Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Kya Dajjal Zahir Ho Chuka Hai? - Hadees Ki Hairan Kun Nishaniyan Jo Hum Nazarandaz Kar Gaye!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

آخر دجال ہے کون؟ کیا مہدی پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں؟ یاجوج اور ماجوج؟ دابۃ الارض؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول، اور بھی بہت کچھ۔ حضرت محمد ﷺ نے ہمیں قیامت کی نشانیوں کے بہت سے واقعات ایک ایک کرکے بتائےہیں۔ تاہم، ان میں سے کچھ احادیث ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت سے کافی دور محسوس ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک دن دجال کا ایک سال کے برابر ہوگا اور دوسرا ایک مہینے کے برابر؟ بادلوں کی طرح تیزی سے اس کا زمین بھر میں سفر کرنا؟ صرف 40 دن میں اس کا ہر شہر میں داخل ہونا؟ اس کی سواری، جس کے دونوں کانوں کے درمیان 40 ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا؟ یا آسمان کو بارش برسانے کا اور زمین کو اپنے چھپے ہوئے خزانے نکالنے کا اس کا اختیار، وغیرہ۔ آخر ان سب باتوں کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ یہ سب چیزیں آج کی حقیقت میں ناممکن معلوم ہو سکتی ہیں۔ اور نتیجتاً، کچھ لوگ شک میں پڑ جاتے ہیں اور کچھ مجبور ہو جاتے ہیں کہ احادیث کی صداقت پر سوال اٹھائیں۔ لیکن اگر ہم کسی طرح کی علامتی زبان کو سمجھنے سے قاصر ہوں تو؟ اگر یہ تفصیلات ایک خوبصورت استعارہ نما زبان میں بیان کی گئی ہوں تو؟ اور اس سے بھی اہم بات، جن پیش گوئیوں کا ہم انتظار کر رہے ہیں اگر ان میں سے کچھ پہلے ہی پوری ہو چکی ہوں تو؟ اگر وہی دور جس میں ہم اس وقت رہ رہے ہیں، پہلے ہی ان کے اثرات سے تشکیل پا رہا ہو، لیکن ہمیں ابھی اس کا احساس نہ ہوا ہو؟ اس ویڈیو میں ہم مشکل سوالات سے بلکل گریز نہیں کریں گے۔ ہمارا مقصد سادہ ہے: تمام سوالیہ نشانات کو ختم کرنا اور واضح اور تسلی بخش جوابات فراہم کرنا۔ ویڈیو کے آخر میں آپ دیکھیں گے کہ یہ نشانیاں آج کی حقیقت کے ساتھ کس طرح بالکل مطابقت رکھتی ہیں۔ اور آپ مشاہدہ کریں گے کہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے مستقبل کی خبر کس طرح ایک حقیقی معجزے کے طور پر دی۔ احادیث کو دیکھنے کے ایک بالکل نئے نقطۂ نظر کے لیے تیار ہو جائیں۔ آئیے اپنے سفر کا آغاز اس بنیادی حدیث سے کرتے ہیں: "آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت سے قیامت کے دن تک، دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی بڑا فتنہ نہیں ہے۔" سوچیں اس کے بارے میں ۔ اگر کوئی شخص آپ کی جان یا آپ کا مال لے لے، تو وہ صرف آپ کی عارضی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی آپ کا ایمان چھین لے، تو آپ دائمی خوشی کھو دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ کا سامنا کرتے ہیں۔ لہٰذا، انسانیت کے آغاز سے آخر تک سب سے بڑا فتنہ صرف کفر کی ایک بہت بڑی تحریک ہی ہو سکتی ہے۔ اس پوری ویڈیو میں، ہم دوسری احادیث سے ملنے والے اشاروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا دائرہ محدود کریں گے۔ ہم جس پہلو کو بھی دریافت کریں گے وہ ایک پہیلی کے ٹکڑے کی طرح کام کرے گا، جو مکمل تصویر کو ہمارے سامنے لانے میں مدد کرے گا تاکہ ہم اس کی شناخت کر سکیں۔ اب ان دونوں صورتِ حال کا موازنہ کریں اور خود سے پوچھیں: آپ کے لیے ان میں سے کون سی صورتِ حال زیادہ بڑا خطرہ ہے؟ صورتِ حال 1: ایک مافوق الفطرت، ایک عفریت اچانک آپ کے عین سامنے ظاہر ہو اور کہے، "میں دجال ہوں۔ اب نبی محمد ﷺ کا انکار کرو۔" اور جو بھی ایسا کرنے سے انکار کرے اسے وہ بس قتل کر دے۔ صورتِ حال 2: کہ دجال ہماری طرح ایک انسان ہے۔ وہ کفر پھیلانے کے لیے طاقتور نظریاتی تحریکوں کی قیادت کرتا ہے۔ اور وہ اس فاسد نظام کو پرکشش، جدید اور خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ وہ میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کی اکثریت کو گمراہ کرتا ہے۔ یقیناً، دوسری صورتِ حال لاکھوں لوگوں کو بغیر احساس کیے ہی اپنے ایمان سے محروم کر دے گی۔ جبکہ پہلی صورتِ حال میں کسی کو واقعی دھوکا نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ بہت واضح ہے۔ یہاں تک کہ، خود دجال کو بھی شاید اپنی اصل شناخت کا علم نہ ہو۔ وہ صرف ایک انسان ہوگا جو اپنی آزمائش سے گزر رہا ہوگا۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ وہ حقیقت میں دجال ہے، تو شاید وہ اسلام بھی قبول کر لیتا۔ اسی لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ احادیث میں موجود تفصیلات درحقیقت علامتی ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ نے اپنے الفاظ اس طرح منتخب کیے کہ جب وقت آئے تو ان واقعات کو پہچانا جا سکے۔ مثال کے طور پر، حدیث کے مطابق، دجال زمین پر 40 دن رہے گا۔ اور اس دوران، وہ مکہ اور مدینہ کے سوا ہر شہر میں داخل ہوگا۔ نبی ﷺ کے دور میں، دنیا کا سفر کرنا دنوں کا نہیں بلکہ سالوں کا معاملہ تھا۔ لوگ اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرتے تھے، ایک ہی صحرا عبور کرنے میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے تک، حدیث کی یہ تفصیل بالکل غیر حقیقی معلوم ہوتی رہی۔ لیکن جب ہم گزشتہ صدی پر نظر ڈالتے ہیں، تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ جدید ذرائع نقل و حمل نے دنیا کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے ۔ ٹرینوں اور ریلوے کے وسیع و عریض نیٹ ورکس نے زمین کو ڈھانپنا شروع کر دیا۔ ہوائی جہازوں نے یہ ممکن بنا دیا کہ دو دن سے بھی کم وقت میں پوری دنیا کا سفر کیا جا سکے۔ لیکن اس سے بھی اہم بات، عالمی رابطے کے بارے میں سوچیں۔ گزشتہ صدی میں، ایک ہی نظریہ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے بہت تیزی سے پھیل سکتا تھا۔ حکومت کے حکم کے مطابق، عبادت کے علاوہ تمام مذہبی سرگرمیاں ممنوع ہیں۔ کوئی بھی مذہبی ادارہ جو ان ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا اسے بند کر دیا جائے گا۔ اور آج، ایک نظریاتی تحریک ہر شہر میں داخل ہو سکتی ہے اور دنیا کے ہر اسمارٹ فون کی اسکرین تک چند سیکنڈوں میں پہنچ سکتی ہے۔ اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے دجال اپنے خیالات پھیلا سکتا ہے، اپنا فتنہ پھیلا سکتا ہے، اور صرف 40 دن میں اپنا عالمی اثر و رسوخ قائم کر سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے وجود میں آنے سے بہت پہلے، ہمارے نبی پاکﷺ نے درست طور پر فوری رابطے کے اس دور کی نشاندہی کر دی تھی۔ کیا یہ ایک گہرا معجزہ نہیں ہے؟ انہوں نے 14 صدیوں کے پار دیکھا اور آج کی حقیقت کا مشاہدہ کیا۔ اللہ نے انہیں مستقبل کے راز دکھا دیے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دجال کی سواری کی تفصیل اتنی اہم ہے۔ حدیث میں ہے کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان فاصلہ 40 ہاتھوں جتنا ہوگا۔ گزشتہ صدی کے دوران، انسانوں نے ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھی جانوروں پر سواری کرنے سے لے کر فولاد کی دیوہیکل مشینیں بنانے تک۔ ہوائی جہاز، ٹرینیں، گاڑیاں، وغیرہ۔ نبی پاک ﷺ کے اندازِ تعلیم کی بے مثال خوبصورتی کو دیکھیں۔ کیونکہ صحابہ کرام ان کے پہلے اور سب سے قیمتی شاگرد تھے، اس لیے انہوں نے اپنی زبان کو مکمل طور پر ان کی صدی کی سمجھ کے مطابق رکھا۔ اگر ہم ایک جدید گاڑی کو اس دور میں لے جائیں، تو وہاں کے لوگ اسے کیسے دیکھیں گے؟ ان کے لیے، اس کی روشن ہیڈلائٹس چمکتی ہوئی آنکھوں جیسی لگیں گی، اس کی اگلی گرِل ایک بہت بڑے منہ جیسی لگے گی، اور اس کے سائیڈ مررز یا یہاں تک کہ کھلے ہوئے دروازے، بالکل ایک جوڑے کانوں جیسے نظر آئیں گے۔ یہ ایک جدید مشین کی بالکل درست تصویر ہے جو ساتویں صدی کے ایک مشاہدہ کرنے والے کی آنکھوں سے دیکھی جائے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، آج کی بعض جدید ذرائعِ نقل و حمل کی گاڑیوں کے دونوں اطراف کے درمیان فاصلہ آسانی سے 40 ہاتھ تک پہنچ جاتا ہے، جو تقریباً 20 میٹر بنتا ہے۔ لہٰذا حدیث میں یہ تفصیل کوئی خامی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس تکنیکی دور کی ایک واضح نشانی ہے جس کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے ۔ جب صحابہ کرام نے پوچھا، "یا رسول اللہ ﷺ، وہ زمین پر کتنے عرصے تک رہے گا؟" نبی پاکﷺ نے جواب دیا، "40 دن۔ ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا، اور اس کے باقی دن تمہارے دنوں جیسے ہوں گے۔" آخر یہ کیسی مدت ہے؟ عظیم مفسر اور محدث بدیع الزمان اس راز کو سمجھنے کے لیے دو گہری تشریحات پیش کرتے ہیں۔ وہ فساد کے پھیلنے کی رفتار پر توجہ دیتے ہیں۔ ابتدا میں، دجال خوفناک رفتار سے کام کرتا ہے۔ اس کا پہلا دن ایک ایسے تاریک دور کی نمائندگی کرتا ہے جہاں برسوں کی روحانی تباہی بہت کم وقت میں واقع ہو جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں، اس کی رفتار کچھ کم ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ بہت زیادہ کام کرتا ہے، گویا ایک پورے مہینے کے بڑے بڑے منصوبوں کو ایک ہی دن میں سمیٹ رہا ہو۔ حتیٰ کہ تیسرے مرحلے میں بھی، وہ انتہائی طاقتور رہتا ہے، اور ایک ہی دن میں ایک ہفتے جتنی بڑی تباہی مچا دیتا ہے۔ آخرکار، یہ نظام سست ہو کر معمول کی روزانہ رفتار پر آ جاتا ہے۔ تاہم، بدیع الزمان کی دوسری تشریح یہ ظاہر کرتی ہے کہ نبی پاک ﷺ کے یہ گہرے الفاظ ایک بالکل مختلف معجزہ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ حدیث دراصل جغرافیہ کے علم کا ایک حیرت انگیز نکتہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس بارے میں سوچیں۔ دنیا میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں ایک دن ایک سال تک رہتا ہے؟ یہ شمالی قطب کے قریب، روس کے سائبیریا کے عین اوپر ہوتا ہے۔ آپ چھ ماہ تک مسلسل دن کی روشنی کا تجربہ کرتے ہیں، جس کے بعد چھ ماہ تک مسلسل تاریکی رہتی ہے۔ پورا سال ایک دن اور ایک رات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے آپ تھوڑا جنوب کی طرف بڑھتے ہیں، دن کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ ان علاقوں میں آپ کو ایسی جگہیں ملتی ہیں جہاں ایک دن اور رات ایک مہینے تک جاری رہتی ہے، اور اس سے مزید جنوب میں ایک ہفتے تک۔ پھر جب آپ مزید جنوب کی طرف دنیا کے باقی حصوں کی جانب جاتے ہیں، تو یہ غیر معمولی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ دن اور رات کا چکر آخرکار معمول پر آ جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہی علاقہ دجال کی تحریک کی جائے پیدائش ہے۔ اور یہیں سے یہ دنیا کے باقی حصوں میں پھیلے گی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ صدی میں یہی شمالی علاقہ کفر کی ایک بہت بڑی لہر کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے ریاست کی پوری طاقت، اسکولوں اور میڈیا کو مکمل الحاد پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ 95 فیصد سے زیادہ تمام مساجد اور گرجا گھروں کو مکمل طور پر تباہ یا بند کر دیا گیا۔ انہوں نے مذہبی کتابیں جلا دیں اور مذہبی تعلیم کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا۔ ہزاروں مذہبی علماء کو جلاوطن کر دیا گیا، سائبیریا کے منجمد کیمپوں میں، یا اس سے بھی بدتر، انہیں قتل کر دیا گیا۔ کئی دہائیوں تک، لاکھوں بچوں کی پرورش شدید پروپیگنڈے کے ساتھ کی گئی، جس میں انہیں بتایا جاتا تھا کہ مذہب ایک جھوٹ ہے۔ انہوں نے حتیٰ کہ ملحدین کی ایک جنگجو تنظیم بھی قائم کی، جو ریاست کی حمایت یافتہ ایک سرکاری تنظیم تھی۔ اس تنظیم نے لاکھوں شہریوں کو ایمان کے خلاف سرگرم جنگجو بنا دیا۔ "شرم کے خلاف" کے نام سے ایک تحریک شروع کی گئی۔ لوگ سڑکوں پر بالکل برہنہ مارچ کرتے تھے، اور ان کے جسم پر صرف ایک بینر ہوتا تھا جس پر لکھا ہوتا تھا "شرم کے خلاف"۔ ایک عرصے تک، اس ریاست نے شادی کے روایتی تصور کو بھی ختم کر دیا۔ ہر جگہ برہنہ پن کے کلب کھول دیے گئے، اور روایتی حماموں کو قانونی طور پر حکم دیا گیا کہ انہیں مخلوط بنا دیا جائے، جہاں مرد اور عورتیں اندر ایک ساتھ برہنہ رہ سکتے تھے۔ وہ ایسا معاشرہ چاہتے تھے جہاں کوئی نماز نہ پڑھے، کوئی آخرت پر ایمان نہ رکھے، اور کوئی الٰہی قوانین کی پیروی نہ کرے۔ اور اندازہ لگائیں کیا؟ یہ روحانی وائرس سرحدوں کے پار پھیل گیا، اور آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جسے اسی وائرس نے تشکیل دیا ہے۔ کئی سالوں تک مذہب کو تعلیم اور سائنس سے نکال دیا گیا اور ایک نیا نظام تشکیل دیا گیا۔ اور یہ نظام آپ کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ کائنات کو صرف مادّی نقطۂ نظر سے دیکھیں، چاہے آپ مذہبی ہی کیوں نہ ہوں۔ دو صدیوں پہلے تک، دنیا میں ملحد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن آج تقریباً 1.3 ارب لوگ خود کو ملحد کہتے ہیں، یعنی تقریباً ہر چھ افراد میں سے ایک شخص۔ یقیناً، آخری سچائی اور ہر چیز کی حقیقی تعبیر صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن کیا اس کے بعد اس سے بھی زیادہ تباہ کن کوئی تحریک ابھر سکتی ہے؟ سچ کہوں تو، یہ واقعی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دجال کی حمایت 70,000 یہودی کریں گے۔ اب ان واقعات کو دیکھیں جن پر ہم نے ابھی بات کی۔ یہودی شخصیات اس ملحدانہ تحریک کی اعلیٰ قیادتی سطحوں میں نمایاں طور پر موجود تھیں۔ اور یہ صرف ایک مثال ہے۔ چاہے کھلے عام یا پسِ پردہ، انہوں نے ان اشرافیہ گروہوں میں اپنی جگہ بنائی جنہوں نے عالمی سیاست کو تشکیل دیا۔ اور عربی میں یہ بات معروف ہے کہ 40، 70، 70,000، 80 یا 80,000 جیسے اعداد سے مراد عین ریاضی نہیں ہوتی۔ یہ صرف بہت بڑی تعداد بیان کرنے کا ایک عام طریقہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ عین 70,000 لوگوں کا ہجوم کھلے عام اپنی حمایت کے نعرے لگا رہا ہوگا۔ اس طرح کے نظام ہر فرد کو ایک سخت انتخاب پر مجبور کر دیتے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے ہمیں خبردار کیا: "اس کے ساتھ، یعنی دجال کے ساتھ، ایک جنت اور ایک جہنم ہوگی۔ لیکن اس کی جہنم جنت ہوگی اور اس کی جنت جہنم ہوگی۔" اس کا حقیقت میں کیا مطلب ہے؟ جواب بالکل واضح ہے۔ دجال ایک ایسا نظام قائم کرتا ہے جہاں آپ کی روزمرہ بقا اس کے ساتھ وفاداری پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر آپ اس کی مادّہ پرستانہ لہر میں شامل ہو جائیں اور اس کے بے دینی کے نظام کی حمایت کریں، تو وہ آپ کے لیے اپنی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آپ کو آسائش، دولت اور اعلیٰ مقام سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اللہ کا ساتھ دینے کا انتخاب کریں، تو دجال کی جہنم اپنے دروازے آپ کے لیے کھول دیتی ہے، اور آپ کو سخت مشقت والے کیمپوں، جیل کی کوٹھڑیوں اور سزائے موت کی طرف بھیج دیتی ہے۔ لیکن حقیقت میں، دجال کی جنت اصل جہنم کی طرف جانے والا راستہ ہے۔ جبکہ وہ دنیاوی جہنم جو وہ مومنوں پر مسلط کرتا ہے، دراصل وہی چیز ہے جو حقیقی اور ابدی جنت کے دروازے کھولتی ہے۔ ایک اور حدیث میں نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی جبکہ عورتوں کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ ایک مرد پچاس عورتوں کی دیکھ بھال کرنے والا ہوگا۔" اور اگر آپ حقیقت پر نظر ڈالیں تو گزشتہ صدی میں ہم نے بالکل یہی دیکھا۔ عالمی جنگوں نے انسانی جانوں کا خوفناک نقصان کیا۔ اور ان ہلاکتوں میں زیادہ تر مرد تھے۔ پیچھے رہ جانے والی مرد آبادی میں سے، بہت سے صرف بچے، بوڑھے یا جنگ میں زخمی ہونے والے سابق فوجی تھے۔ جنگوں سے متاثرہ ممالک میں بالغ اور صحت مند مرد جو عورتوں کی دیکھ بھال کر سکیں بہت کم تعداد میں رہ گئے تھے۔ اور ایک بار پھر، تاریخ کے دھارے نے ثابت کیا کہ نبی پاکﷺ کے الفاظ سچ تھے۔ ویسے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے پہلے دیکھا، حدیث میں 50 کی تعداد کوئی عین ریاضی نہیں ہے۔ یہ بڑی تعداد بیان کرنے کا ایک عام طریقہ ہے۔ اب میں آپ کے ساتھ ان احادیث سے ایک اور اشارہ شیئر کرتا ہوں۔ اور اس بار آپ اندازہ لگائیں کہ یہ حقیقت میں کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے۔ پھر وہ، یعنی دجال، "آسمان کو حکم دے گا کہ بارش برسائے، اور وہ بارش برسائے گا۔ وہ بنجر زمین سے گزرے گا اور کہے گا، اپنے خزانے نکال لاؤ، پھر وہ چلا جائے گا، اور اس کے خزانے اس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے ہجوم کی طرح چلیں گے۔" اب آج کی دنیا پر نظر ڈالیں۔ آخر اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ تقریباً 1940 کی دہائی میں انسانیت نے کلاؤڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی دریافت کی۔ تاریخ میں پہلی بار، سائنس دانوں نے یہ سیکھا کہ بادلوں کو مصنوعی طور پر متحرک کیسے کیا جائے اور ضرورت کے وقت بارش کیسے برسائی جائے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آسمان کو حکم دیا جائے کہ بارش برساؤ۔ اور یہ واقعی کام کر گیا۔ اور انہی برسوں میں، جدید مائیننگ کے شعبے میں بھی ایک بہت بڑا انقلاب آیا۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کھربوں ڈالر مالیت کا تیل، گیس، اور قیمتی دھاتیں زمین سے ضرورت کے مطابق نکلنے لگیں۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب بھی کوئی ان احادیث پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ان کے اندر چھپے ہوئے معجزات اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ نبی پاکﷺ یہ سب کچھ خود جان سکتے تھے۔ یہ واضح طور پر اللہ کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا تھا۔ یہ ہمیں ایک اہم سوال تک لے آتا ہے۔ اتنا سارا ابہام کیوں؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا اگر نبی پاکﷺ ہمیں واضح نام اور تاریخیں بتا دیتے تاکہ ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکتا؟ میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ ان احادیث کا اصل مقصد کیا تھا؟ ہمارے نبی پاکﷺ نے ہمیں خبردار کیوں کیا؟ انہوں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ ان کی امت چوکنی رہے۔ لیکن نبی پاک ﷺ صرف کسی ایک مخصوص صدی کے رہنما نہیں تھے۔ وہ قیامت کے دن تک ہر انسان کے لیے رہنما تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مہدی اور دجال کی روح ہر صدی میں محسوس کی جائے۔ اگر وہ دجال اور مہدی کی بالکل درست شناخت بتا دیتے اور ایک مخصوص وقت اور تاریخ دے دیتے، تو صرف ایک نسل اس کی فکر کرتی۔ اور باقی تمام صدیاں اپنی چوکسی چھوڑ دیتیں۔ وہ چاہتے تھے کہ پوری امت چوکنی، بیدار اور ہوشیار رہے۔ انہوں نے ایک شاندار طریقہ اختیار کیا تاکہ ہر نسل اپنے دور کو احادیث کے مقابل رکھ کر یہ سوچے، "کیا یہ وہی وقت تو نہیں؟" دجال کا سامنا کرنے کا امکان ہمیں محتاط رکھتا ہے۔ اور مہدی کی امید سے جڑے رہنا ہمیں متحرک رکھتا ہے۔ خوف اور امید کے درمیان یہ خوبصورت توازن ہی ان احادیث کی علامتی زبان کے پیچھے چھپا اصل راز ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مختلف روایات دجال کے ظاہر ہونے کی جگہ بیان کرتے ہوئے مختلف مقامات کی طرف اشارہ کیوں کرتی ہیں۔ ایک روایت خراسان کی طرف اشارہ کرتی ہے، دوسری عراق اور شام کے درمیان ایک علاقے کی طرف، اور ایک اور اصفہان کے یہودیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جیسا کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا: "۔۔۔قیامت کے آنے سے پہلے، تقریباً 30 دجال ہوں گے۔ فساد کا صرف ایک ہی رہنما نہیں ہے۔ ان میں بہت سے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام نشانیوں کو ایک ہی شخص میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں ایک حدیث ایک دجال کی خصوصیات بیان کر رہی ہے، وہیں دوسری روایت بالکل مختلف دجال کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ اور ایک بار پھر، جب آپ گزشتہ صدی پر نظر ڈالتے ہیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ مذہب مخالف نظام جس کا ہم نے ذکر کیا، بالکل ایک دیوہیکل آکٹوپس کی طرح کام کرتا تھا۔ اس کا سر اور دماغ روس میں واقع تھا، لیکن اس کے بازو پڑوسی مسلم ممالک تک پھیلے ہوئے تھے۔ ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور آذربائیجان جیسے ممالک سخت ظلم و جبر کا سامنا کرتے رہے۔ ان کی مساجد کو زبردستی بند کر دیا گیا۔ اسلامی لباس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، اسلامی علماء کو منظم طریقے سے گرفتار، جلاوطن یا قتل کیا گیا۔ اگرچہ آبادی کی بہت بڑی اکثریت مسلمان تھی، اذان پر مکمل پابندی تھی، اور لوگوں کو اپنا مذہب خفیہ طور پر سیکھنا پڑتا تھا۔ اب ایک لمحے کے لیے ان تمام اشاروں کو ذہن میں دہرائیں جن کے بارے میں ہم نے اب تک بات کی ہے۔ دنیاوی جنت اور جہنم کا دھوکا، ایمان پر حملہ، مختصر وقت میں برسوں کی روحانی تباہی، وغیرہ۔ اب اس بارے میں سوچیں۔ ایک فرد لاکھوں لوگوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ نئی نسلیں ایسی پرورش پاتی ہیں کہ انہیں سائنس کے اسباق بھی ملحدانہ پروپیگنڈے کے طور پر دیے جاتے ہیں۔ ایسی دنیا میں، کیا صرف ایک شخص کو ختم کر دینے سے سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا۔ خود دجال سے کہیں زیادہ اہم دجالیت ہے، یعنی وہ نظریات جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ دجال کی اصل شخصیت آسانی سے کسی معمولی وائرس یا عام بیماری سے مر سکتی ہے۔ لیکن دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک نظریے کو مٹانا اور لاکھوں لوگوں کو حق قبول کرنے پر آمادہ کرنا؟ اتنا بڑا کام ہی کسی عظیم نبی کی واپسی کے لائق ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جب احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دجال کو ہلاک کرنے کا ذکر آتا ہے، تو ہم اسے ایک سادہ مقابلے کی طرح نہیں دیکھ سکتے۔ بلکہ یہ دو بڑے نظریات کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے اہلِ ایمان کے اتحاد کے ساتھ قرآن کی ہیرے جیسی تلوار اٹھائیں گے اور دجالیت کے پورے نظریے کو کاٹ کر رکھ دیں گے۔ ان شاء اللہ، وہ اس نظریے کو اس طرح دفن کر دیں گے کہ وہ دوبارہ کبھی سانس نہیں لے سکے گا۔ اس منطق کے مطابق، احادیث کے الفاظ سچ ثابت ہونے کے لیے، دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کا ایک ہی دور میں زندہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے، بھائی، کیا قیامت کی نشانیوں کے بارے میں احادیث میں کچھ بھی لفظی نہیں ہے؟ یقیناً ہے۔ مثال کے طور پر سورج کا مغرب سے طلوع ہونا لے لیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہوگا جیسے آپ اسے سمجھتے ہیں۔ اور چونکہ یہ مکمل طور پر لفظی ہے، اس کے واقع ہوتے ہی توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ ایمان لانے یا نہ لانے کا امتحان آزاد اختیار پر مبنی ہے۔ لیکن یہ واقعہ ایسا ہوگا جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہوگا کہ اختیار کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آسمان پر لا إله إلا الله کے الفاظ لکھ دیے جائیں ستاروں کے ذریعے، ایک طویل عرصے تک، تاکہ پوری دنیا انہیں دیکھ سکے۔ اس وقت آپ ایمان لانے کا انتخاب نہیں کر سکیں گے؛ آپ کو اسے دیکھنا ہی پڑے گا۔ بالکل ایسے جیسے فرعون آخری وقت میں ایمان لانے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ سمندر میں ڈوب رہا تھا، لیکن اس وقت ایمان لانا بالکل بے فائدہ ہوگا۔ دجال کی پیشانی پر کافر کا لفظ جسے ہر شخص پڑھ سکے گا، چاہے وہ اَن پڑھ ہی کیوں نہ ہو...

یاجوج اور ماجوج...

دابۃ الارض کا ظہور اور یہ کہ وہ ہر شخص کے حقیقی ایمان کو کیسے ظاہر کرے گا۔ ان اور بہت سی انتہائی حیرت انگیز احادیث کے منطقی جوابات رسالۂ نور کے مجموعے میں بیان کیے گئے ہیں۔ اگر آپ اصل ماخذ میں مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں اور مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری ایپ My Risale ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل مفت اور اشتہارات سے پاک ہے۔ ہم وہاں آپ کے منتظر ہوں گے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ان احادیث کے بارے میں دو انتہاؤں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ان پر شک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ آخرکار وہ متن ہی کو رد کر دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ، جن کی انا ان کے ایمان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، احادیث کے پورے مجموعے ہی کا انکار کر دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف کچھ لوگ ان احادیث کو بالکل لفظی طور پر لیتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اپنے سننے والوں کو اور بھی زیادہ الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ اور یقیناً، اسلام کے دشمن یہ پسند کرتے ہیں کہ انہی مخصوص روایات کو اسی وجہ سے نمایاں کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نبی پاکﷺ کی احادیث میں دو فیصد سے بھی کم ایسی ہیں جنہیں سمجھنا اتنا مشکل ہے۔ باقی سب واضح ہیں، جو مضبوط رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے گہری حکمت پیش کرتی ہیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ حیرت انگیز بات کیا ہے؟ انسانی تاریخ کے تمام ادوار میں، کسی اور شخص نے ایسے اسباق نہیں دیے جو زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں ہوں، جیسے اللہ کے رسول ﷺ نے دیے۔ عام طور پر جب کوئی شخص تاریخ میں نمایاں ہوتا ہے تو عموماً صرف ایک ہی شعبے میں، جیسے قانون کے میدان میں۔ لیکن دوسرے شعبوں میں ان کے پاس کوئی نمایاں بصیرت نہیں ہوتی۔ ان کے پاس زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جب ہم احادیث کی کتابوں کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ان میں بہت سے شعبوں کے بارے میں اسباق دیے گئے ہیں۔ مثلاً قانون، تجارت، معیشت، خاندانی زندگی، بچوں کی تربیت، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے درمیان تعلقات، صفائی ستھرائی، صحت، اخلاقیات، روحانی ترقی، اور نفس کی تربیت۔ یہاں تک کہ جانوروں سے محبت بھی شامل ہے۔ اور اگر آپ احادیث کی کتابوں میں غور کریں، تو آپ کو ان سے کہیں زیادہ موضوعات ملیں گے۔ لہٰذا صرف اس وجہ سے کہ ہم کسی چیز کی گہرائی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے، اسے کاٹ دینا اور رد کر دینا ایک عقلمند ذہن کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر جب آپ دیکھتے ہیں کہ ان احادیث کو کتنی احتیاط اور قابلِ اعتماد طریقے سے صدیوں تک محفوظ رکھا گیا۔ حقیقت میں، وہ تاریخ میں بے مثال کئی سطحوں پر مشتمل تصدیقی عمل سے گزریں۔ کسی حدیث کو صحیح تسلیم نہیں کیا جاتا جب تک وہ ان سخت معیاروں پر پوری نہ اترے۔ نمبر 1 ،راویوں کی سند متصل ،ہمیں ایک راوی کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ سلسلے میں ایک ایک شخص کون تھا، اور یہ بالکل واضح ہو کہ کس نے یہ بات کس سے بیان کی، یہاں تک کہ سلسلہ نبی پاکﷺ تک پہنچ جائے۔ نمبر 2 : راویوں کی دیانت داری (عدالَ) سلسلے میں موجود ہر شخص اپنی کامل دیانت داری کے لیے معروف ہونا چاہیے، اللہ کا گہرا خوف اور مضبوط ایمان رکھتا ہو، اور اس کے جھوٹ بولنے یا کسی برے رویے کی کوئی تاریخ نہ ہو۔ نمبر 3 : کامل حافظہ(ضبط) ان کا حافظہ بالکل مضبوط ہونا چاہیے یا ان کے پاس مکمل تحریری ریکارڈ ہونا چاہیے، تاکہ وہ الفاظ بھولیں یا آپس میں گڈمڈ نہ کریں۔ نمبر چار: کوئی تضاد نہیں جسے (شاذ) بھی کہتے ہیں روایت ایسی بات کے خلاف نہیں ہونی چاہیے جو زیادہ قابلِ اعتماد یا معروف راویوں نے بیان کی ہو۔ نمبر پانچ: کوئی پوشیدہ خامی نہیں، جسے علّت کہا جاتا ہے۔ متن اور سند مکمل طور پر ہر پوشیدہ خامی سے پاک ہونی چاہیے جسے صرف حدیث کے علم کے ماہرین ہی تلاش کر سکتے ہیں۔ تاریخ میں حدیث کے 20,000 سے زیادہ راوی گزرے ہیں۔ اور بڑے پیمانے پر ریکارڈز ان کی زندگی کے حالات پر مشتمل ہیں، ان کے اخلاق و کردار اور حافظے کی قوت پر بھی۔ ہر ایک تفصیل درج کی گئی ہے، صرف اس لیے کہ ان کے الفاظ کی سچائی کی تصدیق ہو سکے۔ تاریخ نے واقعی اس جیسی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔ بل آخر، ہر جھوٹی روایت کو چھانٹ کر مکمل طور پر نکال دیا گیا۔ اسے یوں سمجھ لیں۔ اگر بائبل، جسے دو ارب مسیحی قبول کرتے ہیں، اگر حدیث کے علم کے سخت اصولوں کے تحت پرکھی جاتی، تو اسے پاسنگ گریڈ بھی نہ ملتا۔ یہ نظام پہلے ہی دن سے بالکل بہترین طریقے سے قائم کیا گیا تھا۔ ان سینکڑوں لوگوں کے علاوہ جنہوں نے احادیث یاد کیں، 52 صحابہ باقاعدگی سے انہیں لکھ بھی رہے تھے نبی پاکﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں۔ ایک مشہور مثال صحیفۃ الصادقہ ہے، تقریباً 1,000 احادیث کا ایک مجموعہ جو صحابی عبداللہ بن عمرو نے براہِ راست لکھی تھیں۔ اسلامی کیلنڈر کے 50 سے 150 سال کے درمیان، تقریباً 400 مختلف ماہرین نے ان متون کو محفوظ اور قلمبند کرنے پر توجہ دی۔ لیکن ان سب باتوں سے بڑھ کر، ہماری سب سے بڑی دلیل صحابہ کا کردار ہے۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں سے حاصل کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اللہ کے لیے اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ وہ اس پورے نظام کی بنیاد ہیں۔ ان کے پاس جھوٹ بولنے کی بالکل کوئی وجہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ اس مشہور حدیث کے سخت خوف کے تحت زندگی گزارتے تھے: "جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ گھڑے اور اسے میری طرف منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" اتنی خوفناک تنبیہ کے ساتھ، وہ ہر ایک لفظ کے معاملے میں انتہائی محتاط رہتے تھے۔ لیکن یہاں ہمیں ایک بہت اہم بات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ وہ صحیح حدیث کے اعلیٰ معیار کے مقابلے میں ضعیف ہوتی ہے۔ پھر بھی یہ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے لکھی گئی تقریباً ہر تحریر سے کہیں زیادہ قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت اب بھی بے حد مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر استنبول کے بارے میں مشہور حدیث کو دیکھیں: "تم قسطنطنیہ کو فتح کرو گے۔ اس کا کمانڈر بہترین کمانڈر ہوگا اور اس کا لشکر بہترین لشکر ہوگا۔" اس پر تکنیکی طور پر ضعیف ہونے کا لیبل ہے، لیکن تاریخ نے اس فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور ضعیف ہونے کے لیبل نے اس کی تاریخی اہمیت کو تبدیل نہیں کیا۔ لہٰذا جب تک آپ اسلام کے بنیادی عقائد پر گفتگو نہیں کر رہے یا سخت مذہبی احکام وضع نہیں کر رہے، تب تک ضعیف حدیث کو حقیر سمجھنے کی بالکل کوئی وجہ نہیں ہے۔ اب جب ہم احادیث کو رد کرنے کے اس پورے رجحان کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں ایک بہت سادہ سوال پوچھنا ہوگا۔ اگر آپ حدیث کا انکار کرتے ہیں، تو آخر آپ کو حاصل کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ لیکن اگر جن احادیث کو آپ رد کر رہے ہیں وہ سچی ہیں، تو اس کی ذمہ داری خوفناک ہے۔ مزید یہ کہ آخرت کے بارے میں سوچیں۔ کیا آپ کو نبی پاک ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر بہت شرمندگی نہیں ہوگی؟ آپ کیا کہیں گے؟ اُہ، آپ کو پتا ہے کیا؟ جی ہاں، آپ نے اپنی پوری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، توہین کی گئی تہمتیں لگائی گئیں۔ آپ ﷺ نے بے شمار بار موت کا سامنا کیا اور انتہائی سخت حالات میں زندگی گزاری۔ لیکن سچ کہوں تو، آپ ﷺ کی باتیں میرے لیے واقعی اتنی اہم نہیں تھیں۔ کیا آپ واقعی یہ کہہ سکتے ہیں؟ اور آپ سینکڑوں صحابہ پر جھوٹا ہونے کا الزام کیسے لگا سکتے ہیں؟ ہم اپنے دعووں کی سنگینی کو سمجھے بغیر یوں ہی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ اور آخر میں، آخری بات خود نبی پاک ﷺ سے سنتے ہیں: "میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے بستر پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو، جب میرے حکم میں سے کوئی بات یا میری طرف سے کسی ممانعت کی بات اس تک پہنچے اور وہ کہے، مجھے معلوم نہیں۔ ہم اللہ کی کتاب میں جو کچھ پاتے ہیں، اسی کی پیروی کرتے ہیں۔"