرآن پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں اور رب کے قریب ہونا چاہتے ہیں، معلوم نہیں کہ آغاز کہاں سے کریں۔ ہمارے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ ہم نے مکمل طور پر مفت اور اشتہار سے پاک ایپس تیار کی ہیں تاکہ اس میں آپ کی مدد کر سکیں۔ ہماری نماز ٹریکر ایپ کے ذریعے 40 دن تک اپنی نمازوں کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں اور اس کی عادت بنا سکتے ہیں۔ Lamelif ایپ کے ذریعے آپ بالکل ابتدا سے قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں مختصر، آسان اور دلچسپ اسباق کے ذریعے۔ اب مزید دیر نہ کریں۔ آج ہی اپنا پہلا قدم اٹھائیں اور ڈسکرپشن میں موجود لنکس سے ایپس ڈاؤن لوڈ کریں۔
ہر پتھر کے نیچے دیکھو!" یہ کوئی پریوں کی کہانی یا افسانہ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جس کا ذکر خود قرآنِ مجید میں موجود ہے۔ " اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو یقیناً خوف کے مارے بھاگ جاتے اور ان کا رعب تم پر طاری ہو جاتا۔" تو آخر یہ نوجوان کون تھے؟ ایسا کیا ہوا کہ وہ 300 سال سے بھی زیادہ عرصے تک سوتے رہے؟ "مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کسی اور کی عبادت کرتے ہو۔ آخر یہ خدا کون ہے؟!" اور وہ کون سا اہم پیغام تھا کہ قرآنِ مجید نے اسے بیان فرمایا؟ "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔" آئیے قرآنِ مجید اور تاریخی روایات کی روشنی میں اس حیرت انگیز داستان پر مل کر نظر ڈالتے ہیں۔ "اور آپ انہیں جاگتا ہوا خیال کریں گے حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہوں گے، اور ہم انہیں دائیں بائیں (کروٹ) پھیرتے ہیں، اور ان کا کتا غار کے منہ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے، اگر آپ انہیں جھانک کر دیکھیں تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں اور آپ پر ان کا رعب چھا جائے۔" جی ہاں، یہ شاید تاریخ کے سب سے پُراسرار واقعات میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ لوگ آخر تھے کون؟ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ہم نبیِ پاک ﷺ کو ان کا اصل قصہ سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی" یہ اسلام سے پہلے کا زمانہ تھا۔ ابھی آخری نبی حضرت محمد ﷺ مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ اور عیسائیت بھی ابھی مکمل طور پر تحریف کا شکار نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت رومی سلطنت شرک پر مبنی عقائد رکھتی تھی۔ اور صرف یہی نہیں، بلکہ جو لوگ ان کے عقائد کو قبول نہ کرتے اور اللہ پر ایمان رکھتے انہیں سخت ترین سزائیں دی جاتیں۔ ان سزاؤں میں سولی چڑھانا بھی شامل تھا۔ اور بعض اوقات لوگوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سچے پیروکار موجود تھے۔ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اللہ تعالیٰ کے معجزوں پر ایمان رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر عام لوگ تھے، غریب، کمزور اور بے سہارا۔ تاہم تمام اہلِ ایمان غریب نہیں تھے۔ بعض خوشحال بھی تھے۔ اور بعض کے پاس اقتدار اور اثر و رسوخ بھی تھا۔ اور انہی میں سے چند افراد اسی داستان کے مرکزی کردار ہیں۔ یہ چند نوجوان رومی سلطنت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ لیکن اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ اور جوں جوں وہ اہلِ ایمان پر ہونے والے ظلم و ستم کو دیکھتے، ان کے دل مزید رنجیدہ ہوتے جاتے۔ انہوں نے اس صورتحال سے نکلنے کی تلاش شروع کر دی۔ کوڑے کا ہر وار گویا ان کے اپنے جسم پر پڑتا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔ لیکن وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟ ان کے پاس کیا اختیار تھا؟ وہ بے بسی سے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آخرکار وہ اتنے طاقتور نہیں تھے کہ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ اور اگر وہ بات کرتے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ لیکن ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ یہ نوجوان ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے۔ وہ مختلف دنوں اور مختلف مقامات پر ایمان لائے تھے۔ اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ دوسرے بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوتا، وہ رومیوں کی بت پرستانہ رسومات سے دُور رہتے۔ اور ان تقریبات میں شرکت سے گریز کرتے۔ اور جلد ہی انہیں پتہ چلنے والا تھا کہ وہ سب ایک ہی رب پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کا بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار اب پوشیدہ نہیں رہ سکتا تھا۔ "میرے آقا!
میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں تقریب چھوڑتے دیکھا ہے۔ یہ ہمارے معبودوں کی مقدس رسومات میں تقریباً حصّہ ہی نہیں لیتے۔" "یہ ہمارے معبودوں کی کھلی توہین ہے!
انہیں فوراً میرے سامنے پیش کیا جائے!" سرد سنگِ مرمر سے بنے عظیم الشان دربار میں، وہ نوجوان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے اجنبی، مگر دلوں میں جلنے والی ایک ہی پوشیدہ شمع نے انہیں آپس میں جوڑ رکھا تھا۔ "مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کسی اور کی عبادت کرتے ہو۔ آخر وہ خدا کون ہے؟!" کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پہلی مرتبہ، جب ان کی نظریں ایک دوسرے سے ملیں، تو انہوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے ہی دل کے راز کا عکس دیکھا۔ محافظ ایک اشارے کے منتظر تھے۔ اور بادشاہ توقع کر رہا تھا کہ وہ خوف سے کانپ اٹھیں گے یا رحم کی بھیک مانگیں گے۔ لیکن یہ اہلِ ایمان نوجوان اب خوف سے آزاد ہو چکے تھے۔ رومی سلطنت کی طاقت ان کے دلوں میں موجود حق کی روشنی کے سامنے کمزور پڑگئی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حق کو بلند آواز میں بیان کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک نوجوان کے دل میں ایسی جرأت پیدا فرمائی کہ وہ بادشاہ کے سامنے ڈٹ کر بول اٹھا: "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم واقعی ایک بہت بڑا جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔" یہ الفاظ سنتے ہی پورا دربار ساکت رہ گیا۔ کوئی شخص بادشاہ کے سامنے ایسی بات کہنے کی جرأت کیسے کر سکتا تھا؟ مگر اس ایک نوجوان کی جرأت نے باقی سب کے دلوں میں بھی حوصلہ بھر دیا۔ اچانک سب آگے بڑھے اور برسوں سے اپنے دلوں میں چھپایا ہوا ایمان برملا ظاہر کرنے لگے۔ "ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم واقعی ایک بہت بڑا جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔" "یہ ہماری قوم ہے جس نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ آخر وہ اپنے معبودوں کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے؟ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟" بادشاہ کو چند نوجوانوں کے ہاتھوں شدید ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب اس نے انہیں غور سے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ بااثر اور معزز خاندانوں کے نوجوان تھے۔ اگر وہ اسی وقت انہیں قتل کر دیتا تو عوام انہیں ہیرو سمجھنے لگتے۔ اور ان کے خاندان بھی تخت کے خلاف کھڑے ہو سکتے تھے۔ اسی لیے اس نے ایک مختلف طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی آواز نرم پڑ گئی۔ اس نے انہیں ان کی بلند حیثیت یاد دلائی۔ ان کی دولت یاد دلائی۔ اور اس روشن مستقبل کی یاد دہانی کروائی جسے وہ کھونے جا رہے تھے۔ " اس غلطی کو جوانی کی نادانی سمجھ کر معاف کرتا ہوں۔ تمہیں ایک دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر تم اپنی غلطی کا احساس کر لو اور روم کی قدیم روایات کی طرف واپس آ جاؤ تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ اب تم جا سکتے ہو۔" نوجوان خاموشی سے دربار سے باہر نکل آئے۔ اب وہ کیا کریں گے؟ محل کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے ان کے ذہنوں میں دولت یا منصب کا خیال تک نہیں تھا۔ انہیں کسی طویل مشورے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے شہر سے فرار ہونے کا یہی واحد موقع ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنے عقیدے سے دستبردار نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن بادشاہ کے سپاہی ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے فوراً کوئی محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنا شروع کر دی۔ وہ دائیں دیکھتے، بائیں دیکھتے، مگر جہاں بھی نظر اٹھاتے ایسے لوگ دکھائی دیتے جو انہیں پہچان کر گرفتار کروا سکتے تھے۔ بالآخر وہ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ آ ملا، جس کا نام قطمیر تھا۔ وہ انہیں چھوڑنے پر آمادہ ہی نہ تھا۔ بس مسلسل ان کے پیچھے چلتا رہا۔ آخرکار انہوں نے ایک غار میں پناہ لی، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کوہِ پیون تھی۔ اگرچہ بعض مؤرخین اسے کوہِ انشیالس قرار دیتے ہیں۔ اور وہاں، اس سنسان غار میں، اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے، انہوں نے یہ دعا کی: "اے ہمارے رب!
اپنے خاص فضل سے ہم پر رحمت نازل فرما، اور ہمارے ہر معاملے میں ہدایت اور آسانی عطافرما۔" ادھر بادشاہ پہلے ہی ان کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر تلاش کا حکم دے چکا تھا۔ "فوراً مکمل تلاشی کا آغاز کرو۔ ان نوجوانوں کو بلا تاخیر ڈھونڈ نکالا جائے۔" سپاہیوں نے اونچی جگہوں پر بھی اور نشیبی علاقوں میں بھی تلاش شروع کر دی۔ لیکن ان کا رب، اللہ تعالیٰ، ان کا محافظ تھا۔ اس نے انہیں ان کے دشمنوں کی پہنچ سے دُور رکھا۔ "کوئی جگہ بغیر تلاش کے نہ چھوڑی جائے!
ہر پتھر کے نیچے دیکھو!" اس غار میں، اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں پر معجزاتی طور پر 300 سال سے زائد عرصے تک نیند طاری کر دی۔ سورۂ کہف میں اللہ تعالیٰ ان کے غار کے اندر کے حالات یوں بیان فرماتا ہے: "اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کے غار سے دائیں جانب جھک جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں جانب کترا کر گزر جاتا، جبکہ وہ غار کے کشادہ حصّے میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔" اور 309 سال گزر گئے۔ پُورے 309 سال بعد، اصحابِ کہف، غار والے لوگ، بیدار ہو گئے۔ لیکن انہیں اندازہ نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو چکا ہے۔ وہ حیران رہ گئے کہ وہ کتنے عرصے سے سوئے ہوئے ہیں۔ "ہم کتنی دیر سے سوئے ہوئے ہیں؟ شاید ایک دن، یا پھر ایک دن کا کچھ حصّہ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔" لیکن حقیقت میں صدیاں گزر چکی تھیں۔ اتنی طویل نیند کے بعد انہیں شدید بھوک محسوس ہونے لگی۔ " کسی ایک کو کھانے کے انتظام کے لیے شہر بھیجتے ہیں۔" "میں شہر جاتا ہوں۔" "احتیاط سے جانا۔ کوئی بھی تمہیں نہ پہچان پائے۔" "خاموشی سے جانا۔ سپاہی تمہیں گرفتار کر سکتے ہیں۔" "میں محتاط رہوں گا۔" مگر راستے میں اسے عجیب و غریب چیزیں نظر آنے لگیں۔ شہر بالکل بدل چکا تھا۔ پرانے مندروں کی جگہ چرچ لے چکے تھے۔ بت کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آخر یہ سب کیا ہو گیا تھا؟ لوگوں کے درمیان سے گزرتے، اسے احساس ہوا کہ لوگ ایک ہی خالق کا ذکر کر رہے تھے۔ ادھر وہ تاریخی لمحہ، جب انہوں نے بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کی جرأت کی تھی، صدیوں بعد اہلِ ایمان کے لیے ہدایت اور حوصلے کا سرچشمہ بنا ہوا تھا۔ نوجوان شہر کے اندر مزید آگے بڑھا۔ وہ حیران تھا۔ لیکن بھوک اپنی جگہ موجود تھی۔ چنانچہ وہ روٹی خریدنے کے لیے دکان میں داخل ہوا۔ "صبح بخیر" اس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے چند روٹیاں خریدیں۔ پھر اس نے قیمت ادا کرنے کے لیے ایک چاندی کا سکہ نکالا۔ بیکر نے سکے کو گھور کر دیکھا۔ "یہ سکہ۔۔۔" وہ الجھن کا شکار تھا۔ "یہ تمہیں کہاں سے ملا؟" اس نے سوچا شاید اس نوجوان کو کوئی خزانہ ملا ہے۔ کیونکہ یہ سکہ سینکڑوں سال پرانا تھا۔ دکاندار نے فوراً حکام کو اطلاع دے دی۔ " اسے مشرقی دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ اس کا کوئی برا ارادہ نہیں۔" -"کس طرف گیا وہ ؟" -"بازار کی طرف۔" نوجوان کو پوچھ گچھ کے لیے محل لے جایا گیا۔ اور وہاں جا کر پہلی مرتبہ اس پر حقیقت آشکار ہوئی۔ وہ صرف ایک دن نہیں سوئے تھے۔ وہ صدیوں تک سوئے رہے تھے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر تھا۔ وہ جب چاہے جس طرح چاہے اپنے بندے کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ وہ چاہے تو کسی کو سینکڑوں سال تک سلائے رکھے، اور پھر دوبارہ بیدار کر دے۔ اسی طرح جیسے اس نے ان نوجوانوں کے ساتھ کیا۔ اور اگر اللہ چاہے تو جو لوگ قبر میں جائیں اور موت کی نیند میں ڈوب جائیں، انہیں بھی دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اللہ اسی حقیقت کو ایک آیت میں یوں بیان فرماتا ہے: "وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جو تم کرتے ہو وہ سب جانتا ہے۔ پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ مدّت پوری ہو جائے۔ پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔" اور ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ موت کے بعد دوبارہ زندگی ملنے کی مثال یوں بیان فرماتا ہے، جس طرح زمین سے ایک پودا اگ آتا ہے، "اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے ایک خاص طرح سے اگایا۔ اور پھر وہ تمہیں اسی میں واپس لے جائے گا اور پھر اسی سے نکالے گا۔" شہر کے لوگوں پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے ان نوجوانوں کی حالت دیکھی تو بالآخر ان پر واضح ہو گیا۔ انہوں نے سوچا: جس اللہ نے ان نوجوانوں کو اتنے طویل عرصے تک سُلائے رکھا اور پھر دوبارہ بیدار کر دیا، وہ یقیناً ہمیں بھی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ جب اصحابِ کہف 300 سال بعد بیدار ہوئے، تو اُس دور کے لوگوں کو آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات تھے۔ وہ بار بار بحث کرتے تھے کہ آخر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہے؟ "شاید قیامت کا دن محض ایک کہانی ہے۔" "نہیں، ہمارے رب نے اس کا وعدہ فرمایا ہے۔" درحقیقت اس زمانے کا حکمران لوگوں کو توحید کی دعوت دیتا تھا۔ وہ انہیں اللہ کی وحدانیت سمجھاتا اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے کی حقیقت بیان کرتا تھا۔ لیکن اب بھی کچھ لوگ یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے لیے موت کے بعد کی زندگی کا تصوّر مشکل تھا۔ یہ بات اسے بے حد غمگین کر دیتی تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا۔ "اے میرے رب!
ان لوگوں کو اس حقیقت کی کوئی نشانی دکھا دے جس کا یہ انکار کرتے ہیں۔" اور پھر آخرکار جب اس نے اصحابِ کہف میں سے ایک نوجوان کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا، تو اس نے فوراً اپنے اردگرد موجود لوگوں کو اطلاع دی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ کیونکہ وہ نشانی جس کا وہ برسوں سے منتظر تھا، بالآخر ظاہر ہو چکی تھی۔ "کیا اب بھی تم لوگوں کو شک ہے کہ اللہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے؟" اس لمحے کے بعد، ہزاروں لوگ غار کی طرف دوڑ پڑے۔ تاکہ اپنی آنکھوں سے اصحابِ کہف کو دیکھ سکیں۔ "یقین نہیں آتا کہ یہ لوگ 300 سال تک سوتے رہے ہیں!" اور اس معجزے کے ذریعے لوگوں کا ایمان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت پر بھی کہ وہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو نوجوان واپس غار میں گیا۔ پھر وہ سب اکٹھے سجدے میں گر پڑے۔ لیکن اس مرتبہ وہ قیامت کے دن تک موت کی حالت میں چلے گئے۔ اور یوں اپنا عظیم مشن مکمل کرنے کے بعد اصحابِ کہف کی اس دنیا کی آزمائش اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ وہ چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنے رب پر سچا ایمان رکھا۔ آج جب ہم اپنی زندگیوں کی مشکلات پر نظر ڈالتے ہیں، جب ہم دنیا میں پھیلی ہوئی ناانصافی دیکھتے ہیں، تو اکثر دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے: "آخر حالات کب بہتر ہوں گے؟ ہمیں سکون کب نصیب ہوگا؟" لیکن کیا اصحابِ کہف کا قصّہ اس بات کی سب سے بڑی مثال نہیں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے؟ کیا وہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت نہیں کہ انتہائی بے بسی کے عالم میں بھی اللہ آسانی کے دروازے کھول سکتا ہے؟ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب ہم خود کو تنہا اور بے یار و مددگار پاتے ہیں، تو ہمارا سب سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ اور ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر مشکل کا اصل حل اپنے رب پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور کیا رسول اللہ ﷺ بھی اسی حقیقت کی ایک عظیم مثال نہیں؟ ابتدا میں آپ ﷺ بھی تنہا تھے۔ آپ کے ساتھ صرف چند لوگ تھے۔ لیکن کیا آپ کا پیغام آخرکار دنیا کے اربوں انسانوں تک نہیں پہنچا؟ نبیِ پاکﷺ نے اپنے رب پر بھروسہ کیا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور پھر اندھیروں نے روشنی میں بدلنا شروع کر دیا۔ آئیے آخر میں قرآن کی ایک آیت پر غور کرتے ہیں: " اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔" کیا آپ کو روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے؟ یا شاید آپ عربی میں قرآن پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں اور رب کے قریب ہونا چاہتے ہیں، معلوم نہیں کہ آغاز کہاں سے کریں۔ ہمارے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ ہم نے مکمل طور پر مفت اور اشتہار سے پاک ایپس تیار کی ہیں تاکہ اس میں آپ کی مدد کر سکیں۔ ہماری نماز ٹریکر ایپ کے ذریعے 40 دن تک اپنی نمازوں کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں اور اس کی عادت بنا سکتے ہیں۔ Lamelif ایپ کے ذریعے آپ بالکل ابتدا سے قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں مختصر، آسان اور دلچسپ اسباق کے ذریعے۔ اب مزید دیر نہ کریں۔ آج ہی اپنا پہلا قدم اٹھائیں اور ڈسکرپشن میں موجود لنکس سے ایپس ڈاؤن لوڈ کریں۔