Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Maine Islam Ke Liye Aik Arab Ameer Ko Chhor Diya – Sabiqa Christian Ki Kahani

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میں ایک کیتھولک اسکول میں پڑھتی تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرا واقعی کبھی خدا کے ساتھ تعلق رہا تھا۔ میں لندن کے ایک کیفے میں بیٹھی تھی۔ اور ہمارے سامنے، دو نوجوان بیٹھے تھے۔ وہ ایک معزز اور امیر ترین، دولت مند عرب خاندانوں میں ایک سے تھا۔ اور اُس لمحے کے بعد سے، میری پوری زندگی بدل کر رہ گئی۔ کبھی پرائیویٹ جیٹس، پرائیویٹ جہاز میں سفر کرنا۔ میں نے کونکورڈ میں بھی سفر کیا۔ ہمارے پاس ڈرائیورز، خادمائیں، شیف تھے۔ یعنی، وہ سب کچھ جس کا آپ تصوّر کر سکتے ہیں۔ اور سچ کہوں تو، اُن باتوں نے میرے سوچنے کا انداز مکمل طور پر بدل دیا۔ لہٰذا میں نے اسلام سے متعلق کتابیں خریدنا شروع کر دیں۔ اور میں جتنا زیادہ پڑھتی گئی، مطلب، یہ سب حیران کُن تھا۔ لہٰذا تمام کڑیوں کو جوڑنے کے بعد مجھے سب سمجھ میں آ گیا۔ اور

وہاں مکہ میں نماز کی براہِ راست نشریات ہو رہی تھیں۔ شیخ السدیس قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ اور وہ بات میرے دل کو چھو گئی، بالکل ایسے، اور میں رونے لگی۔ اور میں بس روتی ہی رہی۔ لہٰذا میں اُس کے پاس گئی اور کہا، ہم یہاں جو کچھ کر رہے ہیں وہ حرام ہے، اور یا تو ہم شادی کر لیں، ورنہ مجھے جانا ہوگا۔ تب اُس نے مجھ سے کہا کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور اُسی لمحے، میں جان گئی تھی۔ میں اب مزید ایسا نہیں کر سکتی۔ السلام علیکم سسٹر پیٹریشیا وینکو، Towards Eternity میں خوش آمدید۔ آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ پیٹریشیا وینکو کون ہیں؟ کیا آپ ہمیں اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتی ہیں؟ وعلیکم السلام آپ کی دعوت کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ اپنے بارے

میں یہ کہ، میں ایک جرمن نو مسلم ہوں۔ میرے والد اصل میں یونانی تھے، اور میری والدہ چیک (Czech) تھیں۔ میں ایک عیسائی لیکن بہت آزاد خیال ماحول میں پلی بڑھی۔ 20 سال کی عمر میں، میں نے اسلام قبول کیا۔ 50 سال کی عمر میں، میں نے ہیلتھ سائیکالوجی پڑھنا شروع کی، اور بعد میں Unaya کی شریک بانی بنی، جوکہ ایک سپلیمنٹ کمپنی ہے۔ اور آج میں اپنا تمام علم اور تجربہ سوشل میڈیا پر ہیلتھ ایڈووکیٹ کے طور پر شیئر کرتی ہوں۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ کیا آپ ہمیں اُن دنوں میں لے جا سکتی ہیں، پلیز؟ میں ایک کیتھولک اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ چنانچہ میں وہاں کیتھولک عقائد اور پیغمبروں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے بڑی ہوئی۔ بچپن میں ہی میرے والدین میں طلاق ہو گئی اور میں اپنی والدہ کے ساتھ پلی بڑھی۔ وہ خدا سے دعا کرتی

تھیں، وہ ایسٹر اور کرسمس مناتی تھیں۔ چنانچہ ، خدا ہمیشہ کسی نہ کسی طرح زندگی میں موجود رہا۔ میں جانتی تھی کہ وہ موجود ہے، مگر میں کبھی زیادہ گہرائی میں نہیں گئی۔ میں نے حقیقتاً کبھی نہیں پوچھا کہ ایمان کا اصل مطلب کیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرا واقعی کبھی خدا کے ساتھ تعلق رہا تھا۔ یہ زیادہ تر وہ روایات تھیں جو میری زندگی کا حصّہ تھیں، چاہے وہ کرسمس منانا ہو، جس میں ظاہر ہے تحائف کے ساتھ ہمیشہ بہت خوشی ہوتی تھی۔ جرمنی میں دراصل ہر وہ شخص جو کام کر رہا ہے اور جو خود کو عیسائی سمجھتا ہے، وہ چرچ کو ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر میری والدہ نے بھی ایک خاص موڑ پر یہ کہتے ہوئے چرچ چھوڑ دیا تھا کہ "مجھے خدا پر یقین رکھنے کے لیے پیسے دینے کی کیا ضرورت ہے؟ مجھے اِس کے لیے ٹیکس دینے کی کیا ضرورت ہے؟" لہٰذا

اُنہوں نے خدا پر یقین رکھنے کے باوجود چرچ چھوڑ دیا تھا۔ آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا، اور آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ میرا خیال ہے کہ میرا سفر کافی غیر معمولی ہے۔ اِس کا آغاز گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہوا۔ میں لینگویج کورس کرنے کے لیے انگلینڈ گئی تھی، اور واپس جرمنی آنے سے ایک دن پہلے، میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ لندن کے ایک کیفے میں بیٹھی تھی۔ اور ہمارے سامنے، دو نوجوان بیٹھے تھے۔ وہ ہمارے پاس آئے، ہم نے باتیں شروع کیں، فون نمبرز کا تبادلہ کیا، اور اُس لمحے کے بعد سے، میری پوری زندگی بدل کر رہ گئی۔ بالکل الٹ گئی۔ چنانچہ میرا اُن میں سے ایک کے ساتھ رابطہ رہا، اور بعد میں اُس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک معزز اور امیر ترین، دولت مند عرب خاندانوں میں ایک سے ہے۔ اور آخر کار ہمارے درمیان چار

سال سے زیادہ عرصے تک تعلق رہا۔ اور وہ واقعی میری زندگی کے سب سے غیر معمولی سال تھے۔ میرا مطلب ہے، میں جرمنی کی ایک نوجوان لڑکی تھی، جو اچانک ایک "شہزادی" جیسی زندگی گزار رہی تھی۔ اور یہ بالکل پریوں کی کہانی جیسا تھا۔ میرا مطلب ہے، ہر لڑکی شہزادی بننا چاہتی ہے، ہے ناں؟ تو ہاں، ہم واقعی ایک بہت ہی خاص لائف اسٹائل گزار رہے تھے۔ جیسے کہ پوری دنیا میں وی آئی پی سروس، کبھی پرائیویٹ جیٹ، پرائیویٹ جہاز میں سفر کرنا، میں نے کونکورڈ میں بھی سفر کیا۔ ہمارے پاس ڈرائیورز، خادمائیں، شیف تھے۔ یعنی، وہ سب کچھ جس کا آپ تصوّر کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں تو مائیکل جیکسن سے بھی ملی۔ اُس وقت میرے بوائے فرینڈ کو مہنگی اسپورٹس کاروں کا بہت جنون تھا۔ چنانچہ کبھی کبھی ہم محض کسی کیفے جانے کے لیے ایک چمکدار رنگ کی

رولز رائس یا جدید ترین جیگوار اسپورٹس کار میں لندن کی سڑکوں پر نکل جاتے۔ جو واقعی حیرت انگیز تھا، وہ انتہائی عیش و عشرت بھری زندگی تھی۔ اور ہم لاس اینجلس میں بھی گھومے، ایک پیلی ہارلے ڈیوڈسن پر بغیر ہیلمٹ کے۔ وہ سب کچھ بہت حیران کن تھا۔ اور پتہ ہے، اُس کی فیملی ہمیشہ میرے ساتھ بہت مہربان رہی۔ اور مجھے اُن کی جو چیز سب سے زیادہ پسند تھی ،وہ ان کے مضبوط خاندانی رشتے تھے۔ اگرچہ وہ مذہب پر زیادہ عمل کرنے والا نہیں تھا، مگر پھر بھی اسلام کی بہت سی بنیادی اقدار اپنے اندر رکھتا تھا۔ لہٰذا ہم اکثر مذہب کے بارے میں، عورتوں اور مردوں کے بارے میں، اور احترام و وقار کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ اور سچ کہوں تو، اُن باتوں نے، میرے سوچنے کا انداز مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ مطلب، شروع میں مجھے اسلام کے بارے

میں زیادہ علم نہیں تھا۔ میرے ذہن میں وہ تمام روایتی خیالات تھے کہ عورتوں کا احترام نہیں کیا جاتا اور وہ مظلوم ہیں، اور یہ کہ اُنہیں پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن جتنا زیادہ اُس نے وضاحت کی کہ اسلام میں دراصل عورتوں کی کتنی قدر و قیمت ہے، اور یہ کہ حیا و پاکدامنی آزادی کی ایک شکل بھی ہو سکتی ہے، اتنا ہی زیادہ میں نے اپنی زندگی پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ کیونکہ درحقیقت، اگر خوبصورتی کا فیصلہ فیشن اور بیوٹی انڈسٹری کرتی ہے، تو میں واقعی کتنی آزاد ہوں؟ کیا میں واقعی یہ منتخب کرنے میں آزاد ہوں کہ میرے جسم کا کتنا حصّہ کون دیکھ سکتا ہے؟ کیا میں اتنی آزاد ہوں، یا یہ محض ایک وہم ہے؟ اور اگر میں یہ فیصلہ کروں کہ میں کچھ بھی ظاہر نہ کروں تو کیا ہوگا؟ مثلاً کسی نوکری کے لیے درخواست دیتے ہوئے؟

میرا مطلب ہے، کیا ظاہری شکل و صورت واقعی میری اندرونی اقدار اور خوبیوں سے زیادہ اہم ہے؟ اور وقت کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ مغرب میں خواتین نے مردوں کے ساتھ مقابلہ شروع کر دیا، مردوں جیسا بننے کی کوشش کرنے لگیں، صرف اِس لیے کہ اُنہیں ایک عورت کے طور پر وہ قدر و منزلت اور حقوق نہیں دیے گئے تھے، جن کی وہ حق دار تھیں۔ اور یہیں سے دراصل میرا اندرونی سفر شروع ہوا، اِس شعور کے ساتھ کہ سوچنے کا، طرزِ زندگی کا اور چیزوں کو دیکھنے کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے۔ چنانچہ اُس وقت، جب میں کبھی کبھی اُس کے آبائی ملک جاتی تھی، تو وہاں کافی بوریت ہوتی تھی۔ اُس وقت کوئی سوشل میڈیا یا ایسی کوئی چیز نہیں تھی، اور کرنے کو زیادہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا میں نے کتابیں خریدنا شروع کر دیں۔ اور اسلام کے بارے میں وہ پرانے

زمانے کی بڑی VHS ٹیپس۔ وہاں بس یہی کچھ دستیاب تھا۔ اور اُس زمانے میں، شیخ احمد دیدات اور پروفیسر جیفری لینگ، یہ دعوتِ دین کے مشہور لوگ تھے۔ چنانچہ میں نے اُن کے کچھ لیکچرز دیکھے، اور سائنسدانوں کے اسلام قبول کرنے کی ویڈیوز دیکھیں۔ میں نے قرآن کے معجزوں کے بارے میں ویڈیوز دیکھیں۔ اور میں جتنا زیادہ دیکھتی اور جتنا زیادہ پڑھتی گئی، اتنا ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ خدا کے سوا کسی دوسرے ذریعے سے نہیں ہو سکتا۔ مطلب، ریگستان میں 1400 سال سے بھی پہلے ایک غیر پڑھا لکھا شخص، وہ سمندر کی گہرائیوں میں آگ جیسے مظاہر کے بارے میں نہیں جان سکتا تھا، یا یہ کہ پہاڑوں کی گہری جڑیں ہوتی ہیں جو زمین کی تہہ کو مستحکم رکھتی ہیں، یا یہ کہ سورج دراصل اپنی روشنی خود پیدا کر رہا ہے، جبکہ چاند اُس سے روشنی لیتا ہے۔ مطلب،

یہ سب حیران کُن تھا۔ اور پھر میں مزید گہرائی میں گئی۔ میں نے مذاہب کا موازنہ شروع کیا کیونکہ میں نے سوچا ،اچھا، پھر عیسائیت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور یہ میری زندگی میں دراصل پہلی بار تھا، جب میں نے واقعی خدا کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے بائبل پڑھنا شروع کی۔ پہلی بار۔ اور میں نے شیخ احمد دیدات کے بہت سے مباحثے دیکھے۔ وہ بائبل کی آیات اور قرآن کی آیات، اور اولڈ ٹیسٹامنٹ اور دیگر تمام صحیفوں کا موازنہ کرنے میں ناقابلِ یقین مہارت رکھتے تھے۔ لہٰذا وہ اصل تعلیمات کے حوالے سے بہت علم رکھتے تھے۔ اِس سے آپ کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیمات صرف ایک خدا کی عبادت کرنا تھیں۔ یعنی اُنہوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ تین میں سے ایک ہیں، یا یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خدا ہیں۔

چیزیں دراصل بہت بعد میں تبدیل کر دی گئیں۔ لیکن اصل تعلیمات وہی ہیں۔ اور اُن کی عبادت کا طریقہ، یا ان کا روزہ رکھنا، اور یہ کہ وہ سؤر کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ یعنی، بہت سی، بے شمار چیزیں۔ اور مریم علیہا السلام، عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ۔ وہ ہماری سب سے بڑی مثالوں میں سے ایک ہیں۔ اور ظاہری طور پر بھی، وہ ہمیشہ حجاب میں ہوتی تھیں۔ تو جیسا کہ میں نے کہا، تمام کڑیوں کو اگر آپ آپس میں جوڑیں، تو اچانک سب کچھ سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ اچانک ہر چیز منطقی لگتی ہے۔ اور ایک موقع پر مجھے ایک بہت اہم بات کا احساس ہوا۔ کہ پیغامات ہمیشہ ایک جیسے ہی تھے۔ پیغامات کا سر چشمہ بھی ایک ہی تھا۔ آدم سے لے کر موسیٰ تک، عیسیٰ اور محمد ﷺ تک، سب پر سلام ہو۔ اور تب میں سمجھ گئی کہ مجھے مذاہب کے درمیان انتخاب کرنے کی ضرورت

نہیں ہے کیونکہ اگر میں ایک مسلمان ہوں، تو میں خود بخود عیسائیت اور یہودیت کی سچی تعلیمات پر یقین رکھتی ہوں۔ یعنی ایک مسلمان تب تک مسلمان نہیں ہے جب تک کہ وہ عیسیٰ اور موسیٰ اور اُن سے پہلے آنے والے تمام پیغمبروں پر یقین نہ رکھتا ہو۔ لہٰذا تمام کڑیوں کو جوڑنے کے بعد مجھے سب سمجھ میں آ گیا۔ لیکن دوسری طرف، میں چیزوں کو بہت گہرائی سے محسوس بھی کرتی ہوں۔ اور اسلام نے واقعی میرے اِن دونوں پہلوؤں سے بات کی۔ پھر اُس کے آبائی ملک میں ، وہ ایک بہت، بہت خاص لمحہ آیا۔ مجھے وہ ایسے یاد ہے جیسے آج کی بات ہو۔ میرا دل چاہا کہ ٹی وی چلاؤں، تو میں نے ریموٹ کنٹرول لیا، ٹی وی لگایا، اور وہاں مکہ میں نماز کی براہِ راست نشریات ہو رہی تھیں۔ اور میرے خیال میں، پہلی بار میں نے واقعی بہت غور سے توجہ دی۔ تو شیخ

السدیس قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ اور میں کبھی نہیں بھولوں گی کہ کیسے اُن کی آواز لرز رہی تھی۔ آپ ہر لفظ میں اللہ کے لیے خشیت اور محبت محسوس کر سکتے تھے۔ اور پھر میں نے اُن تمام مسلمانوں کو دیکھا۔ وہ ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کھڑے تھے، جھک رہے تھے، متحد ہو کر، خدا کے سامنے عاجزی کر رہے تھے۔ اور اُن میں سے کچھ تو رو بھی رہے تھے۔ اور وہ بات میرے دل کو چھو گئی، بالکل ایسے، اور میں رونے لگی۔ اور میں بس روتی ہی رہی۔ مجھے اُن کا پڑھا ہوا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ میرا دل سمجھ رہا تھا۔ اور میری روح بھی۔ شاید یہ ایسے ہی ہے جیسے، ایک بچہ جو اپنی ماں کے الفاظ تو نہیں سمجھتا مگر اُسے پہچان لیتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی محسوس ہوا۔ اُس لمحے میں جان گئی تھی۔ میں بس جان گئی تھی۔ اللہ واقعی

موجود ہے۔ اور وہی ایک، واحد سچائی ہے۔ اور جب آپ نے کلمۂ شہادت پڑھا (ایمان کا اعلان) تو کیسا محسوس ہوا؟ میں جرمنی واپس گئی، گلی میں بنی ایک چھوٹی سی مسجد میں۔ امام صاحب بہت اچھے تھے، وہ مسکرائے، اُنہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ ہم ایک دائرے کی شکل میں فرش پر بیٹھ گئے، اور اُنہوں نے مجھ سے چند سوالات پوچھے، کہ کیا میں اسلام کے بارے میں جانتی ہوں، کیا مجھے اِس کے لیے مجبور کیا گیا ہے، یا میں یہ اپنی مرضی سے کر رہی ہوں۔ ہاں، اور پھر اُنہوں نے مجھ سے کلمۂ شہادت پڑھنے کو کہا۔ اور مجھے آج بھی یاد ہے، میں نے انتہائی ہلکا پن محسوس کیا تھا۔ جیسے ایک بہت ہی گہرا سکون مل گیا ہو۔ جیسے میری روح کہہ رہی ہو، "آہ، آخر کار۔" تو اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئی؟ کیا آپ نے اُسے بتایا؟ ہاں،

میں نے اُسے بتا دیا تھا، اور اُس نے خود بھی محسوس کر لیا تھا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے میری محبت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ اور میں نے روزے رکھنا اور نماز پڑھنی شروع کر دی تھی۔ مگر میں اپنی اُس پُر آسائش ، شہزادیوں والی زندگی میں خود کو غیر مطمئن محسوس کرنے لگی، کیونکہ ہیڈ اسکارف (حجاب ) پہن کر نائٹ کلبز میں جانا واقعی سمجھ میں نہیں آتا۔ چنانچہ شروع میں، میں نے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ جب میں جرمنی میں ہوتی، تو میں حجاب پہن لیتی تھی۔ اور جب میں اُس کے ساتھ ہوتی، تو اتار دیتی تھی۔ اور وہ اِسی پر راضی تھا، وہ کہتا تھا کہ وہ نہیں چاہتا کہ جب میں اُس کے ساتھ ہوں تو حجاب پہنوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ لیکن دل کی گہرائیوں میں یہ سب ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اِس سے میرے دل میں

ایک بڑی کشمکش پیدا ہو گئی۔ کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں ایک ہی وقت میں دو مختلف زندگیاں گزاروں اور خوش بھی رہوں۔ تو میں نے وقت کے ساتھ یہ بھی محسوس کیا کہ جتنا میں اللہ کے قریب محسوس کر رہی تھی، درحقیقت اپنے اور اُس کے درمیان اتنی ہی دوری محسوس کر رہی تھی۔ اور پھر ایک واقعہ ہوا، اور میں جان گئی کہ یہ تعلق ختم ہو سکتا ہے۔ میں اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پڑھ رہی تھی، سیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اور مجھے یاد ہے کہ وہ کتاب بند کرتے ہوئے، میں نے سوچا، "اچھا، یہاں واقعی کچھ غلط ہو رہا ہے۔ میں اب یہ مزید نہیں کر سکتی، میں اِس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔" لہٰذا میں اُس کے پاس گئی اور کہا، "ہم یہاں جو کچھ کر رہے ہیں وہ حرام ہے، اور میں اب یہ سب جاری نہیں رکھ سکتی۔ یا تو ہم شادی کر لیں، ورنہ

مجھے جانا ہوگا۔" تب اُس نے مجھ سے کہا کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن ہم اِسی طرح زندگی کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ اور اُسی لمحے، میں جان گئی تھی۔ میں اب مزید ایسا نہیں کر سکتی۔ لہٰذا میں نے اپنا سامان باندھا، اور چلی گئی۔ تو جب آپ گھر واپس آئیں اور اُس چار سالہ تعلق کو چھوڑا تو آپ کو کیسا لگا؟ وہ واقعی بہت کٹھن وقت تھا۔ وہ ایک بہت مشکل صورتحال تھی کیونکہ جب میں گھر واپس آئی، تو میری والدہ کے پاس میرے رہنے کی اب کوئی جگہ نہ رہی تھی۔ میں کیا کروں گی؟ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کروں گی؟ کیونکہ میں ابھی ہائی اسکول سے ہی فارغ ہوئی تھی اور ابھی تک کوئی اور ایجوکیشن نہیں پائی تھی۔ اب نہ کوئی سفر تھا، نہ پرائیویٹ جیٹ سروس، کچھ بھی VIP نہیں۔ چنانچہ مجھے اپنے ہی گھر میں ایک مہمان کی طرح محسوس ہونے

لگا کیونکہ میں صرف ایک ہفتے یا دو ہفتے یا تین ہفتے کے لیے نہیں ٹھہری تھی، پہلے تو میں بس آتی جاتی رہتی تھی۔ لہٰذا میں وہیں رک گئی، ظاہر ہے، اب ہمیشہ کے لیے وہیں رہنا تھا۔ کھانا پکانا، گھر کی صفائی، سب کچھ اب مسلسل خود ہی کرنا تھا۔ اور وہ وقت بہت مشکل تھا۔ پھر یہ خیال کہ، اچھا، سب ختم ہو چکا ہے۔ اب آگے کیا کرنا ہے۔ تو میں نے سوچا کہ ٹھیک ہے، چلو میں اسلام کا مطالعہ کرتی ہوں۔ تو میں یونیورسٹی چلی گئی اور کسی وجہ سے میں بہت زیادہ مطمئن نہیں تھی۔ میں نے سوچا، آہ کیا میں واقعی یہ کر سکتی ہوں؟ اور اِس کے کچھ ہی عرصے بعد میری ملاقات اپنے شوہر سے ہوئی۔ لہٰذا میں نے حقیقتاً کچھ شروع نہیں کیا تھا۔ اسلام کی طرزِ زندگی کو اپنانا آپ کے لیے کتنا مشکل تھا، جیسے کہ حرام (ناجائز) سے بچنا اور دن میں پانچ وقت

کی نماز پڑھنا؟ سچ کہوں تو مجھے یہ اتنا مشکل نہیں لگا۔ کیونکہ میں واقعی اِس بات پر قائل تھی، اور آج بھی ہوں، کہ وہ رہنمائی جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں عطا کرتا ہے، وہ حکمت سے بھرپور ہے۔ یعنی وہ صرف معاشرے کی بہتری کے لیے ہے، اور خاص طور پر عورتوں کی بھلائی کے لیے، اُن کے تحفظ کے لیے، کیونکہ وہ نسبتاً زیادہ حساس اور محفوظ رکھنے کی محتاج ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں 1400 سال سے بھی پہلے عورتوں کو بے شمار حقوق دیے گئے تھے۔ جیسے کہ وراثت کا حق، اپنے شوہر کے انتخاب کا حق، طلاق کا حق، کمانے اور اپنی رقم اپنے پاس رکھنے کا حق، اور یہاں تک کہ تعلیم حاصل کرنے کی ذمہ داری اور حق۔ یہ وہ حقوق ہیں جو یورپ کی عورتوں کو ابھی حال ہی میں ملے ہیں۔ تو آپ کے سوال کی طرف واپس آتی ہوں، اسلامی لائف اسٹائل

کو اپنانا، مثال کے طور پر حجاب پہننا، درحقیقت وہ فیصلہ تھا جو میں نے بس میں کیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں بیٹھی اپنے ارد گرد تمام لوگوں کو دیکھ رہی تھی، اور میں نے سوچا، کیا میں واقعی اپنے سر پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے سے ڈر رہی ہوں، صرف اِس لیے کہ لوگ کیا سوچیں گے یا کیا کہیں گے؟ یا میں اِس حوالے سے زیادہ فکر مند ہوں کہ اللہ کیا حکم دیتا ہے؟ اور جواب میرے لیے بالکل واضح تھا۔ چنانچہ میں نے اگلے ہی دن سے حجاب پہننا شروع کر دیا۔ میں بہت نروس تھی۔ مجھے یاد ہے میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ لیکن یہ درحقیقت میری توقع سے کہیں زیادہ آسان رہا۔ اِس نے مجھے ایک گہرا سکون اور تکمیل کا احساس دیا، کیونکہ میں نے ظاہر میں وہی اپنا لیا جو میں اپنے اندر محسوس کرتی تھی۔ تو ہاں، حجاب کے ساتھ شروعات بہت آسان

رہی تھی۔ کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا غیر معمولی لمحہ محسوس کیا ہے، جہاں آپ کو اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس ہوا ہو؟ اوہ ہاں، بالکل۔ بہت مرتبہ۔ مثال کے طور پر، میری طلاق کے بعد۔ مجھے اور میرے بچوں کو بالکل اپنے بل بوتے پر نئی زندگی شروع کرنی تھی۔ نہ کوئی پیسہ، نہ سیونگز، نہ نوکری، نہ فیملی سپورٹ۔ مدد کے لیے کوئی نہ تھا۔ مجھے ایک نئے شہر میں منتقل ہونا تھا اور رہنے کے لیے جگہ ڈھونڈنی تھی۔ اور جس کسی نے بھی کبھی اُس شہر میں کرائے پر گھر لینے کی کوشش کی ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ کتنا ناممکن ہے۔ وہ آپ سے آمدنی، ڈپازٹس اور ضمانتیں مانگتے ہیں۔ میرے پاس اِن میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ اور سچی بات ہے، وہاں اتنے زیادہ اشتہارات ہیں کہ مستحکم آمدنی والے بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی بڑی بے تابی سے جگہ تلاش کر رہے

ہوتے ہیں۔ خدا کی قسم، بالکل ناممکن سا لگ رہا تھا۔ اور مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میں اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی تھی، اور کرائے کے اشتہارات دیکھنا شروع کرنے کا ارادہ کر رہی تھی، اور عین اُسی لمحے، میں نے مکمل طور پر اللہ پر توکل کیا۔ میں نے کہا، "اے اللہ، میری رہنمائی فرما۔ مجھے راستہ دکھا۔ پھر جو پہلی جگہ مجھے ملے گی، میں اُسے قبول کر لوں گی، کیونکہ تو جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔" وہ جمعرات کا دن تھا۔ میں نے اشتہارات دیکھے، میں نے پہلی بار اُنہیں چیک کیا تھا۔ اور وہاں صرف ایک نیا اشتہار لگا ہوا تھا۔ ایک خوبصورت گھر، ہم سب کے لحاظ سے بڑا اور کرایہ بھی مناسب تھا۔ میں نے اشتہار دینے والوں کو ایک میسج بھیجا، اور اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ میں ہفتے کے دن صبح 10 سے 12 بجے کے درمیان آ سکتی ہوں، مگر

اُنہوں نے مجھے خبردار کیا کہ بہت سے لوگوں کے آنے کی توقع ہے، اِس لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ براہِ کرم اپنا پتہ بتا دیں۔ جمعہ کے دن میں نے وہ پتہ چیک کیا، اور معلوم ہے کیا ہوا؟ اُس شخص نے اشتہار میں ایک نوٹ شامل کیا تھا جس میں دلچسپی رکھنے والے تمام لوگوں سے کہا گیا تھا، "پلیز مجھ سے دوبارہ رابطہ کریں کیونکہ سسٹم کی خرابی سے تمام ای میلز ڈیلیٹ ہو گئی ہیں۔" میں نے سوچا، ہیں؟ مجھے یہ بہت عجیب لگا۔ لیکن میں نے اِس پر زیادہ غور نہیں کیا، کیونکہ مجھے زیادہ فکر اِس بات کی تھی کہ کیا پہننا ہے۔ میں حجاب (ہیڈ اسکارف) کے بارے میں بہت غیر یقینی کا شکار تھی۔ میں نے سوچا اوکے، کیا مجھے حجاب (ہیڈ اسکارف) ڈھیلا کر کے پہننا چاہیے؟ تھوڑا سا پیچھے کی طرف۔ یا روایتی طریقے سے سامنے کی طرف؟ اور

میں خود کو بہت زیادہ مذہبی نہیں دکھانا چاہتی تھی، ظاہر ہے، ہم یہاں جرمنی میں ہیں۔ یہاں کافی زیادہ نسل پرستی پائی جاتی ہے۔ اور پھر میں نے کہا، ٹھیک ہے اے اللہ، یہ سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ اور میں اِسے روایتی طریقے سے ہی پہنوں گی۔ اور اگر ہمارے لیے اِس خوبصورت گھر میں رہنا لکھا ہے، تو تُو اِسے ممکن بنا دے گا۔ چنانچہ ہفتے کی صبح، میرے ایک اور اپائنمنٹ اور شدید ٹریفک کی وجہ سے، میں بہت دیر سے پہنچی۔ 10:45 پر۔ گھر والوں نے دروازہ کھولا، مسکرائے اور کہا، "ویلکم، آپ پہلی فرد ہیں جو آئی ہیں۔" مجھے یاد ہے کہ میں نے سوچا تھا "کیا؟ یہاں تو اور بھی بہت سے لوگ آنے والے تھے۔" یہ تو بعد میں مجھے سمجھ آئی، کہ اکثر لوگوں کو پتہ ملا ہی نہیں کیونکہ اُن کی ای میلز ڈیلیٹ ہو گئی تھیں۔ سبحان اللہ۔ تو قصہ مختصر یہ کہ،

کرایہ داروں نے ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ جس پہلے شخص کو پسند کریں گے، اُسی کی سفارش مکان مالک سے کر دیں گے۔ سبحان اللہ۔ اور اُس صبح، میں پہلی فرد تھی جو وہاں پہنچی، اور میں اُنہیں پسند آ گئی۔ لہٰذا تمام مشکلات کے باوجود، ہمیں وہ گھر مل گیا۔ اور خدا کی قسم، وہ بہت ہی خوبصورت گھر تھا۔ بڑا سا باغ، پیارے مسلمان پڑوسی۔ ہماری ضرورت کی ہر چیز قریب ہی موجود تھی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میں ہر ایک دن شکر گزاری کے آنسو بہاتی تھی۔ کیونکہ آخر کار، میں اپنے بچوں کو ایک پُرسکون اور خوبصورت گھر دے پائی تھی۔ بے شمار لوگ سالوں تک تلاش کرتے ہیں اور اُنہیں کبھی جگہ نہیں ملتی۔ مگر جب آپ واقعی خود کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں، مکمل طور پر، کامل سپردگی کے ساتھ، صرف تب ہی اللہ آپ کو سنبھال لیتا ہے۔ اور یہ ایک بہت ہی

خوبصورت احساس ہے۔ اِس کیفیت تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ سسٹر پیٹریشیا، آپ کے اسلامی سفر نے آپ کی صحت کے سفر کو بھی متاثر کیا۔ کیا آپ ہمیں اِس بارے میں مزید کچھ بتا سکتی ہیں؟ اپنی 20 سالہ تکلیف دہ ازدواجی زندگی اور بچوں کی پرورش کے بعد، میں بالکل ہمت ہار چکی تھی۔ اور میرا جسم بس جواب دے گیا تھا۔ مجھ میں آٹو امیون بیماریاں پیدا ہو گئیں، ہاشیموٹو اور سورائسس۔ مجھے مستقل سوزش رہنے لگی، اور میں واقعی ہر دن اور رات تکلیف میں گزارتی تھی۔ ایسے اوقات بھی آئے جب میں کھڑے ہو کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتی تھی۔ مجھے بیٹھنا پڑتا تھا۔ اور میرے بال گرنے لگے، دل کے مسائل، ذہنی الجھن اور ایک بہت گہری تھکاوٹ تھی۔ چاہے میں کتنا سو لوں، یا کتنی کافی پی لوں۔ کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ اور جب بھی میں ڈاکٹر کے پاس جاتی، اور

وہ بس یہ پوچھتیں، "آپ کیسی ہیں؟" تو میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی۔ اور ایک بار اُنہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا، "اگر آپ اِسی طرح جیتی رہیں، تو اسپتال پہنچ جائیں گی، یا تو شدید اعصابی تھکن سے یا پھر کینسر سے۔" اور اِس بات نے مجھے واقعی ڈرا دیا۔ کیونکہ اُس وقت، میں واقعی کینسر ہونے کے خوف میں مبتلا تھی۔ اُنہی دنوں، میں نے اپنی زندگی کے معجزوں میں سے ایک کا دوبارہ تجربہ کیا۔ میں کمپیوٹر کے سامنے کام کر رہی تھی اور میری والدہ میرا دل بہلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اُنہوں نے مجھے فون پر کہا، "ارے، جا کر میرا فیس بک پروفائل دیکھو۔ میں نے کوئی funny پوسٹ کی ہے۔" میں کبھی بھی اِن چیزوں میں نہیں پڑی۔ کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں۔ میرے پاس کبھی وقت تھا ہی نہیں۔ لیکن اُس لمحے، کچھ بہت ہی خاص ہوا۔ اور مجھے یہ آج

بھی یاد ہے۔ واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ماؤس کو حرکت دی ہو۔ میں نے اپنی والدہ کی پروفائل پر کلک کیا، تھوڑا سا اسکرول کیا، اور اچانک وہاں یہ ہیڈلائن تھی: "کینسر کی ریسرچ میں بڑی کامیابی۔ بیریز کے ذریعے کینسر کا علاج۔" اور اُس لمحے سے، میں تحقیق اور ہولسٹک ہیلتھ کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ میں صحت کے لیے بہت تڑپ رہی تھی۔ میں اِسے سمجھنے کے لیے جنونی حد تک بے چین تھی۔ میں بس یہ سمجھنا چاہتی تھی کہ جسم کیسے کام کرتا ہے، اور آپ تمام کڑیوں کو آپس میں کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ اور میں نے سینکڑوں سپلیمنٹس لیے، ہر چیز آزمائی، سب کچھ بدل دیا۔ میں نے دنیا بھر کے اُن ہیلتھ ایکسپرٹس کو فالو کیا جو مستقل بیماریوں اور آٹو امیون بیماریوں کے علاج کا دعویٰ کرتے تھے۔ اور آج میں یہاں آپ کے

سامنے ہوں، الحمدللہ، اللہ کے حکم سے یہ کامیاب رہا۔ بائیوفلم کیا ہے اور آپ آج کل کن پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں؟ دیکھیے، بائیوفلم بنیادی طور پر آپ کی آنتوں میں جمی ایک چپچپی میل ہے جو آپ کو بیمار کر سکتی ہے۔ اور میرے تجربے کے مطابق، یہ تقریباً ہر انسان میں ہوتی ہے۔ اور غالباً آپ میں بھی۔ ویسے، بائیوفلم کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ آپ ذرا اپنے سنک کے نیچے موجود ڈرین پائپ کے بارے میں سوچیں۔ اُس کی اندرونی دیوار پر ایک چکنی اور بدبودار تہہ جم جاتی ہے، ہے ناں؟ ہر پائپ میں ہوتی ہے ، ہے ناں؟ اور بالکل اِسی طرح کی ایک لیس دار تہہ آپ کی آنتوں کی اندرونی دیوار پر بھی بن سکتی ہے، جہاں آپ کے مدافعتی نظام کا سب سے بڑا حصّہ موجود ہوتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اور میں سچائی سے یہ مانتی ہوں کہ صحت کے

حوالے سے بائیوفلم کو سب سے زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اور یہاں تک کہ امریکی اداروں کی تحقیقات بھی یہ بتاتی ہیں کہ ہمارے جسموں میں 80 فیصد تک مستقل انفیکشنز کی جڑ یہی بائیوفلمز ہوتے ہیں۔ یہ حیران کن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میری آنتوں سے بائیوفلم کے خاتمے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اور جب آپ آنتوں کی صفائی کے ایک مخصوص طریقے سے اِسے صاف کرتے ہیں، تو آپ اِسے جسم سے باہر نکال سکتے اور اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یہ عمل بہت پسند ہے۔ اور آپ کو اِسے ضرور آزمانا چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کے طرزِ زندگی اور اُس خوراک کے ساتھ جو ہم کھاتے ہیں، خاص طور پر مصنوعی اور پیک شدہ کھانے، تو ہم درحقیقت اچھے جراثیم کے بجائے برے جراثیم کی پرورش کر رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ بائیوفلم بننے اور

اُس کے بڑھنے کے امکان کو کم کرنا چاہتے ہیں، تو بس اچھے جراثیم کو غذا دیتے رہیں۔ اور اُنہیں قدرتی چیزیں پسند ہے، اُنہیں اصلی خوراک اور قدرتی اجزاء سے بھرپور کھانے پسند ہیں۔ کوئی بھی چیز جو قدرتی اور صاف ستھری ہو، اُسے کھائیں۔ باقی سب سے پرہیز کریں۔ اِس طرح آپ اپنے اچھے بیکٹیریا کی پرورش کرتے ہیں۔ تو آپ کے نزدیک اسلام اور طب کے کیا معنی ہیں؟ دیکھیے، میرا پختہ یقین ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارا یہ حیرت انگیز جسم اِس لیے تخلیق کیا ہے کہ یہ اِس زندگی میں ہمارا ساتھ دے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ خدا کا ایک تحفہ ہے۔ اور اپنی صحت کے سفر کے دوران مجھے جس ایک بات کا احساس ہوا وہ یہ ہے کہ آپ کا جسم ہمیشہ آپ کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور میری واقعی یہ خواہش ہے کہ میڈیسن کی توجہ شفا یابی کے اُن

پروسیسز سے تعاون کرنے پر ہو جو اللہ نے پہلے ہی ہمارے اندر تخلیق کر دیے ہیں، بجائے اِس کے کہ صرف علامتوں کا علاج کیا جائے۔ یعنی یہ سمجھنے کی کوشش کیوں نہ کی جائے کہ جسم کر کیا رہا ہے؟ آخر جسم اچانک کولیسٹرول کیوں بڑھا دیتا ہے؟ انسولین کے ریسیپٹرز اچانک کم ردِعمل کیوں دینے لگتے ہیں؟ دل خون کا دباؤ کیوں بڑھا دیتا ہے؟ یہ سوالات کون پوچھ رہا ہے؟ اور اگر آپ واقعی اِس کی وجہ تلاش کریں گے، تو آپ حیران رہ جائیں گے کیونکہ آپ کا جسم آپ کو نقصان نہیں پہنچا رہا۔ اکثر اوقات یہ درحقیقت آپ کو کسی بڑی خرابی سے بچا رہا ہوتا ہے۔ اور یہ بات مجھے واقعی اداس کر دیتی ہے کہ بطور مسلمان ہمارے پاس اتنی واضح رہنمائی موجود ہے کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا، اور یہاں تک کہ کتنا کھانا ہے۔ اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو

قرآن میں صرف چار آیات ایسی ہیں جو حلال (جائز) کھانے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ لیکن ہمیشہ طیب (پاک/عمدہ) کے ساتھ ملا کر۔ یعنی وہ جو واقعی اچھا ہو۔ تو مجھے بتائیں، آج کل واقعی اچھا کیا ہے؟ کیا چینی حلال (جائز) ہے؟ ہاں۔ لیکن کیا یہ ہمارے لیے اچھی ہے؟ نہیں۔ کیا گوشت کھانا حلال (جائز) ہے؟ ہاں، ہے۔ مگر کیا روزانہ گوشت کھانا ہمارے لیے اچھا ہے؟ نہیں۔ اور پیکٹ پر لگے ہوئے حلال (جائز) کے نشان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ طیب (پاک/اچھا) بھی ہے۔ اور میرا واقعی یہ خیال ہے کہ اسلام اور طب کو ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ اُس کی شفا بھی پیدا کی ہے۔ اور ویسے، یہ حدیث (نبی پاک کا فرمان) ایک یاد دہانی کے طور پر میرے کچن کے شیلف پر رکھی

ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کس بات نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟ میرے خیال میں یہ بات کہ وہ ہمیشہ بہت نرم مزاج، ہمیشہ بہت مہربان، اور انصاف پسند ہونے کے لیے مشہور تھے۔ کبھی کبھی اگر میں اُس زمانے میں اپنا تصوّر کروں، جہاں سب کچھ داؤ پر لگ جائے، اپنی جان خطرے میں ہو، اپنا مقام خطرے میں ہو۔ آپ کا سب کچھ داؤ پر لگ جائے۔ آپ کا سب کچھ کھو سکتا ہو۔ اور پھر بھی آپ خوش اخلاق، محبت کرنے والے اور انصاف پسند رہیں۔ میرا مطلب ہے کہ یہ۔۔۔ یہ واقعی۔۔۔ انتہائی ناقابلِ یقین بات ہے۔ مطلب کوئی بھی ایسے حالات میں بہت پریشان ہو جائے گا، غصے میں آ جائے گا، تب کوئی بھی، ممکنہ طور پر غیر منصفانہ رویہ اپنا سکتا ہے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے۔ اور ایسا صبر و برداشت رکھنا، ایسی ہمت رکھنا، اور ایسی قوت رکھنا، حیرت انگیز ہے۔ یہ

صرف تب ہی ہو سکتا ہے جب آپ اللہ کے منتخب بندے ہوں، اگر آپ رسول ہوں۔ کوئی دوسرا ایسا نہیں کر سکتا۔ آخر میں، اگر آپ کے پاس دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کے لیے ایک منٹ ہو، تو آپ اُن سے کیا کہنا چاہیں گی؟ میری واقعی یہ خواہش ہے کہ آپ وہ محسوس کر سکیں جو میں قرآن پڑھتے ہوئے محسوس کرتی ہوں۔ اِن میں سے کچھ آیات مجھے واقعی رُلا دیتی ہیں کیونکہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ خالق کے الفاظ ہیں۔ اور کوئی انسان اِس طرح کلام نہیں کر سکتا۔ اور ایک حصّہ خاص طور پر ایسا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ تخلیق کی تمام نشانیاں اور اردگرد کے تمام ثبوت بیان کرنے کے بعد، انسانوں سے ایک سوال کرتا ہے: تو پھر تم کہاں جا رہے ہو؟ یعنی آپ مقاصد کے پیچھے بھاگ سکتے ہیں، خود کو مصروف رکھ سکتے ہیں، خود کو تھکا سکتے ہیں، گھر بنا سکتے

ہیں، خاندان بسا سکتے ہیں۔ گاڑیاں خرید سکتے ہیں۔ آپ اپنے دن گزار سکتے ہیں اور ہمیشہ مزید کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اور پھر ایک لمحے کے لیے رکیں، اپنی آنکھیں بند کریں۔ اور جب آپ کا خالق شفقت سے، محبت بھرے انداز میں آپ سے پوچھے، تو اِسے محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ پھر بھی تم لوگ کِدھر چلے جا رہے ہو؟